Profile cover photo
Profile photo
Tabish Siddiqui
474 followers
474 followers
About
Posts

Post has attachment
نظم: مجھے انجان رہنے دو
مجھے انجان رہنے دو ٭ مجھے خاموش رہنے دو ذرا کچھ دن  مجھے مدہوش رہنے دو ابھی تو کچھ نہیں بگڑا ابھی تو میرے گھر آنگن کا ہر موسم سہانا ہے ابھی احساس دنیا کی حسیں بانہوں میں سوتا ہے مجھے کچھ دیر رہنے دو  سحر انگیز خوابوں میں مجھے منزل نظر آتی ہے  صحرا کے سرابوں...
Add a comment...

Post has attachment
مختصر نظم: خواب
مختصر نظم: خواب ٭ زندگی کے کینوس پر خواہشوں کے رنگوں سے خواب کچھ بکھیرے تھے وقت کے اریزر نے تلخیوں کی پت جھڑ میں سب کو ہی مٹا ڈالا ٭٭٭ محمد تابش صدیقی
Add a comment...

Post has attachment
نظم: ایک مجبور مسلمان کی مناجات
ایک مجبور مسلمان کی مناجات ٭ یا الٰہی! ترے خام بندے ہیں ہم نفس ہی میں مگن اپنے رہتے ہیں ہم تیری مخلوق محکوم بنتی رہے ظلم جابر کا دنیا  میں سہتی رہے پڑھ کے احوال مغموم ہو جاتے ہیں پھر سے ہنسنے ہنسانے میں کھو جاتے ہیں ظلم کو روکنے ہاتھ اٹھتے ہیں کب؟ بس دعا کے...
Add a comment...

Post has attachment
غزل: خالق سے رشتہ توڑ چلے
خالق سے رشتہ توڑ چلے ہم اپنی قسمت پھوڑ چلے طوفان کے آنے سے پہلے ہم اپنے گھروندے توڑ چلے کچھ تعبیروں کے خوف سے ہی ہم خواب ادھورے چھوڑ چلے اب کس کی معیت حاصل ہو جب سایہ ہی منہ موڑ چلے شاید کہ تمہیں یاد آئیں پھر ہم شہر تمہارا چھوڑ چلے غفلت کی نیند میں ہے تابشؔ...
Add a comment...

Post has attachment
غزل: وہی صبح ہے، وہی شام ہے
وہی صبح ہے، وہی شام ہے وہی گردشوں کو دوام ہے نہ چھپا سکا میں غمِ دروں کہ مرا ہنر ابھی خام ہے شبِ انتظار ہے عارضی یہی صبحِ نو کا پیام ہے دمِ وصل، وقفِ جنوں نہ ہو یہ بڑے ادب کا مقام ہے رہِ عشق ہے یہ سنبھل کے چل بڑے حوصلے کا یہ کام ہے وہی بے کنار سا دشت ہے یہی...
Add a comment...

Post has attachment
غزل: وفا کا اعلیٰ نصاب رستے
وفا کا اعلیٰ نصاب رستے صعوبتوں کی کتاب رستے ہیں سہل الفت کے رہرووں کو ہوں چاہے جتنے خراب رستے جو عذر ڈھونڈو، تو خار ہر سو ارادہ ہو تو، گلاب رستے چمک سے دھندلا گئی ہے منزل بنے ہوئے ہیں سراب رستے رہِ عزیمت کے راہیوں کو گناہ مسکن، ثواب رستے کمی ہے تیرے جنوں می...
Add a comment...

Post has attachment
غزل: جو ہونا ہم فقیروں سے مخاطب
جو ہونا ہم فقیروں سے مخاطب تو رہنا با ادب، حسبِ مراتب انہیں کا ہے مقدر کامیابی اٹھائیں راہِ حق میں جو مصائب قدم رکھا ہے جب خود ہی قفس میں تو پھر آہ و فغاں ہے نامناسب امیرِ وقت سے اُمّید کم ہے بنے ہیں راہزن اس کے مصاحب کبھی ملتا تھا علم و فن جہاں سے ہیں مرکز...
Add a comment...

Post has attachment
غزل: زعم رہتا تھا پارسائی کا
زعم رہتا تھا پارسائی کا ہو گیا شوق خود نمائی کا چھین لیتا ہے تابِ گویائی ڈر زمانے میں جگ ہنسائی کا ناؤ طوفاں سے جب گزر نہ سکے ہیچ دعویٰ ہے ناخدائی کا خوش نہ ہو، اے ستم گرو! کہ حساب وقت لیتا ہے پائی پائی کا بادشاہی کا وہ کہاں رتبہ ہے جو اس در پہ جبہ سائی کا ...
Add a comment...

Post has attachment
غزل: بات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئے ٭ محمد تابش صدیقی
بات جو کہنی نہیں تھی کہہ گئے اشک جو بہنے نہیں تھے بہہ گئے راہِ حق ہر گام ہے دشوار تر کامراں ہیں وہ جو ہنس کر سہہ گئے زندگی میں زندگی باقی نہیں جستجو اور شوق پیچھے رہ گئے سعیِ پیہم جس نے کی، وہ سرخرو ہم فقط باتیں ہی کرتے رہ گئے اے خدا! دل کی زمیں زرخیز کر اب...
Add a comment...

Post has attachment
غزل: اِلٰہی عَفو و عطا کا تِرے اَحَق ہوں میں ٭ محمد تابش صدیقی
اِلٰہی عَفو و عطا کا تِرے اَحَق ہوں میں خطاؤں پر ہوں میں نادم، عَرَق عَرَق ہوں میں کسی نے فیض اٹھایا ہے زندگی سے مری کتابِ زیست کا موڑا ہوا وَرَق ہوں میں یہ تار تار سا دامن، یہ آبلہ پائی بتا رہے ہیں کہ راہی بہ راہِ حق ہوں میں زبانِ حال سے یہ کہہ رہا ہے مجھ ...
Add a comment...
Wait while more posts are being loaded