Post has attachment
دونوں جہان تیری محبت میں ہار کے

وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں

تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

اک فرصت گناہ ملی وہ بھی چار دن

دیکھے ہیں ہم نے حوصلے پروردگار کے

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا

تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے

بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔ

مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
Photo

روز و شب یوں نہ اذیت میں گزارے ہوتے
چین آ جاتا، اگر کھیل کے ہارے ہوتے

خود سے فرصت ہی میسر نہیں آئی ورنہ
ہم کسی اور کے ہوتے، تو تمہارے ہوتے

تجھ کو بھی غم نے اگر ٹھیک سے برتا ہوتا
تیرے چہرے پہ خد و خال ہمارے ہوتے

کھل گئی ہم پہ محبت کی حقیقت، ورنہ
یہ جو اب فائدے لگتے ہیں خسارے ہوتے

ایک بھی موج اگر میری حمایت کرتی
میں نے اس پار کئی لوگ اتارے ہوتے

لگ گئی اور کہیں عمر کی پونجی ورنہ
زندگی ہم تِری دہلیز پہ ہارے ہوتے

خرچ ہو جاتے اسی ایک محبت میں کبیرؔ
دل اگر اور بھی سینے میں ہمارے ہوتے

کبیر اطہر

‏آج کوئی نیا زخم نہیں دیا اس نے

قاصد پتہ کرو _ وہ ٹهیک تو ہے

Post has shared content

خبر اچھی تھی،
مگر اہل ءخبر اچھے نہ تھے،
بستیوں کی زندگی میں۔۔۔
بےزری کا ظلم تھا،
لوگ اچھے تھےوہاں کے۔۔۔
اہل ء زر اچھے نہ تھے،
ہم کو خوباں میں۔۔۔
نظر آتی تھیں کتنی خوبیاں،
جس قدر اچھے لگے،
اس قدر اچھے نہ تھے،
اس لیے آئی نہیں۔۔۔
گھر میں محبت کی ہوا،
اس محبت کی ہوا کے۔۔۔۔
منتظر اچھے نہ تھے،

اک خیالءخام ہی مرشد تھا انکا منیر۔۔۔!!!!
یعنی اپنے شہرمیں اہلءنظر اچھے نہ تھے۔

منیر نیازی۔
#SA

Photo

Post has attachment
Keteprre♡DADMOM But♡UP
Photo

Post has shared content
یہ کیا ہوا تیرے دنیا کو اے خدائے کریم
زندہ لوگ ترستے ہیں زندگی کے لیے
Photo

‏💕💕 اس شہر میں بک جاتے ہیں خود آ کر خریدار 💕💕

💕💕 یہ مصر کا بازار نہیں شہرِ نبیﷺ ہے 💕💕

اس نے دھیرے سے جو کہا پاگل
+
میں تو فورن هی ہو گیا پاگل
+

لکھ رہا ہوں میں ایک افسانہ،
+
جس کا عنوان ہے ایک پاگل
+

مجھ کو سچ بولنے کی عادت پہ
+

لوگ کہتے ہیں سرپھرا پاگل
+

میری باتیں اگر پسند نہیں
+
تم کوئی ڈھونڈ لو نیا پاگل
+

آ کے بیٹھی ہوا جو کھڑکی میں

+
شور کرنے لگا دیا پاگل
+

حسن مکار ہے فریبی ہے
+
عشق بچپن سے ہے بڑا پاگل
+

اس کی الفت نے خاص کر ڈالا
+
ورنه میں تھا اک عام سا پاگل
+

بس یہ سوچا تھا میں ہی اچھا ہوں
+
دل سے آنے لگی صدا پاگل
+

میرا نمبر ڈیلیٹ کر دینا
+
تم کو مل جاۓ گا نیا پاگل
+
خاکی جی

تمہیں کیسے بتائیں ہم
محبت اور کہانی میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا
کہانی میں
تو ہم واپس بھی آتے ہیں
محبت میں پلٹنے کا کوئی رستہ نہیں ہوتا
ذرا سوچو!
کہیں دل میں خراشیں ڈالتی یادوں کی سفاکی
کہیں دامن سے لپٹی ہے کسی بھولی ہوئی
ساعت کی نم ناکی
کہیں آنکھوں کے خیموں میں
چراغِ خواب گل کرنے کی سازش کو
ہوادیتی ہوئی راتوں کی چالاکی
مگر میں بندہ خاکی
نہ جانے کتنے فرعونوں سے اُلجھی ہے
مرے لہجے کی بے باکی
مجھے دیکھو
مرے چہرے پہ کتنے موسوں کی گرد
اور اس گرد کی تہہ میں
سمے کی دھوپ میں رکھا اک آئینہ
اور آئینے میں تاحد نظر پھیلے
محبت کے ستارے عکس بن کر جھلملاتے ہیں
نئی دنیاؤں کا رستہ بتاتے ہیں
اسی منظر میں آئینے سے الجھی کچھ لکیریں ہیں
لکیروں میں کہانی ہے
کہانی اور محبت میں ازل سے جنگ جاری ہے
محبت میں اک ایسا موڑ آتا ہے
جہاں آکر کہانی ہار جاتی ہے
کہانی میں کچھ کردار ہم خود فرض کرتے ہیں
محبت میں کوئی کردار بھی فرضی نہیں ہوتا
کہانی میں کئی کردار
زندہ ہی نہیں رہتے
محبت اپنے کرداروں کو مرنے ہی نہیں دیتی
کہانی کے سفر میں
منظروں کی دھول اڑتی ہے
محبت کی مسافر راہ گیروں کو بکھرنے ہی نہیں دیتی
محبت اک شجر ہے
اور شجر کو اس سے کیا مطلب
کہ اس کے سائے میں جو بھی تھکا ہارا مسافر آکے بیٹھا ہے
اب اس کی نسل کیا ہے رنگ کیسا ہے
کہاں سے آیا ہے
کس سمت جانا ہے
شجر کا کام تو بس چھاؤں دینا ہے
دھوپ سہنا ہے
اسے اس سے غرض کیا ہے
پڑاؤ ڈالنے والوں میں کس نے
چھاؤں کی تقسیم کا جھگڑا اُٹھا یا ہے
کہاں کس عہد کو توڑا کہاں وعدہ نبھایا ہے
مگر ہم جانتے ہیں
چھاؤں جب تقسیم ہوجائے
تو اکثر دھوپ کے نیزے
رگ و پے میں اترتے ہیں
اور اس کے زخم خوردہ لوگ
جیتے ہیں نہ مرتے ہیں۔۔۔ ۔۔ ۔
ن م

میں اپنے آپ سے برہم تھا وہ خفا مجھ سے
سکوں سے کیسے گزرتا یہ راستہ مجھ سے

غزل سنا کے کبھی نظم گنگنا کے مری
وہ کہہ رہا تھا مرے دل کا ماجرا مجھ سے

گزر کے وقت نے گونگا بنا دیا تھا جنہیں
وہ لفظ مانگ رہے ہیں نئی صدا مجھ سے

نہ گل کی کوئی خبر ہے نہ بات گلشن کی
خفا سی لگتی ہے کچھ روز سے صبا مجھ سے

وہ جس نے خواب مرے پل میں قتل کر ڈالے
خراج مانگنے آیا ہے خون کا مجھ سے

نیاز مند رہا میں بھی اس کا سب کی طرح
کہ کوئی بھانپ نہ لے اس کا سلسلہ مجھ سے

عزیز مجھ کو ہیں طوفان ساحلوں سے سوا
اسی لیے ہے خفا میرا ناخدا مجھ سے

نہ جانے کون سی محفل میں کس کے ساتھ ہوں میں
ہے منقطع مرا اپنا بھی رابطہ مجھ سے

بس ایک بار نظر بھر کے میں نے دیکھا تھا
نظر ملا نہ سکا پھر وہ بے وفا مجھ سے

فرحت شہزاد
Wait while more posts are being loaded