Post is pinned.Post has attachment
Assalam u alaikum warahmatullahi wabrakatahu..
Photo

Post has attachment
Photo

Post has shared content

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has shared content

Post has attachment
Photo

Post has shared content
📢 اسلام  ، صبر  اور سوگ :
✍ دین اسلام میں صبر اور شکر کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور قرآن میں لا تعداد مقام پر صبر کو  مومنین کی صفات میں ذکر کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ بندہ مومن ہر قسم کی مصیبت اور آزمائش پر صبر کرتا ہے اور کسی قسم کا واویلا نہیں مچاتا ۔ اور یہ کہ ایمان والے تو صبر اور صلاة سے مدد حاصل کرتے ہیں:
🔸اے ایمان والو ! صبر اور صلاة کے ذریعہ سے مدد چاہو، اللہ تعالٰی صبر والوں کا ساتھ دیتا ہے۔
(سورة البقرة # 153)

🔸اور ہم کسی نہ کسی طرح تمہاری آزمائش ضرور کریں گے، دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجئے۔
(سورة البقرة # 155)

🔸ساری اچھائی مشرق اور مغرب کی طرف منہ کرنے میں ہی نہیں بلکہ حقیقتًا اچھا وہ شخص ہے جو اللہ تعالٰی پر قیامت کے دن پر فرشتوں پر کتاب اللہ اور نبیوں پر ایمان رکھنے والا ہو جو مال سے محبت کرنے کے باوجود قرابت داروں یتیموں مسکینوں مسافروں اور سوال کرنے والوں کو دے غلاموں کو آزاد کرے صلاة کی پابندی اور زکٰوۃ کی ادائیگی کرے جب وعدہ کرے تب اسے پورا کرے تنگدستی دکھ درد اور لڑائی کے وقت صبر کرے یہی سچّے لوگ ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔
(سورة البقرة # 177)

✍ اللہ کی نبیوں پر جتنی آزمائشیں آئیں اور مظالم ڈھائے گئے ان سے بڑے سانحے دنیا میں اور کیا ہوسکتے ہیں اس کے باوجود ان انبیاء و رسل پر ڈھائے گئے ظلم و ستم کا نہ تو سوگ منانے کا حکم دیا گیا نہ ہی شب ماتم بچھانے کا۔ بندہ مومن تو ہر حال اور سانحے پر صبر ہی کرتا ہے اور یہی صفت اس کی قرآن میں بیان ہوئی ہے :

🔸بہت سے نبیوں کے ہم رکاب ہو کر ،بہت سے اللہ والے جہاد کرچکے ہیں ،انہیں بھی اللہ کی راہ میں تکلیفیں پہنچیں لیکن نہ تو انہوں نے ہّمت ہاری اور نہ سست رہے اور نہ دبے ،اوراللہ صبر کرنے والوں کو (ہی )چاہتا ہے۔
(سورة آل عمران # 146)

🔸جنہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہہ دیا کرتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالٰی کی ملکیت ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔
(سورة البقرة # 156)

🔸سوائے ان کے جو صبر کرتے ہیں اور نیک کاموں میں لگے رہتے ہیں۔ انہیں لوگوں کے لئے بخشش بھی ہے اور بہت بڑا نیک بدلہ بھی۔
(سورة هود # 11)

🔸اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے
(سورة لقمان # 17)

🔹صہیب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا “ بندہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے، اسکے ہر معاملہ اور ہر حال میں اس کے لئے خیر ہی خیر ہے، اگر اس کو خوشی اور راحت و آرام ملے تو وہ اپنے رب کا شکر ادا کرتا ہے، اور اس میں اس کے لئے خیر ہی خیر ہے، اور اگر اس کو کوئی دکھ اور تکلیف ملے تو وہ اس پر صبر کرتا ہے، اور یہ صبر بھی اس کے لئے سراسر خیر اور برکت کا سبب ہے۔“
(صحیح مسلم # 7395)

🔮 سوگ :
✍ اسلام میں کسی کی موت پر بھی تین دن سے زیادہ سوگ کی اجازت نہیں سوائے اس عورت کے جس کا شوہر فوت ہوا ہو ، اس کو چار مہینے دس دن کے سوگ کی اجازت ہے لیکن بیوہ کو بھی بین اور نوحہ کرنا سختی سے منع ہے ۔

🔹رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت پر لعنت کی جو اپنا (نوحہ میں) چہرہ نوچے، اپنا گریبان پھاڑے اور خرابی بربادی اور ہلاکت کے الفاظ پکارے۔
(سنن ابن ماجہ # 1585)

اسلام میں اگر بیوہ کے علاوہ کسی کو تین دن سے زیادہ سوگ ، یا کسی سانحے پر بھی نوحہ یا ماتم کی اجازت ہوتی تو صحابہ کرام احد کے ان شہدا اور حمزه رضي الله تعالى کا ماتم کرتے جن کی لاش تک کا مثلہ بنا دیا گیا تھا۔
🔹( جامع ترمذی # 1016 سند صحیح )

یا ان حفاظ کرام پر نوحہ کرتے جن کو رسول صلي الله عليه وسلم نے مہم پر بھیجا تھا اور ان سب کو شہید کردیا گیا تھا
🔹 ( صحیح بخاری # 6394 )

یا رسول صلي الله عليه وسلم اصحاب الاخدود کے غم میں سوگ کا حکم فرماتے جن کی مانگوں میں آرے رکھ کر چیر دیا گیا اور مائوں کوشیر خوار بچوں سمیت آگ کے گڑھوں میں ڈال دیا گیا تھا صرف ان کے ایمان لانے کی پاداش میں ،
🔹(صحیح مسلم # 7511 )

✍ اسلام میں مصیبت اور آلام میں صرف صبر اور اجر کی امید رکھنے کا حکم ملتا ہے :

🔹میں زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے یہاں گئی جب کہ ان کے بھائی کا انتقال ہوا ‘ انہوں نے خوشبو منگوائی اور اسے لگایا ‘ پھر فرمایا کہ مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ تھی لیکن میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ کسی بھی عورت کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو ‘ جائز نہیں ہے کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ لیکن شوہر کا سوگ (عدت) چار مہینے دس دن تک کرے۔
(صحیح بخارى # 1282)

🔹رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کسی مسلمان بندے کو کوئی مصیبت آتی ہے اور وہ (إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اور اللَّهُمَّ أْجُرْنِي فِي مُصِيبَتِي وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا)، کہتا ہے تو اللہ اس کو اس کی مصیبت میں اجر دیتے ہیں اور اس کا نعم البدل عطا کرتے ہیں، جب ابوسلمہ کا انتقال ہوگیا تو میں نے رسول اللہ کے حکم کے مطابق کہا تو اللہ نے میرے لئے ابوسلمہ سے بہتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عطا فرمائے۔
(صحیح مسلم # 2025)

🔹رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابوسلمہ کے پاس تشریف لائے تو ابوسلمہ کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بند کردیا، پھر فرمایا جب روح قبض کی جاتی ہے تو نگاہ بھی اس کے پیچھے جاتی ہے، ان کے گھر کے لوگوں نے رونا شروع کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ پر خیر ہی کی دعا کیا کرو بے شک فرشتے تمہاری بات پر آمین کہتے ہیں پھر فرمایا اے اللہ ابوسلمہ کو معاف فرما اور ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما اور باقی لوگوں میں سے اس کا جانشین مقرر فرمایا رب العالمین ہمیں اور اس کو بخش دے اور اس کی قبر میں اس کے لئے کشادگی فرما اور اس میں اس کے لئے روشنی فرما۔
(صحیح مسلم # 2028)

🔹ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا جب ابوسلمہ فوت ہو گئے تو میں نے کہا، مسافر تھا اور مسافر زمین میں مر گیا ہے میں اس کے لئے ایسا روؤں گی کہ اس کے بارے میں باتیں کی جائیں گی، چنانچہ میں نے اس پر رونے کی تیاری کرلی مدینہ کے اوپر کے ایک محلہ سے ایک عورت میری مدد کے لئے بھی آگئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی ملاقات ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا تو جس گھر سے اللہ نے شیطان نکال دیا ہے اس میں اس کو داخل کرنا چاہتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو دفعہ یہ فرمایا تو میں رونے سے رک گئی پس میں نہ روئی۔
(صحیح مسلم # 2032)

🔹انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت ہے کہ اپنے بچے پر روتی عورت کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو اس سے فرمایا اللہ سے ڈر اور صبر اختیار کر! تو اس نے کہا تم کو میری مصیبت نہیں پہنچی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گئے تو اس عورت سے کہا گیا کہ وہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھے تو اس عورت کو پریشانی ہوئی اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر پہنچی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر پر کسی دربان کو نہ پایا تو اندر جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کرنے لگی میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہچانا نہیں تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ صبر صدمہ کی ابتداء میں ہی افضل ہے۔
(صحیح مسلم # 2038)

🔹نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا چار باتیں میری امت میں زمانہ جاہلیت کی ایسی ہیں کہ وہ ان کو نہ چھوڑیں گے۔ اپنے حسب پر فخر اور نسب پر طعن کرنا، ستاروں سے پانی کا طلب کرنا اور نوحہ کر نافرمایا نوحہ کرنے والی اگر اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو قیامت کے دن اس حال میں اٹھے گی کہ اس پر گندھک کا کرتا اور زنگ کی چادر ہو گی۔
(صحیح مسلم # 2058)

🔹ابن مثنی، ابن ابی عمر، عبدالوہاب، یحیی بن سعید، عمرة، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زید بن حارثہ جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ کی شہادت کی خبر پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر غم کے آثار نمودار ہوئے فرماتی ہیں کہ میں دروازہ کی درزوں سے دیکھ رہی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت جعفر کی عورتیں رو رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا کہ وہ جا کر ان کو منع کرے، وہ گیا اور آکر عرض کیا کہ انہوں نے نہیں مانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو دوبارہ حکم دیا کہ وہ جا کر ان کو منع کرے وہ گیا واپس آکر عرض کرنے لگا اللہ کی قسم یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، وہ ہم پر غالب آگئیں فرماتی ہیں میرا گمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور ان کے منہ خاک سے بھر دو، سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کہا اللہ تیری ناک خاک آلود کرے اللہ کی قسم نہ تو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی تکمیل کرتا ہے اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس تکلیف سے چھوڑتا ہے۔
(صحیح مسلم # 2059)

🔹نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو (نوحہ کرتے ہوئے) اپنے رخسار پیٹے، گریبان پھاڑ ڈالے، اور جاہلیت کی پکار پکارے۔“
(صحیح بخارى # 3519)

🔹رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لیتے وقت ہم سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ ہم  نوحہ نہیں کریں گی۔
(صحیح بخارى # 1306)

✍ اللہ ہمیں دین کو سجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Photo

Post has shared content
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ. اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْد. ...!!!
Photo
Wait while more posts are being loaded