Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
"*"Muhabbat Mujh se Kar K Kiya Karo gay "TUM",,,!
"*"Mujhko Apney Dil Me Basa Kar Kiya Karo Gay "TUM",,,!
"*"Muqaddar Mera Miley Ga Nahin "TUM" SE,,,!
"*"Phir Dil Se Dil Mila Kar Kiya Karo Gay "TUM",,,!
"*"Jo Qismat Me Likha He Wohi Miley Ga Mujh Ko,,,!
"*"Mere Hathon Ki Lakeeron Ko Mita Kar Kiya Karo Gay "TUM",,,!
Photo

Post has attachment
Photo

Post has shared content
مجھے ڈھونڈنے کی چاہ میں کیوں پھرتے ہو جا بجا۔۔۔۔۔۔۔

میرے ہمسفر و میرے ہمنوا۔۔۔۔۔

میں ادھر ادھر گیا نہیں۔۔۔

کسی جگہ رکا نہیں۔۔۔۔۔

دھڑکنوں میں گر تیری نہیں تو یاد رکھ۔۔۔۔

میں کہیں نہیں
Photo

Post has shared content
بچھڑ کے تجھ سے میسر ہوئے وصال کے دن
ہیں تیرے خواب کی راتیں، ترے خیال کے دن

فراقِ جاں کا زمانہ گزارنا ہو گا
فغاں سے کم تو نہ ہوں گے یہ ماہ و سال کے دن

ہر اِک عمل کا وہ کیا کیا جواز رکھتا ہے
نہ بن پڑے گا جواب ایک بھی، سوال کے دن

عروجِ بخت مبارک، مگر یہ دھیان رہے
انہی دنوں کے تعاقب میں ہیں زوال کے دن

گزر رہے ہیں کچھ اس طرح روز و شب اپنے
کہ جس طرح سے کٹیں شاخِ بے نہال کے دن

شکایتیں بھی بہت ہیں، حکایتیں بھی بہت
گزر نہ جائیں یونہی عہدِ بے مثال کے دن

وہ زندگی کو نیا موڑ دے گیا محسنؔ
یہی زوال کے دن ہیں مِرے کمال کے دن

محسن بھوپالی
Photo

Post has shared content
#_مرنے_سے_پہلے_مر_کر_ہی_زندگی_ملتی_ہے

#_ایک_حکایت

حضرت مولانا رومی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :” مریض ِ محبت کو اگر چارہ ساز سے نسبت قلبی نہ ہو تو سب چارہ سازی حجاب ہے“

صوفیاءکرام کی تعلیمات کے سلسلے میں ایک اہم تعلیم اس امر کا مشاہدہ دل میں بٹھا دینا ہے کہ انسان آخر ایک دن ﷲ کی طرف لوٹ جائے گا کیونکہ وہ ﷲ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سے آیا ہے۔ روزمرہ زندگی کے معمولات اور مشغولات میں انسان اس قدر کھو جاتا ہے کہ وہ اپنی آنکھوں سے روزانہ کئی لوگوں کو مرتے دیکھتا ہے‘ جنازے میں شرکت کرتا ہے بلکہ اُن کو ان کے مقابر میں اتارنے کے لیے قبرستان میں موجود ہوتا ہے مگر اس کے دل میں یہ خیال بھولے سے بھی نہیں آتا کہ آخر ایک دن یہ پراسیس اس کے ساتھ بھی ہونا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ مختلف النوع نفسانی آلائشوں سے اس کے دل پر زنگ کا ایک پردہ چڑھ جاتا ہے جو اسے حق اور حقیقت کی موجودگی کا احساس نہیں ہونے دیتا۔شروع شروع میں یہ حجاب عارضی ہوتا ہے اور اس کی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ کوئی صاحب ِ نظر اس شخص کی تربیت کر کے اسے دور کر سکتا ہے۔ بعد میں یہ پردہ پکا ہو جاتا ہے اور پھر قلب پر ایک ایسی مہر لگ جاتی ہے کہ جو انسان کو ہمیشہ کے لیے غفلت اور طاغوت میں داخل کر دیتی ہے۔ غفلت کے اس پردے کو چاک کرنے کے لیے پیرِ کامل اپنے مرید کو ایک خاص کیفیت کا مشاہدہ کراتا ہے جس کے ذریعے اس کا قلب زندہ اور بیدار ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت کو صوفیاء کرام "موتوا قبل ان تموتو" یعنی ”موت سے پہلے مر جانا“ کہتے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ اور دقیق مسئلہ ہے جو عام اذہان کی سمجھ اور بس کی بات نہیں۔

جب اس سلسلے میں جناب ِ واصف علی واصف سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی وضاحت میں مولانا روم رحمتہ اللہ علیہ کی یہ حکایت اس طرح بیان فرمائی: ”ایک آدمی نے طوطا رکھا ہوا تھا۔ طوطا باتیں کرتا تھا۔ اس آدمی نے کہا کہ میں دور کے سفر پر جا رہا ہوں‘ وہاں سے کوئی چیز منگوانی ہو تو بتا۔ طوطے نے کہا کہ وہاں تو طوطوں کا جنگل ہے‘ وہاں ہمارے گُرو رہتے ہیں‘ ہمارے ساتھی رہتے ہیں‘ وہاں جانا اور گرو طوطے کو میرا سلام کہنا اور کہنا کہ ایک غلام طوطا‘ پنجرے میں رہنے والا ‘ غلامی میں پابند‘ پابند ِ قفس ‘ آپ کے آزاد طوطوں کو سلام کرتا ہے۔ سوداگر وہاں پہنچا اور اس نے جا کر یہ پیغام دیا۔ اچانک جنگل میں پھڑ پھڑ کی آواز آئی‘ ایک طوطا گِرا‘ دوسرا گِرا اور پھر سارا جنگل ہی مر گیا۔ سوداگر بڑا حیران کہ یہ پیغام کیا تھا‘ قیامت ہی تھی۔ اداس ہو کے چلا آیا۔ واپسی پر طوطے نے پوچھا کہ کیا میرا سلام دیا تھا؟ اس نے کہا کہ بڑی اداس بات ہے‘ سلام تو میں نے پہنچا دیا مگر تیرا گرو مر گیا اور سارے چیلے بھی مر گئے۔ اتنا سننا تھا کہ وہ طوطا بھی مر گیا۔ سوداگر کو بڑا افسوس ہوا۔ اس نے مردہ طوطے کو اٹھا کر باہر پھینک دیا۔ طوطا فوراً اُڑ گیا اور شاخ پر بیٹھ گیا۔ اس نے پوچھا یہ کیا؟ طوطے نے کہا کہ بات یہ ہے کہ میں نے اپنے گُرو طوطے سے پوچھا تھا کہ پنجرے سے بچنے کا طریقہ بتا۔ اس نے کہا کہ مرنے سے پہلے مر جا۔ اور جب میں مرنے سے پہلے مر گیا تو پنجرے سے بچ گیا“



#_طالب_دعا__احمـــــــــــــــد__ہارٹ💖پرنـــــــــس
Photo

Post has attachment
1st Pathan:
ye Yoyo hani singh kahan miley ga hum isko Mar daley ga,,,
.
.
.
2nd Pathan:
Q kia howa.....................
.
.
.
.
1st Pathan:
Is k Chakkar men Humari Gull Banoo Pagal ho gai he,,,
Roz Subha 1 balti pani me Adha Kilo Nil dal kar kehti he,,,,,,,,,**-
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
***Aj Blue he Pani Pani Pani Pani Pani Pani Pani Pani****

Photo

Post has attachment
Photo

Post has shared content
زندگی کے میلے میں خواہشوں کے ریلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں

وقت کی روانی ہے بخت کی گرانی ہے
سخت بے زمینی ہے سخت لا مکانی ہے

ہجر کے سمندر میں
تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے
تم کو جو سنانی ہے

بات گو ذرا سی ہے
بات عمر بھر کی ہے
عمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی میں ہوتی ہیں

درد کے سمندر میں

ان گنت جزیرے ہیں بے شمار موتی ہیں
آنکھ کے دریچے میں تم نے جو سجایا تھا

بات اس دئے کی ہے

بات اس گلے کی ہے
جو لہو کی خلوت میں چور بن کے آتا ہے

لفظ کی فصیلوں پر ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
زندگی سے لمبی ہے بات رت جگے کی ہے

راستے میں کیسے ہو
بات تخلیئے کی ہے

تخلیئے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے
پیار کرنے والوں کو اک نگاہ کافی ہے

ہو سکے تو سن جاؤ ایک روز اکیلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے ہیں

امجد اسلام امجد
Photo
Wait while more posts are being loaded