Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has shared content
⚫ شہادت امام محمد تقی علیہ السلام ⚫

ھم امام مہدی عجل الله تعالٰی فرجہ الشریف کی خدمت میں هدیہ تعزیت پیش کرتے هیں.

ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺎﺑﯿﺎﻥ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺑﺘﺎﺭﯾﺦ ۱۰ ﺭﺟﺐ ﺍﻟﻤﺮﺟﺐ ۱۹۵ ﮪ ﺑﻤﻄﺎﺑﻖ ۸۱۱ ﺀ ﯾﻮﻡ ﺟﻤﻌﮧ ﺑﻤﻘﺎﻡ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﻣﺘﻮﻟﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ.
(ﺭﻭﺿﺔ ﺍﻟﺼﻔﺎﺟﻠﺪ۳ ﺹ ۱۶،ﺷﻮﺍﮨﺪ ﺍﻟﻨﺒﻮﺕ ﺹ ۲۰۴، ﺍﻧﻮﺭﺍﻟﻨﻌﻤﺎﻧﯿﮧ ﺹ ۱۲۷)

ﻋﻼﻣﮧ ﺷﯿﺦ ﻣﻔﯿﺪ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺮﺣﻤﺔ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ امام محمد تقی (ع) کی ﻭﻻﺩﺕ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ اولاد ﻧﮧ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﻟﻮﮒ ﻃﻌﻨﮧ ﺯﻧﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺷﯿﻌﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﻨﻘﻄﻊ ﺍﻟﻨﺴﻞ ﮨﯿﮟ- ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﺎ ﮨﻮﻧﺎ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻋﻨﺎﯾﺖ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﻨﻘﺮﯾﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﻣﺴﻨﺪ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﮐﺎ ﻭﺍﺭﺙ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﮔﺎ.
(ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺹ ۴۷۳)

ﻋﻼﻣﮧ ﻃﺒﺮﺳﯽ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﺟﻮ ﺑﭽﮧ ﻋﻨﻘﺮﯾﺐ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮ ﮔﺎ ﻭﮦ ﻋﻈﯿﻢ ﺑﺮﮐﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺣﺎﻣﻞ ﮨﻮﮔﺎ.
(ﺍﻋﻼﻡ ﺍﻟﻮﺭﯼ ﺹ ۲۰۰)

ﻭﺍﻗﻌﮧ ﻭﻻﺩﺕ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﮑﯿﻤﮧ ﺧﺎﺗﻮﻥ ﻓﺮﻣﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﻼ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﺮﻭ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺧﯿﺰﺭﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﻄﻦ ﺳﮯ ﺁﺝ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺧﺪﺍ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﯾﮏ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺱ ﺣﮑﻢ ﮐﯽ ﺗﻌﻤﯿﻞ ﮐﯽ ﺟﺐ ﺭﺍﺕ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﮨﻤﺴﺎﯾﮧ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﻼﺋﯽ ﮔﺌﯿﮟ، ﻧﺼﻒ ﺷﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮔﺰﺭﻧﮯ ﭘﺮ ﯾﮑﺎﯾﮏ ﻭﺿﻊ ﺣﻤﻞ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﺋﮯ ﯾﮧ ﺣﺎﻝ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺰﺭﺍﻥ ﮐﻮ ﺣﺠﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﯽ، ﺍﻭﺭ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔
ﻭﻻﺩﺕ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﻧﮩﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻃﺸﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﭩﮭﺎﯾﺎ، ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺟﻮ ﭼﺮﺍﻍ ﺭﻭﺷﻦ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﮔﻞ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺣﺠﺮﮦ ﻣﯿﮟ امام (ع) کے نور کی ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺑﺪﺳﺘﻮﺭ ﺭﮨﯽ، ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺭﮨﯽ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﺑﭽﮧ ﮐﻮ ﻧﮩﻼ ﺩﯾﺎ، ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﺑﮭﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺁﺋﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﻋﺠﻠﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺻﺎﺣﺒﺰﺍﺩﮮ ﮐﻮ ﮐﭙﮍﮮ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﯿﭧ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﮐﯽ ﺁﻏﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺪﯾﺎ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺳﺮ ﺍﻭﺭ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﻮﺳﮧ ﺩے ﮐﺮ ﭘﮭﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ-

ﺩﻭ ﺩﻥ ﺗﮏ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﺑﻨﺪ ﺭﮨﯿﮟ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﻥ ﺟﺐ ﺁﻧﮑﮭﯿﮟ ﮐﮭﻠﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ (ع) ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻧﻈﺮ ﮐﯽ ﭘﮭﺮ ﺩﺍئیں، ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﻠﻤﮧ ﺷﮩﺎﺩﺗﯿﻦ ﺯﺑﺎﻥ ﭘﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺳﺨﺖ ﻣﺘﻌﺠﺐ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﮐﯿﺎ، امام علی رضا علیہ السلام ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ:
ﺗﻌﺠﺐ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ، ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺣﺠﺖ ﺧﺪﺍ ﺍﻭﺭ ﻭﺻﯽ ﺭﺳﻮﻝ ﮨﺪﯼ (ص) ﮨﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻋﺠﺎﺋﺒﺎﺕ ﻇﮩﻮﺭ ﭘﺬﯾﺮ ﮨﻮﮞ، ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﺠﺐ ﮐﯿﺎ؟

ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﻋﻠﯽ ﻧﺎﻗﻞ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺤﻤﺪ ﺗﻘﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻣﮩﺮ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﯾﮕﺮ ﺁﺋﻤﮧ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻨﺪﮬﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﻣﮩﺮﯾﮟ ﮨﻮﺍﮐﺮﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ.
(ﻣﻨﺎﻗﺐ)

ﺁﭖ ﮐﺎ ﺍﺳﻢ ﮔﺮاﻣﯽ ﻟﻮﺡ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ آپ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﻣﺎﺟﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ”ﻣﺤﻤﺪ“ ﺭﮐﮭﺎ.
ﺁﭖ ﮐﯽ ﮐﻨﯿﺖ ”ﺍﺑﻮﺟﻌﻔﺮ“ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﻟﻘﺎﺏ ﺟﻮﺍﺩ، ﻗﺎﻧﻊ، اور ﻣﺮﺗﻀﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﻟﻘﺐ ﺗﻘﯽ ہے.
(ﺭﻭﺿﺔ ﺍﻟﺼﻔﺎﺟﻠﺪ۳ ﺹ ۱۶،ﺷﻮﺍﮨﺪ ﺍﻟﻨﺒﻮﺕ ﺹ ۲۰۲ ، ﺍﻋﻼﻡ ﺍﻟﻮﺭﯼ ﺹ ۱۹۹)

🔷 بہترین مولود
امام محمد تقی علیہ السلام، امام رضا علیہ السلام کی عمر کے آخری برسوں میں پیدا ہوئے اور چونکہ آپ (ع) کی ولادت سے قبل امام (ع) کی کوئی اولاد نہ تھی چنانچہ اہل بیت (ع) کے مخالفین اپنی مخالفانہ تشہیری مہم جاری رکھتے ہوئے کہتے تھے کہ:
"امام رضا (ع) سے کوئی نسل موجود نہیں ہے لہذا امامت کا سلسلہ منقطع ہوگا"
وہ حقیقت میں رسول اللہ (ص) کی اس حدیث کو جھٹلانے کی کوشش کررہے تھے جو آپ (ص) نے فرمایا تھا:
"میرے بعد آئمہ کی تعداد بارہ ہے"
کیونکہ اگر امام رضا (ع) کی کوئی اولاد نہ ہوتی تو امامت کا سلسلہ عدد 8 پر کٹ کر رہ جاتا۔ اسی بنا پر جب امام محمد تقی (ع) کو پیدائش کے بعد امام (ع) کے پاس لایا گیا تو آپ (ع) نے فرمایا:
"هذا المولود الذي لم يولد مولود أعظم بركة على شيعتنا منه."
یہ وہ مولود ہے جس سے زیادہ برکت والا مولود ہمارے شیعوں کے لئے اب تک دنیا میں نہیں آیا ہے۔

ابن اسباط اور عباد بن اسمعیل نیز ابو یحیی صنعانی کہتے ہیں: ہم امام رضا (ع) کے ساتھ تھے جب ابو جعفر کو ان کے پاس لایا گیا۔
ہم نے عرض کیا:
کیا وہ بابرکت مولود یہی ہے؟
فرمایا: ہاں! یہی وہ مولود ہے جس سے زيادہ عظیم برکت والا اسلام میں پیدا نہیں ہوا-
{کلینی، الکافی، جلد_1، صفحہ_321}

🔷 امام محمد تقی علیه السلام کی نشونما اور تربیت
یہ ا یک حسرت ناک واقعہ ہے کہ امام محمدتقی علیہ السّلام کو نہایت کمسنی ہی کے زمانے میں مصائب اور پریشانیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو جانا پڑا. انھیں بہت کم ہی اطمینان اور سکون کے لمحات میں باپ کی محبت، شفقت اور تربیت کے سائے میں زندگی گزارنے کا موقع مل سکا.
آپ کو صرف پانچواں برس تھا. جب حضرت امام رضا علیہ السّلام مدینہ سے خراسان کی طرف سفر کرنے پر مجبور ہوئے تو پھر زندگی میں ملاقات کا موقع نہ ملا امام محمد تقی علیہ السّلام سے جدا ہونے کے تیسرے سال امام رضا علیہ السّلام کی شہادت ہو گئی. دنیا سمجھتی ہوگی کہ امام محمد تقی علیہ السّلام کے لیے علمی وعملی بلندیوں تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں رہا اس لیے اب امام جعفر صادق علیہ السّلام کی علمی مسند شاید خالی نظر آئے مگر خلق خدا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب اس کمسن بچے کو تھوڑے دن بعد مامون کے پہلو میں بیٹھ کر بڑے بڑے علماء سے فقہ، حدیث، تفسیراور کلام پر مناظرے کرتے اور سب کو قائل ہوجاتے دیکھا. اس کی حیرت اس وقت تک دور ہونا ممکن نہ تھی , جب تک وہ مادی اسباب کی بجائے ایک مخصوص خداوندی مدرسہ تعلیم وتربیت کے قائل نہ ہوتے، جس کے بغیر یہ معمہ نہ حل ہوا اور نہ کبھی حل ہوسکتا ہے.

🔷 دور بنی عباس اور شیعوں کی حفاظت:
امام رضا علیہ السلام کی شہادت کے وقت امام محمد تقی علیہ السلام کی عمر مبارک تقریبا آٹھ سال تھی.
ماہ صفر کے آواخر سال ۲۰۳ ھ ق میں امام رضا علیہ السلام کی جانگداز شہادت کے بعد رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے تحت وقت کے امام حضرت محمد تقی الجواد علیہ السلام قرار پائے۔
عباسی خلیفہ مامون بنی عباس کے دوسرے خلفاء کی طرح اوصیائے رسولخدا آئمہ معصومین علیھم السلام کی معنوی پیشرفت اور ان کے باطنی نفوذ اور لوگوں کے درمیان ان کے فضائل کے عام ہونے سے خوف زدہ تھا.
اس نے کوشش کہ فرزند رضا علیہ السلام کو کڑی نگرانی میں رکھا جائے. اسی وجہ سے اس نے اپنی بیٹی ام الفضل کا عقد امام جواد علیہ السلام سے کروا دیا تا کہ امام علیہ السلام کے گھر میں ہی ان پر نظر رکھنے والا کوئی موجود رہے. اس گھریلو گماشتے نے جو تکلیفیں امام جواد علیہ السلام کو پہنچائیں وہ تاریخ میں مشہور ہیں۔
امام رضا علیہ السلام کے ساتھ جنگ کی جو روشیں مامون نے اختیار کی تھیں، ان میں سے ایک بحث و مناظرے کی مجالس تشکیل دینا تھی، مامون اور اس کے بعد معتصم عباسی اپنے باطل گمان کے مطابق یہ سوچتے تھے کہ اس طرح وہ اوصیائے رسولخدا آئمہ معصومین علیہم السلام کو مشکلات میں مبتلا کریں گے. اسی لیے انہوں نےآٹھویں امام کے بعد نویں امام حضرت محمد جواد علیہ السلام کی نسبت بھی وہی روش اختیار کی.
آنحضرت بچپنے میں ہی امامت پر فائز ہو گئے تھے لیکن مامون چونکہ وصی رسولخدا، وارث المرسلین اور حجت رب العالمین کے مقام ولایت و امامت کا نہ علم اور نہ عقیدہ تھا تاکہ سمجھ پاتا یہ یہ مقام الہی منصب ہےاس کا عمر کے کم یا زیادہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے وہ ہمیشہ امام علیہ السلام کو آزماتا اور آپ کا امتحان لیتا تھا۔
جواد الآئمہ علیہ السلام کی امامت کے ساتھ ہی طرح طرح کے اسلامی اور غیر اسلامی فرقے وجود میں آ گئے تھے۔ اس دور میں بڑے بڑے علماء تھے جو دوسری ملتوں کے علوم و فنون کے بارے میں بھی آگاہی رکھتے تھے۔ اس طرح بہت ساری کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ ہوا تھا اور وہ سب کی دسترس میں تھیں۔
سن کی کمی کے باوجود امام جواد علیہ السلام نے علمی بحثوں کے میدان میں قدم رکھا اور امامت کے خدائی سرمائے کے ساتھ کہ جس کا سرچشمہ الہام ربانی اور ولایت مطلقہ کا دریا تھا آپ علیہ السلام نے اپنے آباو اجداد کی مانند احکام اسلامی کو پھیلایا ۔ امام جوا علیہ السلام نے لوگوں کی تربیت اور دایت کا کام شروع کیا اور بہت سارے مسائل کے جوابات دیے۔ حضرت علیہ السلام کے انتہائی مشہور مناظروں میں سے ایک مناظرہ دربار مامون کے قاضی القضات "یحیٰ بن اکثم" کے ساتھ ہونے والا مناظرہ تھا کہ جس نے مجلس میں موجود افراد کو حیرت زدہ کر دیا تھا ۔
ان مناظروں کے بعد عوام کے درمیان امام علیہ السلام کی شہرت اور محبوبیت میں چار چاند لگ گئے ۔
امام رضا علیہ السلام کا ارشاد ہے:
خدا نے ایک ایسا بچہ مجھے عطا کیا ہے کہ جو موسی بن عمران کی طرح دریاوں کو شگافتہ کرنے والا ہے اور عیسی بن مریم کی طرح ہے کہ جس کی ماں مقدس ہے اور اس کو پاک پیدا کیا گیا ہے (بحار الانوار ، ج ۵۰ ص ۱۵ ح ۱۹)

امام جواد علیہ السلام نے اپنی امامت کے سترہ سال کی مدت میں اسلامی حقائق کی تعلیم دی اور نشر و اشاعت کی اور نامور اصحاب اور ساتھی تربیت کیے کہ جن میں سے ہر ایک اسلامی تعلیم اور ثقافت کا ایک سرچشمہ بنا.
ان میں سے ابن ابی عمیر بغدادی، ابو جعفر محمد، ابن سنان زاھری، احمد ابن ابی نصر بزنطی کوفی، ابو تمام حبیب ابن اوس طائی معروف شیعہ شاعر، ابو الحسن لی ابن مہزیار اہوازی اور فضل ابن شاذان نیشاپوری نمایاں شخصیتیں ہیں۔
حضرت کے شاگردوں میں سے بھی ہر ایک پر نظر رکھی جاتی تھی یا ان میں سے کچھ جیل میں تھے۔ امام جواد علیہ السلام اپنے شیعوں کو اس دور کے فرقوں کے خطرے سے آگاہ کیا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک فرقہ مجسمہ کا فرقہ تھا جو خدا کے لیے جسم کے قائل تھے۔
واقفیہ ایک اور گمراہ اور مشکل ساز فرقہ تھا جو شیعہ کے عنوان سے شیعوں کے مقابلے میں تھا. ان لوگوں نے امام موسی کاظم علیہ السلام کی شہادت کے بعد آپ کی امامت پر توقف کیا تھا اور آپ علیہ السلام کے فرزند امام علی ابن موسی الرضا علیہ السلام کی امامت کو تسلیم نہیں کیا تھا.
ایک اور گروہ غلات کا تھا جن کا شیعہ کے عنوان سے شیعوں کو بد نام کرنے میں بڑا ہاتھ تھا، اسی لیے آئمہ معصومین علیھم السلام ان سے نفرت کرتے تھے. وہ بھی آئمہ علیھم السلام کے نام سے روایتیں گڑھتے تھے اور شیعوں کو گمراہ کرتے تھے۔ امام جواد علیہ السلام غالیوں کے سرداروں پر لعنت بھیجتے تھے اور اپنے شیعوں کو گمراہ فرقوں سے دور رہنے کی تلقین کرتے تھے۔
معصومین علیھم السلام کی تبلیغی روش بھی ان کی زندگی کے دیگر پہلووں کی طرح اسوہ اور نمونہ شمار ہوتی ہے.
امام جواد علیہ السلام نے کس تبلیغی روش سے شیعوں کو خطروں سے آگاہ کیا اور بنی عباس کے دور میں مذہب شیعہ کی حفاظت کی؟
۱ ۔ مناظرے کے ذریعے تبلیغ
حضرت امام جواد علیہ السلام کی تبلیغ کا نمایاں انداز مناظرہ تھا، امام جواد علیہ السلام کے مناظرے کہ جن کا آغاز آپ علیہ السلام کی امامت کے آغاز کے ابتدائی دنوں میں ہو گیا تھا، ان مناظروں نے امامت و ولایت کی شناخت عام کرنے، حق کے متلاشیوں کی ہدایت کرنے، اور ظالموں کے نظریات کے کھوکھلا ہونے کو ثابت کرنے میں مدد کی ……..

امام اپنے ماننے والوں کو اجازت دیتے تھے کہ حکومت کے اداروں کے اندر رہیں اور حکومت کے بڑے بڑے عہدوں پر پہنچ کر دین اور دینداروں کی خدمت کی راہ میں قدم بڑھائیں.

امام جواد علیہ السلام نے دو وجوہات کی بنا پر علمی مناظروں کے میدان میں قدم رکھا۔
پہلی وجہ شیعوں کی ضرورت تھی کہ جو حضرت کے کمسن ہونے کی وجہ سے آپ کے معنوی مرتبے کو سمجھنے کے در پے تھے.
اور دوسری وجہ مامون اور معتصم کی خواہش تھی کہ جس کے دل میں امام علیہ السلام کو معاذاللہ رسوا کرنے اور ان کے علم کو غیر خدائی ثابت کرنے کا ہوکا تھا.
خلفاء کی یہ کوشش ہوتی تھی کہ مناظرے کی مجلسیں منعقد کر کے رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے امت کے لئے منصوب اماموں کو اس دور کے بعض بڑے علماء کے مقابلے پر لا کھڑا کریں تا کہ شاید وہ ان کا جواب نہ دے سکیں اور ان کا معنوی مرتبہ مشکوک ہو جائے۔

مناظروں سے امام علیہ السلام کے مقاصد
الف - اپنی امامت ثابت کرنا
ان مناظروں کے ذریعے امام جواد علیہ اسلام کی کوشش زیادہ تر اپنی امامت و حقانیت کو ثابت کرنا تھی مورخین کے بقول امام علیہ السلام کی عمر مبارک سات سال سے زیادہ نہیں تھی، لیکن ایک محفل میں آپ علیہ السلام نے تیس پیچیدہ علمی سوالوں کے جواب دیے (۱)
ب - جھوٹ بولنے والوں کو رسوا کرنا
امام علیہ السلام مناظرے میں ایسا رویہ اپناتے تھے کہ خلفاء کے جعلی فضائل کا غلط ہونا ثابت ہو جائے.

۲ ۔ مامون کی حکومت کے خلاف عملی تبلیغ مامون ظاہر میں امام علیہ السلام کا بہت احترام کرتا تھا اور ہزار مخالفت کے باوجود اپنی بیٹی ام الفضل کا عقد آپ سے کر دیا تھا اس طرح کے سلوک نے امام علیہ السلام کو خلافت کے دربار سے خوش فہمی میں مبتلا نہیں کیا ۔آپ علیہ السلام خلیفہ کو ظالم سمجھتے تھے اور اس کی مخالفت کا خیال ہمیشہ آپ کے دل میں رہتا تھا. اس بنا پر پہلی فرصت میں آپ حج کے بہانے مدینے کی جانب چلے گئے اور وہاں جا کر مقیم ہو گئے.
حسین مکاری کہتا ہے:
جب حضرت امام محمد تقی علیہ السلام کا خلیفہ کے نزدیک بڑا مقام تھا، تو میں بغداد پہنچا اور ان سے ملاقات کے لیے گیا میں یہ سوچ رہا تھا کہ حضرت اب مدینے واپس نہیں جائیں گے جیسے ہی میں نے یہ سوچا حضرت نے سر جھکایا اور اس حالت میں کہ آپ کا رنگ مبارک زرد ہو چکا تھا،
فرمایا: حسین جو کی روٹی اور آدھا پسا ہوا نمک رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے حرم میں میرے لیے جو کچھ تم دیکھ رہے ہو اس سے بہتر ہے.(۴)
۳ ۔ حوزہء علمیہ کی بنیاد رکھنا
امام نہم علیہ السلام کی تبلیغی روش میں روشن فکر محققین کی تربیت بھی شامل تھی حضرت علیہ السلام نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے مدرسے کی حفاظت کے ساتھ ہی دو سو ستر شاگرد تربیت کیے کہ جن میں سے کچھ کو آٹھویں امام علیہ السلام کے شاگرد شمار کیا جاتا تھا(۵)

امام جواد علیہ السلام نے بنی عباس کی ناپاک تبلیغات کو ناکام بنانے کے لیے اور لوگوں کو سچے اسلام سے آگاہ کرنے کے لیے مختلف علاقوں میں نمایندے ارسال کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ یہ نمایندے امام علیہ السلام کے کارندے شمار ہوتے تھے اور اہواز، ھمدان، سیستان، بست، ری، بصرہ، واسط، بغداد، کوفہ، اور قم جیسے مراکز میں شیعوں کے اتحاد اور معصومین علیھم السلام سے ان کے پیوند کو برقرار کرتے تھے۔
امام علیہ السلام اسی طرح اپنے ماننے والوں کو اجازت دیتے تھے کہ حکومت کے اندر نفوذ پیدا کریں اور حساس پوسٹوں پر قبضہ کریں۔ محمد ابن اسماعیل بن بزیع اور احمد ابن حمزہء قمی نے اس موقعے سے فائدہ اٹھایا اور اہم حکومتی عہدوں پر پہنچ کر دین اور دینداروں کی خدمت کی راہ میں اقدامات کیے. حسین ابن عبد اللہ نیشا پوری بست اور سیستان کے حاکم اور حکم ابن علیاء اسدی، بحرین کے حاکم بھی امام علیہ السلام کے دوستوں میں شمار ہوتے تھے اور اپنے اموال کا خمس آپ کی خدمت میں روانہ کرتے تھے (۶)

۱ ) منتہی الآمال ، شیخ عباس قمی ، انتشارات ہجرت ، ج ۲ ص ۵۷۷ ، ۲ ) ق / ۱۶ ،
۴ ) منتہی الآمال ، ص ۵۸۲ ، ۵ ) امام جوا من المھد الی اللحد ، سید محمد کاظم فروتنی ، ص ۸۹ ، ۶ ) سیرہء پیشوایان.

🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Aslam o Alekum
Ya Ali as madad
Photo

Post has attachment
Aslam o Alekum
Ya Ali Madad
Photo

Post has shared content
🔵 شہادت امام علی رضا علیہ السلام 🔵

ھم امام مہدی عجل الله تعالٰی فرجہ الشریف کی خدمت میں هدیہ تعزیت پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ خدا وند متعال بحق معصومین علیهم السلام ھم سب کی پریشانیاں اور تکالیف دور فرمائے. اور امام زمانہ علیہ السلام کا ظہور جلد فرمائے.
آمین یا رب العالمین.

ایک صبح امام رضا علیہ السلام نے نماز پڑھی اور محراب عبادت میں بیٹھ گئے گویا کہ کسی کے منتظر تھے... کہ اچانک مامون کا غلام آیا اور امام سے کہنے لگا:
"جلد تشریف لائیے آپ کو مامون بلا رہا ہے..."
آپ علیہ السلام اٹھے، عبا کندھے پر رکھی، جوتے پہنے اور چل پڑے... یہاں تک کہ دونوں دربار میں پہنچے...
مامون اپنے سامنے بڑے برتنوں میں قسم قسم کے پھل لئے بیٹھا تھا اور اس کے ہاتھ میں انگور کا ایک گچھا تھا جسے وہ کچھ تو کھا چکا تھا. جونہی امام علیہ السلام پر اس کی نظر پڑی وہ آپ کے احترام میں کھڑا ہو گیا اور باہیں امام علیہ السلام کی گردن میں ڈال کر پیشانی پر بوسہ لیا اور انہیں اپنے پہلو میں جگہ دی...
مامون نے انگور آپ علیہ السلام کی طرف بڑھاتے ہوے کہا:
"یابن رسول الله اس سے بہتر انگور میں نے نہیں دیکھا، میرا جی چاہتا ہے کہ آپ انہیں کھائیں!
آپ علیہ السلام نے فرمایا مجھے ان انگوروں کے کھانے سے بخشو! اس پر مامون غصہ ہوا اور کہا:
یہ آپ کو کھانے پڑیں گے.. آپ کو ان کے کھانے میں کیا مسئلہ ہے. جتنا میں آپ سے خلوص سے پیش آتا ہوں آپ اتنا ہی مجھ پر شک کرتے ہیں اور مجھ پر تہمت لگاتے ہیں.... اس وقت اس نے انگور امام علیہ السلام کے حوالے کئے اور امام کو کھانے پر اصرار کیا...
امام علیہ السلام نے ان انگوروں سے تین دانے تناول کئے اور باقی خوشہ انگور پھینک دیے...
مامون غور سے دیکھ رہا تھا اور اس نے بھانپ لیا کہ مقصد کامیاب ہوا...
امام علیہ السلام اپنے مقام سے اٹھے تو اس نے سوال کیا:
"الی این" کہاں تشریف لے جا رہے ہیں؟
امام علیہ السلام نے جواب دیا:
"حیت وجھتنی" جہاں تو نے بھیجا!!
الا لعنت اللہ علی القوم الظالمين.

🔷 حدیث سلسلة الذھب:
یہ حدیث، حدیث قدسی ہے اور امام رضا علیہ السلام کی مشہور ترین حدیث ہے.
حدثنا القطان، عن عبدالرحمن الحسينى، عن محمد الفزارى، عن عبدالرحمن الأهوازى، عن على بن عمرو، عن ابن جمهور، عن على بن بلال، عن على بن موسى الرضا، عن موسى بن جعفر، عن جعفر بن محمد، عن محمد بن على، عن على بن الحسين، عن الحسين بن على، عن على بن أبى طالب عليهم السّلام عن النبىصلّى اللَّه عليه و آله و سلّم، عن جبرائيل، عن إسرافيل ، عن ميكائيل، عن اللوح، عن القلم قال: يقول الله عزوجل : ولاية على بن ابي طالب عليه السّلام حصنى فمن دخل حصنى أمن من عذابى .
عيون اخبار الرضا : 1 / 146 .

ترجمہ:
حدیث قدسی میں اللہ سبحان و تعالی کا ولایت علی ع کے متعلق فرمان:
علی علیہ السلام کی ولایت میرا قلعہ ہے جوبھی میرے اس قلعے میں داخل ہوا وہ میرے عذاب سے امان میں رہا.

🔷 امام علیہ السلام کے معجزات میں سے:
امام علی رضا علیہ السلام کے حکم سے شیروں کا زنده ھونا اور بدبخت فاسق انسان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا:

مامون خود اس واقعه کو بیان کرتا ھے که ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ”ﺣﻤﯿﺪ ﺑﻦ ﻣﮩﺮﺍﻥ“ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ:
ﺍﮮ ﻣﺎﻣﻮﻥ! ﮨﺮ ﺭﻭﺯ ﻋﻠﯽ ﺍﺑﻦ ﻣﻮﺳﯽ ﺍﻟﺮﺿﺎ علیہ السلام ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﮬﺘﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺩﻥ ﺑﺮﺳﻨﺎ ﮨﯽ ﺗﮭﺎ ﭼﺎﮨﮯ ﻭﮦ ﻧﻤﺎﺯ ﺑﺎﺭﺍﻥ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﯾﺎ ﻧﮧ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺗﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﺩﮮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﻮ ﻋﻠﯽ ﺍﺑﻦ ﻣﻮﺳﯽ ﺍﻟﺮﺿﺎ علیہ السلام ﮐﺎ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺍﻣﺖ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﺮﯾﮟ؟

ﻣﺎﻣﻮﻥ ﻧﮯ ﺩﻟﭽﺴﭙﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﺣﻤﯿﺪ: ﺗﻢ ﺍﯾﮏ ﻣﺠﻠﺲ ﮐﺎ ﭘﺮﻭﮔﺮﺍﻡ ﺭﮐﮭﻮ ﺗﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﺎﺿﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﮨﯿﻦ ﮐﺮﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﺳﺐ ﮐﻮ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺩﻭﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﺎ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﻤﺎﺯ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺑﻂ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔

ﻣﺎﻣﻮﻥ نے کہا که ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺣﻤﻖ، ﺑﺎﻟﮑﻞ ﮔﺪﮬﺎ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﮨﯽ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﺟﻮ ﺣﻤﯿﺪ ﺑﻦ ﻣﮩﺮﺍﻥ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ.

ﺣﻤﯿﺪ ﺑﻦ ﻣﮩﺮﺍﻥ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺑﮍﺍ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮ ﺗﮭﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻓﻦ ﺟﺎﺩﻭﮔﺮﯼ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺩﺳﺘﺮ ﺧﻮﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﭼﮭﯿﮍ ﭼﮭﺎﮌ ﮐﯽ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﻟﻘﻤﮧ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ السلام ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻏﺎﺋﺐ ﮐﺮﺩﯾﺎ، ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺣﺎﺿﺮﯾﻦ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﻟﮕﮯ.
ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ السلام ، ﺣﻤﯿﺪ ﺑﻦ ﻣﮩﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻥ ﺣﺮﮐﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺎﺗﮭﮯ ﭘﺮ ﺑﻞ ﻧﮧ ﭘﮍﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺣﻤﯿﺪ ﻧﮯ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮯ ﺍﺩﺑﯽ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺣﺎﺿﺮﯾﻦ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺑﻠﻨﺪ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍﮮ ﻋﻠﯽ ﺑﻦ ﻣﻮﺳﯽ الرضا ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺗﺠﺎﻭﺯ ﮐﺮﭼﮑﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﺎﺭﺵ ﺟﻮ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻋﺎﻟﻢ ﻧﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﻌﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺍﺛﺮ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺻﺎﺣﺐ ﻋﺰﺕ ﻭ ﺑﺎ ﻋﻈﻤﺖ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺳﻄﺮﺡ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﺧﻠﯿﻞ ﺍﻟﻠﮧ علیہ السلام ﮐﮯ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﮐﯽ ﺗﮑﺮﺍﺭ ﮐﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺍﺫﻥ ﺧﺪﺍ ﺳﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﺳﭽﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺩﻭ ﺷﯿﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻣﺎﻣﻮﻥ ﮐﯽ ﻗﺎﻟﯿﻦ ﭘﺮ ﻧﻘﺶ ﮨﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﺩﻭ
ﮐﮧ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﺮ ﮈﺍﻟﯿﮟ، ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﺗﻮ ﯾﮧ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﻣﺎﻧﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ، ﻧﮧ ﯾﮧ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﺱ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﻮ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﻣﺎﻧﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮧ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ۔

ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ السلام ﮐﻮ جلال ﺁﮔﯿﺎ.
ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﺱ ﺣﺴﺎﺱ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﻧﮧ ﺩﮐﮭﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﺩﺭ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺁﭘﮑﯽ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﭘﺮ ﺣﺮﻑ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺷﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ:

"ﺍﺱ ﻣﺮﺩ ﻓﺎﺳﻖ ﻭ ﻓﺎﺟﺮ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﻮ"

ﺍﭼﺎﻧﮏ ﺍﻥ ﺷﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻥ ﺁ ﮔﺌﯽ اور ﻭﮦ ﻗﺎﻟﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﺠﺴﻢ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﻭﮌﮮ ﺍﻭﺭ ﻭﺣﺸﺘﻨﺎﮎ ﻃﺮﯾﻘﮯ ﺳﮯ ﺑﺪﺑﺨﺖ ﺣﻤﯿﺪ ﺑﻦ ﻣﮩﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻥ ﭘﺮ ﭨﻮﭦ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ کی ﺣﺮﮐﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭨﮑﮍﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﺮﮐﮯ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﺎ ﮔﺌﮯ.
ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺧﻮﻥ ﮔﺮﺍ ﺗﮭﺎ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﯽ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺸﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﺍ.

ﺣﺎﺿﺮﯾﻦ ﺑﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﮈﺭﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﻃﺎﻗﺖ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ.

ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺻﻠﯽ ﺣﺎﺩﺛﮧ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﭘﯿﺶ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺷﯿﺮ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ السلام ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺮ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻣﺎﻡ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ:

"ﺍﮮ ﻭﻟﯽ ﺧﺪﺍ ! ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﮟ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ یعنی ﻣﺎﻣﻮﻥ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺖ ﺳﮯ ﻣﻠﺤﻖ ﮐﺮﺩﯾﮟ."

ﺑﺲ ﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﺎﺗﺤﮧ ﭘﮍﮪ ﻟﯽ، ﻋﺰﺭﺍﺋﯿﻞ ﮐﻮ ﻏﺼﮧ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﺩﻭ ﺩﺭﻧﺪﮦ ﺷﯿﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﻑ ﮐﯽ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﺑﮯ ﮨﻮﺵ ﮨﻮﮔﯿﺎ،
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ السلام ﻧﮯ ﺍﻥ ﺷﯿﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺧﺪﺍﻭﻧﺪ ﻋﺎﻟﻢ ﺧﻮﺩ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﯾﮕﺎ ﺍﺏ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﺮﺍﻧﯽ ﺟﮕﮧ ﺍﻭﺭ ﺣﺎﻟﺖ ﭘﺮ ﭘﻠﭧ ﺟﺎﺅ.

ﺟﺐ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ السلام ﮐﻮ ﺑﺨﺶ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺥ ﮐﺮﮐﮯ ﮨﺎﻧﭙﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﺮﺯﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺷﮑﺮ ﭘﺮﻭﺭﺩﮔﺎﺭ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐﻮ ﺣﻤﯿﺪ ﺑﻦ ﻣﮩﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﺮ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﺎ۔

ﺍﮮ ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺭﺳﻮﻝ!
ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﺧﻼﻓﺖ ﺁﭖ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮨﮯ، ﺍﺏ ﺟﻮ ﺁﭖ ﭘﺴﻨﺪ ﮐﺮﯾﮟ۔ ﺍﺏ ﺟﻮ ﭼﺎﮨﯿﮟ ﮐﺮﯾﮟ.

ﺍﻣﺎﻡ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﻮ ﮐﺎﭨﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍﮮ ﻣﺎﻣﻮﻥ!
ﺍﮔﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺧﻼﻓﺖ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﻟﮕﺎﺅ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺑﺤﺚ ﻭ ﻣﺒﺎﺣﺜﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻧﮧ ﺑﯿﭩﮭﺘﺎ، ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻣﺨﻠﻮﻗﺎﺕ ﺍﺳﮑﮯ ﺍﺫﻥ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﻣﺎﻣﻮﺭ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﺩﺧﻞ ﺍﻧﺪﺍﺯﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﻭﮞ،
ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮐﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﻧﮧ ﺭﮐﮭﻮﮞ.
ﻋﯿﻮﻥ ﺍﺧﺒﺎﺭ ﺍﻟﺮﺿﺎ ،ﺟﻠﺪ 2_ ، ﺻﻔﺤﮧ 170.

🔷 ﺍﻣﺎﻡ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﺎ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺿﺎﻣﻦ ﺁﮬﻮ (ہرن کا ضامن) ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ؟ اور امام ضامن کی تاریخ کیا ھے؟

ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺟﺐ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﻔﺮ ﭘﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺮﻥﻣﯿﻦ ﮐﭽﮫ ﺭﻗﻢ ﺑﺎﻧﺪﮪ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﻣﺎﻡ ﺿﺎﻣﻦ ﮐﯽ ﻧﯿﺖ ﺳﮯ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﻫﻤﺎﺭﮮ ﯾﮩﺎﮞ ﺩﻟﮩﺎ ﺩﻟﮩﻦ ﮐﻮ ﻧﻈﺮ ﺑﺪ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺑﻬﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﺑﺎﺯﻭﺅﮞ ﭘﺮﺍﻣﺎﻡ ﺿﺎﻣﻦ ﺑﺎﻧﺪﮬﺎ ﺟﺎﺗﺎﻫﮯ. ﺍﺱ ﺭﺳﻢ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺀ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ علیہ السلام ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮨﻮﺋﯽ، ﺟﺐﺁﭘﮑﮯ ﺍﺳﻢ ِ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﮐﺎ ﺳﮑﮧ ﺭﺍﺋﺞ ﮨﻮﺍ.
ﺁﭘﮑﮯ ﻣﺤﺒﯿﻦ ﺍﺱ ﺳﮑﮯ ﮐﻮ ﺑﺮﮐﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯ ﭘﯿﺶ ﻧﻈﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺎﺱ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﭼﻮﻧﮑﮧ ﺿﺎﻣﻦ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ، ﺳﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﻋﻘﯿﺪﮦ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﺍﻣﺎﻡ ﺭﺿﺎ ‏علیہ السلام ﮐﮯ ﺫﻣﮯ ﮨﮯ.
ﯾـــﮧ ﺳﺐ ﮐﯿـــﻮﮞ ﻫـــﻮﺍ؟
ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﻣﻮﻻ ﻣﺪﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺮﻭ ﯾﺎ ﺧﺮﺍﺳﺎﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﻋﺎﺯﻡ ﺳﻔﺮ ﺗﮭﮯ، ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮﺍﯾﮏ ﮨﺮﻧﯽ ﮐﻮ ﺑﻌﺪ ﺍﺯ ﺷﮑﺎﺭ ذﺑﺢ ﮐﯿﺎ ﮨﯽ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﮨﺮﻧﯽ ﺍﺳﮑﮯﭼﻨﮕﻞ ﺳﮯ ﭼﮭﭩﮑﺎﺭﮦ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﺮ ﮨﺮ ﺣﺮﺑﮧ ﺁﺯﻣﺎ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ، ﻣﮕﺮ ﺑﮯ ﺳﻮﺩ۔ ﺍﺳﯽ ﺍﺛﻨﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻡ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨﭽﮯ۔ ﺟﺐ ﮨﺮﻧﯽ ﮐﯽﻧﻈﺮ ﻭﺍﺭﺙ ِ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ، ﮐﺮﯾﻢ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯ ﺭﺥ ِ ﺍﻧﻮﺭ ﭘﺮ ﭘﮍﯼ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯﺍﭘﻨﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺷﮑﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺩ ﮐﯽ ﺩﺭﺧﻮﺍﺳﺖ ﮐﯽ۔
ﮨﺮﻧﯽ ﮐﯽ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍﻣﺎﻡ ‏علیہ السلام ﻧﮯ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ:
"ﺍﺳﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭ۔ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﭽﮧ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﺎﮞ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﯽﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﮍﭖ ﺭﻫﯽ ﻫﮯ۔ ﮨﻢ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﯿﺴﮯ ﮨﯽ ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﻮ ﺩﻭﺩﮪ ﭘﻼ ﭼﮑﮯ ﮔﯽ، ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﭘﺎﺱ ﻭﺍﭘﺲﺁﺟﺎﺋﯿﮕﯽ."

ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﻧﮯ ﮨﺮﻧﯽ ﮐﻮ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﯿﺎ، ﺍﻭﺭ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﮐﮯﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻣﺎﻡ علیہ السلام ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﺰﺩﯾﮏ ﺁ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺮﻧﯽ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ۔
ﺍﻣﺎﻡ ‏علیہ السلام ﻣﻄﻤﺌﻦ، ﺟﺒﮑﮧ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﻣﻀﻄﺮﺏ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭﺍﭘﻨﮯ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﭘﺮ ﭘﭽﮭﺘﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ۔
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻣﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻭ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﺌﯽ ﺍﻧﺴﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﺒﻘﺖ ﻟﮯ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺎﺭﯼ ﯾﮧ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺷﺸﺪﺭ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﮨﺮﻧﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﻮﮎ ﻣﭩﺎ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺷﮑﺮیئے ﮐﮯ ﺍﻇﮩﺎﺭ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺮﯾﻢ ﺍﻣﺎﻡ ﮐﮯﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﯽ۔

ﺷﮑﺎﺭﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﭘﺴﺖ ﺧﯿﺎﻻﺕ ﭘﺮ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻔﺖ ﻣﭩﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ‏علیہ السلام ﮐﮯ ﺍﺱ ﺍﻋﺠﺎﺯ ِ ﻋﻈﯿﻢ ﮐﮯﺍﻋﺘﺮﺍﻑ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮨﺮﻧﯽ ﮐﻮ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ.
ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﯾﮏ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺑﻬﺮﯼ ﻣﺎﻣﺘﺎ ﮐﺎ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ٬ ﺍﻣﺎﻡﺭﺿﺎ ‏علیہ السلام ﮐﻮ ﺿﺎﻣﻦِ ﺁﮬﻮ ﮐﺎ ﻟﻘﺐ ﺩﻟﻮﺍ ﮔﺌﯽ .ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻣﺎﻡ ِ ﺛﺎﻣﻦ، ﺍﻣﺎﻡ ِ ﺿﺎﻣﻦ ﺑﮭﯽ ﮐﮩﻼﺋﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﮯ.
(ﺑﺤـــﺎﺭﺍﻻﻧـــﻮﺍﺭ، ﺟـــﻠﺪ _٣ - ٤.)

https://t.me/islamwitheman
🔵 ISLAM WITH EMAN 🔵
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo
Wait while more posts are being loaded