اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کوئی بھی خاتون اس سے زیادہ بھیانک بات کا تصور نہیں کرسکتی کہ کوئی اوباش اس کی عزت پر ہاتھ ڈالے اور اس کی زندگی برباد کر ڈالے۔ اگرچہ عموماً یہ بھیانک جرم کرنے والا کوئی اجنبی غنڈہ ہی ہوتا ہے لیکن بعض بدقسمت خواتین ان ’اپنوں‘ کی ہوس کا نشانہ بھی بن جاتی ہیں جن پر کبھی وہ بے حد اعتماد کرتی رہی ہوتی ہیں۔ ویب سائٹ Parhlo کے مطابق گزشتہ روز سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹویٹر پر محمد حاشر پرویز نامی صارف نے ایک ایسی ہی بدنصیب لڑکی کی لرزہ خیز داستان بیان کی۔ یہ بھیانک واقعہ حاشر کے اپنے علاقے میں پیش آیا اور درندگی کا نشانہ بننے والی یہ لڑکی بھی عصمت دری کرنے والے غنڈوں میں سے ایک کو خوب اچھی طرح جانتی تھی۔ محمد حاشریہ دردناک واقعہ کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

’مجھے اس پاکستانی شہری نے زیادتی کا نشانہ بنایا لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ لمحہ وہ تھا جب میرا بیٹا بولنے لگا تو ایک دن مجھے کہنے لگا کہ میں۔۔۔‘
آج میں نے جنسی ظلم کا نشانہ بننے والی ایک لڑکی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ وہ خون میں لت پت تھی۔ استغفراللہ! وہ ایک معروف یونیورسٹی کی طالبہ ہے۔ اس کی ایک لڑکے سے دوستی تھی جو بظاہر بہت اچھا اور شریف النفس تھا ۔ ان کے درمیان ملاقاتیں ہوتی رہیں اور ان کی دوستی محبت میں بدل گئی۔ ایک دن لڑکے نے اسے ایک فلیٹ پر تنہا ملنے کے لئے بلایا۔ اگرچہ وہ خوفزدہ تھی لیکن اس کے اصرار پر تیار ہوگئی۔ جب وہ فلیٹ میں گئی تو وہاں تین اور لوگ بھی موجود تھے۔ مختصر یہ کہ ان چاروں نے اسے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بعد میں لڑکی کو وہاں چیختے چلاتے اور خون میں لت پت پایا گیا۔
میرے لئے یہ ایک لرزا دینے والا لمحہ تھا۔ میںسب خواتین سے گزارش کروں گا کہ براہ کرم اپنے والدین کی خاطر کسی بھی شخص سے کسی بھی جگہ تنہا ملاقات نہ کریں، چاہے وہ کتنا ہی اچھا اور شفیق ہو۔ ان میں سے 99 فیصد لڑکے اوباش ہوتے ہیں۔ انہیں کسی بات کی پرواہ نہیں ہوتی، وہ تو صرف آپ کے جسم کی ہوس میں مبتلا ہوتے ہیں۔

Post has attachment
Photo

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment
Photo

Post has attachment

Post has shared content
Join Us Friends 👇👇👌👌❤❤💖💖

Post has shared content
💞Join💞Us💞Friends💞👇👇👇👇👌👌👌

Post has shared content

Post has shared content
Wait while more posts are being loaded