Post has attachment
(سورہ آل عمران:آیت نمبر 31)
----------
قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۳۱﴾
اے پیغمبر ﷺ لوگوں سے کہدو کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور اللہ بخشنے والا ہے مہربان ہے۔
٭ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے ،اس پر لازم ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کا اتباع کرے،اگر وہ آپ ﷺ کی پیروی نہیں کر رہا تو اس کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے کہ میں اللہ سے محبت کرتا ہوں،اورآپ ﷺ کی پیروی یہی ہے کہ آپﷺ نے جس کام کے کرنے کا حکم دیا اسے کرو اور جس سے منع کیا اس سے بازآ جاؤ۔
٭آنحضرتﷺ کی پیروی کے دو فوائد:
آپﷺ کی پیروی کرنے کے دو نتائج اور فوائد ظاہر ہوں گے:
1)۔یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ(اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگے گا)۔یہ ایک عجیب بات ہے۔عام قاعدہ یہ ہے کہ آپ کسی سے محبت کریں تو آپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ وہ بھی آپ سے محبت کرے،چنانچہ اگر ہم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں تو ہمارے دل میں بھی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کرنے لگے اور اس سے بڑھ کر ہمارے لئے سعادت کی اور کیا بات ہوگی کہ خود اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کریں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ ضابطہ بنادیا کہ تم مجھ سے جتنی محبت کرنا چاہو،کرو لیکن تمہاری محبت اس وقت معتبر ہوگی جب تم میرے رسول ﷺ کی پیروی کرو گے۔جب تم میرے رسول کا اتباع کر لو گے تو میں محبت کا جواب محبت سے دوں گا اور اگر میرے رسول کی پیروی نہ کی تو میری طرف سے محبت کا جواب محبت سے نہیں ملے گا۔
2)وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ۔(اور تمہارے گناہوں کو بخش دے گا)۔
معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ کی پیروی کرنے سے دوسرا فائدہ یہ بھی ہے کہ جس طرح انسان اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ بن جاتا ہے اسی طرح اگر اس سے گناہ سرزد بھی ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دیتا ہے۔
(مفتی محمد رفیع عثمانی)
تحریر: محمد سرور بٹ)
Photo

Post has attachment
Photo

شوہر راضی ہو تو وہ عورت جنت میں جائیگی۔
----------------------
ترجمہ:....."حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:جو عورت انتقال کر گئی اور اس حال میں کہ اس کاشوہر اس سے راضی تھا تو وہ عورت جنت میں جائے گی۔(ترمذی) صاحب ترمذی نے کہا کہ یہ حدیث حسن ہے۔"
تشریح:.......حدیث بالا میں ایسی عورتوں کے لئے خوشخبری ہے جو احکام و فرائضِ اسلام کی پابندی کے ساتھ ساتھ اپنے شوہر کی جائز باتوں کو بھی مان کر ان کو خوش رکھنے کا بھی اہتمام کرتی ہیں۔اگرچہ یہ ان کو ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔
علماء رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا،اس حدیث میں شوہر کی وہ باتیں کو شریعت کے خلاف ہو اس کو مان کر خوش کرنا مراد نہیں ہیں۔
(تخرج حدیث:اخرجہ الترمذی،فی ابواب الرضاع تحت باب ماجاء فی حق الزوج علی المراۃ ،وابن ماجہ،لہ شاہد عند ابن حبان 4163 من حدیث ابی ہریرہ با اسناد حسن)
تحریر: محمدسرور بٹ

علامہ ابن جوزی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب"تلبیس ابلیس"صفحہ نمبر 77 پرلکھتے ہیں کہ کسی بزرگ نے کہا: میں نے شیطان کودیکھا۔اس نے مجھ سے کہا کہ ایک زمانہ وہ تھا کہ میں لوگوں سے ملتا تھا تو ان کو تعلیم دیتا تھا۔اب یہ حالت ہے کہ ان سے ملتا ہوں اور خود تعلیم لیتا ہوں۔اوراکثراوقات شیطان ہوش مند اور عاقل آدمی پر ہجوم کرتا ہے اور خواہش نفسانی کو ایک دلہن کی صورت میں اس کی نظروں میں جلوہ گر کرتا ہوں۔وہ شخص اس کودیکھ کر شیطان کی قید میں پھنس جاتا ہے۔اور زیادہ قوی دشمن جس کی زنجیر میں آدمی جکڑ جاتا ہے،جہل و نادانی ہے۔اس سے کم خواہش نفسانی ہے۔اس کے بعد ایک دشمن ضعیف غفلت ہے۔جب تک ایمان کی زرہ مومنوں پر رہتی ہے اسوقت تک دشمن کا تیر کارگر نہیں ہوتا۔
حسن بن صالح کہتے ہیں کہ شیطان آدمی کے لیے ننانوے دروازے نیکی کے کھول دیتا ہے جس سے ایک دروازہ بُرائی کا مقصود ہوتا ہے۔
اعمش نے کہا کہ ایک شخص نے بیان کیا جو جنوں سے باتیں کرتا تھا کہ شیاطین باہم گفتگو کرتے تھے کہ جو لوگ سنت نبوی! کے تابع ہیں وہ ہمارے لیے نہایت سخت ہیں۔لیکن جو خواہش نفسانی کے بندے ہیں ان کے ساتھ تو ہم کھیلتے ہیں۔
(تلبیسِ ابلیس)
تحریر:محمد سرور بٹ

٭جو اللہ اور جو آپﷺ چاہیں کہنا کیسا ہے؟٭
----------------------------
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریمﷺ کے پاس آیا اور آپ سے کوئی بحث و مباحثہ کیا او ر کہا:جو اللہ چاہیں اور آپ چاہیں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"کیا تو نے مجھے اللہ تعالیٰ کا ہمسر بنا دیا ہے؟ایسے نہیں،بلکہ یہ کہنا کہ جو صرف اللہ تعالیٰ چاہیں۔"
(تخرج:الصحیحۃ138الادب المفرد787،ابن ماجہ2117،احمد1/۔224،214،بیھقی3/۔217)
فوائد:یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت میں کسی کو کوئی دخل نہیں ہے۔
(کتاب سلسلۃ احادیث الصحیحۃ:حدیث نمبر 925)

٭عسر کے ساتھ یسر ہے٭
----------------
اے انسان! بھوک کے بعد شکم سیری،پیاس کے بعد سیرابی،جاگنے کے بعد نیند، مرض کے بعد صحت ہے۔گم کردہ منزل پائے گا،مشقت اُٹھانے والا آسانی حاصل کر لے گا۔اندھیرے چھٹ جائیں گے"قریب ہے کہ اللہ اپنی فتح یا اور کسی بات کو لے آئے" رات کو بشارت دو صبح صادق کی،جو اس کو پہاڑوں کی طرف دھکیل دے گی وادیوں کی جانب بھگا دے گی،غمزدہ کو بشارت دو روشنی کی طرح تیزی سے آنے والی آسانی کی، مصیبت زدہ کو مژدہ سنا دو مخفی لطف و کرم اور مہربان ہاتھوں کا،جب آپ دیکھیں گے کہ صحرا دراز سے دراز ہوتا جاتا ہے تو جان لیں کہ اس کے بعد سرسبز وشاداب نخلستان ہے۔رسی لمبی پہ لمبی ہوتی جاتی ہے تو یاد رکھئے کہ جلد ہی وہ ٹوٹ جائے گی۔
آنسو کے ساتھ مسکراہٹ ہے،خوف کے بعدامن،گھبراہٹ کے بعدسکون،آگ نے ابراہیم خلیل اللہ کو نہیں جلایا کیونکہ حکم ربانی سے وہ"ابراہیم علیہ السلام کے لئے ٹھنڈک اورسلامتی بن گئی"سمندر نے موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کو نہیں ڈبویا کیونکہ انہوں نے بلند اور سچی آواز میں کہا کہ"نہیں! میرا رب میرے ساتھ ہے اور مجھے راستہ دکھلائے گا۔"حضرت محمد ﷺ نے یار غار کو ڈھارس بندھائی کہ ہمارے ساتھ اللہ ہے۔لہٰذا امن و سکنیت اور نصرت حاصل ہوئی۔موجودہ برے حالات کے شکار، مایوس کن صورت حال کے گرفتار صرف تنگی،عبرت اور بدبختی ہی کا احساس کرتے ہیں،ان کی نظر کمرہ کی دیوار اور دروازے تک پہنچ پاتی۔لہٰذا تنگ دل نہ ہوں،ہمیشہ یکساں حالت نہیں رہے گی،بہترین عبادت اللہ کی رحمت اور آسانی کاانتظار ہے،زمانہ الٹتا پلٹتا رہتا ہے،گردش دوراں جاری رہتی ہے۔غیب مستور ہے،اور مدبر عالم کی ہرروز نبی شان ہوتی ہے۔اُمید ہے کہ اللہ اس کے بعد کوئی معاملہ کرے گا۔
عسر کے ساتھ یسر ہے،تنگی کے بعد آسانی ہے۔
(غم نہ کر)
تحریر:محمد سرور بٹ۔

٭صرف چار احادیث٭
--------------
امام ابو داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں،میں نے نبی کریم ﷺ کی پانچ لاکھ احادیث لکھی ہیں ان میں سے چار ہزار آٹھ سو احادیث کا انتخاب کر کے انہیں اپنی کتاب سنن ابو داؤد میں ذکر کیا اور پھر ان چار ہزار آٹھ سو احادیث میں سے صرف چار احادیث کاانتخاب کیا اور یہ چار ایسی احادیث ہیں جو انسان کو دیندار بنانے کے لیے کافی ہیں:
1) اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔
(صحیح بخاری:1)
2)آدمی کے اسلام کی خوبی اور کمال یہ ہے کہ وہ فضول کاموں اور باتوں کو چھوڑ دے۔
(سنن ترمذی:2317)
3)آدمی اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہ پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
سنن ترمذی:2515)
4)حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ چیزیں ہیں،جو ان مشتبہ چیزوں سے بچتا رہا تو اس کا دین اور اس کی عزت بچ گئی۔
(صحیح بخاری:52)
----------
(البدایۃ والنہایۃ:64)
تحریر: محمد سرور

Post has attachment

Post has attachment
Photo

( نو فلائی زون)
اسکا گھر ائیرپورٹ سے بہت نزدیک تھا, یوں وہ تمام پروازوں کے آنے جانے کے معمولات پر اپنی نظر رکھتی تھی اور حسرت سے اڑتے ہوئے جہازوں کو دور تک جاتا دیکھتی رہتی ۔ ایک دن وہ جہاز کی خوفناک گڑگھڑاہٹ سے بیدار ہوئی تو فورا اسے اپنے شوہر کا خیال آیا اس نے صبح کی کافی تیار کی اور اسے اپنے شوہر کی بیڈ سے نزدیک سائڈ ٹیبل پر رکھ دیا ۔ صبح کا تازہ اخبار اس کے سراہنے رکھا کمرے کے پردوں کو درست کیا . باتھ روم میں نیا تولیہ لٹکایا، پالش شدہ جوتوں کو وارڈ روب کے پاس رکھا اور نیا سوٹ ٹائی نکال کر ہینگر کیا کمرے کی تمام اشیا پر ایک گہری نظر دوڑائی، کمرے سے نکلتے وقت شوہر کے بستر کو دیکھا اور نیچے اتر کر گارڈن سے تازہ پھولوں کو اکھٹا کرکے گھر سے باہر نکل گئی ۔ وہ ہر روز علی الصبح آبادی سے نزدیک قبرستان میں ایک قبر پر حاضری دیتی اور قبر پر موسم کے تازہ پھول انتہائی عقیدت اور احترام کے جزبے کے ساتھ ڈالتی اور تعظیما کچھ دیر وہاں کھڑی رہ کر دعائیہ کلمات ادا کرتی رہتی ۔ وہ یہ عمل برسوں سے متواتر کرتی چلی آرہی تھی ۔ موسم کیسا بھی ہو وہ سخت سردی برسات اور گرمی میں بھی اس کی قبر پر آنے سے کتراتی نہیں تھی ۔ کئی برس پہلے وہ ایک حادثہ کا شکار ہوکر اس دار فانی سے کوچ کرچکا تھا اسکا جسد خاکی اس قبر میں برسوں سے آسودہ خاک تھا ۔ رفاقت کے اتنے طویل برس اس کی ذات میں اس طرح سے پیوست تھے کہ وہ انکو فراموش کرنے میں دکھ محسوس کرتی تھی ۔ وہ اپنی اس عقیدت اور محبت کو قائم رکھنے کے لیئے ساٹھ سال کی عمر میں بھی مستعد نظر آتی تھی ۔ زندگی کے شب و روز غم و فکر نےاس کے دل سے اس شخص کی محبت کو نکلنے نہیں دیا۔ انسانی جزبہ محبت کی یہ لازوال مثال اپنے پہلو میں انگنت خوشگوار احساسات کے ساتھ انسان اور بلخصوص عورت کی عظمت اور وفاداری کو ایک نیا آہنگ دے رہی تھی ۔ سحر ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوئی تھی تازہ پھولوں کو قبر پر پھیلانے کے بعد وہ دعائیہ کلمات ادا کرتی رہی اور کچھ دیر تعظیما خاموش کھڑی رہنے کے بعد واپس گھر لوٹ آئی ۔ اس نے صبح کے دھندلکے میں اپنے گھر کی نم آلود کھڑکی کے پٹ کھول کر باہر دیکھنے کی کوشش کی تو اسے حد نظر سمندر اپنی وسعت میں سفید دھواں دار دھند کو لپیٹ میں لیئے ہوئے محسوس ہوا ۔ سورج دھند اور گہرے بادلوں کی دبیز تہ میں پوشیدہ تھا ۔ گہری دھند کے باعث سمندر کی سطح پر آبی پرندے بھی اڑتے دیکھائی نہیں دے رہے تھے ۔ وہ سمندر کی نمی زدہ سرد ہوا کے احساس کو اپنے چہرے پر محسوس کرتی ھے ۔ اور اس ماحول کو اپنے اندر جذب کرنے کے لیئے اپنی آنکھوں کو بند کرکےکچھ دیر تک کھڑکی پر کھڑے رہنے کا قصد کرتے ہوئے اس ہوا سے لطف اندوز ہوتی رہی ۔ سرد ماحول اور دھند کے اس رقص میں وہ اپنے وجود کو تحلیل ہوتا دیکھتی رہی۔ زندگی کے شب و روز زہن کے پردے پر عکس کی شکل میں تیرتے رہے اور وہ ماضی کے دھندلکوں میں کھوئی اس سے اپنی آخری ملاقات شدت اور کرب کے ساتھ یاد کرنے لگی ۔ کئی برس پہلے موسم بہار میں جب اس نےکسی دوسرے شہر کا کاروباری دورہ کرنے کے لیئے جانے کا قصد کیا تو وہ مغموم ہوگئ ۔ ساحل سمندر سے ملحق مرطوب آب و ہوا کے حامل شہر کے فرانسیسی ساختہ فضائی مستقر سے صبح صادق کے سنہرے ملگجے میں ایک توانا امریکی مسافر بردار جہاز پرواز کے لیئے پر تولنے ہی والا ھے ۔ اسی اثنا اس نے اس کے جسم سے پیوست ہوکر ایک الوداعی بوسہ لیا اور نم آلود آنکھوں سے اسے خداحافظ کہ کر دور تک جاتا دیکھتی رہی ۔ اس کی پرواز نے ایک بلند اڑان لی اور اپنے مسکن کی جانب زقندیں بھرنے لگا ۔ عین منزل کے قریب پہنچنے سے پہلے اسے دھند، بارش اور کڑکتی بجلی نے آلیا اور یوں وہ اپنے حفاظتی حصار سے نکل کر نو فلائی زون میں پہنچ گیا اور آن کی آن میں خود کار ہتھیار کی زد پر آکر تباہ ہوگیا ۔ اس نے ایک جھرجھری بھری، اور گہری سانسوں کے ساتھ اپنے شوہر کے بستر پر گر گئی ۔ ختم شد ۔
Wait while more posts are being loaded