Post has attachment
نا پوچھیے کے کیا حسین ہے
Photo

Post has shared content
استحبابِ نمازِ عیدین از احکام فقہ امامیہ.....!

عزیزانِ گرامی کچھ عرصہ سے ایک لاعلمی و جہالت سے بھرپور فتنہ جو علماء اعلام نے احکام نمازِ عیدین بیان فرمائے اسکے برعکس بیان کیا جاتا کہ امام عادل و معصوم کی غیر موجودگی یا غیبت کبری میں نماز عیدین کی ادائیگی کسی پیش امام (غیر معصوم) کی اقتدا مین جائز نہیں اور جو کوئی انہیں ادا کرے باطل ھے اور جو ان نمازوں کی امامت کرے اسے برا بھلا اور غاصب حقِ امام کہا جارہا جو کے سراسر گمراہ کن نظریہ اور لاعلمی کی علامت ھے.
اسی بات کی نفی اور اصلاحی پہلو مدنظر رکھتے ھوئے اس تحریر کو تحریر کیا جارہا ھے.
استحباب و پیش امامِ نماز عیدین اور احادیث معصومین ع:

۱- امام باقر ع سے روایت ھے نماز عیدین امام (پیشنماز) کے ساتھ سنت ھے اور اس دن ان دونون نمازوں کے قبل یا انکے بعد کوئی نماز نہیں ہے. اور نماز عید کا واجب ھونا تو یہ امام عادل کے ساتھ ھو تب واجب ھے.
(من لا یحضرہ الفقیہ ح # ۱۴۵۴)

۲- مندرجہ بالا حدیث مسائل شریعہ ترجمہ وسائل الشیعہ جلد پانچ بحوالہ الفقیہ، التہذیب و الاستبصار میں بھی موجود ھے.

۳- امام باقر ع نے فرمایا عید الفطر اور عید الاضحی والے دن کوئی نماز (نماز عید واجب) نہیں ھے مگر عادل امام (پیشنماز) کے ساتھ.
(راوی الشیخ صدوق، مسائل الشریعہ بحوالہ الفقیہ جلد پانچ).

۴- امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص نماز عید جماعت میں امام (پیشنماز) کے ساتھ نا پڑھے اسکی کوئی نماز (واجب) نہیں ھے اور نہ ہی اس پر اسکی قضا واجب ھے.
(راوی شیخ طوسی رح، کتاب التہذیب، الاستبصار و ثواب الاعمال)

۵- امام جعفر الصادق ع نے فرمایا اگر کوئی شخص نماز عید باجماعت نہ پڑھ سکے تو وہ اسے تنہا یعنی فرادی بھی ادا کرسکتا ھے. (التہذیب)

کچھ اعتراضات اور اسپر علمی نقد:
۱- نماز عیدین امام کے بغیر نہین ھوتی.
اس پر ھم صرف اتنا کہیں گے کہ یہ روایت ضعیف اور متعدد روایات سے ٹکرا رہی.
الشافی ترجمہ اصول کافی جلد دو باب ۸۷ میں ایک روایت درج ھے.
" امام باقر ع نے فرمایا عیدین کی نمازیں امام ھی کے ساتھ ھوتی ہیں"
اس حدیث کو ضعیف لکھا گیا ھے..

۲- دعاِ عید میں امام زین العابدین ع سے ایک بات منسوب کی جاتی کہ امام نے فرمایا عیدین میں آل محمد ع کا غم تازہ ھوجاتا کیونکہ وہ اپنے حق (امامتِ نماز) اغیار کے ہاتھوں میں دیکھتے ہیں.
اس اعتراض کا جواب ھم مفتی جعفر حسین مرحوم و مغفور کی زبانی دیں گے جس میں انہوں نے اس بات کی تشریح یوں کی کہ امام عادل کی موجودگی میں کسی کو حق نہیں کہ وظائف امامت انجام دے اسی لئے امام نے ایسا فرمایا البتہ غیبت کبری میں جبکہ ھماری دسترس امام تک نہیں اسلئے یہ نمازیں مستحب ہیں چاہے جماعت سے پڑھ لیں یا فرادی.
(صحیفہ کاملہ)

نوٹ: علما اعلام و مراجع عظام کے فتاوی میں یہ نمازیں مستحب ہیں انکو جماعت کے ساتھ یا فرادی انجام دیا جاسکتا اور فتوی روایات کو پرکھ کر ھی دیے جاتے ہیں.

مظلوم پیش امام جماعت اور انکے حقوق:
جن مظلوم پیش اماموں کو لاعلمی کی بدولت غاصب حق امام (امامت نماز عیدین) کہا جاتا انکا صرف ایک حق امام علی ابن الحسین ع کی زبانی بتانا چاھوں گا.

" تمھاری نماز کے امام کا حق یہ ھے کہ اس نے تمھارے اور تمھارے رب کے درمیان رابطے کی زمہ داری اٹھا رکھی ھے وہ تمھاری جگہ بات اور دعا کرتا ھے لیکن تم اسکے لئے دعا نہیں کرتے پس تمھیں چاہئے کہ اس حساب سے اسکی قدر دانی کرو.
(رسالتہ الحقوق)

آخر میں خداوند رحمن سے دعا ھے کہ ہمیں دین کو سمجھنے اور علماء اعلام و مراجع عظام سے متمسک رہتے ھوئے اپنے اخلاق کردار اور عبادات میں مزید بہتری لانے کی توفیق عطا فرمائے. علم و عمل کا پیکر بننے اور علم کے حصول میں آسانیان عطا فرماتے ھوئے اسپر عمل پیرا ھونے کی توفیق عنایت فرمائے.

ان اختتامی مراحل میں امام زین العابدین ع کا فرمان عالیشان بیان کرکے رخصت لینا چاہیں گے .
" میں اس بات کو پسند کرتا ھوں کہ اگر تم سے کسی نے کسی اچھی بات کو اپنایا ھے تو اس پر قائم رہے"
(علم الاخلاق جلد ۱)

التجا:
فرمان امام کو سمجھتے ھوئے اگر اس تحریر میں کوئی اچھی بات لگے تو اسکو دل میں جگہ دیتے ھوئے اس پر قائم رہئے گا.شکریہ

اہم اعلان:
اس تحریر کو صاحب تحریر کے نام کے ساتھ شئر کیا جائے تاکہ اسپر کیے جانے والے سوالات اور لکھنے کی ذمہ داری سے بری الذمہ ھوسکیں.

تحریر. اے ایس امجد

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Photo

Post has shared content
🍀شبِ قدر اور حضرت موسیٰؑ🍀

✨پیغمبر اکرم (ص) کی ایک طولانی حدیث میں ہے کہ حضرت موسیٰؑ نےخدا سے عرض کیا:

🔹خدایا! تیری قربت چاہتا ہوں، جواب آیا: میری قربت، شب قدر کی بیداری میں ہے.

🔸عرض کیا: پروردگار! تیری رحمت چاہتا ہوں، جواب آیا: میری رحمت شب قدر میں مساکین پر رحم کرنے میں ہے.

🔹عرض کیا: خدایا! پل صراط سے گزرنے کا اجازت نامہ چاہتا ہوں، جواب آیا: پل صراط سے گزرنے کی اجازت کا راز شب قدر میں صدقہ دینے میں ہے.

🔸عرض کیا: پروردگار! جنت اور اس کی نعمتیں چاہتا ہوں، جواب آیا: اُن تک رسائی شب قدر میں تسبیح کرنے کےبدلے میں حاصل ہوتی ہے.

🔹عرض کیا: اے خدا! دوزخ کی آگ سے نجات چاہتا ہوں، جواب آیا: دوزخ سے نجات حاصل کرنے کا راز شب قدر میں استغفار کرنے میں ہے.

🔸آخر میں عرض کیا: اے الله! تیری رضا چاہتا ہوں، جواب آیا: میری رضا اس کے شامل حال ہو گی جو شب قدر میں دو رکعت نماز پڑھے.

📗وسائل الشیعہ، ج 8، ص 20

✍معارف الفرقان-392/1

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
Photo

Post has shared content
🌐نُوّاب اربعہ کون ہیں؟🌐

اس بات کی وضاحت کرتے چلیں کہ اس زمانے میں نیابت اور نواب کے بجائے سفارت اور سفراء کے کلمات استعمال ہوتے تھے۔
غَیبتِ امام مہدیؑ کے خاص نائبین چار تھے اور انہیں آپ سے پہلے کے آئمہ علیہم السلام کی خدمت کا بھی شرف حاصل تھا، یہ نیک، پارسا اور بزرگ شیعہ عالم تھے۔ انہیں ’’نواب اربعہ‘‘ کہتے ہیں۔

ترتیب زمانی کے لحاظ سے انکے اسماء گرامی۔۔
۱۔ ابوعمرو عثمان بن سعید عمری،
۲۔ ابوجعفر محمد بن عثمان بن سعید عمری،
۳۔ ابوالقاسم حسین بن روح نو بختی،
۴۔ ابوالحسن علی بن محمد سمری۔

یہ حضرات امام زمانہؑ کے نائب کہلاتے ہیں لیکن مختلف علاقوں میں امام زماںؑ کے بہت سے وکلاء بھی تھے۔ مثلاً بغداد، کوفہ، اہواز، ہمدان، قم، رے، آذربائیجان، نیشاپور وغیرہ میں آپؑکے وکلاء موجود تھے جو مذکورہ چار حضرات کے ذریعہ لوگوں کے مسائل ومشکلات اور حالات امامؑ کی خدمت میں پہنچاتے اور انہی کے ذریعہ امامؑ کیطرف سے جواب بھی حاصل کرتے۔

چنانچہ شیخ طوسیؒ نقل فرماتے ہیں کہ صرف بغداد میں تقریبًا دس افراد جناب محمد بن عثمان عمری کی نمائندگی میں مصروف عمل تھے۔ اور انکا رابطہ نائبینِ امام سے ہوتا اور انکے بارے میں امامؑ کیطرف سے توقیعات برآمد ہوتیں۔ اور یہ حضرات ان پر عمل کرتے۔
ان نمائندوں کے نام یہ ہیں۔۔
محمد بن جعفر اسدی،
احمد بن اسحاق اشعری قمی،
ابراہیم بن محمد ھمدانی،
احمد بن حمزہ (غیبت شیخ طوسی)،
محمد بن ابراہیم بن مھزیار (کافی کلینی)،
حاجز بن یزید،
محمد بن صالح (کا فی کلینی)،
ابوہاشم داؤد بن قاسم جعفری،
محمد بن علی بن بلال،
عمرو اہواذی،
ابو محمد وجناتی (کافی کلینی)۔

👈پہلے نائب
ابو عمرو عثمان بن سعید عمری
ان کا تعلق قبیلہ بنی اسد سے ہے اور سامراء شہر میں قیام کیوجہ سے ’’عسکری‘‘ بھی کہلاتے تھے، شیعی محفلوں میں انہیں ’’سمان‘‘ بھی کہا جاتا تھا جس کے معنی ’’روغن فروش‘‘ ہیں کیونکہ آپ اپنی سیاسی سرگرمیوں کو مخفی رکھنے کیلیے گھی کا کاروبار کیا کرتے تھے اور شیعوں کے اموال شرعیہ کو امامؑ تک پہنچانے کیلیے گھی کے برتنوں کا استعمال کرتے تھے۔
تمام شیعہ انکا احترام کرتے تھے۔ عثمان بن سعید کو امام علی نقیؑ اور امام حسن عسکریؑ کی خدمت کا شرف بھی حاصل رہا ہے اور ان کے نزدیک بااعتماد شخصیت تھے۔

احمد بن اسحاق جنکا شمار بزرگ شیعہ افراد میں ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ’’میں ایک دن امام علی نقیؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا؛ میں کبھی یہاں ہوتا ہوں اور کبھی نہیں ہوتا۔ اور جب یہاں ہوتا ہوں پھر بھی ہر روز آپ کی خدمت میں نہیں پہنچ سکتا تو اس بارے میں میں کس شخص کی باتوں کو مانوں اور اس کے فرمان پر عمل کروں؟
تو امامؑ نے فرمایا:
ابو عمرو (عثمان بن سعید عمری) ہیں جو ایک امین اور ہمارے قابل اعتماد شخص ہیں، وہ جوکچھ بھی تم سے کہیں سمجھو کہ میری طرف سے کہہ رہے ہیں، وہ تمہیں جوکچھ دیں وہ میری ہی طرف سے دیں گے۔
احمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ امام علی نقیؑ کی شہادت کیبعد ایکدن میں امام حسن عسکریؑ کی خدمت میں شرفیاب ہوا اور اپنے اسی سوال کو دہرایا تو آپ نے بھی اپنے پدربزرگوار کی مانند جواب دیا۔ ’’یہی عمرو ہمارے پیشرو امام کیطرح ہمارے بھی قابل اعتماد اور باوثوق انسان ہیں، میری زندگی میں بھی اور میری وفات کیبعد بھی وہ جو کچھ تمہیں کہیں وہ میری جانب سے کہہ رہے ہوں گے اور جو تمہیں دیں وہ میری طرف سے دے رہے ہوں گے (غیبت شیخ طوسی ص ۲۱۵)

حضرت امام حسن عسکریؑ کی تجہیز و تکفین کا سارا کام بھی بظاہر عثمان بن سعید نے انجام دیا (ایضاً) اور یہ وہی عثمان بن سعید ہیں کہ جنہوں نے ایک دن یمن کیطرف سے آنے والے شیعوں کے مالِ امام کو امام حسن عسکریؑ کے حکم کیمطابق وصول کیا اور جب یمن کے شیعوں نے یہ کیفیت دیکھی تو کہا: امامؑ کے اس اقدام سے عثمان بن سعید کے متعلق ہمارا اعتماد بھی بڑھ گیا ہے اور ہماری نگاہوں میں انکے احترام میں بھی اضافہ ہوا ہے‘‘ یہ سن کر امام عسکریؑ نے فرمایا: گواہ رہنا، عثمان بن سعید میرا وکیل ہے اور ان کا بیٹا ’’محمد‘‘ میرے فرزند امام مہدی کا وکیل ہوگا‘‘ (ایضاً)

اسیطرح اس بحث کے آغاز میں چالیس شیعوں کی حضرت امام مہدیؑ کی زیارت کی تفصیل بیان ہو چکی ہے اور بتایاگیا ہے کہ ملاقات کے آخر میں حاضرین سے امامؑ نے فرمایا کہ: ’’جو عثمان (بن سعید) تم سے کہیں اسے قبول کرلینا اس کا کہنا ماننا، ان کی باتوں پر عمل کرنا، وہ تمہارے امام بااختیار نمائندہ ہیں(ایضاً)

عثمان بن سعید کی تاریخ وفات صحیح معنوں میں معلوم نہیں ہے، بعض حضرات کہتے ہیں کہ انکی وفات ۲۶۰ ہجری سے ۲۶۷ ہجری کے درمیان ہوئی ہے جبکہ کچھ دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ ان کی وفات ۲۸۰ ہجری میں ہوئی ہے۔
(تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم ص ۱۵۵ ۔ ۱۵۶ ترجمہ ڈاکٹر سید محمد تقی آیت اللہی)

نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل

https://t.me/islamwitheman/865

🌐نوّابِ اربعہ میں سے دوسرے نائب🌐

👈دوسرے نائب
۲۔ محمد بن عثمان بن سعید عمری
یہ بھی اپنے والد بزرگوار کیطرح بزرگ شیعوں میں شمار ہوتے ہیں اور تقویٰ، عدالت، پرہیزگاری اور بزرگواری کے لحاظ سے شیعہ معاشرہ میں عزت و احترام کا مقام رکھتے ہیں اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے قابل اعتماد دوستوں میں شامل ہیں۔ چنانچہ جب احمد بن اسحاق نے امام علیہ السلام سے سوال کیا کہ وہ کس کی طرف رجوع کرے؟ تو امامؑ نے فرمایا ’’عمری (عثمان) اور ان کے فرزند (محمد) دونوں ہی میرے قابل اعتماد لوگ ہیں وہ تمہیں جو کچھ دیں وہ میری طرف سے دیں گے اور جو کچھ کہیں وہ میری طرف سے کہیں گے۔ ان کی باتوں کو سننا اور ان پر عمل کرنا کیونکہ یہی دونوں میرے قابل اعتماد لوگ اور امین ہیں۔(ایضاً)
عثمان بن سعید کی وفات کے بعد امام غائب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے توقیع مبارک ظاہر ہوئی جس میں ان کی تعزیت کی گئی تھی اور ان کے فرزند ’’محمد‘‘ کی نیابت کا اعلان کیا گیا تھا۔(ایضاً)

’’عبد اللہ بن جعفر حمیری‘‘ کہتے ہیں کہ جب جناب عثمان بن سعید کی وفات ہو گئی تو امام زماں علیہ السلام کی طرف سے ایک خط ہمیں ملا۔ اسی رسم الخط کے ساتھ کہ جس سے امام علیہ السلام ہمارے ساتھ خط و کتابت کیا کرتے تھے خط میں ہمیں حکم دیا گیا کہ ’’ابو جعفر (محمد بن عثمان بن سعید) کو اس کے باپ کی جگہ نیابت کے لیے منصوب کیا جاتا ہے۔ (ایضاً ص ۲۲۰۔ بحار الانوار جلد ۵۱ ص ۳۴۹)

اسیطرح جب ’’اسحاق بن یعقوب نے کچھ سوالات امام زمانہؑ کی خدمت میں لکھ بھیجے تو امام علیہ السلام نے اپنی توقیع مبارک میں لکھا:
خداوندعالم محمد بن عثمان بن سعید اور اس کے والد سے جو اس سے پہلے زندہ تھے راضی اور خوشنود ہو یہ (محمد) میرے لیے قابل اعتماد اور باوثوق ہیں ان کی تحریر میری ہی تحریر ہوگی۔
(غیبت طوسی ص ۲۲۰ بحار الانوار جلد ۵۱ ص ۳۵۰، اعلام الوری طبرسی ص ۲۵۲ کشف الغمہ اربلی جلد ۳ ص ۳۲۲)

ابو جعفر محمد بن عثمان بن سعید کی فقہ میں کئی تالیفات ہیں کہ جو ان کی وفات کے بعد حضرت امام العصر عج کے تیسرے نائب حسین بن روح یا چوتھے نائب ابو الحسن سمری)کے ہاتھوں میں پہنچیں (غیبت طوسی ص ۲۲۱) تقریبا چالیس برس تک محمد بن عثمان نے امام کی سفارت اور نیابت کا عہدہ سنبھالے رکھا اور اس عرصے میں انہوں نے امام علیہ السلام کے مقامی اور علاقائی وکلاء کے درمیان زیادہ سے زیادہ ہم آہنگی پیدا کی ان کی سرگرمیوں کی نگرانی کرتے رہے اور شیعوں کے مذہبی، سماجی اور سیاسی امور کو سنبھالے رہے حضرت امام زمانہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف سے متعدد توقیعات صادر ہوئیں کہ انہی کے ذریعہ متعلقہ لوگوں تک پہنچتی رہیں ۔ آخر کار انہوں نے ۳۰۴ یا ۳۰۵ ہجری میں داعی اجل کو لبیک کہا اور عالم جاودانی کو سدھارے (غیبت طوسی ص ۲۲۳)
محمد بن عثمان نے اپنی وفات سے قبل ہی اپنی تاریخ وفات بتادی تھی، اور ٹھیک اسی تاریخ اور اسی وقت اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کی۔(غیبت طوسی۔ بحار الانوار)

نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل.

https://t.me/islamwitheman/866

🌐نواب اربعہ میں سے تیسرے نائب🌐

👈تیسرے نائب
۳۔ ابو القاسم حسین بن روح نوبختی
ابو جعفر محمد بن عثمان کی زندگی کے آخری ایام میں کچھ بزرگوار شیعہ ان کے پاس گئے ابو جعفر نے کہا: اگر میں دنیا سے چلا جاؤں تو میرے امام کے حکم کے مطابق میرے جانشین اور امام کے نائب ابوالقاسم حسین بن روح نو بختی ہوں گے۔ لہٰذا آپ لوگوں نے انہی کی طرف رجوع کرنا اور اپنے کاموں میں انہی پر اعتماد کرنا ہے۔ (غیبت طبرسی ص ۲۲۶۔ ۲۲۷ بحار الانوارجلد۵۱ ص ۳۵۵)
جناب حسین بن روح امام علیہ السلام کے دوسرے نائب کے قریبی معاون تھے۔ اور ابو جعفر محمد بن عثمان عمری بھی کافی عرصہ پہلے سے انہی کی نیابت کے لیے راہیں ہموار کرتے رہے اور شیعوں کو مال کی ادائیگی کے لیے انہی کیطرف رجوع کرنے کا کہتے رہے۔ اور وہ بھی محمد بن عثمان اور شیعوں کے درمیان ایک رابطے کا کام دیتے رہے۔ (ایضاً)

جناب حسین بن روح نے فقہ شیعہ میں ’’التادیب‘‘ نامی کتاب تالیف فرمائی اور اس پر اظہار رائے کیلیے قم کے فقہاء کی طرف بھیجی۔ فقہاء قم نے کتاب کی تحقیق کے بعد لکھا کہ صرف ایک مسئلہ کے علاوہ باقی کتاب فقہائے شیعہ کے فتاویٰ کے مطابق ہے۔‘‘ (ایضاً)
حسین بن روح کے بعض ہم عصر نے ان کی عقل و ہوش مندی اور ذکاوت کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ تمام مخالف و موافق لوگوں کی تصدیق کے مطابق حسین بن روح اپنے دور کے عقل مند ترین لوگوں میں سے ہیں۔ (بحار الانوار جلد ۵۱ ص ۲۵۶ غیبت طوسی ص ۲۳۶)
حسین بن روح عباسی خلیفہ ’’مقتدر‘‘ کے دور حکومت میں پانچ سال تک جیل میں بھی رہے ہیں اور ۳۱۷ ہجری میں قید سے رہا ہوئے اور اکیس سال تک امام علیہ السلام کی نیابت کے فرائض انجام دیتے رہے آخر کار ۳۲۶ ہجری میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ (غیبت طوسی ص ۲۳۸)

نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل۔

https://t.me/islamwitheman/867

🌐نوّاب اربعہ میں سے چوتھے نائب🌐

👈چوتھے نائب
۴۔ ابوالحسن علی بن محمد سمری
حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے حکم اور حسین بن روح نوبختی کے تعارف اور وصیت کے مطابق نوبختی کی وفات کے بعد علی بن محمد سمری ہی نے امام علیہ السلام کی نیابتِ خاصّہ اور شیعوں کے امور کی نگرانی کا منصب سنبھالا، ابوالحسن سمری حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کے اصحاب اور دوستوں میں سے تھے اور ۳۲۹ ہجری تک اسی منصب پر فائز رہے اور اسی سال راہئِ مُلکِ بقا ہوئے اور ان کی وفات سے چند روز پہلے حضرت امام زمانہ عج کی طرف سے ایک توقیع صادر ہوئی جن میں ان سے اس طرح خطاب ہوا۔۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اے علی بن محمد سمری! خداوندعالم تمہاری جدائی کے صدمہ کا تمہارے بھائیوں کو اجرِعظیم عطا فرمائے تم چھ دن کے بعد دنیا سے رخصت ہو جاؤ گے ابھی سے اپنے کاموں کو سنبھال لو اور انہیں ٹھیک کرلو کسی کو اپنا جانشین نہ بناؤ کیونکہ اب غیبت کامل (یعنی غیبت کبریٰ کا دور شروع ہونے والا ہے اور میں خداوندعالم کی اجازت کے بغیر ظہور نہیں کروں گا۔ اور میرا یہ ظہور اس وقت ہوگا جب ایک طویل عرصہ گزر جائے گا، جب دل پتھر ہو جائیں گے اور زمین ظلم وجور سے بھر جائیگی، کچھ لوگ میرے شیعوں کیلیے نیابتِ خاصّہ کے دعویدار بن کر میرے ساتھ رابطہ اور میری ملاقات کا دعویٰ کریں گے لہٰذا یاد رکھو جو شخص ’’سفیانی‘‘ کے خروج اور ’’آسمانی چنگھاڑ‘‘ سے پہلے اس قسم کا دعویٰ کریگا وہ جھوٹا ہوگا۔ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم (غیبت طوسی، بحارالأنوار، مجلسی اور اعلام الوریٰ طبرسی)

توقیع مبارکہ کے صادر ہونے کے چھٹے دن ابوالحسن سمری کا انتقال ہوگیا۔ ان کے انتقال سے پہلے ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے بعد امام زماں علیہ السلام کا نائب کون ہوگا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ مجھے اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ میں اس بارے میں کسی کا تعارف کراؤں۔‘‘

ابوالحسن سمری کی وفات کے بعد تاریخ تشیع کے ایک جدید دور کا آغاز ہوگیا جسے غَیبتِ کُبریٰ کا دور کہا جاتا ہے.

نقل از سیرت چہاردہ معصومینؑ
تالیف علامہ محمد علی فاضل۔

https://t.me/islamwitheman/868
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Photo

Post has attachment

Post has shared content
Take a look at this video on YouTube:

Post has attachment
Please join us Shia Islamic community

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
PhotoPhotoPhotoPhotoPhoto
11/04/2016
6 Photos - View album
Wait while more posts are being loaded