Post is pinned.Post has shared content

Post has attachment
Follow me as I share my day and life's ups and downs. Come join my family and subscribe to my channel 💞

Post has attachment

Sometimes all we need is to accept that others are human and they can also make mistakes and as we want Allah Pak to forgive us we need to forgive them to restore peace in our life...

Who spend [in the cause of Allah ] during ease and hardship and who restrain anger and who pardon the people - and Allah loves the doers of good [Al Quran 3: 133]

We to have these qualities in ourself..

Post has shared content
Inn shaa Allah <3

Post has shared content
ابلیس کی مجلسِ شوریٰ (4)
ارمغانِ حجاز از علامہ محمد اقبال

تعارفِ نظم: یہ نظم 1936ء میں لکھی گئی۔ اس نظم کو پسِ منظر کی مدد سے سمجھا جائے تو معانی زیادہ بہتر واضح ہوں گے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں دنیا نے چند انقلاب دیکھے جن میں روس کے سیاسی انقلاب کے بعد بادشاہت کا خاتمہ ہوا اور وہاں کمیونزم آیا، اٹلی میں فاشسٹ ریاست کا قیام ہوا، جرمنی میں نازی ازم نے فروغ حاصل کیا، جاپان اور سپین میں آمرانہ نظام قائم ہوئے۔ یہ علامہ کی طویل نظم ہے جس میں انہوں نے اپنا پیغام دینے کےلئے تمثیلی پیرایا اختیار کیا ہے۔اس میں ابلیس ایک مجلس شوریٰ تشکیل دینا ے جس میں سربراہ وہ خود ہے۔ ابتدائی خطاب ابلیس خود کرتا ہے جبکہ اس کے پانچ ارکان اظہارِ خیال کرتے ہیں اور آخر میں ابلیس فیصلہ کن رائے دے کر اس مجلس کو اختتام تک پہنچاتا ہے۔

تیسرا مشیر
روحِ سلطانی رہے باقی تو پھر کیا اضطراب
ہے مگر کیا اس یہودی کی شرارت کا جواب؟
وہ کلیمِ بےتجلی! وہ مسیحِ بے صلیب
نیست پیغمبر و لیکن در بغل دارد کتاب
کیا بتاؤں کیا ہے کافر کی نگاہِ پردہ سوز
مشرق و مغرب کی قوموں کےلئے روزِ حساب
اس سے بڑھ کر اور کیا ہو گا طبیعت کا فساد
توڑ دی بندوں نے آقاؤں کے خیموں کی طناب

٭پہلے مشیر سے جمہوری نظام کی حقیقت سن کر ابلیسی مجلس کا ایک اور رکن اٹھتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر جمہوری نظام شاہی نظام سے بھی بدتر ہے تو ہمیں واقعی اس سے خطرہ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن ایک اور خطرہ سر اٹھا رہا ہے۔
ایک یہودی کارل مارکس کے نام سے کھڑا ہوا ہے اس نے دنیا کو اشتراکی نظام دے کر ہمارے خلاف جو شرارت کی ہے اس کا تمہارے پاس کا کیا جواب ہے؟
(کارل مارکس خدا اور مذہب کا منکر تھا، جرمنی نے اسے جلا وطن کر دیا تھا۔ اس کی کتاب "دی کیپیٹل" مشہور ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ دولت کی بنیاد محنت ہے اس کے بغیر سامائے کی کوئی حقیقت نہیں۔ روس میں اس کتاب نے بہت شہرت حاصل کی اور یہی کتاب وہاں اشتراکی نظام کی وجہ بنی۔)
٭ اس یہودی کی مزید نشانیاں بتاتے ہوئے مشیر کہتا ہے کہ یہ وہ یہودی ہے جسے ملوکیت کی چکی میں پسے ہوئے لوگ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کا درجہ دیتے ہیں۔ گو کہ یہ یہودی پیغمبر تو نہیں ہے لیکن ایک غیر الہامی کتاب ضرور رکھتا ہے جو لوگوں کو متاثر کر رہی ہے اس کتاب کو مذہبی کتابوں کی طرح عزت دی جا رہی ہے۔
٭اس ابلیسی نظام کے منکر(کارل مارکس) نے ہمارے نظاموں کے اندر دیکھ لیا ہے اور اب اپنی طرف سے ایک نظام دیا ہے جس سے غریب اور فاقہ کش جاگ گئے ہیں اور وہ بھی اپنے حقوق کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ ان کا جاگنا ظالموں کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ جاگی ہوئی قوم ان سرمایہ داروں سے ان کے مظالم کا حساب مانگنے لگے۔
٭ اس شعر میں اشتراکی انقلاب کی طرف اشارہ ہے جس کے ذریعے روس میں شہنشاہیت کا خاتمہ کر کے اشتراکی نظام رائج کیا تھا۔ بڑے بڑے جاگیرداروں کو قتل کر کے نوابوں اور وڈیروں سے زمینیں چھین لی گئی تھیں۔ مشیرِ ابلیس اسے اپنے نظام کےلئے بہت بڑا خطرہ قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اسی کی وجہ سے مزدوروں میں یہ جرات پیدا ہوئی ہے انہوں نے آقاؤں کے خیمے اکھاڑ دیئے ہیں،جن کو ہم نے تقدیر کا سبق سکھایا تھا اب انہوں نے تمام سرمایہ داروں کا رعب سب خاک میں ملا دیا ہے۔

چوتھا مشیر
توڑ اس کا رومتہ الکبریٰ کے ایوانوں میں دیکھ
آلِ سیزر کو دکھایا ہم نے پھر سیزر کا خواب
کون بحرِ روم کی موجوں سے ہے لپٹا ہوا
گاہ بالد چوں صنوبر، گاہ نالد چوں رباب
٭ رومتہ الکبریٰ (سلطنتِ روم) ۔۔۔۔ چوتھا مشیر اٹھتا ہے اور تیسرے مشیر کی پریشانی دیکھتے ہوئے کہتا ہے کہ اس اشتراکی نظام سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نے اس کا توڑ بھی نکال لیا ہے اور اس کا توڑ "مسولینی" نام کا شخص ہے۔ اس نے فاشسٹ نظام کا سبق دیا جس میں ساری طاقتیں ایک شخص کے ہاتھ ہوتی ہیں۔ کمیونزم کا رستہ روکنے کےلئے فاشسزم آ گیا ہے۔ اس مسولینی نے اہلِ روم میں آلِ سیزرکو ایک بار پھر سیزر کا خواب دکھایا جو ایک وسیع و عریض سلطنت بنانا چاہتا تھا۔ اس خواب کے مطابق رومی بڑی طاقت ہیں اس لئے ان کا حق ہے کہ وہ ساری زمین پر حکومت کریں۔ اس لئے اس نے بڑی مملکت کا خواب دیکھا۔
(مسولینی 1883 میں پیدا ہوا تھا اور غریب لوہار کا بیٹا تھا۔ جس نے اٹلی میں فاشسزم کی بنیاد رکھی اور جو ڈکٹیٹر بن کر بحیرہ روم میں مکمل اقتدار حاصل کرنا چاہتا تھا۔)
٭ دیکھو تو ذرا کہ وہ کون ہے جو بحرِ روم کی موجوں سے لپٹا ہوا ہے۔مسولینی نے بہت بڑا بحری بیڑا بنایا تھا جو افریقی ممالک پر قبضہ جمانے کےلئے اپنے کام میں مصروف ہے۔ اس کے دوسرے مصرعے میں مشیر اس کی سرگرمیوں کو صنوبرکی طرح سر اٹھانے اور سارنگی کی طرح آہ و فریاد سے تعبیر کر رہا ہے کہ مسولینی بحیرہ روم کو تسخیر کرنے کےلئے اپنی قوم کے سامنے ولولہ انگیز تقاریر کے ذریعے صنوبر کے درخت کی مانند کھڑا کرتا اور کبھی رباب کی مانند کھوئی ہوئی عظمت پر خود رو کر اور ان کو رلا کر اسے بحال کرنے کا ولولہ پیدا کرتا ہے۔

#فاطمہ
PhotoPhotoPhotoPhotoPhoto
13/06/2017
5 Photos - View album

Post has attachment

⛔⛔⛔🔴🔴🔵🔴🔴⛔⛔⛔
Plz Ramzan se pehle send karna

Roze k Mutaliq
Najaiz bole jane wale Alfaz isse parhez kare.
Jo haram hain.

(1)Mera Roza na hota to batata,

(2)Tumhe Roza to nai lag raha,

(3)Ya yon kehna muje Roza lag raha he,

(4)Aj to Roze ne halat buri kardi

(5)Kab khule ga roza,

(6)Roze me kuch to pene ya khane ki ejazat honi chahiye thi,

(7)Roze me teri shakal kaisi nikal aye hy

Yad rakhiye Roza Farz ibadat hy
Aur
Quraan me hy
"Humey tumhari "Bhook aur Piyas ki zarorat nhi ikhlas ki zrort he.
Plz give respct to Ramzan.

Post has shared content
’’جن کی مائیں پاگل ہوں ان کی بیٹیوں کو بھی کوئی حق نہیں کہ نارمل زندگی گزاریں،ان کو یا تو پاگل ہونا چاہیے اور یا پھر احساس سے مکمل طور پہ عاری ہونا چاہیے‘‘

یہ الفاظ تھے کہ لہو برساتے آنسو جو سماعتوں سے گزرے اور روح تک میں۔چھید کر گئے۔ کیا ہوش و حواس سے بیگانہ خاتون کی بیٹی کو یہ طعنے سننے کےلئے گھروں میں پالا جاتا ہے۔ ارے وہ خاتون کہاں سے لے کے آئی اس بچی کو، آپ ہی کی بیٹی ہے وہ،آپکا ہی خون ہے وہ۔ کیسی سنگدلی ہے باپ میں، کیسی سنگدلی ہے ددھیالی رشتوں میں جو اسے اپنانے کو تیار نہیں۔ سوتیلی ماں کے نزدیک وہ ایک ایسا اضافی بوجھ ہے جو نہ صرف بدتمیز ہے بلکہ جو اسکی اپنی بیٹی میں بھی بگاڑ کا باعث بن رہی ہے۔۔۔۔

کیا خوف نہیں آیا مالکِ دو جہان سے جو ارض و سما کا خالق ہے، کیا روح نہیں کانپتی ہو گی اس پروردگار کے سامنے پیش ہونے کا تصور کر کے بھی کہ جس نے کسی میں کوئی کمی رکھی تو کسی حکمت کے تحت رکھی اور معلوم نہیں اسکو مزید کن کن چیزوں سے نواز دیا، جس نے کسی کی ذہنی صلاحیت کو مفلوج کیا تو معلوم نہیں کتنوں کی آزمائش کےلئے کیا، جس نے کسی کی بیٹی کے سر پہ ہاتھ رکھنے کےلئے اگر آپ کو چنا تو معلوم نہیں آپ کو کتنا نوازنا چاہتا ہو جسے آپ نادانی میں جھٹک رہی ہیں، جس نے  نے آج آپ کو صحت مند رکھا تو کل کو آپ سے نعمتیں چھین بھی سکتا ہے ' سماعت ' بصارت ' گویائی ' سوچوں کے بلب بجھا بھی سکتا ہے - 

مگر آپ ایسے اکڑ رہی ہیں گویا کہ آپ کو مرنا ہی نہیں، تکبر میرے رب کے لئے ہے صرف اسی کو زیبا دیتا ہے ' انسان کرے تو عبرت کا نشاں بنا دیتا ہے اس جہاں یا اگلے 

ذرا لمحے بھر کو دل پہ ہاتھ رکھ کے سوچیں اگر کل کو آپ کی بیٹی کسی سوتیلی ماں کے حوالے کر دی جائے  تو کیا آپ اپنی بیٹی کےلئے ایسے جملے سننا پسند کریں گی جیسے آپ سناتی ہیں، کیا یہ انصاف ہے کہ خود آپ تھوہر بن کے سب کو زخمی کریں اور اپنے لئے دوسروں کو پھول بننے کا درس دیں، کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ کیلوں کا پل تعمیر کر کے شاہراہِ قراقرم تصور کر کے زندگی کا کٹھن سفر مکمل کر لیں، کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ مگرمچھ کے انڈوں سے امن کے کبوتر نکل کے فضا میں پرواز کریں۔۔۔۔

بالکل بھی نہیں۔۔۔۔ ہاں مگر بس اصلاح ہی کرنی ہو گی، اپنے لئے نہ سہی اپنی اس اولاد کےلئے جس کے ہاتھ پہ ایک کانٹا جپھ جائے تو آنسو آپ کا دامن بھگوتے ہیں، اس اولاد کےلئے جس کا ماتھا چومتے چومتے آپ نیند کی وادیوں میں جاتی ہیں، جی ہاں اسی اولاد کےلئے جس کی زندگی کے ایک ایک لمحے کو آپ مثلِ آفتاب روشن دیکھنا چاہتی ہیں۔ اس اولاد کےلئے اگر آپ آسانیاں چاہتی ہیں تو پہلے آسانیاں بانٹنا سیکھیں، اگر اسکی خوشیاں چاہتی ہیں تو خوشیاں بانٹنا سیکھیں۔۔

۔کیونکہ اجر دینے والا رحمان سب سے بڑا ہے
۔کیونکہ اجر دینے والا پروردگار کبھی سوتا نہیں ہے
۔کیونکہ اجر دینے والا آقا آپ کی شہہ رگ سے زیادہ قریب ہے، وہ آپ کو سن بھی رہا ہے اور دیکھ بھی رہا ہے
۔کیونکہ اجر دینے والی ذات آپ کی کسی نیکی کو رائیگاں نہیں جانے دے گی
اور اس لئے بھی…

۔کیونکہ اجر دینے والا رحیم جہاں کریم ہے وہیں قہار بھی ہے اور جبار بھی ہے
۔ کیونکہ اجر دینے والا جب منصفی پہ آئے گا تو حقوق العباد کی پوچھ سب سے کڑی کرے گا

ڈرو اس رب سے جو صرف تمہارا رب نہیں۔۔۔۔جو سب کا رب ہے اور جس کا نام سدا باقی رہنا ہے۔۔۔۔۔

#برناوی


Photo
Photo
03/04/2017
2 Photos - View album
Wait while more posts are being loaded