Post has shared content
ایک دفعہ جمعہ کے دن مولوی صاحب بیان فرمارہے تھے کہ عورت کے ایک ایک بال کے نیچے بیس بیس مکاریاں چھپی ہوتی ہیں اوروہاں پرایک دیہاتی کسان بیٹھامولوی صاحب کی باتیں سن رہاتھااوروہ جیسے ہی گھرآیااس نے اپنی بیوی کوسرسے گنجاکردیاحالانکہ اس کی بیوی کوئی اوپٹ پٹانگ فرمائشیں بھی نہیں کرتی تھی ۔ایک نیک اورفرشتہ صفت خاتون تھی ۔بیوی کوبہت دکھ ہوااورشوہرسے پوچھاآپ نے ایساکیوں کیاہے توشوہربولاکہ ہماری مسجدکے مولوی نے بتایاکہ عورت کے ایک ایک بال کے نیچے بیس بیس مکاریاں چھپی ہوتی ہیں اورمیں نے سوچاکہ تمہاری مکاریاں ختم کردیتاہوں عورت بہت مایوس ہوئی اوراپنے دل میں سوچاکہ اس بے وقوف کواصل مکاری اب دکھانی پڑے گی ۔اورپھراس نے شوہرسے بدلہ لینے کی ٹھان لی۔لہٰذاعورت اگلے دن بازارگئی اوربازارسے کچھ مچھلیاں خریدکراس نے اپنے کھیتوں میں چھپادیں اورایک چھوٹی سی مچھلی کودھاگاباندھ کراپنے گریبان میں چھپالیااورپھروہ اپنے گھرواپس آگئی شوہرجب کھیتوں میں کام کرنے گیااوراس نے کھیتوں میں کام کرناشروع کیاتواسے جگہ جگہ سے مچھلیاں ملناشروع ہوگئیںوہ کسان بہت خوش ہوااس نے مچھلیاں تھیلی میں ڈالیں اورگھرآکربیوی کودے دیں اورکہاکہ آج مچھلیاں پکائیں گے۔بیوی نے کہاکہ مچھلیاں آج آپ کواس ٹائم کہاں سے مل گئیں توشوہرنے کہاکہ کھیتوں سے ملی ہیں بیوی نے وہ مچھلیاں لے کرکہیں چھپادیں اورگھرکے دوسرے کاموں میں مصروف ہوگئی شام کوجب شوہرگھرآیاتواس نے بیوی سے کہاکہ کھانالے آئوبیوی نے کہاکہ گھرمیں کچھ پکانے کونہیں ہے کھاناکہاں سے لائوں شوہرنے غصے سے کہاکہ جومچھلیاں میں لایاتھاوہ کہاں ہیں بیوی بولی کونسی مچھلیاں کیسی مچھلیاں شوہرنے کہاکہ جومیں کھیتوں سے پکڑ کرلایاتھابیوی بولی تمہارادماغ توخراب نہیں ہوگیاپھربیوی نے اس کے بھائیوں کوپیغام بھیجاکہ جلدی آئومیراشوہرپاگل ہوگیاہے جب اس کے بھائی آئے اورپوچھاکہ کیاہواہے تووہ عورت بو لی کہ کل سے عجیب عجیب حرکتیںکررہاہے پہلے تومیراسرگنجاکردیاخیریہ توکوئی بات نہیں میں سہہ لوں گی اب یہ کہہ رہاہے کہ مچھلی پکائومیں کہاں سے اسے مچھلیاں پکاکردوں اس کاشوہربیوی کومارنے کے لیے لپکاتواس کے بھائیوں نے اسے پکڑلیاشوہرنے کہاکہ یہ جھوٹ بول رہی ہے بیوی نے کہاکہ اگرمیں جھوٹ بول رہی ہوں تواس سے یہ پوچھیں کہ مچھلیاں کہاں سے آئی ہیں وہ بولامیں اپنے کھیتوں سے پکڑ کرلایاتھا۔بیوی کہنے لگی سن لواب کھیتوں میں مچھلیاں کہاں سے آئیںشوہربیوی کومارنے کے لیے آگے بڑھاتواس کے بھائیوں نے اسے پکڑ کرکرسی سے باندھ دیا۔پھربیوی نے چپکے سے گریبان سے مچھلی نکالی اوراس کودکھاکرجلدی سے گریبان میں چھپالی شوہرچیخ کربولاوہ دیکھومچھلی توبیوی بولی کہ دیکھواسے پاگل پن کادورہ پڑ رہاہے۔وہ تھوڑی تھوڑی دیرکے بعدمچھلی مچھلی کرنے لگاجواس کی بیوی اس کودکھارہی تھی بھائیوں کویقین ہوگیاکہ یہ بالکل پاگل ہوگیاہے اوروہ ڈاکٹرکولینے چلے گئے ۔شوہراوربیوی گھرمیں اکیلے تھے توبیوی نے مسکراکرکہاکہ یہ ہوتی ہے مکاری جوبالوں سے نہیں دماغ سے ہوتی ہےاب بتائوپاگل خانے جاناہے یاپھرمعافی مانگنی ہے۔شوہربے چارہ روتے ہوئے بولامیرے ماں با پ کی بھی توبہ جوعورت زات سے پنگالو ں۔
Photo

Post has shared content
مالک اشتر(رض) کا ایک خوبصورت واقعہ اور مالک اشتر جیسا بنیں

ہم لوگ بہت سی ہستیوں و شخصیات کو جانتے ہیں۔ لیکن ہم ان شخصیات کے صرف کچھ رخ ہی جانتے ہیں۔ اس وجہ سے شخصیات کے دوسرے پہلو جو کہ اہم ہوتے ہین اور درس آموز ہوتے ہیں وہ دب جاتے ہیں۔

مثال کے طور پر مالک اشتر (رض) کی شخصیت کو ہی آپ دیکھ لیں۔ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ مالک اشتر تلوار چلاتے تھے۔ لیکن مالک اشتر صرف تلوار ہی نہیں چلاتے تھے بلکہ آپ ایک عظیم عارف بھی تھے۔ چنانچہ آپ کا ایک واقعہ ملتا ہے:

"ایک مرتبہ مالک اشتر سادو لباس پہنے بازار کوفہ سے گزر رہے تھے۔ ایک بدتمیز دکاندار نے جو انہیں نہیں جانتا تھا ان پر خربوزے کا بیج پھینکا۔ حضرت مالک نے کوئی توجہ نہ کی اور بدستور بازار میں چلتے رہے۔

ایک اور شخص نے اس دکاندار کو متوجہ کیا کہ تو نے جس پر خربوزے کا بیج پھینکا ہے اسے جانتا بھی ہے ؟

دکاندار نے اپنی لاعلمی کا اظہار کیا تو دوسرے شخص نے بتایا: یہ یہ خلیفہ المسلمین کی افواج کا سپہ سالار مالک اشتر ہے۔"

یہ سن کر دکاندار گھبرایا اور معافی مانگنے کے لئے مالک اشتر کے پیچھے چل پڑا۔

راستہ میں ایک مسجد آئی۔ مالک نے وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کی۔ دکاندار ان کے انتظار میں صحن مسجد میں کھڑا رہا۔ جب مالک فارغ ہوئے تو دکاندار نے آ کر معافی طلب کی اور کہا: خدارا مجھے معاف فرمائیں میں نے آپ سے گستاخی کی ہے۔

حضرت مالک نے فرمایا: بھائی تجھے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے یہ دو رکعت نماز بھی تیرے استغفار کے لئے پڑھی ہے۔"

(مجموعہ ورام ابن ابی فراس نقل از پند تاریخ، مصنف موسی خسروی، جلد # 3، صفحہ # 73)

درس ہائے زندگی:

برادران یہ ہیں علی (ع) کے کمانڈر اور علی (ع) کی ذوالفقار۔ یہ لوگ صرف تلوار کے ہی دھنی نہیں تھے بلکہ یہ لوگ سیرت میں بھی آل محمد کے پاسدار تھے۔

آپ دیکھئے کہ مالک اگر چاہتے تو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے، مالک اگر چاہتے تو لعنت کرتے گالی دیتے، بر بر کرتے، حرام زادہ کہتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ (یہ کام ہمارے ایک طبقہ کے پسندیدہ مشغلہ ہیں)

لیکن مالک نے وہ کیا جو ایک بردبار اور علی (ع) کے چاہنے والے کو کرنا چاہئے۔ کیونکہ طاقت ہوتے ہوئے اپنے نفس، غصہ و جذبات پر قابو رکھنا اور انہیں کنٹرول کرنا ہی سیرت اہلبیت ہے۔

دین دار طبقہ کو خصوصا ان واقعات سے سیکھنا چاہئے کہ جب آپ علی (ع) کے راستہ پر چل رہے ہیں تو چاہے کوئی آپ پر گند پھینکے یا کچھ اور اصلیت دیکھائے آپ کا کام ہے اپنے راستہ پر چلتے رہنا۔ کیونکہ آپ کا مقصد اپنی ذات نہیں ہے اب۔ آپ کا مقصد اب علی (ع) کے راستے کی حفاظت کرنا ہے اور آپ اب علی (ع) کے ساتھ مخلص ہیں۔ لہذا خاموشی سے چلتے رہئے انشاءاللہ علی (ع) کی راہ کے راہی لوگ خود ہی آپ کے ساتھ ملتے جائیں گا اور گند پھینکنے والوں کو اللہ خود ہی شرمندہ کرتا جائے گا۔۔۔۔۔

علی (ع) کے ماننے والے صرف تلوار چلانے میں ہی بے مثل نہیں ہوتے بلکہ کردار میں بھی بے مثل ہوتے ہیں۔

جب آپ ایسے بنیں گے تب ہی علی (ع) آپ کو ہزاروں محبوں کے سامنے یاد کر کے آپ کی جدائی پر گریہ کریں گے۔۔۔۔۔ لہذا مالک اشتر جیسا بننے کی کوشش کریں....!

اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ وعَجِّلْ فَرَجَهُمْ
Photo

Post has shared content
ماشاءاللہ
⭕ خوبصورت حسینہ ⭕

کسان نوجوان اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا ایک نسوانی قہقہے سے وہ چونک گیا.....
ایسی حسینہ تو اس نے زندگی بھر نہ دیکھی تھی
وہ اس کی طرف بڑھتا چلا گیا، وہ بھی ہاتھ میں پھول لئے مسکرا رہی تھی. اور پھول کی خوشبو سے جیسے اپنے آپ کو اندر تک معطر کر رہی ہو.
کسان اس کے قریب جا کر بولا.....
میرے ساتھ گھر چلو گی؟ وہ بلا جھجھک اس کے ساتھ ہو لی. وہ فضاؤں میں اڑنے لگا.
چوھدری کا ڈیرہ آباد تھا دوست احباب کے مجمع میں نوکر چاکر خدمت کے لئے کھڑے تھے
چوھدری جی!! چوھدری جی!! اُس کا خادمِ خاص ڈیرے میں ہانپتا کانپتا داخل ہوا
خیر تو ہے؟ خیر تو ہے؟
او جی خیر کہاں.!! میں چوک میں کھڑا تھا، نورے جٹ کا جوان لڑکا ایک ایسی حسینہ کے ساتھ گھر جا رہا تھا کہ اس جیسی زندگی میں نہ دیکھی، نامعلوم کہاں سے لے کر آیا ہے. چاند کا ٹکڑا ہے. چوھدری جی
اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے کہاں بٹھائے. آج اس کی زندگی کا بہترین دن تھا، اس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا. واقعی جب خدا دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کے دیتا ہے.
اسے کچھ شور کی آواز آ رہی تھی جو اور قریب آگئی. پھردروازہ کھٹکھٹایا جانے لگا
دروازہ کھلا.
چوھدری ھکا بکا رہ گیا. اور بے اختیار اس حسینہ کی طرف بڑھا.
نوجوان جٹ ایک آھنی دیوار کی طرح اس کے راستے میں حائل ہو گیا.
تم میری لاش پر سے گزر کر ہی اس تک پہنچ پاؤ گے.
تم اس کے قابل نہیں. نہ یہ گھر اس کے قابل ہے. یہ میری حویلی میں رہے گی، نوکرانیاں، راحت، آرام، عزّت، اسے وہاں ملے گی.
نہیں یہ فیصلہ جج کی عدالت میں جائے گا
عدالت پورے جوبن پر تھی. سائل، مدعی، وکلاء، اہلکار، عملہ سب موجود تھے، جج صاحب اپنی مسندِ خاص پر رونق افروز.
جج صاحب نے نظر اٹھائی اسے اپنی نظروں پر یقین نہیں آ رہا تھا اس نے عینک اتار کر صاف کی اور دوبارہ دیکھا واقعی وہ حور اس کے سامنے کھڑی تھی
جج بولا ارے یہ منہ اور مسور کی دال اپنی اوقات دیکھو اور اس کا حسن یہ تم دونوں کے لائق نہیں میرے پاس مال و دولت ہے عہدہ ہے بنگلے ہیں گاڑیاں ہیں نوکر چاکر معاشرے میں ایک حیثیت ہے یہ میرے لائق ہے چلو نکلو تم دونوں اور اس کو یہیں رہنے دو وہ ہکّے بکّے رہ گئے
نہیں چوہدری چلایا یہ نہیں ہوسکتا نوجوان بولا ہم راضی نہیں ہیں اب تو بادشاہ سلامت ہی ہمارے درمیان فیصلہ کریں گے بادشاہ کے پاس چلو جج نے سب کام وہیں چھوڑے اور اب تینوں حسینہ کو ساتھ لئے بادشاہ کے محل کی طرف بڑھنے لگے
دربار سجا ہوا تھا وزیر مشیر درباری سب اپنی اپنی مسندوں پر اور بادشاہ اپنے تخت پر جلوہ افروز تھا اسکے سر پر رکھے ہوئے تاج کے موتیوں سے سارا دربار جگمگا رہا تھا اور وہ خود بھی حسن کا کرشمہ تھا دربان تین اشخاص اور ایک حسینہ کو لا کر بادشاہ کے سامنے پیش کرتا ہے بادشاہ سلامت نے نظر اٹھائی تو دیکھتا کا دیکھتا ہی رہ گیا ایسی حسینہ اور میری سلطنت میں اس نے حکم دیا کہ ان تینوں کو ایک طرف لے جاؤ اور حسینہ کو میرے محل میں لے جاؤ جج صاحب نے کچھ بولنے کی کوشش کی تو بادشاہ سلامت نے ایک طرف دیکھا تین ہٹے کٹے دربان آگے بڑھے اور تینوں خاموشی سے ایک طرف کو ہو گئے
حسینہ جو اب تک خاموش تھی اس نے خاموشی کو توڑا اور بولی فیصلہ میں کروں گی تم چاروں میرے پیچھے دوڑو جو مجھے پکڑ لے گا میں اس کی یہ کہہ کر وہ جلدی سے دربار سے باہر نکلتی ہوئی نظر آئی بادشاہ کو اپنا تخت بھول گیا اور اگلے ہی لمحے وہ چاروں اس کے پیچھے دوڑ رہے تھے وہ ہوا سے باتیں کررہی تھی بادشاہ سلامت تھوڑی ہی دور جاکر دوڑنے کی تاب نہ لاسکے اور ایک لمبی آہ بھر کر وہیں ڈھیر ہو گئے
جج صاحب بھی زیادہ دیر پیچھا نہ کرسکے اور اسکی سانسیں بھی جواب دے گئیں چوھدری صاحب ہمت ہارنے والے تو نہ تھے لیکن آخر کب تک اب وہ تھی اور نوجون تھا جو کہ ہر لمحے اس کے قریب سے قریب تر ہوتا جارہا تھا مگر یہ کیا راستے کے ایک پتھر سے وہ ایسا ٹکرایا کہ منہ کہ بل گرا اور اسکے منہ سے ایک دل خراش چینج بلند ہوئی جو کہ حسینہ کے قہقہوں میں دب گئی
آؤ میرے عاشقو میرے پیچھے آؤ تم مجھے کبھی نہیں پاسکتے اور واقعی ہی اسے کوئی نہ پا سکا کہ وہ دیکھنے میں تو حسینہ تھی حور کے حسن والی تھی دل فریب تھی عقل کو محو کرنے والی تھی لیکن حقیقت میں وہ دنیا تھی اسکے پیچھے دوڑنے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے.

⭕ Islam With Eman ⭕
Animated Photo

Post has shared content
😂😝 #جلسہ 😜😂

ایک دُور دراز کے گاؤں میں ایک سیاستدان کی تقریر تھی. 300 کلو میٹر ٹُوٹی پُھوٹی سڑکوں پر سفر کرنے کے بعد جب وہ تقریر کی جگہ پر پہنچے تو دیکھا کہ صرف ایک کسان انکی تقریر سُننے کے لئے بیٹھا ہُوا تھا۔
اس اکیلے شخص کو دیکھ کر سیاستدان کو سخت مایوسی ہُوئی، اور نہایت افسردہ انداز میں کہنے لگے،
بھائی، آپ تو صرف اکیلے آدمی آئے ہو، سمجھ میں نہیں آتا کہ اب میں تقریر کروں یا نہیں-"،؟
کسان بولا، صاحب میرے گھر پر بیس(۲۰) گدھے ہیں۔
اگر میں ان کو چارہ ڈالنے جاؤں، اور دیکھوں کہ وہاں صرف ایک گدھا ہے، اور باقی دوڑ گئے ہیں، تو کیا میں اس ایک گدھے کو بھی چارہ نہ ڈالوں،؟ اور اسے بھی بُھوکا مار دوں؟؟
کسان کا بہترین جواب سُن کر سیاستدان بہت خُوش ہُوا، اور ڈائس پر جا کر اس اکیلے کسان کے لئے دو(۲) گھنٹے تک پُرجوش انداز میں تقریر کرتا رہا۔
تقریر ختم کرنے کے بعد، وہ ڈائس سے اُتر کر سیدھا کسان کے پاس آیا اور بولا،
تُمہاری گدھے والی مثال مجھے بہت پسند آئی،، اب تُم بتاؤ، تُمہیں میری تقریر کیسی لگی؟
کسان بولا،، صاحب، اُنیس(۱۹) گدھوں کی غیر موجودگی کا یہ مطلب تو نہیں کہ بِیس(۲۰) گدھوں کا چارہ، ایک گدھے کے آگے ڈال دِیا جائے۔۔۔! 😃

https://t.me/muskuraahten
🎅 MUSKURAAHTEN 🎅
Photo

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content
Wait while more posts are being loaded