Post has shared content
Hadees "e" Nabwi Sallallahu Alaihiwa Sallam

Hazrath Aisha razi Allah anha ne bayan ki Nabi Kareem Sallallahu Alaihi Wasallam par jaadoo kiya gaya tha

Aap ke Zahen me baat hoti thi ke falah kaam me kar raha hun halan ki Aap usko nahi kar rahe hote

Aakhir ek din Aap Sallallahu Alaihi Wasallam ne dua ki ke ALLAH Subhanahu is jaadoo ke asar ko door kar de

is ke baad aap ne Aisha Razi Allahu Anha se farmaya ki tumhe maaloom bhi hai ki ALLAH subhanahu ne mujhe wo tadbeer bata di hai jisme meri Shifa muqaddar hai

Mere paas do Aadmi aaye ek to mere sir
ki taraf baith gaye aor dusra paao ki taraf phir ek ne dusre se kaha, inhen kya beemari hai?

Dusre aadmi ne jawab diya ke in par jaadoo hua hai

unhon ne poocha jaadoo un par kis ne kiya hai?

jawaab diya ke Labid bin Aasim Yahoodi ne

Poocha ke wo jaadoo tona kis cheez me rakha gaya hai?

kaha ki kanghi me aor kanghi me fase huwe baalo me aor khajoor ke khushk khoshe ke gilaaf me

Poocha aor ye cheeze kahan hain?

kaha Dharwan ke kuwe me

Phir Rasool Allah Sallallahu Alaihi Wasallam wahan tashreef le gaye aor waapas aaye to Aisha Razi Allahu Anha se farmaya

wahan ke khajoor ke darakht aise hain jaise shaitaan ki khopdi

Me ne Aap Sallallahu Alaihi Wasallam se poocha, wo jaadu aap ne wahan se nikalwaya ?

Aap Sallallahu Alaihi Wasallam ne farmaya ke nahi mujhe to ALLAH subhanahu ne khud Shifa di aor me ne usko is khayaal se nahi nikalwaya ke kahin is ki wajah se logon me koi jhagda na fail jaaye is ke baad wo kunwa band kar diya gaya


Sahih Bukhari Jild 4, 3268,

Taalibe dua
Afroz"khan
Photo

رُباعی از شیخ ابوسعید ابوالخیر......

رفتم بہ طبیب و گفتم از دردِ نہاں
گفتا، از غیرِ دوست بر بند زباں
گفتم کہ غذا؟ گفت ہمیں خونِ جگر
گفتم پرہیز؟ گفت از ہر دو جہاں
ترجمہ :میں طبیب کے پاس گیا اور اُس کو اپنے دردِ نہاں کے متعلق بتایا، اُس نے کہا کہ دوست کے علاوہ ہر کسی کے سامنے اپنے زبان بند رکھ۔ میں نے پوچھا، غذا کون سی استعمال کروں؟ اُس نے کہا یہی خونِ جگر۔ میں نے پوچھا کہ پرہیز کیا کروں؟ اُس نے کہا ہر دو جہاں سے۔


شیخ ابو سعید ابو الخیر ایران کے مشہور صوفی شاعر ہیں آپ اپنی رباعیات کی وجہ سے مشہور ہیں۔۔۔

Post has attachment
Photo

Post has shared content
ايک بارضرور پرهین


ایک ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺩﺍﻧﺖ ﭨﻮﭦ ﮐﺮ ﮔﺮ ﭘﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﯾﮏ مفسر ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍ ﮐﺮ ﺍُﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺳُﻨﺎﯾﺎ-
ﻣﻔﺴﺮ ﻧﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ, ﺍﺳﮑﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﻣﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ کو بہت غصہ آیا - اس نے ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ قتل کردیا،
ایک اور ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﯾﺎ ﮔﯿﺎ, ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺍُس کو ﺍﭘﻨﺎ ﺧﻮﺍﺏ سنایا،
ﻣﻔﺴﺮ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ؛ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺳﻼﻣﺖ ﺁﭘﮑﻮ ﻣُﺒﺎﺭ ﮎ ﮨﻮ۔ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﺗﻌﺒﯿﺮ ﯾﮧ ﺑﻨﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﻣﺎﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔
ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﻧﮯ ﺧﻮﺵ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﻔﺴﺮ ﮐﻮ ﺍﻧﻌﺎﻡ ﻭ ﺍﮐﺮﺍﻡ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺭﺧﺼﺖ ﮐﯿﺎ --
ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﯾﮩﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺘﺎ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺍُﺳﮑﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﺍُﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮨﯽ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ؟
ﺟﯽ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻮ ﯾﮩﯽ ﮨﯽ ﺑﻨﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺕ ﺑﺎﺕ ﻣﯿﮟ اور الفاظ میں ﻓﺮﻕ ﮨﮯ ،،
آپ کا بولا گیا ایک ایک لفظ کسی دوسرے کے لئے مرہم بھی بن سکتا ہے ،، اور زخم بھی دے سکتا ہے-
اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے...


دوا کی گزارش
افروز خان
Photo

Post has shared content
Ek BAAR POORA ZAROOR PADHEN

Kya aap jaante hain?

MAULA ALI رضي الله عنه NE KHAIBAR KE JIS DARWAZE KO EK HAATH SE UKHAADKAR FAINK DIYA THA USKA WAZAN 800 MAN (16,000 Kg) THA

(TAFSIR-E-KHAIBAR)

HAZRAT ALI رضي الله عنه PAR KABHI ZAKAAT FARZ HI NAHI HUI Q KE AAP NE POORI ZINDAGI MUFLISI AOR FAAQON ME HI GUZAARI

(SIRATE RASOOLE ARABI)

HAZRAT IMAAM HASAN رضي الله عنه IMAAM HUSAIN رضي الله عنه AOR ABDULLAH IBNE JAAFAR رضي الله عنه NE HAZRAT ALI رضي الله عنه KO GUSL DIYA AOR QAFAN BAANDHA

[TAARIKHUL KHULAFA]

SHER-E-KHUDA MAULA ALI KARRAMALLAHU WAJ'HUL KAREEM KI NAMAZ-E-JANAZA AAP KE BADE BETE IMAAM HASAN رضي الله عنه NE PADHAAYI

[TAARIKHUL KHULAFA]

Hazrat ALI Mushkil Khusha
Agar Kisi Ke Hona Chaahte Ho To Poori HAQEEQAT Se Ho Jaao Warna Apni ZAAT Me Aisi HAQEEQAT Paida Karo, Ke Koi HAQEEQAT Me TUMHAARA Ho Jaaye
ALLAH KE HABEEB صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ne FARMAYA
JISNE ALI رضي الله عنه KI FARMAABARDAARI KI USNE MERI FARMAABARDAARI KI

(AL HAAKIM SAFA.121)

SUBHAN ALLAH

Taalibe dua
Afroz"khan
Photo

Post has attachment
Oh Allah on these blessed days in this most blessed month we ask of you, you know the desires of each one of us, you know our strengths and our weaknesses.
✿Oh Allah grant us the highest level of sabr during our test.
✿Oh Allah we are sure we are most confident that you will answer our
duas for
it is you our Rabb our most beloved Allah who says Be and it is!!!
We are most certain you will grant us all that we ask for and more.
You are most gracious, most merciful..
Photo

Post has attachment
✿_تابوتِ سکینہ_✿
تابوتِ سکینہ شمشاد کی لکڑی کا بنا ہوا ایک صندوق تھا جو آدم علیہ سلام پر نازل ہوا تھا۔، یہ پوری زندگی آپ کے پاس رہا۔ پھر بطور میراث آپ کی اولاد کو ملتا رہا، یہاں تک کہ یہ حضرت یعقوب علیہ سلام کو ملا اور آپکے بعد آپکی اولاد بنی اسرایئل کو ملا اور بعد میں یہ حضرت موسیٰ علیہ سلام کو ملا جس میں وہ اپنا خاص سامان اور تورات شریف رکھا کرتے تھے۔
یہ بڑا ہی مقدس اور بابرکت صندوق تھا، بنی اسرایئل جب کفار سے جہاد کرتے اور انکو شکست کاڈر ہوتا تو وہ اس صندوق کو آگے رکھتے تو اس صندوق سے ایسی رحمتوں اور برکتوں کا ظہور ہوتا کہ مجاہدین کے دلوں کو چین آرام و سکون حاصل ہو جاتا اور صندوق وہ جتنا آگے بڑھاتے آسمان سے نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ کی بشارت عظمی نازل ہوتی۔
بنی اسرایئل میں جب بھی کبھی اختلاف ہوتا تو وہ اسی صندوق سے فیصلہ کراتے۔ صندوق سے فیصلہ کی آواز خود ہی آتی العرض یہ تابوت بنی اسرایئل کے لیے تابوت سکینہ ثابت ہوا۔
لیکن جب بنی اسرایئل طرح طرح کے گناھوں میں ملوث ہوئے اور ان لوگوں میں سرکشی اور ظلم و جبر کا دور دورا عام ہوا تو انکی بداعمالیوں کی نحوست کی بدولت اللہ کا یہ عذاب نازل ہو گیا کہ قوم عمالقہ کے ایک لشکر جرار نے بنی اسرایئل پر حملہ کیا اور بنی اسرایئل کو تہس نہس کر دیا۔ ان میں قتل عام کیا اور انکی بستیوں کو تحت وتاراج کیا اور متبرک صندوق کو بھی اٹھا کر راستے میں نجاستوں کے کوڑے میں پھینک دیا۔
اس بے ادبی کی سزا میں اللہ نے قوم عمالقہ پر وباء مسلط کی جس سے طرح طرح کی بیماریاں ان پر مسلط ہوئی۔۔ اس وباء سے قوم عمالقہ کے پانچ شہر آن کی آن میں تباہ ہو کر ویران ہوئے جس سے انکو یہ بات ماننی پڑی کہ یہ جو بھی ہو رہا ہے یہ سب کچھ اللہ کا عذاب ہے جو صندوق سکینہ کی وجہ سے اللہ نے ان پر مسلط کیا ہے، ان کی آنکھیں کھولنے میں ذرا دیر بھی نہیں لگی۔ سو انھوں نے صندوق سکینہ تلاش کر کہ بیل گاڑی میں ڈال کر بیل گاڑی کو بنی اسرایئل کی طرف ہانک دیا۔
اللہ تعالی نے چار فرشتوں کو بھیجا جنھوں نے یہ مبارک صندوق اٹھا کر بنی اسرایئل کے بابرکت نبی حضرت شموئیل علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔۔ اس وقت شموئیل علیہ سلام نے طالوت کو بنی اسرایئل پر بادشاہ مقرر فرمایا تھا، اس وقت بنی اسرایئل طالوت کی بادشاہی مانے کو تیار نہ تھے۔اور انھوں نے یہی شرط ٹھہرائی تھی کہ جب صندوق سکینہ آئے تو ہم طالوت کی بادشاہی کی اطاعت کرینگے۔۔ چنانچہ وہ صندوق انکے سامنے پیش کیا گیا اور انھوں نے طالوت کی بادشاہی کی اطاعت کی۔
بحوالہ تفسیر الصاوی جلد 1 صفحہ 385
اس مقدس صندوق میں موسیٰ علیہ السلام کا عصاء، ان کی مقدس جوتیاں، ہارون علیہ السلام کا عمامہ ، حضرت سلیمان علیہ سلام کی انگوٹھی ، تورات کے چند نسخے ، کچھ من و سلویٰ اور اسکے علاوہ کچھ انبیاء علیہ سلام کے صورتوں کے حلیے وعیرہ شامل تھے۔
بحوالہ تفسیر روح البیان جلد 1 صفحہ 384
قرآن نے صندوق سکینہ کو کچھ یوں بیان کیا ہے
وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ آيَةَ مُلْكِهِ أَن يَأْتِيَكُمُ التَّابُوتُ فِيهِ سَكِينَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَبَقِيَّةٌ مِّمَّا تَرَكَ آلُ مُوسَىٰ وَآلُ هَارُونَ تَحْمِلُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے۔ حضرت داؤد کے زمانے تک اس تابوت کو رکھنے کے لئے کوئی خاص انتظام نہیں تھا اور اسکے لئے پڑاؤ کی جگہ پر ایک الگ خیمہ لگا دیا جاتا تھا- حضرت داؤد نے خدا کے حکم سے خدا کا گھر بنانا شروع کیا جو عین اس مقام پر ہے جہاں آج مسجد اقصیٰ موجود ہے-لیکن یہ عالی شان گھر آپ کے بیٹے حضرت سلیمان کے عہد میں مکمل ہوا اور اس کو ہیکل سلیمانی کے نام سے جانا جاتا ہے- اس گھر کی تعمیر کے بعد تابوت سکینہ کو یہاں پورے احترام کے ساتھ رکھ دیا گیا- اور اس طرح یہ مقام یہودیوں کا مقدس ترین مقام بن گیا- بعد کے زمانے میں ہونے والی جنگوں نے اس ہیکل کو بہت نقصان پہنچایا لیکن بابل کے بادشاہ بخت نصر نے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اس کو آگ لگا دی ، وہ یہاں سے مال غنیمت کے ساتھ ساتھ تابوت سکینہ بھی لے گیا تھا- اس تباہی کے نتیجے میں آج اصلی ہیکل کی کوئی چیز باقی نہیں ہے- ان تمام تباہیوں کے نتیجے میں تابوت سکینہ کہیں غائب ہو گیا اور اسکا کوئی نشان نہیں ملا-
آج بھی یہودی ماہرین آثار قدیمہ دن رات اسکی تلاش میں سرگرداں ہیں تاکہ اس مبارک تابوت کو واپس پا کر وہ اپنا کھویا ہوا روحانی مقام دوبارہ سے حاصل کر سکیں۔
Photo

Post has shared content

Post has shared content

Post has attachment
✿فقہ حنفی کے بانی، امام الائمہ، سراج الامہ، آفتاب ِ علم و فضل، امام المجتہدین، مینارہ علم و کمال،
جلیل القدر تابعی امامِ اعظم امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ "نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ ✿
عرس: - 2، شعبان معظم، مزار: - بغداد شریف، عراق

حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے مختصر حالات زندگی

آپ کا اسم گرامی نعمان اور کنیت ابو حنیفہ ہے۔ آپ کی ولادت ۸۰ھ میں عراق کے کوفہ شہر میں ہوئی۔ آپ فارسی النسل تھے۔ آپ کے والد کا نام ثابترحمتہ اللہ تھا اور آپ کے دادا نعمان بن مرزبان کابل کے اعیان و اشراف میں بڑی فہم و فراست کے مالک تھے۔ آپ کے پردادا مرزبان فارس کے ایک علاقہ کے حاکم تھے۔ آپ کے والد حضرت ثابترحمتہ اللہ بچپن میں حضرت علیرضی اللہ کی خدمت میں لائے گئے تو حضرت علیرضی اللہ نے آپ اور آپ کی اولاد کے لئے برکت کی دعا فرمائی جو ایسی قبول ہوئی کہ امام ابو حنیفہرحمتہ اللہ جیسا عظیم محدث و فقیہ اور خدا ترس انسان پیدا ہوا۔

آپ نے زندگی کے ابتدائی ایام میں ضروری علم کی تحصیل کے بعد تجارت شروع کی لیکن آپ کی ذہانت کو دیکھتے ہوئے علم حدیث کی معروف شخصیت شیخ عامر شعبی رحمتہ اللہ کوفی ۱۷ھ – ۱۰۴ھ" جنہیں پانچ سو سے زیادہ اصحاب رسولرضی اللہ کی زیارت کا شرف حاصل ہے، نے آپ کو تجارت چھوڑ کر مزید علمی کمال حاصل کرنے کا مشورہ دیا چنانچہ آپ نے اما شعبی رحمتہ اللہ کوفی کے مشورہ پر علم کلام، علم حدیث اور علم فقہ کی طرف توجہ فرمائی اور ایسا کمال پیدا کیا کہ علمی و عملی دنیا میں امام اعظم رحمتہ اللہ کہلائے۔ آپ نے کوفہ ، بصرہ اور بغداد کے بے شمار شیوخ سے علمی استفادہ کرنے کے ساتھ حصول علم کے لئے مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ اور ملک شام کے متعداد اسفار کئے۔

ایک وقت ایسا آیا کہ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کو ملک کے قاضی ہونے کا مشورہ دیا لیکن آپ نے معذرت چاہی تو وہ اپنے مشورہ پر اصرار کرنے لگا چنانچہ آپ نے صراحتہ انکار کر دیا اور قسم کھالی کہ وہ یہ عہدہ قبول نہیں کر سکتے، جس کی وجہ سے ۱۴۶ ہجری میں آپ کو قید کر دیا گیا۔ امام صاحب رحمتہ اللہ کی علمی شہرت کی وجہ سے قید خانہ میں بھی تعلیمی سلسلہ جاری رہا اور امام محمد رحمتہ اللہ جیسے محدث و فقیہ نے جیل میں ہی امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ سے تعلیم حاصل کی۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کی مقبولیت سے خوفزدہ خلیفہ وقت نے امام صاحب رحمتہ اللہ کو زہر دلوا دیا۔ جب امام صاحب رحمتہ اللہ کو زہر کا اثر محسوس ہوا تو سجدہ کیا اور اسی حالت میں وفات پا گئے۔ تقریبا پچاس ہزار افراد نے نماز جنازہ پڑھی، بغداد کے خیزران قبرستان میں دفن کئے گئے۔ ۳۷۵ھ میں اس قبرستان کے قریب ایک بڑی مسجد "جامع الامام الاعظم رحمتہ اللہ " تعمیر کی گئی جو آج بھی موجود ہے۔ عرض ۱۵۰ھ میں صحابہ و بڑے بڑے تابعین سے روایت کرنے والا ایک عظیم محدث و فقیہ دنیا سے رخصت ہو گیا اور اس طرح صرف اور صرف اللہ تعالی کے خوف سے قاضی کے عہدہ کو قبول نہ کرنے والے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیا تاکہ خلیفہ وقت اپنی مرضی کے مطابق کوئی فیصلہ نہ کراسکے جس کی وجہ سے مولاء حقیقی ناراض ہو.
حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے بارے میں حضور اکرمصلی اللہ علیہ و سلم کی بشارت

مفسر قرآن شیخ جلال الدین سیوطی شافعی مصری رحمتہ اللہ ۸۴۹ھ – ۹۱۱ھ" نے اپنی کتاب "تبییض الصحیفۃ فی مناقب الامام ابی حنیفہ رحمتہ اللہ " میں بخاری و مسلم و دیگر کتب حدیث میں وارد نبی اکرم کے اقوال : " اگر ایمان ثریا ستارے کے قریب بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے بعض لوگ اس کو حاصل کر لیں گے۔ "بخاری" اگر ایمان ثریا ستارے کے پاس بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے ایک شخص اس میں سے اپنا حصہ حاصل کرلے گا۔ "مسلم" اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو گا تو اہل فارس میں سے ایک شخص اس کو حاصل کر لے گا "طبرانی" اگر دین ثریا ستارہ پر بھی معلق ہو گا تو اہل فارس میں سے کچھ لوگ اس کو حاصل کر لیں گے "طبرانی" ذکر کرنے کے بعد تحریر فرمایا ہے کہ میں کہتا ہوں کہ حضور اکرمصلی اللہ علیہ و سلم نے امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ "شیخ نعمان بن ثابت رحمتہ اللہ " کے بارے میں ان احادیث میں بشارت دی ہے اور یہ احادیث امام صاحب کی بشارت و فضیلت کے بارے میں ایسی صریح ہیں کہ ان پر مکمل اعتماد کیا جاتا ہے۔ شیخ ابن حجر الھیتمی المکی الشافعی رحمتہ اللہ "۹۰۹ھ – ۹۷۳ھ" نے اپنی مشہور و معروف کتاب " الخیرات الحسان فی مناقب امام ابی حنیفہ" میں تحریر کیا ہے کہ شیخ جلال الدین سیوطی رحمتہ اللہ کے بعض تلامذہ نے فرمایا اور جس پر ہمارے مشائخ نے بھی اعتماد کیا ہے کہ ان احادیث کی مراد بلاشبہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ ہیں اس لئے کہ اہل فارس میں ان کے معاصرین میں سے کوئی بھی علم کے اس درجہ کو نہیں پہنچا جس پر امام صاحب رحمتہ اللہ فائز تھے۔

وضاحت : ان احادیث کی مراد میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے مگر عصر قدیم سے عصر تک ہر زمانہ کے محدثین و فقہاء علماء کی ایک جماعت نے تحریر کیا ہے کہ ان احادیث سے مراد حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ ہیں۔ علماء شوافع رحمتہ اللہ نے خاص طور پر اس قول کو مدلل کیا ہے جیسا کہ شافعی مکتبہ فکر کے دو مشہور جید علماء مفسر قرآن کے اقوال ذکر کئے گئے.
حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کی تابعیت

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمتہ اللہ "جو فن حدیث کے امام شمار کئے جاتے ہیں" سے جب امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت کو پایا ، اس لئے کہ وہ ۸۰ہجری میں کوفہ میں پیدا ہوئے اور وہاں صحابہ کرام میں سے حضرت عبداللہ بن اوفیرضی اللہ موجود تھے، ان کا انتقال اس کے بعد ہوا ہے۔ بصرہ میں حضرت انس بن مالکرضی اللہ تھے اور ان کا انتقال ۹۰ یا ۹۳ ہجری میں ہواہے۔ ابن سعد رحمتہ اللہ نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں کہ کہا جائے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے حضرت انس بن مالکرضی اللہ کو دیکھا ہے اور وہ طبقہ تابعین میں سے ہیں۔ نیز حضرت انس بن مالکرضی اللہ کے علاوہ بھی اس شہر میں دیگر صحابہ کرام اس وقت حیات تھے۔

شیخ محمد بن یوسف صالحی و مشقی شافعی رحمتہ اللہ نے " عقود الجمان فی مناقب الامام ابی حنیفہ رحمتہ اللہ " کے نویں باب میں ذکر کیا ہے کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ اس زمانہ میں پیدا ہوئے جس میں صحابہ کرام کی کثرت تھی۔

اکثر محدثین " جن میں امام خطیب بغدادی رحمتہ اللہ ، علامہ نووی رحمتہ اللہ ، علامہ ابن حجر رحمتہ اللہ ، علامہ ذہبی رحمتہ اللہ ، علامہ زین العابدین سخاوی رحمتہ اللہ ، حافظ ابو نعیم اصبہانی رحمتہ اللہ ، امام دار قطنی رحمتہ اللہ ، حافظ ابن البر رحمتہ اللہ اور علامہ ابن الجوزی رحمتہ اللہ کے نام قابل ذکر ہیں" کا یہی فیصلہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے حضرت انس بن مالکرضی اللہ کو دیکھا ہے۔

محدثین و محققین کی تشریح کے مطابق صحابی رسولرضی اللہ سے روایت کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ صحابی کا دیکھنا بھی کافی ہے۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ نے تو صحابہ کرام کی ایک جماعت کو دیکھنے کے علاوہ بعض صحابہ کرام خاص کر انس بن مالکرضی اللہ سے احادیث روایت بھی کی ہیں۔

غرضیکہ حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ تابعی ہیں اور آپ کا زمانہ صحابہ ، تابعین تبع تابعین کا زمانہ ہے جس دور کی امانت و دیانت اور تقوی کا ذکر اللہ تعالی نے قرآن کریم " سورہ التوبہ آیت نمبر ۱۰۰" میں فرمایا ہے۔ نیز نبی اکرم کے فرمان کے مطابق یہ بہترین زمانوں میں سے ایک ہے۔ علاوہ ازیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی حیات میں ہی حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کے متعلق بشارت دی تھی ، جیساکہ بیان کیا جا چکا ہے جس سے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کی تابعیت اور فضیلت روز روشن کی واضح ہو جاتی ہے۔
Photo
Wait while more posts are being loaded