Post is pinned.
جو قادیانی ہر وقت مرزا قادیانی کو بچانے کے لیے حضرت ابراہیم کے تین دفعہ کیے ہوئے کلام کو پیش کرتے ہیں ان کو منہ توڑ جواب
(سکین پیجز کے لیے ختم نبوت فورم کے لنک پر جائیں)

مرزائی شارح زین العابدین نے اس حدیث کی شرح یوں کی ہے
”لَمْ یَکْذِبْ اِبْرَاھِیْمُ اِلَّا ثَلَاثًا: دسویں روایت (نمبر 3357) اور گیارہویں روایت (نمبر 3358) بلخاظ سند مُعَنْعَن اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔ پہلی میں ہے: قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلِیْہِ وَ سَلم لَمْ یَکْذِبْ اِبْرَاھِیْمُ اِلَّا ثَلَاثًا۔ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تین باتوں کے سوا خلاف واقعہ بات نہیں کی۔ ثَلَاثًا کی تمیز مَرَّاتٍ بھی ہو سکتی ہے اور کَذَبَاتٍ بھی۔ ترجمہ میں جھوٹ لے لفظ سے کِذْب کا صحیح مفہوم ادا نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس سے زہن فوراً دروغ گوئی کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ در حقیقت عربی میں کذب ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے معانی میں بہت وسعت رکھتا ہے۔ ایسا اَمر بھی جو حقیقت میں ہو تو صحیح مگر بظاہر خلافِ واقعہ معلوم ہوتا ہو کذب ہی کہلائے گا۔ مغالطہ، اخفاء، کنایہ، خطا، سہو و نسیان اور فریب نظر بات پر بھی یہ الفاظ اطلاق پاتا ہے۔(یہاں-ناقل) جھوٹ کذب کا مترادف نہیں۔ اگر کذب کا ترجمہ جھوٹ اختیار کیا جائے تو کذب کا مفہوم جو فقرہ سے لَمْ یَکْذِبْ اِلَّا ثَلَاثًا سے مقصود ہے، ادا نہیں ہو گا اور جو اِلَّاکے بعد وضاحت کی گئی ہے اس کے خلاف بھی ہے۔۔۔۔۔۔حضرت ابراہیم کے جن کذبات کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں سے پہلا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سورج، چاند اور ستاروں کو دیکھ کر ھٰذا رَبِّی کہا۔ یہ فقرہ بظاہر خلاف واقع نظر آتا ہے۔ لیکن حقیقتاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اسلوب بیان از قبیل تہکم و توبیح ہے اور علم معانی میں یہ طریقِ گفتگو تعریض کہلاتا ہے۔ یعنی کسی امر کو ایسے پیرایہ میں بیان کرنا جس کا بطلان خود واضح ہو جائے۔ ہر زبان میں یہ اسلوب مستعمل ہے اور جھوٹ نہیں کہلاتا۔ اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ کہنا کہ بَلْ فَعَلَہُ کَبِیرُہُمْ ہَذَا فَاسْاٴَلُوہُمْ إِنْ کَانُوا یَنطِقُونَ (الأنبیاء:64) خلاف واقعہ نہیں۔ بلکہ اس کے معنی یہ ہیں: کسی کرنے والے نے یہ فعل کیا ہے۔ یعنی بتوں کو توڑا ہے۔ پھر بڑے بت کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ ان کا بڑا (بت) ہے، ان سے پوچھو اگر یہ بولتے ہیں۔(حاشیہ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دلیل یہ ہے کہ بڑا موقعہ کا گواہ صحیح سالم موجود ہے اور جن سے واقعہ ہوا ہے وہ بھی موجود ہیں۔ نہ تمہیں یہ بڑا بتا سکتا ہے اور نہ وہ جن سے یہ ہوا ہے۔ تو پھر تم ان کو کیوں اپنا کار ساز بناتے ہو) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد ان کے اس جواب سے واضح ہے کہ یہ بت کسی بات کا جواب نہیں دیتے نہ بات کو سنتے اور سمجھتے ہیں۔ اس لیے ان کو معبود بنانا غلطی ہے۔ آپ علیہ السلام کے اس انداز گفتگو سے بتوں کو پوجنے والے سمجھ گئے اور شرمندہ ہو کر وہاں سے چلے گئے۔ جیسا کے اگلی آیت فَرَجَعُوا إِلَىٰ أَنْفُسِهِمْ سے ظاہر ہے۔
پس وہ اسلوب کلام جس سے والے سمجھ جائیں اس کو خلاف واقعہ(جھوٹ-ناقل) کہنا از حد ظلم ہے۔ چنانچہ امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات پورے زور سے لکھی ہے کہ لَمْ یَکُنْ کِذْبًا لِأَنَّهُ مِنْ بَابِ الْمَعارِیْضِ۔ پھر لکھا ہے: وَھَذَا قَوْلُ الْأَکْثَرِ أَنَّهُ قَالَ تَوْبِیْخًا لِّقَوْمِهِ أَوْ تَھَکُّمًا۔ یعنی اکثر علماء کا یہی قول ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مذکورہ بالا اسلوب بطور تنبیہ و تعریض اختیار کیا ہے علامہ قرطبی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس اسلوب بیان کو ایسا استدلال بلیغ قرار دیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مشرکین لاجواب اور شرمندہ ہو گئے۔ پس جو لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف اپنی کم فہمی کی وجہ سے کذب منسوب کرتے تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے لَمْ یَکْذِبْ اِبْرَاھِیْمُ فرما کر ان سے کذب کا الزام دور فرمایا۔ کیونکہ اِلَّا ثَلَاثًا کی جو وضاحت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مفصل غیر مرفوع روایت میں مذکور ہے اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی برأت ہی مقصود ہے۔ (فتح الباری جزء 6 صفحہ 473)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف جو خلافِ واقعہ کہی گئی تین باتیں منسوب کی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ آپ علیہ السلام نے بحالت صحت اِنِّی سَقِیْمٌ کہا جو سورۃ الصافات آیت 90 میں مذکور ہے۔ اس آیت سے قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اس خطاب کا ذکر ہے جو انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا اور جو ان الفاظ میں ہے: أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَo فَمَا ظَنُّكُم بِرَبِّ الْعَالَمِينَo فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِo فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌo فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَo فَرَاغَ إِلَىٰ آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَo مَا لَكُمْ لَا تَنطِقُونَo فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِo (الصافات:87تا94)
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا: تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو، کیا جھوٹ کی؟ یعنی اللہ کے سوا اور معبودوں کو چاہتے ہو۔ پس بتاؤ تو سہی تمہارا ربّ العالمین کی نسبت کیا خیال ہے؟ پھر اس نے ستاروں کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں بیمار ہونے والا ہوں۔ پس وہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے اور وہ بھی ان کے معبودوں کی طرف چپکے سے چلا گیا اور انہیں دیکھ کر کہا: کیا تم کچھ کھاتے نہیں۔ تمہیں کیا ہوا کہ تم بولتے بھی نہیں۔ پھر چپکے سے اپنے دائیں ہاتھ سے ایک کاری ضرب لگائی۔
اسلوب بیان وہی ہے جو سورۃ الانبیاء میں اختیار فرمایا گیا ہے۔ مشرک تاثیراتِ کواکب پر یقین رکھتے تھے اور اسی وجہ سے ان میں ستارہ پرستی رائج تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اسے باطل ثابت کیا اور ستاروں کو دیکھ کر فرمایا: تمہارے زائچوں اور علم نجوم کے مطابق تو میں اس وقت بیمار ہونے والا ہوں اور آپ علیہ السلام کا یہ فرمانہ کاہنوں کے طریق پر تو ٹھیک تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ علیہ السلام بیمار نہیں ہوئے۔ گویا اس طرح مشرکین کو انہی کے مایہ ناز علم جوتش کے ذریعہ جھوٹا ثابت کیا اور توحید باری تعالیٰ کی تلقین ایسے طریق سے فرمائی جو ایک حجت بالغہ ہے۔ جھوٹ سے اس کا ہرگز تعلق نہیں۔ امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے إِنِّي سَقِيمٌ کے معنی سَأَسْقِمُ ہی کئے ہیں۔ یعنی عنقریب میں بیمار ہوں گا اور لکھا ہے کہ فَاعِلٌ کبھی مستقبل کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔(فتح الباری جزء 6صفحہ 473) کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قول إِنِّي سَقِيمٌ کا تعلق آیت فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ سے تب ہی با معنی ہو سکتا ہے جب ستارہ پرستوں کا عقیدہ مدنظر رکھا جائے کہ وہ ستاروں کی تاثیرات و تصرفات کے قائل تھے اور اب تک ہیں۔ جس کا بطلان سارے سیاقِ کلام سے واضح ہے۔ غرض اکابر علماءِ سلف کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لَمْ یَکْذِبْ کہہ کر در حقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جھوٹ کی نفی فرمائی ہے۔
ایک اور واقعہ جو روایت کی بعض سندوں میں آنحضرت کا قول بیان کی جاتا ہے وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنی بیوی کو بہن کہہ دینا ہے۔ اس تعلق میں امام ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ایک قول نقل کیا ہے کہ حضرت سارہ رشتے میں ان کی چچا زاد بہن تھیں۔ بعض مورخین کی تحقیق میں ان کے اس چچا کا نام ھاران ہے(فتح الباری جزء 6 صفحہ 474) لہٰذا ان کا مذکورہ قول توریہ(ذومعنی بات-ناقل) تو کہلا سکتا ہے، جھوٹ نہیں۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ انکی بیوی سے حضرت ابراہیم کا صلہ رحمی کا رشتہ نہ بھی ہو تو بھی اس سے اخوتِ اسلامی کا رشتہ تو موجود ہے۔ اس تعلق کی رو سے سارہ ان کی بہن تھیں۔ ایک تعلق کا اظہار اور دوسرے تعلق کے اخفاء سے جھوٹ کا الزام عائد نہیں ہوتا۔ (صحیح بخاری جلد ششم صفحہ: 259تا 261 مطبوعہ قادیان ناشر نظارت نشر و اشاعت صدر انجمن احمدیہ قادیان ترجمہ و شارح سید زین العابدین ولی اللہ شاہ)

لنک: http://www.khatmenbuwat.org/threads/%D9%82%D8%A7%D8%AF%DB%8C%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6-%D8%AD%D8%B6%D8%B1%D8%AA-%D8%A7%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%81%DB%8C%D9%85-%D8%B9%D9%84%DB%8C%DB%81-%D8%A7%D9%84%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%86%DB%92-%D8%AA%DB%8C%D9%86-%D8%AC%DA%BE%D9%88%D9%B9-%D8%A8%D9%88%D9%84%DB%92-%DA%A9%D8%A7-%D9%85%D9%86%DB%81-%D8%AA%D9%88%DA%91-%D8%AC%D9%88%D8%A7%D8%A8.4450/#post-11669

Post has attachment
:::: تجدیدِ عقیدۂ ختمِ نبوت ﷺ :::::
#Khatamanabuwat

📌 میں کلمہ طیبہ لآالٰہ الّااللہ محمدرسول الله
کا اقرار کرتے ہوئے اپنے ایمان کی تجدید کرتی ہوں کہ میں اللہ وحدہٗ لاشریک کو اپنا خالق و مالک اور معبودِ برحق سمجھتی ہوں...

📌 الله کی جانب سے نازل کردہ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام اور ان پر نازل کردہ کتب کو برحق سمجھتی ہوں..

📌 میں اقرار کرتی ہوں کہ سیدالکونین، خاتم النبیین، ساقئ کوثر، شافع محشر،
حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم الله کے آخری رسول ہیں، نبوت و رسالت کا سلسلہ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکا ہے..

📌 آپ کے بعد کسی بھی نبوت کے دعویدار، ظلی یا ذیلی نبوت کے مدعی کو کافر، زندیق، کذاب اور واجب القتل سمجھتی ہوں..

📌 میں آپؐ کے بعد کسی دوسرے نبوت کے دعویدار بالخصوص زندیقِ زماں مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کو نبی ماننے والے مرزائیوں اور مرزائیوں کو مسلمان سمجھنے والے ہر شخص کو بلا جھجک کافر اور زندیق سمجھتی ہوں..

📌 میں ہر اس شاتم رسولﷺ کو آئینِ پاکستان اور حکم قرآن کی رو سے سزائے موت کا مطالبہ کرتی ہوں جس زندیق نے شان رسالتﷺ میں توہین کی ہو....

۔📌 میں حکومت وقت کی چالاکی اور مکاری کے خلاف بھرپور احتجاج کرتی ہوں جو اس نے مرزائیوں کی حمایت میں کی ہے یا کرنے کی کوشش میں ہے ۔

،📌 میں قادیانی زندیقوں کے لیے نرم گوشہ اور ہمدردی رکھنے والوں اور ان کو حکومت میں شامل کرنے کی کوشش کرنے والوں پر لعنت بھجتی ہوں ۔۔۔۔

عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے جان بھی قربان ہے ۔۔۔

اشہد ان لآ الٰہ الّااللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ و اشہد انّ محمداً عبدہٗ ورسولہٗ

تاجِ و تختِ ختمِ نبوتؐ زندہ باد
منکرینِ ختم نبوتؐ مردہ باد

فداک ‌ابی ‌واُمّی و نفسی یارسول‌اللہﷺ

اس پوسٹ میں ترمیم کرکے اپنا نام لکھ کر اپنی وال سے شئیر کیجئے، عقیدۂ ختم نبوتؐ کی تجدید کیلئے یہ پوسٹ زیادہ سے زیادہ شئیر کیجئے اور اس مہم کو ہر دیوار سے عام کیجئے....

والسلام؛
نزہت وسیم
Photo

Post has attachment
احتساب قادیانیت

"مرزاقادیانی کی عمر"
مرزاقادیانی کی عمر بھی مرزاقادیانی کے کذاب ہونے کی ایک علامت ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مرزاقادیانی نے اپنی موت کو اپنے سچا ہونے کی ایک نشانی قرار دیا ہے آیئے مرزاقادیانی کی موت کا مرزاقادیانی کی تحریرات کی روشنی میں جائزہ لیتے ہیں۔
مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
"میری عمر کا صحیح اندازہ خدا کو معلوم ہے"۔
(ضمیمہ نصرۃ الحق صفحہ 193)
مرزاقادیانی کے ایک مرید نے بھی لکھا ہے کہ
"ہمیں آپ کی تاریخ ولادت معلوم نہیں اندازے تخمین پر مبنی ہیں "۔
(تفہیمات ربانیہ صفحہ 107)
ایک طرف تو مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ میری عمر کا صحیح اندازہ خدا کو ہے لیکن دوسری طرف اپنی عمر کے بارے میں یوں لکھا ہے کہ
" میرے لئے بھی 80 برس کی عمر کی پیشگوئی ہے"۔
(روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 93)
اس پیشگوئی کے مطابق مرزا قادیانی کی عمر 80 سال ہونی چاہئے تھی ۔
لیکن ایک اور جگہ مرزاقادیانی نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے اپنی موت کو ایک عظیم الشان نشان قرار دیتے ہوئے یوں لکھا ہے کہ
"خدا تعالٰی نے ارادہ فرمایا کہ میری پیشگوئی سے صرف اس زمانہ کے لوگ ہی فائدہ نہ اٹھائیں بلکہ بعض پیشگوئیاں ایسی ہوں کہ آیئندہ زمانے کے لوگوں کے لئے ایک عظیم الشان نشان ہوں جیسا کہ یہ پیشگوئیاں کہ میں تجھے 80 برس یا چند سال زیادہ یا 80 سے کم عمر دوں گا "۔
(روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 152)
مرزاقادیانی کے اس الہام میں "یا" ،"یا" کی گردان بھی مرزاقادیانی کے الہام کرنے والے کے جاہل ہونے کا ثبوت ہے کیونکہ خدا تعالٰی کی بات قطعی اور یقینی ہوتی ہے جبکہ مرزاقادیانی کے اس الہام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کسی جاہل کی طرف سے الہام تھا۔
ایک اور جگہ مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
"خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ ہم تجھے 80 سال یا اس کے قریب قریب اچھی زندگی دیں گے "۔
(روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 443)
80 سال کے قریب قریب سے کیا مراد ہے اس کی وضاحت بھی مرزاقادیانی نے خود ہی ایک جگہ لکھی ہے کہ
"خدا تعالٰی نے مجھے صریح لفظوں میں اطلاع دی تھی کہ تیری عمر 80 برس کی ہوگی اور یا یہ کہ 5،6 سال زیادہ یا 5،6 سال کم"۔
(روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 258)
لیجئے ان عبارتوں سے پتہ چلا کہ مرزاقادیانی کے خدا کے الہام کے مطابق مرزا قادیانی کی عمر 74 یا 75 سال یا 85 یا 86 سال ہونی چاہئے تھی ۔
مرزاقادیانی کی وفات 26 مئی 1908ء کو ہوئی ۔
اب دیکھتے ہیں کہ مرزاقادیانی کی پیدائش کب ہوئی ۔
مرزاقادیانی نے لکھا ہے کہ
"میری پیدائش 1839ء یا 1840ء میں سکھوں کے آخری وقت میں ہوئی"۔
(روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 177)
اس تحریر کے مطابق مرزا قادیانی کی عمر 68 یا 69 سال ہوئی جبکہ مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق مرزا قادیانی کی عمر کم از کم 74 اور زیادہ سے زیادہ 86 سال ہونی چاہئے تھی ۔
آیئے مرزاقادیانی کی چند مزید تحریرات کے مطابق مرزا قادیانی کی عمر کا جائزہ لیتے ہیں۔
مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ
اولیاء گزشتہ کے کشوف نے قطعی مہر لگادی ہے کہ وہ 14 ویں صدی کے سر پر پیدا ہوگا۔
( روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 371)
ایک جگہ پر مرزا قادیانی نے اپنی پیدائش 1289ھ لکھی ہے
"میری پیدائش اس وقت ہوئی جب (آدم علیہ السلام سے ) 6 ہزار سے 11 سال رہتے تھے" ۔
(روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 252)
6 ہزار سال کب پورے ہوئے اس کے بارے میں مرزا قادیانی نے لکھا ہے کہ
"چھٹے ہزار کو 1300ھ پر ختم کیا"
(روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 208،209)
ایک اور جگہ پر مرزا قادیانی نے اپنی پیدائش 1261ھ لکھی ہے ۔
"میری عمر کے 40 برس پورے ہونے پر 14 ویں صدی کا سر بھی آن پہنچا"۔
(روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 283)
قادیانی خود لکھتے ہیں کہ
"1326ھ میں حضور کا وصال ہوا"
(تفہیمات ربانیہ صفحہ 102)
اگر اسلامی سال کے لحاظ سے مرزاقادیانی کی تحریرات کے مطابق مرزا قادیانی کی عمر دیکھی جائے تو وہ 65 سال بنتی ہے کیونکہ مرزاقادیانی کے مطابق مرزا قادیانی کی پیدائش 1261ھ میں ہوئی اور وفات 1326ھ میں ہوئی اور اس طرح مرزاقادیانی کی کل عمر 65 سال بنتی ہے ۔
1261-1326= 65
اگر عیسوی کلینڈر کےمطابق مرزا قادیانی کی تحریرات کے مطابق مرزا قادیانی کی عمر دیکھی جائے تو وہ 68 یا 69 سال بنتی ہے۔ کیونکہ مرزاقادیانی کے مطابق مرزا قادیانی کی پیدائش 1839ء یا 1840ء میں ہوئی اور وفات 1908ء میں ہوئی ۔
1839-1908 = 69 ، 1840-1908= 68
جبکہ مرزا قادیانی کے الہام کے مطابق مرزا قادیانی کی عمر کم از کم 74 اور زیادہ سے زیادہ 86 سال ہونی چاہئے تھی ۔
پس ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کا اپنی عمر کے بارے میں الہامات بھی جھوٹے تھے اور جھوٹا شخص نبی نہیں ہوسکتا۔
اللہ تمام قادیانیوں کو ہدایت عطا فرمائے اور اسلام کے وسیع دامن میں آنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
Photo

Post has shared content
مرزا قادیانی کا عبرتناک انجام

جھوٹے مدعی نبوت آنجہانی مرزا قادیانی کو درجنوں بیماریاں لاحق تھیں اور یہ بیماریاں ساری زندگی اس کے ساتھ چمٹی رہیں۔ بالآخر اس کی زندگی کا عبرتناک انجام قریب آگیا۔ روزنامہ الفضل قادیان، مرزا قادیانی کی اہم تحریروں میں سے درج ذیل اقتباس نقل کرتا ہے جو ہر قادیانی کے لیے دعوتِ فکر ہے:۔
بہت بری موت
''اور جو شخص کہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہوں حالانکہ وہ نہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے نہ اس کے الہام اور کلام سے مشرف ہے، وہ بہت بری موت مرتا ہے اور اس کا انجام نہایت ہی بد اور قابل عبرت ہوتا ہے۔''
(روزنامہ الفضل قادیان جلد28، نمبر50، صفحہ 1مورخہ 2مارچ 1940ئ)

اب اس معیار پر مرزا قادیانی کو جانچ لیتے ہیں۔ یعنی اگر مرزا قادیانی اپنے دعوئوں میں سچا تھا تو اس کا انجام اچھا ہونا چاہیے تھا، اوراگر اپنے دعوئوں میں جھوٹا تھا تو ''نہایت ہی بد اور قابل عبرت انجام'' ہونا چاہیے تھا۔ مزید براں خود مرزا قادیانی کا کہنا ہے:
(1) ''واضح ہو کہ ہمارا صدق یا کذب جانچنے کے لیے ہماری پیش گوئی سے بڑھ کر اور کوئی مہلک امتحان نہیں ہوسکتا۔''


(آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ 288، مندرجہ روحانی خزائن، جلد5 صفحہ 288از مرزا قادیانی)

(2) ''مولوی ثناء اللہ سے آخری فیصلہ '' میں اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی سے لکھوایا تھا:
''بخدمت مولوی ثناء اللہ صاحب۔ السلام علی من اتبع الھدیٰ! مدت سے آپ کے پرچہ اہلحدیث میں میری تکذیب اور تفسیق کا سلسلہ جاری ہے۔ ہمیشہ مجھے آپ اپنے اس پرچہ میں مردود، کذاب، دجال، مفسد کے نام سے منسوب کرتے ہیں اور دنیا میں میری نسبت شہرت دیتے ہیں کہ یہ شخص مفتری اور دجال اور کذاب ہے اور اس شخص کا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا سراسر افترا ہے۔ میں نے آپ سے بہت دکھ اٹھایا اور صبر کرتا رہا مگر چونکہ میں دیکھتا ہوں کہ میں حق کے پھیلانے کے لیے مامور ہوں اور آپ بہت سے افترا میرے پر کرکے دنیا کو میری طرف آنے سے روکتے ہیں… اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ اکثر اوقات آپ اپنے ہر ایک پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی میں ہی ہلاک ہو جائوں گا ۔۔۔۔۔۔ اور اگر میں کذاب اور مفتری نہیں ہوں اور خدا کے مکالمہ اور مخاطبہ سے مشرف ہوں اور مسیح موعود ہوں تو میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ سنت اللہ کے موافق آپ مکذبین کی سزا سے نہیں بچیں گے۔ پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے ہے جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ مہلک بیماریاں، آپ پر میری زندگی میں ہی وارد نہ ہوئی تو میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں۔
یہ کسی الہام یا وحی کی بنا پر پیش گوئی نہیں محض دعا کے طور پر میں نے خدا سے فیصلہ چاہا ہے اور میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ اے میرے مالک!… اگر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا محض میرے نفس کا افترا ہے اور میں تیری نظر میں مفسد اور کذاب ہوں اور دن رات افترا کرنا میرا کام ہے، تو اے میرے پیارے مالک! میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کی زندگی میں مجھے ہلاک کر اور میری موت سے ان کو اور ان کی جماعت کو خوش کر دے۔ آمین! مگر اے میرے کامل اور صادق خدا! اگر مولوی ثناء اللہ ان تہمتوں میں جو مجھ پر لگاتا ہے حق پر نہیں تو میں عاجزی سے تیری جناب میں دعا کرتا ہوں کہ میری زندگی ہی میں ان کو نابود کر۔ مگر نہ انسانی ہاتھوں سے بلکہ طاعون و ہیضہ وغیرہ امراض مہلکہ سے۔ بجز اس صورت کے کہ وہ کھلے کھلے طور پر میرے روبرو اور میری جماعت کے سامنے ان تمام گالیوں اور بدزبانیوں سے توبہ کرے جن کو وہ فرض منصبی سمجھ کر ہمیشہ مجھے دکھ دیتا ہے۔ آمین یا رب العالمین!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ربنا افتح بیننا و بین قومنا بالحق وانت خیر الفاتحین۔
بالآخر مولوی صاحب سے التماس ہے کہ وہ میرے اس تمام مضمون کو اپنے پرچہ میں چھاپ دیں اور جو چاہیں اس کے نیچے لکھ دیں۔ اب فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔


(مرزا غلام احمد قادیانی کا اشتہار مورخہ 5اپریل 1907ء مجموعہ اشتہارات، جلد دوم، صفحہ 705، 706 طبع جدید)

اس اشتہار کی اشاعت کے ہفتہ عشرہ بعد ہی 25اپریل 1907ء کو اخبار بدر قادیان میں مرزا قادیانی کی روزانہ ڈائری میں شائع ہوا کہ:
یہ خدا کی طرف سے ہے
(3) ''ثناء اللہ کے متعلق جو کچھ لکھا گیا یہ دراصل ہماری (یعنی مرزا قادیانی کی) طرف سے نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے اس کی بنیاد رکھی گئی ہے۔''


(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 206 طبع جدید، از مرزا قادیانی)

اس پیش گوئی کے تقریباً ایک سال بعد مرزا قادیانی کی موت نے ''آخری فیصلہ'' کر دیا کہ وہ خدا کی طرف سے نہیں تھا کیونکہ اس کی موت مولانا ثناء اللہ امرتسری کی زندگی میں بقول اس کے ''خدائی ہاتھوں کی سزا'' سے ہوئی۔ ہر شخص دم بخود رہ گیا کہ خود مرزا قادیانی کی دعا پر قدرتِ حق نے عجب فیصلہ کیا۔
25مئی 1908ء کو شام کھانے کے بعد اس کی حالت اچانک بگڑنے لگی۔ اسے مسلسل اسہال شروع ہوگئے۔ ایک دو دفعہ رفع حاجت کے لیے لیٹرین گیا، بعد ازاں ضعف کی وجہ سے نڈھال ہوگیا۔ اس کے جسم کا پانی اور نمک ختم ہوگیا تھا۔ بلڈپریشر کم ہونے سے ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ آنکھیں اندر کو دھنس گئیں اور نبض اتنی کمزور ہوگئی کہ محسوس کرنا مشکل ہوگئی۔ مرزا بشیر احمد ایم، اے ابن مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے:
حالت دگر گوں
(4) ''حضرت مسیح موعود کی وفات کا ذکر آیا تو والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ حضرت مسیح موعود کو پہلا دست کھانا کھانے کے وقت آیا تھا۔ مگر اس کے بعد تھوڑی دیر تک ہم لوگ آپ کے پائوں دباتے رہے اور آپ آرام سے لیٹ کر سو گئے اور میں بھی سو گئی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد آپ کو پھر حاجت محسوس ہوئی اور غالباً ایک یا دو دفعہ رفع حاجت کے لیے آپ پاخانہ تشریف لے گئے۔ اس کے بعد آپ نے زیادہ ضعف محسوس کیا، تو اپنے ہاتھ سے مجھے جگایا۔ میں اٹھی تو آپ کو اتنا ضعف تھا کہ آپ میری چارپائی پر ہی لیٹ گئے، اور میں آپ کے پائوں دبانے کے لیے بیٹھ گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد حضرت صاحب نے فرمایا: تم اب سو جائو۔ میں نے کہا۔ نہیں میں دباتی ہوں۔ اتنے میں آپ کو ایک اور دست آیا۔ مگر اب اس قدر ضعف تھا کہ آپ پاخانہ نہ جاسکتے تھے۔ اس لیے میں نے چارپائی کے پاس ہی انتظام کر دیا۔ اور آپ وہیں بیٹھ کر فارغ ہوئے۔ پھر اٹھ کر لیٹ گئے اور میں پائوں دباتی رہی۔ مگر ضعف بہت ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ایک اور دست آیا اور پھر آپ کو ایک قے آئی۔ جب آپ قے سے فارغ ہو کر لیٹنے لگے تو اتنا ضعف تھا کہ آپ لیٹتے لیٹتے پشت کے بل چارپائی پر گر گئے۔ اور آپ کا سر چارپائی کی لکڑی سے ٹکرایا اور حالت دگرگوں ہوگئی۔''

(سیرت المہدی حصہ اوّل صفحہ 11 از مرزا بشیر احمد ایم اے)

بقول حکیم نورالدین '' ہیضہ کی صورت میں جب آنتیں متاثر ہوتی ہیں تو قے کے ساتھ اسہال ہوتے ہیں۔ قے کا آنا بذاتِ خود کوئی بیماری نہیں بلکہ یہ متعدد بیماریوں کی علامت ہے۔ آنتوں کے فالج اور رکاوٹ میں غذا ہی قے کا باعث بنتی ہے۔ کھانے کے فوراً بعد شراب یا افیون کے استعمال سے بھی قے ہوتی ہے۔ اگر اسہال کے ساتھ قے بھی شامل ہو تو مرض اسہال کے بجائے ہیضہ بن جاتا ہے۔'' (بیاض نورالدین ص(209)

مسلسل اسہال اور قے کی وجہ سے مرزا قادیانی کے جسم، بستر اور کمرے میں سخت بدبو اور تعفن پھیل گیا تھا۔ اس کی حالت دگرگوں ہوگئی اور نورالدین کو بلانے کے لیے کہا۔ حکیم نورالدین آیا تو مرزا قادیانی نے اسے کہا ''مجھے اسہال کا دورہ ہوگیا ہے۔ آپ کوئی دوائی تجویز کریں۔'' (ضمیمہ الحکم 28مئی 1908ئ)
حکیم نورالدین نے چند مقوی ادویات کھانے کو دیں مگر مرزا قادیانی نے قے کر دیں۔ اس کے بعد اس کی نبض ڈوبنے لگی۔ تھوڑی دیر بعد ایک انگریز ڈاکٹر آیا مگر وہ نہایت عبرتناک حالت دیکھتے ہی چلا گیا۔ ایسی ہی بھیانک حالت میں مرزا قادیانی 26مئی 1908ء کو صبح ساڑھے دس بجے جہنم واصل ہوگیا۔
قادیانی کہتے ہیں کہ: مرزا قادیانی کی موت ہیضہ سے نہیں ہوئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی موت کس عارضہ سے ہوئی؟ اس کے لیے کسی ڈاکٹری رپورٹ کی احتیاج نہیں، بلکہ مرزا قادیانی کے ''نام نہاد صحابی'' اور خسر میر ناصر نواب کی ثقہ روایت سے خود مرزا قادیانی کا اپنا ''اقرارِ صالح'' موجود ہے:
میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے
(5) ''حضرت (مرزا) صاحب جس رات کو بیمار ہوئے اس رات کو میں اپنے مقام پر جا کر سو چکا تھا، جب آپ کو سخت تکلیف ہوئی تو مجھے جگایا گیا، جب میں حضرت صاحب کے پاس پہنچا اور آپ کا حال دیکھا تو مجھے مخاطب کرکے فرمایا: ''میر صاحب! مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔'' اس کے بعد کوئی ایسی صاف بات میرے خیال میں آپ نے نہیں فرمائی، یہاں تک کہ دوسرے روز دس بجے کے بعد آپ کا انتقال ہوگیا۔'' (حیاتِ ناصر صفحہ 14، از شیخ یعقوب علی عرفانی قادیانی)
لیجیے! بہت ''بری موت'' کے تینوں مرحلے اللہ تعالیٰ نے خود مرزا قادیانی کی زبان و قلم سے طے کرا دیئے، یعنی پہلے اس سے لکھوایا کہ مفتری بہت ہی بری موت مرتا ہے، پھر اس کی تعیین و تشخیص بھی اسی کے قلم سے کرا دی کہ طاعون اور ہیضہ کی موت ہی وہ ''بری موت'' ہے، جو بطور سزا ''خدا تعالیٰ کے ہاتھوں'' سے کسی سرکش مفتری کو دی جاتی ہے، اور پھر خود اسی کی زبان سے یہ اقرار بھی کرا دیا کہ وہ ''وبائی ہیضہ'' سے ''بہت بری موت'' مر رہا ہے، اور یہ اقرار ریکارڈ پر موجود ہے۔
قادیانیوں کی نفسیات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ وہ مرزا قادیانی کو ''مسیح موعود'' مانتے ہیں مگر اس کی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا ''مسیحا'' کہتا ہے ''…مجھے وبائی ہیضہ ہوگیا ہے۔'' …مگر قادیانی مصر ہیں کہ حضرت صاحب کا کہنا درست نہیں ہے۔
مرزا قادیانی کہتا ہے
خدا جھوٹوں کو ہلاک کرتا ہے
(6) ''اے بدقسمت بدگمانو! کیا ممکن ہے کہ کوئی خدا پر جھوٹ باندھے اور پھر اس کے دست قہر سے بچ رہے۔ خدا جھوٹوں کو ہلاک کرے گا اور وہ جو اپنے دل سے باتیں بناتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ خدا کا الہام ہے، وہ ہلاک کیے جائیں گے کیونکہ انہوں نے دلیری کرکے خدا پر بہتان باندھا۔''


(ایام الصلح صفحہ 115 مندرجہ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 341 از مرزا قادیانی)

مرزاقادیانی یہ بات سو فیصد خود اس پر ثابت ہوئی اور سچا(مولانا امرتسری)زندہ رہا اور جھوٹا(مرزا قادیانی ) ہیضہ کی بری موت مر گیا۔کسی زندہ دل شاعر نے مرزا قادیانی آنجہانی کی تاریخ وفات لکھی ہے



یوں کہا کرتا تھا مر جائیں گے اور
اور تو زندہ ہیں خود ہی مر گیا

اس کے بیماروں کا ہو گا کیا علاج
کالرہ سے خود مسیحا مر گیا

مرزا قادیانی کی تاریخ وفات ہے: لَقَدْ دَخَلَ فِیْ قَعَرِ جَہَنَّمْ۔ ١٣٢٦ھ ، 26 مئی 1908 ئ
Photo

Post has shared content
سوال.بھائی عطاءاللہ صاحب کیا حال ہیں؟ ایک چھوٹا سا سوال تھا بعض لوگ اعتراض مارتے ہیں کہ حدیث میں آیا ہےکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا.. رسول تو نہیں کہا قادیانی تو رسول ہے معاذاللہ...

جواب- بھائی جان غلام مجتبی صاحب میں خیریت سے ہوں. آپ نے جن دنوں میں سوال ارسال کیا تھا میں سفر میں تھا جب اپنے گھر پہنچا تو معاملات سیٹ ہونے میں کچھ دن لگے اس لئے تاخیر سے جواب دینے پر معذرت خواہ ہوں...

آپکے سوال کا جواب یہ ہےکہ بھائی اس طرح کا سوال کرنے والا قادیانیت سے بالکل ناواقف ہے کیونکہ مرزا قادیانی نے جو ڈھنڈورا دنیا میں پیٹا ہے اس کے اندر واشگاف الفاظ میں کہا ہےکہ میں ظلی و بروزی نبی ہوں رسول نہیں ہوں...

ہاں یہ ایک الگ بات ہےکہ ایک طرف تو مرزا قادیانی خود کو ظلی بروزی نبی کہتا ہے دوسری طرف بہت سے مقامات پر منصب رسالت پر بھی ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی ہے.. جس طرح مرزا قادیانی نے اپنی کتاب #ایک_غلطی_کا_ازالہ میں سورۃ الفتح کی آیت #محمد_رسول_اللہ کو اپنے اوپر فٹ کرنے کی کوشش بھی کی ہے...

دوسری بات یہ ہےکہ اگر اس اعتراض کو مان بھی لیا جائے کہ حدیث مذکور میں "لا نبی بعدی"ہے "لا رسول بعدی"تو نہیں ہے تو یہ اعتراض پھر بھی نری جہالت والا اعتراض شمار ہوگا. کیونکہ معترض کو یہ معلوم نہیں کہ نبی اور رسول کی تعریف کیا ہے، کیونکہ رسول اصطلاح شریعت میں اس کو کہتے ہیں جس کو نئی کتاب و شریعت سے نوازا جائے اور نبی عام ہے رسول کو بھی نبی کہتے ہیں اور غیر رسول نبوت کی حامل شخصیت کو بھی نبی کہا جاتا ہے. یعنی جسکو نئی کتاب و شریعت نہ دی جائے بلکہ وہ پہلے رسول کی کتاب و شریعت کو پھیلانے کیلئے مبعوث کیا جائے. اب اس بات کے بعد آپکو یہ بات بھی سمجھ آگئی ہوگی کہ ہر رسول نبی ہوتا ہے لیکن ہر نبی رسول نہیں ہوتا ہے.. مثلا:حضرت موسی علیہ السلام حامل تورات اور نئی شریعت رسول و نبی دونوں ہیں لیکن حضرت ہارون علیہ السلام فقط نبی ہیں رسول نہیں ہیں کیونکہ حضرت ہارون علیہ السلام شریعت موسوی کے تابع ہیں. اس پوری بحث سے معلوم ہواکہ "لانبی بعدی سے جس طرح نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوا ہے اسی طرح رسولوں کی بعثت بھی رک گئی ہے کیونکہ رسول بھی نبی ہوتا ہے...

تیسری بات.. قرآن مجید نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو "خاتم النبيين کہا ہے. آسکا مطلب خاتم النبوۃ ہے. یعنی سلسلہ نبوت ختم ہے لہذا رسول اور نبی دونوں کی آمد اب نہیں ہوسکتی ہے. چنانچہ خاتم النبيين کا مطلب بیان کرتے ہوئے امام راغب اصفہانی رحمہ اللہ علیہ اپنی کتاب مفردات القرآن میں لکھتے ہیں کہ.
:وخاتم النبيين لأنه ختم النبوۃ أي تممها بمجيئه:
(مفردات راغب ص ١٤٢)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبيين اسلئے کہا جاتا ہےکہ آپ صلےاللہ علیہ وسلم نے نبوت کو ختم کردیا یعنی آپ صلےاللہ علیہ وسلم نے تشریف لاکر نبوت کو تمام فرمادیا ہے.

اسی طرح علامہ زبیدی رحمہ اللہ علیہ تاج العروس شرح قاموس میں لحیانی سے نقل کرتے ہیں:و من اسمائه عليه السلام الخاتم و الخاتم و هو الذي ختم النبوۃ بمجيئه

اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسماء مبارکہ میں سے خاتم بالکسر اور خاتم بالفتح بھی ہے اور خاتم وہ شخص ہے جس نے اپنے تشریف لانے سے نبوت کو ختم کردیا ہو..

اس تیسری بات سے معلوم ہوا کہ خاتم النبيين اور لا نبی بعدی کا مطلب نبوت کا اختتام ہے..

چوتھی بات.. جس طرح احادیث میں لا نبی بعدی آیا ہے اسی طرح کئی احادیث میں لارسول بعدی بھی ذکر ہے.. طوالت کی وجہ سے فقط ایک حدیث ذکر کئے دیتا ہوں..

جامع ترمذی کے اندر کتاب الرؤیا باب ذھبت النبوۃ و بقیت المبشرات میں یہ حدیث مذکور ہے.

عن أنس بن مالك رضي الله عنہ قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن النبوۃ و الرسالة قد انقطعت فلا رسول بعدي و نبي..

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رسالت و نبوت ختم ہوچکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی ہے..

اس حدیث میں انقطاع رسالت اور رسول کے نہ آنے کا ذکر صریح الفاظ میں موجود ہے..

........تتمہ_پوسٹ.........

بالفرض ہم اگر تسلیم بھی کر لیں کہ مرزا قادیانی کا دعوی رسالت کا تھا تو پھر مرزا قادیانی پر کونسی کتاب اتری ہے اور کونسی نئی شریعت دی گئی ہے...؟

کیونکہ جب قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو رسول تسلیم کرتے ہیں پھر مرزا کی شریعت بھی مانے نا.اور مرزا پر نازل شدہ کتاب "تذکرہ" کی تلاوت کریں ہماری کتاب اور ہماری شریعت کو کیونکر اپنی کہتے ہیں. ہمارے والا کلمہ پڑھ کر مسلمانوں کو دھوکہ کیوں دیتے ہیں قادیانیوں کو چاہیے کہ کلمہ بھی ہم سے الگ کریں..

مثلا. یہودی موسی علیہ السلام کی شریعت پر عمل کرنے کا دعوی کرتے ہیں عیسائی عیسی علیہ السلام کی شریعت پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار ہیں اسی طرح مسلمان حضرت محمد صلے اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو مانتے ہیں. ان تینوں کی کتابیں،احکام، اور کلمہ جدا جدا ہے. اگر مرزا قادیانی رسول ہونے کا دعویدار تھا تو کتاب احکام و مسائل اور کلمہ جدا کیوں نہیں کرتے ہیں مرزا قادیانی کو ماننے والے؟

اسلام اور مسلمان کا لیبل کیوں چسپاں کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں؟

والسلام. دعاؤں کا طالب.

محمد عطااللہ فریدی بھکروی.
Photo

Post has attachment
نقلِ کفر کفر نبا شد مرزا قادیانی کی غلیظ تحاریر 
Photo

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment
Photo
Wait while more posts are being loaded