Post has attachment
17ھ میں امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں اس نشان تک مسجد نبوی کی توسیع کی گئی تھی یعنی باب النساء تک . آپ رضی اللہ عنہ کے دورخلافت میں ہی مسجد میں آنے جانے کے لیئے عورتوں کے لیئے علیحدہ سے دروازے کا انتظام کیا گیا جو باب النساء کہلاتا ہے. اس کے بعد مسجد نبوی کی تیسری بار توسیع حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں کی گئی. 91 ہجری میں ہونے والی توسیع جو کہ ولید اموی کےدور میں ہوئی تھی پھر باب النساء کو عورتوں کے لیئے بند کر کے مرد حضرات کے لیئے مختص کردیا گیا اور آج تک ایسے ہی نظام چلا آرہا ہے.
Photo

Post has attachment
بس یہ ہے التجا ،- قرب وقت نزع ، مجھ کو در پہ بلا ، -پاس اپنے بٹھا ، سوہنا مکھڑا دکھا ، میٹھی باتیں سنا ، اپنا کلمہ پڑھا ، پھر لے مجھ کو چھپا ، -اپنے دامن میں شاہ ، جان نکلے میری -پھر تیرے زیر پا ، -دفن ہونے کو مل جائے -تھوڑی سی جا -جو بقیع میں ذرا ،-چاہیئے اور کیا -بس کفٰی بس کفٰی ، -بس کفٰی بس کفٰی
Photo

انسان جتنا اللہ کے قریب ہوگا اتنا ہی مخلوق پر مہربان ہوگا۔

مر کے جیتے ہیں جو ان کے در پہ جاتے ہیں حسن 
جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر 

Post has attachment

پلک اور بھوؤیں مبارک 
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جب آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اوصاف مبارک کو بیان کرتے تو کہتے آپ گھنی اور لمبی پلکوں والے تھے .
حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے دونوں بھوؤیں ملے ہوئے تھے .
گھنے باریک اور خمدار تھے مثل کمال ابرو 
زرا کچھ فصل سے دونوں ہلال ضوفشاں ابرو

Allah taala iss Community ko bohot taraqqi ata farmae,aameen.
Wait while more posts are being loaded