Post has shared content
💖💖💖💖🌷🌷🌷🌷🌹🌹🌹🌹
Photo

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content
خلافت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ(39)

فارس 23 ہجری (644 عیسوی):
======================

(حال کے جغرافیہ میں عراق کی حدود گھٹا کر فارس کی حدود بڑھا دی گئی ہیں۔ مگر ہم نے جس وقت کا نقشہ دیا ہے اس وقت فارس کے حدود یہ تھے۔ شمال میں اصفہان جنوب میں بحر فارس مشرق میں کرمان اور مغرب میں عراق۔ عرب اس کا سب سے بڑا اور مشہور شہر شیراز ہے۔ )

فارس پر اگرچہ اول اول 17 ہجری میں حملہ ہوا۔ لیکن چونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اجازت سے نہ تھا اور نہ اس وقت چنداں کامیابی ہوئی۔ ہم نے اس زمانے کے واقعات کے ساتھ اس کو لکھنا مناسب نہ سمجھا۔ عراق اور اہواز جو عرب کے ہمسایہ تھے فتح ہو چکے تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ہمارے اور فارس کے بیچ میں آتشیں پہاڑ حائل ہوتا تو اچھا تھا۔ لیکن فارس سے ایک اتفاقی طور پر جنگ چھڑ گئی۔ علاء بن الحضرمی 17 ہجری میں بحرین کے عامل مقرر ہوئے۔ وہ بڑی ہمت اور حوصلہ کے آدمی تھے۔ اور چونکہ سعد بن وقاص سے بعض اسباب کی وجہ سے رقابت تھی۔ ہر میدان میں ان سے بڑھ کر قدم مارنا چاہتے تھے۔ سعد نے جب قادسیہ کی لڑائی جیتی تو علاء کو سخت رشک ہوا۔ یہاں تک کہ دربار خلافت سے اجازت تک نہ لی۔ اور فوجیں تیار کر کے دریا کی راہ فارس پر چڑھائی کر دی۔ خلید بن منذر سر لشکر تھے اور جارود بن المعلی اور سوار بن ہمام کے ماتحت الگ الگ فوجیں تھیں۔ اصطخر پہنچ کر جہاز نے لنگر کیا۔ اور فوجیں کنارے پر اتریں۔ یہاں کا حاکم ہیربد تھا۔ وہ ایک انبوہ کثیر لے کر پہنچا اور دریا اتر کر اس پار صفیں قائم کیں کہ مسلمان جہاز تک نہ پہنچ پائیں۔ اگرچہ مسلمانوں کی جمعیت کم تھی۔ اور جہاز بھی گویا دشمن کے قبضے میں آ گئے تھے۔ لیکن سپہ سالار فوج کی ثابت قدمی میں فرق نہ آیا۔ بڑے جوش کے ساتھ مقابلہ کو بڑھے اور فوج کو للکارا کہ مسلمانو! بے دل نہ ہونا۔ دشمن نے ہمارے جہازوں کو چھیننا چاہا ہے۔ لیکن خدا نے چاہا تو جہاز کے ساتھ دشمن کا ملک بھی ہمارا ہے۔
خلید اور جارود بڑی جانبازی سے رجز پڑھ پڑھ کر لڑے اور ہزاروں کو تہ تیغ کیا۔ خلید کا رجزیہ تھا :

یاآل عبدالقیس للنزاع
قدحفل الامداد بالجراع

وکلھم فی سنن المصاع
بحسن ضرب القوم بالقطاع

غرض سخت معرکہ ہوا۔ اگرچہ فتح مسلمانوں کو نصیب ہوئی، لیکن چونکہ فوج کا بڑا حصہ برباد ہو گیا، نہ بڑھ سکے۔ پیچھے ہٹنا چاہا۔ مگر غنیم نے جہاز غرق کر دیئے تھے۔ مجبور ہو کر خشکی کی راہ بصرہ کا رخ کیا۔ بدقسمتی سے ادھر بھی راہیں بند تھیں۔ ایرانیوں نے پہلے سے ہر طرف ناکے روک رکھے تھے۔ اور جا بجا فوجیں متعین کر دی تھیں۔

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فارس کے حملہ کا حال معلوم ہوا تو نہایت برہم ہوئے۔ علاء کو نہایت تہدید نامہ لکھا۔ ساتھ ہی عتبہ بن غزوان کو لکھا کہ مسلمانوں کے بچانے کے لیے فوراً لشکر تیار ہو اور فارس پر جائے۔ چنانچہ بارہ ہزار فوج جس کے سپہ سالار ابو سرۃ تھے تیار ہو کر فارس پر بڑھی اور مسلمان جہاں رکے پڑے تھے وہاں پہنچ کر ڈیرے ڈالے۔ ادھر مجوسیوں نے ہر طرف نقیب دوڑا دیئے تھے۔ اور ایک انبوہ کثیر اکٹھا کر لیا جس کا سر لشکر شہرک تھا۔ دونوں حریف دل توڑ کر لڑے۔ بالآخر ابوسرۃ نے فتح حاصل کی۔ لیکن چونکہ آگے بڑھنے کا حکم نہ تھا۔ بصرہ واپس چلے آئے۔

واقعہ نہاوند کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہر طرف فوجیں روانہ کیں تو فارس پر بھی چڑھائی کی۔ اور جدا جدا فوجیں متعین کیں۔ پارسیوں نے توج کو صدر مقام قرار دے کر یہاں بڑا سامان کیا تھا۔ لیکن جب اسلامی فوجیں مختلف مقامات پر پھیل گئیں تو ان کو بھی منتشر ہونا پڑا اور یہ ان کی شکست کا دیباچہ تھا۔ چنانچہ سابور، اردشیر، توج، اصطخر سب باری باری فتح ہو گئے۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اخیر خلافت یعنی 23 ہجری میں جب عثمان بن ابی العاص بحرین کے عامل مقرر ہوئے تو شہرک نے جو فارس کا مرزبان تھا، بغاوت کی اور تمام مفتوحہ مقامات ہاتھ سے نکل گئے۔ عثمان نے اپنے بھائی حکم کو ایک جمیعت کثیر کے ساتھ مہم پر مامور کیا۔ حکم جزیرہ ابکادان فتح کر کے توج پر بڑھے اور اس کو فتح کر کے وہیں چھاؤنی ڈال دی۔ مسجدیں تعمیر کیں اور عرب کے بہت سے قبائل آباد کئے۔ یہاں سے کبھی کبھی اٹھ کر سرحدی شہروں پر حملہ کرتے اور پھر واپس آ جاتے۔ اس طرح اردشیر، سابور، اصطخر، ارجان کے بہت سے حصے دبا لئے۔ شہرک یہ دیکھ کر نہایت طیش میں آیا۔ اور ایک فوج عظیم جمع کر کے توج پر بڑھا۔ رامشہر پہنچا تھا کہ ادھر سے حکم خود آگے بڑھ کر مقابل ہوئے۔ شہرک نے نہایت ترتیب سے صف آرائی کی۔ فوج کا ایک دستہ اس نے پیچھے رکھا کہ کوئی سپاہی پاؤں ہٹائے تو وہیں قتل کر دیا جائے۔

غرض جنگ شروع ہوئی اور دیر تک معرکہ رہا۔ پارسیوں کو شکست ہوئی اور شہرک جان سے مارا گیا۔ اس کے بعد عثمان نے ہر طرف فوجیں بھیج دیں۔ اس معرکہ سے تمام فارس میں دھاک بیٹھ گئی۔ عثمان نے جس طرف رخ کیا، ملک کے ملک فتح ہوتے چلے گئے۔ چنانچہ گازروں، نوبند جان، ارجان، شیراز، سابور جو فارس کے صدر مقامات ہیں، خود عثمان کے ہاتھ سے فتح ہوئے۔ فساء دار البحر وغیرہ فوجیں گئیں اور کامیاب آئیں۔

==================> جاری ہے ۔۔۔
Photo

Post has shared content
بِســــــمِ اللهِ الَـــرَّحْـمَـــنِ الــرَّحِيــــم

اسلام میں مردوں کے کپڑے پہنے کے آداب--!

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الإِزَارِ فَفِي النَّارِ

ابوہریرہ رضى الله عنه فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے ٹخنوں کے نیچے ازار باندھا وہ دوزخ میں ہوگا۔

[ صحیح البخاری حدیث : 5787 ]

#کپڑے_پہننے_کے_آداب #الحدیث
Photo

Post has shared content
یہ دل کا پرندہ بھی عجب شے ھے ,
کہ جس نے

پیاسا بھی رہا
دشت سے ہجرت بھی نہ کی
Photo

Post has shared content
بسم الله الرحمن الرحيم
الدرس الاول
احكام النون الساكنة والتنوين
النون الساكنة لا يوجد عليها فتحة او ضمة او كسرة.
النون المتحركة عليها اما ضمة او فتحة او كسرة
النون التي عليها شدة تسمى نون مشددا نقف عليها حركتان ومقدار الحركة ثانية واحدة
النون الساكنة ليس عليها حركة
وحكم التنوين له نفس حكم النون الساكنة
لماذا احكام التنوين لها نفس احكم النون الساكنة: لان التنوين في النطق هو نون ساكنة
احكام النون الساكنة والتنوين تنقسم الى اربعة وهي
الاظهار
الادغام
الاقلاب
الاخفاء
حروف الاظهار هي : [ ء - ه‍ ع - ح -غ - خ ]
لو اتى اي حرف من حروف الاظهار بعد النون الساكنة او بعد التنوين يكون حكم النون او التنوين الاظهار
مثال (من أنصاري الى الله) هنا يكون حكم النون الاظهار لان الهمزة اتت بعد النون الساكنة وهي حرف من حروف الاظهار
مثال اخر مع التنوين وقلنا التنوين له نفس الحكم مع النون الساكنة
[عليما حكيما ] الميم هنا عليها فتحتين يعني تنوين وجاء بعدها حرف ح وهو من حروف الظهار
تنويه
الاظهار يكون في كلمة واحدة وفي كلمتين
مثال مع النون في كلمة
ينئون - ينهون انعم - وتنحتون - المنخنقة
مثال اخر مع النون في كلمتين
من أمن - من هاد - من عمل - من حيث -
من غل - من خير
هذه هي حروف الظهار وحكم التنوين له نفس حكم النون الساكنة
في الدرس القادم بحول الله سانكمل احكام النون الساكنة مع الادغام
دمتم في رعايتي الله وحفظه احبتي
Photo
Wait while more posts are being loaded