Post has attachment

Post has attachment
وقفة مع الدعاء يوم عرفة

--كان السلف يدخرون حاجاتهم لدعاء يوم عرفة...
فكم من الحاجات والأمنيات والدعوات استجيبت عشية عرفة..
-- في رمضآن تغيب عنّا ليلة آلقدر فلآ نعرف متى هي ؟!
وَ في ذي آلحجة يُخبرنا اللّه بيوم عرفة وَ مع ذلك هل سنقصر ♡' !!
-- إن استطعت أن تخلو بنفسك عشية يوم عرفه فافعل
"العشية من بعد صلاة العصر الى أذان المغرب.
-- يقول أحد الصالحين
والله ما دعوت دعوة يوم عرفة وما دار عليها الحول إلا رايتها مثل فلق الصبح.
فأحسنوا في أنفسكم ..
وﻻتنسونا ووالدينا واخواننا المسلمين من صالح دعاكم...
Photo

Post has attachment

Post has attachment

Post has shared content
الشهيدة هبه جمال ..
استشهدت يوم ذكري مجزرة رابعة .. بعد امتحانات الثانوية العامة
كان نفسها تدخل هندسة و جابت ٩٥٪
#هبه_جمال.
Photo

Post has shared content
Ayimma ki andhi taqleed karne walo abhi bhi waqt.hai baaz ajawo
Photo

Post has shared content
آئیے ھم بریلویوں کے وہ عقائد آپکو بتاتے ھیں جنکی وجہ سے وہ اسلام سے خارج ھیں

اگر مندرجہ ذیل 👇باتیں صحیح ھیں تو آج ھی اپنے ان اکابر اور انکی عبارت سے برأت کا اظھار کریں 👇اور بریلویت سے توبہ کرکے صحیح العقیدہ اھل سنت بن جائیں🌹

کہیں آپ کا عقیدہ یہ تو نہی👇

1 ,ﷲکو ھر جگہ حاظروناظر ماننا کفر ھے
تسکین الخواطر فی مسئلہ الحاظر والنا ظر ،،ج،،۱ 📕 ص ،،،۱۰

2 : کرشن کنہیا ھر جگہ حا ظرونا ظر ھے
ملفو ظات احمد رضا ،،ج ،،۱ 📕 ،،ص ،،،۱۱۳

3;;نبی ۴ زمانہ کے بہروپیہ بن کر آے
اسرارالمشتاق 📕 ،،،ص،،۲۷،،

4،،،شیطان کو علم غیب ھے ،،،نو رالعرفان 📕 ،،ص ،،۷۵۱

5،،،حضور کے بعد دوسرا نبی آسکتا ھے ،،.فتاوی فیض الرسول 📕 ،،،ص،،،94

6;;شیطان کا علم نبی کے علم سے وسیع ھے ،،،،خا لص الاعتقاد ،،، ص ،،،6;
عقائد صحابہ ؛ 📕ص؛5

7;;ﷲ مخلوق کو بھو ل جا تا ھے ؛؛ انسان اور بھول ؛؛ ص؛؛ 📕329

8;;نبی گنہگار ھے ،.،فضائل دعا ،،📕ص،، 86

9;;; شیطان اپنی آواز نبی کے آواز کے مشابہ کرسکتا ھے ،،، ،واعظ نعیمیہ 📕 ج،،، 1ص،،،141

10;;;دو خدا کا تصور ،،فتاوی رضویہ ،،، 📕ج،،1

11;;;;حضور نے احمد رضا کے پیچھے نماز پڑھی ،.،ملفو ظات 📕ج ،،،2 ص،،،272

12;;حضور۴ کو بعض آیات کا نسیان ھوتا تھا ،،ملفو ظات 📕ج 3 ص288

13;;جو انبیاء کو بشر کہے یا مانے وہ کافر ،،تفسیر نعیمی 📕ج 1 ص100

14,,,,حضور ۴ بے حواس ھو جا تے تھے ،،. نو رالعرفان 📕ص 448

15,,,,,ﷲکی شان کے آگے انبیاء ذلیل ھیں جواھرالبیان📕ص 47

16;;;خضر۴ لوگوں کے جوتوں کی نگہبانی کرتے ھیں ، سبع سنابل 📕ص147

17;;;;;نبی کو ذلت کے بعد عزت ملی ،،حدائق بخشی📕ج ،،2 ص29

18::;[صحابی ] عبد الرحمن قاری شیطان تھا ،،ملفو ظات 📕ج 1 ص52

19;;;احمد رضا انبیاء کے برابر ھے ،،، تجلیات احمد رضا 📕ص 166

20;;جو سمجھے انبیاء اولیاء کو فنا کردیا وہ کامل مسلمان ھے،،، شرح ملفو ظات اویس 📕27 رسائل اویسیہ📕ج 7

21 شیخ عبدالقادر جیلانی کا مقام نبی ۴ سے بڑھ کر۔
سلطنت مصطفی 📕ص 34
22 اللہ نبی کی اطاعت کرتا ہے۔
الامن والعلی 📕 ص1o6

23شب معراج میں انبیا ۴ نے مجری کیا۔
مواعظ نعیمیہ 📕 ص7

24نبی، تشبیہ،، کتے سے دی۔۔ 📕نورالعرفان ص432
25 اللہ کا خوف رسول کا عشق گٹھلی کی طرح ھے۔۔ 📕تفسیر نعیمی ص604

26شیطان نبی کا استاد ہے۔ 📕معلم تقریر۔ ص 95

27 نبئ کا علم ویقین جانوروں کی طرح ہے۔ 📕ضیا۶ النبی۔ ص 519

28نبی ۴ فرعون ابو جھل آپس میں بھائ بھائ 📕تفسیر نعیمی۔ ص606

29اللہ کے اندر آسمان وزمین کو قائم رکھنے کی طاقت نہی غوث پاک نے قائم کررکھا ہے 📕ملفوظات۔ ج۱۔ ص ۱۲۷

30 رام چندر اور کرشن نبی تھے📕مقابیس المجالس۔ ص 340

31 نبی ۴ خدا کا نور ہے 📕حدائق بخشی۔ ج ۱ ص80

32 نبی۴ ذاتی طور پر رازق ھیں📕 الامن والعلی۔ ص 151

33 خدا جھوٹ بول سکتا ہے 📕 ملفوظات ھجرت۔ ج 4ص 18

34 نبی۴ امت کے چرواھا ھیں 📕۔ ص۔ 17

35 نبی۴ ظاھری شکل وصورت میں کفار جیسے ھیں📕 ڪترالایمان۔ سورہ کہف۔ آیت۔ 110

یأیھا الذین آمنو قو
أنفسکم وأھلیکم 👆

ﷲ ان گستاخ بدعقیدہ بریلویوں کے شر سے ھم تمام امت مسلمہ کی حفاظت فرماے آمین

دعا ؤں کا طالب ،،،

Post has shared content
KHUD KO MUSALMAN KEHNE WALE UN NAAM NIHAD LOGO KE LIYE LAMHA FIKRIYA

JO LOG BETIYO KE SHADI PAR JAHEZ DEKAR BETIYO KO BAP KI ZAYDAD SE BE DAKHAL KAR DETE HAI JO LOG BETO KI SHADI PAR JAHEZ MANGTE JAHEZ KE LIYE HATH MUH FAILATE HAI AISE LOG ALLAH AUR USKE RASOOL SAW. KI MUKHALIFA KARTE HAI QURAN SUREH NISHA AYAT NO 11 KA INKAR KARTE HAI AISE LOGO KO ALLAH DAYRE ISLAM.SE BAHAR KARTA HAI AUR INKE LIYE JAHANNAM KI AAG ALLAH NE TAYYAR KAR RAKKHA MAI JISME ALLAH INHE DAAL DEGA AUR JAB KHALE PAK JAYEGI TO DOBARAH KHALE PAHNA DIYA JAYEGA AUR HAMESHA HAMESHA KE LIYE AISE LOGO KO JAHANNAM KI AAG.MAI REHNA HOGA AAP BHI KHUD QUAN MAI DEKH.SHAKE HAI
SUREH NISHA AYAT NO 14
SUREH AL-ARAAF AYAT NO 182
SUREH AIHZAB AYAT NO.36
Photo

Post has shared content
ایک شاگرد نے اپنے استاد سے پوچھا: استاد جی!
یہ آخرت میں حساب کتاب کیسے ہوگا؟

استاد نے ذرا سا توقف کیا، پھر اپنی جگہ سے اُٹھے اور سارے شاگردوں میں کچھ پیسے بانٹے

انہوں نے پہلے لڑکے کو سو درہم
دوسرے کو پچھتر
تیسرے کو ساٹھ
چوتھے کو پچاس
پانچویں کو پچیس
چھٹے کو دس
ساتویں کو پانچ
اور جس لڑکے نے سوال پوچھا تھا اسے فقط ایک درہم دیا

لڑکے بلاشبہ استاد کی اس حرکت پر دل گرفتہ اور ملول تھا، اسے اپنی توہین محسوس ہو رہی تھی کہ استاد نے آخر اسے سب سے کمتر اور کم مستحق کیونکر جانا؟+

*استاد نے مسکراتے ہوئے سب کو دیکھتے ہوئے کہا: سب لڑکوں کو چھٹی، تم سب لوگ جا کر ان پیسوں کو پورا پورا خرچ کرو، اب ہماری ملاقات ہفتے والے دن بستی کے نانبائی کے تنور پر ہو گی

ہفتے والے دن سارے طالبعلم نانبائی کے تنور پر پہنچ گئے، جہاں استاد پہلے سے ہی موجود سب کا انتظار کر رہا تھا۔ سب لڑکوں کے آ جانے کے بعد استاد نے انہیں بتایا کہ تم میں ہر ایک اس تنور پر چڑھ کر مجھے اپنے اپنے پیسوں کو کہاں خرچ کیا ہے کا حساب دے گا

پہلے والے لڑکے، جسے ایک سو درہم ملے تھے، کو دہکتے تنور کی منڈیر پر چڑھا کر استاد نے پوچھا؛ بتاؤ، میرے دیئے ہوئے سو دہم کیسے خرچ کیئے تھے

جلتے تنور سے نکلتے شعلوں کی تپش اور گرم منڈیر کی حدت سے پریشان لڑکا ایک پیر رکھتا اور دوسرا اٹھاتا، خرچ کیئے ہوئے پیسوں کو یاد کرتا اور بتاتا کہ: پانچ کا گڑ لیا تھا، دس کی چائے، بیس کے انگور، پاچ درہم کی روٹیاں۔۔۔۔ اور اسی طرح باقی کے خرچے۔ لڑکے کے پاؤں حدت سے جل رہے تھے تو باقی کا جسم تنور سے نکلتے شعلوں سے جھلس رہا تھا حتیٰ کہ اتنی سی دیر میں اسے پیاس بھی لگ گئی تھی اور الفاظ بھی لڑکھڑانا شروع۔ بمشکل حساب دیکر نیچے اترا

اس کے بعد دوسرا لڑکا، پھر تیسرا اور پھر اسی طرح باقی لڑکے، حتی کہ اس لڑکے کی باری آن پہنچی جسے ایک درہم ملا تھا

استاد نے اسے بھی کہا کہ تم بھی تنور پر چھڑھ جاؤ اور اپنا حساب دو۔ لڑکا جلدی سے تنور پر چڑھا، بغیر کسی توقف کے بولا کہ میں نے ایک درہم کی گھر کیلئے دھنیا کی گڈی خریدی تھی، اور ساتھ ہی مسکراتا ہوا نیچے اتر کر استاد کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا، جبکہ باقی کے لڑکے ابھی تک نڈھال بیٹھے اپنے پیروں پر پانی ڈال کر ٹھنڈا کر رہے تھے

استاد نے سب لڑکوں کو متوجہ کر کے اس لڑکے کو خاص طور پر سناتے ہوئے کہا: بچو: یہ قیامت والے دن کے حساب کتاب کا ایک چھوٹا سا منظر نامہ تھا۔ ہر انسان سے، اس کو جس قدر عطا کیا گیا، کے برابر حساب ہوگا

لڑکے نے استاد کو محبت سے دیکھتے ہوئے کہا کہ: آپ نے جتنا کم مجھے دیا، اس پر مجھے رشک اور آپ کی عطا پر پیار آ رہا ہے۔ تاہم اللہ تبارک و تعالیٰ کی مثال تو بہت اعلٰی و ارفع ہے

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں اپنے حساب کی شدت سے بچائے اور ہمارے ساتھ معافی اور درگزر والا معاملہ فرمائے
آمین ثم آمین

(عرب میڈیا سے لیکر آپ کے نفیس ذوق کیلئے ترجمہ کیا ہے)

Post has shared content
علامہ احسان الہٰی ظہیرشہید : ایک سحرانگیز شخصیت
تحریر-: شاہدمحمود چوہدری

علامہ احسان الہٰی ظہیر کو اس دنیا کو الوداع کہے 29برس کا عرصہ بیت چکاہے مگر ان کی شخصیت کے نقوش دل و دماغ مین آج بھی اسی طرح تابندہ و تازہ ہیں جیسے پچپن برس قبل تھے اور یوں محسوس ہوتاہے وہ اپنی باوقار شخصیت اور گرج دار آواز کے ساتھ آج بھی ہمارے درمیان موجود ہیں۔ زندگی نے مختلف نشیب و فراز دیکھے، بہت سے حسین لمحات، خوشگوار تبدیلیوں اور جانفزا مقامات کا مشاہدہ کیا مگر ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے غم جدائی میں کمی کا اسمان نہیں کرسکی بلکہ جونہی مارچ کا مہینہ شروع ہوتاہے شدت غم کی لہریں جوش مارتے ہوئے پلکوں کے ساحلوں سے ٹکراتی ہیں اور موسم بہار کی تمام تر رعنائیاں اور دلفریبیاں آنسوؤں کے سل رواں میں گم ہوجاتی ہیں۔ جی ہاں یہی وہ مارچ کا مہینہ تھا جس میں عالم اسلام کی اس عظیم شخصیت کی شہادت کا سانحہ پیش آیا جو جامع صغات اور جامع العلوم تھی۔ آپ بیک وقت ادیب، خطیب، مترجم، مؤلف مصنف، مبلغ، سیاستدان اور تاجر تھے۔ سیالکوٹ کے مردم خیز خطے میں آپ نے ابتدائی آنکھ کھولی۔ نوسال کی عمر میں حفظ قرآن کی تکمیل کے بعد دینی و عصری علوم کے حصول کیلئے خود کو وقف کردیا۔ دینی تعلیم کے حصول کے لئے برصغیر کی عظیم علمی دانشگاہوں جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ اور جامعہ سلفیہ فیصل آباد کا رخ کیا۔ درس نظامی کے ساتھ ساتھ ایل ایل بی کیا اور متعدد مضامین میں ایم اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ علمی تشنگی اور حصول علم کی تڑپ نے انہیں چین سے نہ بیٹھنے دیا اور وہ اسی جذبے سے مغلوب ہوکر اعلیٰ تعلیم کے لئے مدینہ یونیورسٹی تشریف لے گئے۔ مدینہ منورہ میں آپ کو وقف کے عظیم اساتذہ سے استفادہ کا موقع فراہم ہوا اور عالم اسلام کی نابغہ عصر شخصیات حافظ محمد گوندلوی اور مفتی اعظم سعودی عرب فضیلتہ الشیخ عبدالعزیز بن عبداﷲ بن باز جواس وقت رئیس الجامعہ تھے کے سامنے زانونے تلمذ نہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ بعدازاں آپ کو حافظ محمدگوندلوی سے شرف دامادی بھی حاصل ہوا۔
شہیداسلام علامہ احسان الہٰی ظہیر جب جامعہ اسلامی مدینہ منورہ میں زیرتعلیم تھے تو آپ نے دور طالب علمی میں اپنی پہلی معرکۃ الارا تصنیف "القادیانیہ" تالیف کی۔ اساتذہ کرام کو مسودہ دکھایا گیا تو عربی زبان میں مرزانیت کا قلع قمع جس انداز میں کیاگیاتھا سب نے اس پر انتہائی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کتاب کی اشاعت کا مشورہ دیا، لیکن یہ بات سب کے لئے عجیب تھی کہ ایک طالب علم کی کتاب کے ٹائٹل پر مؤلف کو فاضل مدینہ یونیورسٹی لکھا جائے۔ بعض نے اس خدشے کا اظہار کیا ممکن ہے وہ امتحان میں کامیاب نہ ہوسکے اور یوں یونیورسٹی کا مورال گرجائے گا۔ اس ساری صورت حال میں شیخ عبدالعزیز بن باز رئیس الجامعہ نے کہا اگر احسان الہٰی ظہیر امتحان میں فیل ہوگئے تو میں یونیورسٹی بند کردوں گا۔
یہ آپ کا اپنے ہونہار شاگرد پر حددرجہ اعتمادتھا کہ آپ کو قبل از فراغت فاضل مدینہ لکھنے کی اجازت دے دی اور اﷲ نے محبت رسول سے سرشار اس نوجوان کے جذبہ کا یوں پاس رکھا کہ آپ کو دوہرے اعزاز سے نوازا۔ ایک طرف تو آپ 52ممالک کے طلبہ میں سب سے زیادہ امتیازی نمبروں سے پاس ہوکر اوّل درجہ پر فائز ہوئے تو دوسری جانب مالک کائنات نے ختم نبوت پر تحریر کی گئی اس معرکۃ الارا تصنیف کو شہرت دوام عطا فرمائی کہ چہار دانگ عالم میں القادیانیہ کے مذموم عقائد سے لوگ باخبر ہوگئے۔ آپ نے اپنی تبلیغی وتنظیمی مصروفیات کے باوجود دنیا کی مختلف زبانوں میں متعدد کتب تصنیف کیں، جن میں اردو، عربی، فارسی اور انگریزی شامل ہیں۔ آپ کی کتب کا دنیا کی 8 (آٹھ)سے زائد مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوچکاہے اور آپ کی تصنیف شدہ کتب دنیاکی چند بڑی بڑی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے نصاب میں شامل ہیں۔ آپ ہفت روزہ "الاعتصام" سے بھی وابستہ رہے۔ بعدازاں آپ نے اپنا پرچہ "ترجمان السنۃ" کے نام سے جاری کیا جوآج بھی شائع ہورہاہے۔
آپ کو اﷲ نے زوربیان کی جن صلاحیتوں سے نوازا تھا عالم اسلام میں ایسی شخصیات خال خال ہی نظرآتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ان کی تقریر دلوں سے خوف کو نکال باہر کرتی تھی۔ طاقتوروں کے خلاف لڑنے کا حوصلہ دیتی تھی کمزوروں کے دلوں سے کمزوری کا احساس ختم کردیتی تھی، ان کی آواز میں شیر کی گرج اور سمندر کی سی طغیانی ہوتی تھی۔ تقریر کرتے وقت وہ مصلحتوں کی زنجیروں کو توڑ کر پھینک دیتے تھے ان کی خطابت کے طوفان میں بڑے بڑے حاکم اور عہدیدار خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتے تھے جس اجتماع میں آپ کی شرکت ہوتی وہ جلسہ کامیابی کی ضمانت سمجھاجاتاتھا۔ آپ صرف ایشیاء ہی کے نہیں بلکہ عالم عرب کے بھی بہت عظیم خطیب تھے۔ مدینہ یونیورسٹی میں قیام کے دوران ایک مرتبہ مسجد نبوی کے باب السعود میں نماز مغرب کے بعد عربی میں ایک جاندار تقریر کی۔ فلسطین اور کشمیر کے پس منظر میں آپ نے ماضی کو آواز دی۔ بھیڑ بڑھتی اور آنکھیں بھیگتی چلی گئیں۔ پورا حرم اُمڈ آیا۔ اذان عشاء نے سلسلہ تقریر منقطع کرنے پر مجبور کردیا۔ نماز کھڑی ہوگئی۔ ادھر سلام پھیری ادھر لوگ پل پڑے۔ اظہار محبت میں ماتھے کو چومنے لگے۔ کچھ بھیڑ چھٹی تو عرب کے بہت بڑے خطیب، دمشق یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور اسلام کے مایہ ناز فرزند ڈاکٹرمصطفی سباعی کو سامنے کھڑاپایا۔ ڈاکٹرصاحب آگے بڑھے اور کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔ کہاں سے ہو نوجوان؟ کہا: پاکستان سے۔ انہوں نے حیرت و استعجاب سے سوال دہرایا ! جی ہاں پاکستان سے۔ انہوں نے آپ کو سینے سے لگایا اور بولے "انا اخطب فی العرب ولکن انا اقول انت اخطب منی" لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں عالم عرب کا سب سے بڑا خطیب ہوں لیکن میں تمہیں کہتاہوں کہ تم مجھ سے بھی بڑے خطیب ہو۔
] سفر حجاز صفحہ نمبر۵۳[
آپ کی خاصیت تھی کہ جس زنان میں گفتگو کرتے، مدلل گفتگو کرتے۔ ایک آن میں مجمع کو شعلہ بنادیتے تھے۔ جس عنوان کو چھیڑتے اس کو پورا کرتے تھے۔ سیرت النبیؐ اور فضاء صحابہ ان کے پسندیدہ موضوعات ہوتے تھے۔ جب صحابہ کے ابتدائی حالات اور رسول اﷲ پر آنے والی مشکلات کا تذکرہ کرتے تو اشک بار ہوجاتے تھے۔ لیکن بنگال کے علیحدہ وطن بننے پر آپ اتنا مغموم ہوئے کہ آپ نے بے ساختہ یہ کہاتھا کہ "میراایک ہی بیٹاہے اگر کٹ جاتا، مرجاتا تو مجھے اتنا افسوس نہ ہوتا جتنا آج مشرقی پاکستان کی علیحدگی پر ہواہے"۔
جب بھی کسی نے اسلام کی مخالفت کی آپ نے اسے آڑے ہاتھوں لیا۔ شریعت بل کا معاملہ ہویا روس کو افغانستان سے بے دخل کرنے کا امریکی ایجنڈا، آپ نے ہرمعاملے میں شفافیت اور حق پرستی کا مظاہرہ کیا۔ آپ نے بڑی جرأتمندی اور بہادری کے ساتھ اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے کام کیا۔ حق پرستی اور بے باکی کی پاداش میں آپ نے قیدوبن کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
آپ کی شہادت کا واقعہ انتہائی اندوہ ناک ہے۔ 23مارچ1987 کو مینارپاکستان کے زیرسایہ قلعہ لچھمن سنگھ میں حصول پاکستان کے خواب کی تعبیر کی جدوجہد کا تجدید عزم کررہے تھے، دوران تقریر جب علامہ اقبال کے اس شعر پر پہنچے:
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتاہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑ۔
ابھی آخری مصرعہ مکمل نہ کرپائے تھے کہ یکے بعد دیگرے تین خوفناک بم دھماکے ہوئے جس سے پوری فضا لرزاٹھی اور اسٹیج پر جلوہ افروز علمائے کرام اور خطبائے عظلم میں علامہ حبیب الرحمن یزدانی، عبدالخالق قدوسی، محمدخان نجیب اور دیگر شہادت کے منصب پر فائز ہوکر خالق حقیقی سے جاملے جبکہ قافلہ حق کے سالار، کارواں ملت کے حدیہ خواں اور تحفظ پاکستان کے علمبردار کو انتہائی زخمی حالت میں میوہستال لاہور لے جایاگیا۔ وہاں سے حکومت سعودیہ کے فرمانروا شاہ فہد بن عبدالعزیز نے ایک خصوصی طیارے کے ذریعے ریاض سعودی عرب بلالیا اور انتہائی نگہداشت میں ان کا خصوصی علاج معالجہ کیا گیا۔ سات دن تک آپ موت و حیات کی کشمکش میں رہے، بالآخر آسمان خطابت اور صحافت کا یہ درخشندہ آفتاب جو 31مئی 1940 کو سیالکوٹ کی فضاؤں سے طلوع ہوا تھا وہ 30مارچ 1987 کو طیبہ کی آغوش میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غروب ہوگیا۔
یہ رتبہ بلند ملا جسے مل گیا
ہرمدعی کے واسطے دار ورسن کہاں
آپ کے استاد مکرم شیخ عبدالعزیز بن باز نے ریاض میں آپ کی نماز جنازہ پڑھائی، بعدازاں مسجدنبوی ﷺ میں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی اور ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں آپ کو صحابہ واولیاء کے قبرستان جنت البقیع میں دفن کیاگیا۔
پہنچی وہیں پہ خا ک جہاں کا خمیرتھا
Photo
Wait while more posts are being loaded