[15/01 12:32 pm] ایک ہو جاو کشمیر بچاو: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔۔۔
اسلام و علیکم ۔

آج بات ہو جائے ظلم اور حیوانیت کی اگر دیکھا جائے تو برما اس وقت آج تک کی تاریخ میں بدترین مظالم کی زد میں ہے دنیا کے بہت اسلامی ممالک ہیں اور ان میں چند ممالک ایسے ہیں جو خود کو اسلام کا ٹھیکیدار سمجھتے ہیں لیکن برما میں ہونے والے مظالم کے خلاف کھڑے ہونے کی یا تو جرت نہیں یا ہونا نہیں چاہتے کیونکہ برما کے یہودی برادری کے پیچھے امریکہ کا ہاتھ ہے اگر دیکھا جائے تو سوشل میڈیا کے مجاہدین جو ایک بات کی دس بنا کر پیش کرنے میں ماہر ہیں کوئی برما کی بدقسمتی پر بات نہیں کرتا ہزاروں خواتین کی عزت لٹی ہزاروں مائوں بہینوں کو شہید کیا گیا اور لاکھوں مرد حضرات شہید اور بے گھر ہوئے لیکن ہمارے مجاہد خاموش آخر کیوں کیا برما میں جہاد فرض نہیں کیا برمی مسلمز کو جینے کا کوئی حق نہیں عرب میں دیکھا جائے تو ایک ایک شیخ طوائف کے قدموں میں ایک وقت میں لاکھوں ڈالر نچھاور کر دیتا ہے کیا وہ ان مظلوموں کی مدد نہیں کر سکتے کیا وہ پیسہ اور وہ مردانگی اگر انسانی خدمت میں لگے تو بہتر نہیں ہے دوسرا نمبر ہے فلسطین اور حلب کیا مسلمز کا فرض نہیں بنتا کہ یکجا ہو کر ان سب کی مدد کریں سوشل میڈیا پر کوئی سائنس دان بنا پھرتا ہے کوئی لیڈر بنا پھرتا ہے کوئی ہیومن رائٹس کا ٹھیکیدار بنا پھرتا ہے کوئی کہتا ہے میں بڑا تیس مار خان ہوں کیا یہ سب صرف باتوں کے ہی ہیں کیا آپ دن میں ایک گھنٹہ ان مظلوموں کو نہیں دے سکتے دے سکتے ہیں لیکن وہاں سے کچھ مطلب حاصل نہیں ہو گا کچھ شہرت نہیں ملے گی ارے ہمیں کہتے ہو ہم غلط کرتے ہیں بتاؤ آپ کیا کرتے ہو ارے ان مظلوموں کی آواز سننے والا کیا آج تک کوئی پیدا نہیں ہو سکا کہاں ہے ہیومن رائٹس کہاں ہے اقوام متحدہ کہاں ہیں انسانیت کے ٹھیکیدار اور کہاں ہیں اسلام کے ٹھیکیدار کہاں ہیں مجاہدین کے ٹھیکیدار جو یہ دعوے کرتے رہے ہیں کہ صرف گنز اٹھانے سے جہاد ہوتا ہے کیا برما میں آپ کی ضرورت نہیں کیا فلسطین میں آپ کی ضرورت نہیں کیا حلب میں آپ کی ضرورت نہیں یا پھر آپ لوگوں کو کچھ نظر نہیں آتا کیا وہاں جہاد فی سبیل اللہ فرض نہیں ہوا اسلام کی سربلندی کے لیے وہاں ضرورت نہیں ہے ضرورت ہے بس کمی ہے تو اس بات کی کہ وہاں سے مطلب حاصل نہیں ہوتا بس دوسری بات کیا بنگلہ دیش میں ان مظلوموں کے لیے کوئی جگہ نہیں شیخ حسینہ مودی کی ایک آواز پر بھاگی جاتی ہے ممبئی کیا اس کو ان مظلوموں کی سسکیاں سنائی نہیں دیتیں جو مودی اور امریکہ مسلمز کو دہشت گرد کہتے ہیں ان کو برما کے یہودی دہشت گرد نظر نہیں آتے جو امریکہ مسلمز کو دہشت گرد کہتا ہے اس کو اسرائیل دہشت گرد نظر نہیں آتا آخر کیوں آج ہم ایک مظلوم امت بن کر رہ گئے ہیں وہ اس لیے کہ ہم صرف فرقوں میں بٹنا جانتے ہیں ہم صرف ایک دوسرے کو کافر کہنا جانتے ہیں ہم ایک دوسرے کے دشمن بنے پھرتے ہیں اور شرک میں اتنے آگے نکل چکے ہیں کہ اب تو غیر مسلم بھی ہم سے پیچھے رہ گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم رسوا ہو رہے ہیں ہمارے اپنے اختلافات کی وجہ سے دوسروں کو موقع ملتا ہے کہ وہ ہم پر کھلا وار کرتے ہیں میری بات تلخ ہے سچائی تلخ ہی ہوتی ہے
[15/01 12:34 pm] ایک ہو جاو کشمیر بچاو: ﭼﯿﺮﺗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮬﮯ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺳﺎﻧﺲ ﺧﻨﺠﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ.....
ﺍﻣﺘﺤﺎﮞ _ ﺩﺭ ﺍﻣﺘﺤﺎﮞ _ ﺩﺭ ﺍﻣﺘﺤﺎﮞ ﮬﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ

Post has attachment
اسلام و علیکم ایسی ویڈیو اگر کشمیر کی بن جائے تو بہت اچھی بات ہو سکتی ہے

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment
Wait while more posts are being loaded