Post has shared content
جیسے جیسے میری عمر میں اضافہ ہوتا گیا
مجھے سمجھ آتی گئی کہ اگر میں Rs. 3000 کی گھڑی پہنوں یا Rs. 30000 کی ، دونوں وقت ایک جیسا ہی بتائیں گی ۔۔ !
میرے پاس Rs. 3000 کا بیگ ہو یا Rs. 30000 کا ، اس کے اندر کی چیزیں تبدیل نہیں ہوں گی ۔۔ !
میں 300 گز کے مکان میں رہوں یا3000 گز کے مکان میں، تنہائی کا احساس ایک جیسا ہی ہوگا ۔۔ !
آخر میں مجھے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر میں بزنس کلاس میں سفر کروں یا اکانومی کلاس میں ، میں اپنی منزل پر اسی مقررہ وقت پر پہنچوں گی ۔۔ !
اس لئے اپنی اولاد کو مالدار ہونے کی ترغیب مت دیں بلکہ ان کو یہ سکھائیں کہ وہ خوش کس طرح رہ سکتے ہیں اور جب بڑے ہوں تو چیزوں کی قدر کو دیکھیں قیمت کو نہیں ۔۔۔۔۔۔
دل کو دنیا سے نہ لگاؤ کہ وہ فانی ہے
بلکہ آخرت سے چمٹ جاؤ کیونکہ وہ باقی رہنے والی ہے


Post has shared content

Post has shared content
۔ ہائی بزنس گیم، پہلے اسلحہ بیچتے پرامن معاشرہ کو برباد کرنا۔ پھر برباد شُدہ معاشرہ میں تعمیر و ترقی کا میلہ سجّانا۔
۔ عالمی ساہوکار خطہ میں بیروزگار و سستی افرادی قوت سے فائدہ تو اُٹھانا چاہتا ہے، مگر جوہری طاقت رکھنے والے مسلمانوں سے خوفزدہ ہے۔ اسی وجہ سے ساہوکار کی پہلی کوشش، ملک توڑ کر جوہری ہتھیار چھینے جائیں۔ دوسری کوشش، بلوچستان کو الگ کرنے کے بعد گوادر پر کام مکمل کیا جائے۔ تیسرا مجبوری کا پلان کہ جوہری ہتھیار سمیت، ان ناقابلِ تسخیر مسلمانوں سے کام لیتے، پورے خطہ پر برتری کیلئے ان کو مدد کرتے، بہت بڑا مسلم بلاک بناتے، کاروباری مفاد میں ان میں شامل ہو جائیں۔ کئی سال پہلے، خطہ میں مسلم یا غیرمسلم بڑا بلاک بنانا، ایک ہی کرنسی ہو، سارک ممالک اسی پلان کا حصّہ ہے۔
۔ درپردہ ساہوکار آقا کی ڈکٹیشن پر، بذریعہ دہشتگردی، ناکام ریاست بناتے، جوہری ہتھیار چھیننے، سوات تک کے سب فریبی بہانے فیل ہوئے۔ اُس کے بعد سے اب تک بلوچستان کو ملک سے الگ کرنے کی کوشش تیز ہوئی، مقابل عوامی و عسکری اتحاد نے دشمن کے دانت کھٹے کیئے۔
۔ مگر غور کرنے کا مقام ہے کہ پرانے سیاستدان، وفاق کی علامت پارٹیاں، جو اب صرف صوبائت پر ہی مرکوز ہیں، کیوں؟ غیرمحسوس و خاموشی کا طریقہ اختیار کرتے، سیاسی طور پر بلوچستان سے پیچھے ہٹنا، کیوں؟ اسی وجہ سے یہ عوام میں اب غیرمقبول ہو گئے ہیں۔
۔ باشعور عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں، کہ اِس گریٹ گیم میں ذاتی مفاد کیلئے، داخلہ عناصر کون کون ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں۔
Photo

Post has shared content

Post has shared content
سانحہ کربلا حقائق و واقعات (حصہ پنجم /5)

وہ حضرت نعمان بن بشیر رض کے پاس آئے اور آکر کہا کہ نعمان بن بشیر رض ! کوفہ یزید کی حکومت سے نکل جارہا ہے اور تو خاموشی سے تماشا دیکهے جارہا ہے مسلم بن عقیل رض کو گرفتار کر اور قتل کرکے ان کا صفایا کردے، حضرت نعمان رض کسی قیمت پر بهی اس اقدام کے لیے آمادہ نہ تهے،
یزیدی حکومت کے حامیوں کا وفد یہ سن کر یزید کے پاس پہنچا اور اسکو صورت حال سے آگاہ کیا،اور کہا کہ نعمان بن بشیر رض کسی طرح تیری حکومت کے مفادات پر آمادہ نہیں ہے،امام حسین رض کی آمد آمد ہے اور لوگ مسلم بن عقیل رض کے ہاته پر جوق در جوق بیعت کر رہے ہیں کوفہ و بصرہ بهی تیرے ہاته سے نکل جانے کو ہیں تو فورا اس کے لیے کوئی بندوبست کر..
یزید نے اس مسلے پر اپنے ایک خاندانی غلام سے مشورہ کیا ،جو حضرت معاویہ رض کا قابل بروسہ غلام تها اور یزید نے اسی غلام کی گود میں پرورش پائی تهی ،اس نے یزید کو مشورہ دیا کہ عبیداللہ ابن زیاد کو فورا بصرہ و کوفہ کی حکومت سپرد کردے اور نعمان بن بشیر رض کو معزول کردے تاکہ ابن زیاد اپنی سخت پالیسی کی وجہ سے اس سازش کو کچل دے... یزید نے یہ مشورہ پسند کرتے ہوئے حضرت نعمان بن بشیر رض کو معزول کرکے ابن زیاد کو گورنر نامزد کردیا.
ابن زیاد ملعون کا کوفہ میں داخلہ
ابن زیاد بصرہ کا گورنر تها کوفہ میں شعیان علی رض و امام حسین رض کا زور توڑنے کے لیے یزید نے اسے کوفہ کا بهی گورنر اور حکم نامہ بهیجا کہ فورا کوفہ پہنچ کر وہاں کے حالات کو قابو میں لاو.
جس دن بصرہ میں ابن زیاد کو یہ حکم نامہ ملا اسی دن بصرہ میں امام حسین رض کا قاصد بهی آپ کا خط لے کر پہنچا مگر وہ گرفتار کرلیا گیا.
ابن زیاد نے لوگوں کو مرعوب و خوفزردہ کرنے کے لیے ایک جلسہ عام کا اہتمام کیا جب لوگ اکٹهے ہوگئے تو گرجا !
اے لوگو ! مجهے پہچاننے کی کوشیش کرو ،میں خونخوار سفاک کا بیٹا ہوں میرا باپ سفاک تها اور میں بهی سفاک ہوں جو شخص یزید کی بیت و حکومت سے روگردانی کریے گا اور امام حسین رض اور مسلم بن عقیل رض کی بیعت کی بات کریں گا میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا....
خبردار ! سردست میں شہر بصرہ اپنے بهائی کے سپرد کرکے جارہا ہوں تاکہ مسلم بن عقیل رض کا صفایا کرسکوں اور تمہیں تبیہ کئے جارہا ہوں کہ یزید کی بیعت سے کوئی شخص انکار نہ کرے وگرنہ اس کے حق میں اچها نہیں ہوگا پهر اس نے اس قاصد کو بلایا جو حضرت امام حسین رض کا خط لے کر آیا تها مجمع عام میں کهڑے ہوکر تلوار بےنیام کرکے اس قاصد کا سر قلم کردیا اور خود کوفہ کی طرف روانہ ہوگیا..
جب وہ کوفہ پہنچا تو اس کیساته پانچ سو آدمیوں کا لشکر تها قادسیہ کے مقام پر باقی لوگوں کو چهوڑ کر سو افراد کو ساته لیا اور اپنا لباس اتار کر حجازی لباس پہنا چہرہ کپڑے میں چهپا لیا ،تاکہ لوگوں کو مغالطہ ہو کہ امام حسین رض آگئے ہیں پهر وہ مغرب اور عشاء کے درمیان کوفہ میں داخل ہوا جہاں لوگ حضرت امام حسین رض کی آمد کے منتظر تهے اور حسرت بهری نگاہوں سے انکی راہ دیکه رہے تهے،جب شام کے اندهیرے میں عبیداللہ ابن زیاد چہرے پر کپڑا ڈالے آیا تو لوگ غلط فہمی کا شکار ہوگئے انہوں نے سمجها کہ شائد حسین ابن علی رض آگئے ہیں وہ جوق در جوق اس کے پاس آنے لگے کوفہ کے گلی کوچوں میں آوازیں بلند ہونا شروع ہوئی مرحبا بکم اسلام علیک یا ابن رسول!.......(جاری ہے........)

بحوالہ :شہادت امام حسین رض حقائق و واقعات کی روشنی میں
#سانحہ_کربلا
#اہل_کوفہ_کی_جوق_در_جوق_بیت
#حضرت_امام_عالی_مقام _کا_خط
#امام_عالی_مقام
#اہل_کوفہ_کا_اولہانہ_استقبال
#کوفہ_کے_گورنر_کی_معزولی
#عبیداللہ_ابن_زیاد_کا_تقرر
#قاصد_امام_حسین_کا_قتل


Post has shared content
ﺣﺴﺪ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺩﻋﺎ
ﻟﻄﯿﻔﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﻏﺮﯾﺐ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﺗﻬﺎ - ﻭﻩ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﮩﺖ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﻬﺎ - ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﺍﮐﺒﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺟﺎﻭ - ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺑﮩﺖ ﭘﯿﺴﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﻩ ﮨﺮ ﻣﺎﻧﮕﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ - ﻭﻩ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺑﻬﯽ ﺿﺮﻭﺭ ﺩﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﻌﺎﺷﯽ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﺣﻞ ﻫﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ - ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮐﺒﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ - ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺧﺪﺍ ﻧﮯ - ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﭘﻬﺮ ﮨﻢ ﺑﻬﯽ ﺧﺪﺍ ﮨﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ - ﻫﻢ ﺍﮐﺒﺮ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ -
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻭﻩ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﺯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻬﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻼ ﺍﻭﺭ ﺳﻨﺴﺎﻥ ﺟﻨﮕﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻼ ﮔﯿﺎ - ﻭﮨﺎﮞ ﺟﺎ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﯿﻼ ﮐﭙﮍﺍ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺑﭽﻬﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﻬﮧ ﮐﺮ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﺎ - ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺎ : ﺍﮮ ﺍﮐﺒﺮ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ، ﻣﺠﻬﮯ ﺑﻬﯽ ﺩﯾﺪﮮ - ﻭﻩ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ - ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻭﻩ ﻓﺎﺭﻍ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﭙﮍﺍ ﺍﭨﻬﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺍﺷﺮﻓﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻬﺮﯼ ﻫﻮﺋﯽ ﺗﻬﯿﻠﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﻬﯽ - ﯾﮧ ﻟﻄﯿﻔﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺩﻣﺎﻍ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﻧﭽﮯ ﭘﮍﻫﮯ ﻟﮑﻬﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﻌﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺩﺍﺭ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺳﻄﺢ ﭘﺮ ﺑﻬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﺰﮐﻮﺭﻩ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﺁﺩﻣﯽ ﺗﻬﺎ -
ﺁﺝ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺑﻬﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﻬﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺁﺩﻣﯽ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﻫﮧ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ، ﺧﻮﺍﻩ ﯾﮧ ﺑﮍﻫﻨﺎ ﻣﺎﻝ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﻫﻮ ﯾﺎﺣﯿﺜﯿﺖ ﮐﮯ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﺳﮯ، ﺗﻮ ﻓﻮﺭﺍ ﻭﻩ ﺣﺴﺪ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﻫﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ - ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﻫﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﻧﻔﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﻦ ﮐﯽ ﮐﺒﻬﯽ ﻧﮧ ﺧﺘﻢ ﻫﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺁﮒ ﺑﻬﮍﮎ ﺍﭨﻬﺘﯽ ﮨﮯ - ﺣﺴﺪ ﺍﻭﺭ ﺟﻠﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﻫﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻟﻮﮒ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﻬﯿﮟ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺟﻮ ﮐﭽﻬﮧ ﻣﻼ ﮨﮯ ﻭﻩ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺩﯾﺌﮯ ﺳﮯ ﻣﻼ ﮨﮯ، ﻭﮨﯽ ﮐﻢ ﺑﻬﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯽ ﺯﯾﺎﺩﻩ ﺑﻬﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ،ﺗﻮ ﻭﻩ ﺑﻬﯽ ﻭﮨﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﻮ ﻣﺰﮐﻮﺭﻩ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ - ﻭﻩ ﭘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﻭﮌﯾﮟ - ﻭﻩ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﭘﮑﺎﺭﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺗﻮﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﻬﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺗﻮ ﻣﺠﻬﮯ ﺑﻬﯽ ﺩﯾﺪﮮ - ﺍﮔﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﻣﺰﺍﺝ ﺁ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﻤﺎﺝ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺮﺍﺋﯿﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺧﺘﻢ ﻫﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ -
ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﮍﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﻬﮧ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻤﯽ ﮐﺎ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺍﺑﻬﺮﻧﺎ ﺑﺬﺍﺕ ﺧﻮﺩ ﺍﯾﮏ ﻓﻄﺮﯼ ﺟﺬﺑﮧ ﮨﮯ - ﺍﺱ ﺟﺬﺑﮧ ﮐﺎ ﺭﺥ ﺍﮔﺮ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻫﻮ ﺗﻮ ﻭﻩ ﺻﺤﯿﺢ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﺥ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻫﻮ ﺗﻮ ﻏﻠﻂ -
ﺣﮑﻤﺖ ﺍﺳﻼﻡ
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻭﺣﯿﺪﺍﻟﺪﯾﻦ ﺧﺎﻥ

Post has shared content

Post has shared content
احساسِ ندامت نے میرے سارے حواس مجھ سے چھین لیے، صرف ایک ہی سوال تھا جو دل و دماغ میں اٹھتے طوفانوں میں میری روح کو جکڑے ہوئے تھا۔
"مالک۔۔۔ ! اور کتنی سزا باقی ہے؟"
"عقیلہ بانو۔۔۔ ! آج جس دوہرائے پہ تم کھڑی ہو اسکی ذمہ دار تم خود ہو" اپنے اندر سے اٹھتی یہ آواز میری براداشت سے باہر تھی۔ میں دیوار کی ٹیک لگائے اسپتال کے کوریڈور میں فرش پہ ہی بیٹھ گئی۔ نسیماں کی درد بھری چیخیں میرے کانوں میں پڑتی رہیں اور میرا جسم میرے حواس کی طرح ساکت ہوچکا تھا۔
ملک صاحب بڑے چاؤ سے کہتے کہ عقیلہ بانو جب سے تم سے شادی ہوئی ہے میری تو قسمت کو چار چاند لگ گئے ہیں۔ تم میرے لیے خوش نصیب ثابت ہوئی ہو، اور انکی یہ باتیں سن کے میرے پاؤں زمیں پہ نہ پڑتے تھے میں اپنے آپکو عام عورتوں سے بہت اونچا محسوس کرتی۔ ہمارے پاس اللہ کا دیا سب کچھ تھا۔ اولاد، دولت اور عزت سب سے خدا نے خوب نوازا تھا۔ ملک صاحب بڑے اہل ترس انسان تھے، کسی کو تکلیف میں نہ دیکھ پاتے۔ ضروت کے وقت ہر اپنے بیگانے کی مدد کرتے۔ انکی شروع سے یہی عادت رہی کہ جب بھی کسی کی مدد کرکے خوشی محسوس ہوتی تو مجھے آکے بتاتے تھے۔ اور اس چیز کا میرے اوپر دو طرح سے اثر ہوتا، ایک تو یہ خوشی ہوتی کہ خاوند کچھ نہیں چھپاتا اور دوسرا آس پاس کی عورتوں میں میری ناک اونچی ہوجاتی۔
ایک دن ایسا ہوا کہ خلافِ معمول ملک صاحب گھر دیر سے پہنچے، میں نے وجہ دریافت کی بجائے کوئی تسلی بخش جواب دینے کے وہ سو گئے۔ پوری رات میں نے پریشانی میں گزاری ، انکا ایسا روّیہ میں نے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ صبح اٹھتے ہی میں نے ڈرائیور کو بلایا اور گزشتہ دن کے پوری رپورٹ طلب کی ، پتا چلا کے گھر آنے سے پہلے وہ ماسٹر جی کی بیوہ نسیماں کے ہاں کافی دیر رکے۔ یہ بات میرے لیے کافی عجیب تھی، اس سے پہلے کبھی ایسا نہ ہوا کہ وہ کوئی چیز ایسے چھپائیں مجھ سے، میں نے شام تک انکے نسیماں کے ہاں جانے کی وجہ بھی پتا کرلی۔ نسیماں کا بیٹا کافی بیمار تھا ، وہ اسکی تیمار داری کے لیے وہاں گئے اور علاج کے لیے کچھ پیسے بھی دے آئے۔
شام میں ملک صاحب گھر لوٹے تو میرا روّیہ کافی روکھا تھا، میں اس بات پہ خفا تھی کہ ابھی تک انھوں نے یہ بات مجھ سے کیوں چھپا رکھی ہے۔ لیکن انھیں میری اس خفگی کا بالکل احساس نہ ہوا۔ کچھ دن گزرے تو علاقے کی عورتوں نے محفل میلاد کی تقریب کا انتظام کیا، میں بطور مہمانِ خصوصی مدعو تھی۔
عورتوں کے جھرمٹ میں بیٹھی، میں ملک صاحب کے نام کی شیخیاں بھگار رہی تھی ۔ اپنے زیور اور قیمتی کپڑوں کی نمائش کرتے کرتے میری نظر سامنے گزرنے والی عورت پہ پڑی
"یہ نسیماں جارہی ہے نا؟ " میں نےساتھ والی عورتوں سے پوچھا
"ہاں بی بی ۔۔۔ یہ اپنی نسیماں ہی تو ہے، ماسٹر جی کی بیوہ" پاس بیٹھی عورت نے تیوری چڑھا کے جواب دیا
"اے لو بھئی، کیا زمانہ آگیا ہے، لوگ کتنے بے دید ہوچکے ہیں" میں نے جان بوجھ کے گرج دار آواز میں کہا ، آگے جاتی نسیماں وہیں رکی اور پیچھے مڑی
"کیوں بی بی ۔۔۔ َ کیا ہوا" عورتیں کی سوالیہ نظریں میری طرف اٹھیں
اتنے میں نسیماں میرے سامنے آکے کھڑی ہوئی اور سلام کیا۔
"بے دھیانی میں آپکی موجودگی کا احساس نہ ہوا، معاف کیجے گا" وہ سر جھکا کے بولی
"ملک صاحب کو گھر بلا کے پیسے اینٹھنے کا دھیان تو تھا تمہیں، پر یہ دھیان نہ رہا کہ کے جا کے بی بی کا بھی شکریہ ادا کر آؤں" میں نے سیدھا اسکے کلیجے پہ وار کیا ، اور اسکی وہ ذلت بھری حالت دیکھ کے کئی دن بعد دل کو سکوں پہنچا تھا۔ وہ بناکوئی جواب دیے وہاں کھڑی رہی اور آس پاس کی عورتوں نے اس پہ سوال داغنہ شروع کیے۔ جب بات برداشت سے باہر ہوئی تو وہ وہاں سے چل دی
نسیماں پہ دل کی بھڑاس نکال کہ میں سکوں میں آگئی اور ملک صاحب سے بھی خفگی جاتی رہی۔ اگلے دن شام میں گھر کے لان میں ملک صاحب اور میں باتوں میں مشغول تھے۔ ملک صاحب نے اپنی زندگی کی کل کمائی ایک فیکٹری بنانے میں لگا دی۔ کچھ دن پہلے ہی فیکٹری چلنا شروع ہوئی تھی، آجکل وہ بے حد خوش تھے۔ ہمیں باتیں کرتے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ نسیماں تیز تیز چلتی ہمارے پاس آکے کھڑی ہوگئی، اسکا ایسے منہ اٹھا کے چلے آنا مجھے بالکل پسند نہ آیا۔ ملک صاحب کی وجہ سے میں خاموش رہی۔ اس نے سلام کیا اور ہاتھ میں پکڑا لفافہ ملک صاحب کی طرف بڑھایا۔ اس لفافے میں وہ رقم تھی جو کچھ دن پہلے ملک صاحب اسے اسکے بیٹے کے علاج کے لیے دے آئے تھے۔ ہم دونوں کی سوالیہ نظریں اسکی طرف اٹھ گئیں
"ملک صاحب ۔۔۔ ! ایسا احسان نہیں چاہیے جس میں ذلت کے سمندر میں ڈبکیا ں کھانی پڑیں۔ یہ بات سچ ہے کہ مجھے ان پیسوں کی سخت ضرورت ہے اور اسی شرط پہ ہی میں نے آپ کی مدد لینے کی حامی بھری تھی کہ آپ عقیلہ بی بی سے اسکا ذکر نہیں کریں گے، لیکن آپ نے وہی کیا۔ سالوں سے میں نے اور میرے مرحوم شوہر نے جو ایک عزت کمائی تھی ساری خاک میں مل گئی۔ آپ اپنا یہ احسان واپس لےلیں اللہ پاک ہمیں اور وسیلہ فراہم کردے گا"
یہ کہہ کہ وہ چلی گئی اور ملک صاحب کی نظریں میرے چہرے پہ مرکوز ہو گئیں۔ میں نے اس سے پہلے انکی آنکھوں میں ایسا غصہ نہیں دیکھا تھا۔ انکے غصے کی تاب نہ لاتے ہوئے میں نے ساری بات انھیں بتادی۔ وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے
"میں ایک بد بخت انسان ہوں جسے تمہارے جیسی شریک حیات ملی ہے۔ میں کتنا بے وقوف ہوں چپ چاپ لوگوں کی مدد کرکے آتا ہوں اور آکے تمہیں بتا دیتا ہوں۔ اور تم میری اس نیکی کا ایسا ڈھنڈورا پیٹتی ہوکہ میرا اچھا کام بھی مجھ پہ لعنت بن کے برستا ہے۔ تم نے میری ہر نیکی خاک میں ملا دی۔ شائد نسیماں نے اسی لیے شرط رکھی تھی کہ میں تمہیں کچھ نہ بتاؤں ، اور میں نے نہیں بتایا، پر تم نے پھر بھی پتا کرکے اپنا کام پورا کیا"
کہتے ہیں تکبر خدا کو بالکل پسند نہیں اور جب وہ اسکی سزا دینے پہ آتا ہے تو سب کچھ برباد کرکے رکھے دیتا ہے۔ میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ نسیماں والے واقعہ کو چند دن ہی گزر ے تھے ، ملک صاحب کی فیکٹری میں آگ لگ گئی، اور سب کچھ خاک ہوگیا۔ وہ یہ صدمہ برداشت نہ کر پائے ، انھیں فالج کا اٹیک ہوا اور بستر سے جا لگے۔ مجھے پچھتاوے نے تب آکے گھیرا جب سب تباہ ہوچکا تھا۔ میں اپنی خطا کی معافی مانگنے نسیماں کے گھر پہنچی تو پتا چلا کہ وہ اپنے بیٹے کے علاج کے لیے شہر روانہ ہوچکی ہے۔ اب کون جانے کس اسپتال میں ہو۔ میں نے ہر ممکن کوشش کی کہ اسکا کہیں سے پتا چلے، بالآخر مجھے اس اسپتال کا پتہ ملا گیا جہاں نسیماں کا بیٹا داخل تھا۔ میں نسیماں کے لوٹائے وہ پیسے جو اب بھی میرے پاس پڑے تھے، ساتھ لیے اور شہر پہنچ گئی۔ لوگوں سے پوچھتے پوچھتے بالآخر میں اس کے وارڈ میں پہنچی۔ میں نے وارڈ کے اندر قدم رکھنا ہی چاہا پر سامنے والے منظر نے مجھے وہیں ساکت کردیا۔
نسیماں کا بیٹا گزر چکا تھا ، لاش سٹریچر پہ پڑی تھی اور وہ اسکے پاس بیٹھی بین کررہی تھی۔
میں آگے نہ جا سکی، دیوار کا سہارا لیے فرش پہ بیٹھ گئی۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔

"تکبر وہ بربادی ہے جسے انسان اپنے ہاتھوں سے نصیب کا حصہ بناتا ہے"

ا
Photo

Post has shared content
جن لڑکیوں یا خواتین کے بھائی یا بیٹے جوان ہوجائیں، اُن کا ایک ’پسندیدہ.مشغلہ“ اپنے بھائی بیٹے کے لئے ”لڑکی دیکھنے“ جانا ہے۔ ایسا کرتے ہوئے شادی شدہ خاتون یہ بھول جاتی ہیں کہ اس مرحلہ پر ان کے ساتھ کیا ”بیتا“ تھا۔ یا پھر وہ لاشعوری طور پر اپنے ساتھ ہونے والے ”مظالم“ کا ”بدلہ“ لینے گھر گھر لڑکیاں دیکھتی اور مسترد کرتی جاتی ہیں۔ ہمارے معاشرے کا ”المیہ“ یہ ہے کہ ایسے موقع پر غیر شادی شدہ لڑکیاں بھی اپنی امیوں کے ساتھ پیش پیش رہتی ہیں اور انہیں یہ ذرا بھی خیال نہیں ہوتا کہ اُن کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوگا، جو وہ دوسری لڑکیوں کے ساتھ کر تی پھر رہی ہیں۔ یہ وہ واحد ”وقوعہ“ ہے جس میں ظالم بھی خواتین ہوتی ہیں اور مظلوم بھی خواتین۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ نہ تم خود دوسروں پر ظلم کرو اور نہ دوسروں کو اپنے اوپر ظلم کرنے دو۔ کیا ہماری خواتین اس حدیث پر عمل کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر ہیں تو مندرجہ ذیل نکات کو بغور پڑھئے۔ شاید کہ آپ کے دل میں اتر جائے اس احقر کی بات

ہمارے ہاں یہ "روایت" سی بن گئی ہے کہ رشتہ صرف لڑکے والے ہی بھیجیں گے۔ لڑکی والے صرف "رشتوں کا انتظار" کریں گے۔ اسلام میں ایسی کوئی "پابندی" نہیں ہے۔ رشتہ یا پروپوزل لڑکے والے بھی بھیج سکتے ہیں اور لڑکی والے بھی۔ بلکہ اگر لڑکا اور لڑکی دونوں کا ایک دوسرے سے (جائز) معاشرتی رابطہ یا کمیونی کیشن ہے تو دونوں میں سے کوئی بھی براہ راست یا کسی کی معرفت دوسرے کو "اپنی پسند سے آگاہ" سے آگاہ کرسکتا ہے۔ اور مثبت جواب کی صورت میں اپنے والدین کو ایک دوسرے کے گھر بھیج سکتا ہے۔
رشتہ کے لئے لڑکی "دیکھنے" جارہے ہیں۔ دراصل یہ فقرہ ہی غلط اور "فتنہ کی جڑ " ہے۔ جب ہم کسی کو "دیکھنے" جاتے ہیں تو پھر وہی سب کچھ "لازماً" ہوگا، جو اس وقت ہو رہا ہے ۔ صرف پہلی لڑکی کو دیکھ کر تو اسے سیلیکٹ نہیں کیا جاسکتا۔ لازماً کئی لڑکیوں کو مسترد کیا جائے گا تب کسی ایک کو سیلیکٹ کیا جائے گا۔ اور لڑکی کو "دیکھنے" کا عمل بھی "چیزوں کو دیکھنے" سے ملتا جلتا ہوگا۔
ہم رشتہ کے لئے لڑکیوں کو "دیکھنے" کا سلسلہ ہی ختم کردیں۔ تاکہ لڑکیوں کی عزت نفس مجروح نہ ہو، اول دیکھے جانے کے وقت اور بعد ازاں "مسترد" کئے جانے پر۔
اس کی بجائے ہم (رشتہ کی نیت سے) لڑکیوں سے اور اُن کے اہل خانہ سے "ملنے" جایا کریں، مہمان بن کر۔ جب ہم کسی کے گھر مہمان بن کر اُن سے ملنے جائیں گے تو ہمارا "رویہ" ازخود مہذبانہ ہوگا، جیسا کہ عام میل ملاقات کے دوران ہوتا ہے۔ جاننے والے گھروں میں تو ہم آتے جاتے ہی رہتے ہیں۔ اس معمول کے آنے جانے کے دوران ہی "رشتہ کی نیت سے" از سر نو لڑکی اور اس کے اہل خانہ سے "ملاقات کرلیا کریں، انہیں اپنی "نیت" بتلائے بغیر۔ اور جب رشتہ "پسند" آجائے تو براہ راست یا کسی کی معرفت لڑکی کے والدین تک اپنا ارادہ پہنچا دیں۔ "مثبت ردعمل" کی صورت میں رسمی طور پر بات چیت کی جاسکتی ہے۔
نہ جاننے والے گھروں کا اتہ پتہ کوئی "تیسرا" بتلایا کرتا ہے، جو اس گھرانے سے عموماً واقف ہوتا ہے۔ لہٰذا اس "تیسرے فرد" کی معرفت کسی بھی دیگر مناسب "موقع" پر رشتہ کی نیت سے (مگر لڑکی والوں کو بتلائے بغیر) ان کے گھر جایا اور لڑکی اور اہل خانہ سے ملا جاسکتا ہے۔یا پھر کسی تیسری جگہ جیسے کسی شادی بیاہ یا دیگر تقریب میں، یا کسی سیر و تفریح کے موقع پر لڑکے اور لڑکی والوں کو "اچانک ملوایا" جاسکتا ہے۔جہاں "دونوں گھرانے" ایک دوسرے سے تفصیلاً مل لیں۔ پسندیدگی کی صورت میں رسمی ملاقاتیں جاری رہ سکتی ہیں۔
کہنے کا مطلب یہ کہ جب تک رشتہ مکمل طور پر "سیلیکٹ" نہ کرلیا جائے، اُس وقت تک لڑکی اور لڑکی کے گھرانے کو یہ نہ بتلایا جائے کہ ہم اس نیت سے آپ سے "مل" رہے ہیں۔ "بغیر بتلائے ملنے" کی صورت میں لڑکے والوں کا "فائدہ" یہ ہوگا کہ وہ لڑکی اور لڑکی گھر والوں کو ان کی "اصل صورت" میں دیکھ سکیں گے۔ اور اس ملاقات میں وہ "مصنوعی پن" نہیں ملےگا، جیسا کہ عام طور پر رشتہ کے لئے لڑکی دیکھے جانے کے موقع پر لڑکی والے "اختیار" کرلیتے ہیں۔

Photo

Post has shared content
'' خوفِ خدا کی وجہ سے دو جنّتیں ''

یحییٰ بِن ایوب الخزاعی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اس سے سُنا جو حضرت عُمر بِن الخطاب رضی اللّہ عنہُ کے زمانہ کے واقعات بیان کرتا تھا۔اس نے کہا:
ایک نوجوان مسجد میں عِبادت کو لازم رکھا ہُوا تھا اور حضرت عُمر رضی اللّہ عنہُ اس کی اکثر عِبادت پر حیران ہوتے تھے۔اس نوجوان کا ایک بوڑھا باپ تھا،جب وہ عِشاء کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتا تو اپنے والد کی طرف جاتا تھا اور اس کے راستہ میں ایک فاحشہ عورت کا دروازہ تھا،وہ عورت اس کو اپنی جانِب مائل کرتی تھی اور گُناہ پر اُکساتی تھی۔ایک رات وہ اس کے پاس سے گُزرا،وہ عورت مسلسل اس کو اپنے ساتھ چلنے پر اُکساتی رہی۔حتیٰ کہ وہ اس کے ساتھ گیا۔جب دروازہ میں داخل ہُوا تو اس کو اللّہ عزوَجل کا گُناہ سے منع فرمانا یاد آیا اور اس کی زبان پر یہ آیت جاری ہو گئی:

ﺍِﻥَّ ﺍﻟَّـﺬِﻳْﻦَ ﺍﺗَّﻘَﻮْﺍ ﺍِﺫَﺍ ﻣَﺴَّﻬُـﻢْ ﻃَـﺂﺋِﻒٌ ﻣِّﻦَ ﺍﻟﺸَّﻴْﻄَﺎﻥِ ﺗَﺬَﻛَّﺮُﻭْﺍ ﻓَﺎِﺫَﺍ ﻫُـﻢْ ﻣُّﺒْﺼِﺮُﻭْﻥَ۔

'' ﺑﮯ ﺷﮏ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻄﺮﮦ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻭﮦ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﺮ ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐُﮭﻞ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ- ''

( سورۃ الاعراف،آیت : 201 )

سو وہ نوجوان بے ہوش ہو کر گِر پڑ،اس عورت نے اپنی باندی کو بُلایا اور وہ دونوں مِل کر اس نوجوان کو اس کے دروازہ پر چھوڑ آئیں۔ادھر اس کا باپ اب تک نہ آنے کی وجہ سے پریشان تھا۔وہ اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے کے لیے نِکلا تو اس کا بیٹا دروازہ پر بے ہوش پڑا تھا۔اس نے اپنے بعض گھر والوں کو بُلایا اور اس کو اُٹھا کر لے گئے اور گھر میں داخل کر دیا۔جب رات کا کچھ حِصّہ گُزرنے کے بعد وہ نوجوان ہوش میں آیا تو اس نوجوان کے باپ نے اس سے پوچھا:
'' اے میرے بیٹے کیا ہُوا؟ ''
تو اس نوجوان نے پورا واقعہ بیان کِیا۔اس کے باپ نے پوچھا:
'' تم نے کون سی آیت پڑھی تھی؟ ''
اس نوجوان نے وہ آیت دوبارہ پڑھی اور آیت پڑھتے ہی بے ہوش ہو کر گِر گیا،گھر والوں نے اس کو ہِلایا جُلایا لیکن وہ فوت ہو چُکا تھا۔انہوں نے اس کو غُسل دیا اور اس کو گھر سے باہر لے گئے اور رات میں اس کو دفن کر دیا۔جب صُبح ہوئی تو حضرت عُمر رضی اللّہ عنہُ تک یہ خبر پہنچی۔پس حضرت عُمر رضی اللّہ عنہُ اس کے باپ کے پاس تعزیت کرنے کے لیے تشریف لائے اور فرمایا:
" آپ نے مجھے کیوں نہیں خبر دی؟ ''
اس کے والد نے کہا:
'' رات کا وقت تھا۔ ''
پِھر حضرت عُمر رضی اللّہ عنہُ نے فرمایا:
'' مجھے اس نوجوان کی قبر پر لے چلو۔ ''
پس حضرت عُمر رضی اللّہ عنہُ اور ان کے رفقاء اس نوجوان کی قبر پر گئے۔پس حضرت عُمر رضی اللّہ عنہُ نے فرمایا:
اے فلاں!

ﻭَﻟِﻤَﻦْ ﺧَﺎﻑَ ﻣَﻘَﺎﻡَ ﺭَﺑِّﻪِ ﺟَﻨَّﺘَﺎﻥِ۔

'' جو مُسلمان اللّہ کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرے اور گُناہ ترک کر دے تو اس کے لیے دو جنّتیں ہیں۔ ''

( سورۃ الرحمٰن : آیت 46 )

تو اس نوجوجوان نے قبر کے اندر سے جواب دیا:
'' اے عُمر ( رضی اللّہ عنہُ )! میرے ربّ عزوَجل نے مجھے دو مرتبہ دو جنّتیں عطا فرما دی ہیں۔ ''

حوالہ جات:-

( تاریخِ دمشق الکبیر،جزو،48،صفحہ 307 داراحیاءالتراث العربی،بیروت،1421ھ )

( تفسِیرالقرآن العظیم،صفحہ 804،دارالکتاب العربی،بیروت،1432ھ )

( شعب الایمان،جِلد 1،صفحہ 468،469 )

( الدرالمنثور،جِلد 6،صفحہ 147 )

تفسِیر تِبیانُ الفُرقان ( جِلد دوم )
صفحہ = 654
مُفَسِّر = علامہ غلام رسول سعیدی دامت برکاتہم العالیہ
Wait while more posts are being loaded