Post has attachment
Asalam o Alaikum all friends...
kese hain sub aur meri taraf se sub ko bahot bahot Eid mobarak
Photo

Post has attachment
Photo

ye group kb se bnd hai

Post has attachment
Photo

Post has attachment
میں نے دیکھا تھا ان دنوں میں اسے
جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا

اُس کی پلکوں سے نیند چھنتی تھی
اُس کا لہجہ شراب جیسا تھا

اُس کی زلفوں سے بھیگتی تھی گھٹا
اُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا

لوگ پڑھتے تھے خال و خد اُس کے
وہ ادب کی کتاب جیسا تھا

جب وہ ہنس ہنس کے بات کرتا تھا
دل کے خیمے میں رات کرتا تھا

رنگ پڑتے تھے آنچلوں میں اُسے
بولتا تھا زبان خوشبو کی

لوگ سنتے تھے دھڑکنوں میں اُسے
ساری آنکھیں تھیں آئنیے اُس کے

سارے چہروں میں انتخاب تھا وہ
سب سے گھل مل کے اجنبی رہنا

ایک دریا نما سراب تھا وہ
خواب یہ ہے کہ وہ حقیقت تھا

یہ حقیقت ہے کوئی خواب تھا وہ
دل کی دھرتی پہ آسماں کی طرح

صورتِ سایہ و سحاب تھا وہ
اپنی نیندیں اُسی کی نذر ہوئیں

میں نے پایا تھا رت جگوں میں اُُسے
یہ مگر دیر کی کہانی ہے

یہ مگر دور کا فسانہ ہے
اُس کے میرے ملاپ میں حائل

اب تو صدیوں بھرا زمانہ ہے
اب تو یوں ہے کہ حال اپنا بھی

دشتِ ہجراں کی شام جیسا ہے
کیا خبر اِن دنوں وہ کیسا ہے؟

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے
جب وہ کھلتے گلاب جیسا تھا
Photo

Post has attachment

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

اب یہ سوچوں تو بھنور ذہن میں پڑ جاتے ہیں
کیسے چہرے ہیں جو ملتے ہی بچھڑ جاتے ہیں

کیوں تیرے درد کو دیں تہمتِ ویرانئ دل
زلزلوں میں تو بھرے شہر اُجڑ جاتے ہیں

موسمِ زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
ایسی رُت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

اب کوئی کیا میرے قدموں کے نِشاں ڈھونڈھے گا
تیز آندھی میں تو خیمے بھی اُکھڑ جاتے ہیں

شغلِ اربابِ ہنر پوچھتے کیاہو کہ یہ لوگ
ّپتھروں میں بھی کبھی آئینے جڑ جاتے ہیں

سوچ کا آئینہ دُندھلا ہو تو پھر وقت کے ساتھ
چاند چہروں کے خدوخال بگڑ جاتے ہیں

شِدتِ غم میں بھی زندہ ہوں تو حیرت کیسی
کچھ دیے تُند ہواؤں میں بھی لڑ جاتے ہیں

وہ بھی کیا لوگ ہیں محسن جو وفا کی خاطر!
خود تراشیدہ اُصولوں پہ بھی اَڑ جاتے ہیں

Post has attachment
Photo
Wait while more posts are being loaded