Post is pinned.Post has attachment
جس حسن كی تم كو جستجو ہے وہ حسن ازل سے با وضو ہے
Photo

Post has attachment
True concept of khataman Nabiyeen | #fridaysermon delivered by Hazard Mirza Masroor Ahmad may Allah be his helper ,head of worldwide Ahmadiyah Muslim jama"at.
#KhatmeNabuwwat #ختم_نبوت #ختمِ‌نبوتﷺنوکمپرومائز

Post has attachment
Points Friday Sermon 13th Oct 2017
1) Every other day in Pakistan, its politicians and clerics use the weapon of Khatam Nabuwat against Ahmadis
2) Whenever their so called dignity and popularity is in danger they start playing this dirty game. They would incite violence against Ahmadis, and label them traitors etc.
3) People are labeled to be Ahmadi just to malign them.
4) We have never asked any world power nor is any Pakistani government to do any amendment and declare Muslim.
5) We do not need any certificate from any one for our faith.
6) Alhamdulillah by the grace of Allah we as Ahmadis believe in the finality of Prophet hood of Muhammad SAW
7) Messiah AS in his many writings has taken up this issue and said that there is no faith without finality of Prophet Hood.
8) Clerics have fed the masses with wrong notions about Ahmadis.
9) Ahmad AS revelations are submissive to Holy Quran.
10) Holy Quran has been translated in 75 languages by Jama’at. In 111 languages, parts of Holy Quran has been translated.
11) So called religious parties and governments should tell what service have they done in this regard.
12) Ahmad AS says it is such a big lie that my community and I do not believe in the finality of Prophet Hood.
13) Khatam does not mean to end something, how can ending something be of any dignity?
14) Obviously it means that characteristics of Prophet Hood have come to their pinnacle in Muhammad SAW.
15) And if anyone want to excel in this field one has to obey Holy Prophet PBUH in every extent
16) Arabs did not know anything about Prophet Hood so God sent to them Muhammad SAW as mercy for mankind.
17) Thus Islam is the last right religion for the whole world
18) Today Ahmadiyya is the only community that is following in the footsteps of Holy Prophet PBUH truly.
19) It was Holy Prophet PBUH and Islam that authenticated all religions and previous prophets.
20) Islam and Holy Quran told us about the reality of previous religions.
21) Only Ahmadiyya is the true embodiment of real Islam today.
22) One cannot be a true believer without believing in the finality of Prophet Hood of Holy Prophet PBUH.
23) Today One cannot be a true prophet without believing in the Finality and complete submission to Holy Prophet PBUH.
24) We as Ahmadis or the family of Salam do not need such associations.
25) Some Ahmadi Generals fought and laid their lives for the country.
26) Huzoor says today i can say with complete faith that only Ahmadis are true patriots in every aspect in Pakistan.
27) Ahmadis should keep praying that may this country live long and earn its dignity and honor back in whole world
PhotoPhotoPhotoPhoto
13/10/2017
4 Photos - View album

Post has attachment
وطن سے دور مسلم ہوں وطن جاؤں تو کافر ہوں
میں خود کیا ہوں بتانے کی اجازت مجھ کو دے دو ناں۔

ایک ہفتہ ہو گیا ہے سوشل میڈیا اخبارات۔ ٹی وی کے پروگراموں اور فتنہ پردازوں سے بھانت بھانت کی باتیں سن رہیے ہیں ۔۔ اور فضول میں تبصرے بھی ہو رہے ہیں ۔۔ اور میں کافر تم کافر کے تماشے لگے ہیں۔ کبھی ہماری بھی تو سن کے دیکھیں۔ یکطرفہ فیصلے ہو رہے ہیں اور جنکے بارے میں ہو رہے ہیں انسے کوئی پوچھتا ہی نہی کہ تم کیا کہتے ہو۔۔۔؟؟؟

آئیے آپ کو بتائیے ہم کون ہیں۔ ضرور سچ سنئیے اور شیئرکیجیے

صرف احمدی احباب کےلئے*
خلاصہ خطبہ جمعہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ
13 اکتوبر 2017 بیت الفتوح یوکے
تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعد درج ذیل ایت تلاوت فرمائی
{مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (41)} (الأحزاب 41) محمد تمہارے (جىسے) مَردوں مىں سے کسى کا باپ نہىں بلکہ وہ اللہ کا رسول ہے اور سب نبىوں کا خاتَم ہے اور اللہ ہر چىز کا خوب علم رکھنے والا ہے (41)
• پاکستا ن میں وقتا فوقتا وبال اٹھتے ہیں ۔ جب بھی کسی کی کا گراف گر رہا ہو یا معیار کم ہو رہا ہوں۔ یا مذہبی تنطیمیں سیاسی شہرت حاصل کرنا چاہئیں تو احمدیوں کے ساتھ تعلق جوڑ کر کہتے ہیں کہ دیکھو غیر ملکی طاقتوں کے زیر اثر احمدیوں کو مسلمانوں میں شامل کرنا چاہتے ہین۔ اور احمدی ان کے خیال میں ختم نبوت کے منکر ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہم کبھی ایسا نہیں ہونے دیں گے کہ احمدیو ں کو مسلمان کہا جائے۔
• اس پر دوسری پارٹی اس کے کے نمائندگان کہتے ہیں کہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ احمدیوں کو کوئی حق ملے۔ پاکستانی کا جو حق ہے جو تھوڑے حقوق ہیں وہ بھی لے لو۔ اپنے سیاسی ایجنڈے ہیں اور مفادات ہیں۔ لیکن اس میں زبردستی ناں تعلق ہوتے ہوئے بھی احمدیوں کو گھسیٹا جاتا ہے۔ غیر حکومتی اور حکومتی ارکاکین اسمبلی بھی بڑھ بڑھ کر بولتے ہیں۔
• گذشتہ دنوں میں یہی کچھ دیکھنے کو ملا۔ او رمیڈیا کے ذریعہ سب کچھ سامنے آ چکا۔ جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے کہ ناں ہی ہم نے کبھی کسی غیر ملکی طاقت کو کہا ہے اور ناں ہی پاکستانی حکومت سے بھیک مانگی ہے۔ ناں ہی کسی سند کی ضرورت ہے مسلمان کہلانے کے لیے۔ ہمیں اللہ اور اس کے رسول نے مسلمان کہا ہے ۔ اور لا الہ الا اللہ پڑھنے والے اور تمام ارکان اسلام اور ارکان ایمان پر یقین اور رسول ﷺ کو خاتم النبین مانتے ہیں جیسا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے۔
• ہم اس بات پر علیٰ وجہ البصیرت قائم ہیں کہ محمد ﷺ خاتم النبین ہیں۔ اور اسکی وضاحت کئی جگہ حضور ؑ نے فرامائی ہوئی ہے۔
• ہم پر جو الزام لگایا جاتا ہے کہ خاتم النبیین نہیں مانے نہایت گھٹیا الزام ہے۔ وقت فوقتا ان کو وبال اٹھتا رہتا ہے۔ یہ الزام جو ہم پر لگاتے ہیں ان کے جھوٹا ہونے کے لیے ہم کہتے ہیں کہ ہم قرآن پڑھتے اور اس پر ایمان لاتے ہیں۔ قرآن آپ ﷺ کو خاتم النبیین کہتا ہے۔ اور یہ اعتراض کرتے ہیں اور دوسرے علماء بھی کہہ جاتے ہیں کہ نعوذ باللہ احمدی قرآن کو نہیں مانتے اور مرزا صاحب کو قرآن سے افصل سمجھتے ہیں۔ جب احمدی ہوتے ہیں لوگ تو یہی بتاتے ہیں کہ علماء ایسی باتیں بتاتے ہیں۔ کہ احمدی قرآن کو ، حضورﷺ کو نہیں مانتے، ان کا قبلہ اور ہے۔ اور تحقیق سے ان کا پول کھل جاتا ہے اور یہی مولوی اپنے جھوٹ کی وجہ سے اور الزام کی وجہ سے بہت سوں کو احمدی بنانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
• یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم قرآن اور انحضورﷺ کو ناں مانیں۔ جب کہ خود حضور ؑ کے الہامات قرآن کو خیر کا چشمہ سمجھتے ہیں۔ اور حضورﷺ کو خاتم النبین کہتےہیں۔ الخیر کل فی القرآن،جو قرآن کو عزت دیں کے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔
• آ پ کے الہامات قرآن کے خادم ہیں۔ ہر ہدایت قرآن سے ہی لیتے ہیں۔ اسی طرح آنحضورﷺ کے خاتم النبین ہونے کے بے شمار تحریریں ہیں۔ اور ایک الہام بھی ہے ۔۔۔اگر ایسا ہی ہوتا تو ہم کیوں مالی قربانی کر کے قرآن کی اشاعت کرتے۔ 75 زبانوں میں تراجم شائع ہو چکے ہیں۔ وہ بڑی بڑی اسلامی حکومتیں بتائیں۔ اور پیسے والی تنظیمیں ہیں وہ تو زرا بتائیں کہ کتنی زبانوں میں ان نے اشاعت کی ہے؟
• اللہ کے خاتم النبین ہونے کی اشاعت بھی احمدی ہی کرتے ہیں۔ پھر بھی الزام لگاتے ہیں کہ احمدی ختم نبوت کے منکر ہیں۔
• آپ ؑ نے ایک مجلس میں فرمایا ! اس جگہ یہ بھی یادرکھناچاہئے کہ مجھ پر اور
• میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہیں مانتے۔ یہ ہم پر افترائے عظیم ہے۔ ہم جس قوتِ یقین، معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں، اس کا لاکھوں حصہ بھی دُوسرے لوگ نہیں مانتے۔ اور ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔ وُہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیاء کی ختم نبوت میں ہے، سمجھتے ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سُنا ہوا ہے، مگر اُس کی حقیقت سے بے خبرہیں اور نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتاہے اوراس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ہے؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں۔ اور خداتعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے ہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں جس کا اندازہ کوئی ہیں کرسکتا۔ بجزان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں۔
• پھر ختم نبوت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا، جو خاتم المومنینؐ، خاتم العارفین ؐ اور
• خاتم النبیین ؐ ہے اور اسی طرح پروہ کتاب اس پر نازل کی جع جامع الکُتب اور خاتم الکُتب ہے۔ رُسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو خاتم النبیین ہیں اور آپؐ پر نبوت ختم ہوگئی۔ تو یہ نبوت اس طرح پر ختم نہیں ہوئی جیسے کوئی گلاگھونٹ کر ختم کردے۔ ایساختم قابلِ فخر نہیں ہوتا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے سے یہ مُراد ہے کہ طبعی طور پر آپ ؐ پر کمالاتِ نبوت ختم ہوگئے۔ یعنی وہ تمام کمالاتِ متفرقہ جو آدم ؑ سے لے مسیح ؑابن مریم ؑ تک نبیوں کو دیئے گئے تھے۔ کسی کو کوئی اور کسی کو کوئی۔ وہ سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کردیئے گئے اور اس طرح پر طبعاً آپ خاتم النبیین ٹھہرے اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات ، وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں، وہ قرآن شریف پر آکرختم ہوگئے اورقرآن شریف خاتم الکُتب ٹھہرا۔
• پس یہ ہے وہ حقیقت جس سے ہمارے مخالف لا علم ہیں اور جن علماء کے چنگل میں پھنسے ہوئے ہیں وہ نکلنے نہیں دیتے کیوں کہ ان کا مذہب کا کاروبار نہیں چل سکے گا۔خاتم النبین کے ایک معنی فرمائے کہ ختم نبوت کے متعلق میں پھر کہنا چاہتا ہوں کہ خاتم النبین کے بڑے معنی یہی ہیں کہ نوت کے امور کو آدم علیھم السلام سے لے کر
• آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ختم کیا۔یہ موٹے اور ظاہر معنی ہیں۔دوسرے یہ معنی ہیں کہ کمالات نبوت کا دائرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر ختم ہو گیا۔یہ سچ اور بالکل سچ ہے کہ قرآن نے ناقص باتوں کا کمال کیا اور نبوت ختم ہو گئی،اس لئے الیوم اکملت لکم دینکم(المائدہ:۴)کا مصداق اسلام ہوگیا۔غرض یہ نشانات نبوت ہیں۔ان کی کیفیّت اور کنہ پر بحث کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔اصول صاف اور روشن ہیں اور وہ ثابت شدہ صداقتیں کہلاتی ہیں۔ان باتوں میں پڑنا مومن کو ضروری نہیں۔ایمان لانا ضروری ہے۔اگر کوئی مخالف اعتراض کرے تو ہم اس کو روک سکتے ہیں ۔اگر وہ بند نہ ہو تو ہم اس کو کہہ سکتے ہیں کہ پہلے اپنے جزوی مسائل کا ثبوت دے۔الغرض مہر نبوؔ ت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نشانات نبوت میں سے ایک نشان ہے ،جس پر ایمان لانا ہر مسلمان مومن کو ضروری ہے
• اگر کوئی منکر ہے وہ مسلمان نہیں ہے دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ پھر ختم نبوت کا مقام اور دوسرے مذاہب پر فوقیت یوں بیان کرتے ہیں :۔ ختم نبوت کو یوں سمجھ سکتے ہین کہ جہاں پر دلائل اور معرفت طبعی طور پر ختم ہوجاتے ہیں،وہ وہی حد ہے جس کو ختم نبوت کے نام سے مسموم کیا گیا ہے۔اس کے بعد ملحدوں کی طرح نکتہ چینی کرنا بے ایمانوں کا کام ہے۔ہر بات مین بینات ہوتے ہیں اور ان کا سمجھنا معرفت کاملہ اور نور بصر پر موقوف ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی تشریف آوری سے ایمان اور عرفان کی تکمیل ہوئی۔دوسری قوموں کو روشنی پہنچی۔کسی اور قوم کو روشن اور بین شریعت نہیں ملی۔اگر ملتی تو کیا وہ عرب پر کچھ بھی اپنا اثر نہ ڈال سکتی۔
• فرمایا کہ عرب سے وہ آفتاب نکلا کہ اس نے ہر قوم کو روشن کیا اور ہر بستی پر اپنا نور ڈالا۔یہ قرآن کریم ہی کو فخر حاصل ہے کہ وہ توحید اور نبوت کے مسئلے میں کل دنیا کے مذاہب پر فتحیاب ہو سکتا ہے۔یہ فخر کا مقام ہے کہ ایسی کتاب مسلمانوں کو ملی ہے۔جو لوگ حملہ کرتے ہیں اورتعلیم وہدایت اسلام پر معترض ہوتے ہیں۔وہ بالکل کو ر باطنی اور بے ایمانی سے بولتے ہیں۔
• پس اسلام ہی ہے جو عرب سے نکل کر دنیا کے کونے کونے تک پھیل گیا اور اصل تعلیم کے ساتھ کونے کونے تک پھیل رہا ہے اور احمدیت ہی دنیا کے پر قصبہ اور گلی میں پھیلا رہی ہے۔ یہ حضرت مسیح موعودؑ ہی ہیں جن نے دوسرے مذاہب کو آپ ﷺ کا مقام بتایا اور بتایا کہ دوسری تعلیم اس قدر بدل گئی ہے نے کہ ان کی سچائی اور حققیت حضور ﷺ نے ہی بتائی۔
• فرمایاتعلیم وہی کامل ہو سکتی ہے جو انسانی قویٰ کی پوری مربی اور متکفل ہو۔نہ یہ کہ ایک ہی پہلو پر واقع ہوئی ہو۔انجیل کی تعلیم کو دیکھو کہ وہ کیا کہتی ہے اور
• اس کے بالمقابل قویٰ کیا تعلیم دیتے ہیں؟انسانی قویٰ اور فطرت خدا تعالیٰ کی فعلی کتاب ہے ۔پس اس کی قولی کتاب،جو کتاب اللہ کہلاتی ہے یا اسے تعلیم الہی کہو۔اس کی ساخت اور بناوٹ کے مخالف اور متضاد کیوں کر ہو گی۔ اللہ تعالیٰ نے جو تعلیم دی ہے کتاب اللہ کہلاتی ہے اور فطرت اس کے خلاف نہیں ہو سکتی کیوں کہ وہ فطرت جو ہے وہ اللہ کی فعلی کتاب ہے اور شریعت اس کی قولی کتاب ہے۔
• اسی طرح پر اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نہ آتے ،تو انبیاء سابقین کے اخلاق،ہدایات،معجزات اور قوت قدسیہ پر اعتراض ہوتے،مگر حضور نے آکر ان سب کو پاک ٹھہرایا۔ پہلے سب انبیا کی تصدیق کی ۔
• اس لئے آپ کی نبوت کے نشانات سورج سے زیادہ روشن ہیں اور بے انتہا اور بے شمار ہین۔پس آپ کی نبوت یا نشانات نبوت پر اعتراض کرنا ایسا ہی ہے جیسے کہ دن چڑھا ہوا ہو اور کوئی احمق نابینا کہہ دے کہ ابھی تو رات ہی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ دوسرے مذاہب تاریکی ہی میں رہتے ہیں،اگر اب تک رسول اکرم نہ آتے ،ایمان تباہ ہو جاتا اور زمین لعنت اور عذاب الہی سے تباہ ہو جاتی ۔اسلام شمع کی طرح منور ہے جس نے دوسروں کو بھی تاریکی سے نکالا ہے۔توریت کو پڑھو تو بہشت اور دوزخ کا پتہ ہی ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔انجیل کو دیکھو تو توحید کا نشان ہی نہیں ملتا۔اب بتلاو کہ اس میں تو شک نہیں کہ یہ دونوں کتابیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے تھیں اور ہیں۔لیکن ان میں کون سی روشنی مل سکتی ہے۔سچی روشنی اور حقیقی نور جو نجات کے لئے مطلوب ہے،وہ اسلام ہی میں ہے۔توحید ہی کو دیکھو کہ جہاں سے قرآن کو کھولو وہ ایک شمشیر برہنہ نظر آتا ہے کہ شرک کی جڑ کاٹ رہا ہے۔ایسا ہی نبوت کے تمام پہلو ایسے صاف اور روشن نظر آتے ہیں کہ ان سے بڑھ کر ممکن نہیں۔
• پس یہ ہے وہ ادراک جو ہمیں اپ نے دیا ۔ آجکل کے علماء آپس میں تو الزام تراشیاں کر رہے ہیں ۔ ان کو یہ جرات نہیں کہ دوسروں کو اپ ﷺ کا مقام دیکھائیں۔ لیکن ان کی نظر میں پھر بھی ہم کافر اور وہ مومن۔
پھر ایک کتاب میں فرمایا! ’ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔ لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جلّ شانہ، کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مُرْسَلْ یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے۔ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔ اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔ ۔۔۔۔ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کرکے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہوکر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہتاہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیاکلمہ بنائے گا۔ اور عبادت میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کردے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذّاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔
• فرمایا! ہم مسلمان ہیں اور ہم خدا تعالیٰ کی کتاب فرقانِ مجید پر ایمان لاتے ہیں اور یہ بھی یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے آقا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے نبی اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ بہترین دین لے کر آئے اور اس بات پر بھی ایمان رکھتے ہیں کہ آپؐ خاتم الانبیاء ہیں اور آپؐ کے بعد کوئی نبی نہیں مگر وہی جس کی تربیت آپؐ کے فیضان سے ہوئی ہو اور جس کا ظہور آپ کی پیشگوئی کے مطابق ہوا اور اللہ تعالیٰ اس امت کے اولیاء کو اپنے مکالمات اور مخاطبات سے مشرف کرتا ہے اور انہیں انبیاء کے رنگ سے رنگین کیا جاتا ہے لیکن وہ حقیقی طور پر نبی نہیں ہوتے کیونکہ قرآن کریم نے شریعت کی تمام ضروریات کو پورا کر دیا ہے اور ان کو فہمِ قرآن عطا کیا جاتا ہے لیکن وہ نہ تو قرآن کریم میں کسی قسم کا اضافہ کرتے ہیں اورنہ اس میں کوئی کمی کرتے ہیں اور جس شخص نے قرآن کریم میںکوئی اضافہ کیا یا کوئی حصہ کم کیا تو وہ شیطان فاجر ہے اور ختمِ نبوت سے ہم یہ مراد لیتے ہیںکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اللہ تعالیٰ کے سب رسولوں اور نبیوں سے افضل ہیں تمام کمالاتِ نبوت ختم ہوگئے ہیں اور ہم یہ عقیدہ رکھتے ہیںکہ آپؐ کے بعد نبوت کے مقام پر وہی شخص فائز ہوسکتا ہے جو آپؐ کی امت میں سے ہو اور آپؐ کا کامل پیرو ہو۔ اور اس نے تمام کا تمام فیضان آپؐ ہی کی روحانیت سے پایا ہو اور آپؐ کے نور سے منور ہوا ہو۔ اس مقام میں کوئی غیریت نہیں اور نہ ہی یہ غیرت کی جگہ ہے اور یہ کوئی علیحدہ نبوت نہیں اور نہ ہی یہ مقامِ حیرت ہے بلکہ یہ احمدِ مجتبیٰ ہی ہے جو دوسرے آئینہ میں ظاہر ہوا ہے اور کوئی شخص اپنی تصویر پر جسے اللہ نے آئینہ میںدکھایا ہو غیرت نہیں کھاتا کیونکہ شاگردوں اور بیٹوں پر غیرت جوش میں نہیں آتی ۔ پس جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فیض پاکر اور آپؐ میں فنا ہو کر آئے وہ درحقیقت وہی ہے کیونکہ وہ کامل فنا کے مقام پر ہوتا ہے اور آپ کے رنگ میں ہی رنگین اور آپ کی ہی چادر اوڑھے ہوتا ہے اور آپؐ سے ہی اس نے اپنا روحانی وجود حاصل کیا ہوتا ہے اور آپؐ کے فیض سے ہی اس کا وجود کمال کو پہنچا ہوتا ہے اور یہی وہ حق ہےجو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی برکات پر گواہ ہے اور لوگ نبی کریم کا حسن ان تابعین کے لباس میں دیکھتے ہیںجو اپنے کمال محبت و صفائی کی وجہ سے آپ کے وجود میں فنا ہوگئے اور اس کے خلاف بحث کرنا جہالت ہے کیونکہ یہ تو آپ کے ابتر نہ ہونے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ثبوت ہےاور تدبر کرنے والوںکے لئے اس کی تفصیل کی ضرورت نہیں اور آپؐ جسمانی طور پر تو مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اپنی رسالت کے فیضان کی رو سے ہر اس شخص کے باپ ہیں جس نے روحانیت میں کمال حاصل کیا۔ اور آپ تمام انبیاء کے خاتم اور تمام مقبولوںکے سردار ہیں اور اب خدا تعالیٰ کی درگاہ میں وہی شخص داخل ہو سکتا ہے جس کے پاس آپؐ کی مہر کانقش ہو اور آپؐ کی سنت پر پوری طرح سے عامل ہو اور اب کوئی عمل اور عبادت آپؐ کی رسالت کے اقرار کے بغیر اور آپؐکے دین پر ثابت قدم رہنے کے بدوں خدا تعالیٰ کے حضور مقبول نہیں ہوگی اورجو آپؐ سے الگ ہوگیا اور اس نے اپنے مقدور اور طاقت کے مطابق آپؐ کی پیروی نہ کی وہ ہلاک ہوگیا۔ آپؐ کے بعد اب کوئی شریعت نہیں آسکتی اور نہ کوئی آپؐ کی کتاب اور آپؐ کے احکام کو منسوخ کر سکتا ہے اور نہ کوئی آپ کے پاک کلام کو بدل سکتا ہےا ور کوئی بارش آپؐ کی موسلا دھار بارش کی مانند نہیں ہوسکتی۔ اور جو قرآن کریم کی پیروی سے ذرہ بھر بھی دور ہوا وہ ایمان کے دائرہ سے خارج ہوگیا اور اس وقت تک کوئی شخص ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان تمام باتوں کی پیروی نہ کرے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اورجس نے آپؐ کے وصایا میں سے کوئی چھوٹی سی وصیت بھی ترک کر دی تو وہ گمراہ ہوگیا۔اور جس نے اس امت میں نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ اعتقاد نہ رکھا کہ وہ خیر البشر محمد مصطفیٰ کا ہی تربیت یافتہ ہے اور آپؐ کے اسوہ حسنہ کے بغیر ہیچ محض ہے اور یہ کہ قرآن کریم خاتم الشرائع ہے تو وہ ہلاک ہوگیا اور وہ کافروں اور فاجروںمیں جاملا اور جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور یہ اعتقاد نہ رکھا کہ وہ آپؐ ہی کے امت میں سے ہے اور یہ کہ جو کچھ اس نے پایا ہے وہ آپؐ ہی کے فیضان سے پایا ہے اور یہ کہ وہ آپؐ ہی کے باغ کا ایک پھل اور آپؐ ہی کی موسلا دھار بارش کا ایک قطرہ اور آپؐ ہی کی روشنی کی ایک کرن ہے تو وہ ملعون ہے اور اس پر اور اس کے ساتھیوں پر اور اس کے اتباع اور مددگاروں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔ لعنت اپنے اوپر اور جماعت پر تو نہیں دے رہے ۔ یہ سمجھتے ہیں کہ حضورﷺ سے ہی سب فیصان پہنچا۔
• آسمان کے نیچے محمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا ہمارا کوئی نبی نہیں اور قرآن کریم کے سوا ہماری کوئی کتاب نہیں اور جس نے بھی اس کی مخالفت کی وہ اپنے آپ کو جہنم کی طرف کھینچ کر لے گیا۔
• آپ نے بے شمار جگہ اس بات کا ذکر کیا ہے۔ آپ ؑ فرماتے ہیں :۔ دنیا کی مثالوں میں سے ہم ختمِ نبوت کی مثال اس طرح پر دے سکتے ہیں کہ جیسے چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے اور چودھویں تاریخ پر آکر اس کا کمال ہو جاتا ہے جبکہ اسے بدر کہا جاتا ہے اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر کمالاتِ نبوت ختم ہوگئے۔ جو یہ مذہب رکھتےہیں کہ نبوت زبردستی ختم ہوگئی اور آنحضرتؐ کو یونسؐ بن متی پر بھی ترجیح نہیں دینی چاہیے انہوں نے اس حقیقت کو سمجھا ہی نہیںاور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل اور کمالات کا کوئی علم ہی ان کو نہیں ہے باوجود اس کمزوری فہم اور کمی علم کے ہم کو کہتے ہیں کہ ہم ختمِ نبوت کے منکر ہیں
• فرمایا ! میں ایسے مریضوں کو کیا کہوں اور ان پر کیا افسوس کروں اگر ان کی یہ حالت نہ ہوگئی ہوتی اور حقیقتِ اسلام سے بکلی دور نہ جا پڑےہوتے۔ جو حالت ہے مسلمانوں کی جو حقیقت کا معلوم ہی نہیں۔ تو فرمایا۔۔میرے انے کی ضرورت ہی کیا تھی۔
• تو پھر میرے آنے کی ضرورت کیا تھی؟ ان لوگوںکی ایمانی حالتیں بہت کمزور ہو گئی ہیں اور وہ اسلام کے مفہوم اور مقصد سے محض ناواقف ہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ اہلِ حق سے عداوت کرتے جس کا نتیجہ کافر بنا دیتا ہے۔ پس مسلمان کلمہ گو کو کافر کہنے والا اسے دائرہ اسلام سے خود نکلجاتا ہے۔
• پس اپنی حالتوں پر رحم کرو اور دیکھو کہ خدا کیا چاہتا ہے۔ کاش یہ چند حوالے شریف الطبع لوگوں کے لیے ہدایت کا سامان بن جائیں۔ پاکستان کی اسمبلی میں ایک ممبر اسمبلی نے بلاوجہ اشتغال دلانے کی تقریر کی ۔ جھوٹی غیر ت اور ملک میں فساد پیدا کرنے کی کوشش تھی۔ اور یہ بھی کوشش تھی کہ ملک کا بڑا وفا دار ثابت کرے کہ سیاسی زندگی کو نئی زندگی ملے۔ وہاں کے بعض عقل رکھنے والے سیاستدانوں اور میڈیا نے ناپسندیدگی کا اظہار بھی کیا ہے۔ اور غلط کام پر آواز اٹھائی ہے۔ اور ان لوگوں نے حقائق بھی بتائے۔ اپنی طرف سے میدان مارنے والے نے کہا کہ قائد اعظم یونیورسٹی میں فیزکس یونیورسٹی کا نام غیرت تقاضہ کرتی ہے ناں رکھا جائے۔ اس وقت کیوں غیرت ناں دیکھائی۔۔۔ باقی جہاں تک احمدیوں کا سوال ہے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس دن نام رکھا گیا تھا اسی دن خط لکھا گیا حکومت کو ان کے بیٹوں کی طرف سے۔۔۔ کہ بیس سال بعد خیال آیا؟ میرے باپ کو غیر مسلم قرار دیا تھا ۔ انہوں نے پاکستانی شہریت نہیں چھوڑی۔ انڈیا کی طرف سے بھی پیش کش ائی۔ اور انہوں نے کہا کہ میں ہمشیہ پاکستان کا وفا دار رہوں گا۔ ہمارے حقوق پاکستان میں ادا نہیں کیے جا رہے ۔ ہم اس فیصلے سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر پاکستان کی اسمبلی نام بدلنا چاہتی ہے۔ سلام خاندان اور جماعت احمدیہ کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
• پھر کہتے ہیں کہ احمدیوں کو فوج میں بھرتی نہیں کرنا چاہئے۔۔ آج تک جتنے بھی احمدی گئے ہیں انہوں نے ملک کی خاطر قربانیاں کی ہیں۔ احمدی وہ ہیں جو جرنل کے رینک پر پہنچے اور شہید بھی ہوئے۔ حقائق سامنے ہیں اور جرنل اختر جرنل علی اور افتخار کے نام لیا جا رہا ہے۔ یہ فوج میںإ کپٹن کے عہدے تک پہنے پھر داماد بننے کی وجہ سے سیاست میں آ گئے۔ ملک کی خاطر قربانی دینی چائے تھی۔
• قوم کی خدمت نہیں کرتے قوم کے وفا دار نہیں۔۔ آج پاکستان میں احمدی ہی ہی ںجو حب الوطن من الایمان پر یقین رکھتے ہیں۔ہمارا کوئی تعلق نہیں سیاست سے۔ مذہب کے نام پر جان دینے والے ہیں۔ ہم انحضرتﷺ کا کاتم النبین مانتے ہین اور ناموس کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور دینے رہیں فگے۔
• ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس ملک کو جس کے خاطر بڑی قربانیاں دی ہیں اسے سلامت رکھے اور ظالم جابر لیڈروں سے بچائے اور با وفا میں پاکستان کا بھی شمار ہونے لگے۔ آمین
Photo

Post has attachment

Post has shared content
Sach tu ye hai Program 10 || In response to Captain Safdar Speech in NA against Ahmadis
کیپٹن (ر) صفدر اعوان کی قومی اسمبلی میں احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کا دندان شکن جواب
تقریر میں اٹھائے جانے والے مطالبات کا جائزہ اور احمدیوں کی ملک و قوم کے لئے دی گئی قربانیوں کا ذکر

Post has shared content
بسم الله الرحمن الرحيم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اج کل جس طرح کے حالات سے خاس کر پاکستان
آپ سب کی یادیہانی کے لئے یہ دوائیں خاس کر کریں
یہ نام نہاد علما اور ان کے چیلے چانٹے پھر اس طرح کے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے احمدیوں کے خلاف کارروائی کی جائے یا پھر ھنگامے کیے جا سکیں،

خدا تعالی ان کے حر شر سے محفوظ رکھے آمین ۔
Photo

Post has shared content
A global statue is erected in Windsor, Canada and guess what it says ,
LOVE FOR ALL HATERD FOR NONE

Motto of the Ahmadiyya Muslim Community!
PhotoPhotoPhotoPhotoPhoto
08/10/2017
8 Photos - View album

Post has attachment
كلام الامام المهدي والمسيح الموعود عليه السلام بانه من الله تعالى
Photo

Post has attachment
صرف احمدی احباب کےلئے
خلاصہ خطبہ جمعہ 29ستمبر 2017 بیت الفتوح یو کے
بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ
(طالب دعا:ابن حفیظ )
تشہد و سورة فاتحہ کی تلاوت کے بعدحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
• آج اللہ کے فضل سے مجلس انصار اللہ یوکے کا سالانہ اجتماع شروع ہو رہا ہے اس کے لیے ایک اہم اور بنیادی چیز کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ ہے نماز۔۔ چالیس سال کی عمر کے بعد یہ احسا س ہونا چاہئے کہ زندگی کے دن کم ہو رہے ہیں ایسی حالت میں اللہ کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہے۔ اور اللہ کے حضور ہر عمل کا حساب کتاب ہونا ہے۔ ایسی حالت میں ایک مومن اور ہر اس شخص کی جس کو یوم اخرت پر ایمان ہے فکر ہونی چاہے کہ ہم اللہ کے حق بھی ادا کرنے والے ہوں اور اس کے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے والے ہوں۔
• نماز کی طرف جب بھی اللہ نے توجہ دلائی ہے تو اس طرف توجہ دلائی کہ باقاعدگی وقت پر اور باجماعت ادا ہوں۔ نماز کے قائم کرنے کا مطلب بھی وقت اور باجماعت ادا کرنا ہے۔ دیکھنے میں ایا ہے کہ انصار اللہ بھی رپورٹوں سے جائزہ لیتے ہوں گے اور لینا چاہئے۔ باوجود اس کے کہ ایک پختہ عمر ہے اس طرف توجہ نہیں۔ ہر ناصر کو خود جائزہ لینا چاہئے کہ وہ نماز باجماعت کا عاد ی ہو۔ انتہائی کوشش کرنی چاہئے۔ علاقے کے کچھ لوگ کسی گھر میں جمع ہو سکتے ہیں گھر کے افراد مل کر نماز باجماعت ادا کر سکتے ہیں۔ اس سے نماز اور باجماعت کی اہمیت کا احساس بچوں میں ہو گا۔ انصار اللہ حقیقی رنگ میں انصار اللہ بن سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دین کو عمل کرنے اور کروانے میں اپنا عمل کریں۔ جن کے نگران بنائے گئے ہیں انکو نمونہ نہیں دے رہے تو صرف نام کے انصار اللہ ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ہے کہ ہمارے غالب آنے کا ہتھار دعا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ اللہ کے طریق کے مطابق اس ہتھیار کو استعمال کیا جائے۔ تبھی ہم بیعت کا بھی صحیح حق ادا کرنے والے ہوں گے۔ ورنہ آپ ؑ نے یہی فرمایا کہ اگر ایسا نہیں کرنا تو کوئی فائدہ نہیں بیعت یں آنے کا۔۔۔۔۔کس حد تک نمونہ پیش کر رہے ہیں؟ کیفت کیا ہے نمازوں کی؟ کیا فرض اور بوجھ یا حقیقیت میں اللہ کی رضا کا حصول ہے؟ حضرت مسیح موعودؑ نے نماز کی اہمیت فریضیت اور اس موضوع پر بار بار مختلف موقعوں پر توجہ دلائی ہے۔ بعض ارشادارت جو اس کی اہمیت پر روشنی ڈٓلتے ہیں بیان کروں گا۔
• حضورؑ نے فرمایا! نمازوں کو باقاعدہ التزام کے ساتھ پڑھو۔بعض لوگ صرف ایک ہی وقت کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔وہ یاد رکھیں کہ نمازیں معاف نہیں ہوتیں،یہاں تک کہ پیغمبروں تک کو معاف نہیں ہوئیں۔ایک حدیث شریف میں آیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پاس ایک نئی جماعت آئی۔انہوں نے نماز کی معافی چاہی۔آپ نے فرمایا کہ جس مذہب میں عمل نہیں وہ مذہب کچھ نہیں ،اس لئے اس بات کو خوب یاد رکھو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق اپنے عمل کر لو ۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے ایک یہ بھی نشان ہے کہ آسمان اور زمین اس کے امر سے قائم رہ سکتے ہیں۔بعض دفعہ وہ لوگ جن کے طبائع طبیعیات کی طرف مائل ہیں۔کہا کرتے ہیں کہ نیچری مذہب قابل اتباع ہے،کیونکہ اگرحفظ صحت کے اصولوں پر عمل نہ کیا جائے،تو تقویٰ اور طہارت سے کیا فائدہ ہو گا ؟سو واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشانوں میں سے یہ بھی ایک نشان ہے کہ بعض اوقات ادویات بے کار رہ جاتیں ہیں اور حفظ صحت کے اسباب بھی کسی کام نہیں آسکتے۔نہ دوا کام آسکتی ہے نہ طبیب حاذق ،لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا حکم ہو تو الٹا سیدھا ہو جایا کرتا ہے۔
• اس کئ لیے ضروری ہے کہ اللہ سے تعلق پیدا کیا جائے۔ پھر نماز کی حقیقیت اور اہمیت اور اس کی ضرورت اور کیفیت کیا ہونی چاہئے ان باتوں کی وضاحت میں فرماتے ہیں:۔ نماز کیا ہے؟ یہ ایک خاص دعا ہے، مگر لوگ اس کو بادشاہوں کا ٹیکس سمجھتے
• ہیں۔ نادان اتنا نہیں جانتے کہ بھلاخدا تعالیٰ کو ان باتوں کی کیا حاجت ہے، اس کے غناء ذاتی کو اس بات کی کیا حاجت ہے کہ انسان دُعاتسبیح اور تہلیل میں مصروف رہے، بلکہ اس میں انسان کا پنا ہی فائدہ ہے کہ وہ اس طریق پر اپنے مطلب کو پہنچ جاتا ہے۔
• فرمایا !مجھے یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ آج کل عبادات اور تقویٰ اور دینداری سے محبت نہیں ہے۔ اس کی وجہ ایک عام ذہریلا اثر رسم کا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعلایٰ کی محبت سرد ہورہی ہے اور عبادت میں جس قسم کامزاآنا چاہیے ، وُہ مزا نہیں آتا۔ دُنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ، جس میں لذت اور ایک خاص حظ اللہ تعالیٰ نے نہ رکھا ہو۔ جس طرح پر ایک مریض ایک عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ چیزکا مزہ نہیں اُٹھاسکتا اور وہ اُسے تلخ یا پھیکا سمجھتا ہے،(مریض ہیں ان کے منہ بد مزہ ہو جاتے ہیں اکثر مریضوں میں ایسا دیکھتے ہیں)
• اسی طرح وہ لوگ جو عبادات الہٰی میں حفظ اور لذات نہیں پاتے اُن کو اپنی بیماری کا فکر کرنا چاہئے، (جنکو حض نہیں آتا وہ بھی بیمار ہیں )کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے دُنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس میں خداتعالیٰ نے کوئی نہ کوئی لذت نہ رکھی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا، توپھر کیا وجہ ہے کہ اس عبادت میں اُس کے لئے لذت نہ رکھی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کو عبادت کے لئے پیدا کیا، تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس عبادت میں اُس کے لئے لذت اور سُرورنہ ہو۔ لذت اور سُرورتو ہے، مگر اُس سے حظ اٹھانے والا بھی تو ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ والْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات:۵۷) اب انسان جبکہ عبادت ہی کے لئے پیدا ہوا ہے۔ ضروری ہے کہ عبادت میں لذت اور سُرور بی درجۂ غایت کا رکھا ہو۔
• فرمایا ! اس بات کو ہم اپنے روز مرّہ کے مشاہدہ اور تجربے سے خوب سمجھ سکتے ہیں۔مثلاً دیکھواناج اور تمام خوردنی اور نوشیدنی اشیاء انسان کے لئے پیدا ہوتی ہیں،(کھانے پینے کی تمام چیزیں انسان کے لیے پیدا ہوئی ہیں) تو کیااُن سے وُہ ایک لذت اور حظ نہیں پاتا؟ کیا اس ذائقہ ، مزے اور احساس کے لئے اُس کے منہ میں زبان موجود نہیں۔ کیا وہ خوبصورت اشیاء دیکھ کر نباتات ہوں یا جمادات ۔ حیوانات ہو یا انسان حظ نہیں پاتا؟ یقینا لطف انداوز ہوتا ہے دل ۔ کیا دل خوش کُن اور سُریلی آوازوں سے اس کے کان محظوظ نہیں ہوتے؟ پھر کیا کوئی دلیل اور بھی اس امر کے اثبات کے لئے مطلوب ہے؟؟ کہ عبادت میں لذت نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عورت اور مرد جو جوڑا پیدا کی اور مرد کو رغبت دی ہے۔ اب اس میں زبردستی نہیں کی ، بلکہ ایک لذت بھی دکھلائی ہے۔ اگر محض توالد وتناسل ہی مقصود بالذات ہوتا تو مطلب پورا نہ ہوسکتا۔
• آپ ؑ فرماتے ہیں : خوب سمجھ لو کہ عبادت بھی کوئی بوجھ اور ٹیکس نہیں۔ اس میں بھی ایک لذت اور سُرور ہے اور یہ لذت اور سُرور دُنیا کی تمام لذتوں اور تمام حظوظ نفس سے بالاتراور بلندہے۔جیسے ایک مریض کسی عمدہ سے عمدہ خوش ذائقہ غذا کی لذت سے محروم ہے اسی طرح پر ہاں ٹھیک ایسا ہی وہ کمبخت انسان ہے جو عبادتِ الہٰی سے لذت نہیں پاسکتا۔ پس ہمیں ان کو فکر کرنی چاہئے ۔ پھر حقیقی نماز کی وضاحت فرماتے ہیں کہ
• د رکھو ۔یہ نماز ایسی چیز ہے ۔کہ اس دنیا بھی سنور جاتی ہے اور دین بھی ۔لیکن اکثر لو گ جو نماز پڑھتے ہیں تو وہ نماز ان پر لعنت بھیجتی ہے ۱؎ جیسے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فویلٌ لِّلمُصَلِّینَ الَّذینَ ھُم عَن صَلَا تھم سَاھُونَ ( الماعون : ۵۔۶) یعنی لعنت ہے ان نمازیوں پر جو نماز کی حقیقت سے ہی بے خبر ہو تے ہیں ۔
• نماز تو وہ چیز ہے کہ انسان اس کے پڑھنے سے ہر ایک طرح کی باد عملی اور بے حیائی سے بچایا جا تاہے ۔مگر جیسے کہ میں پہلے بیان کر چکا ہون اس طرح نماز پڑھنی انسان کے اپنے اخیتار میں نہیں ہوتی ۔اور یہ طریق خدا کی مدد اور استعانت کے بغیر حا صل نہیں ہو سکتا اور جب تک انسان دعاؤں میں نہ لگا رہے اس طرح کا خشو ع اور خضوع پیدا نہیں ہو سکتا ۔ اس لئے چاہئے کہ تمہا را دن اور تماری رات غرض کوئی گھڑی دعاؤں سے خا لی نہ ہو ۔ پس نماز کا حض اور سرور حاصل کرنے کے لیے اللہ کا فضل مانگنے کی ضرورت ہے اور فضل بھی خدا سے مانگنے کی ضرورت ہے۔
• پھر نماز میں لذت نہ آنے کی وجہ بیان فرماتے ہیں :۔ غرض میں دیکھتاہوں کہ لوگ نمازوں میں غافل اور سُست اس لئے ہوتے ہیں کہ اُن کو اس لذت اور سُرور سے اطلاع نہیں جو اللہ تعالیٰ نے نماز کے اندر رکھا ہے اور بڑی بھاری وجہ اس کی یہی ہے۔ پھر شہروں اور گائوں میں تو اور بھی سُستی اور غفلت ہوتی ہے۔ سوپچاسواں حصہ بھی تو پوری مُستعدی اور سچی محبت سے اپنے مولا حقیقی کے حضور سرنہیں جھکاتا۔پھر سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ اُن کو اس لذت کی اطلاع نہیں اور نہ کبھی انہوں نے اس مزہ کو چکھا اور مذاہب میں ایسے احکام نہیں ہیں۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ہم اپنے کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں اور مؤذّن اذان دے دیتا ہے۔ پھر وہ سننا بھی نہیں چاہتے، گویا اُن کے دل دکھتے ہیں۔ یہ لوگ بہت ہی قابلِ رحم ہیں۔ بعض لوگ یہاں بھی ایسے ہیں کہ ان کی دُکانیں دیکھوتو مسجدوں کے نیچے ہیں۔ مگرکبھی جاکر کھڑے بھی تو ہیں ہوتے۔ یعنی نماز کے لیے نہیں جاتے پس میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ خداتعالیٰ کہ خداتعالیٰ سے نہایت سوز اور ایک جوش کے ساتھ یہ دعا مانگنی چاہئے کہ جس طرح پھلوں اور اشیاء کی طرح طرح کی لذتیں عطا کی ہیں۔ نماز اور عبادت کا بھی ایک بار مزہ چکھادے۔
• آپ ؑ فرماتے ہیں !کھایا ہوا یادرہتاہے۔ دیکھو اگر کوئی شخص کسی خوبصورت کو ایک سُرور کے ساتھ دیکھتا ہے، تو وہ اُسے خوب یادرہتا ہے اور پھر اگر کسی بدشکل اور مکروہ ہیت کودیکھتا ہے، تو اس کی ساری حالت بہ اعتبار اس کے مجسم ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ ہاں اگر کوئی تعلق نہ ہوتو، کچھ یادنہیں رہتا۔ بدصورتی اور خوبصورتی بھی توجہ سے دیکھنے کی وجہ سے یاد رہتی ہے۔ فرمایا کہ اسی طرح بے نمازوں کے نزدیک نمازایک تاوان ہے کہ ناحق صبح اُٹھ کر سردی میں وضو کرکے خوابِ راحت چھوڑ کرکئی قسم کی آسائشوں کوکھوکرپڑھنی پڑتی ہے۔
• فرمایا !اصل بات یہ ہے کہ اسے بیزاری ہے، وہ اس کو سمجھ نہیں سکتا۔ اس لذت اور راحت سے جو نماز میں ہے اس کو اطلاع نہیں ہے پھر نماز میں لذت کیونکر حاصل ہو۔ مَیں دیکھتا ہوں کہ ایک شرابی اور نشہ باز انسان کو جب سُرور نہیں آتا، تو وہ پَے درپے پیالے پیتا جاتا ہے، یہانتک کہ اُس کو ایک قسم کا نشہ آجاتا ہے۔ دانشمند اوربزرگ انسان اس سے فائدہ اُٹھاسکتا ہے اور وہ یہ کہ نماز پر دوام کرے جب تک مزہ نہ آئے پڑھتا جائے اور پڑھتا جاوے۔یہانتک کہ اُس کو سرور آجاوے اور جیسے شرابی کے ذہن میں ایک لذت ہوتی ہے، جس کا حاصل کرنا اس کا مقصود بالذات ہوتا ہے۔ اسی طرح سے ذہن میں ساری طاقتوں کا رُجحان نماز میں اُسی سُرور کا حاصل کرنا ہو ساری قوتیں اس طرف لگائے کہ مزہ اٹھا نا ہے نماز سے۔
• فرمایا ! پھرایک خلوص اور جوش کے ساتھ کم از کم اس نشہ باز کے اضطراب اور قلق وکرب کی مانند ہی ایک دُعا پیدا ہوکہ وہ لذت حاصل ہوتو
• آپ فرماتے ہیں کہ :۔ مَیں کہتا ہوں اور سچ کہتا ہوں کہ یقینا یقینا وہ لذت حاصل ہوجاوے گی ۔ پھرنماز پڑھتے وقت اُن مفادکاحاصل کرنا بھی ملحوظ ہوجو اس سے ہوتے ہیں اور احسان پیشِ نظر رہے۔ اِنَّ الحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ (ھود:۱۱۵)
• فرماتے ہیں :۔نیکیاں بدیوں کو زائل کردیت ہیں۔ پس ان حسنات کو اور لذات کو دل میں رکھ کر دُعا کرے کہ وہ نماز جو کہ صدیقوں اور محسنوں کی ہے ، وہ نصیب کرے۔ یہ جو فرمایا ہے اِنَّ الحَسَنٰتِ یُذْھِبْنَ السَّیِّاٰتِ(ھود:۱۱۵) یعنی نیکیاں یا نماز بدیوں کو دُور کرتی ہے یا دوسرے مقام پر فرمایا ہے۔ نماز فواحش اور برائیوں سے بچاتی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ بعض لوگ باوجود نماز پڑھنے کے پھر بدیاں کرتے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نمازیں پڑھتے ہیں، مگر نہ روح اور راستی کے ساتھ۔ وُہ صرف رسم اور عادت کے طور پر ٹکریں مارتے ہیں۔ اُن کی رُوح مُردہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام حسنات نہیں رکھا اور یہاں جو حسنات کا لفظ رکھا الصلوٰۃ کا لفظ نہیں رکھا۔ باوجودیکہ معنے وہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تا نماز کی خوبی اور حسن وجمال کی طرف اشارہ کرے کہ وہ نمازبدیوں کو دُورکرتی ہے۔نماز نشست و برخاست کا نام نہیں ہے۔ نماز کا مغز اوررُوح وہ دُعا ہے جو ایک لذت اور سُرور اپنے اندررکھتی ہے۔
• نماز کی روح اور مقصد کو کس طرح حاصل کرنا چاہئے اس بارے مین آپ ؑ فرماتے ہیں اور کہ ارکان نماز جو ہیں قیام رکورع و سجدہ ساری حالتیں اس لیے رکھی گئی ہیں کہ اس روح و مقصد کو حاصل کیا جائے۔ آپ ؑ فرماتے ہیں :۔ ارکانِ نماز دراصل روحانی نشست وبرخاست ہیں۔ انسان کو خداتعالیٰ کے رُوبرو کھڑا ہونا پڑتا ہے اور قیام بھی آداب خدمت گاران میں سے ہے۔ رکوع جو دوسرا حصہ ہے بتلاتا ہے کہ گویا تیاری ہے کہ وہ تعمیل حکم کو کس قدر گردن جھکاتا ہے اور سجدہ کمالِ آداب اور کمالِ تذلل اور نیستی کو جو عبادت کا مقصود ہے ظاہر کرتا ہے۔ یہی عبادت کا مقصد ہے۔ یہ آداب اور طُرق ہیں جو خداتعالیٰ نے طور یادداشت کے مقرر کردیئے ہیں اورجسم کو باطنی طریق سے حصہ دینے کی خاطر ان کو مقررکیا ہے۔ جس طرح ظاہری طور پر کر رہا ہے ایسے ہی باطنی طور پر روح کو کرنا چاہئے۔
• فرمایا!علاوہ ازیں باطنی طریق کے اثبات کی خاطر ایک ظاہری طریق بھی رکھ دیا ہے۔ اب اگر ظاہری طریق میں(جو اندرونی اور باطنی طریق کا ایک عکس ہے) صرف نقال کی طرح نقلیں اتاری جاویں( رکوع میں چلے گئے سجدہ کر لیا نقالی ہی کرنی ہے ) اور اسے ایک بارِگراں سمجھ کراُتارپھینکنے کی کوشش کی جاوے۔ تو تم ہی بتائو۔ اس میں کیا لذت اور حظ آسکتا ہے؟ اور جبتک لذت اور سُرور نہ آئے۔ اُس کی حقیقت کیونکرمتحقق ہوگی پتہ نہیں لگ سکتا کہ نماز کی حْیقیت کیا ہے۔اور یہ اُس وقت ہوگا جب کہ روح بھی ہمہ نیستی اور تذللل تام ہوکر آستانہ الوُہیت پر گرے پس روح کو ایسے ہی سجدہ کرنا چاہئے اور روح بھی بولے اور دل سے الفاظ لکلیں
• فرمایا! اور جو زبان بولتی ہے ، رُوح بھی بولے۔ اُس وقت ایک سُرور اور نور اور تسکین حاصل ہوجاتی ہے۔ مَیں اس کو اور کھول کر لکھنا چاہتا ہوں کہ انسان جس قدرمراتب طے کرکے انسان ہوتا ہے۔ یعنی کہاں نطفہ۔ بلکہ اس سے بھی پہلے نطفہ کے اجزاء یعنی مختلف قسم کی اغذیہ اور اُن کی ساخت اور بناوٹ۔ پھر نُطفہ کے بعد مختلف مدارج کے بعد بچہ ۔ پھر جوان ، بُوڑھا۔ غرض ان تمام عالموں میں جو اُس پر مختلف اوقات میں گزرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا معرف ہو اور وہ نقشہ ہر آن اس کے ذہن میں کھنچا رہے۔ تو بھی وُہ اس قابل ہوسکتا ہے کہ ربوبیت کے مدِمقابل میں اپنی عبودیت کو ڈال دے۔ یہ سارا جب انسان سوچے کہ کس طرح میں پیدا ہوا اور کس طرح بڑا ہوا تبھی عبودت کا حق انسان سوچ سکتا ہے اور ادا ہو سکتا ہے۔
• فرمایا !غرض مدعایہ ہے کہ نماز میں لذت اور سُرور بھی عبادیت اور ربوبیت کے ایک تعلق سے پیداہوتا ہے۔ جب تک اپنے آپ کو عدمِ محض یا مشابہ بالعدم قراردے کر جو ربوبیت کا ذاتی تقاضہ ہے نہ ڈال دے۔ اُس کافیضان اور پَر تو اس پر نہیں پڑتا اللہ تعالیٰ کے فیض سے دائدہ اٹھانا اہے تو کامل عبودیت پیدا کرنی ہو گی ۔ اگر ایسا ہوتو پھر اعلیٰ درجہ کی لذت حاصل ہوتی ہے۔ جس سے بڑھ کر کوئی حظ نہیں ہے۔
• اس مقام پر انسان کی روح جب ہمہ نیستی ہوجاتی ہے تو وہ خدا کی طرف ایک چشمہ کی طرح بہتی ہے اور ماسویٰ اللہ سے اُسے انقطاعِ تام ہوجاتا ہے۔ اُس وقت خداتعالیٰ کی محبت اُس پر گرتی ہے۔ اس اتصال کے وقت ان دوجوشوں سے، جو اُوپر کی طرف سے ربوبیت کا جوش اورنیچے کی طرف عبودیت کا جوش ہوتا ہے۔ ایک خاص کیفیت پیداہوتی ہے۔ اس کا نام صلوٰۃ ہے۔
• فرمایا ! پس یہی وہ صلوٰۃ ہے جو سیئات کو بھسم کرجاتی ہے اس طرح کی نماز ہو تو برائیاں ختم ہوتی ہیں اور ان کو جلا دیتی ہیں ۔ اور اپنی جگہ ایک نور اور چمک چھوڑ دیتی ہے۔ جو سالک کو راستہ کے خطرات اور مشکلات کے وقت ایک منور شمع کا کام دیتی ہے ایک ٹارچ لائیٹ کا کام دیتی ہیں اور ہرقسم کے خس و خاشاک اور ٹھوکر کے پتھروں اور خاروخس سے جو اس کی راہ میں ہوتی ہیں، آگاہ کرکے بچاتی ہے اور یہی وُہ حالت ہے جب کہ اِنَّ الصّٰلٰوۃَ تَنْھیٰ عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَر(العنکبوت:۴۶) کا اطلاق اس پر ہوتا ہے۔ کہ نماز گناہوں سے روکتی ہے۔ کیونکر اس کے ہاتھ میں نہیں اُس کے دل میں ایک روشن چراغ رکھا ہواہوتا ہے اور یہ درجہ کامل تذلل ، کامل نیستی اور فروتنی اور پوری اطاعت سے حاصل ہوتا ہے۔ پھر گناہ کاخیال اُسے کیونکر آسکتا ہے اور انکار اس میں پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔
• فرمایا ! فحشاء کی طرف اس کی نظر اُٹھ ہی نہیں سکتی۔ غرض ایک ایسی لذت ، ایسا سُرور حاصل ہوتا ہے کہ مَیں نہیں سمجھ سکتا کہ اُسے کیونکر بیان کروں۔
• پھر اس بات کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ غیرت مند صرف اللہ کے اگے ہی جھکتا ہے اور جھکنا چاہئے اور غیر کو امیدوں کا مرکز نہیں بنانا چاہئے فرماتے ہیں کہ :۔
• پھریہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ یہ نماز جواپنے اصلی معنوں میں نماز ہے، دُعا سے حاصل ہوتی ہے۔ غیراللہ سے سوال کرنا مومنانہ غیرت کے صریح اور سخت مخالف ہے، کیونکہ یہ مرتبہ دُعا کا اللہ ہی کے لئے ہے۔ جب تک انسان پورے طور پر خفیف ہوکر اللہ تعالیٰ ہی سے سوال نہ کرے اور اُسی سے نہ مانگے۔ سچ سمجھو کہ وہ حقیقی طور پر سچامسلمان اور سچا مومن کہلانے کا مستحق نہیں۔ اسلام کی حقیقت ہی ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی، سب کی سب اللہ تعالیٰ ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں۔ جس طرح پرایک بڑاانجن بہت سے کلوں کو چلاتا ہےبہت سے پرزوں کو چلاتا ہے۔ اسی طورپر جب تک انسان اپنے ہر کام اور ہر حرکت وسکون کو اُس انجن کی طاقتِ عظمیٰ کے ماتحت نہ کرلیوے وہ کیونکر اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا قائل ہوسکتا ہے اور اپنے آپ کو اِنِّیْ وَجَھْتُ وَجْھِیَ لَلَّذِیْ فَطَرَالسَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ (الانعام:۸۰) کہتے وقت واقعی حنیف کہہ سکتا ہے؟ جیسے مُنہ سے کہتا ہے ، ویسے ہی ادھر کی طرف متوجہ ہو جب اظہار کرتا ہے اور مواحد کہتا ہے تو سب توجہ اس طرف ہونی چاہئے تو ایسی حالت ہو تو لاریب وہ مسلم ہے۔ وہ مومن اور حنیف ہے لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا غیر اللہ سے سوال کرتا ہے اور ادھربھی جھکتا ہے ، وہ یادرکھے کہ بڑا ہی بدقسمت اور محروم ہے کہ اُس پر وُہ وقت آجانے والا ہے کہ وہ زبانی اور نمائشی طورپراللہ تعالیٰ کی طرف نہ جھُک سکے۔
• فرمایا ! ترکِ نماز کی عادت اور کسل کی ایک وجہ یہ بھی ہے کیونکہ جب انسان غیر اللہ کی طرف جُھکتا ہے ، تو رُوح اور دل کی طاقتیں اس درخت کی طرح (جس کی شاخیں ابتداء ً ایک طرف کردی جاویں اور اُس طرف جھک کر پرورش پالیں) ادھر ہی جھکتا ہے یہ بہت خطرناک حالت ہے۔
• فرمایا ! خداتعالیٰ کی طرف سے ایک سختی اور تشدد اس کے دل میں پیدا ہوکراُسے منجمد اور پتھر بنادیتا ہے۔ جیسے وہ شاخیں۔پھردوسری طرف مڑنہیں سکتا۔ اسی طرح پر وہ دل اور روح دن بدن خداتعالیٰ سے دُورہوتی جاتی ہے۔ پس یہ بڑی خطرناک لوردل کو کپکپادینے والی بات ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دُوسرے سے سوال کرے۔اسی لئے نماز کا التزام اور پابندی بڑی ضروری چیز ہے، تاکہ اولاً وہ ایک عادتِ راسخہ کی طرح قائم ہو اور رجوع الی اللہ کا خیال ہو۔ پھر رفتہ رفتہ وہ وقت خودآجاتا ہے جب کہ انقطاعِ کلی کی حالت میں انسان ایک نور اور ایک لذت کا وارث ہوجاتا ہے۔ پھر ہر چیز سے کٹ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف ہی ہوتا ہے تب ایک نور ملتا ہے۔
• فرمایا !مَیں اس امر کو پھرتاکید سے کہتا ہوں افسوس ہے کہ مجھے وُہ لفظ نہیں ملے، جس میں غیر اللہ کی طرف رجوع کرنے کی برائیاں بیان کرسکوں۔ لوگوں کے پاس جاکر منّت خوشامد کرتے ہیں۔ یہ بات خداتعالیٰ کی غیرت کو جوش میں لاتی ہے۔ کیونکہ یہ تو لوگوں کی نماز ہے پس وہ اس سے ہٹتا اور اُسے دُورپھینک دیتاہے ۔ میں موٹے الفاظ میں اس کو بیان کرتا ہوں گو یہ امر اس طرح پر نہیں ہے۔ مگر سمجھ میں خوب آسکتا ہے کہ جیسے ایک مرد ِ غیورّ کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ وُہ اپنی بیوی کو کسی غیر کے ساتھ تعلق پیداکرتے ہوئے دیکھ سکے اور جس طرح پر وہ مرد ایسی حالت میں اس نابکارعورت کو واجب القتل سمجھتابلکہ بسااوقات ایسی وارداتیں ہوجاتی ہیں۔ ایسا ہی جوش اور غیرت الوہیت کا ہے۔ الہ تعالیٰ کو بڑی غیرت ہے۔ عبودیت اور دُعا خاص اسی ذات کے مدِ مقابل ہیں۔ وہ پسند نہیں کرسکتا کہ کسی اور کو معبود قرار دیا جاوے یا پکاراجاوے۔
• پس خوب یادرکھو! اور پھر یادرکھو! کہ غیر اللہ کی طرف جھُکنا خداسے کاٹنا ہے۔ نماز اورتوحید کچھ ہی کہو، کیونکہ توحید کے عملی اقرار کا نام ہی نماز ہے۔ اس وقت بے برکت اور بیسود ہوتی ہے جب اُس میں نیستی اورتذلل کی رُوح اور حنیف دل نہ ہو۔
• پھر نماز میں وساوس پیدا ہونے کی وجہ بیان فرماتے ہیں جن لوگوں کو خدا کی طرف پورا التفات نہیں ہوتا انہیں کو نماز میں بہت وساوس آتے ہیں ۔ دیکھو ایک قیدی جب کہ ایک حا کم کے سامنے کھڑا ہوتا ہے ۔ تو کیا اس وقت اس کے دل میں کوئی وسوسہ گذرجاتا ہے ہر گز نہیں وہ ہم تن حاکم کی طرف متوجہ ہو تا ہے اور اس فکر میں ہوتا ہے کہ حاکم کیا حکم سناتا ہے ۔ اس وقت تو وہ اپنے وجود سے بھی بالکل بے خبر ہو تا ہے ۔ ایسا ہی جب صدق دل سے انسان خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور سچے دل سے ا س کے آستانہ پر گرے تو پھر کیا مجال ہے کہ شیطان وساوس ڈال سکے۔
• آپ ؑ فرماتے ہیں :۔ ور پھر یہ بھی سمجھنا چاہئیے کہ نماز کی حفاظت اس واسطے نہیں کی جاتی کہ خدا کو ضرورت ہے خدا تعالیٰ کو ہماری نمازوں کی کوئی ضرورت نہیں ۔وہ تو غنی عن العالمین ہے اس کو کسی کی حاجت نہیں ۔بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو ضرورت ہے اور یہ ایک راز کی بات ہے کہ انسان خود اپنی بھلائی چاہتا ہے اور اسی لیے وہ خدا سے مدد طلب کر تا ہے کیونکہ یہ سچی بات ہے کہ انسان کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو جاتا حقیقی بھلائی کا حا صل کر لینا ہے ۔ ایسے شخص کی اگر تمام دنیا دشمن ہو جائے اور اس کی ہلا کت کے در پے رہے تو اس کا کچھ بگا ڑ نہیں سکتی اور خدا تعالیٰ کو ایسے شخص کی خا طر اگر لاکھوں کروڑوں انسان بھی ہلاک کرنے پڑیں تو کر دیتا ہے اور اس ایک کی بجائے لاکھوں کو فنا کر دیتا ہے ۔
• صحابہ کس طرح غالب آئے فرماتے ہیں: غرض یہ ہے اخلاص اوریہ ہیں محض خدا کی راہ میں محض نیک نیتی کے اعمال ۔اخلاص جیسی اورکوئی تلواردلوں کو فتح کرنیوالی نہیں ۔ ایسے ہی امور سے وہ لوگ دنیا پر غالب آگئے تھے ۔ صرف زبانی باتوں سے کچھ ہونہیں سکتا ۔ اب نہ پیشانی میں نور اورنہ روحانیت ہے اور نہ معرفت کاکوئی حصہ ۔خداتعالیٰ ظالم نہیں ہے ۔ اصل بات ہی یہی ہے کہ ان کے دلوں میں اخلاص نہیں۔ ( ہمارے لیے سبق بھی ہے اور تنبیہ بھی ہے)
• فرمایا ! صرف ظاہری اعمال سے جو رسم اور عادت کے رنگ میں کئے جاتے ہیں کچھ نہیںبنتا ۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کر میںنماز کی تحقیر کرتا ہوں ۔وہ نماز جس کا ذکر قرآن میں ہے اوروہ معراج ہے۔بھلا ان نمازیوں سے کوئی پوچھے توسہی کہ ان کو سورہ فاتحہ کے معنے بھی آتے ہیں ۔پچاس پچاس برس کے نماز ی ملیں گے مگر نماز کا مطلب اور حقیقت پوچھو تو اکثر بے خبر ہونگے حالانکہ تمام دنیوی علوم ان علوم کے سامنے ہیچ ہیں ۔بایں دنیوی علوم کے واسطے توجان توڑ محنت اورکوشش کی جاتی ہے اوراس طرف سے ایسی بے التفاتی ہے کہ اسے جنتر منتر کی طرح پڑھ جاتے ہیں ۔میں تویہانتک بھی کہتا ہوں کہ اس بات سے مت رکو کہ نماز میں اپنی زبان میں دعائیں کرو۔ بیشک اردو میں ‘پنجابی میں ‘انگریزی میں ‘جوجس کی زبان ہواسی میں دعاکرلے۔ مگر ہاں یہ ضروری ہے کہ خداتعالیٰ کے کلام کواسی طرح پڑھو۔ اس میں اپنی طرف سے کچھ دخل مت دو ۔ اس کو اس طرح پڑھو اورمعنے سمجھنے کی کوشش کرو۔ اسی طرح ماثورہ دعائوں کا بھی اسی زبان میں التزام رکھو۔ قرآن اورماثورہ دعائوں کے بعد جو چاہو خداتعالیٰ سےقبولیت کا شرف حاصل ہو۔
• فرمایا کہ مانگو ر اورجس زبان میں چاہو مانگو ۔وہ سب زبانیں جانتا ہے ۔سنتا ہے قبول کرتاہے ۔
• اگر تم اپنی نماز کو باحلاوت اورپرذوق بنانا چاہتے ہوتو ضروری ہے کہ اپنی زبان میں کچھ نہ کچھ دعائیں کرو۔ مگر اکثریہی دیکھا گیا ہے کہ نمازیں توٹکریں مارکر پوری کرلی جاتی ہیں پھر لگتے ہیں دعائیں کرنے ۔نماز تو ایک ناحق کا ٹیکس ہوتا ہے ۔اگر کچھ اخلاص ہوتا ہے تونماز کے بعد میں ہوتا ہے ۔یہ نہیں سمجھتے کہ نماز خود دعاکانام ہے جو بڑے عجز‘انکسار ‘خلوص اوراضطراب سے مانگی جاتی ہے ۔بڑے بڑے عظیم الشان کاموں کی گنجی صرف دعاہی ہے ۔خداتعالیٰ کے فضل کے دروازے کھولنے کا پہلا مرحلہ دعاہی ہے ۔
• فرمایا ! قبولیت کا شرف حاصل ہو۔ ویل للمصلین
• (الماعون :۵)خود خداتعالیٰ نے فرمایا ہے ۔یہ ان نمازیوں کے حق میں ہے جونما ز کی حقیقت سے اوراس کے مطالب سے بے خبر ہیں ۔صحابہ ؓ توخود عربی زبان رکھتے تھے اوراس کی حقیقت کو خوب سمجھتے تھے ۔مگر ہمارے واسطے یہ ضروری ہے کہ اس کے معافی سمجھیں اوراپنی نماز میں اس طرح حلاوت پیدا کریں ۔مگر ان لوگوں نے تو ایسا سمجھ لیا ہے جیسے کہ دوسرانبی آگیا ہے اور اس نے گویا نماز کو منسوخ ہی کردیا ہے ۔
• آپ کے خلاف جو باتیں کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ گویا نئی شریعت لے آیا ہے۔ فرمایا ! دیکھو خداتعالیٰ کا اس میں فائدہ نہیں بلکہ خود انسان ہی کا اس میںبھلا ہے کہ اس کو خداتعالیٰ کی حضور ی کا موقعہ دیا جاتا ہے اور عرض معرو ض کرنے کی عزت عطاکی جاتی ہے جس سے یہ بہت سی مشکلات سے نجات پاسکتا ہے ۔میں حیران ہوں کہ وہ لوگ کیونکر زندگی بسر کرتے ہیں جن کا دن بھی گذرجاتا ہے اوررات بھی گذرجاتی ہے مگروہ نہیں جانتے کہ ان کا کوئی خدابھی ہے ۔ یادرکھو کہ ایساانسان آج بھی ہلاک ہوااورکل بھی
• فرمایا ! *میں ایک ضروری نصیحت کرتا ہوں ۔کاش لوگوں کے دل میں پڑجاوے ۔دیکھو عمر گذری جارہی ہے غفلت کو چھوڑ دواورتضرع اختیار کرو ۔اکیلے ہوہوکر خداتعالیٰ سے دعاکرو کہ خداایمان کو سلامت رکھے اورتم پروہ راضی اورخوش ہوجائے *
• ایک موقع پر حقیقی نماز کے بارے میں فرماتے ہیں:۔ پھر توبہ استغفار وصول الیٰ اللہ کا ذریعہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذین جَا ھَدُو افِینَا لَنَھدِ ینَّھُم سُبُلَنَا ( العنکبوت : ۷۰) پوری کوشش سے اس کی راہ میں لگے رہو منزل مقصود تک پہنچ جاؤ گے ۔ اللہ تعالیٰ کو کسی سے بخل نہیں آخر انہیں مسلمانوں میں سے وہ تھے جو قطب اور ابدال اور غوث ہوئے ۔ اب بھی اس کی رحمت کا دروازہ بند نہیں ۔قلب سلیم پیدا کرو ۔ نماز سنوار کر پڑھو ۔دعائیں کرتے رہو ۔ ہماری تعلیم پر چلو ۔ہم بھی دعا کریں گے ۔یاد رکھو ۔ ہمارا طریق بعینہ وہی سے جو آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرام کا تھا ۔ آج کل فقراء نے کئی بدعتیں نکال لی ہیں ۔ یہ چلے اور ورد وظائف جو انہوں نے رائج کر لیے ہیں ہمیں نا پسند ہیں ۔اصل طریق اسلام قرآن مجید کو تد بر سے پڑھنا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر عمل کرنا اور نماز توجہ کے ساتھ پڑھنا اور دعائیں توجہ اور انابت الی اللہ سے کرتے رہنا ۔ بس نماز ہی ایسی چیز ہے جو معراج کے مراتب تک پہنچا دیتی ہے ۔یہ ہے تو سب کچھ ہے ۔
• اور معراج تک پہنچانے والی نماز وہ ہے جو دل کو پگلا دے۔ پھر نماز کے ساتھ ےتہجد کی نصیحت بھی فرمائی ۔فرمایا ! اس زندگی کے کل انفاس اگر دنیاوی کاموں میں گذر گئے،تو آخرت کے لئے کیا ذخیرہ کیا………؟
• تہجد میں خاص اُٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔درمیانی نمازوں میں بہ باعث ملازمت کے ابتلا آجا تا ہے۔رازق اللہ تعالیٰ ہے۔نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہیے۔ظہر اور عصر کبھی کبھی جمع ہو سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے،اس لیے یہ گنجائش رکھ دی ،مگر یہ گنجائش تین کے جمع ہونے میں نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ کی خاطر تکلیف اٹھانا جبکہ ملازمت میں اور کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں(اور مورد عتاب حکام ہوتے ہیں)تو اگر اللہ تعالیٰ کی خاطر تکلیف اٹھاویں تو کیا خوب ہے۔جو لوگ راستبازی کے لیے تکلیف اور نقصان اٹھاتے ہیں وہ لوگوں کی نظروں میں بھی مرغوب ہوتے ہیں۔اور یہ کام نبیوں اورصدیقوں کا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے دنیاوی نقصان کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کبھی اپنے ذمے نہیں رکھتا، پوارا اجر دیتا ہے۔
• پس خدا کے فضل اور رحمت کا شکر کرو۔ اور عقائدہ صحیح کے بعد آتے ہیں۔
• پھرحقیقی توحید کس طرح پوری ہوتی ہے فرماتے ہیں :۔ کل مُرادوں کا مُعطی اور تمام امراض کا چارہ اور مدار وہی ذاتِ واحد ہو۔لَاِاِلٰہَ اَلَّا اللّٰہُ کے معنی یہی ہیں۔صوفیوں نے اس میں الہ کے لفظ سے محبوط، مقصود، معبود مرادلی ہے۔ بے شک اصل اور سچ یونہی ہے جب تک انسان کامل توحیدپرکاربند نہیں ہوتا، اس میں اسلام کی محبت اور عظمت قائم نہیں ہوتی اور پھرمیں اصل ذکرکی طرف رجوع کرکے کہتا ہوں کہ نمازکی لذت اور سروراسے حاصل نہیں ہوسکتا مداراسی بات پر ہے کہ جب تک بُرے ارادے، ناپاک اور گندے منصوبے بھسم نہ ہوں۔ انانیت اور شیخی دور ہوکر نیستی اور فروتنی نہ آئے، خدا کاسچا بندہ نہیں کہلا سکتا اور عبودیت کاملہ کے سکھانے کے لئے بہترین معلم اور افضل ترین ذریعہ نماز ہی ہے۔
• فرمایا مَیں پھرتمہیں بتلاتا ہوں کہ اگر خداتعالیٰ سے سچاتعلق۔حقیقی ارتباط قائم کرنا چاہتے ہو، تو نماز پرکاربندہوجائو اور ایسے کاربند بنو کہ تمہارا جسم نہ تمہاری زبان بلکہ تمہاری رُوح کے ارادے اورجذبے سب کے سب ہمہ تن نمازہوجائیں۔
• اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقیقی توحید پر قائم ہونے نمازوں کی حفاظت اور پر سرور نمازیں پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور غیر اللہ کے بجائے اللہ کی طرف جھکیں۔
• انصار اللہ کا معلوم ہوا ہے کہ وہاں نماز باجماعت کا اہتمام نہیں ہو سکتا ائیندہ وہاں انعقاد کریں جہاں پانچوں وقت کا اہتمام ہو ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی عابد بنائے۔ آمین
Photo
Wait while more posts are being loaded