Post is pinned.Post has attachment
Photo

Post has attachment

Post has attachment

دعا کی اہمیت و فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں


بسم الله الرحمن الرحيم

اَلْحَمْدُ لِله رَبِّ الْعَالَمِيْن،وَالصَّلاۃ وَالسَّلام عَلَی النَّبِیِّ الْکَرِيم وَعَلیٰ آله وَاَصْحَابه اَجْمَعِيْن۔


دُعا کے لغوی معنی ہیں پکارنا اور بلانا، 

شریعت کی اصطلاح میں اللہ تعالیٰ کے حضور التجا اور درخواست کرنے کو دعا کہتے ہیں۔ 


انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ مشکلات اور پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:

" جب انسان کوتکلیف پہنچتی ہے تواپنے رب کوپکارتا ہے اور دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ 

(سورۃ الزمر: ۸) 

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے دعا کو عبادت کی روح قرار دیا ہے: 

دُعا عبادت کی روح اور اس کا مغز ہے۔

 (ترمذی ۔ باب ماجاء فی فضل الدُعاء) 

نیز حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا

: دُعا عین عبادت ہے۔ 

(ترمذی۔ باب ماجاء فی فضل الدُعاء


دعا کی اہمیت اور آیات قرآنیہ


========


دعا کی اہمیت کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ فاتحہ میں اپنے بندوں کو نہ صرف دُعا مانگنے کی تعلیم دی ہے بلکہ دعا مانگنے کا طریقہ بھی بتایا ہے


=======


سورۂ بقرہ میں فرمایا گیا:


وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیۡ عَنِّیۡ فَاِنِّیۡ قَرِیۡبٌ ؕ اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ  اِذَا دَعَانِ  ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ وَ لۡیُؤۡمِنُوۡا بِیۡ  لَعَلَّہُمۡ  یَرۡشُدُوۡنَ 

( سورہ البقرۃ آیت نمبر 186 )


ترجمہ: 

اور جب تجھ سے پوچھیں میرے بندے مجھ کو سو میں تو قریب ہوں قبول کرتا ہوں دعا مانگنے والے کی دعا کو جب مجھ سے دعا مانگے تو چاہیے کہ وہ حکم مانیں میرا اور یقین لائیں مجھ پر تاکہ نیک راہ پر آئیں۔


======


سورۂ مومن میں حکم دیا گیا ہے:


وَقَالَ رَبُّکُمُ ادْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ط اِِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَھَنَّمَ دٰخِرِیْنَ o 

(المومن۴۰:۶۰)


ترجمہ ۔  اور تمھارا رب کہتا ہے مجھے پکارو، میں تمھاری دعائیں قبول کروں گا۔ بے شک جو لوگ میری عبادت سے گھمنڈ کرتے ہیں وہ عنقریب ذلّت و خواری کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔


======


سورۂ اعراف میں کچھ تفصیل سے دعا کا حکم دیا گیا ہے:


اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَۃً ط اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ o وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِھَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا ط اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَo 

(الاعراف ۷:۵۵۔۵۶)


ترجمہ  = 

 اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے یقیناً وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ زمین میں فساد برپا نہ کرو، جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ۔ یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے۔


دعا کی فضیلت احادیث میں


دعا کے بارے میں اس کثرت سے احادیث مروی ہیں کہ کتب احادیث میں اس کے لیے مستقل ابواب مخصوص کرنے پڑے ہیں۔  پہلے دعا کی اہمیت و فضیلت کے سلسلے میں چند حدیثیں پیش خدمت ہیں:


======

حضرت ابن عمرؓ نے حضورﷺ سے روایت کی ہے کہ دعا ان مصیبتوں اور بلاؤں کو دُور کرنے میں بھی نافع ہے جو نازل ہوچکی ہوں، اور ان میں بھی جو نازل نہ ہوئی ہوں۔ اور قضا کو دعا کے سوا کوئی چیز ٹال نہیں سکتی، پس تم پر لازم ہے کہ دعا کرو۔ 

(ترمذی)


=====

ابن مسعودؓ حضورﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ سے اس کا فضل مانگو۔ اس لیے کہ اللہ (اپنے بندوں کے) سوال کو پسند کرتا ہے اور تنگی میں کشایش کا انتظار بہترین عبادت ہے۔ 

(جمع الفوائد بحوالہ ترمذی)


======


’’حضرت ابوہریرہ حضورﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کا درجہ بلند فرماتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ مجھے یہ درجہ کہاں سے ملا۔ اللہ فرماتا ہے کہ اس دعا کے بدلے میں جو تیری اولاد نے تیرے لیے کی‘‘

 (جمع، بحوالہ بزار)۔


=======


’ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَكَ، وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوكَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ»

( قال الترمذی : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ")


ترجمہ = 

جب کچھ مانگنا ہو تو اللہ ہی مانگو ، اور جب بھی مدد کی طلب ہو ،تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو ،اور یقین رکھو! کہ ساری امت تجھے کوئی نفع پہنچانا چاہے تو نہیں پہنچا سکتی،

سوائے اتنے نفع کے جو پہلے اللہ نے تیرے لئے لکھ رکھا ہے ،اور سارے لوگ تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیں۔۔تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے ،سوائے اس نقصان کے جو اللہ تعالی نے تیرے لئے لکھا ہوا ہے۔۔قلمیں (مقدر ،نصیب لکھ کر )خشک ہو چکیں ،اور صحیفے بند )‘‘


=======


حدیث شریف میں کہ جب آدھی رات یا رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کیا ہے کوئی سوال کرنے والا کہ اسے عطا کیا جائے، کیا ہے کوئی دعا کرنے والا کہ اسکی دعا قبول کی جائے، کیا ہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ اسے بخش دیا جائے، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے۔

(صحیح بخاری،صحیح مسلم،سنن ابو داؤد، جامع ترمذی،سنن ابن ماجہ)


=======


خلاصۂ کلام یہ ہے کہ دعا مظہر عبدیت اور ایک اہم عبادت ہے۔ دعا مضطرب قلوب کے لئے سامان سکون، گمراہوں کے لئے ذریعۂ ہدایت، متقیوں کے لئے قرب الٰہی کا وسیلہ اور گناہگاروں کے لئے اللہ کی بخشش ومغفرت کی بادِ بہار ہے۔ اس لئے ہمیں دُعا میں ہرگز کاہلی وسستی نہیں کرنی چاہئے، یہ بڑی محرومی کی بات ہے کہ ہم دشمنوں سے نجات اور طرح طرح کی مصیبتوں کے دور ہونے کے لئے بہت سی تدبیریں کرتے ہیں مگر وہ نہیں کرتے جوہرتدبیر سے آسان اور ہرتدبیر سے بڑھ کر مفید ہے (یعنی دعا)،

 اس لئے ہمیں چاہئے کہ اس اہم اور مہتم بالشان عبادت کے ارکان وشرائط وواجبات ومستحبات کے ساتھ اور منہیات ومکروہات سے بچتے ہوئے اپنے خالق ومالک کے سامنے وقتاً فوقتاً خوب دعائیں کریں۔


اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنی میں اپنے سے مانگنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ 


=====


✍ طالب دعا زرمحمدخان حنفی دیوبندی


Photo

Post has attachment
اب کہ الیکشن میں ہی جیتوں گا فانی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟

تیری آنکھوں کا انتخابی نشان رکھا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
Photo

Post has attachment
BESHAQ
Photo

Post has attachment
BESHAQ
Photo

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی ...


از: مولانا اخترامام عادل قاسمی


          ایك ہفتہ قبل كی بات ہے، میں حسبِ معمول دن كے صبح ۹/بجے اپنے آفس میں بیٹھا تھا، قلم  كے بجائے لیپ ٹاپ كا كی بورڈ میرے سامنے تھا اور میں اس پر كوئی دینی مضمون لكھنے كا ارادہ كررہا تھا كہ ایك صاحب بڑے طمطراق كے ساتھ وارد ہوئے، ان كے ساتھ ان كے دو خادم بھی تھے، یہ ترہٹ كے علاقہ كے كسی رئیس گھرانے كے شاہزادے تھے، اور دولت تو جو بچی تھی بچی تھی، مگر دورِ زوال میں بھی ان كے رہن سہن، وضع قطع اور انداز وگفتار میں پرانے دور كی كھنك موجود تھی، ان كی خوبی كی بات ہے كہ جب كبھی ادھر كا دورہ ہوتا، وہ اس فقیر كو بھی شرفیاب كرنا نہ بھولتے، اور ہم بھی وضع داری نبھانے میں كوئی كسر نہیں اٹھا ركھتے، وقت میرے كام كا تھا، اور بہت ہی قیمتی مضمون لكھنے جارہا تھا، ان كا آنا تھوڑی دیر كے لیے ناگوار سا گذرا، معنی ومضمون كسی شرمیلی دوشیزہ سے كم نہیں ہوتے، ان كی آمد تھم سی گئی،..... لیكن اس ناگواری كے باوجود ہم نے اپنی فقیرانہ وضع داری نبھانے میں كوئی كمی نہیں كی....

          خبرخیرت كے بعد، دورانِ گفتگو انھوں نے بتایا كہ میرے گھر میں ایك خاتون برسوں سے كام كرتی تھی، بہت شریف، محنتی اور ایمان دار تھی، ایك دن اچانك وہ كام پر نہیں آئی، گھر میں سب كو حیرت ہوئی، كہ اتنی وفادار ملازمہ نے ایسا كیوں كیا؟ اس كو بلوانے كے لیے آدمی بھیجا گیا، مگر وہ نہیں آئی، تین چار دن كے بعد ایك دن وہ خود آئی، مگر آج وہ كام كے لباس میں نہیں تھی، بلكہ خیرسگالی ملاقات كے انداز میں آئی تھی، دریافت كرنے پرمعلوم ہوا كہ اس كا بیٹا دلی میں كام كرنے لگا ہے، اس نے فون پر گھر والوں سے كہا كہ اب میں كام كرنے لگا ہوں، گھر كے اخراجات كے لیے میں محنت كروں گا اب میری ماں  كو اور میری بہن كو (وہ ایك دوسرے شخص كے یہاں كام كرتی تھی) كام پر جانے كی ضرورت نہیں ہے،.... گھر كی عورتوں كا باہر نكلنا اچھا نہیں ہے.... پیسہ ہی سب كچھ نہیں ہے، عزت سے بڑھ كر كچھ نہیں... عورت نے كہا، اب میں مجبور ہوں، آپ لوگوں كا بہت نمك كھایا ہے، بہت احسان ہے آپ حضرات كا، آرے وقت میں آپ لوگوں نے سہارا دیا، میں شكرایہ ادا كرنے اور كہا سنا معاف كرانے آئی ہوں... یہ كہہ كر اس كی آنكھیں نم ہوگئیں، وہ تھوڑی دیر بیٹھی اور سلام كركے رخصت ہوگئی...

          یہ ہے اس غریب گھر كی عورت، جس كے پاس نہ تعلیمی لیاقت ہے اور نہ كوئی خاندانی پس منظر، جس نے انتہائی پس ماندہ ماحول میں پرورش پائی، جس كی دہنی تربیت پر كسی امیر یا گورنمنٹ كا ایك پیسہ خرچ نہیں ہوا، جس نے كوئی آئیڈیل معاشرہ نہیں دیكھا، جس نے كبھی ترقی پانے كا تصور بھی نہیں كیا، جس كو ہمیشہ دوسروں كے ذہن سے سوچنا  سكھلایا گیا، پشتوں سے جس كے ذہن میں بٹھایا گیا كہ وہ صرف خدمت كے لے اور لوگوں كے برتن صاف كرنے كے لیے پیدا كی گئی ہے، اس كا سوسائٹی میں كوئی مقام نہیں ہے، اس كو اور اس كی بہوبیٹیوں كو ہر ایك دیكھ سكتا ہے،... یہ ہے اس عورت كا كردار جس كے پاس كچھ نہیں ہے،... لیكن ... اس كی نسوانیت اس كے پاس ہے،اس كے اندر كی عورت اس میں زندہ ہے، نسوانی غیرت وحمیت ابھی اس كی قائم ہے، ابھی اس كی فطرت مری نہیں ہے، بلكہ وہی فطرت اس كی معلم ہے، اسی فطرت نے اسے بتایا تم نے یا تمہاری بیٹی نے گھر سے باہر نكل كر اب تك جو بھی نوكری كی، وہ ایك مجبوری تھی، زندگی كو باقی ركھنے كے لیے تھی، بال بچوں كو بھوك كی آگ میں جلنے سے بچانے كے لیے تھی، یہ اس لیے تھی كہ ہمارے پاس اس كے سوا كوئی راستہ نہیں تھا، مجبور كے لیے بہت كچھ جائز ہوتا ہے جو عام آدمی كے لیے جائز نہیں ہوتا... برسوں بعد جب زندگی كی كشتی منجھدار سے نكلتی نظر آئی، پھر وہ وہی عورت ہوگئی جو خالقِ فطرت نے بنایا تھا، حالات كے ہزار ہچكولوں كے باوجود اس كا ضمیر زندہ تھا، غربت نے اس كا مقام چھین لیا تھا، ایمان نہیں چھینا تھا، فقر وافلاس نے اس كی حالت بدل ڈالی تھی، نسوانی غیرت نہیں،...

          وہ صاحب تو ایك عام سی بات كے طور یہ قصہ بیان كرگئے، مگر میں اپنے علاقے كی ان معزز ہستیوں كے بارے میں سوچنے لگا، جن كو اللہ پاك نے ہر طرح سے نواز ركھا ہے، جو ضرورت كے مطابق دولت وخوشحالی بھی ركھتے ہیں اور سوسائٹی میں اپنا مقام بھی، ان كی بہوبیٹیاں مخلوط اسكولوں اور كھلی تعلیم گاہوں میں نوكری كے لیے كیوں جاتی ہیں؟ ان كو كس چیز نے دفاتر كے چكر لگانے پرمجبور كیا ہے؟... یہ باعزت خواتین میری نگاہ میں اس غریب اور جاہل عورت سے بھی زیادہ كمتر نظر آنے لگیں، ان اونچے لوگوں كی سوسائٹی مجھے اس جھونپڑپٹی كی سوسائٹی سے بھی زیادہ پھوہڑ محسوس ہوئی، اس غریب نے زندگی كے اس راز كو پالیا تھا، جو ان دانشمندوں كی دسترس سے باہر ہے، ... اس ان پڑھ عورت كو كس نے بتایا كہ اس كی پچھلی زندگی ضرورت سے عبارت تھی، اب اس كے لیے ملازمت كی كوئی مجبوری باقی نہیں ہے،اس لیے محض تكمیل شوق یا معیار زندگی بلند كرنے كی ہوس میں عورت كا گھركی دہلیز سے باہر نكلنا صحیح نہیں ہے؟... یہ اس كو اس كی فطرت نے بتایا جو ہر انسان كو پیدائشی طور پر ملتی ہے، كوئی اسے سلامت ركھتا ہے اور كوئی حرص وہوس كی بھینٹ چڑھاكر اس كو مسخ كردیتا ہے۔

 

عورت كے لیے اسلامی ہدایات

 

          اسلام نے عورت كی جگہ گھر كو قرار دیا ہے، اور گھر ہی ایسی جگہ ہے جہاںعورت اپنے كو پوری طرح محفوظ محسوس كرتی ہے، قرآن كریم میں ہے:

          وَقَرْنَ فِی بُیوْتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھلِیةِ الْاُوْلٰی (احزاب:۳۳)

          ترجمہ: اپنے گھروں میں رہا كرو اور قدیم جاہلیت كی طرح اپنی نمائش نہ كرو۔

          اس آیت كریمہ نے اس عظیم حقیقت كی طرف اشارہ كیا ہے كہ عورت كے گھر سے باہر نكلنے كی بنیادی طور پر دو ہی وجہ ہوسكتی ہے، (۱) واقعی ضرورت (۲) نمائش كا جذبۂ جاہلیت۔ ضرورت نہ ہونے كی صورت میں عورت كا باہر نكلنا محض اس كے اس سفلی جذبہ كا اظہار ہے جس كو قرآن نے تبرجِ جاہلیت سے تعبیر كیا ہے۔

          گھر كی چہاردیواری عورت كے لیے حصار ہے اور یہ دل ودماغ كی طہارت كی ضمانت بھی ہے، قرآن كریم میں ہے:

          إذَا سألتُمُوھنَّ مَتَاعاً فَاسْئَلُوھنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذٰلِكُم أطْھـَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوْبِھنَّ (احزاب:۵۳)

          ترجمہ: اور جب تم ان عورتوں سے كوئی چیز مانگو تو پردہ كے پیچھے سے مانگو اسی میں تمہارے اور ان كے دلوں كی طہارت ہے۔

          قرآن وحدیث كی بے شمار نصوص میں عورتوں كے لیے پردہ اور عصمت وعفت كی حفاظت پر زور دیاگیا ہے، ایك حدیث میں ہے كہ نبی كریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

          اَلْمَرْأةُ عَوْرَةٌ فَإذَا خَرَجَتْ إسْتَشْرَفَھا الشَّیطَانُ (ترمذی، كتاب النكاح ۱/۱۴۰)

          ترجمہ: عورت سراپا پردہ ہے، جب وہ نكلتی ہے تو شیطان اس كو جھانكنے لگتا ہے۔

          حضرت جابرؓ كی روایت ہے كہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

          إنَّ الْمَرْأةَ تُقْبِلُ فِی صُوْرَةِ شَیطَانٍ وَتُدُبِرُ فِی صُوْرَةِ شَیطَانٍ(رواہ مسلم، مشكوٰة المصابیح باب النظر الی المخطوبة ص ۳۴۰)

          ترجمہ: عورت شیطان كی صورت میں سامنے آتی ہے اور شیطان كی صورت میں پیچھے جاتی ہے۔

          یعنی عورت كا گھر سے باہر نكلنا فتنہ سے خالی نہیں ہے۔

          دراصل اسلام نے عورت كومالی یا گھر سے باہر كی ذمہ داریوں سے آزاد ركھا ہے، اور یہ ساری ذمہ داریاں مردوں پر ڈال دی ہیں، شادی سے قبل ہو یا شادی كے بعد اس پر كسی طرح كا كوئی مالی بوجھ نہیں ہے، شادی كے بعد ہونے والے بچوں كی ذمہ داری بھی اس كے شوہر كے سر ہے؛ اسی لیے فقہاء نے لكھا ہے كہ اگر كوئی عورت كسبِ معاش كی غرض سے كسی كام سے وابستہ ہونا چاہتی ہے تو شوہر اس كو روكنے كا حق ركھتا ہے (رد المحتار ۵/۲۵۸)

          اس طرح  اسلام نے اس پر كوئی مالی اور خارجی بوجھ نہ ڈال كر ایك طرف ان كے نسوانی حسن كی حفاظت كی دوسری طرف سوسائٹی كو ایك بڑے فتنے سے محفوظ كردیا، سوسائٹی میں زیادہ تر فتنے مخلوط معاشرے كی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، اسی لیے شریعت نے مردو عورت كے دائرے كو الگ كردیا ہے، آج ابلیسی نظام ان دونوں دائروں كو پھر ایك كرنا چاہتا ہے، یہ اسلامی معاشرے كی روح اور مزاج كے خلاف ہے۔

 

بہ وقتِ ضرورت عورت كی ملازمت

 

           كبھی ایسی صورت پیش آتی ہے كہ عورت كا كوئی كفیل موجود نہ ہو، بیوہ یا مطلقہ ہو، یااس كا شوہر مریض، اپاہج یا كمانے كے لائق نہ ہو،اس وقت آبرو مندانہ زندگی گذرانے كے لیے عورت كسبِ معاشر كے لیے مجبور ہوتی ہے اور اس كو اپنی ضرورت كے لیے گھر سے باہر نكلنے كی بھی نوبت آتی ہے، اس طرح كے مجبور كن حالات میں فقہاء نے كسبِ معاش كے لیے عورت كو گھر سے باہر نكلنے كی مشروط اجازت دی ہے:

          ٭ اس وقت تك جب تك كہ یہ حالات ختم نہ ہوجائیں۔

          ٭ مكمل شرعی پردہ كے ساتھ گھر سے باہر نكلے، جس میں اس كا چہرہ بھی نامحرموں كے سامنے مستور ہو، چہرہ اگرچہ كہ سترِ عورت كے دائرے میں داخل نہیں ہے، لیكن عورت كے لیے سب سے زیادہ باعثِ فتنہ یہی ہے،اس لیے سدِ باب كے لیے چہرہ كھولنا مكروہ تحریمی ہے بالخصوص جوان عورتوں كے لیے (ردالمحتار۹/۴۵۱)

          ٭ انتہائی سادہ اور معمولی لباس میں نكلے، جاذبِ نظر لباس یا كسی قسم كی زیب وزینت كا استعمال نہ كرے (فتح القدیر كتاب الطلاق ۴/۳۵۸)

          ٭ اگر سفر شرعی كی نوبت ہوتو كسی معتبر محرم مرد كی رفاقت ضروری ہے، عورت كی رفاقت كافی نہیں ہے؛ بلكہ سفر شرعی نہ بھی ہو تب بھی بغیر محرم كے نكلنا مكروہ ہے۔ (فتاوی عالمگیری ۵/۳۶۶)

          ٭ ڈیوٹی كے دوران جسم كا صرف وہ حصہ ظاہر ہو جس كے بغیر متعلقہ عمل كی تكمیل ممكن نہ ہو، اس كے علاوہ جسم كے دوسرے حصوں كی نمائش جائز نہیں ہے، مقامِ ملازمت پر پردہ كا معقول انتظام ہو؛ اس لیے ایسی جگہ ملازمت كرنا درست نہیں جہاں مرد وعورت مخلوط طور پر كام كرتے ہوں (ردالمحتار ۹/۴۵۰)

          ٭ عورت كی آواز بھی پردہ ہے اگر ملازمت اس قسم كی ہو، جس میں عورت كی آواز غیرمحرم مردوں تك پہونچتی ہوتو یہ بھی باعثِ فتنہ اور ناجائز ہے۔ (طحطاوی علی المراقی ۲۴۲، فتح القدیر كتاب الصلوٰة ۱/۲۷۶)

          ٭ شوہر یا ولی كی اجازت كے بغیر نہ نكلے (فتح القدیر ۴/۳۵۸)

          ٭ كوئی دوسرا متبادل ذریعۂ معاش موجود نہ ہو،اگر اندرونِ خانہ كوئی ذریعۂ معاش میسر ہوتو باہر نكلنے كی اجازت نہ ہوگی؛ اس لیے كہ صنف نازك كا گھر سے باہر نكلنا فتنہ ہے اور اس كی اجازت محض برائے ضرورت ہے؛ اس لیے حدِ ضرورت سے زیادہ اس كی توسیع نہیں كی جاسكتی... محض معیارِ زندگی كو بلند كرنے یا وقت گذاری اور سرمایہ واثاثہ پیداكرنے كی غرض سے عورتوں كا معاشی دوڑ میں داخل ہونا، جب كہ گھر كی مالی حالت ایسی ہو كہ كسی نہ كسی طرح كام چل رہا ہو، اس كی اجازت شرعی اصول سے بالاتر ہے، یہ محض ہوس ہے جس كا كوئی علاج اس دنیا میںموجود نہیں ہے۔

          یہ ہے عورت كے لیے اس كے بنانے والے پروردگار كا مزاج، یہ ہے فطرت كی تعلیم، یہ ہے اسلام كی روح جس كو فقہاء نے پوری طرح منقح كركے پیش كردیا ہے، جس معاشرے میں عورت اومرد كے دائرے الگ نہ ہوں اس كو اخلاقی دیوالیہ پن سے كوئی نہیں روك سكتا، سارے فتنے عورت كو گھر سے باہر نكالنے سے جنم لیتے ہیں،اور تمام فتنے صرف اس عمل سے دب كر رہ جاتے ہیں كہ عورت كو گھر كی چہاردیواری میں مصروف كردیا جائے، ایك بہتر عورت بہتر معاشرے كو جنم دے سكتی ہے، عورت كسی بچہ كی پہلی تعلیم گاہ ہے، یہ انسانیت سازی كا اولین مركز ہے،اگر اسی كو گھر سے باہر نكال دیا جائے اور باہر كی دنیا میں الجھا دیا جائے، تو گھر كے اندر كی عظیم دنیا كو سنبھالنے والا كون ہوگا؟ ننھی انسانیت كی تعمیر كس كے رحم وكرم پر ہوگی؟ یہ عورت كے لیے قید وبند نہیں، دائرئہ كار كی تقسیم ہے،اور تقسیمِ كار كے اصول كے بغیر دنیا كا كوئی كام نہ پہلے چلا ہے اور نہ آج چل سكتا ہے۔

مكالماتِ فلاطوں نہ لكھ سكی لیكن  اسی كے شعلے سے نكلا شرارِ افلاطوں

٭٭٭

---------------------------------

Photo
Wait while more posts are being loaded