Post has shared content
خطبۂ حج کا مکمل اردو ترجمہ
خطیبِ حج:
فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر سعد بن ناصر بن عبد العزیز الشثری﷾
ترجمہ:
محمد عاطف الیاس
نظر ثانی:
حافظ یوسف سراج
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
حمدوثنا اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ وہی رحمٰن اور رحیم ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے، صحت اور تندرستی سے نواز دیتا ہے۔ ہم اللہ کی بے شمار نعمتوں پر اس کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں۔ وہی کریم اور بہت عطا کرنے والا ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ وہ واحد ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ خیانت کرنے والوں کو ناپسند کرتا ہے۔ میں یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، آپ بڑے دلائل اور ہر چیز واضح طریقے سے بیان کرنے والے ہیں۔ آپ ﷺ کی ذاتِ گرامی خیانت، بہتان اور ہر طرح کی برائی سے پاک ہے۔ اللہ کی رحمتیں اور سلامتیاں ہوں آپ ﷺ پر، آپ ﷺ کی آل پر، صحابہ کرام پر اور ایمان کے معاملے میں ان کے نقشِ قدم پر چلنے والوں پر۔
بعدازاں! اےمؤمنو!
شریعت پر عمل کرتے ہوئے اور نافرمانیوں سے بچتے ہوئے تقویٰ اپنائے رکھو، تاکہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کا ساتھ نصیب ہو سکے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’پرہیز گار لوگ اللہ کو پسند ہیں۔‘‘ (آل عمران: 76)
اسی طرح فرمایا:
’’جان رکھو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدود سے تجاوز نہیں کرتے ۔‘‘ (بقرہ: 194)
اللہ کا تقویٰ اختیار کرو! تمہاری دنیا اور آخرت سنور جائے گی۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’متقی لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔ اور اُن سے کہا جائے گا کہ سلامتی کے ساتھ بے خوف و خطر ان میں داخل ہو جاؤ۔‘‘ (حجر: 45-46)
اسی طرح فرمایا:
’’جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اُس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا اور اسے ایسے ذریعے سے رزق دے گا جہاں سے اُے گمان بھی نہ ہو۔‘‘ (طلاق: 2-3)
توحید تقویٰ کا عظیم ترین حصہ ہے اور یہی احکام الٰہی میں عظیم ترین حکم ہے۔ عبادت کی ہر شکل اور ہر قسم اللہ تعالیٰ کے لیے خاص کیجیے۔ سجدہ بھی اللہ کے سوا کسی کے لیے نہ کیجیئے، کسی سے دعا نہ کیجیئے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ پس تم اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔‘‘(سورة الكوثر: 2)
اسی طرح فرمایا:
’’ اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لئے ہیں، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔‘‘( الجن: 18)
توحید ہی تمام انبیا کا دین ہے۔ توحید حضرت نوح ، حضرت ابرہیم ، حضرت موسیٰ ، حصرت عیسیٰ اور ہمارے آخری نبی ﷺ کا دین ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کر دیا کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔ اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلط ہو گئی پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہو چکا ہے۔‘‘ (النحل: 36)
اسی طرح فرمایا:
’’ ہم نے تُم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔‘‘ (الانبياء: 25)
لا الٰہ الا اللہ کا معنیٰ بھی یہی ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جائے۔ اللہ کے سوا کوئی چیز عبادت کے لائق نہیں ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے۔‘‘( الانبياء: 102)
لا الٰہ الا اللہ کی گواہی کے ساتھ کامیابی اور نجات پانے کے لیے ایک اور گواہی دینا بھی لازمی ہے اور وہ حضرت محمد ﷺکو اللہ کا رسول ماننے کی گواہی ہے۔ وہ یہ گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث فرمایا اور آپ ﷺ پر وحی نازل فرمائی ہے۔ اس گواہی کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کے فرامین کی سچائی تسلیم کی جائے، آپﷺ کا حکم مانا جائے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت آپ کے بتائے ہوئے طریقے کےمطابق کی جائے ۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ قسم ہے تارے کی جبکہ وہ غروب ہوا۔ تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا۔یہ تو ایک وحی ہے جو اُس پر نازل کی جاتی ہے۔اُسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے۔‘‘ (النجم: 1-5)
لوگو!
ایمان ہی نجات کا راستہ اور جنت کی شاہراہ ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ ان کو دکھا دے گا۔‘‘( النساء: 175)
نبی ﷺ نے ایمان کے ارکان بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اللہ کے فرشتوں پر، اللہ کی کتابوں پر، اللہ کے رسولوں پر، قیامت کے دن پر اور بھلی اور بری تقدیر کو تسلیم کر لو۔ ‘‘
فرمانِ الٰہی ہے:
’’ بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے۔‘‘(سورة البقرة: 177)
اسی طرح فرمایا:
’’ اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے ۔‘‘ (النساء: 36)
رسول اللہ ﷺ نے ارکان اسلام بھی واضح فرمائے۔ فرمایا:
’’اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز ادا کرو، زکوٰۃ ادا کرو، رمضان کے روزے رکھو اور اگر حج کی قدرت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔‘‘
اللہ کے بندو!
نماز دین کا ستون اور بندے کا اللہ کے ساتھ رابطہ ہے۔ حدیث میں آتا ہے:
’’جب تم نماز میں ہوتے ہو تو حقیقت میں تم اللہ سے ہم کلام ہو رہے ہوتے ہو۔‘‘
فرمانِ الٰہی ہے:
’’ صبر اور نماز سے مدد لو، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے ۔‘‘ (البقرۃ: 45)
اسی طرح فرمایا:
’’ اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسن صلوٰۃ کی جا مع ہو اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فر ماں بردار غلام کھڑے ہوتے ہیں۔‘‘ (البقرة: 238)
اسی طرح فرمایا:
’’ اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لیے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔‘‘( هو: 114)
قرآن کریم میں نماز کے ساتھ ہی زکوٰۃ کا بھی حکم ہے۔ مال میں سے ایک مقررہ حصے کو اللہ کی راہ میں نکالنا زکوٰۃ کہلاتا ہے۔ اس سے دینے والے کا نفس پاکیزہ ہو جاتا ہے اور مال بڑھ جاتا ہے۔ زکوٰۃ کے ذریعے ضرورت مندوں کے ساتھ ہمدردی بھی ہو جاتی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ اور اُن کو اِس کے سوا کوئی علم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں یہی نہایت صحیح و درست دین ہے۔‘‘(سورة البينہ: 5)
دین اسلام کا چوتھا رکن ماہِ رمضان کے روزے رکھنا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہیں لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے، اُس کو لازم ہے کہ اِس پورے مہینے کے روزے رکھے۔‘‘ (سورة البقرة: 185)
دین اسلام کا پانچواں رکن حج بیت اللہ ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔‘‘(سورة آل عمران: 97)
فرمانِ نبوی ہے:
’’ گناہوں سے پاک مقبول حج کی جنت کے سوا کوئی جزا نہیں ہو سکتی۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے؁010ھ میں حج کیا اور اُسی سال عرفات کے دن اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی:
’’ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کر دیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔‘‘(سورة المائدة: 3)
اس آیت میں یہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ اللہ کا دین مکمل ہو چکا ہے اور اخلاقِ عالیہ اور یہ شریعت اب مکمل ہو گئی ہے۔
دین اسلام کا ایک خوبصورت پہلو یہ ہے کہ اس نے اتحاد واتفاق قائم کرنے کا حکم دیا ہے اور بھلے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا حکم دیا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔‘‘(سورة المائدة: 1)
اسی طرح فرمایا:
’’ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔‘‘(سورة آل عمران: 103)
دین اسلام کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں حسنِ اخلاق اپنانے اور بھلے بول بولنے کی نصیحت کی گئی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ اور اے محمدﷺ، میرے بندوں سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں۔‘‘ (سورة الاسراء: 53)
نبی ﷺ کے بارے میں فرمایا:
’’ اور بیشک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو۔‘‘(سورة القلم: 4)
اسی طرح نبی ﷺ کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’(اے پیغمبرﷺ) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم اِن لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو۔‘‘(سورة آل عمران: 159)
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نبی ﷺ کے نقش قدم پر چلنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہشت گردی؛ مسئلے کا حل کیا ہے؟ ابو یحییٰ
ہمارے دین کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں سچائی کی تلقین کی گئی ہے۔ نبی ﷺ نے سچائی، عہد اور امانت کی پاسداری کو ایسی صفات قرار دیا ہے جو مؤمن کو منافق سے ممتاز کر دیتی ہیں۔
دین اسلام کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ یہ دین سارے انسانوں کے لیے سرا سر بھلائی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اے محمدؐ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے ۔‘‘( الانبياء: 107)
دین اسلام کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں عدل اور احسان کا حکم دیا گیا ہے۔ اس میں ہر حقدار کو اس کا مکمل حق دینے کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
’’ اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے ۔‘‘(سورة الانبياء: 107)
دین اسلام کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسانی زندگی کو بہترین انداز میں منظم کرتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے جو لو گ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں۔‘‘(سورة الاسراء: 9)
دین اسلام گھریلو زندگی کو بھی منظم کرتا ہے اور ایسے طریقے تجویز کرتا ہے جس سے دونوں شریک حیات ایک دوسرے سے خوش رہ سکتے ہیں اور جس سے آئندہ نسل کی بھلی تربیت ممکن ہتی ہے، تاکہ وہ معاشرے میں فعّال کردار ادا کر سکیں۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔‘‘(سورة الروم: 30)
دین اسلام نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، اولاد کی اچھی تربیت اور رشتے داروں سے حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ سارا معاشرہ مکمل طور سے مضبوط اور مستحکم ہو جائے۔
دین اسلام میں برائی اور ہلاکت خیز کاموں سے منع کیا گیا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ اے محمد! اِن سے کہو کہ میرے رب نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام خواہ کھلے ہوں یا چھپے اور گناہ اور حق کے خلاف زیادتی اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اسی نے فرمائی ہے ‘‘ (الاعراف: 33)
دین اسلام کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے کہ یہ انسان کے مالی معاملات کو منظم کر دیتا ہے اور ایسے طریقے تجویز کرتا ہے کہ جن سے لوگوں کی ضرورتیں بھی پوری ہوتی ہیں، تجارت کو بھی فروغ ملتا ہے اور معاشی ترقی بھی ہوتی ہے۔ دین اسلام نے باہمی اعتماد کو تمام مالی معاملات کی اساس بنایا ہے۔ چنانچہ اسلام میں دھوکہ حرام قرار پایا، باطل طریقوں سے لوگوں کا مال کھانا جرم قرار پایا، سود منع کر دیا گیا اور تجارت میں لین دین کی تمام تر تفصیلات ایمان داری کے ساتھ بیان کرنے کا حکم دیا گیا۔ جوانا جائز ٹھہرا اور عدل وانصاف کا حکم نازل ہوا اور ہر ایک کو اس کا حق دینے کی نصیحت کی گئی۔
اے مؤمنو! اے مؤمنو!
نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:
’’تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں ایک دوسرے کے لیے محترم ہیں‘‘
پھر فرمایا:
’’سنو! میرے بعد گمراہ ہو کر ایک دوسرے کی گردنیں نہ اتارنے لگنا۔‘‘
اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ دین اسلام نے معاشرے میں امن وامان اور سلامتی کے ضامن اخلاق کو فروغ دیا ہے، تاکہ زندگی خوشگوار بن سکے، تجارت بڑھ سکے، دلوں کو سکون مل سکے اور لوگ پورے اطمینان کے ساتھ اللہ رب العالمین کی عبادت کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو امن کی نعمت جتلاتے ہوئے فرمایا:
’’ حقیقت میں تو امن انہی کے لیے ہے اور راہ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا ۔‘‘ (الانعام: 82)
اللہ تعالیٰ نے پر امن زندگی کو دین اسلام پر عمل کرنے والوں کے لیے بنائی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے، اور اُن کی (موجودہ) حالت خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں ۔‘‘ (النور: 55)
مسلمان جہاں بھی ہو، وہ امن کا محافظ ہوتا ہے۔ وہ کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔ وہ زیادتی کس طرح کر سکتا جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سنتا ہے:
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کر لو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔‘‘ (المائدة: 87)
وہ دوسروں کے مال پر کس طرح ہاتھ ڈال سکتا ہے، یا وہ کسی کی جان کس طرح لے سکتا ہے جبکہ وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنتا ہے:
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاؤ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضامندی سے اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو یقین مانو کہ اللہ تمہارے اوپر مہربان ہے-جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے ‘‘ (النساء: 4-5)
مسلمان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے آگے نہیں بڑھتا اور اپنے تمام تر معاہدوں پر قائم رہتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بندشوں کی پوری پابندی کرو-‘‘ (المائدة: 1)
اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لاتے ہوئے مسلمان اپنے حکمرانوں کی بھی اطاعت کرتا ہے۔ اور وہ ملکی قانون پر عمل درآمد بھی یقینی بناتا ہے اور یقینًا اسی سے لوگوں کو سکون اور چین ملتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ اے لوگو جو ایمان لائے ہوئے، اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں-‘‘ (النساء: 59)
ایک مسلمان تو پر امن لوگوں پر حملوں کی بھرپور مذمت کرتا ہے، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم۔ وہ نام نہاد مسلمان دہشتگرد تنظیموں کے کاموں کو بھی برا سمجھتا ہے۔ ہر میدان میں امن وسلامتی کو یقینی بنانے والے تمام اقدامات کی اسلامی شریعت تحسین کرتی ہے۔ دین اسلام نے عقائد کی حفاظت کے لیے بھی قانون بنائے ہیں اور انسان کی فکر کی حفاظت کے لیے بھی، سیاست کی حفاظت کے لیے بھی قانون بنائے ہیں اور اخلاق کی حفاظت کے لیے بھی منصوبہ بندی کی ہے۔ دین اسلام تو تمام ممالک میں امن وامان کا داعی ہے، بلکہ دین اسلام تو دلوں میں محبت کا بیج بونے والا ہے۔ اسلام تو ہر مسلمان کو یہ تلقین کرتا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ دین میں حسد کی بڑی مذمت کی گئی ہے۔ حسد کی بڑی مذمت کی گئی ہے۔ ایک دوسرے کو برا سمجھنے سے منع کیا گیا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو جو کچھ مَردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصہ ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو، یقیناً اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘ (النساء: 4)
جہاں دین اسلام ہر ملک میں امن وامان اور سلامتی کی حفاظت کی تلقین کرتا ہے، وہیں وہ اس بابرکت سرزمین کے امن وامان کی حفاظت کی بھی تاکید کرتا ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا تھا-اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں، ابراہیمؑ کا مقام عبادت ہے، اوراس کا حال یہ ہے کہ جو اِس میں داخل ہوا مامون ہو گیا ‘‘ (آل عمران: 96-97)
اسی طرح فرمایا:
’’ لہٰذا اُن کو چاہیے کہ اِس گھر کے رب کی عبادت کریں-جس نے اُنہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا-‘‘ (قريش: 3-4)
اسی طرح فرمایا:
’’ کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ اِن کے گرد و پیش لوگ اُچک لیے جاتے ہیں؟ ‘‘ (العنكبوت: 67)
اللہ تعالیٰ نے حرمین میں برائی یا ظلم وزیادتی کا ارادہ رکھنے والے کو بھی دردناک عذابِ کی وعید سنائی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’ اِس (مسجدِ حرام) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزا چکھائیں گے-‘‘ (الحج: 25)
اللہ تعالیٰ نے جس طرح حرمین کو اس اسلامی حکومت سے کے ذریعے امن بخشا ہے، ہم ا س سے دعا گو ہیں کہ وہ مسلمانوں کے قبلۂ اول اور نبی ﷺ کی جائے معراج کو بھی آزادی عطا فرمائے۔ ہم اس سے دعا گو ہیں کہ وہ فلسطین میں ہمارے بھائیوں کی حفاظت فرمائے! اللہ تعالیٰ انہیں مکمل امن وامان اور بھلی زندگی کی نعمت عطا فرمائے! اللہ انہیں ان کے حقوق دلائے!
یہ بھی پڑھیں: سیاسی منظر نامہ، عائشہ گلالئی اور عوام - خواجہ مظہر صدیقی
اے مؤمنو!
نبی کریم ﷺ نے اسی بابرکت جگہ خطبہ حج ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا:
’’ آگاہ رہو! جاہلیت کے تمام رسم ورواج میرے قدموں تلے روندھ دئے گئے ہیں۔ سنو! جاہلیت کے تمام رسم ورواج میرے قدموں تلے روند دئیے گئے ہیں۔‘‘
جاہلیت میں عصبیت پرستی عام تھی۔ لوگوں کے رتبے الگ الگ سمجھے جاتے تھے۔ حسب ونسب پر فخر عام تھا۔ دین اسلام نے ان سب چیزوں سے منع فرمایا۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا و اجداد کا ذکر کرتے تھے، اُس طرح اب اللہ کا ذکر کرو، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر‘‘ (بقرۃ: 200)
حج کے موقع کو سودہ بازی، مخصوص مقاصد کے علمبردار نعروں یا مظاہروں کا وسیلہ بنانا، یا اپنے اپنے فرقے یا جماعت کی طرف دعوت کا موقع جاننا جاہلیت کا طریقہ ہے۔ حج ادا کرنے کا مقصد صرف اور صرف رضائے الٰہی ہونا چاہیے۔ حج ادا کرنے کا مقصد صرف اور صرف رضائے الٰہی ہونا چاہیے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کرو‘‘ (بقرۃ: 196)
حج میں کسی فرقے کے نعروں، کسی مسلک کی دعوت، یا فرقہ واریت کی کوئی جگہ نہیں۔ انہی فرقوں کی وجہ سے تو امت میں خون ریزی ہوئی ہے۔ انہی تعصبات کی وجہ سے تو کروڑوں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔
عرفات میں نبی کریم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:
’’میں نے تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑی ہے کہ جسے اگر تم تھامے رہے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔ یہ چیز اللہ کی کتا ب ہے۔ یہ چیز اللہ کی کتاب ہے۔‘‘
اے امت اسلامیہ کے لوگو!
اللہ کی کتاب کو تھامے رکھو! اسی میں تمہاری بھلائی اور کامیابی ہے۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’(اے نبیؐ) ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کر دی ہے اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا اپنے لیے کرے گا‘‘ (زمر: 41)
اسی طرح فرمایا:
’’ہم اِس قرآن کے سلسلہ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے تو شفا اور رحمت ہے‘‘ (اسراء: 82)
اسی طرح فرمایا:
’’ لوگو! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل روشن آ گئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے‘‘ (نساء: 174)
اے امت کے حکمرانو!
یہ ہے اللہ کی کتاب! یہ تمہارے ہاتھوں میں ہے۔ اس کے طریقے پر چلو اور اسی کے مطابق فیصلے کرو! اسے امت میں عام کرو! فرمانِ الٰہی ہے:
’’پھر اے محمدؐ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی اور اس کی محافظ و نگہبان ہے لہٰذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس سے منہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو‘‘ (مائدہ: 48)
اے امت اسلامیہ کے علما!
اللہ کی کتاب ہی ہدایت کا حقیقی ذریعہ ہے۔ اسی میں امت اسلامیہ کے مسائل کے حل تلاش کرو۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
’’وہ ایسے لوگوں کے علم میں آ جائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کرسکیں‘‘ (نساء: 83)
اللہ تعالیٰ نے جن احکام اور اخلاق عالیہ کا حکم دیا ہے انہیں پھیلا کر اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرو۔
اے والدین! اے قوم کی تربیت کے ذمہ داران! اساتذہ کرام!
ہمارے بچوں کو قرآن کریم سیکھنے کی بڑی ضرورت ہے۔ اسی میں کامل ہدایت ہے اور اسی میں مکمل اخلاق کی تلقین کی گئی ہے۔ فرمانِ نبوی ہے:
’’تم میں سے بہترین وہ ہے، جو قرآن سیکھتا اور سکھاتا ہے۔‘‘
اے میڈیا کے لوگو!
قرآن کریم کی بھلی تعلیمات اور اس آنے والی بھلائی عام کرنا تمہاری ذمہ داری ہے۔
اے مال دارو!
قرآن کریم کی دعوت عام کرنے کے لیے، اسے پڑھنے، پڑھانے، اس پر عمل کرنے اور اس کی طرف دعوت دینے کی ترغیب دلانے کے لیے اللہ کا دیا ہوا مال خرچ کرو اور اسے تقربِ الٰہی کے ذریعہ بناؤ۔ فرمانِ الٰہی ہے:
’’جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں، اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں اِسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے، افزونی عطا فرماتا ہے وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی‘‘ (بقرۃ: 261)
اے حاجیو!
نبی کریم ﷺ نے عرفات میں خطبہ ارشاد فرمانے کے بعدحضرت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا تھا، حضرت بلال نے اذان دی، پھر اقامت کہی اور نبی ﷺ نے ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر اقامت کہی گئی اور نبی ﷺ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں۔ پھر آپ ﷺ عرفات کے میدان میں اونٹنی پر بیٹھے اللہ کا ذکر کرتے رہے اور غروبِ آفتاب تک دعائیں کرتے رہے۔ پھر آپ ﷺ مزدلفہ پہنچے اور صحابہ کو امور حج بجا لانے نرمی اختیار کرنے کی نصیحت کرتے رہے۔ آپﷺ فرماتے تھے:
’’لوگو! سکون اور وقار سے کام لو، کیونکہ کسی بھی کام میں جلدی سے کام لینا نیکی نہیں ہے‘‘
جب آپ ﷺ مزدلفہ پہنچے تو آپ ﷺ نے وہاں مغرب کی تین اور عشا کی دو رکعتیں ایک ہی ساتھ جمع کر کے پڑھیں۔ پھر مزدلفہ میں رات قیام فرمایااور صبح اول وقت میں فجر کی نماز بھی وہیں ادا کی۔ پھر روشنی پھیلنے تک اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے رہے۔ پھر آپ ﷺ منیٰ پہنچے اور طلوع آفتاب کے بعد بڑے جمرے کو سات کنکریاں ماریں، اپنا جانور قربان کیا، بال منڈوائے اور پھر طوافِ افاضہ کیا۔ ایامِ تشریق میں آپ ﷺ نے منیٰ ہی میں قیام فرمایا۔ اللہ کو یاد کرتے رہے اور زوال کے بعد جمرات کو کنکریاں مارتے رہے۔ آپ ﷺ چھوٹے اور درمیانے جمرے کو کنکریاں مار کے ٹھہر جاتے اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ۔ نبی ﷺ نے ضعیفوں اور عذر والوں کو منیٰ میں قیام نہ کرنے کی اجازت دے دی۔
ذو الحجہ کی 13 تاریخ تک منیٰ میں رہنا نبی کریم ﷺ کی سنت ہے اور یہی افضل ہے، تاہم آپ ﷺ نے 12 تاریخ کو کنکریاں مارنے کے بعد یہاں سے جانے کی بھی اجازت دی ہے۔ جب آپ ﷺ نے حج کے مناسک ادا کر لیے اور واپس گھر لوٹنا چاہا تو آپ ﷺ نے طواف وداع فرمایا۔
اے بیت اللہ کے حاجیو!
تم انتہائی بابرکت مقام میں موجود ہو۔ اس وقت اور کے بارے میں نبی ﷺ کا فرمان ہے:
’’کسی دن اللہ تعالیٰ سے اتنی امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ اپنے بندے کو جہنم کی آگ سے بچا لے گا جتنی امید عرفات کے دن کی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ قریب آ جاتا ہے اور فرشتوں کے سامنے اپنے بندوں پر فخر کرتا ہے۔ ‘‘
رسول اللہ ﷺ نے حج کے دوران عرفات کے دن کا روزہ نہیں رکھا، تاکہ کثرت سے ذکر اور دعائیں کر سکیں۔
تو اے حاجیو! تم جو اللہ کے دربار میں آئے ہو تو اللہ تعالیٰ کے سامنے بھلے بنو! اللہ کو اپنی بھلائی دکھاؤ! اپنے لیے، اپنے پیاروں کے لیے، ان لوگوں کے لیے جن کے حقوق آپ کے ذمے ہیں اور تمام مسلمانوں کے لیے اللہ سے ڈھیر ساری دعائیں مانگو کہ اللہ امت کے احوال درست کردے اور ان کے معاملات سنبھال لے۔ ان لوگوں کو اپنی دعاؤں میں نہ بھولو جنہوں نے آپ پر کوئی بھی احسان کیا ہے۔ حدیث میں آتا ہے:
’’جب کوئی تمہارے ساتھ بھلا ئی کرے تو اسے بھلائی کا بدلہ بھی دو۔ اگر ایسا نہ کر سکو تو ا س کے لیے دعا کر دو۔‘‘
یقینًا اس بابرکت سرزمین سعودی عرب کے حکمرانوں نے حرمین کی خدمت کر کے اور مہمانانِ رحمٰن کے لیے آسانیاں پیدا کر کے مشرق ومغرب میں بسنے والے تمام مسلمانوں پر احسان کیا ہے۔ ان کے لیے دعا گو ہو کر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو!
اے اللہ! اے زندہ وجاوید!اے ذا الجلال والاکرام! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو خادم حرمین شاہ سلمان بن عبد العزیز کو توفیق عطا فرما! اس کی تائید فرما! اس کی مدد فرما! اے اللہ! اس کی نیکیوں اور بھلائیوں پر اسے جزائے خیر عطا فرما! اے اللہ! ولی عہد امیر محمد بن سلمان کو برکتوں سے نواز! اے اللہ! اسے خادم حرمین کا بہترین معاون اور مدد گار بنا۔ اسے ساری امت کے لیے بھلائی کا سبب بنا۔ اے اللہ! حاجیوں کا حج قبول فرما! اے اللہ! حاجیوں کا حج قبول فرما! ان کے معاملات آسان فرما! انہیں شر پسندوں کے شر سے محفوظ فرما! اے اللہ! انہیں اپنے ملکوں تک سلامتی سے پہنچا! اس حال میں لوٹیں کہ ان کے گناہ معاف ہو گئے ہوں، ان کی حاجتیں پوری ہو گئی ہوں۔
اے اللہ! مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں، مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کو معاف فرما! انہیں اتحاد واتفاق نصیب فرما! ان کے دلوں کو پاک فرما! ان کے معاملات سنبھال لے! انہیں اپنے ملکوں میں امن نصیب فرما! انہیں یوم جزا کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما!
’’ پاک ہے تیرا رب، عزت کا مالک، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔ اور سلام ہے مرسلین پر۔ اور ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے‘‘ (صافات:180-182)
Photo

‏نہیں یاد کہ کبھی والدین سے اونچی آواز میں بات کی ھو۔ ڈرتا ھوں ھماری اولاد کے ساتھ کیا ھوگا جو بات ھی چیخ کر کرتی ھے

Post has shared content
چھوڑ جائیں گے یہ جہاں #جاناں
سن رہے ہو نا ہچکیاں #جاناں؟
دکھ تو یہ ہے کہ تیرے ہو نہ سکے
عمر گزری ہے رائیگاں #جاناں
جسم تو راکھ ہو گیا کب سے
اب ہے باقی فقط دھواں #جاناں
اب کے ملنا مُحال ہے شائد
تو کہاں اور میں کہاں #جاناں
ہو بلندی تیرا نصیب سدا
ہم کو منظور پستیاں #جاناں
تیرے دل میں نہیں تو کیوں مجھ کو
ڈھونڈتا ہے یہاں وہاں #جاناں
ہو اجازت مجھے بھی کہنے کی
میرے منہ میں بھی ہے زباں #جاناں
حسن آخر کو ڈھل ہی جاتا ہے
کوئی رہتا نہیں جواں #جاناں
صاف محسوس ہو رہی ہیں مجھے
آج لہجے میں تلخیاں #جاناں
یہ جدائی جو آ گئی ہم میں
ہے محبت کا امتحاں #جاناں
کیسے حالات نے مجھے توڑا
تجھ سے کیسے کروں بیاں #جاناں
دل کی حسرت تھی ایک دن ہم تم
مل ہی جاتے مگر کہاں #جاناں
آج ساحل پہ وقتِ آخر ہے
آج تم بھی ہو مہرباں #جاناں
Photo

Post has attachment
کون دیگا سکون آنکھوں کو
کس کو دیکھوں کہ نیند آ جائے؟
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
اقرار وفا کرنا پھر اس سے مکر جانا
Photo

Post has attachment
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ھے بغاوت نہیں کرتا
Photo

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content
ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺻﺪﺍ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ
ﺍُﻭﻧﭽﯽ ﮨﻮﮞ ﻓﺼِﯿﻠﯿﮟ، ﺗﻮ ﮨَﻮﺍ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ

ﺷﺎﯾﺪ ﮨﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺁﺳﮑﮯ ﺍِﺱ ﻣﻮﮌ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ !
ﺍِﺱ ﻣﻮﮌ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﺗﻮ ﻗﻀﺎ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ

ﻭﮦ ﮔُﻞ ﻧﮧ ﺭﮨﮯ ﻧِﮑﮩﺖِ ﮔُﻞ ﺧﺎﮎ ﻣِﻠﮯ ﮔﯽ !
ﯾﮧ ﺳﻮﭺ ﮐﮯ، ﮔﻠﺸﻦ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺎ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ

ﺍِﺱ ﺷﻮﺭِ ﺗﻼﻃُﻢ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﮐِﺲ ﮐﻮ ﭘُﮑﺎﺭﮮ ؟
ﮐﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ، ﺍﭘﻨﯽ ﺻﺪﺍ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ

ﺧﻮﺩﺩﺍﺭ ﮨُﻮﮞ، ﮐﯿﻮﮞ ﺁﺅﮞ ﺩﺭِ ﺍﺑﻞِ ﮐَﺮَﻡ ﭘﺮ
ﮐﮭﯿﺘﯽ ﮐﺒﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﭼﻞ ﮐﮯ ﮔﮭﭩﺎ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ

ﺍُﺱ ﺩﺷﺖ ﻣﯿﮟ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﻧِﺸﺎﮞ ﮈُﮬﻮﻧﮉ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ
ﭘﯿﮍﻭﮞ ﺳﮯ ﺟﮩﺎﮞ ﭼَﮭﻦ ﮐﮯﺿِﯿﺎ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ

ﯾﺎ ﺟﺎﺗﮯ ﮨُﻮﺋﮯ ﻣُﺠﮫ ﺳﮯ ﻟﭙﭧ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺷﺎﺧﯿﮟ
ﯾﺎ، ﻣﯿﺮﮮ ﺑُﻼﻧﮯ ﺳﮯ ﺻﺒﺎ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ

ﮐﯿﺎ ﺧُﺸﮏ ﮨُﻮﺍ ﺭﻭﺷﻨﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺳﻤﻨﺪﺭ ؟
ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﮐِﺮﻥ ﺁﺑﻠﮧ ﭘﺎ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ

ﭼُﮭﭗ ﭼُﮭﭗ ﮐﮯ ﺳﺪﺍ ﺟﮭﺎﻧﮑﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺧﻠﻮﺕِ ﮔُﻞ ﻣﯿﮟ
ﻣﮩﺘﺎﺏ ﮐﯽ ﮐِﺮﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺣَﯿﺎ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ

ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﻋﺪﻡ ﺁﺑﺎﺩ ﮨﮯ ﮐﯿﺴﺎ !
ﭨُﻮﭨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﺳﮯﺻﺪﺍ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ

ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ ﭘَﻠﭧ ﺟﺎﺅ ﺳِﯿﮧ ﺧﺎﻧۂ ﻏﻢ ﺳﮯ
ﺍِﺱ ﺳﺮﺩ ﮔُﭙﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮨَﻮﺍ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﯽ

#شکیبؔ #ﺟﻼﻟﯽ
Wait while more posts are being loaded