Post has shared content
پنجاب کے شہر گجرانولا میں ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے، جن کا مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ حکیم صاحب روزانہ صبح مطب جانے سے قبل بیوی کو کہتے کہ جو کچھ آج کے دن کے لیے تم کو درکار ہے ایک چٹ پر لکھ کر دے دو۔ بیوی لکھ کر دے دیتی۔ آپ دکان پر آ کر سب سے پہلے وہ چٹ کھولتے۔ بیوی نے جو چیزیں لکھی ہوتیں۔ اُن کے سامنے اُن چیزوں کی قیمت درج کرتے، پھر اُن کا ٹوٹل کرتے۔ پھر اللہ سے دعا کرتے کہ یااللہ! میں صرف تیرے ہی حکم کی تعمیل میں تیری عبادت چھوڑ کر یہاں دنیا داری کے چکروں میں آ بیٹھا ہوں۔ جوں ہی تو میری آج کی مطلوبہ رقم کا بندوبست کر دے گا۔ میں اُسی وقت یہاں سے اُٹھ جائوں گا اور پھر یہی ہوتا۔ کبھی صبح کے ساڑھے نو، کبھی دس بجے حکیم صاحب مریضوں سے فارغ ہو کر واپس اپنے گائوں چلے جاتے۔
ایک دن حکیم صاحب نے دکان کھولی۔ رقم کا حساب لگانے کے لیے چِٹ کھولی تو وہ چِٹ کو دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ ایک مرتبہ تو ان کا دماغ گھوم گیا۔ اُن کو اپنی آنکھوں کے سامنے تارے چمکتے ہوئے نظر آ رہے تھے لیکن جلد ہی انھوں نے اپنے اعصاب پر قابو پا لیا۔ آٹے دال وغیرہ کے بعد بیگم نے لکھا تھا، بیٹی کے جہیز کا سامان۔ کچھ دیر سوچتے رہے پھشکر۔‘‘ چیزوں کی قیمت لکھنے کے بعد جہیز کے سامنے لکھا ’’یہ اللہ کا کام ہے اللہ جانے۔‘‘
ایک دو مریض آئے ہوئے تھے۔ اُن کو حکیم صاحب دوائی دے رہے تھے۔ اسی دوران ایک بڑی سی کار اُن کے مطب کے سامنے آ کر رکی۔ حکیم صاحب نے کار یا صاحبِ کار کو کوئی خاص توجہ نہ دی کیونکہ کئی کاروں والے ان کے پاس آتے رہتے تھے۔
دونوں مریض دوائی لے کر چلے گئے۔ وہ سوٹڈبوٹڈ صاحب کار سے باہر نکلے اور سلام کرکے بنچ پر بیٹھ گئے۔ حکیم صاحب نے کہا کہ اگر آپ نے اپنے لیے دوائی لینی ہے تو ادھر سٹول پر آجائیں تاکہ میں آپ کی نبض دیکھ لوں اور اگر کسی مریض کی دوائی لے کر جانی ہے تو بیماری کی کیفیت بیان کریں۔
وہ صاحب کہنے لگے حکیم صاحب میرا خیال ہے آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ لیکن آپ مجھے پہچان بھی کیسے سکتے ہیں؟ کیونکہ میں ۱۵، ۱۶ سال بعد آپ کے مطب میں داخل ہوا ہوں۔ آپ کو گزشتہ ملاقات کا احوال سناتا ہوں پھر آپ کو ساری بات یاد آجائے گی۔ جب میں پہلی مرتبہ یہاں آیا تھا تو وہ میں خود نہیں آیا تھا۔ خدا مجھے آپ کے پاس لے آیا تھا کیونکہ خدا کو مجھ پر رحم آگیا تھا اور وہ میرا گھر آباد کرنا چاہتا تھا۔ ہوا اس طرح تھا کہ میں لاہور سے میرپور اپنی کار میں اپنے آبائی گھر جا رہا تھا۔ عین آپ کی دکان کے سامنے ہماری کار پنکچر ہو گئی۔
ڈرائیور کار کا پہیہ اتار کر پنکچر لگوانے چلا گیا۔ آپ نے دیکھا کہ میں گرمی میں کار کے پاس کھڑا ہوں۔ آپ میرے پاس آئے اور آپ نے مطب کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ادھر آ کر کرسی پر بیٹھ جائیں۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں۔ میں نے آپ کا شکریہ ادا کیا اور کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔
ڈرائیور نے کچھ زیادہ ہی دیر لگا دی تھی۔ ایک چھوٹی سی بچی بھی یہاں آپ کی میز کے پاس کھڑی تھی اور بار بار کہہ رہی تھی ’’چلیں ناں، مجھے بھوک لگی ہے۔ آپ اُسے کہہ رہے تھے بیٹی تھوڑا صبر کرو ابھی چلتے ہیں۔
میں نے یہ سوچ کر کہ اتنی دیر سے آپ کے پاس بیٹھا ہوں۔ مجھے کوئی دوائی آپ سے خریدنی چاہیے تاکہ آپ میرے بیٹھنے کو زیادہ محسوس نہ کریں۔ میں نے کہا حکیم صاحب میں ۵،۶ سال سے انگلینڈ میں ہوتا ہوں۔ انگلینڈ جانے سے قبل میری شادی ہو گئی تھی لیکن ابھی تک اولاد کی نعمت سے محروم ہوں۔ یہاں بھی بہت علاج کیا اور وہاں انگلینڈ میں بھی لیکن ابھی قسمت میں مایوسی کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا۔
آپ نے کہا میرے بھائی! توبہ استغفار پڑھو۔ خدارا اپنے خدا سے مایوس نہ ہو۔ یاد رکھو! اُس کے خزانے میں کسی شے کی کمی نہیں۔ اولاد، مال و اسباب اور غمی خوشی، زندگی موت ہر چیز اُسی کے ہاتھ میں ہے۔ کسی حکیم یا ڈاکٹر کے ہاتھ میں شفا نہیں ہوتی اور نہ ہی کسی دوا میں شفا ہوتی ہے۔ شفا اگر ہونی ہے تو اللہ کے حکم سے ہونی ہے۔ اولاد دینی ہے تو اُسی نے دینی ہے۔
مجھے یاد ہے آپ باتیں کرتے جا رہے اور ساتھ ساتھ پڑیاں بنا رہے تھے۔ تمام دوائیاں آپ نے ۲ حصوں میں تقسیم کر کے ۲ لفافوں میں ڈالیں۔ پھر مجھ سے پوچھا کہ آپ کا نام کیا ہے؟ میں نے بتایا کہ میرا نام محمد علی ہے۔ آپ نے ایک لفافہ پر محمدعلی اور دوسرے پر بیگم محمدعلی لکھا۔ پھر دونوں لفافے ایک بڑے لفافہ میں ڈال کر دوائی استعمال کرنے کا طریقہ بتایا۔ میں نے بے دلی سے دوائی لے لی کیونکہ میں تو صرف کچھ رقم آپ کو دینا چاہتا تھا۔ لیکن جب دوائی لینے کے بعد میں نے پوچھا کتنے پیسے؟ آپ نے کہا بس ٹھیک ہے۔ میں نے زیادہ زور ڈالا، تو آپ نے کہا کہ آج کا کھاتہ بند ہو گیا ہے۔
میں نے کہا مجھے آپ کی بات سمجھ نہیں آئی۔ اسی دوران وہاں ایک اور آدمی آچکا تھا۔ اُس نے مجھے بتایا کہ کھاتہ بند ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آج کے گھریلو اخراجات کے لیے جتنی رقم حکیم صاحب نے اللہ سے مانگی تھی وہ اللہ نے دے دی ہے۔ مزید رقم وہ نہیں لے سکتے۔ میں کچھ حیران ہوا اور کچھ دل میں شرمندہ ہوا کہ میرے کتنے گھٹیا خیالات تھے اور یہ سادہ سا حکیم کتنا عظیم انسان ہے۔ میں نے جب گھر جا کربیوی کو دوائیاں دکھائیں اور ساری بات بتائی تو بے اختیار اُس کے منہ سے نکلا وہ انسان نہیں کوئی فرشتہ ہے اور اُس کی دی ہوئی ادویات ہمارے من کی مراد پوری کرنے کا باعث بنیں گی۔ حکیم صاحب آج میرے گھر میں تین پھول اپنی بہار دکھا رہے ہیں۔
ہم میاں بیوی ہر وقت آپ کے لیے دعائیں کرتے رہتے ہیں۔ جب بھی پاکستان چھٹی آیا۔ کار اِدھر روکی لیکن دکان کو بند پایا۔ میں کل دوپہر بھی آیا تھا۔ آپ کا مطب بند تھا۔ ایک آدمی پاس ہی کھڑا ہوا تھا۔ اُس نے کہا کہ اگر آپ کو حکیم صاحب سے ملنا ہے تو آپ صبح ۹ بجے لازماً پہنچ جائیں ورنہ اُن کے ملنے کی کوئی گارنٹی نہیں۔ اس لیے آج میں سویرے سویرے آپ کے پاس آگیا ہوں۔
محمدعلی نے کہا کہ جب ۱۵ سال قبل میں نے یہاں آپ کے مطب میں آپ کی چھوٹی سی بیٹی دیکھی تھی تو میں نے بتایا تھا کہ اس کو دیکھ کر مجھے اپنی بھانجی یاد آرہی ہے۔
حکیم صاحب ہمارا سارا خاندان انگلینڈ سیٹل ہو چکا ہے۔ صرف ہماری ایک بیوہ بہن اپنی بیٹی کے ساتھ پاکستان میں رہتی ہے۔ ہماری بھانجی کی شادی اس ماہ کی ۲۱ تاریخ کو ہونا تھی۔ اس بھانجی کی شادی کا سارا خرچ میں نے اپنے ذمہ لیا تھا۔ ۱۰ دن قبل اسی کار میں اسے میں نے لاہور اپنے رشتہ داروں کے پاس بھیجا کہ شادی کے لیے اپنی مرضی کی جو چیز چاہے خرید لے۔ اسے لاہور جاتے ہی بخار ہوگیا لیکن اس نے کسی کو نہ بتایا۔ بخار کی گولیاں ڈسپرین وغیرہ کھاتی اور بازاروں میں پھرتی رہی۔ بازار میں پھرتے پھرتے اچانک بے ہوش ہو کر گری۔ وہاں سے اسے ہسپتال لے گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اس کو ۱۰۶ ڈگری بخار ہے اور یہ گردن توڑ بخار ہے۔ وہ بے ہوشی کے عالم ہی میں اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئی۔
اُس کے فوت ہوتے ہی نجانے کیوں مجھے اور میری بیوی کو آپ کی بیٹی کا خیال آیا۔ ہم میاں بیوی نے اور ہماری تمام فیملی نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنی بھانجی کا تمام جہیز کا سامان آپ کے ہاں پہنچا دیں گے۔ شادی جلد ہو تو اس کا بندوبست خود کریں گے اور اگر ابھی کچھ دیر ہے تو تمام اخراجات کے لیے رقم آپ کو نقد پہنچا دیں گے۔ آپ نے ناں نہیں کرنی۔ آپ اپنا گھر دکھا دیں تاکہ سامان کا ٹرک وہاں پہنچایا جا سکے۔
حکیم صاحب حیران و پریشان یوں گویا ہوئے ’’محمدعلی صاحب آپ جو کچھ کہہ رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہا، میرا اتنا دماغ نہیں ہے۔ میں نے تو آج صبح جب بیوی کے ہاتھ کی لکھی ہوئی چِٹ یہاں آ کر کھول کر دیکھی تو مرچ مسالہ کے بعد جب میں نے یہ الفاظ پڑھے ’’بیٹی کے جہیز کا سامان‘‘ تو آپ کو معلوم ہے میں نے کیا لکھا۔ آپ خود یہ چِٹ ذرا دیکھیں۔ محمدعلی صاحب یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ’’بیٹی کے جہیز‘‘ کے سامنے لکھا ہوا تھا ’’یہ کام اللہ کا ہے، اللہ جانے۔‘‘
محمد علی صاحب یقین کریں، آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ بیوی نے چِٹ پر چیز لکھی ہو اور مولا نے اُس کا اسی دن بندوبست نہ کردیا ہو۔ واہ مولا واہ۔ تو عظیم ہے تو کریم ہے۔ آپ کی بھانجی کی وفات کا صدمہ ہے لیکن اُس کی قدرت پر حیران ہوں کہ وہ کس طرح اپنے معجزے دکھاتا ہے۔
حکیم صاحب نے کہا جب سے ہوش سنبھالا ایک ہی سبق پڑھا کہ صبح ورد کرنا ہے ’’رازق، رازق، تو ہی رازق‘‘ اور شام کو ’’شکر، شکر مولا تیرا شکر
Photo

Post has shared content
ایک بار قائد اعظم محمد علی جناح سکول و کالج کے طلبا سے خطاب کر رہے تھے کہ ایک ہندو لڑکے نے کهڑے ہو کر آپ سے کہا کہ آپ ہندوستان کا بٹوارہ کر کے ہمیں کیوں تقسیم کرنا چاہتے ہیں , آپ میں اور ہم میں کیا فرق ہے۔۔۔؟

آپ کچھ دیر تو خاموش رہے , تو سٹوڈنٹس نے آپ پر جملے کسنے شروع کر دئیے , کچھ نے کہا کہ آپ کے پاس اس کا جواب نہیں , اور پهر ہر طرف سے ہندو لڑکوں کی ہوٹنگ اور قہقہوں کی آوازیں سنائی دے رہیں تھیں۔

قائد اعظم نے ایک پانی کا گلاس منگوایا , آپ نے تهوڑا سا پانی پیا پهر اسکو میز پر رکھ دیا , آپ نے ایک ہندو لڑکے کو بلایا اور اسے باقی بچا ہوا پانی پینے کو کہا , تو ہندو لڑکے نے وہ پانی پینے سے انکار کر دیا۔

پهر آپ نے ایک مسلمان لڑکے کو بلایا , آپ نے وہی بچا ہوا پانی اس مسلم لڑکے کو دیا , تو وہ فوراً قائد اعظم کا جوٹها پانی پی گیا۔
آپ پهر سب طلباء سے مخاطب ہوئے اور فرمایا , یہ فرق ہے آپ میں اور ہم میں .
ہر طرف سناٹا چھا گیا . کیونکہ سب کے سامنے فرق واضح ہو چکا تها۔
محمد علی جناح نے کبهی کسی کو گالی نہ دی اور نہ کبهی آپ نے بداخلاقی کی . آپ اپنی بات اس قدر ٹهوس دلائل سے پیش کرتے تهے کہ بڑے بڑے منہ میں انگلیاں دبا لیتے اور آپ کے سامنے لاجواب ہو جاتے۔

قائد اعظم سے لوگوں کی محبت کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی آپ سے ہاتھ ملا لیتا تو وہ خوشی سے پھولا نہ سماتا , اور سارا دن لوگوں کو بتاتا پهرتا کہ آج میں نے قائد اعظم سے ہاتھ ملایا ہے۔

جی ہاں ایسا تها ہمارا قائد
Photo

Post has shared content
ایک سفر میں غلام نے اونٹوں کو تیز دوڑایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستورات (خواتین) کا خیال رکھنے کے لئے ان الفاظ میں اشارہ فرمایا:
رُوَیدًا یَا اَنجَشَۃُ لَا تُکسِرِ القَوَارِیرَ
مسلم، کتاب الفضائل
"آہستہ اے انجشہ! آبگینوں کو توڑ نہ دینا"-

ذرا دھرے سے تم چلنا
کہ یہ تو آبگینے ہیں!
یہی وہ آبگینے ہیں___
کبھی ہو پیاس کی شدت تو یہ پانی پلاتے ہیں
کبھی سورج کی ہو حدّت تو یہ سایہ بناتے ہیں
یہ ہیں آنگن کے تارے جو ہمیشہ جگمگاتے ہیں
مکاں کو گھر بناتے ہیں
اِنھی میں وہ قرینے ہیں
کہ یہ تو آبگینے ہیں

یہی وہ آبگینے ہیں
کہ جو گھر بھر کی زینت ہیں
یہی آنکھوں کی ہیں ٹھنڈک
یہی فرحت بھی، راحت بھی
اِنھی سے رونقِ محفل
اِنھی سے حرمتِ محمل
بھری شاداب دنیا میں
یہی سر سبز اک حاصل
یہی جنت کے زینے ہیں
کہ ہیں یہ ماں
یہی بیٹی، یہی بہنا
یہی ہیں ہاتھ کا گہنا
محاذوں پر نکلو جو
____ کبھی پیروں کی بیڑی بھی!
بنیں پسلی سے ہیں یہ
اس لئے تھوڑی سی ٹیڑھی بھی!
مگر تم توڑ مت دینا
انھیں مستور ہی رکھنا
کہ عصمت کے نگینے ہیں
کہ یہ تو آبگینے ہیں!

کبھی سوچا بھی ہے تم نے
یہ کتنا دکھ اُٹھاتی ہیں؟
تمھاری زندگی کو کس طرح شاداں بناتی ہیں؟
تمھاری راہ کے کانٹے
یہ چُن لیتی ہیں پلکوں سے
سفر آساں بناتی ہیں
سنور جائیں اگر
اک نسل کا ایماں بناتی ہیں!
پھر اِن معصوم کلیوں کو
یہی بصری__
یہی سُفیاں بناتی ہیں!
۔
نظم : شہید احسن عزیز
۔
Photo

Post has shared content
سال کے بارہ مہینوں کی مثال.. جیسے یعقوبؑ کے بارہ بیٹےاولاد تو سب تھے،
لیکن یوسفؑ سے کچھ خاص ہی راز ونیاز!بارہ مہینوں میں رمضان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے!پھر جس طرح خدا نے اکیلے یوسفؑ کی دعاء پر ان
سب کو بخش دیااسی طرح رمضان کی برکت سے، وہ باقی گیارہ مہینوں کے
گناہ بخش دیتا ہے!اور دیکھو، کیا شان ہے یوسفؑ کی..گیارہ بیٹوں کے پاس
ہوتے ہوئے، صبح شام ان سے خدمت سیوا کراتے ہوئے، باپ اندھا ہو جاتا ہے۔ لیکن یوسفؑ کی ایک مہک ہی اس کی بینائی لوٹا دیتی ہے!
کوئی کوئی اولاد ایسی بھی ہوتی ہے!
استفادہ از ابن جوزیؒ
Photo

Post has shared content
ﯾﮧ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﭼﮭﻮﭨﯽ 40 ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮬﯿﮟ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻭﺍﺋﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺗﮏ ﺿﺮﻭﺭ ﭘﮩﻨﭽﺎﺋﯿﮟ ...... ﺟﺰﺍﮎ ﺍﻟﻠﮧ ...

💠 ﺍِﻧّﻤﺎ ﺍﻻَﻋْﻤَﺎﻝُ ﺑِﺎﻟﻨّﯿَّﺎﺕ
ﺍﻋﻤﺎﻝ ﮐﺎ ﺩﺍﺭﻭﻣﺪﺍﺭ ﻧﯿﺘﻮﮞ ﭘﺮ ﮬﮯ .

💠 ﺍَﻟﺼّﻠٰﻮﺓ ﻧُﻮﺭُ ﺍﻟﻤُﻮﻣِﻦِ
ﻧﻤﺎﺯ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﻧﻮﺭ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺼّﯿَﺎﻡُ ﺟُﻨّﺔٌ
ﺭﻭﺯﮦ ﮈﮬﺎﻝ ﮬﮯ

💠 ﺍِﻥّ ﺍﻟﺪِّﯾﻦَ ﯾُﺴْﺮ
ﺑﯿﺸﮏ ﺩﯾﻦ ﺁﺳﺎﻥ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺪِّﯾﻦُ ﺍﻟﻨَّﺼِﻴﺤَﺔُ
ﺩﯾﻦ ﺧﯿﺮﺧﻮﺍﮬﯽ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﻌَﯿﻦُ ﺣَﻖٌّ
ﻧﻈﺮِ ﺑﺪ ﺣﻖ ﮬﮯ

💠 ﻃَﻠَﺐُ ﺍﻟﻌِﻠﻢِ ﻓَﺮِﻳﻀَﺔٌ ﻋﻠﯽٰ ﮐُﻞِّ ﻣُﺴﻠِﻢٍ
ﻋﻠﻢ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﺎ ﮬﺮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﻓﺮﺽ ﮬﮯ

💠 ﺧَﯿﺮُ ﺍﻟﺤَﺪِﯾﺚِ ﮐِﺘَﺎﺏُ ﺍﻟﻠّٰﮧِ
ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﺑﺎﺕ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﮬﮯ

💠 ﻭَ ﺧَﯿﺮُ ﺍﻟﮭَﺪﯼِ ﮬَﺪﯼُ ﻣُﺤَّﻤﺪٍ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ
ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺤَﯿَﺎﺀُ ﻣِﻦَ ﺍﻻِﯾﻤﺎﻥِ
ﺣﯿﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﻌَﺠﻠَﺔُ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺸَّﻴﻄَﺎﻥ
ﺟﻠﺪ ﺑﺎﺯﯼ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺒِﺮُّ ﺣُﺴﻦُ ﺍﻟﺨُﻠﻖِ
ﻧﯿﮑﯽ ﺍﭼﮭّﮯ ﺍﺧﻼﻕ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﻄّﮭﻮﺭ ﺷَﻄﺮُ ﺍﻻِﯾﻤَﺎﻥِ
ﭘﺎﮐﯽ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺣﺼﮧ ﮬﮯ

💠 ﻣَﻦ ﺻَﻤَﺖَ ﻧَﺠَﺎ
ﺟﻮ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺭﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻧﺠﺎﺕ ﭘﺎﺉ

💠 ﻻ ﺗَﺴُﺒُّﻮﺍ ﺍﻻﻣﻮَﺍﺕ
ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑُﺮﺍﺉ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ

💠 ﻻَ ﺗَﺴﺌَﻠُﻮﻥَ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﺷَﯿﺌﺎً
ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﻣﺖ ﮐﺮﻭ

💠 ﺳَﻢِّ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻭَ ﮐُﻞ ﺑِﯿَﻤِﯿﻨِﮏ
ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﮬﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﺅ

💠 ﮐُﻞ ﻣِﻤَّﺎ ﯾَﻠِﯿﮏ
ﺍﭘﻨﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﮐﮭﺎﺅ

💠 ﻻَ ﯾَﺸﺮِﺑَﻦَّ ﺍَﺣَﺪٌ ﻣِﻨﮑُﻢ ﻗَﺎﺋِﻤﺎً
ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺉ ﺷﺨﺺ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﮐﺮ ﮬﺮﮔﺰ ﻧﮧ ﭘﯿﺌﮯ

💠 ﺍَﻟﺴِّﻮَﺍﮎُ ﻣَﻄﻬَﺮﺓٌ ﻟِﻠﻔَﻢ ﻭِ ﻣَﺮﺿَﺎﺓٌ ﻟِﻠﺮّﺏِّ
ﻣﺴﻮﺍﮎ ﮐﺮﻧﺎ ﻣﻨﮫ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺉ ﺍﻭﺭ ﺭﺏ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﻨﻮﺩﯼ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻟﺴَّﻼﻡُ ﻗَﺒﻞَ ﺍﻟﮑَﻼﻡِ
ﺳﻼﻡ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻓﺸُﻮﺍ ﺍﻟﺴَﻼﻡَ ﺑَﯿﻨَﮑُﻢ
ﺁﭘﺲ ﻣﯿﮟ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺭﻭﺍﺝ ﺩﻭ

💠 ﻛُﻞُّ ﻣَﻌﺮُﻭﻑٍ ﺻَﺪﻗَﺔ
ﮬﺮ ﻧﯿﮏ ﮐﺎﻡ ﺻﺪﻗﮧ ﮬﮯ

💠 ﺍِﻥَّ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺭَﻓِﯿﻖٌ ﯾُﺤِﺐُّ ﺍﻟﺮَّﻓِﯿﻖ
ﺑﯿﺸﮏ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻣﮭﺮﺑﺎﻥ ﮬﮯ ﻣﮭﺮﺑﺎﻧﯽ ﮐﻮ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ

💠 ﻻ ﺗُﻘﺒَﻞُ ﺻَﻠﻮٰﺓٌ ﺑِﻐَﻴﺮِﻃﻬُﻮﺭ
ﮐﻮﺉ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﺎﮐﯽ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮭﯿﮟ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ

💠 ﺍَﺣَﺐُّ ﺍﻟﺒِﻼﺩِ ﺍِﻟﯽٰ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻣَﺴَﺎﺟِﺪُﮬَﺎ
ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﺟﮕﮭﯿﮟ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﻣﺴﺠﺪﯾﮟ ﮬﯿﮟ

💠 ﺍَﺑﻐَﺾُ ﺍﻟﺒِﻼﺩِ ﺍِﻟﯽ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺍَﺳﻮَﺍﻗُﮭَﺎ
ﺑﺪﺗﺮﯾﻦ ﺟﮕﮭﯿﮟ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﮬﯿﮟ

💠 ﺗُﺤﻔَﺔُ ﺍﻟﻤُﻮﻣِﻦِ ﺍﻟﻤَﻮﺕ
ﻣﻮﺕ ﻣﻮﻣﻦ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﮬﮯ

💠 ﺍَﻧﺰَﻟُﻮﺍ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﻣَﻨَﺎﺯِﻟَﮭُﻢ
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﺒﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﻭ ﯾﻌﻨﯽ ﮬﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺎ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻧﮕﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﻮ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﺐ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮐﺮﻭ

💠 ﻻ ﯾَﺮﺣَﻢ ﺍﻟﻠّٰﮧُ ﻣَﻦ ﻻ ﯾَﺮﺣَﻢ ﺍﻟﻨَّﺎﺱ
ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﭘﺮ ﻣﮭﺮﺑﺎﻧﯽ ﻧﮭﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﺟﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﭘﺮ ﻣﮭﺮﺑﺎﻧﯽ ﻧﮭﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎ

💠 ﻻ ﻳَﺪﺧُﻞُ ﺍﻟﺠَﻨَّﺔ ﻗﺎﻃِﻊٌ
ﻗﻄﻊ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮭﯿﮟ ﺟﺎﺋﮯﮔﺎ

💠 ﻻ ﯾَﺤِﻞُّ ﻟِﻤُﺴﻠِﻢٍ ﺍَﻥ ﯾُﺮَﻭِّﻉَ ﻣُﺴﻠِﻤﺎُ
ﮐﺴﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﮈﺭﺍﻭﮮ

💠 ﻻ ﺗَﺤﻘِﺮَﻥَّ ﺷَﯿﺌﺎً ﻣِّﻦَ ﺍﻟﻤَﻌﺮُﻭﻑ
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﻧﯿﮑﯽ ﮐﻮ ﺣﻘﯿﺮ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﻮ

💠 ﺑَﻠِّﻐُﻮﺍ ﻋَﻨِّﯽ ﻭَﻟَﻮﺁﯾﮧ
ﭘﮩﻨﭽﺎﺅ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﮔﺮ ﭼﮧ ﺍﯾﮏ ﺁﯾﺖ ﮬﻮ

💠 ﻻ ﺍِﯾﻤَﺎﻥَ ﻟِﻤَﻦ ﻻ ﺍَﻣَﺎﻧَﺔَ ﻟَﻪ
ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻧﮭﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻧﺖ ﻧﮧ ﮬﻮ

💠 ﻭَﻻ ﺩِﯾﻦَ ﻟِﻤَﻦ ﻻ ﻋَﮭﺪَ ﻟَﮧ
ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺩﯾﻦ ﻧﮭﯿﮟ . ﻣﯿﮟ ﻋﮭﺪ ﻭ ﭘﯿﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﭘﺎﺱ ﻧﮭﯿﮟ

💠 ﺍَﻟﺘّﺎﺋِﺐُ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺬّﻧﺐِ ﮐَﻤَﻦ ﻻ ﺫﻧﺐَ ﻟَﮧ
ﮔﻨﺎﮬﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﯿﻄﺮﺡ ﮬﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺌﮯ ﮬﯽ ﻧﮧ ﮬﻮ

💠 ﻣَﻦ ﻟَﻢ ﯾَﺸﮑُﺮِ ﺍﻟﻨَّﺎﺱَ ﻟَﻢ ﯾَﺸﮑُﺮ ﺍﻟﻠّٰﮧ
ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﻭﮦ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺷﮑﺮ ﮔﺰﺍﺭ ﻧﮭﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ

💠 ﺯﯾِّﻨُﻮﺍ ﺍﻟﻘُﺮﺁﻥَ ﺑِﺎَﺻﻮَﺍﺗِﮑُﻢ
ﻗﺮﺁﻥ ﭘﺎﮎ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﺳﮯ ﻣُﺰﯾﻦ ﮐﺮﻭ

💠 ﺧَﯿﺮُﮐُﻢ ﻣَﻦ ﺗَﻌَﻠَّﻢَ ﺍﻟﻘُﺮﺁﻥ ﻭ ﻋَﻠَّﻤَﮧ
ﺗﻢ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺘﺮﯾﻦ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﮬﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﮭﺎﯾﺎ

Post has shared content
Wait while more posts are being loaded