Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment

جن بچوں کے نام ان کی تاریخ پیدائش، وقت، برج، عنصر، عدد اور ماں، باپ کے ناموں کے باہمی امتزاج کو مدّ ِ نظر رکھ کر انتخاب کئے جاتے ھیں ایسے بچےّ ناقابل یقین حد تک ذہین ھوتے ہیں بیماریوں سے دور رہتے ھیں اور جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتے ہیں ماں باپ کی عزّ ت اور توقیر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے بچےّ شادی کے بعد بھی نھیں بدلتے بلکہ ہر لمحہ ان کے دل میں ماں باپ کا احترام بڑھتا جاتا ہے اور کبھی بھی ماں باپ کو چھوڑنےکا تصوّ ر بھی نہیں کرتے اس کے برعکس جن بچوّ ں کے غلط نام رکھ دئیے جاتے ہیں ایسے بچےّ تعلیمی میدان میں کمزور، ہروقت کی بیماری، ماں باپ کا عدم احترام، بری صحبت، اور تو اور شادی کے بعد ماں باپ کوچھوڑ دینا وغیرہ شامل ھوتا ہے اور ماں باپ ساری زندگی بیٹے کو بھگا لیجانے والی بہو کو الزام دیتے رہتے ہیں قصور خود کا اور الزام دوسروں پر - اسلئے آپ اپنے بچوّ ں کے نام علم لاعداد کی روشنی میں رکھوائیے فیس 5000 روپے

پاکستان میں شادی ایک گھمبھیر مسئلہ بن گیا ھے بلخصوص لڑکیوں کی شادیاں اور ھو بھی کیوں نہ جس معاشرے میں زنا 500 روپے میں اور شادی 10 لاکھ روپے میں ھو تو ایسے معاشرے میں شریف زادیاں اپنے گھروں میں ھی بوڑھی ھوجاتی ہیں اور دھیرے دھیرے اسی گھر میں اپنی وقعت کھوتی جاتی ھیں یہاں تک کہ وہ گھر جس میں وہ پیدا ھوئی اسی گھر میں اجنبی بن جاتی ھیں ھم لوگ بہت دیندار بنتے ھیں لیکن جب بیٹے کی شادی کی بات آتی ھے تو ایک کم عمر خوبصورت اور لاکھوں کا جہیز لانے والی لڑکی تلاش کی جاتی ھے اس وقت ھم بھول جاتے ھیں کہ ھمارے نبی پاک صلی الله علیہ وسلم نے ھمیں سادگی کی تعلیم دی ھے الله کی ناراضگی کی ھمیں کوئی پرواہ نہیں ھوتی اور بعد میں جب یہ بہو ان کے بیٹے کو لے کر چلی جاتی ھے تو الله سے بد دعاْوْ اور شکایتوں کا انبار لگا دیتی ھیں اس کے برعکس اگر ھم اپنی شادیوں کو انتہائی آسان کر دیں اتنا آسان کہ بیٹیوں کے گھر والوں کو ایک روپیہ بھی خرچ نہ کرنا پڑے تو ایسی لڑکیاں اپنے ساس سسر کو عزت بھی دینگی اور انکی خدمت بھی کرینگی ھمیں چاہئے کہ ہم اپنے بیٹوں کی ایسی تربیت کریں کہ وہ جہیز جیسی لعنت سے دور رھیں اور سادگی سے شادی کرنے کو اپنا شعار بنائیں ۔ اس سے الله بھی خوش ھوگا اور نبی پاک صلی الله علیہ وسلم کی سنت پر عمل کر کے ان کی شفاعت بھی جا صل کر سکیں گے۔

ھم مسلمانوں میں شادی کرنے سے پہلے استخارہ کو بہت اہمیت دی جاتی ھے آجکل تقریباً %80 فیصد لوگ شادی سے پہلے استخارہ کرنا ضروری سمجھتے ھیں لیکن کیا آپ لوگوں کو معلوم ھے کہ استخارہ کے باوجود پاکستان میں طلاق اور میاں بیوی میں نااتفاقی کی شرح دوسرے ملکوں سے بہت زیادہ ھے کیا کبھی آپ نے سوچا کہ ایسا کیوھے؟استخارہ درست ھونے کے باوجود طلاق کیوں ھوجاتی ھے یا میاں بیوی میں نا اتفاقیاں کیوں رھتی ھیں اب میں آپ کو بتاوُ ں کہ استخارہ کی حقیقت کیا ھے بنیادی طور پر استخارہ کےذریعے الله کی رضا معلوم کی جاتی ھے جو کہ کسی بھی انسان کے بس کی بات نھیں ھے الله تعالیٰ سے بات کرنا صرف اور صرف انبیاء کرام علیہ السلام کا شیوہ رہا ھے کوئی بھی انسان الله تعالیٰ سے ہمکلام نھیں ھوسکتااور جب انسان الله تعالیٰ سے بات ھی نہیں کرسکتا تو پھر استخارہ کی حیثیت صفر رہ جاتی ھے اور پھر استخارہ کے باوجود اس قسم کے رزلٹ آنا جن کا تذکرہ میں نے اوپر کیا ھے کوئی انہونی بات نہیں رہ جاتی اب اس مسئلےکا حل کیا ھے اس دنیا میں ہر مسئلے کا حل موجود ھوتا ھے صرف کمی ھے تو علم کی اگر کسی بھی مسئلے کا حل علم کی روشنی میں تلاش کیا جائے تو اس کا رزلٹ اچھا نکلتا ھے اور ساری زندگی خوشگوار انداز میں بسر ھوتی ھے

اوراد و وظائف کیا ھیں اور یہ کس طرح سے ھماری زندگی پر کس طرح اثر انداز ھوتے ہیں دراصل آج تک کسی نے اس بات کو واضح کرنے کی کوشش ھی نہیں کی یا اگر کسی نے کوشش کی بھی ھوگی تو وہ کتابوں میں موجود نہیں یہ جو بات آج میں آپ کو بتانے جا رہا ھوں یہ خالصتاً میری اپنی کاوش اور تجربات ھیں اس میں غلطی کا امکان بھی ھوسکتا ھے کیونکہ میں ایک انسان ھوں اگر کسی کو میری بات سے اختلاف ھو تو میری بھی تصحیح فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیے گا۔ بات کا آغاز کرتا ھوں فرض کریں کہ آپ کسی ایسے شخص کو جسے نہ آپ جانتے ھوں اور نہ وہ آپ کو جانتا ھو آپ کو کسی طرح اس شخص کا نام پتہ چل جائے اور آپ روزآنہ اس شخص کو آتے جاتے اس کا نام لے کر پکاریں اور اس شخص کے آپ کی طرف متوجہ ھونے پر آپ انجان بن جائیں یہ سلسہ تین چار دن دس دن یا بیس دن تو شاید چل جائے لیکن زیادہ دن نہیں چل سکتا ایک دن وہ شخص تنگ آکر آپ سے لڑ پڑے گا کہ میں جب بھی یہاں سے گزرتا ھوں تم میرا نام لے کر انجان بن جاتے ھو آخر آپ کو پرابلم کیا ھے بلکل اسی طرح جب ھم قرآن کریم کی کسی سورة، آیت یا ٰاسماءِ الٰہی کا ورد کرتے ھیں تو بالکل ایسا ھی رزلٹ آتا ھے یعنی نیگیٹو یا پازیٹو اگر وظیفہ آپ کے نام کے مزاج اور آپ کی روح کی ماہیت سے مطابقت رکھتا ہے تو آپ کو فائدہ ھوگا اور اگر اس کے برعکس ھوگا تو آپ کی پریشانی کم ھونے کے بجائے اس میں مزید اضافہ ھو جائے گا بلکہ یہاں تک ھو گا کہ آپ کی قیمتیی اشیاء اور پیسے غائب ھونا شروع ھوجائیں گے آپ کے نئے کپڑوں میں خود بہ خود سوراخ ھونا شروع ھوجائیں گے اور اسی طرح کے دیگر معاملات جس سے آپ کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ھو جائے اس لئے کوئی بھی وظیفہ شروع کرنے سے پہلے اس کے مزاج اور اپنی روح کی ماھیت ضرور معلوم کرنا چاھئے ورنہ سوائے نقصان کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ ۔میرے تجربے میں ھے کہ جس طرح ُ ُ یا لطیفُْ ُ ُ کا ورد کرنے سے بہت سی لڑکیوں کی شادی ھوجاتی ھے اسی طرح بہت سی لڑکیوں کی انگیجمنٹ ٹوٹ جاتی ھے اور لمبے عرصے تک ان کی شادیوں کے آثار نظر نہیں آتے۔ اسلئے برائے کرم کسی بھی وظیفہ کو شروع کرنے سے پہلے مجھ سے یا کسی بھی صاحب علم سے معلومات ضرور لیں۔
Wait while more posts are being loaded