Post has shared content

Post has attachment
Youm-e-Sayyida Fatima Zahra رضی اللہ عنہا
Photo
Commenting is disabled for this post.

Post has attachment
Full Video* HD - Meetha Madina Door Hai by Qari D…: https://youtu.be/rn_z_8JIuAg

Post has attachment
Naat & Qawwali
Free Mobile App
Get it on your mobile by just 1 Click
https://goo.gl/mMC7SU
Naat and Qawali application show the most talented and captivating Naats Khawns and Qawal in it and this app is especially for Naat and Qawali lovers.

Do you like Naat and Qawali application? Do you want to learn Naat? Download this free app and see the best Naat Khawns and Qawali! This Android App contains
Most Talented Naat khawns and Qawal here. You can listen them and also become a good Naat Khawn by practicing.


Who Should Install This Naats and Qawali Application?
Well, there are millions of different application available on Play Store and you cannot just download them all. So, if you are one the following types of users, then this free Islamic app is a must have app for you:
If you like Naats and Qawalis in general and looking for an app to have access to greatest Qawal Khawn and Naats Khawns,
If you are a fan of the Sufiyana Kalaam, Naats, Qawalis and looking for a Islamic app to have access to all recordings,
If you care about the quality of the Sound
Naat & Qawwali
Naat & Qawwali
linkimage2url.com

یا نبی سلام علیک یا رسول سلام علیک
یا حبیب سلام علیک صلوات اللہ علیک

رحمتوں کے تاج والے دو جہاں کے راج والے

عرش کی معراج والے عاصیوں کی لاج والے

ہے یہ حسرت در پہ آئیں اشک کے دریا بہائیں

داغ سینہ کے دکھائیں سامنے ہو کر سنائیں

دور ہو غم کا کنارہ سرور عالم خدارا

دیجئے ہم کو سہارا پار ہو بیڑا ہمارا

رنج و غم کھائے ہوئے ہیں دور سے آئے ہوے ہیں

تم پہ اترائے ہوے ہیں ہاتھہ پھیلائے ہوے ہیں

اُمتِ بے کس تمہاری در بدر پھرتی ہے ماری

کہتی ہے بآہ وزاری المدد محبوب باری

حشر میں آپ بخشوانا نار دوزخ سے بچانا

ہرمصیبت سے چھڑانا اپنے دامن میں چھپانا

جانکنی کے وقت آنا چہرۂ انور دکھانا

عنبری زلفیں سونگھانا کلمئہ طیب پڑھانا

میرے مولی میرے سرور ہے یہی ارمان اکبر

پہلے قدموں پہ رکھیں سر پھر کہیں سر کو اٹھاکر

یہ اُمّتی ناچیز ہو، دربارِ نبی ہو
" آنکھوں سے برستی ہوئی اشکوں کی جھڑی ہو "

جب آئے سوا نیزے پہ وہ حشر کا سورج
تب سر پہ ردا اُن کی شفاعت کی تنی ہو

سو بار پڑھے قلب مِرا "صلّ علیٰ" ہی
جب لب پہ مِرے نامِ رسولِ عربی ہو

جب تک مجھے رہنا ہے خدا ! تیری زمیں پر
قسمت میں ہمیشہ ہی مدینے کی گلی ہو

ایسے میں بھلا کون ہے ؟ دیتا ہو دعائیں
پتھر کی ہو برسات ، ادھر گل بدنی ہو

دیدار ہے مقصود ، ہے کوثر کا بہانہ
دیکھوں جو اُنھیں دُور مِری تشنہ لبی ہو

دشمن بھی خجل کیوں نہ ہو جب اُن کی طرف سے
دشنام کے بدلے میں بھی شیریں سُخنی ہو

اللہ ! مجھے بارِ دگر طیبہ دِکھا دے
اب شاخِ تمنّا یہ مِری جلد ہری ہو

کیا فکر تجھے پھول ، بہ تائیدِ خدا جب
غم خوار ترا ہاشمی و مطّلبی ہو

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
اپنی آنکھوں میں مدینے کو بسا لایا ہوں . . .

دل بھی میرا ہے وہیں جان بھی میری ہے وہیں
لاش کو اپنی میں کندھوں پہ اُٹھا لایا ہوں . . .

سایہِ گنبد ِ خضریٰ میں ادا کر کے نماز
سر کو میں عرش کا ہمسایہ بنا لایا ہوں

جس نے چومے ہیں قدم سرورِ عالم کے
خاکِ طیبہ کو میں پلکوں میں سجا لایا ہوں_

جان و دل وہاں رکھ کر امانت کی طرح
پھر جانے کے اسباب بنا لایا ہوں . . .

پوچھتے کیا ہو مدینے سے میں کیا لایا ہوں
اپنی آنکھوں میں مدینے کو بسا لایا ہوں

قوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسمِ محمد سے اجالا کردے

ہو نہ یہ پھول، تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو

یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو، خم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو

خیمہ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

دشت میں، دامنِ کہسار میں، میدان میں ہے
بحر میں، موج کی آغوش میں، طوفان میں ہے

چین کے شہر، مراقش کے بیابان میں ہے
اور پوشیدہ مسلمان کے ایمان میں ہے

چشمِ اقوام یہ نظّارہ ابد تک دیکھے
رفعتِ شانِ رَفَعنَا لَکََ ذِکرَک دیکھے

مردمِ چشمِ زمیں، یعنی وہ کالی دنیا
وہ تمہارے شہدا پالنے والی دنیا

گرمیء مہر کی پروردہ، ہلالی دنیا
عشق والے جسے کہتے ہیں بلالی دنیا

تپش اندوز ہے اس نام سے پارے کی طرح
غوطہ زن نور میں ہے آنکھ کے تارے کی طرح

عقل ہے تیری سپر عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہانگیر تری

ما سوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم ترے ہیں

علامہ اقبالؒ

جب بزم کائنات میں لایا گیا مجھے
کلمہ میرے نبیﷺ کا پڑھایا گیا مجھے

اس دن سے میری آنکھ شبستان - نور ھے
جس دن سے وہ جمال دکھایا گیا مجھے

بھٹکی میں جب کبھی بھی گناھوں کے دشت میں
ھر بار سیدھی راہ پہ لایا گیا مجھے

یوں ھر قدم پہ مجھکو سہارا دیا گیا
گرنے سے پیشتر ھی اٹھایا گیا مجھے

ذکر رسول پاکﷺ سے روشن رکھا گیا
یاد ء شہہ شہاں سے سجایا گیا مجھے

اک بے نور سا پیڑ تھا دشت حیات میں
ان ﷺ کا کرم ، خزاں سے بچایا گیا مجھے

کی میری دستگیری فقط انکی ذات نے
دنیا میں بار بار جو ستایا گیا مجھے

قسم سے مجھے تو اپنے مقدر پہ ناز ھے
انکا غلام کہہ کے بلایا گیا مجھے

تیرگی میں اُجالا ہمارا نبیﷺ
روشنی کا حوالا ہمارا نبیﷺ
غیب داں ، کملی والا ہمارا نبیﷺ

’’ سب سے اولی و اعلٰی ہمارا نبیﷺ
سب سے بالا و والا ہمارا نبی‘‘ﷺ

بحرِغم میں کنارا ہمارا نبیﷺ
چشمِ عالم کا تارا ہمارا نبیﷺ
آمنہ کا دُلارا ہمارا نبیﷺ

’’اپنے مولٰی کا پیارا ہمارا نبیﷺ
دونوں عالم کادولہا ہمارا نبی‘‘ﷺ

جس کی تبلیغ سے حق نُمایاں ہوا
بتکدہ جس کی آمد سے ویراں ہوا
جس کے جلووں سے ابلیس لرزاں ہوا

’’بزمِ آخر کا شمعِ فروزاں ہوا
نورِ اول کا جلوا ہمارا نبی‘‘ﷺ

در پہ غیروں کے زحمت نہ فرمائیے
بھیک لینے مدینے چلے جائیے
کوئی دیتا ہے تو سامنے لائیے

’’کون دیتا ہے دینے کو منہ چاہیئے
دینے والا ہے سچا ہمارا نبی‘‘ﷺ

پیشِ داور جو ہے عاصیوں کا وکیل
جس کے ہاتھوں سے منظور ہوگی اپیل
جس کا مکھڑا ہے خود مغفرت کی دلیل

’’جس کی دو بوند ہیں کوثر و سلسبیل
ہے وہ رحمت کا دریا ہمارا نبی‘‘ﷺ

جس کے عرفاں پہ موقوف عرفانِ ذات
جس کی رحمت کے سائے میں ہے کائنات
جس کے در سے نکلتی ہے راہِ نجات

’’جس کے تلووں کا دھوون ہے آبِ حیات
ہے وہ جانِ مسیحا ہمارا نبی‘‘ﷺ

اللہ اللہ وہ اُمّی و اُستادِ کُل
مچ گیا جس کی بعثت پہ مکّے میں غُل
رہبرِ اِنس و جاں ، مُنتہائے سُبُل

’’خلق سے اولیا ، اولیا سے رُسُل
اور رسولوں سے اعلیٰ ہمارا نبی‘‘ﷺ

جس کے اَذکار کی ہیں سجی محفلیں
دم قدم سے ہیں جس کے یہ سب رونقیں
بزمِ کونین میں جس کی ہیں تابشیں

’’بجھ گئیں جس کے آگے سبھی مَشعلیں
شمع وہ لے کر آیا ہمارا نبی‘‘ﷺ

فرش کو مُہرِ اعزاز جس کے قدم
جس کے ابرو میں اِک دلربایانہ خَم
وہ جمیلُ الشِّیَم وہ جلیلُ الحَشَم

’’حُسن کھاتا ہے جس کے نمک کی قسم
وہ ملیحِ دل آرا ہمارا نبی‘‘ﷺ

جیسے مہرِ سما ایک ہے، ویسے ہی
جیسے روزِ جزا ایک ہے ، ویسے ہی
جیسے بابِ عطا ایک ہے، ویسے ہی

’’جیسے سب کا خدا ایک ہے، ویسے ہی
اِن کا ، اُن کا ، تمہارا ،ہمارا نبی‘‘ﷺ

کتنے روشن دئیے دم زدن میں بُجھے
کتنے سروِ سہی زیرِ گردُوں جُھکے
کتنے دریا یہاں بہتے بہتے رُکے

’’کیا خبر کتنے تارے کِھلے چُھپ گئے
پر نہ ڈوبے نہ ڈوبا ہمارا نبی‘‘ﷺ

زندگی کتنے موتی پِروتی رہی
خود میں رنگِ تغیُّر سموتی رہی
بِیج کیا کیا تنوّع کے بوتی رہی

’’قرنوں بدلی رسولوں کی ہوتی رہی
چاند بدلی کا نکلا ہمارا نبی‘‘ﷺ

اب نہ دل پہ کوئی بات لیجے کہ ہے
جامِ کوثر کوئی دم میں پیجے کہ ہے
اے نصیؔر اب ذرا غم نہ کیجے کہ ہے

’’غمزدوں کو رضؔا مُژدہ دیجے کہ ہے
بے کسوں کا سہارا ہمارا نبی‘‘ﷺ

تضمین حضرت مولانا احمد رضا رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ
کلام الشیخ پیر سید نصیر الدین نصیرؔ جیلانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ گولڑہ شریف
Wait while more posts are being loaded