Post is pinned.Post has attachment
(( سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ))

قسط نمبر 110.

چند اور سرایا. .......

سریہ ابو العوجاء (ذی الحجہ 7 ہجری________________
رسول اللہ ﷺ نے پچاس آدمیوں کو ابو العوجاء کی سر کردگی میں بنو سلیم کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے روانہ کیا لیکن جب بنو سلیم کو اسلام کی دعوت دی گئی تو انہوں نے جواب میں کہا تم جس بات کی دعوت دیتے ہو ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے
پھر انہوں نے سخت لڑائی کی جس میں ابو العوجاء زخمی ہوگئے تاہم مسلمانوں نے دشمن کے دو آدمی قید کر لئے.
2.سریہ غالب بن عبداللہ (صفر 8 ہجری_______________
انہیں دو سو آدمیوں کے ہمراہ فدک کے اطراف میں حضرت بشیر بن سعد کے رفقاء کی شہادت گاہ میں بهیجا گیا تھا -
ان لوگوں نے دشمن کے جانوروں پر قبضہ کیا اور ان کے متعدد افراد قتل کر دئیے.
3 .سریہ ذات اطلح (ربیع الاول 8 ہجری________________
اس سریہ کی تفصیل یہ ہے کہ بنو قضاعہ نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لیے بڑی جماعت فراہم کر رکهی تهی -
رسول اللہ ﷺ کو علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کی سر کردگی میں صرف پندرہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ان کی جانب روانہ کیا
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے سامنا ہونے پر انہیں اسلام کی دعوت دی مگر انہوں نے اسلام قبول کرنے کی بجائے ان سب کو تیروں سے چھلنی کر کے شہید کردیا.
صرف ایک آدمی زندہ بچا جو مقتولین کے درمیان سے اٹها لایا گیا،
4 سریہ ذات عرق (ربیع الاول 8 ہجری_______________
اس کا واقعہ یہ ہے کہ بنو ہوازن نے بار بار دشمنوں کو کمک پہنچائی تھی اس لیے پچیس آدمیوں کی کمان دے کر حضرت شجاع بن وہب اسدی رضی اللہ عنہ کو ان کی جانب روانہ کیا گیا
یہ لوگ دشمن کے جانور ہانک لائے لیکن جنگ اور چهیڑ چهاڑ کی نوبت نہ آئی. _________

معرکہ موتہ_____
موتہ میم پیش اور واو ساکن اردن میں بلقاء کے قریب ایک آدمی کا نام ہے جہاں جہاں سے بیت المقدس دو مرحلے پر واقع ہے
زیر بحث معرکہ یہیں پیش آیا تھا
یہ سب سے بڑا خونریز معرکہ تھا جو مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ میں پیش آیا اور یہی معرکہ عیسائی ممالک کی فتوحات کا پیش خیمہ بنا_
اس کا زمانہ وقوع جمادی الاول سن 8 ہجری بمطابق اگست یا ستمبر 629 ہے_
معرکہ کا سبب____________اس معرکہ کا سبب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حارث بن عمیر ازدی رضی اللہ عنہ کو اپنا خط دے کر حاکم بصری کے پاس روانہ کیا تو انہوں نے قیصر روم کے گورنر شرجیل بن عمرو غسانی نے جو بلقاء پر مامور تھا گرفتار کر لیا اور مضبوطی کے ساتھ باندھ کر ان کی گردن مار دی.
یاد رہے کہ سفیروں اور قاصدوں کا قتل نہایت بد ترین جرم تھا جو اعلان جنگ کے برابر بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سمجھا جاتا تھا -
اس لئے جب رسول اللہ ﷺ کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات سخت گراں گزری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس علاقے پر فوج کشی کے لیے تین ہزار کا لشکر تیار کیا
اور یہ سب سے بڑا اسلامی لشکر تها جو اس سے پہلے جنگ احزاب کے علاوہ کسی اور جنگ میں فراہم نہ ہو سکا تھا
📎لشکر کے امراء اور رسول اللہ ﷺ کی وصیت.
رسول اللہ ﷺ نے اس لشکر کا سپہ سالار حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا اور فرمایا کہ اگر زید قتل کر دیے جائیں تو جعفر اور جعفر قتل کر دئیے جائیں تو عبداللہ بن رواحہ سپہ سالار ہوں گے_
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کے لیے سفید پرچم باندھا اور اسے حضرت زید رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا_
لشکر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت فرمائی کہ جس مقام پر حضرت حارث بن عمیر رضی اللہ عنہ کا قتل ہوا تھا وہاں پہنچ کر اس مقام کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دینا اگر وہ اسلام قبول کر لیں تو بہتر ہے، ورنہ اللہ سے مدد مانگیں اور لڑائی کریں_
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا نام سے اللہ کی راہ میں اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں سے غزوہ کرو.
اور دیکهو بد عہدی نہ کرنا
خیانت نہ کرنا
کسی بچے اور عورت اور انتہائی عمر رسیدہ بڈھے کو اور گرجے میں رہنے والے تارک الدنیا کو قتل نہ کرنا
کھجور اور کوئی درخت نہ کاٹنا اور کسی عمارت کو منہدم نہ کرنا.
📎اسلامی لشکر کی روانگی اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا گریہ.
.
جب اسلامی لشکر روانگی کے لیے تیار ہو گیا تو لوگوں نے آ آ کر رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ سپہ سالاروں کو الوداع کہا اور سلام کیا اس وقت ایک سپہ سالار حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ رونے لگے ۔
لوگوں نے کہا :
آپ کیوں رو رہے ہیں؟
انہوں نے کہا دیکهو اللہ کی قسم اس کا سبب دنیا کی محبت یا تمہارے ساتھ میرا تعلق خاطر نہیں ہے بلکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کتاب اللہ کی ایک آیت پڑهتے ہوئے سنا ہے جس میں جہنم کا ذکر ہے
یہ آیت ہے وہ
و ان منکم الا واردها کان علی ربک حتماً مقضیا:(19:17)
تم میں سے ہر شخص جہنم پر وارد ہونے والا ہے یہ تمہارے رب پر لازمی اور فیصلہ کی ہوئی بات ہے"
میں نہیں چاہتا کہ جہنم پر وارد ہونے کے بعد کیسے پلٹ سکوں گا؟
مسلمانوں نے کہا : اللہ سلامتی کے ساتھ آپ لوگوں کا ساتھی ہو، آپ کی طرف سے دفاع کرے اور آپ رضی اللہ عنہ کو ہماری طرف نیکی اور غنیمت کے ساتھ واپس لائے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے کہا :
ترجمہ :
لیکن میں رحمن سے مغفرت کا اور استخواں شکن، مغز پاش تلوار کی کاٹ کا یا کسی نیزہ باز کے ہاتھوں آنتوں اور جگر کے پار اتر جانے والے نیزے کی ضرب کا سوال کرتا ہوں تاکہ جب لوگ میری قبر پر گزریں تو کہیں ہائے وہ غازی جسے اللہ نے ہدایت دی اور جو ہدایت یافتہ رہا-"
اس کے بعد لشکر روانہ ہوا.
رسول اللہ ﷺ اس کی مشایعت کرتے ہوئے ثنیتہ. الوداع تک تشریف لے گئے اور وہیں سے اسے الوداع کہا-"

📎اسلامی لشکر کی پیش رفت اور خوفناک ناگہانی حالت سے سابقہ.
.
اسلامی لشکر کی شمال کی طرف بڑھتا ہوا معان پہنچا-
یہ مقام شمالی حجاز سے متصل شامی علاقے میں واقع ہے_
یہاں لشکر نے پڑاو ڈالا اور یہی جاسوسوں نے اطلاع دی کہ ہرقل قیصر روم بلقاء کے علاقے میں مآب کے مقام پر ایک لاکھ رومیوں کا لشکر لے کر خیمہ زن ہے اور اس کے جھنڈے تلے لخم و جزام بلقین و بہرا اور بلی (قبائل) کے ایک لاکھ افراد شامل ہو گئے -
📎معان میں مجلس شوریٰ.
.
مسلمانوں کے حساب سے سرے سے یہ بات تهی ہی نہیں کہ انہیں کسی ایسے لشکر جرار سے سابقہ پیش آئے گا.
جس سے وہ درو دراز سر زمین پر اچانک دوچار ہو گئے تھے اب ان کے سامنے سوال یہ تھا کہ آیا تین ہزار کا زرا سا لشکر دو لاکھ لشکر کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے ٹکرایا جائے یا کیا کرے؟
مسلمان حیران تھے اسی حیرانی اور مشورے کے دوران انہوں نے دو دن معان میں گزار دیئے.
کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کو خط لکھ کر دشمن کی تعداد کی خبر دیں.
اس کے بعد یا تو مزید کمک ملے گی یا کوئی حکم ملے گا.
لیکن عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کی مخالفت کی اور یہ کہہ کر لوگوں کو گرما دیا کہ لوگوں خدا کی قسم جس بات سے تم لوگ کترا رہے ہو یہ تو وہی شہادت ہے جس کی طلب لے کر تم لوگ نکلے ہو.
یاد رہے دشمن سے ہماری لڑائی طاقت قوت یا تعداد کی کثرت پر نہیں ہے بلکہ ہم اس دین کے بل پر لڑتے ہیں جس سے اللہ نے مشرف کیا ہے.
اس لئے چلئے آگے بڑھتے ہیں ہمیں دو بھلائیوں میں سے ایک بھلائی حاصل ہو کر رہے گی.
یا تو ہم غالب آئیں گے یا شہادت ملے گی بالآخر حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی کہی ہوئی بات مان لی گئی.

📎دشمن کی طرف اسلامی لشکر کی پیش قدمی.
.
غرض مسلمانوں نے معان میں دو راتیں گزارنے کے بعد دشمن کی طرف پیش قدمی کی.
اور بلقاء کی ایک بستی جس کا نام مشارف تها ہرقل کے نوجوانوں سے سامنا ہوا اس کے بعد دشمن مزید قریب آ گیا اور مسلمان موتہ کی جانب سمٹ کر خیمہ زن ہو گئے -
پھر لشکر کی جنگی ترتیب دی گئی.
میمنہ پر قطبہ بن قتادہ غدری مقرر ہوئے اور میسرہ پر حضرت عبادہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو.
.
📎جنگ کا آغاز اور سپہ سالاروں کی یکے بعد دیگرے شہادت.
.
اس کے بعد موتہ ہی میں فریقین کے درمیان ٹکراؤ ہوا اور نہایت تلخ لڑائی شروع ہوئی تین ہزار کی نفری دو لاکھ ٹڈی دل کے طوفانی حملوں کا مقابلہ کر رہی تھی ۔
عجیب و غریب معرکہ تھا دنیا ورتہ حیرت میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی لیکن جب ایمان کی باد بہاری چلتی ہے تو اسی طرح کے عجائبات ظہور میں آتے ہیں.
سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کے سب سے چہتے لاڈلے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ نے علم لیا اور ایسی بہادری سے لڑے کے اسلامی شہبازوں کے علاوہ کہیں اور اس کی نظیر نہیں ملتی.
وہ لڑتے رہے لڑتے رہے یہاں تک کہ دشمن کے تیروں سے گتهہ گئے اور جام شہادت نوش فرما کر زمین پر گرے.
اس کے بعد حضرت جعفر رضی اللہ عنہ کی باری تھی -
انہوں نے لپک کر جھنڈا اٹھایا اور بےجگری سے جنگ شروع کی جب لڑائی کی آگ شدت اختیار کر گئی تو اپنے سرخ و سیاہ گھوڑے کی پشت سے کود پڑے.
کو چیں کاٹ دیں اور وار پر وار کرتے اور روکتے رہے.
یہاں تک کہ دشمن کی ضرب سے داہنا ہاتھ کٹ گیا -
اس کے بعد انہوں نے جھنڈا بائیں ہاتھ میں لے لیا اور اسے مسلسل بلند رکها یہاں تک کہ بایاں ہاتھ بھی کٹ گیا پهر باقی ماندہ دونوں ہاتھوں سے جھنڈا تهام لیا اور اس وقت تک بلند رکها جب تک کہ جام شہادت نہ نوش کر لیا -
کہا جاتا ہے کہ ایک رومی نے ان کو اس زور سے تلوار ماری کے آپ دو حصوں میں کٹ گئے.
اللہ نے ان کو ان کے بازوؤں کے عوض جنت میں دو بازو عطا کئے جن کے ذریعے وہ جہاں چاہے اڑتے ہیں اس لیے ان کا لقب جعفر طیار اور جعفر ذوالجناحین پڑ گیا طیار کے معنی اڑنے والا اور ذوالجناحین کے معنی ہیں دو بازوؤں والا ہے.
امام بخاری رحمہ اللہ نے نافع واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان روایت کیا ہے کہ جنگ موتہ کے روز حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کے پاس میں نے جبکہ وہ شہید ہو چکے تھے کھڑے ہو کر ان کے جسم پر نیزے اور تلوار کے پچاس زخم شمار کئے ان میں سے کوئی بھی زخم پیچھے نہیں لگا تھا.
ایک دوسری روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں بھی اس غزوے میں مسلمانوں کے ساتھ تها -
ہم نے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا تو انہیں مقتولین میں پایا اور ان کے جسم پر نیزے اور تیر کے نوے زخم تهے نافع سے عمری کی روایت میں اتنا اضافہ ہوا ہے کہ ہم نے یہ سب زخم ان کے جسم کے اگلے حصے میں پائے.
اس طرح کی شجاعت و بسالت سے بهر پور جنگ کے بعد جب حضرت جعفر رضی اللہ عنہ بھی شہید ہو گئے تو اب پرچم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے اٹها لیا.
اور اپنے گھوڑے پر سوار آگے بڑھے اور اپنے آپ کو مقابلے کے لئے آمادہ کرنے لگے لیکن انہیں کسی قدر ہچکچاہٹ ہوئی حتیٰ کہ تھوڑا سا گریز بهی کیا لیکن اس کے بعد کہنے لگے :
ترجمہ :
اے نفس قسم ہے کہ تو ضرور مد مقابل اتر خواہ ناگواری کے ساتھ خواہ خوشی کے ساتھ اگر لوگوں نے جنگ برپا کر رکهی ہے اور نیزے تان رکهے ہیں تو میں تجھے کیوں جنت سے گریزاں دیکھ رہا ہوں.
اس کے بعد وہ مقابلے پر اتر آئے
اتنے میں ان کا ایک چچیرا بهائی گوشت لگی ہوئی ہڈی لے آیا اور کہا اس کے زریعے اپنی پیٹھ مضبوط کر لو کیونکہ ان دنوں تمہیں سخت حالات سے دوچار ہونا پڑا ہے.
انہوں نے ہڈی لے کر ایک بار نوچی پهر پهینک کر تلوار تهام لی اور آگے بڑھے اور لڑتے لڑتے شهید ہو گئے____________بقیہ اگلی قسط میں.

===========> جاری ھے ان شاءاللہ .

تحریر ۔ بنت رفیق حفظھا اللہ تعالی

سیرت المصطفیٰ.. مولانا محمد ادریس کاندہلوی..
الرحیق المختوم .. مولانا صفی الرحمن مبارکپوری..

نوٹ ::: یہ ایک قسط وار سلسلہ ھے اس لئے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی اقساط اور مزید واقعات پڑھنے کیلئے ھمارے پیج میں شامل ھو جائیے
Photo

Post has attachment
اســلام علیــکم بے شکـــــ جب۔ﷲ کی مرضـی ہو کوئ کچھ نہی بیگاڈ سکتا «سبحانﷲ» یارب العامیـن ہمیـں دیـن اسـلام.اور صراط المستقیم کی رہ پرچلنے والا بناٗے…………💕آمیـــــــن ثم آمیـــــــن💕……………
Photo

Post has attachment

Post has attachment
‏الســــــلام علــــــیکم 🙋‍♂️
صبـــح بخیـــر ❣ 🌹 💐
جمعــہ مبــارکـــ 🌹 🌹
اے ایمان والو! جب تمہیں جمعہ کے دن والی نمازکے لئے پکارا جائے ( اس کی اذان دی جائے ) تو اللہ کے ذکر ( نمازِ جمعہ ) کی طرف تیز چل کر جاؤ اورخرید و فروخت چھوڑ دو ۔ یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو
ہم روز گناہ کرتے ہیں
وہ چھپاتا ہے اپنی رحمت سے
ہم مجبور ہیں اپنی عادت سے
وہ مشہور ہے اپنی رحمت سے ❤
#Honey
Photo
Photo
18/01/2019
2 Photos - View album

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo

Post has attachment
Photo
Wait while more posts are being loaded