Post has shared content

Post has shared content
ام المومنین حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ تعالی عنہا

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا نام برہ تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح میں آنے کے بعد آپ کا نام میمونہ رکھا جس کا معنی برکت دہندہ ہے ، آپ قبیلہ قیس بن عیلان سے تھیں۔

سلسلۂ نسب یہ ہے:
میمونہ بنت حارث بن حزن بن بحیر بن ہزم بن رویبہ بن عبداللہ بن ہلال بن عامر بن صعصعہ بن معاویہ بن ہوازن بن منصور بن عکرمہ بن خصفہ بن قیس بن عیلان ۔
والدہ کا نام ہند بنت عوف بن زہیر بن حارث بن حماطہ بن جرش تھا۔

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا پہلا نکاح مسعود بن عمرو بن عمیر ثقفی سے ہوا، انہوں نے کسی وجہ سے طلاق دے دی، پھر ابو رہم بن عبدالعزی کے نکاح میں آئیں۔ 7 ھ میں انہوں نے وفات پائی اور حضرت میمونہ بیوہ ہو گئیں، اسی سال حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم عمرۃ القضاء کے لئے مکہ مکرمہ تشریف لے گئے، تو حضور صلی الہ علیہ وسلم کے عم محترم حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لینے کی تحریک کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم رضامند ہو گئے۔
چنانچہ احرام کی حالت میں ہی شوال 7ھ میں 500 درہم مہر پر حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح ہوا۔ عمرہ سے فارغ ہو کر مکہ سے دس میل کے فاصلہ پر بمقام ‘‘سرف’’ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابو رافع رضی اللہ عنہ ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر اسی جگہ آ گئے اور یہیں رسم عروسی ادا ہوئی، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری زوجۂ مطہرہ تھیں، ان سے نکاح کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی اور نکاح نہیں فرمایا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نہایت خداترس اور متقی تھیں، ہم سب میں زیادہ خدا سے ڈرنے والی اور صلہ رحمی کا خیال رکھنے والی تھیں۔

مدینہ طیبہ میں ایک دفعہ ایک خاتون سخت بیمار ہو گئی، اس نے منت مانی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفا دی تو بیت المقدس جا کر نماز ادا کروں گی، اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا قبول کر لی، منت پوری کرنے کے لئے بیت المقدس جانے کا ارادہ کیا، سفر پر روانہ ہونے سے قبل حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے رخصت ہونے آئی اور تمام ماجرا بیان کیا، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے اسے سمجھایا کہ مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام میں نماز پڑھنے کا ثواب دوسری مساجد میں نماز پڑھنے سے ہزار گنا زیادہ ہے۔
بیت المقدس جانے کے بجائے مسجد نبوی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام میں نماز پڑھ لو منت بھی پوری ہو جائے گی اور ثواب بھی زیادہ ملے گا۔ آپ کے اس مبارک مشورے سے سفر کی تکالیف سے بچ گئیں اور مسجد نبوی کی اہمیت سے بھی واقف ہو گئیں۔

ایک دن حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جو آپ کے بھانجے تھے، اس حال میں آئے کہ بال پراگندہ اور بکھرے ہوئے تھے‘ آپ نے فرمایا: یہ حالت کیوں ہے؟ تو بولے میری بیوی ایام میں ہے، کیونکہ وہ ہی مجھے کنگھا کرتی تھی تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کبھی ہاتھ بھی ناپاک ہوتے ہیں اور فرمایا: کہ ہم اس حالت میں ہوتی تھیں اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہماری گود میں سر رکھ کر لیٹتے تھے اور قرآن کریم تلاوت فرماتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نہایت بلیغ انداز میں سمجھایا کہ عورتیں اس حالت میں حسی طور پر ناپاک نہیں ہوتیں بلکہ یہ ناپاکی حکمی ہوا کرتی ہے۔

شریعت کی خلاف ورزی پر جلال کا اظہار فرماتیں اور برائی سے بروقت منع فرماتیں، چنانچہ ایک دفعہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کا ایک قریبی رشتہ دار اس حالت میں حاضر ہوا کہ اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی، وہ سخت غضبناک ہوئیں اور اسے جھڑک کر کہا کہ آئندہ کبھی میرے گھر میں قدم نہ رکھنا۔

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بہت ہی مخیر اور فیاض تھیں، وقتاً فوقتاً قرض لینے کی نوبت آ جاتی تھی۔ ایک دفعہ بہت زیادہ رقم قرض لے لیا
کسی نے پوچھا: ام المومنین! اتنی زیادہ رقم کی ادائیگی کی کیا صورت ہو گی؟ فرمایا: میں نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص قرض ادا کرنے کی نیت سے قرض لیتا ہے، اللہ تعالیٰ خود اس کے قرض کی ادائیگی کے اسباب مہیا کر دیتا ہے۔

وصال مبارک:
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے 51 ھ میں "سرف” کے مقام پر وصال فرمایا اور اسی چھپر میں آپ کی آرام گاہ ہے جہاں آپ کی رسم عروسی ادا ہوئی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نماز جنازہ پڑھائی۔ محدث عطاء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب جنازہ اٹھایا گیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جنازہ کو زیادہ حرکت نہ دو، یہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفیقۂ حیات ہیں۔ چنانچہ عبداللہ بن عباس، یزید بن اصم، عبداللہ بن شداد اور عبداللہ خولانی رضی اللہ عنہم نے قبر شریف میں اتارا۔
(زرقانی، جلد 3)

روایت کردہ احادیث شریفہ:
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے 76 حدیثیں مروی ہیں، ان میں سے 7 متفق علیہ ، ایک صحیح بخاری میں اور ایک صحیح مسلم میں ہے، بعض کا کہنا ہے کہ 5 احادیث صحیح مسلم میں منفرد ہیں۔ ان کے راویوں میں حضرت عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن شداد ، عبدالرحمن بن سائب رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ ازواج مطہرات کے علاوہ دو بعد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات میں شامل ہوئیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی چار کنیزیں تھیں، جن میں سے دو مشہور ہیں۔
ضیاء الدین نقشبندی ۔۔۔
Photo

Post has shared content
Dua mange wala Thoda mere liye bhi

Post has shared content

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo
Wait while more posts are being loaded