Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment
,سی پیک بھارت کے لیے خطرہ کیوں ہے

Post has shared content

Kashmir Journalist Forum elections to be held on October 30

ISLAMABAD, : The elections of the Kashmir Journalist Forum for 2016 would be held on October 30 in National Press Club camp office Rawalpindi. The journalists belonging to Azad Kashmir, Jammu Kashmir and Gilgit-Baltistan based in Islamabad are the members of the forum.

The Chairman of the Election Committee Sardar Ashiq Hussain with consultation of the members announced the schedule of the 2016 elections of the forum.

According to press release issued by Sardar Ashiq Hussain Chairman Election Committee The Election Committee finalized the schedule that nomination papers would be received on October 15-16 and examination of papers by interested candidates would be held on October 17 from 4pm to 6pm.

Scrutiny and display of initial list of candidates would be made on October 18 while objections over nomination papers would be received on October 19 from 4pm to 6pm and hearing of objections would be on October 20 from 4pm to 6pm.

Display of provisional list of candidates would be made on October 21: at 11am and withdrawal of nomination papers can be made on October 22 maximum till 6pm. Announcement of final list of candidates would be on October 23 at 11am.

Polling would start at 9:00am and would continue till 6:00pm on October 30.

The voter list and nomination forms for the elections could be obtained from the members of the committee and could also be down loaded from the forum website www.kashmirjournalist.com.

The fee for the posts of President and General Secretary would be Rs. 1000; meanwhile the fee for the posts of senior vice president, vice president, joint secretary, secretary information, finance secretary, organizer and deputy organizer would be Rs. 500. The fee for the members of the governing body would be Rs.300.

The nomination papers could be submitted with Chairman of the Election Committee Sardar Ashiq Hussain on October 15, 16 till 6:00 pm.

The results of the elections would be announced on the same evening and any candidate can file application for re-counting of votes with 300 rupees fee till November 05, however newly elected body would hold offices till September 2018.

Chairman Election Committee Sardar Ashiq Hussain can be approached in case of any relevant issue on Whatsapp No. 03335117856 and E-mail sardaraashiq@gmail.com. However it has been announce the Election Committee that Presidential Electoral Debates between the Presidential candidates would be held on October 27. The venue and time for debate would be announced on appropriate time.

The honorable groups have been advised to provide their Panels’ names till October 18.
Ends-

Post has attachment


آزادکشمیر میں بھارت کا جعلی سرجیکل آپریشن
(Sardar Ashiq Hussain, Islamabad)

بھارت نے لائن آف کنٹرول پر محدود جنگ شروع کر دی ہے جس کے نتیجے میں آزادکشمیر کے علاقے بھمبر،کیل، تتہ پانی اور لیپا سیکٹر کی سرحدیآبادی متاثر ہوئی ہے ۔ جمعرات29 ستمبر2016کو نئی دہلی میں بھارتی فوج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے دعوی کیا کہ آزاد کشمیر میں سرجیکل آپریشن کنٹرول لائن پر نصف رات شروع ہوا اور صبح تک چلا ہے۔پاکستانی فوج کے ترجمان نے بھارتی دعوے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ بھارت نے آزاد کشمیر میں کوئی سرجیکل آپریشن نہیں کیا ہے تاہم بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر کیل، بھمبر اور لیپا سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ ضرور کی ہے جس سے پاکستان کے دو فوجی شہید ہوئے ہین۔ ائی ایس پی آر کے مطابق سرجیکل حملوں کا تصور بھارت کی جانب سے جان بوجھ کر تشکیل دیا گیا ایک ایسا فریبِ نظر ہے جس کا مقصد غلط تاثر دینا ہے۔ اوڑی حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے پاکستان کے خلاف کئی محاذوں پر اعلانیہ جنگ شروع کر دی ہے۔ سفارتی محاذ پر سارک سربراہ کانفرنس کا ملتوی ہونا بھارت کی کارستانی ہے جبکہ پاکستان کے اندرونی علاقوں میں مداخلت بھی کی جا رہی ہے۔ اس کا برملا اظہار بھارتی وزیراعظم مودی اور وزیر خارجہ سشما سوراج نے بلوچستان کے حالات کو زیربحث لا کر کیا ہے۔ اس بات کا ایک فیصد چانس نہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آنے والے دنوں میں جنگ شروع ہو سکتی ہے تاہم بھارت پاکستان کو تنازعہ کشمیر کے سلسلے میں دباؤ میں لانے کے لئے کئی طرح کے اقدامات کر سکتا ہے جن میں لائن آف کنٹرول کے علاقوں پر محدود نوعیت کی فوجی کارروائیاں بھی شامل ہیں تاہم اگر جنگ ہوتی ہے تو یہ ایک تباہ کن جنگ ہو گی، کشمیر ہی اصل میدان جنگ بنے گا۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف کشمیری آبادی ہے ، جنگ ہو یا محدود نوعیت کی فوجی کارروائیاں دونوں طرف کشمیری متاثر ہوتے ہیں۔جنگ کی صورت میں کس کا پلڑا بھاری ہوگا یہ آنے والا وقت ہی بتائے گاتاہم دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ جدید جنگی ساز و سامان بھی موجود ہے جو جنگ کی صورت میں پورے خطے کو متاثر کر سکتا ہے ۔ گلوبل فائر پاور نامی ادارے کی تجزیاتی رپورٹ کے مطابق بھارت آبادی اور رقبہ کے اعتبار سے پاکستان سے بڑا ملک ہے چنانچہ اس کی فوجی ضروریات بھی اسی طرح زیادہ ہیں تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان کو کمزور سمجھا جائے۔ ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی آبادی ایک ارب 25 کروڑ جبکہ پاکستان کی 19کروڑ کے قریب ہے۔ پاکستان کی متحرک افرادی قوت 9 کروڑ جبکہ بھارت کی 16 کروڑ ہے۔ بھارت میں ملازمت کے لئے کارآمد شہریوں کی تعداد 48 کروڑ جبکہ پاکستان کی 7 کروڑ ہے۔ بھارت میں اس وقت فوجی عمر کے نوجوانوں کی تعداد 2 کروڑ 20لاکھ جبکہ پاکستان کی 43 لاکھ ہے۔ بھارت کی فوج 13 لاکھ اور پاکستان کی 6 لاکھ ہے۔ بھارت کے ریزرو فوجیوں کی تعداد 21 لاکھ اور پاکستان کے ریزرو فوجیوں کی تعداد 5 لاکھ ہے۔ بھارت کے پاس 2086 جہاز جبکہ پاکستان کے پاس 923 جہاز ہیں۔ بھارت کے پاس 646 ہیلی کاپٹر جبکہ پاکستان کے پاس 306 ہیلی کاپٹر ہیں۔ بھارت کے پاس حملہ کرنے کی صلاحیت والے 19 ہیلی کاپٹر جبکہ پاکستان کے پاس 52 ہیلی کاپٹر ہیں۔ بھارت کے پاس حملہ آور جہازوں کی تعداد 809 جبکہ پاکستان کے پاس 394 ہے۔ بھارت کے فائٹر جہازوں کی تعداد 679، پاکستان کے پاس 304 ہیں۔ بھارت کے پاس 318 تربیتی جہاز جبکہ پاکستان کے پاس 170 ہیں اسی طرح بھارت کے پاس ٹرانسپورٹ جہازوں کی تعداد 857 اور پاکستان کے پاس 261 ہیں۔ بھارت کے پاس سروس ایبل ایئرپورٹس کی تعداد 346 جبکہ پاکستان کے پاس 151ہیں۔ بھارت کے پاس 6464 ٹینکس جبکہ پاکستان کے پاس 2924 ٹینک ہیں۔ اے ایف وی کی تعداد بھارت 6704 اور پاکستان 2828 ہے۔ آرٹلری Towed Artillery کی تعداد بھارت کے پاس 7414 اور پاکستان کے پاس 3278 ہیں۔ ایم ایل آر ایس پاکستان 292 اور بھارت 134 جبکہ مرچنٹ میرین کی تعداد پاکستان کے پاس 11 ، بھارت 340، بھارت کے پاس 7 بندرگاہیں ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 2 بندرگاہیں ہیں۔ فلیٹ fleet بھارت کے پاس 295 اور پاکستان کے پاس 197 ہیں۔ ایئرکرافٹ کیریئر میں بھارت 2 جبکہ پاکستان کے پاس یہ صلاحیت موجود نہیں۔ بھارت کے پاس 14 سب میرین ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 5 ہیں۔ بھارت 14 فریگیٹ اور پاکستان کے پاس 10 فریگیٹ ہیں۔ بھارت کا سالانہ دفاعی بجٹ 40 ارب ڈالر کے قریب ہے جبکہ پاکستان کا 17 ارب ڈالر کے قریب ہے۔ پاکستان کے ریزرو 17 ارب ڈالر کے قریب ہیں جبکہ بھارت کے 3 کھرب 70 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ) SIPRI)کے مطابق بھارت کے پاس260 جبکہ پاکستان کے پاس 120 جوہرہ وار ہیدز ہین ۔ جریدے کے مطابق بھارت کے پاس 13 لاکھ متحرک فوج 12 لاکھ ریزرو اور14 لاکھ پیرا ملٹری فورسز کی صلاحیت موجود ہے دوسری طرف پاکستان کے پاس 6 لاکھ متحرک فوج کے علاوہ تین لاکھ ریزرو فوج کی صلاحیت ہے ۔ بھارتی فوج کی عددی برتری کا یہ مطلب نہیں کہ پاکستان بھارت کے سامنے ایک کمزور ملک ہے ۔ اکانومسٹ میں بھارتی فوج کے بارے میں رپورٹ بھارتی مسلح افواج گن اور گھی بھارتی فوجی صلاحیت کا پردہ فاش کررہی ہے ۔ رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ ایک بڑی فوج کا حامل ہونے کے باوجود انڈیا دفاعی اعتبار سے اتنا مضبوط نہیں ہے جتنا اسے سمجھا جاتا ہے۔ اکانومسٹ کی رپورٹ کے مندرجات نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عددی برتری ہی جنگ جیتنے کے لیے کافی نہیں ہوتی ۔ رپورٹ کے مطابق بھارت کے بین الاقوامی عزائم اس کی معیشت میں بہتری کے ساتھ وسیع ہوتے جا رہے ہیں لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ انڈیا اپنی دفاعی طاقت میں خاطر خواہ اضافہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔بھارتی دفاعی قوت میں نقائص ہیں۔ اس کا بیشتر اسلحہ یا تو بہت پرانا ہے یا اسے مناسب دیکھ بھال میسر نہیں ہے۔بھارت کے دفاعی امور کے ماہر اجے شکلا کے مطابق بھارتی فضائی دفاع کا نظام نہایت بری حالت میں ہے۔ زیادہ تر اسلحہ 70 کی دہائی سے زیرِ استعمال ہے اور فضائی دفاع کا نیا نظام نصب کرنے میں شاید دس سال لگ جائیں۔اعدادو شمار کے حوالے سے تو انڈین فضائیہ 2000 لڑاکا طیاروں کے ساتھ دنیا کی چوتھی بڑی ایئر فورس ہے۔ لیکن سنہ 2014 میں دفاعی جریدے آئی ایچ ایس جینز کے ہاتھ لگنے والی انڈین ایئرفورس کی ایک اندرونی رپورٹ کے مطابق صرف 60 فیصد طیارے اڑنے کے قابل ہیں۔بری ، بحری اور فضائی فوج میں تعاون کا فقدان ہے ، ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی جاتی اور وزارتِ دفاع میں موجود سویلین فوجی حکام سے بات نہیں کرتے۔اس سال کے اوائل میں ایک حکومتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ انڈین بحریہ کے زیرِ استعمال 45 مگ طیارے جن پر انڈیا کو بہت فخر ہے ان طیاروں میں سے صرف 16 سے 38 فیصد طیارے اڑنے کے قابل ہیں۔انڈیا ان طیاروں کو ملک میں زیر تعمیر ایئر کرافٹ کیریئر سے اڑانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس ایئرکرافٹ کیریئر پر 15 سال قبل کام شروع ہوا تھا اور اسے سنہ 2010 میں مکمل ہونا تھا لیکن اب ایسا لگ رہا ہے کہ 2023 سے قبل اس کا مکمل ہونا ممکن نہیں ہے۔انڈین فوج میں اور بھی بہت سے چیزیں التوا کا شکار ہیں مثال کے طور پر انڈیا سنہ 1982 سے فوجی جوانوں کے زیرِ استعمال بندوق کو اپ گریڈ کرنے کا سوچ رہا ہے لیکن تاحال ایسا نہیں ہوسکا۔گذشتہ 16 برس سے انڈیا اپنی فضائیہ کو جدید طیاروں سے لیس کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ لیکن ضرورت سے زیادہ جدید سسٹمز کا مطالبہ اور مناسب قیمت کی ادائیگی میں لیت و لعل کے سبب غیر ملکی دفاعی کمپنیاں انڈیا کے مطالبات پورے کرنے سے قاصر ہیں۔بین الاقوامی جریدے اکانومسٹ کے مطابق انڈین فوج میں بدعنوانی بھی ایک مسئلہ رہا ہے اور ماہرین یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اتنی بڑی تعداد میں فوج کی تعیناتی کے باوجود جنگجو بار بار انڈین فوج کے اڈوں میں گھسنے میں کیسے کامیاب ہوجاتے ہیں۔حال ہی میں ترقی کے معاملات پر انڈین جرنیلوں کے مابین قانونی جنگیں بھی دیکھنے کو ملی ہیں اور اس سال اگست میں آسٹریلیا کے ایک جریدے نے انڈیا کی ایک آبدوز سے متعلق خفیہ دستاویزات بھی شائع کی تھیں۔اجے شکلا کے مطابق انڈین افواج کے ساتھ انتظامی مسئلہ بھی ہے اور بری، بحری اور فضائی فوج میں تعاون کا فقدان ہے۔ ایک دوسرے سے بات چیت نہیں کی جاتی اور وزارتِ دفاع میں موجود سویلین فوجی حکام سے بات نہیں کرتے۔ان کا مزید کہنا ہے کہ حیران کن طور پر وزارتِ دفاع میں کوئی فوجی تعینات نہیں ہے اور ملک کی دیگر وزارتوں کی طرح دفاع کی وزارت بھی سویلین افسران چلاتے ہیں جن کی تعیناتی سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہے جو بیلسٹک سے زیادہ بیلٹنگ پر زیادہ توجہ مرکوز کیے ہوتے ہیں۔سو انڈین افواج کا اگرچہ حجم تو بڑھ رہا ہے لیکن ان کی ذہنی صلاحیت کم ہے۔ بین الاقوامی جریدے اکانومسٹ کی رپورٹ جنگ سے خوف زدہ پاکستانیوں کی تسلی کے لیے کافی ہے ۔
Photo

Post has attachment


سوکھا پاکستان اور ڈوبتا کشمیر
سردار عاشق حسین

پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کشمیر پر کشید گی کا رخ اب اصل تنازعے پانی کے ذخائر کی طرف منتقل ہورہا ہے۔ انتہا پسند بی جے پی حکومت سندھ طاس کے معاہدے کا معاملہ اٹھا کر پاکستان کو تنازعہ کشمیر پر عالمی سرگرمیوں سے روکنا چاہتی ہے۔ بھارتی انتہا پسند عناصر اپنی حکومت پر دباو بڑھا رہے ہیں کہ سندھ طاس معاہدہ توڑ کر جموں و کشمیر کے پانی کے ذخائر کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے لیا جائے نتیجے میں سوکھا پاکستان بھارت کی تابع داری پر مجبور ہو جائے گا۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ایسے عناصر کی تسکین کے لیے 26 ستمبر2016 کو نئی دہلی میں اعلی سطحی اجلاس بلایا اور غور کیا کہ بھارتی حکومت سندھ طاس معاہدے کے تناظر میں پاکستان کو کس حد تک دباو میں لاسکتی ہے ۔ وزیر اعظم مودی نے اجلاس میں کہا کہ پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا۔ بھارتی حکومت کا خیال ہے کہ وہ پانی کو استعمال کرکے جموں و کشمیر کے کسانوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرے گی، کیونکہ پہلے ہی ریاستی عوام سند طاس معاہدے سے ریاست کو آبی وسائل کے حوالے سے نقصان ہونے کی دہائی دیتے رہے ہیں۔کہا جارہا ہے کہ اس سے ریاست میں 6لاکھ ہیکٹر اراضی سیراب کی جاسکتی ہے۔بھارتی افسران نے مودی کو بتایا کہ بھارت اس معاہدے کو چین کو اعتماد میں لئے بغیرختم کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا جہاں اصل میں دریائے سندھ نکلتا ہے۔اسکے علاوہ چین کو دریائے برہم پتر کا کنڑول حاصل ہے جس سے بھارت کی لاکھوں زمین سیراب ہوتی ہے اور یہ بنگلہ دیش سے بھی بہتا ہے۔ ادھر بی جے پی کے سرکردہ رہنما اور سابق بھارتی وزیر یشونت سنہا نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ دہشت گردوں کی سرپرستی پر سندھ طاس معاہدہ منسوخ کرکے سرپرائز دیا جائے۔ سندھ طاس معاہدہ توڑ کر سوکھے پاکستان کی خواہش تو کی جاسکتی ہے مگر یہ معاملہ اتنا آسان بھی نہیں ہے ۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے بھارتی بین الاقوامی قوانین توڑنے کا مرتکب ہو گا اور اسے عالمی سطح پر شدید دباؤ اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اگر بھارت سندھ طاس کے عالمی معاہدے سے دستبردار ہوتا ہے تو یہ ایک قانونی معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی جس کی وجہ سے بھارت بین الاقوامی سطح دباو کا سامنا کرے گا۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان اور بھارت پانی کی تقسیم کے فارمولے پر عملدرآمد کرنے کے پابند ہیں ۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو یہ بات بھی بتائی گئی کہ سندھ طاس معائدے کو توڑنے پر چین بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کر سکتا ہے ۔ چین سے بھارت کی طرف بہتے والا دریا برہم پترا بھارت کی 36 فیصد آبی ضروریات پوری کر رہا ہے۔دریا برہم پترا کے پانی کے حصول کے لیے بھارت اور چین کے درمیان کوئی معائدہ موجود نہیں ہے چنانچے چین حرکت میں آیا تو بھارت کے لیے معاملہ سلجھانا مشکل ہوجائے گا۔ چین اس دریا کا رخ موڑ کر بھارت کو اس پانی سے محروم کر سکتا ہے۔چین چاہتاہے کہ اس دریا کا پانی وسطی اور مغربی چین میں استعمال کیا جائے۔ اگر چین بھارت کا پانی روکتا ہے تو اس کے لئے کوئی قانونی مشکل نہیں ہے۔بھارتی حکام بخوبی جانتے ہیں کہ پاکستان کا پانی روک کر خود بھی پانی سے محروم ہونے کی احمقانہ کوشش بھارت کے لئے کتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔۔ برہم پترا تبت کے علاقے Yarlung Zangbo سے شروع ہو کر بے آف بنگال کی طرف جاتا ہے۔ بھارت اور بنگلہ دیش دونوں برم پترا کے پانی سے مستفید ہوتے ہیں۔ چین میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ وہ برہم پترا کے پانی سے بھارت کو محروم کر سکے۔ چین نے اس دریا پر گیارہ چھوٹے ڈیم بنا رکھے ہیں۔ بھارت کے لیے مشکل صرف چین کا ردعمل ہی نہیں روکے گئے دریائی پانی کا بھی ہو سکتا ہے۔ بھارت پاکستان کی طرف جانے والے دریاؤں کا پانی روکتا ہے تو اس سے مقبوضہ کشمیر اور بھارتی پنجاب شدید سیلاب کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔چنانچے بھارتی اقدام سوکھتے پاکستان کے ساتھ ڈوبتے کشمیر کی خواہش ہو سکتی ہے ۔بھارت سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس لئے کہ بھارت کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ توڑ کر پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی دراصل پاکستان کو دباؤ میں لانے کی ایک کوشش ہے۔ بھارت سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈس، چناب اور جہلم کا پانی پاکستان کو دینے پر مجبور ہے ۔ سندھ طاس معاہدے پر 1965ء میں بھارت کے پہلے وزیراعظم نہرو اور پاکستان کے اس وقت کے صدر ایوب خان نے دستخط کئے تھے۔ اس معاہدے کا ضامن عالمی بینک ہے جس نے معاہدے کے ضمن میں ایک دہائی تک مذاکرات اور بات چیت کے عمل کی میزبانی کی۔ اس معاہدے کے تحت دریائے ستلج اور راوی بھارت اور انڈس چناب اور جہلم پاکستان کے حصے میں آئے تھے۔کشمیر پاکستان کے لیے اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کے تحت حاصل پانی کے ذخائر مقبوضہ کشمیر میں ہیں اس لیے مسئلہ صرف پانی کا ہے اور جھگڑا بھی صرف پانی کا ہی ہے۔پڑبھارت کی چین کے ساتھ ناراضگی کی بنیاد بھی پانی ہی ہے۔دنیا بھر میں پانی کے ذخائر کم ہو رہے ہیں اسی طرح جنوبی ایشیا کے اس خطے میں پانی کے مسائل سر اٹھا رہے ہیں۔ پاکستان کی طرف بہنے والے پانی کے زیادہ تر ذخائر جموں کشمیر میںواقع ہیں۔بھارت پانی کے ان ذخائر کے اوپر والے حصوں پر قابض ہے جس کی وجہ سے ایک طرح سے ان ذخائر پر بھارت کا مکمل کنٹرول ہے۔پاکستان کی شکایت رہی ہے کہ بھارت پاکستان کی طرف بہنے والے پانی کی مقدار کبھی زیادہ اور کبھی کم کر دیتا ہے چنانچہ خشک سالی میں پانی کی کمی سے پاکستان کے کھیت بنجر بن سکتے ہیں اور مون سون کے موسم میں پانی کی زیادتی سے پاکستان بلخصوص پنجاب کے بیشتر علاقے پانی میں ڈوب جاتے ہیں۔پاکستان کی طرف آنے والے ان پانی کے ذخائر پر بگلیہار ڈیم ،کشن گنگا ڈیم کے علاوہ بھارت 60 نئے منصوبے شروع کر رہا ہے۔بگلیہار ڈیم کے علاوہ کشن گنگا ڈیم کی تعمیر پر بھی پاکستان کے تحفظات اس لیے تھے کہ ان منصوبوں کے ذریعے پاکستان کی طرف بہنے والے پانی کے بہائو میں کمی ہو گی چنانچہ پاکستان ان مسائل کو عالمی عدالت انصاف میںلے گیا۔بگلیہارڈیم 450 میگاواٹ بجلی پیدا کررہا ہے۔2018 میں تعمیل کے بعد اس کی پیداوار دو گنا یعنی 900 میگا واٹ ہو جائے گی۔مقبوضہ کشمیر میں 600 نئے پاور منصوبوں کے ذریعے بھی 3000 میگا واٹ سے زیادہ بجلی پیدا ہونے کاتخمینہ ہے۔پانی کے ان ذخائر میں کشن گنگا ڈیم کی اہمیت پاکستان کے لیے غیر معمولی ہے۔اس لیے کشن گنگا ڈیم سے گزر کر پانی آزاد کشمیر میں دریائے نیلم کا حصہ بھی بنتا ہے اگر اس ماخذ سے پانی کی کمی واقع ہو جائے تو دریائے نیلم پر 960 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ متاثر ہو سکتا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں سندھ طاس معاہدہ ہوا اس معاہدے کے ذریعے دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے علاوہ جموں و کشمیر کے آبی ذخائر کا معاملہ بھی حل کیا گیا تھا۔پاکستان کے بگلیہار ڈیم اور کشن گنگا ڈیم پر تحفظات موجود ہیں پاکستان کی5 کروڑ 40 لاکھ ایکڑ اراضی کو دریائے سندھ سیراب کرتا ہے۔ماہرین بہت پہلے کہہ گئے تھے کہ اب جنگیں پانی پر ہوں گی۔اس تناظر میں اب یہ کہا جائے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازعہ پر تین جنگیں ہو چکی ہیں تو مناسب ہو گا کیونکہ اصل مسئلہ پانی کے ذخائر کے کنٹرول کا ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کے تنازعہ کو اگر نیا نام دے دیا جائے تو اسے پانی کا تنازعہ کہا جا سکتا ہے۔ اس تناظر میں مودی پاکستان کی توجہ کشمیر سے ہٹا کر سندھ طاس معاہدے پر لگانا چاہتا ہے تو یہ بھی کشمیر تنازعہ ہی ہوگا۔



Photo

Post has attachment






برہان مظفروانی اقوام متحدہ میں

سردار عاشق حسین


کون جانتا تھا برہان مظفروانی کو؟ اس سال عید الفطر سے پہلے بہت کم لوگ 21 سا لہ برہان مظفروانی کے نام سے آشنا تھے مگر اب امریکہ ، چین برطانیہ، جاپان، سمیت دنیا بھر کے سربراھان مملکت جانتے ہیں کہ برہان مظفروانی کشمیریوں کی جدوجہد کی علامت ہے ۔ سبھاش چندر بوش جس طرح انگریزوں کی نظر میں دہشت گرد تھا برھان وانی بھی اسی طرح بھارت کے لیے دہشت گرد قرار پایا ہے ، مگر وہ کشمیریوں کی نئی نسل کا ہیرو ہے۔ وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے پہلے اسے مجاہد کشمیر قرار دیا تھا اور اب اس کے نام سے پوری دنیا کو روشناس کرادیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے21 ستمبر کو اپنے موجودہ دور حکومت میں چوتھی بار خطاب کیا اپنی 20 منٹ کی تقریر میں نواز شریف نے 12 منٹ تک وہ وجہ بیان کی جس نے 21 سا لہ برہان مظفروانی کو بھارت کے خلاف ہتھیار اٹھانے پر مجبور کیا۔ برھان کے بڑے بھائی خالد مظفر کو چودہ اپریل2015 کو بھارتی فوج نے قتل کر دیا تھا ایک سال بعد عید کے دوسرے دن 8 جولائی کو بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے قصبے ترال کے مقامی ہائر سکنڈری سکول کے سابق پرنسل مظفر احمد وانی کا چھوٹا بیٹا برہان مظفروانیبھی بھارتی فوج نے ماورائے عدالت قتل کر دیا،۔برہان مظفروانی کی شہادت نے کشمیریوں کی تحریک کو نیا عنوان دیا، نئی سمت طے کی۔ اب برھان مظفر وانی شہید وہ پہلا کشمیری ہے جس کا نام عالمی ادارے میں سنائی دیا۔ وزیراعظم میاں نوازشریف جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے آئے توان کی گفتگو مشرق وسطیٰ، افغانستان، فلسطین اور کئی دوسرے تنازعات سے شروع ہوئی ۔ لگتا تھا کہ وہ جنوبی ایشیا کے دیرینہ تنازعہ کشمیر اور کشمیریوںکو نظرانداز کر رہے ہیں اور شاید مشرق وسطیٰ کے حالات تنازعہ کشمیر پر حاوی رہیں گے مگر جب پاکستان اور بھارت کے تعلقات کا ذکر آیا تو نوازشریف نے دوٹوک کہہ دیا کہ تنازعہ کشمیر کو حل کئے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں دنیا بھر کے سربراہان مملکت نوازشریف کا خطاب سن رہے تھے۔ نوازشریف نے اپنے خطاب میں کشمیریوں کی نئی تحریک انتفادہ کا ذکر کیا یعنی نوازشریف یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ کشمیر کے اندر جو بے چینی اور انقلاب کی تحریک جاری ہے وہ 100 فیصد مقامی نوعیت کی ہے۔ نوازشریف نے مقبوضہ کشمیر کے گذشتہ 75 دنوں کا احاطہ کیا وہاں بھارتی فورسز کے ظلم و جبر کی کہانی سنائی اور یہی نہیں تنازعہ کشمیر کے سلسلے میں پاکستان کے نقطہ نظر اور مطالبات کو عالمی رہنماوں کے سامنے بیان کیا ۔ نوازشریف کی تقریر میں بنیادی طور پر 8 ایسے نکات تھے جو پاکستان کی طرف سے اجاگر کئے گئے اور جن میں کشمیریوں کی مشاورت بھی شامل تھی۔ ان نکات میں کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات ، اقوام متحدہ کے فیکٹ فائنڈنگ مشن کو کشمیر بھجوانے کا مطالبہ شامل ہے تاکہ وہ بھارت ا کے بہیمانہ تشدد کی تحقیقات کریں اور ذمہ داران کو سزا دی جائے شامل ہے اور یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان امن مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔ اقوام متحدہ، کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے، سلامتی کونسل اپنی فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے، بے گناہ کشمیریوں کو رہا کیا جائے اور کرفیو اٹھایا جائے۔ پاکستان غیر مشروط طور پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کے ناقدین کا مطالبہ رہا ہے کہ نوازشریف اس بڑے فورم پر مقدمہ کشمیر رکھنے سے پہلے کل جماعتی کانفرنس بلاتے اور کشمیری قیادت کو اعتماد میں لیتے۔ بلاشبہ یہ اہم تجویز ہے۔ نوازشریف عید کے فوراً بعد مظفرآباد گئے تھے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی قیادت اور آزاد کشمیر کی قیادت سے مشاورت کی گئی تھی۔ نوازشریف کی تقریر کے بیشتر نکات وہ تھے جو کشمیری قیادت نے باہمی مشاورت سے نوازشریف کے نوٹس میں لائے تھے۔ آزادکشمیر کے نئے صدر سردار مسعود عبداللہ نے حریت کانفرنس سے مشاورت سے ایک چارٹر آف ڈیمانڈ تیار کروایا تھا۔ جنرل اسمبلی سے خطاب میں نوازشریف نے انہی خطوط پر مقدمہ کشمیر پیش کیا ان نکات مین کشمیر سے فوجی انخلا کا نکتہ بھی شامل تھا۔کشمیر سے فوجی انخلاء کا معاملہ حساس ہے اس لئے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت فوجی انخلاء کا ایک میکانزم موجود ہے۔ یعنی جب فوجی انخلاء کا وقت آئے گا اقوام متحدہ کے فیصلے کے تحت بھارتی فوج کا کچھ حصہ کشمیر میں تعینات رہے گا جبکہ پاکستان کو اپنے ساری فوج نکالنی ہو گی۔ اس تناظر میں فوجی انخلاء کا یہ مطالبہ اس انداز میں کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان اور بھارت بیک وقت کشمیر سے فوج نکالیں۔ نوازشریف نے جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے کہا کہ وہ، کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے ۔ برحال وزیراعظم نوازشریف نے جاندار انداز میں کشمیر کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ نوازشریف کے خطاب کی آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر اور پاکستان میں ستائش کی گئی ہے۔ نوازشریف کے خطاب کے بعد ان کے سیاسی حریف حتی کہ تحریک انصاف کے وائس چیرمین شاہ محمود قریشی بھی خطاب کی ستائش کیے بغیر نہ رہ سکے ۔ دراصل کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہو رہے مظالم کے تناظر میں کشمیری قیادت جو ڈیمانڈ کر رہی ہے اسی ڈیمانڈ کو وزیراعظم نوازشریف نے عالمی ادارے کے فلور پر رکھ دیا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ 8 جولائی کو نوجوان عسکری کمانڈر برھان مظفر وانی کی شہادت کے بعد تحریک انتفادہ ایک نئے انداز سے شروع ہوئی۔ اس تحریک کا مرکز و محور یہ ہے کہ کشمیری پرامن طور پر اپنے حق کی آواز بلند کریں ۔ اپنے حق کے لئے احتجاج کر رہے کشمیریوں کے لئے برھان مظفر وانی آزادی کا ایک استعارہ بن چکا ہے۔ اس نوجوان لڑکے
نے اپنی جان کی قربانی دے کر کشمیر کی تحریک کو نئی جان دی ہے ۔ اس نوجوان کی سچائی، خلوص کا نتیجہ ہے کہ آج اس کا نام عالمی ادارے میں بھی فخر سے لیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ 8 جولائی کے بعد کشمیری عوام یک جان ہو کر حق خودارادیت کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کو یک جان کرنے میں برھان مظفر وانی کا نام سب سے اہم ہے۔ برھان مظفر وانی کی شہادت نے کشمیری نوجوانوں کو روزمرہ کی تمام سرگرمیاں معطل کر کے آزادی کے لئے جدوجہد کرنے پر مجبور کر دیا ہے اور اب جدوجہد میں مرد و زن، بچے بوڑھے سبھی شامل ہو چکے ہیں۔ بقول نواز شریف گزشتہ 2 ماہ میں ہندوستانی فوج کی فائرنگ سے ایک سو سے زیادہ شہری شہید 6 ہزار سے زائد کشمیری زخمی ہوئے، کشمیریوں کی نئی نسل ہندوستان سے آزادی چاہتی ہے۔ نواز شریف نے مقبوضہ کشمیر میں نہتے مظاہرین کے خلاف استعمال ہونے والی پیلٹ گن کا بھی زکر کیا یہ ایک خطرناک ہتھیار ہے۔ اس لئے کہ پیلٹ کے فائر سے نکلنے والے چھرے انسانی جسم کو چھلنی کر دیتے ہیں اور یہ چھرے آنکھوں میں لگیں تو آنکھیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ پیلٹ گن مارتی نہیں زندہ لاش بنا دیتی ہے۔ استعماری ریاست اسرائیل نے بھی ایک دور میں فلسطینیوں کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال کیا تھا۔ عالمی برادری کے دباؤ کے نتیجے میں اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف پیلٹ گن کا استعمال ترک کر دیا تھا مگر بھارت کی طرف سے کشمیریوں کے خلاف اب بھی پیلٹ گن کا استعمال جاری ہے۔ اہم بات یہ بھی ہے کہ نوازشریف نے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش نہیں کی کہ کشمیری پاکستان کا جھنڈا لہراتے ہیں اور پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں بلکہ کشمیریوں کی جائز اور مبنی برحقیقت جدوجہد کو تحریک انتفادہ کے نام سے اجاگر کیا۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کشمیریوں کو رائے شماری کا موقع ملتا ہے تو وہ کیا فیصلہ کریں گے۔ تاہم کشمیریوں کے فکری قائد سید علی گیلانی کہتے ہیں کہ ہماری امیدوں کا مرکز پاکستان ہے مگر کشمیریوں کی اجتماعی رائے اگر مختلف آئی تو میں اسے بخوشی قبول کروں گا۔


Photo

Post has attachment


تولی پیر میں مہاراجہ کے خزانے کی تلاش

سردار عاشق حسین


اعتبار مت کیجیے گا چلچلاتی دھوپ آپ کو اچھی لگے گی مگر موسم کسی بھی لمحے آپ کو دھوکہ دے سکتاہے بادل اس دھوپ کو چھپا لیں گے۔لمحوں میں بادل پہاڑوں کو ڈھک لیں گے اور پھر بارش سے ہونے والی سردی آپ کو پریشان کرے گی۔ اگر آپ بارش کے پانی سے گھبراتے ہیں تو اپنے ساتھ ایک برساتی سفر تولی پیر کے لیے ساتھ ضرورکھ لیں آپ کے پاس برساتی نہیں ہے تو پریشانی کی کوئی بات نہیں ایک سو پچاس روپے فی گھنٹہ کرائے پر آپ کو ایک برساتی مل جائے گی ۔ برساتی آپ کے پاس ہو یا نہ ہو یہ تو طے ہے کہ تولی پیر کے بل کھاتی پاڑی چوٹیاںاور ان کا سبزہ آپ کو اپنے سحر میں ضرور جھکڑ لے گا ایک کے بعد دوسری چوٹی آپ کو کھنچتی ہوی اپنے پاس بلائے گی ۔سب سے اونچی چوٹی پر پہنچنے ہی آپ کے سامنے مقبوضہ پونچھ شہر ہوگا۔ جب آپ کھائیوں کی طرف دیکھیں گے تو آپ کو پہاڑوں کی ڈھلانوں پر روائتی کشمیری گھر ایستادہ نظر آئیں گے ۔ تولی پیر راولاکوٹ سے 30 کلومیٹر دور تین پہاڑی سلسلوں کا سنگم ہے ۔ یہاں سے عباس پور، لس ڈنہ اور مقبوضہ پونچھ کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ دن کے اجالے میں یہ طے کرنا مشکل لگتا ہے کہ مقبوضہ پونچھ اور تولی پیر پہاڑی سلسلوں کے درمیان وہ کون سی لکیر ہے جو دونوں خطوں کو جدا کرتی ہے۔ ہاں اگر آپ شام کو اس مقام پر موجود ہوں تو لائن آف کنٹرول پر ہندوستان کی جانب سے بنائی گئی باڑھ بجلی کے قمقموں سے اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے اور یہ معلوم پڑ جاتا ہے کہ اس بارڑ سے آگے مقبوضہ پونچھ شروع ہوتا ہے۔تولی پیر کے سب سے اونچی چوٹی پر ایک پیر صاحب کا جھونپڑا نمامزار ہے۔ معلوم نہیں پیر صاحب تولی پیرکیا کرنے آئے تھے۔کچھ عرصہ پہلے تک پیر بادشاہ گیلانی کے نام کی تختہ بھی یہاں آویزاں تھی۔ پیر بادشاہ گیلانی کون تھے ؟کیا وہ تولی پیر میں مدفن ہیں؟ یا تولی پیر پر انہوں نے دعوت و تبلیغ کاکوئی کام کیا تھا یا پھر انہوں نے ڈوگرہ فوج سے کوئی لڑائی لڑی تھی ایسی کوئی چیز پرانے بزرگوں کی گفتگو اور تاریخ کی کتابوں میں نہیں ملتی لیکن پیر کے نام پر اس صحت افزا مقام کے ایک حصہ پر قبضہ ضرور برقرار ہے۔ 1947 میں ریاست جموں وکشمیر کا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ تھا۔ کہتے ہیں مہاراجہ ہری سنگھ کی ڈوگرہ فوج نے بغاوت کے موقع پر پونچھ کے آزاد خطے سے بھاری خزانہ اکٹھا کر لیا تھا جو مقبوضہ پونچھ شہر لے جایا جانا تھا ڈوگرہ فوج نے تولی پیر سے پسپا ہوتے ہوے سونے اور چاندی سے بھرے باکس ادھر ہی کہیں زمین میں دبا دیے تھے۔ کچھ سال پہلے سندر سنگھ کا خزانہ دھمنی کے مقام سے برامد ہوا تھا مریدوں کو زمین پر قبضے کے لیے جعلی مزار قائم کرنے کے بجائے مہاراجہ ہری سنگھ کا خفیہ خزانہ تلاش کرنا چاہیے۔ اب یہ بھی دعوی کیا جارہا ہے کہ تولی پیر کے اس مقام پر شاہ ہمدان کا گزر ہوا تھا۔ زمینوں پر قبضے کے لیے مساجد بنانے اور مزار بنانے کا یہ عمل مناسب نہیں ہے ۔۔یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کیپٹن حسین خان شہید
ہی وہ شخص تھا جس نے جنگ آزادی 1947 میں تولی پیر کے گردونواح میں ڈوگرہ فوج کو شکست فاش دے کر بھاگنے پر مجبور کیاتھا۔ تولی پیر سے ڈوگرہ فوج کو بھگانے کے بعد کیپٹن حسین خان شہید گلہ کے مقام پر 11 نومبر 1947کو شہید ہو گئے تھے جبکہ ڈوگرہ فوج نے پونچھ شہر جا کر دم لیاتھا۔ میری رائے میں تولی پیر کے سب سے اونچے مقام پر کیپٹن حسین خان شہید کی ایک یادگار ہونی چاہیے۔پاکستان اور آزاد کشمیر کے دوردارز علاقوں سے ہر روز سکولوں،کالجوں کے بچے تولی پیر کی سیر کے لیے آتے ہیں انہیں بتانے کی ضرورت ہے کہ کیپٹن حسین خان شہید ہی وہ شخص تھے جنہوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر اس صحت افزاء مقام کو حاصل کیا تھا وگرنہ آج تولی پیر جیسا اہم سیاحتی مقام مقبوضہ پونچھ شہر کا حصہ ہوتا اور ہم کھائی گلہ سے تولی پیر کی طرف صرف حسرت بھر نگاہوں سے ہی دیکھتے ۔عید قربان کے بعد بیف پارٹی کے بعد اس دفعہ تولی پیر کی سیاحت کا پروگرام بنا مگر مشکل یہ تھی کہ راولا کوٹ سے کھائی گلہ تک اچھی سڑک پر سفر کا مزہ اس وقت کرکرہ ہوجاتا ہے جب کھائی گلہ سے تولی پیر کی طرف اونچائی میں سفر شروع ہوتا ہے۔کھائی گلہ سے تولی پیر بیس کیمپ ( تولی پیر پارکنگ ایریا) تک راستے کو سڑک نہیں کہا جا سکتا۔ دس منٹ کا سفر دو گھنٹے میں طے ہوتا ہے چنانچہ ہم بھی ہچکولے کھاتی گاڑی پر دو گھنٹے میں یہ سفر طے کر کے تولی پیر بیس کیمپ تک پہنچے۔ آزاد کشمیر محکمہ سیاحت اور محکمہ جنگلات نے آپ کے لیے کوئی خاص انتظام نہیں کر رکھا آپ بس چالیس روپے دے کر گاڑی پارک کرسکتے ہیں ۔ کم و بیش پانچ سے سات ہزار افراد ہر روز تولی پیر کا رخ کرتے ہیں مگر بد قسمتی سے محکمہ سیاحت سیاحوں کے لیے ایک بھی پبلک ٹوائلٹ بنانے میں کامیاب نہیں ہوا ۔ تولی پیر کے لیے ہمارا سفر ،عبدالسمیع،،وہاب ، نوری ، کائنات اور دوسروں کے ساتھ گوئی نالہ روڈ پر واقع گاوں میدان سے شروع ہوا۔ راولاکوٹ فوجی فاوندیشن سکول سے مریم ، اریب اور عادل کو اور چہڑھ سے وانیہ کوبھی ساتھ لے لیا تاہم اسفند کی نیند نے اسے سفر تولی پیر سے محفوط رکھا۔ اس قدرتی صحت افزاء مقام کو صاف ستھرا رکھنے کی ہماری بھی ذمہ داری ہے مگر یہ کام بھی ہم نے قدرت پر چھوڑ رکھاہے۔سیاح اپنے ساتھ پانی کی بوتلیں،بسکٹ اور کئی طرح کی چیزیں لاتے ہیں جو تولی پیر میں ہی بکھیر دیتے ہیں۔اس کوڑا کرکٹ کو قدرت کی طرف سے ہونے والی بارش کا پانی ہی دھو سکتا ہے۔اگر آپ تولی پیر جارہے ہوں تو میرا مشورہ مانیں اپنے ساتھ ایک خالی تھیلا بھی لے جائیں جس میں ریپر،پھلوں کے چھلکے ،خالی بوتلیں ڈالیں اور واپس لا کر بیس کیمپ میں ٹھکانے لگادیں ۔میری تحریک پروہاب ، نوری نے بھی ایسا ہی کیا۔ غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے سیاحوں کے لیے آگاہی مہم شروع کرنے کی ضرورت ہے جس میں سیاحوں کو بتایا جائے کہ اس مقام کو کیسے آلودہ ہونے سے بچایا جائے آسان حل یہ ہے کہ استعمال شدہ چیزیں تھیلے میں ڈال کر واپس بیس کیمپ لائی جائیں۔تولی پیر کے حسین نظارے پرکشش ضرور ہیں مگر کبھی کبھی استعمال شدہ بکھری چیزیں ناگوار گزرتی ہیں اس لیے ہماری طرح آپ بھی پہلی کیجیے۔تولی پیر کی سیر کے دوران ہم نے جی بھر کر والی بال کھیلا،کرکٹ سے بھی لطف اندوز ہوئے۔ آپ کو تولی پیر کے پہاڑوں پر ایسے نوجوانوں کے گروپس ملیں گے جو گانے بجانے کے شوقین ہوتے اورانہوں نے اس کا اہتمام کیا ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تولی پیر کے مقام پر خواتین ،بچے اورعورتیں بلا خوف وخطر گھوم پھر سکتی ہیں۔ وہاں کا موسم اور سیاحت سے لطف اندوز ہو سکتیں ہیں۔ان کے ساتھ ناشائستہ سلوک کی کوئی روایت ہے نہ شکایت۔سرسبز نظاروں کے دوران اگر جوتے اتار دئے جائیں تو نیچے بچھا سبز قالین بہت نرمی سے پیش آئے گا اور نرم و تروتازہ گھاس کی تراوٹ آنکھوں میں سرائیت کرجائے گی۔ تیار رہیے تولی پیر کا سبز لبادہ اب سفید چادر میں بدلنے والا ہے۔ستمبر کے بعد تولی پیر کے موسم میں بھی تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے اکتوبر کے بعد برفباری شروع ہو جائیگی اگرچہ برفباری کا موسم بھی تولی پیر کے حسن میں اضافے کا باعث بنتا ہے مگر مشکل یہ ہے کہ خراب راستے کی وجہ سے آپ کو تولی پیر پہنچنے کے لیے مشکلات درپیش آئیں گی۔پونچھ شہر کے نظارے کے بعد میں نے بچوں کے ساتھ دوڑ کے مقابلے کا اہتمام کیااور اس کے بعد پونچھ شہر کے سامنے ایک پہاڑ پر تکے بنانے شروع کیے وجہ یہ تھی کہ عبدالسمیع جب ساتھ ہو تو اس کے کھانے پینے کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔ تولی پیر کی چراگاہ میں لوگوں کی اٹھکھیلیوں سے بے پرواہ گاہے بگاہے پالتو جانور بھی ملیں گے۔ کم و بیش دو گھنٹے بعد ہماری اگلی منزل تولی پیر کا بیس کیمپ تھا جہاں چھپر ہوٹل کی چائے آپ کی تھکاوٹ دور کرنے کاباعث بنی۔ چھپر ہوٹل کی بوسیدہ دیواریں دیکھ کر گھبرائیں مت پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر یہ چھپر ہوٹل بھی غنیمت ہے جہاں چائے اور،کھانا مل سکتا ہے ۔ بیس روپے کے عوض واش روم بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تولی پیر کی سیر کے بعدبنجواستہ جیل کا نیلگوں پانی ہماری آنکھوں کو خیرہ کررہا تھاشام کے سائے اور پھر رات کا گہرا ہوتا اندھیراہمارے قافلے کا رخ راولاکوٹ شہر کی طرف موڑنے کا باعث بنا۔سفرتولی پیر کے اختتام پر ایک نئی روایت کا سامنا کرنا پڑا۔ راولاکوٹ کے نواحی گاوں میدان میں عزیزم نجیب قدیر کی شادی میں پہنچا تو حیرت زدہ ہوا ،کشمیر کی آزادی کے نام پر تقریر ہوئیں ، مشاعرہ اور پھر بزم قوالی بھی ہوئی۔ بیلجیم میں مقیم قوم پرست رہنماء خلیل احمد حبیب، روف کشمیری ، صابر کشمیر ی اور دوسرے احباب موجود تھے ۔



Photo
Wait while more posts are being loaded