Post has attachment
آنکھوں کا رنگ بات کا لہجہ بدل گیا.
وہ شخص ایک شام میں کتنا بدل گیا.

کچھ دن تو میرا عکس رہا آئینے پہ نقش.
پھر یوں ہوا کہ خود میرا چہرہ بدل گیا.

جب اپنے اپنے حال پر ہم تم نہ رہ سکے.
تو کیا ہوا جو ہم سے زمانہ بدل گیا.

قدموں تلے جو ریت بچھی تھی وہ چل پڑی.
اس نے چھڑایا ہاتھ تو صحرا بدل گیا.

کوئی بھی چیز اپنی جگہ پر نہیں رہی.
جاتے ہی ایک شخص کے کیا کیا بدل گیا.

اک سر خوشی کی موج نے کیسا کیا کمال.
وہ بے نیاز سارے کا سارا بدل گیا.

اٹھ کر چلا گیا کوئی وقفے کے درمیان.
پردہ اٹھا تو سارا تماشہ بدل گیا.

حیرت سے سارے لفظ اسے دیکھتے رہے.
باتوں میں اپنی بات کو کیسا بدل گیا.

کہنے کو ایک صحن میں دیوار ہی بنی.
گھر کی فضا مکان کا نقشہ بدل گیا.

شاید وفا کے کھیل سے اکتا گیا تھا وہ.
منزل کے پاس آ کے جو رستہ بدل گیا.

قائم کسی بھی حال پہ دنیا نہیں رہی.
تعبیر کھو گئی کبھی سپنا بدل گیا.

منظر کا رنگ اصل میں سایہ تھا رنگ کا.
جس نے اسے جدھر سے بھی دیکھا بدل گیا.

اندر کے موسموں کی خبر اسکو ہو گئی.
اس نو بہار ناز کا چہرہ بدل گیا.

اپنی گلی میں اپنا ہی گھر ڈھونڈھتے ہیں لوگ.
امجد یہ کون شہر کا نقشہ بدل گیا...good night
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment

Hi friends
Wait while more posts are being loaded