Post has attachment
Photo

Post has shared content
💚 حضورِ اَقدس صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالیٰ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا غمِ اُمّت💚

            کفار کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کوکتنا غم ہوتا تھا اِس کا اندازہ اُس آیت سے لگایا جا سکتا ہے جس میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ سے ارشاد فرمایا:

’’ فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ یُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفًا ‘‘(کہف:۶)
ترجمۂ:
اگر وہ اس بات پر ایمان نہ لائیں  تو ہوسکتا ہے کہ تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کو ختم کردو۔

غم امت كا ا س حدیث سے بھی ا س کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،

چنانچہ حضرت عبداللّٰہ بن عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے قرآنِ پاک میں سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے اس قول کی تلاوت فرمائی:

’’ رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ ‘‘(ابراہیم:۳۶)
ترجمۂ
اے میرے رب! بیشک بتوں  نے بہت سے لوگوں  کو گمراہ کردیا تو جو میرے پیچھے چلے تو بیشک وہ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔

 اور وہ آیت تلاوت فرمائی جس میں  حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ قول ہے:

’’ اِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَاِنَّهُمْ عِبَادُكَۚ-وَ اِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَاِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ‘‘(المائدہ:۱۱۸)

ترجمۂ: اگر تو انہیں  عذاب دے تو وہ تیرےبندے ہیں اور اگر تو انہیں  بخش دے تو بیشک تو ہی غلبے والا،حکمت والا ہے۔

      تو حضور پُر نور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر گریہ طاری ہو گیا اور اپنے دستِ اَقدس اٹھا کر دعا کی

’’اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ ، میری امت ،میری امت۔ اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت جبریل سے فرمایا’’ اے جبریل !،میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی بارگاہ میں جاؤ، تمہارا رب عَزَّوَجَلَّ خوب جانتا ہے مگر ان سے پوچھو کہ انہیں  کیا چیز رُلارہی ہے ۔

حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی بارگاہ میں  حاضر ہوئے اور پوچھا تو انہیں  رسول اللّٰہ صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اپنی عرض معروض کی خبر دی۔ 

اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت جبریل سے فرمایا:

تم میرے حبیب  صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ
’’اِنَّا سَنُرْضِیْکَ فِی اُمَّتِکَ وَلَا نَسُوْ ءُکَ‘‘

قیامت کی بخشش کے معاملے میں  ہم آپ کو راضی کر دیں  گے اور آپ کو غمگین نہ کریں  گے ۔

( مسلم، کتاب الایمان، باب دعاء النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لامّتہ... الخ، ص۱۳۰، الحدیث: ۳۴۶(۲۰۲))
Photo

Post has shared content

Post has attachment
Photo

Post has shared content

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Wait while more posts are being loaded