Profile

Cover photo
Muhammad Naveed Arif
Worked at Government of Pakistan
Lives in Quetta
201 followers|82,158 views
AboutPostsPhotosVideos

Stream

Muhammad Naveed Arif

Shared publicly  - 
 
 
ماشاءالله تبارك الله 
 ·  Translate
View original post
1
Add a comment...

Muhammad Naveed Arif

Shared publicly  - 
 
 
💖 بڑی اُمید ہے سرکار قدموں میں بُلائیں گے ،

کرم کی اِک نظر مدینے ہم بھی جائیں گے …

💖 اگر جانا مدینے میں ہُوا ہم غم کے ماروں کا،

مکینِ گُنبدِ خضرٰی کو حالِ دِل سُنائیں گے …

💖 کِسی صُورت یہاں پر اب ہمارا جی نہیں لگتا،

میرے سرکار کب ہم کو در پہ آپ بُلائیں گے …

💖 قسم اللّہ کی ہو گا وہ منظر دید کے قابل ،

قیامت میں رسُول اللہ جب تشریف لائیں گے ،

💖 ہم گُنہگاروں میں آکر وہ شامل پارسا ہوں گے،

شافع حشر جب دامن میں چُھپائیں گے …

💖 غمِ عشقِ نبی سے ہو گا معمُور دِل اپنا ،

پِھر ہمارے ظلمت کدے میں بھی ستارے

جگمگائیں گے …

💖 کرم کی اِک نظر ہو گی

مدینے ہم بھی جائیں گے ___💟

اِنشاء اللّہ ...

آمین .....

یاربُّ العالمین 🌹

AsLamoALaikum To All MusLims...💝
 ·  Translate
2 comments on original post
1
Add a comment...

Muhammad Naveed Arif

Shared publicly  - 
 
 
استنبول، پاکستان تمہارے ساتھ ہے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اگر آپ اس مشکل گھڑی میں ترکی کے ساتھ ہیں
 ·  Translate
View original post
1
Add a comment...

Muhammad Naveed Arif

Shared publicly  - 
 
 
مصر پر علوی خاندان کے پانچویں حکمران اسماعیل پاشا خدیوی کا دور تعمیر و ترقی اور اقتصادی معراج کا زمانہ ہے۔ نہر سویز اسی عہد میں تعمیر ہوئی۔ ترقی کے اس پہیئے کو روکنے کیلیئے برطانیہ اور فرانس نے مل کر ایسے حالات پیدا کیئے کہ انہیں معزول ہونا پڑا۔

انہی کے عہد میں ہی میں ایک فتنہ اٹھا کہ ہر کس و ناکس کے منہ میں ایک ہی سوال ہوتا تھا جنت میں یہودی جائیں گے، عیسائی جائیں گے یا کہ ہم مسلمان؟

اسماعیل پاشا نے مسلمانوں کی طرف سے اس دور کے عالم محمد عبدہ، عیسائیوں کے ایک بڑے پادری اور یہودیوں کی طرف سے ایک بڑے ربی کو بلا کر ان کے سامنے یہی سوال رکھا کہ: جنت میں کون جائے گا، یہودی، عیسائی یا مسلمان؟

مسلمانوں کی طرف سے امام محمد عبدہ نے کھڑے ہو کر ایسا مدلل جواب دیا کہ محفل میں بیٹھے سب ناقدین کے ساتھ ساتھ عیسائی پادری اور یہودی ربی اپنا سا منہ لیکر خاموش رہ گئے اور بغیر کوئی جواب دیئے خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔ آپ کا جواب مختصر مگر جامع، ادب و احترام کی عمدہ مثال اور حکمت و دانئی کا ایسا مرقع تھا جس نے اسماعیل پاشا سمیت سب مسلمانوں کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیر دی اور اس سوال کا باب ہمیشہ کیلئے بند ہوگیا۔ ۔

آپ نے کہا: اگر یہودی جنت میں جاتے ہیں تو ہم بھی ان کے ساتھ ہی جنت میں جائیں گے کیونکہ ہم ان کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔

اور اگر عیسائی جنت میں گئے تو ہم بھی ان کے ساتھ ہی جنت میں جائیں گے کیونکہ ہم ان کے نبی حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان رکھتے ہیں۔

لیکن اگر ہم مسلمان جنت میں گئے تو ہم صرف اللہ کی رحمت کے ساتھ اور اکیلے ہی جنت میں جائیں گے اور ہمارے ساتھ کوئی یہودی اور عیسائی نہیں جائیگا کیونکہ انہوں نے ہمارے نبی حضرت محمد صل اللہ علیہ و علیٰ آلہ وسلم کو نہیں مانا اور نا ہی اُن پر ایمان لائے ہیں۔

الحمد للہ علی نعمۃ الاسلام - اللھم لک الحمد والشکر یا رب۔
#grbutt 
 ·  Translate
10 comments on original post
1
Add a comment...

Muhammad Naveed Arif

Shared publicly  - 
 
 
،،،سبحان الله ،،،
 ·  Translate
3 comments on original post
1
1
Add a comment...
In his circles
141 people
Have him in circles
201 people
Engr HuSSain Tahir's profile photo
Altair Altair's profile photo
‫متجر رزان للعبايات‬‎'s profile photo
Motaher Chowdhury's profile photo
Allah Quotes's profile photo
Anjali Sharma's profile photo
Jawara Jawa's profile photo
Muslim Press's profile photo
Wish youget (Wishyouget.com)'s profile photo

Muhammad Naveed Arif

Shared publicly  - 
 
 
Assalamu alaikum
Masha Allah 🌹 🌹 🌹 
 ·  Translate
21 comments on original post
1
Add a comment...

Muhammad Naveed Arif

Shared publicly  - 
 
 
ایک سرکاری دورے پر سعوری عرب شاہ فیصل (شہید) برطانیہ تشریف لے گے۔ کھانے کی میز پر انتہائی نفیس برتنوں کے ساتھ چمچے اور کانٹے بھی رکھے ہوئے تھے۔ دعوت شروع ہوئی۔سب لوگوں نے چمچے اور کانٹے استعمال کیے لیکن شاہ فیصل نے سنتِ نبوی کے مطابق ہاتھ ہی سے کھانا کھایا۔ کھانا ختم ہوا تو کچھ صحافیوں نے شاہ فیصل سے چمچہ استعمال نہ کرنے کی وجہ پوچھی۔
شاہ فیصل نے کہا:” میں اس چیز کا استعمال کیوں کروں جو آج میرے منھ میں ہے اور کل کسی منھ میں جائیں گا۔ یہ ہاتھ کی اُنگلیاں تو میری اپنی ہیں۔ یہ تو ہمیشہ میرے ہی منھ میں جائیں گی اس لیے میں اپنے ہاتھ سے کھانے کو ترجیح دیتا ہوں۔“
ایک دفعہ امریکی صحافیوں کا ایک وفد سعودی عرب دورے پر آیا۔وہ وہاں ایک ہفتہ ٹھیرا۔ اس دوران وفد کے ارکان نے سعودی عرب میں امن و امان کی صورتِ حال کا بغور جائزہ لیا۔ انھوں نے اس چیز کو شدت سے محسوس کیا کہ سعودی عرب میں چوری کرنے والے کے ہاتھ سزا کے طور پر کاٹ دیے جاتے ہیں۔ انھیں لگا یہ سزا سراسر زیادتی اور انسانی حقوق کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ وفد کو یہ بھی معلوم ہو اکہ دورے جرائم میں مجرموں کو سرِ عام کوڑوں کی سزا دی جاتی ہے۔ امریکا میں توا یسی سزاوں کا تصور بھی نہیں تھا۔
وفد کی ملاقات شاہ فیصل سے بھی طے تھی۔ ملاقات کے دوران ایک صحافی نے شاہ فیصل سے ان سزاوں کا ذکر کیا کہ اتنی سخت سزائیں آپ نے کیوں نافذ کر رکھی ہیں۔یہ تو سراسر اانسانی حقوق کے خلاف ہے۔
صحافی کے اس چبھتے سوال سے شاہ فیصل کے چہرے پر کوئی شگن دیکھنے میں نہ آئی ، بلکہ انھوں نے اس صحافی کی بات کو تحمل سے سنا۔جب وہ صحافی اپنی بات مکمل کر چکا تو شاہ فیصل چند سیکنڈ خاموش رہے۔ صحافی یہ سمجھا کہ اس نے شاہ فیصل کو لا جواب کر دیا ہے۔ کچھ دیر رُک کر شاہ فیصل بولے، ” کیا آپ لوگ اپنی بیگمات کو بھی ساتھ لے کر آئے ہوئے ہیں؟“ کچھ صحافیوں نے ہاں میں سر ہلائے۔
اس کے بعد شاہ فیصل نے کہا” ابھی آپ کا دورہ ختم ہونے میں چند دن باقی ہیں۔ آپ اپنی بیگمات کے ساتھ شہر کی سونے کی مارکیٹ میں چلے جائیں اور اپنی خواتین سے کہیں کہ وہ اپنی پسند سے سونے کے زیورات کی خریداری کریں۔ ان سب زیورات کی قیمت میں اپنی جیب سے اداکروں گا۔ اس کے بعد وہ زیورات پہن کر آپ سعودی عرب کے بازاروں اور گلیوں میں آزادانہ گھومیں پھریں۔ ان زیورات کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی دیکھ نہیں پائے گا۔ دو دن کے بعد آپ کی امریکہ واپسی ہوگی۔ کیا وہ زیورات پہنے ہوئے آپ اور آپ کی خواتین بلاخوف وخطر اپنے اپنے گھروں کو پہنچ جائیں گے؟“
جب شاہ فیصل نے صحافیوں سے یہ پوچھا تو سارے صحافی ایک دوسرے کا ہونقوں کی طرح منھ تکنے لگے۔
شاہ فیصل نے دوبارہ پوچھا تو چند صحافیوں نے کہا” بلا خوف وخطر ائیرپورٹ سے نکل کر گھر پہنچنا تو درکنار ہم ائیرپورٹ سے باہر قدم بھی نہیں رکھ سکتے۔“
شاہ فیصل نے جواب دیا۔” سعودی عرب میں اتنی سخت سزاوں کا نفاذ ہی آپ کی پریشانی کا جواب ہے۔ آپ نے اپنے سوال کا جواب خود ہی دے دیا۔
 ·  Translate
12 comments on original post
1
Add a comment...

Muhammad Naveed Arif

Shared publicly  - 
 
 
قواعد قرآنية / 21
►◄(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِين) ، التوبة : 119.

►◄ قاعدة من القواعد المُحكمة في أبواب التعامل مع الخالق سبحانه وتعالى ، وأيضا في التعامل مع خلقه ، هي قاعدة تُمثل سفينةً من سفن النجاة ، وركناً من أركان الحياة الاجتماعية ، وهي لمن اهتدى بهديها علامة خير ، وبرهان على سمو الهمة ، ودليل على كمال العقل ، تلكم هي القاعدة القرآنية التي دل عليها قول الله تعالى :
{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِين} ،
التوبة : 119.

هذه القاعدة المُحكمة جاءت تعقيباً على قصة جهاد طويل ، وبلاء كبير في خدمة الدين ، والذب عن حِياضه ، قام به النبيُّ صلى الله عليه وسلم وأصحابُه رضي الله عنهم ،

وذلك في خاتمة سورة التوبة التي هي من آخر ما نزل عليه صلى الله عليه وسلم قال تعالى :
{لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ فِي سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْ بَعْدِ مَا كَادَ يَزِيغُ قُلُوبُ فَرِيقٍ مِنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ إِنَّهُ بِهِمْ رَءُوفٌ رَحِيمٌ (117) وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا حَتَّى إِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ أَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَنْ لَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوبُوا إِنَّ اللَّهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (118) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ } ، التوبة : 117، 119.

والمعنى باختصار :
أيها المؤمنون انظروا فهؤلاء الذين تاب الله عليهم ؛ و هم النبي صلى الله عليه وسلم ومن معه ، ثم الثلاثة الذين خُلفوا هم أئمة الصادقين ، فاقتدوا بهم .
 ·  Translate
2 comments on original post
1
Add a comment...
People
In his circles
141 people
Have him in circles
201 people
Engr HuSSain Tahir's profile photo
Altair Altair's profile photo
‫متجر رزان للعبايات‬‎'s profile photo
Motaher Chowdhury's profile photo
Allah Quotes's profile photo
Anjali Sharma's profile photo
Jawara Jawa's profile photo
Muslim Press's profile photo
Wish youget (Wishyouget.com)'s profile photo
Collections Muhammad Naveed is following
Places
Map of the places this user has livedMap of the places this user has livedMap of the places this user has lived
Currently
Quetta
Previously
Lahore
Work
Occupation
Government officer
Employment
  • Government of Pakistan
    Pakistan
Education
  • Masters in IR
Basic Information
Gender
Male
Relationship
Married
Apps with Google+ Sign-in
  • Sniper 3D Assassin - Free Game
  • Sniper Fury
  • Need for Speed No Limits