روشن جمال یار سے ہے انجمن تمام​
دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام​
حیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطراب​
دل نے بھی تیرے سیکھ لئے ہیں چلن تمام​
دل خون ہو چکا ہے جگر ہو چکا ہے خاک​
باقی ہوں میں بھی کرائے تیغ زن تمام​
دیکھو تو چشم یار کی جادو نگاہیاں​
بے ہوش اک نظر میں کوئی انجمن تمام ہے​
ناز حسن سے جو فروزاں جبیں یار لبزیز​
آب نور ہے چاہ ذقن تمام نشوونما سبزہ و گل سے​
شرینی نسیم ہے سوز و گداز میر​
حسرت ترے سخن پہ لطف سخن تمام ​
__حسرت موہانی

Post has attachment
عاشقی، توحید را بر دل زدن
وانگہی خود را بہر مشکل زدن


زبور عجم

عاشقی کیا ہے؟
توحید کو دل میں منقّش کرنا
اور اس طرح ہر مشکل کے مقابلے پر ڈٹ جانا ۔
Photo

Post has attachment

Post has attachment
╰ღ╮⊰★ سانحۂ کربلا ★⊱╭ღ╯

۞ الصلاة والسلام عليك يا سيدي يا رسول الله ۞



سانحۂ کربلا 10 محرم 61ھ (بمطابق 9 یا 10 اکتوبر 680ء) کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا جہاں اموی خلیفہ "یزید اول" کی بھیجی گئی افواج نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کو شہید کیا.. حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ 72 ساتھی تھے جن میں سے 18 اہل بیت کے اراکین تھے.. اس کے علاوہ خاندانَ نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خواتین اور بچے بھی شامل تھے..

حسین رضی اللہ عنہ آپ کا نام اور ابو عبد اللہ کنیت ہے.. پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چھوٹے نواسے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کے چھوٹے صاحبزادے تھے.. ہجرت کے چوتھے سال تیسری شعبان پنجشنبہ کے دن آپ کی ولادت ہوئی.. اس خوشخبری کو سن کر جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے ' بیٹے کو گود میں لیا ' داہنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنی زبان منہ میں دے دیدی.. پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقدس لعاب دہن حسین کی غذا بنا.. ساتویں دن عقیقہ کیا گیا..

حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے.. حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہ کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر (سوار) دیکھا تو حسرت بھرے لہجے میں کہا کہ آپ کے نیچے کتنی اچھی سواری ہے.. آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا.. " ذرا یہ بھی تو دیکھو کہ سوار کتنے اچھے ہیں.. "

1.بزار المسند، 1 : 418 2. هيثمي، مجمع الزوائد، 9 : 181

حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے (دیر سے) عشاء کی نماز آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ پڑھی.. جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ میں گئے حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہ دونوں بھائی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت مبارک پر چڑھ گئے.. جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر انور سجدے سے اٹھایا تو دونوں کو اپنے ہاتھوں سے آرام سے تھام لیا اور زمین پر بیٹھا لیا.. جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدے میں جاتے تو وہ دونوں یہی عمل دہراتے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی حالت میں پوری نماز ادا فرمائی.. پھر دونوں شہزادوں کو اپنی گود میں بٹھایا..

مسند احمد بن حنبل..

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عمر ابھی چھ سال کی تھی جب انتہائی محبت کرنے والے نانا حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سایہ سر سے اٹھ گیا.. 35ھ میں جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی عمر 31 برس کی تھی ' عام مسلمانوں نے حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بحیثیت خلیفہ اسلام تسلیم کیا.. یہ امیر المومنین کی زندگی کے اخری پانچ سال تھے جن میں جمل ' صفین اور نہروان کی لڑائیں ہوئیں اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ان میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی نصرت اور حمایت میں شریک ہوئے اور شجاعت کے جوہر بھی دکھلائے..

40ھ میں امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ مسجد کوفہ میں شہید ہوئے اور اب خلافت کی ذمہ داریاں حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے سپرد ہوئیں جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی تھے.. حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک باوفا اور اطاعت شعار بھائی کی طرح حضرت حسن رضی اللہ عنہ کاساتھ دیا اور جب حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنے شرائط کے ماتحت جن سے اسلامی مفاد محفوظ رہ سکے ' حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کرلی تھی تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بھی اس مصلحت پر راضی ہوگئے اور خاموشی اور گوشہ نشینی کے ساتھ عبادت اور شریعت کی تعلیم واشاعت میں مصروف رہے..

اسلامی نظام حکومت کی بنیاد شورائیت پر تھی.. آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے ادوار اس کی بہترین مثال تھے مگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو اپنا جانشین نامزد کردیا.. اسلامی نقطہ حیات میں شخصی حکومت کے قیام کا کوئی جواز نہیں اور ابھی تک سرزمین حجاز میں ایسے کبار صحابہ اور اکابرین موجود تھے جنہوں نے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دور دیکھا تھا لٰہذا ان کے لیے اس غلط روایت قبول کرنا ممکن نہ تھا..

یزید کا ذاتی کردار ان تمام اوصاف سے عاری تھا جو امیر یا خلیفہ کے لیے شریعت اسلامیہ نے مقرر کیے ہیں.. سیر و شکار اور شراب و شباب اس کے پسندیدہ مشاغل تھے لٰہذا ذاتی حیثیت سے بھی کسی فاسق و فاجر کو بطور حکمران تسلیم کرنا حضرت امام حسین عالی مقام رضی اللہ عنہ کے لیے کس طرح ممکن ہو سکتا تھا.. اس لیے امام حسین رضی اللہ عنہ نے ان ہی اصولوں کی خاطر یزید کی بیعت قبول کرنے سے انکار کر دیا..

یزید نے تخت نشین ہونے کے بعد حاکم مدینہ ولید بن عقبہ کی وساطت سے بیعت طلب کی.. ولید نے سختی سے کام نہ لیا لیکن مروان بن الحکم بزور بیعت لینے کے لیے مجبور کر رہا تھا.. ان حالات میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے سفر مکہ اختیار کیا..

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے انتقال کے وقت ولید بن عتبہ بن ابی سفیان حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا بھتیجا اور یزید کا چچیرا بھائی مدینہ منورہ کا گورنر تھا.. اس کو یزید نے حکم بھیجا کہ وہ میرے لئے بیعت لیں.. ولید بن عتبہ نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو قاصد کے ذریعہ بلایا.. ابھی تک حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر مدینہ میں عام نہ ہوئی تھی تاہم بلاوے کا مقصد دونوں حضرات نے سمجھ لیا.. حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے جب بیعت کے لیے کہا گیا تو انہوں نے جواب دیا..

"میرے جیسا آدمی خفیہ بیعت نہیں کر سکتا.. جب بیعت عام ہوگی اس وقت آ جاؤں گا.."

ولید راضی ہو گیا اور انھیں واپس لوٹنے کی اجازت دے دی جبکہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ایک دن کی مہلت لے کر مکہ روانہ ہوگئے.. بعد میں ان کا تعاقب کیا گیا مگر اس اثناء میں وہ کہیں دور جا چکے تھے.. جب مروان کو اس صورت حال کا علم ہوا تو ولید سے بہت ناراض ہوا اور کہا..

"تم نے بیعت کا وقت کھو دیا.. اب قیامت تک ان سے بیعت نہ لے سکو گے.."

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ بھی اگر مدینہ میں مقیم رہتے تو (جبری) بیعت کے بغیر کوئی چارہ کار نہ تھا.. لٰہذا وہ 27 رجب 60 ہجری میں مع اہل و عیال مکہ روانہ ہو گئے.. مکہ پہنچ کر شعب ابی طالب میں قیام کیا..

جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ مکہ پہنچے تو اہل کوفہ نے انھیں سینکڑوں خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دی تاکہ وہ خلافت اسلامیہ کے قیام کی جدوجہد کا آغاز کر سکیں.. کوفیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے پاس اپنے قاصد و پیغامات بھیجے اور عرض کی کہ آپ رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لے آئیں ہم آپ کی بیعت کرنا چاہتے ہیں.. ہم لوگوں نے یزید کی بیعت سے انکار کر دیا ہے.. اس کے گورنر کے پیچھے جمعہ پڑھنا بھی چھوڑ دیا ہے..

اس وقت کوفہ کا گورنر نعمان بن بشیر تھا.. جب کوفیوں کی طرف سے اس قسم کے پیغامات آئے تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے تحقیق احوال کے لئے پروگرام بنایا اور کوفیوں کے خطوط آنے کے بعد اپنے چچیرے بھائی مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو کوفہ روانہ کیا تاکہ وہ اصل صورت حال معلوم کریں..

حضرت مسلم رضی اللہ عنہ کے کوفہ پہنچے کے پہلے ہی دن بارہ ہزار کوفیوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر لی.. کوفہ کے اموی حاکم نعمان بن بشیر نے ان کے ساتھ نرمی سے کام لیا.. کوفیوں کے جذبات سے متاثر ہو کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسین کو کوفہ آنے کا لکھا..

نعمان بن بشیر کی اس نرمی پر یزید کے ایک بہی خواہ عبداللہ بن مسلم حضرمی نے اس کی شکایت یزید کے پاس لکھ کر بھیج دی جس پر یزید نے نعمان بن بشیر کو معزول کردیا اور عبیداللہ ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنا دیا اور کہا کہ کوفہ پہنچ کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو تلاش کرو.. اگر مل جائے تو اسے قتل کر دو..

ابن زیاد بصرہ کے چند ساتھیوں کے ہمراہ اس حالت میں کوفہ آیا کہ اس نے ڈھاٹا باندھ رکھا تھا.. وہ جس مجلس سے بھی گزرتا ' سلام کرتا.. لوگ جواب میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سمجھ کر "وعلیک یا ابن رسول اللہ" (اے رسول کے بیٹے آپ پر بھی سلام ہو) جواب دیتے.. کوفی سمجھتے تھے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بن علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے ہیں.. یہاں تک کہ ابن زیاد قصر امارت میں پہنچ گیا..

عبیداللہ بن زیاد نے کوفہ پہنچ کر اعلان کیا کہ جو لوگ حضرت مسلم رضی اللہ عنہ سے اپنی وفاداریاں توڑ لیں گے انہیں امان دی جائے گی.. اس کے بعد ہر محلہ کے رئیس کو بلایا اور اسے اپنے اپنے علاقہ کے امن و امان کا ذمہ دار قرار دے کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کی جائے پناہ کی تلاش شروع کردی.. اس وقت حضرت مسلم رضی اللہ عنہ ایک محب اہل بیت حضرت ہانی بن عروہ کے ہاں چلے گئے.. ابن زیاد نے حضرت ہانی کو بلا کر حضرت مسلم رضی اللہ عنہ کو پیش کرنے کا حکم دیا.. حضرت ہانی نے انکار کر دیا جس پر انھیں قید میں ڈال کر مار پیٹ کی گئی..

شہر میں افواہ پھیل گئی کہ حضرت ہانی قتل ہو گئے.. یہ خبر سنتے ہی حضرت مسلم رضی اللہ عنہ نے اٹھارہ ہزار ہمنواؤں کے ساتھ ابن زیاد کے محل کا محاصرہ کر لیا.. ابن زیاد کے پاس اس وقت صرف پچاس آدمی موجود تھے چنانچہ اس نے حکمت سے کام لیا اور ان رئیسان کوفہ کی ترغیب سے لوگوں کو منتشر کرنے میں کامیاب ہوگیا.. آخر حضرت مسلم رضی اللہ عنہ کے ساتھ صرف تیس آدمی رہ گئے..

مجبوراً حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے ایک بڑھیا کے گھر پناہ لی لیکن اس بڑھیا کے بیٹے نے انعام کے لالچ میں آکر خود جا کر ابن زیاد کو اطلاع کر دی.. ابن زیاد نے یہ اطلاع پا کر مکان کا محاصرہ کر لیا.. حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ تن تنہا لڑنے پر مجبور ہوئے.. جب زخموں سے چور ہوگئے تو محمد بن اشعث نے امان دے کر گرفتار کر لیا.. لیکن آپ کو جب ابن زیاد کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے امان کے وعدہ کو پس پشت ڈالتے ہوئے آپ کے قتل کا حکم دے دیا.. چنانچہ ابن زیاد کے حکم سے قصر امارت کی چھت پر لے جا کر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا اور ان کی لاش بازار میں لوگوں کے سامنے پھینک دی اور حضرت ہانی بن عروہ کو کوڑا کرکٹ کی جگہ گھسیٹتے ہوئے سولی پر لٹکا دیا..

حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ نے محمد بن اشعث سے کہا کہ میرے قتل کی اطلاع حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچا دینا اور انھیں میرا یہ پیغام بھی پہنچا دینا کہ

"اہل کوفہ پر ہرگز بھروسہ نہ کریں اور جہاں تک پہنچ چکے ہوں وہیں سے واپس چلے جائیں.."

ابن اشعث نے اپنا وعدہ پورا کیا اور ایک قاصد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ کر دیا.

اہل مکہ اور مدینہ نے آپ کو کوفہ جانے سے باز رکھنے کے لیے پوری کوششیں کیں کیونکہ کوفیوں کا سابقہ غدارانہ طرز عمل ان کے سامنے تھا.. حضرت عمرو بن عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ' حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ' حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سب نے مشورہ دیا کہ چونکہ کوفہ یزید کی حکومت کے تحت ہے وہاں ان کی افواج اور سامان سب کچھ موجود ہے اور کوئی قابل اعتماد نہیں اس لیے مناسب یہی ہے کہ آپ مکہ ہی میں رہیں..

حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے تجویز کیا کہ آپ مکہ میں رہ کر اپنی خلافت کی جدوجہد کریں.. ہم سب آپ کی مدد کریں گے.. لیکن جب حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ رضا مند نہ ہوئے تو حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کو کوفہ کی بجائے یمن جانے کی تجویز پیش کی اور کہا کہ اگر کوفہ کاسفر آپ کے نزدیک ضروری ہے تو پہلے کوفیوں کو لکھیے کہ وہ یزید کے حاکموں کو وہاں سے نکالیں پھر آپ وہاں کا قصد کریں.. لیکن حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے کہا..

"اے ابن عمر رضی اللہ عنہ ! میں جانتا ہوں کہ تم میرے خیر خواہ ہو لیکن میں عزم کر چکا ہوں.."

اس پر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا.. "اگر آپ نہیں مانتے تو کم از کم اہل و عیال کو ساتھ نہ لے جائیے.. مجھے ڈر ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرح آپ بھی بال بچوں کے سامنے ذبح کیے جائیں گے.."

لیکن ان تمام ترغیبات کے باوجود حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے فیصلہ پر قائم رہے اور بالآخر 3 ذوالحج 60 ھ کو مکمہ معظمہ سے کوفہ کے لیے چل پڑے.. آپ کی روانگی کے بعد آپ کے چچا زاد بھائی حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے ایک عریضہ اپنے لڑکوں حضرت عون اور حضرت محمد کے ہاتھ روانہ کیا کہ

"میں آپ کو اللہ تعالٰی کا واسطہ دیتا ہوں کہ جونہی میرا خط آپ کو ملے ' لوٹ آئیے کیونکہ جس جگہ آپ جارہے ہیں مجھے ڈر ہے کہ وہاں آپ کی ہلاکت اور آپ کے اہل بیت کی بربادی ہے.. اگر خدانخواستہ آپ ہلاک ہوگئے تو دنیا تاریک ہو جائے گی.. کیونکہ اس وقت آپ ہی ہدایت یافتہ لوگوں کا علم اور مومنوں کی امیدوں کا مرکز ہیں.. آپ سفر میں جلدی نہ کیجیے.. میں بھی جلد آپ کے پاس پہنچتا ہوں.."

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ حاکم مکہ عمر بن سعد کا سفارشی خط لے کر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے ملے اور انھیں بتایا کہ " کوفہ کے لوگوں پر اعتماد مناسب نہیں.. عمر بن سعد اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ آپ مکہ لوٹ آئیں تو میں یزید کے ساتھ آپ کے معاملات طے کرادوں گا اور آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا.. "

لیکن آپ نے اس مشورہ کو ماننے سے انکار کر دیا اور اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق سفر کوفہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا.. مجبور ہو کر حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ واپس ہو گئے مگر حضرت عون اور حضرت محمد کو ساتھ رہنے دیا.. راستہ میں مشہور شاعر فرزوق آپ سے ملا اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے عرض کی..

"لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور تلواریں بنی امیہ کے ساتھ.. قضاء الہی آسمان سے اتری ہے اور اللہ تعالٰی جو چاہتا ہے کرتا ہے.."

لیکن آپ نے اس کے باوجود سفر کو بدستور جاری رکھا..

ابن زیاد کے حکم سے پولیس کے افسر حصین بن نمیر نے قادسیہ سے جبل لعل تک سواروں کو مقرر کر دیا اور تمام اہم راستوں کی ناکہ بندی کر دی.. جب آپ بطن رملہ سے آگے بڑھے تو انھیں عبداللہ ابن مطیع ملے.. انھوں نے آپ کو آگے جانے سے روکا..

یہیں محمد بن اشعث کے بھیجے ہوئے قاصد نے آپ کو مقام ثعلبیہ پر حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر دی.. اب آپ سفر کوفہ کے بارے میں متردد ہوئے..

ساتھیوں نے واپس لوٹنے کا مشورہ دیا لیکن حضرت مسلم رضی اللہ عنہ کے بھائیوں نے اپنے بھائی کے خون کا انتقام لینے کی خاطر سفر جاری رکھنے کے لیے زور دیا جس کے بعد پوزیشن واضح ہو گئی.. آپ کے ساتھ دوران سفر بہت سے بدوی شامل ہو چکے تھے.. آپ نے ان سب کو جمع کیا اور فرمایا..

"جو لوگ واپس جانا چاہیں انہیں اجازت ہ.." چنانچہ سوائے ان جان نثاروں کے جو مدینہ سے ساتھ آئے تھے ' سب ساتھ چھوڑ گئے..

ابن زیاد نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی پیش قدمی روکنے کے لیے "حر بن یزید تمیمی" کو روانہ کیا.. ذمی حشم کے مقام پر آپ سے اس کی ملاقات ہوئی.. حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اسے کوفیوں کے خطوط کے دو تھیلے منگوا کر دکھائے اور کہا کہ "اب آپ لوگوں کی رائے بدل گئی ہے تو میں واپس جانے کے لیے تیار ہوں.."

لیکن حر نے کہا کہ ہمیں تو آپ کو گرفتار کرنے کا حکم ہے.. چنانچہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنا سفر کوفہ جاری رکھا.. کچھ دور جاکر طرماج بن عدی سے آپ کی ملاقات ہوئی.. انہوں نے آپ کو یمن چلنے کی دعوت دی لیکن آپ نے یہ پیش کش شکریہ کے ساتھ ٹال دی..

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا قافلہ اور حر بن یزید کا لشکر ساتھ ساتھ آگے کی طرف چلتے رہے.. جہاں کہیں آپ کے قافلہ کا رخ صحرائے عرب کی طرف ہو جاتا ' حر آپ کو روک دیتا اور رخ پھیر کر کوفہ کی طرف کر دیتا.. چلتے چلتے آپ نینوا پہنچے.. وہاں ابن زیاد کے ایک قاصد نے حر کو ایک خط پہنچایا جس میں حکم تھا..

"جونہی میرا یہ خط اور میرا قاصد تم تک پہنچیں ' حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو جہاں وہ ہیں ' وہیں روک لو اور انھیں ایسی جگہ اترنے پر مجبور کرو جو بالکل چٹیل میدان ہو اور جہاں کوئی سبزہ اور پانی کا چشمہ وغیرہ نہ ہو.. میرا یہ قاصد اس وقت تک تمہارے ساتھ ساتھ رہے گا جب تک مجھے یہ معلوم نہ ہو جائے کہ جو حکم میں نے تمہیں دیا ہے تم نے اس کی حرف بحرف تعمیل کی.."

حر نے تمام صورت حال سے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو آگاہ کیا اور کہا کہ "اب میں آپ کو اس جگہ نہ رہنے دوں گا.." بالآخر یہ مختصر سا قافلہ 2 محرم الحرام61 ھ بمطابق 2 اکتوبر 680ء کو کربلا کے میدان میں اترا..

دوسرے ہی روز عمر بن سعد 6 ہزار سپاہیوں کے ساتھ وہاں پہنچا.. عمر بن سعد چونکہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے لڑنے کا خواہشمند نہ تھا ' س لیے قرہ بن سفیان کو آپ کے پاس بھیجا.. قرہ بن سفیان سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کہا کہ

"اگر تمہیں میرا آنا ناپسند ہے تو میں مکہ واپس جانے کے لیے تیار ہوں.."

لیکن ابن زیاد نے اس تجویز کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا.. شمر مع خط کے عمر بن سعد کے پاس پہنچا.. عمر بن سعد کو حکم دیا کہ "اگر حسین اور اس کے ساتھی اپنے آپ کو حوالہ کر دیں تو بہتر ہے ورنہ جنگ کی راہ لو.."

عمر بن سعد اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کی خاطر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف تلوار اٹھانے کے لیے تیار ہو گیا.. یہ 9 محرم الحرام کا دن تھا..

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے عمر بن سعد سے کہا کہ تین باتوں میں سے ایک مان لو..

1.. مجھے کسی اسلامی سرحد پر جانے دو..
2.. مجھے موقع دو کہ میں براہ راست یزید کے پاس پہنچ جاؤں..
3.. جہاں سے آیا ہوں وہاں واپس چلا جاؤں..

عمر بن سعد نے تجاویز قبول کرکے ابن زیاد کے پاس بھیج دیں لیکن ابن زیاد نے ان میں سے کوئی بات بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا اور بس ایک بات کی کہ حسین رضی اللہ عنہ بیعت کریں..

عمر بن سعد نے ہر بات حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تک پہنچا دی لیکن حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بیعت سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا نہیں ہو سکتا..

صلح کی آخری گفتگو ناکام ہونے کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ جو جانا چاہتے ہیں انھیں میری طرف سے اجازت ہے.. اس پر کچھ جان نثار اور اعزہ باقی رہ گئے جنہوں نے آخری وقت تک ساتھ دینے کا عہد کیا.. ان جاں نثاروں کی تعداد صرف 72 تھی..

امام حسین رضی اللہ عنہ نے اس مختصر ترین فوج کو منظم کیا.. میمنہ پر حضرت زبیر بن قیس کو اور میسرہ پر حضرت حبیب بن مطہر کو متعین کرکے علم حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو مرحمت فرمایا.. جنگ کے آغاز سے پیشتر اللہ تعالٰی کے حضور دعا کی اور ان سے تائید اور نصرت چاہی.. اس کے بعد اتمام حجت کے لیے دشمنوں کی صفوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا..

"اے لوگو ! جلدی نہ کرو.. پہلے میری بات سن لو.. مجھ پر تمہیں سمجھانے کاجو حق ہے اسے پورا کرلینے دو اور میرے آنے کی وجہ بھی سن لو.. اگر تم میرا عذر قبول کرلوگے اور مجھ سے انصاف کرو گے تو تم انتہائی خوش بخت انسان ہو گے لیکن اگر تم اس کے لیے تیار نہ ہوئے تو تمہاری مرضی..

تم اور تمہارے شریک مل کر میرے خلاف زور لگا لو اور مجھ سے جو برتاؤ کرنا چاہتے ہو کر ڈالو.. اللہ تعالٰی میرا کارساز ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے.."

جونہی آپ تقریر کے اس حصے پر پہنچے تو خیموں سے اہل بیت کی مستورات کی شدت رنج سے چیخیں نکل گئیں.. آپ تھوڑی دیر کے لیے رک گئے اور اپنے بھائی حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو انہیں چپ کرانے کے لیے بھیجا.. جب خاموشی طاری ہوئی تو آپ نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا..

"لوگو ! تم میرے حسب و نسب پر غور کرو اور دیکھو کہ میں کون ہوں.. اپنے گریبانوں میں منہ ڈالو اور اپنے آپ کو ملامت کرو.. تم خیال کرو کیا تمہیں میرا قتل اور میری توہین زیب دیتی ہے..؟

کیا میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ اور ان کے چچیرے بھائی کا بیٹا نہیں جنہوں نے سب سے پہلے اللہ تعالٰیٰ کی آواز پر لبیک کہی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لائے..؟

کیا سیدالشہداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ عنہ میرے والد کے چچا نہ تھے..؟ کیا حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ میرے چچا نہ تھے..؟

کیا تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہ قول یاد نہیں جو انہوں نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمایا تھا کہ دونوں نوجوانان جنت کے سردار ہوں گے..؟

اگر میرا یہ بیان سچا ہے اور ضرور سچا ہے تو بتاؤ کہ تمہیں ننگی تلواروں سے میرا مقابلہ کرنا ہے..؟ اور اگر تم مجھے جھوٹا سمجھتے ہو تو آج بھی تم میں سے وہ لوگ موجود ہیں جنہوں نے میرے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث سنی ہے.. تم ان سے دریافت کرسکتے ہو.. تم مجھے بتاؤ کہ کیا آپ کی اس حدیث کی موجودگی میں بھی تم میرا خون بہانے سے باز نہیں رہ سکتے..؟"

لیکن کوفیوں اور ان کے سرداروں پر کوئی اثر نہ ہوا.. صرف حضرت "حر بن یزید تمیمی" پر آپ کی اس تقریر کا اثر ہوا اور وہ یہ کہتے ہوئے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے لشکر میں آ شامل ہوا کہ

"یہ جنت یا دوزخ کے انتخاب کا موقع ہے.. میں نے جنت کا انتخاب کر لیا ہے.. خواہ مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے یا جلا دیا جائے.."

اس کے بعد شخصی مبازرت کے طریقے سے جنگ کا آغاز ہوا جس میں اہل بیت اطہار کا پلہ بھاری رہا.. یہ دیکھ کر ابن سعد نے عام حملہ کا حکم دیا..

فدایان و اراکین اہل بیت نے دشمنوں کی یلغاروں کا پوری قوت ایمانی سے ڈٹ کر مقابلہ کیا.. فدائی ایک ایک کرکے کٹ مرے لیکن میدان جنگ سے منہ نہ پھیرا.. دوپہر تک امام حسین رضی اللہ عنہ کے بیشتر آدمی کام آ چکے تھے.. چنانچہ اب باری باری حضرت علی اکبر ' حضرت عبداللہ بن مسلمہ ' حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے پوتے حضرت عدی ' حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کے فرزند حضرت عبدالرحمن ' حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت قاسم اور حضرت ابوبکر وغیرہ میدان میں اترے اور شہید ہوئے.. ان کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ آئے..

دشمنوں نے ہر طرف سے آپ پر یورش کی.. یہ دیکھ کر آپ کے بھائی حضرت عباس رضی اللہ عنہ ' حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ' حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آپ کی حفاظت کے لیے ڈٹ گئے مگر چاروں نے شہادت پائی.. حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ تنہا میدان میں جمے ہوئے تھے.. عراقیوں نے آپ کو ہر طرف سے نرغہ میں لے لیا مگر شہید کرنے کی کسی کو بھی جرات نہ ہو رہی تھی کیونکہ کوئی نہ چاہتا تھا کہ یہ گناہ اس کے سر ہو..

بالآخر "شمر" کے اکسانے پر "زرعہ بن شریک تمیمی" نے یہ بدبختی مول لی اور ہاتھ اور گردن پر تلوار کیے.. "سنان بن انس" نے تیر چلایا اور آپ گر گئے.. ان کے گرنے پر "شمر ذی الجوشن" آپ کی طرف بڑھا تو اس کی برص زدہ شکل دیکھتے ہی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا..

"میرے نانا رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سچ فرمایا تھا کہ میں ایک دھبے دار کتے کو دیکھتا ہوں کہ وہ میرے اہلِ بیت کے خون سے ہاتھ رنگتا ہے.. (ابن عساکر)

اے بدبخت شمر ! بلاشبہ تو وہی کتا ہے جس کی نسبت میرے نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خبر دی تھی.."

اس کے بعد شمر نے ان کا سر پیچھے کی طرف سے (پسِ گردن سے) کاٹ کر تن سے جدا کر دیا.. ابن زیاد کے حکم کے مطابق آپ کا سربریدہ جسم گھوڑوں کے ٹاپوں سے روندوا دیا گیا.. بعد میں تمام شہدائے اہلِ بیت کے سر نیزوں کی نوک پر رکھ کر پہلے ابنِ زیاد کے دربار میں لے جائے گئے اور بعد میں دمشق میں یزید کے دربار میں لے جائے گئے۔

اس طرح زمانے کے پارسا ترین انسانوں میں سے ایک اور انسان سرخرو ہوگیا اور اس کے ساتھ اس کے خاندان کے تمام مرد بھی سرخرو ہو گئے.. سوائے حضرت امام زین العابدین علی بن حسین جو بیماری کی وجہ سے جنگ میں شرکت نہ کر سکے اور حضرت امام محمد باقر بن علی بن حسین کے جو اس وقت بچے تھے.. یہ دردناک واقعہ 10 محرم الحرام 61 ھ مطابق 10 اکتوبر 680ء کو پیش آیا..

اس دلخراش سانحہ سے قبل بھی کو‌فیوں کا کردار نہایت ہی شرمناک رہا تھا.. حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دارلخلافہ مدینہ سے کوفہ لے جانے سے ان سازشیوں کو کھل کر کھلنے کا موقع ملا.. بظاہر یہ سازشی "حب علی" کا لبادہ اوڑھے رہا کرتے تھے لیکن آپ کی زات اطہر سے بھی الٹے سیدھے سوالات کرنا ان کا وطیرہ تھا..

ایک موقع پر ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سوال کیا.. "آپ سے پہلے کے خلفاء کے دور میں امن وامان تھا مگر آپ کے دور میں یہ کیوں عنقا ہے.."

اس گستاخانہ سوال پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان منافقوں کو منہ توڑ جواب دیا.. آپ نے فرمایا.. "اس بدامنی کی بنیادی وجہ یہ ہے کر سابقہ خلفاء کے مشیر میرے جیسے لوگ تھے اور میرے مشیر تم جیسے لوگ ہیں.."

ان لوگوں کی ان ہی حرکتوں کے باعث حضرت علی رضی اللہ عنہ بالآخر اس طبقے سے بیزار رہنے لگے تھے..

جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے خلافت سنبھالی تو آپ اپنے والد محترم کے دور میں ان منافقوں کا بغور مشاہدہ کر چکے تھے اسے لئے آپ نے ان کو زیادہ منہ نہ لگایا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کرلی.. اس صلح سے خانہ جنگی کا خاتمہ ہوگیا تھا اور ان منافقوں کی سازشوں پر پانی پھر رہا تھا اس لئے اس صلح پر بھی حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی زات گرامی پر اعتراض کرنے لگے.. حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا..

"اگر خلافت میرا حق تھا تو یہ میں نے ان ( معاویہ رضی اللہ عنہ ) کو بخش دیا اور اگر یہ معاویہ رضی اللہ عنہ کا حق تھا تو یہ ان تک پہنچ گیا.."

جن کوفیوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت تھی ان کی تعداد ایک روائت کے مطابق 12000 اور دوسری روائت کے مطابق 18000 تھی لیکن جب جنگ کی نوبت آگئ تو ان بے وفا اور دغا باز لوگوں میں سے کسی نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ساتھ نہ دیا اور کھڑے تماشا دیکھتے رہے.. یہاں تک کہ آپ نے اپنے جانثار ساتھیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش فرمایا.. حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے غداری کی سزا ان کو ان ہی کے ہاتھوں قیامت تک ملتی رہے گی.. ان شاء اللہ..

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد اہل بیت اطہار کے بقیہ افراد پر مشتمل قافلہ ابن زیاد کے پاس کوفہ پہنچا.. یہ سیاہ بخت انسان اس خستہ حالت میں بھی افراد اہل بیت سے انتہائی بدتمیزی سے پیش آیا.. حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا کٹا ہوا سر ابن زیاد کے سامنے پڑا ہوا تھا.. ہر خاص و عام کو محل میں داخل ہونے کی اجازت تھی.. ابن زیاد سر مبارکہ کو دیکھ کر آپ کے لبوں پر بار بار چھڑی مارتا اور مسکراتا.. صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ وہاں ایک کونے میں موجود تھے.. ان سے رہا نہ گیا تو فرمایا..

"ان لبوں سے چھڑی ہٹا لو.. اللہ تعالٰیٰ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں ' میں نے اپنی ان آنکھوں سے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھتے تھے.."

یہ کہہ کر وہ رونے لگے.. یہ سن کر ابن زیاد کے غضب کی کوئی حد نہ رہی.. بولا.. "اللہ تعالٰیٰ دونوں آنکھیں رلائے.. واللہ ! اگر تو بوڑھا ہو کر سٹھیا نہ گیا ہوتا اور تیری عقل ماری نہ گئی ہوتی تو میں تیری گردان اڑا دیتا.." یہ دیکھ کر حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ مجلس سے اٹھتے ہوئے کہہ گئے..

"اے لوگو ! آج کے بعد تم غلام بن گئے.. کیونکہ تم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لخت جگر کو قتل اور ابن زیاد کو اپنا حاکم بنایا جو تمہارے نیک لوگوں کو قتل کرتا اور شریروں کو نوازتا ہے.."

کوفہ سے ابن زیاد نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک اور قافلہ اہل بیت کو دمشق بھجوا دیا..

شہادت حسین رضی اللہ عنہ کی خبر جب سرزمین حجاز میں پہنچی تو کوئی آنکھ ایسی نہ تھی جو اس سانحہ پر اشکبار نہ ہو.. لٰہذا حجاز میں فوری طور پر انقلاب برپا ہوگیا.. اہل مدینہ نے اموی حکام کو صوبہ سے نکال دیا اور یزید کے بجائے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ چن لیا.. شہادت حسین رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے اندر سوئے ہوئے جذبات کو ازسرنو بیدار کر دیا اور سرزمین حجاز میں ناراضگی کی ہمہ گیر لہر اموی اقتدار کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی.. اہل حجاز کو حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ جیسی موثر شخصیت بطور رہنما میسر آئی چنانچہ جلد آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیا اور آپ کی بیعت کر لی..

اس انقلاب نے اموی اقتدار کے لیے بے پناہ مشکلات پیدا کر دیں.. حجاز کی سرزمین سے مخالفت کے یہ ابلتے ہوئے جذبات درحقیقت تمام عالم اسلامی میں پیدا شدہ ہمہ گیر اضطراب کے ترجمان تھے..

یزید نے ولید بن عقبہ کی ماتحتی میں شامیوں کی فوج روانہ کی.. اس فوج میں عیسائی کثیر تعداد میں شامل تھے.. جب اہل مدینہ نے اطاعت قبول نہ کی تو ولید بن عقبہ نے شہر پر حملہ کرنے کا حکم دیا.. اہل مدینہ اگرچہ بڑی بے جگری سے لڑے لیکن شکست ہوئی.. اس جنگ میں بڑے بڑے اکابر مدینہ شہید ہوئے جن میں حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ قابل ذکر ہیں.. شہر پر قبضہ کے بعد مدینہ تین دن تک شامی فوجیوں کے ہاتھوں لٹتا رہا.. مسلمانوں کی عزت و آبرو برباد ہوئی اور تین روز تک مسلسل قتل و غارت کا بازار گرم رہا.. تاریخ اسلام میں یہ "واقعہ حرہ" کے نام سے مشہور ہے اور یہ 25 ذی الحجہ63 ھ کو ہوا.. یہ واقعہ بہت اہم ہے اور سانحہ کربلا کے بعد یزید کا دوسرا بڑا سیاہ کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے..

اس کے بعد یزیدی لشکر کے بدبخت امیر نے حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑائی میں مکہ مکرمہ میں حرم پاک کا محاصرہ کرلیا اور مسلسل کئی مہینہ تک یہ محاصرہ قائم رہا.. اس پوری مدت میں بیت اللہ پر ہولناک آتش زنی اور سنگ باری ہوتی رہی.. سانحہ کربلا اور واقعہ حرہ کے بعد اسے یزید کا تیسرا بڑا سیاہ کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے..

واقعہ کربلا اموی خلافت کے زوال کا اہم سبب قرار دیا جاتا ہے.. اموی حکومت اور اس کے عمال پہلے ہی عوام الناس میں مقبول نہ تھے کیونکہ مسلمان جب ان کی حکومت کا موازنہ خلافت راشدہ سے کرتے تھے انہیں سخت مایوسی ہوتی.. حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت نے ملت اسلامیہ کو بہت متاثر کیا.. خود یزید کابیٹا معاویہ دل برداشتہ ہو کر خلافت سے ہی دست بردار ہوگیا.. اگرچہ امویوں نے اپنی قوت اور استقلال کی بدولت حکومت کو وقتی طور پر اپنے خاندن میں محفوظ کرلیا لیکن خلیفہ مروان ثانی کے زمانہ تک کھلم کھلا اور زیر زمین کئی تحریکیں مسلسل اس بات کے لیے کوشاں رہیں کہ وہ امویوں کی حکومت کا تختہ الٹ دیں..

عباسیوں نے امویوں کے خلاف اس ردعمل سے خوب فائدہ اٹھایا.. ان کے داعی ملک کے کونے کونے میں پھیل گئے اور اموی مظالم کی داستان اس قدر پر زور اور پر تاثیر انداز میں پیش کی کہ عوام کے جذبات بھڑک اٹھے.. چنانچہ عباسیوں نے بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے انتقام کو اپنے مقاصد کے لیے نہایت کامیابی سے استعمال کیا..

اس واقعہ کا سب سے بڑا اہم نتیجہ یہ تھا کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا کردار عین حق کے لیے ہمیشہ کے لیے روشنی کا ایک مینار بن گیا.. حریت ' آزادی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے جب بھی مسلمانوں نے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قربانی کو مشعل راہ پایا.. آپ ہی سے مسلمانوں نے سیکھا کہ جبر و استبداد کے سامنے سینہ سپر ہونا عین رضائے الٰہی ہے..

کربلا کا یہ واقعہ تاریخ اسلام کا بڑا افسوسناک حادثہ تھا.. اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا جیسے سانحہ کربلا نے کیا.. آنحضور اور خلفائے راشدین نے جو اسلامی حکومت قائم کی اس کی بنیاد انسانی حاکمیت کی بجائے اللہ تعالٰی کی حاکمیت کے اصول پر رکھی گئی.. اس نظام کی روح شورائیت میں پنہاں تھی.. اسلامی تعلیمات کا بنیادی مقصد بنی نوع انسان کو شخصی غلامی سے نکال کر خداپرستی ' حریت فکر ' انسان دوستی ' مساوات اور اخوت و محبت کا درس دینا تھا.. خلفائے راشدین کے دور تک اسلامی حکومت کی یہ حیثیت برقرار رہی.. یزید کی حکومت چونکہ ان اصولوں سے ہٹ کر شخصی بادشاہت کے تصور پر قائم کی گئی تھی لٰہذا جمہور مسلمان اس تبدیلی کو اسلامی نظام شریعت پر ایک کاری ضرب سمجھتے تھے.. اس لیے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ محض ان اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقا و بحالی کے لیے میدان عمل میں اترے..

راہ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدان کربلا میں گزری وہ جور و جفا ' بے رحمی اور استبداد کی بدترین مثال ہے.. یہ تصور ہی بڑا روح فرسا ہے کہ اسلام کے نام لیواؤں پر یہ ظلم یا تعدی خود ان لوگوں نے کیا جو خود کو مسلمان کہتے تھے.. مزید براں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا جو تعلق آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تھا اسے بھی ظالموں نے نگاہ میں نہ رکھا.. نواسہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میدان کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر جس بے دردی سے شہید کرکے ان کے جسم اور سر کی بےحرمتی کی گئی ' اخلاقی لحاظ سے بھی تاریخ اسلام میں اولین اور بدترین مثال ہے..

اس جرم کی سنگینی میں مزید اضافہ اس امر سے بھی ہوتا ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے آخری لمحات میں جو انتہائی معقول تجاویز پیش کیں انھیں سرے سے درخور اعتنا ہی نہ سمجھا گیا.. اس سے یزید کے عمال کی آمرانہ ذہنیت کا اظہار بھی ہوتا ہے..

یہاں یہ نقطہ قابل غور ہے کہ جب شخصی اور ذاتی مصالح ' ملی ' اخلاقی اور مذہبی مصلحتوں پر حاوی ہو جاتے ہیں تو انسان درندگی کی بدترین مثالیں بھی پیش کرنے پر قادر ہے.. لٰہذا ان حقائق کی روشنی میں سانحہ کربلا کا جائزہ لیا جائے تو یہ واقعہ اسلام کے نام پر سیاہ دھبہ ہے کیونکہ اس سے اسلامی نظام حکومت میں ایسی خرابی کا آغاز ہوا جس کے اثرات آج تک محسوس کر رہے ہیں..

لیکن اگر ہم اس سانحہ کو اسلام کے نام پر ایک سیاہ دھبہ بھی قرار دیں تو یہ تصویر کا صرف ایک رخ ہوگا کیونکہ جہاں تک حق و انصاف ' حریت و آزادی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے جدوجہد کا تعلق ہے ' یہ کہنا درست ہوگا کہ سانحہ کربلا تاریخ اسلام کا ایک شاندار اور زریں باب بھی ہے.. جہاں تک اسلامی تعلیمات کا تعلق ہے اس میں شخصی حکومتوں یا بادشاہت کا کوئی تصور موجود نہیں.. یزید کی نامزدگی اسلام کی نظام شورائیت کی نفی تھی لٰہذا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے جس پامردی اور صبر سے کربلا کے میدان میں مصائب و مشکلات کو برداشت کیا ' وہ حریت ' جرات اور صبر و استقلال کی لازوال داستان ہے۔ باطل کی قوتوں کے سامنے سرنگوں نہ ہو کر آپ نے حق و انصاف کے اصولوں کی بالادستی ' حریت فکر اور خداکی حاکمیت کا پرچم بلند کرکے اسلامی روایات کی لاج رکھ لی اور انھیں ریگ زار عجم میں دفن ہونے سے بچا لیا..

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا یہ ایثار اور قربانی تاریخ اسلام کا ایک ایسا درخشندہ باب ہے جو رہروان منزل شوق و محبت اور حریت پسندوں کے لیے ایک اعلیٰ ترین نمونہ ہے.. سانحہ کربلا آزادی کی اس جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے جو اسلامی اصولوں کی بقا اور احیاء کے لیے تاریخ اسلام میں پہلی بار شروع کی گئی.. سچ ہے کہ

"اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد______!!"_

♥~♥~♥ السَـــــــلاَمُ عَلَيــْــكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُه...♥~♥~♥
Photo

Post has attachment
۱ محرم، یومِ شہادت امیر المومنین حضرت عمر رضی اللّه عنہ۔
Photo

Post has attachment
۱ محرم، یومِ شہادت امیر المومنین حضرت عمر رضی اللّه عنہ۔
Photo

Post has attachment
۱ محرم، یومِ شہادت امیر المومنین حضرت عمر رضی اللّه عنہ۔
Photo

Post has attachment
۱ محرم، یومِ شہادت امیر المومنین حضرت عمر رضی اللّه عنہ۔
Photo

Post has attachment
۱ محرم، یومِ شہادت امیر المومنین حضرت عمر رضی اللّه عنہ۔
Photo

Post has attachment
۱ محرم، یومِ شہادت امیر المومنین حضرت عمر رضی اللّه عنہ۔
Photo
Wait while more posts are being loaded