Profile

Cover photo
Adeel Ahmed
Works at Faran Sugar Mills Limited
Attends Government College of Technology, Hyderabad
Lived in Hyderabad, Pakistan
66 followers|15,900 views
AboutPostsPhotosVideos

Stream

Adeel Ahmed

Shared publicly  - 
 
▀••▄•• ہم وہ کریں گے جو ہمارا دل چاہے گا؟ ••▄••▀

ہم مغرب سے آنے والی ہر چیز کے مخالف نہیں۔ مگر کسی دوسری قوم کے وہ تہوار جن کا تعلق کسی تہذیبی روایت سے ہو ، انہیں قبول کرتے وقت بڑا محتاط رہنا چاہیے۔ یہ تہوار اس لئے منائے جاتے ہیں تاکہ کچھ عقائد و تصورات انسانی معاشروں کے اندر پیوست ہو جائیں۔

مسلمان ، عیدالاضحیٰ کے تہوار پر حضرت ابراھیم علیہ السلام کی خدا سے آخری درجہ کی وفاداری کی یاد مناتے ہیں۔ آج ہم ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں تو گویا ہم اس نقطہء نظر کو تسلیم کر رہے ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔
مرد و عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں !
اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے "عصمت" مطلوب نہیں !
اپنے نوجوانوں سے پاکدامنی کا مطالبہ ہم نہیں کریں گے !

عیدالاضحیٰ کے موقع پر کوئی ہندو ، گائے کو ذبح کر کے مسلمانوں کے ساتھ شامل ہونے کا تصور نہیں کر سکتا۔ لیکن ہندوؤں کی موجودہ نسل گائے کے تقدس سے بےنیاز ہو کر عید کی خوشیوں میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہو جائے تو عین ممکن ہے کہ ان کی اگلی نسلیں صبح سویرے مسلمانوں کے ساتھ گائیں ذبح کرنے لگیں۔
ٹھیک اسی طرح آج ہم "ویلنٹائن ڈے" پر خوشیاں منا رہے ہیں اور ہماری اگلی نسلیں حیا و عصمت کے ہر تصور کو ذبح کر کے "ویلنٹائن ڈے" منائیں گی !!

اسے دور کی کوڑی مت خیال کیجئے۔
ہماری موجودہ نسلیں صبح و شام اپنے گھروں میں مغربی فلمیں دیکھتی ہیں۔ عریاں و فحش مناظر ان فلموں کی جان ہوتے ہیں۔ ان میں ہیرو اور ہیروئین شادی کے بندھن میں جڑے بغیر ان تمام مراحل سے گزر جاتے ہیں جن کا بیان میاں بیوی کے حوالے سے بھی ہمارے ہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔
ایسی فلمیں دیکھ دیکھ کر جو نسلیں جوان ہوں گی وہ "ویلنٹائن ڈے" کو ایسے نہیں منائیں گی جیسا کہ آج اسے منایا جا رہا ہے۔
جب وہ نسلیں اس دن کو منائیں گی تو خاندان کا ادارہ درہم برہم ہو جائے گا۔ اپنے باپ کا نام نہ جاننے والے بچوں سے معاشرہ بھر جائے گا۔ مائیں "حیا" کا درس دینے کے بجائے اپنی بچیوں کو مانع حمل طریقوں کی تربیت دیا کریں گی۔ سنگل پیرنٹ (Single Parent) کی نامانوس اصطلاح کی مصداق خواتین ہر دوسرے گھر میں نظر آئیں گی۔

آج سے 1400 برس قبل مدینہ کے تاجدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو معاشرہ قائم کیا تھا اسکی بنیاد "حیا" پر رکھی گئی تھی۔ جس میں زنا کرنا ہی نہیں ، اسکے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم تھا۔ اس معاشرے میں زنا ایک ایسی گالی تھا جو اگر کسی پاکدامن پر لگا دی جائے تو اسے کوڑے مارے جاتے تھے۔ جس میں عفت کے بغیر مرد و عورت کا معاشرہ میں جینا ممکن نہ تھا۔ اس معاشرہ کے بانی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ کر دیا تھا کہ :
" جب تم حیا نہ کرو تو جو تمھارا جی چاہے کرو " !!

تاجدارِ مدینہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے امتیوں نے کبھی حیا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔
مگر اب لگتا ہے کہ امتی ، حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیر تک اٹھانے کے لئے تیار نہیں۔
اب وہ "حیا" نہیں کریں گے بلکہ جو ان کا دل چاہے گا وہی کریں گے !!

"ویلنٹائن ڈے" ۔۔۔۔ کسی دوسرے تہوار کا نام نہیں ۔۔۔۔ بلکہ ۔۔۔
مسلمانوں کے لئے یہ وہ تہوار ہے جب امتی اپنے آقا کو بتاتے ہیں کہ ہم وہ کریں گے جو ہمارا دل چاہے گا !!
امتِ مسلمة کیا حیا نہیں کرے گی ۔۔۔۔ ؟

ریحان احمد یوسفی کے مضمون سے اقتباس
 ·  Translate
1
Add a comment...

Adeel Ahmed

Shared publicly  - 
 
ایک دفعہ ہماری بس جنگل میں جا رہی تھی، ہم نے دیکھا کہ ایک ببر شیر ایک ہرن کا شکار کر کے بالکل سڑک کے کنارے اسے تناول کر رہا ہے، شیر کے ساتھ شیرنی اور اس کے دو بچے بھی تھے، شکار اتنا تازہ تھا کہ ہرن ابھی تڑپ ہی رہا تھا اور شیرنی، ہرن کا سینہ چاک کر کے اس کی کلیجی نکال کر اپنے بچوں کو کھلا رہی تھی، ڈرائیور نے خاموشی کا اشارہ کر کے بس کھڑی کر دی تا کہ ہم سب لوگ یہ تماشہ اچھی طرح دیکھ سکیں۔

ہم نے دیکھا، چند قدم کے فاصلے پر ہرنوں کا ایک گلہ اطمینان سے گھاس چر رہا تھا، میں یہ دیکھ کر بڑا حیران ہوا، میں نے ڈرائیور سے کہا ’’یہ ہرن ببر شیر کو دیکھ کر بھاگتے کیوں نہیں؟‘‘ تو ڈرائیور بولا ’’آپ کو جنگل کا قانون معلوم نہیں، ایک ہرن کا شکار شیر اور اس کے خاندان کے لیے دو تین دن کے کھانے کا بندوبست ہو گیا، اب شیر کسی ہرن کا شکار نہیں کرے گا۔ ہرنوں کو بھی یہ بات معلوم ہے۔ اسی لیے وہ بڑے اطمینان سے شیر کے قریب ہی گھاس چر رہے ہیں۔ میں نے سوچا کہ ہم سے بہتر تو یہ جانور ہیں، ہم انسانوں کا تو پیٹ بھرتا ہی نہیں۔

 ·  Translate
1
Add a comment...

Adeel Ahmed

Shared publicly  - 
 
AWAM EK BAR PHR BAN GAI ............!!!!!!!!!!!!!!!
1
Add a comment...

Adeel Ahmed

Shared publicly  - 
1
Add a comment...

Adeel Ahmed

Shared publicly  - 
 

اردو نیوز جدہ کے کالم نگار جناب جاوید اقبال اپنے کالم بعنوان "لانگ مارچ" مورخہ ١٢ جنوری جمعہ ایڈیشن کے آخری پیرے میں رقم طراز ہیں

"میرے ایک عزیز دوست کا بیٹا کینیڈا میں زیر تعلیم تھا۔تعلیمی اخراجات کے لیئے اس کے والد نے مطلوبہ رقم اس کے اکاوئنٹ میں منتقل کی اور اپنے بیٹے کو اطلاع کی۔اگلے دن لڑکا بینک میں رقم کی منتقلی کا پتہ کرنے گیا۔

کاوئنٹر پر بیٹھی خاتون نے رقم کی منتقلی کا اثبات میں جواب دیا اور ساتھ ہی اس رائے کا اظہار کیا کہ وہ یہ رقم بینک میں ایک نیا سیونگ اکاوئنٹ کھلوا کر اس میں منتقل کردے،تا کہ اس رقم پر ہر مہینے اس کو سود کی شرح کے حساب سے مناسب منافع ملتا رہے۔

یہ سب سننے کے بعد لڑکے نے نفی میں جواب دیا اور ساتھ ہی اس کی وجہ بیان کی کہ میں مسلمان ہوں اور اسلام میں سود حرام ہے۔یہ سب سننے کے بعد اس خاتون نے اس سے پوچھا کہ یہ سود سب مسلمانوں کے لیئے حرام ہے؟،کیونکہ ایک بہت بڑے عالم دین جن کا تعلق پاکستان سے ہے اور ان کا اس بینک میں ایک بہت بڑی رقم کے ساتھ کینیڈن کرنسی میں اکاوئنٹ ہے اور کینیڈا میں ایک بہت بڑا مینشن ہے اور ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ منافع کی شکل میں سود کی بڑی رقم ان کے اکاوئنٹ میں منتقل کی جاتی ہے۔

اس پر لڑکا خاموش رہا
 ·  Translate
1
Add a comment...

Adeel Ahmed

Shared publicly  - 
 

ایک آدمی اپنی بیوی سے لڑتا ہے وہ ناراض ہو جاتی ہے اپنا غصہ چھپا لیتی ہے

اپنے کپڑے بیگ میں ڈالنا شروع کر دیتی ہے

اور اپنے ماں باپ کے گھر جانے کی تیاری شروع کردیتی ہے

شوہر کو اِس بات کا احساس ہو جاتا ہے

وہ مسکراتے ہوئے اُس سے پیار بھری باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے

پھر پوچھتا ہے

تم کیا کررہی ہو

وہ کہتی ہے

موسم گرما کے کپڑے اندر رکھ رہی ہوں

اور سردی میں پہننے والے کپڑے نکال رہی ہوں

یہ نرم دل ہوتی ہیں

ایک چھوٹے سے پیار بھرے جملے سے خوش ہو جاتی ہیں

اور ایک ہلکی سی مسکراہٹ ان کے لیے کافی ہے
 ·  Translate
1
Add a comment...
Have him in circles
66 people
Ali Nawaz's profile photo
Rao Shakeel Haider's profile photo
All Daily Newspaper's profile photo
Fahad Shehzad's profile photo
Curt Maly's profile photo
Naeem Muhammad's profile photo
Moazzam Ali's profile photo
Abdur Razzaq's profile photo
yasir Shakeeb's profile photo

Adeel Ahmed

Shared publicly  - 
 
کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔۔۔

کسی شہر میں ایک انتہائی شاطر اور چلاک شخص رہا کرتا تھا، ایک دن وہ سیر کرتے کرتے شہر سے باہر نکلا تو کئی کلو میٹر دور جانے کے بعد ایک بہت بڑے پہاڑ کے دامن میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ چند لوگ سروے کررہے ہیں،

وہ ان کے پاس چلا گیا اور انکی باتیں سننے لگا،،،ان کی باتوں سے اس نے اندازہ لگایا کہ یہ لوگ پہاڑ خرید کر یہاں کوئی بہت بڑی ہائوسنگ سکیم بنانا چاہتے ہیں مگر اس پہاڑ کو توڑنے اور ایک تو بہت زیادہ وقت لگے گا نیز بھاری مشینری اور دیگر اخراجات کی وجہ سے یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے،

ان صاحب نے اس پارٹی سے پہاڑ کھودنے کا تخمینہ پوچھا اور اس سے نصف رقم میں اس کمپنی کے ساتھ پہاڑ کھودنے کا ایگریمنٹ کرلیا۔

ایگریمنٹ کرنے کے بعد اپنے شہر واپس گیا اور لوگوں کو بتایا کہ ہمارے شہر سے 100 کلو میٹر دور واقع پہاڑ کے اندر سونے کے بڑے ذخائر موجود ہیں اور میں نے خود وہاں ایک کمپبی کے لوگوں کو سروے کرتے دیکھا ہے،،،

اس نے اپنے شہر کے چند لوگوں کو ساتھ لیا اور سروے کرتے ہوئے لوگ بھی دکھائے، جس کے بعد شہر کے لوگوں میں جوش و خروش پیدا ہوا اور سب لوگ ایک کارواں بنا کر لانگ مارچ کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں میں ہتھوڑے، پھائوڑے اور دیگر آلات کھدائی اٹھا کر اس پہاڑ کے پاس پہنچ گئے اور اسے کھودنا شروع کردیا،

تو جناب 4 دن کے اندر اندر اس پہاڑ کو کھود کر زمین کے برابر کردیا گیا لیکن اس میں سے سوائے ایک مردہ چوہے کے کچھ بھی نہیں نکلا،،

تب سے یہ واقعہ محاورہ بن کر اردو ادب میں ایک اعلیٰ و ارفع مقام حاصل کرچکا ہے
 ·  Translate
1
Add a comment...

Adeel Ahmed

Shared publicly  - 
1
Add a comment...

Adeel Ahmed

Shared publicly  - 
 

ایک بہت ہی عجیب واقعہ حافظ ابن عساکر نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ ایک صاحب فرماتے ہیں کہ میں ایک خچر پر لوگوں کو دمشق سے زیدانی لے جایا کرتا تھا اور اسی کرایہ پر میری گذر بسر تھی ۔ ایک مرتبہ ایک شخص نے خچر مجھ سے کرایہ پر لیا۔ میں نے اسے سوار کیا اور چلا ایک جگہ جہاں دو راستے تھے جب وہاں پہنچے تو اس نے کہا اس راہ پر چلو ۔ میں نے کہا میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ سیدھی راہ یہی ہے۔

اس نے کہا نہیں میں پوری طرح واقف ہوں، یہ بہت نزدیک راستہ ہے۔ میں اس کے کہنے پر اسی راہ پر چلا تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ ایک لق ودق بیابان میں ہم پہنچ گئے ہیں جہاں کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ نہایت خطرناک جنگل ہے ہر طرف لاشیں پڑی ہوئی ہیں۔ میں سہم گیا۔ وہ مجھ سے کہنے لگا ذرا لگام تھام لو مجھے یہاں اترنا ہے میں نے لگام تھام لی وہ اترا اور اپنا تہبند اونچا کرکے کپڑے ٹھیک کرکے چھری نکال کر مجھ پر حملہ کیا۔ میں وہاں سے سرپٹ بھاگا لیکن اس نے میرا تعاقب کیا اور مجھے پکڑلیا میں اسے قسمیں دینے لگا لیکن اس نے خیال بھی نہ کیا۔

میں نے کہا اچھا یہ خچر اور کل سامان جو میرے پاس ہے تو لے لے اور مجھے چھوڑ دے اس نے کہا یہ تو میرا ہو ہی چکا لیکن میں تجھے زندہ نہیں چھوڑنا چاہتا میں نے اسے اللہ کا خوف دلایا آخرت کے عذابوں کا ذکر کیا لیکن اس چیز نے بھی اس پر کوئی اثر نہ کیا اور وہ میرے قتل پر تلا رہا۔ اب میں مایوس ہوگیا اور مرنے کے لئے تیار ہوگیا۔ اور اس سے منت سماجت کی کہ تم مجھے دو رکعت نماز ادا کرلینے دو۔ اس نے کہا اچھا جلدی پڑھ لے ۔ میں نے نماز شروع کی لیکن اللہ کی قسم میری زبان سے قرآن کا ایک حرف نہیں نکلتا تھا ۔ میں یونہی ہاتھ باندھے دہشت زدہ کھڑا تھا اور وہ جلدی مچا رہا تھا اسی وقت اتفاق سے یہ آیت میری زبان پر آگئی ۔

(امن یجیب المضطر اذا دعاه و یکشف السوء) النمل:62
یعنی اللہ ہی ہے جو بےقرار کی بےقراری کے وقت کی دعا کو سنتا اور قبول کرتا ہے اور بےبسی بےکسی کو سختی اور مصیبت کو دور کردیتا ہے

پس اس آیت کا زبان سے جاری ہونا تھا جو میں نے دیکھا کہ بیچوں بیچ جنگل میں سے ایک گھڑ سوار تیزی سے اپنا گھوڑا بھگائے نیزہ تانے ہماری طرف چلا آرہا ہے اور بغیر کچھ کہے اس ڈاکو کے پیٹ میں اس نے اپنا نیزہ گھونپ دیا جو اس کے جگر کے آر پار ہوگیا اور وہ اسی وقت بےجان ہو کر گر پڑا۔ سوار نے باگ موڑی اور جانا چاہا لیکن میں اس کے قدموں سے لپٹ گیا اور بہ الحاح کہنے لگا اللہ کے لئے یہ بتاؤ تم کون ہو؟ اس نے کہا میں اس کا بھیجا ہوا ہوں جو مجبوروں بےکسوں اور بےبسوں کی دعا قبول فرماتا ہے اور مصیبت اور آفت کو ٹال دیتا ہے۔ میں نے اللہ کا شکر کیا اور اپنا سامان اور خچر لے کر صحیح سالم واپس لوٹا۔
-------------------------------------------------
سختیوں اور مصیبتوں کے وقت پکارے جانے کے قابل اسی کی ذات ہے۔ بےکس بےبس لوگوں کا سہارا وہی ہے گرے پڑے بھولے بھٹکے مصیبت زدہ اسی کو پکارتے ہیں۔ اسی کی طرف لو لگاتے ہیں جیسے فرمایا کہ تمہیں جب سمندر کے طوفان زندگی سے مایوس کردیتے ہیں تو تم اسی کو پکارتے ہو اسکی طرف گریہ وزاری کرتے ہو اور سب کو بھول جاتے ہو۔ اسی کی ذات ایسی ہے کہ ہر ایک بےقرار وہاں پناہ لے سکتا ہے مصیبت زدہ لوگوں کی مصیبت اس کے سوا کوئی بھی دور نہیں کرسکتا۔

ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ حضور! آپ کس چیز کی طرف ہمیں بلا رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا اللہ کی طرف جو اکیلا ہے جس کا کوئی شریک نہیں جو اس وقت تیرے کام آتا ہے جب تو کسی بھنور میں پھنسا ہوا ہو۔ وہی ہے کہ جب تو جنگلوں میں راہ بھول کر اسے پکارے تو وہ تیری رہنمائی کردے تیرا کوئی کھو گیا ہو اور تو اس سے التجا کرے تو وہ اسے تجھ کو ملادے۔ قحط سالی ہوگئی ہو اور تو اس سے دعائیں کرے تو وہ موسلا دھار مینہ تجھ پر برسادے ۔

تفسیر ابن کثیر( سورة النمل، آیت نمبر ٦٢
 ·  Translate
1
Add a comment...

Adeel Ahmed

Shared publicly  - 
 
عقیدہِ ختمِ نبوت اور چند عباراتِ مرزا قادیانی

عقیدئہ ختم نبو ت دینِ اسلام کی بنیا د ہے ۔ دور ِ صحابہ سے آ ج تک پو ری اُمت کا اس پر ایمان ہے کہ پیغمبر آ خر الز ماں حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آ خری نبی اور رسول ہیں ۔ ختم نبوت کا تا ج آپ کے سر اقدس پر سجا یا گیا ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد رگرامی ہے
’’ ولکن رسول اللہ وخا تم النبین ‘‘ تر جمہ ! وہ اللہ کے رسول اور خا تم النبین ہیں

حضرت محمد ﷺ کے آ خری نبی اور رسو ل ہو نے پر قرآ ن مجید کی یہ ایک آ یت ہی بطور دلیل کا فی ہے ۔ جس میں آپ ﷺ کی ختم نبو ت کا اعلا ن فر ما دیا گیالہذا حضرت محمد ﷺ کی دنیا میں تشر یف آ واری کے بعد ہر قسم کی نبو تو ں اور رسالتوں کے دروازے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہو گئے ۔ حضور اکرم ﷺ کے آخری نبی ہو نے کی تا ئید و تصد یق خو د حضور اکرم ﷺ کے ارشا دات سے بھی ہو جا تی ہے ۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشا د فر ما یا ۔ ’’انا خا تم النبین لا نبی بعد ی ‘‘ ترجمہ : میں آخری نبی ہوں میرے بعد کو ئی نبی نہیں۔ حضور اکرم ﷺ کے اس ارشا د نے سا رے جھو ٹے نبیوں کے دعوئو ں کو پیو ند خاک کر دیا ۔ حضور اکر م ﷺ نے ایک اور موقع پر ارشا د فر مایا ’’ وانا آخر الا نبیاء و انتم آخر الا مم ‘‘ تر جمہ: میں آخری نبی ہو ں اور تم آخری اُ مت ہو ۔( ابن ما جہ شریف

حضور اکرم ﷺ کے اس ارشاد سے یہ واضح ہو ا کہ پیغمبر اسلا م حضرت محمد ﷺ کے بعد جو کوئی بھی دعویٰ نبوت کر ے گا وہ کائنا ت کا سب سے بڑا جھو ٹا اور کذاب ہے ۔ عقیدہ ختم نبوت سے متعلق چنداحا دیث اور سنئیے اور اپنے ایما نوں کو مضبوط کیجئے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشا د فر مایا ۔ رسالت اور نبو ت منقطع ہو چکی پس میر ے بعد نہ کوئی رسو ل ہو گا ۔ اورنہ کو ئی نبی( تر مذی شریف ) تر مذی شریف کی اس حد یث مبا رکہ میں پیغمبر آخرالزماں حضرت محمد ﷺ نے لفظ نبی اور رسول کو الگ الگ ذکر فر ما یا ہے کہ آپ کی دنیا میں تشر یف آ واری کے بعد ہر قسم کی نبو ت ( ظلی ، بر و زی ) اور رسالت کا دروازہ بند ہو چکا ہے ۔لہذا اب قیا مت تک ہر سمت پر چم مصطفوی ہی لہرا تا رہے گا۔
مسلم شریف میں ہے کہ قیامت کے دن جب لو گ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے شفا عت کے لئے عرض کر یں گے تو وہ کہیں گے کہ محمد کے پا س جائو لو گ میرے پا س آئیں گے او رکہیں گے یا محمد انت رسو ل اللہ و خا تم الا نبیا ء ۔۔۔۔الخ
تر جمہ : اے محمد ﷺ آپ اللہ کے رسو ل اورآ خری نبی ہیں ( مسلم شریف ص۱۱۱)
حضور اکرم ﷺ کے اس ارشاد سے یہ حقیقت واضح ہو ر ہی ہے کہ قیامت کے دن لو گ حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی اور نبی کے پاس نہیں جائیں گے ۔ کیو نکہ آپ کے بعد اگر کوئی اور نبی یا رسول مبعوث ہو تا تو وہ بعد میں اس کے پاس جاتے ۔ معلو م یہ ہو ا کہ پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں حضور اکرم ﷺ نے ایک اور مو قع پر ارشا د فر مایا ۔ انی عبداللہ و خاتم النبین ۔ تر جمہ: میں اللہ کا بندہ اور خاتماالنبین ( آ خری نبی ) ہوں ( بہیقی شریف )
بخاری شریف میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشا د فرمایا ! اے لو گو ! نبو ت کا کوئی جز با قی نہیں سوائے اچھے خو ابوں کے ( بخا ری شریف )

اس حد یث مبار کہ میں بھی جھو ٹی نبوتوں کے سا رے درواز ے بند کر دیے گئے اور حضرت محمد ﷺ نے دو ٹو ک اور واضح الفاظ میں یہ اعلا ن فر ما دیا کہ سلسلہ نبو ت ختم ہو چکا اور سلسلہ وحی بھی منقطع ہو چکا ۔ البتہ اجزائے نبوت میں سے ایک جز و مبشر ات با قی ہے یعنی ایسے سچے خواب جو مسلمان دیکھتے ہیں ۔ بخا ر ی شر یف میں ہے کہ سچا خواب نبو ت کا چھیا لیسواں حصّہ ہے ( بخاری شریف)
ان مختصر سے دلا ئل سے یہ واضح ہو گیا کہ عقیدئہ ختم نبو ت اسلام کے بنیادی عقیدوں میں سے ایک ہے ۔ جس پر پو ری ملت اسلا میہ کا اتفاق ہے۔ دو ر صحابہ سے اب تک تمام آئمہ دین ، محد ثین ، مجتہد ین اور بزرگانِ دین کا یہ فتویٰ اور فیصلہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے بعد اگر کوئی دعویٰ نبو ت کرے اور کوئی اسے نبی یا رسول ما نے ایساشخص کا فر ، مر تد اور دائر ہ اسلام سے خار ج ہے۔
مسلمانو! اگر ہم ہند و ستان کی تاریخ پر ا یک سر سری سی نظر ڈالیں تو یہ معلوم ہو گا کہ مغلیہ سلطنت کے خاتمہ اور ہندوستان کی دھر تی پر انگریز قابض ہو نے کے بعد ہندوستان کے مسلمانوں کا جو حال ہو ا وہ تا ریخ میں ڈھکا چھپا نہیں ۔انگر یز وں نے حکو مت مسلمانوں سے چھینی تھی۔ انہیں ہر وقت یہ فکر تھی کہ کہیں مسلمان متحد ہو کر انہیں ہند وستان کی حکمر انی سے محر و م نہ کر دیں ۔ چنا نچہ ۱۸۵۷ ؁ء کی جنگ آ زادی کے بعد انگر یزحکو مت کو میرجعفر اور میرصادق جیسے ضمیر فروش اور دین فر و ش مو لو یوں کی ضرورت تھی جنہیں بڑ ی بڑی جا گیر یں اور جائید ادیں دے کر خر یدا جا سکے۔ جو حکومت بر طانیہ کے وفادار اور انگر یز سر کا ر کے ایجنٹ ہوں ۔ چنا نچہ انگر یز حکو مت نے ۱۸۵۷؁ء کے بعد اُمت مسلمہ کے دلو ں سے عقیدئہ ختم نبو ت اور جذ بہ جہا د کو ختم کر دینے کے لئے بھار ت کے صو بہ مشر قی پنجا ب کے ضلع گو رد اسپور کی تحیصل بٹالہ کے ایک گائوں قا دیا ن کے رہنے والے ایک شخص کو منتخب کر لیا ۔ اس شخص کا نام مرزاغلام احمد تھا ۔اس کی انگریز حکو مت سے وفاداری کس درجے تھی اس کا اندازہ اس کی تحریر کردہ کتا بوں سے لگا یا جا سکتاہے ۔
وہ اپنی کتاب میں لکھتا ہے ۔
ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو تقر یباً سا ٹھ بر س کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبا ن اور قلم سے اہم کام میں مشغول ہوںتاکہ مسلمانوں کے دلو ںکو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خو اہی اور ہمد رد ی کی طرف پھیر دوں ان کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد، وغیرہ کودورکروں ( تبلیغ رسالت جلد ۷ صفحہ ۱۰ ، مرزا غلام احمد قادیا نی)
مرزا قا دیانی ایک اور جگہ لکھتا ہے:۔ ’’میں نے مما نعت جہا د اور انگر یزی اطا عت کے با رے میں اس قدر کتابیں لکھی ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکٹھی کی جائیں تو پچاس الما ریا ں اس سے بھر جائیں۔( تر یا ق القلو ب صفحہ ۲۵)
مرز ا قا دیانی کی انگر یز حکو مت سے وفاداری اور مسلمانوں کے دلو ں سے جذ بہ جہا د کو ختم کر دینے کا اندا زہ مذکو رہ دو عبا رات سے بخو بی لگا یا جاسکتا ہے ۔ اور سنیئے’’ وہ لکھتا ہے کہ’’ میری عمر کا اکثر حصہ سلطنت انگر یز کی تائید و حما یت میں گزرا ‘‘
مسلمانو ! انگریزوں کے اس آ لہ کا ر اور وفا دارمر زا غلا م احمد قا دیا نی نے دعویٰ کیا کہ’’ اللہ نے اسے اس زما نے کی اصلا ح کے لئے ما مو ر کیا ہے اور وہ مہدی آ خر الز ماں اور مسیح موعود ہے ۔ اس اعلان کے چند سال کے بعد انگریزوں کے اس و فا دار نے1901 ء میں نبو ت کا دعویٰ کر دیا۔ اس جھوٹے مد عی نے اپنی بنا و ٹی نبو ت کا دعویٰ کرتے ہو ئے کہا : ۔ ہلا ک ہو گئے و ہ جنہو ں نے ایک بر گز یدہ رسول ( یعنی مرز ا قادیانی) کو قبول نہ کیا ۔ مبا ر ک ہو ا سے جس نے مجھے پہچانا ، میں خد ا کی سب راہوں سے آخری راہ ہوں اور اس کے سب نو ر وں میں سے آخری نو ر ہوںبد قسمت ہے وہ جو مجھے چھو ڑ تا ہے کیو نکہ میر ے بغیر سب اندھیرا ہے ۔( دیکھئے کتاب کشتی نو ح ، ص ۵۶ )
مرز ا غلا م احمد قا دیانی اپنی نا پا ک زبان سے ایک جگہ یہ بھی کہتا ہے کہ : ۔ میں خدا کا رسول ، نبیوں کا پیرہوں ، سو ضروری ہے کہ ہر ایک نبی کی شا ن مجھ میں پائی جا ئے ۔( دیکھئے کتاب تتمہ حقیقۃ الو حی ،ص ۸۴)
مرزا غلا م احمد قا دیانی اپنی کتابوں کو حق ثا بت کر تے ہو ئے لکھتا ہے کہ :۔’’ میری ان کتابوں کو ہر مسلمان محبت کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور ان کے معارف سے فائد ہ اُٹھا تا ہے اور مجھے قبول کر تا ہے مگر رنڈیوں ، زنا کاروں کی اولاد ، جن کے دلوں پر خد ا نے مہر کر دی ہے وہ مجھے قبول نہیں کر تے ‘‘۔( دیکھئے آ ئینہ کما لا ت اسلا م عر بی عبارت ، ص۵۷۴،۵۴۸)
مر زا غلام احمد قا دیانی مسلمانوں کو گا لی دیتے ہو ئے مز ید لکھتا ہے کہ :۔میرے مخالف جنگلو ں کے سور ہیں اور ان کی عو رتیں کتیوں سے بدترہیں۔ ( دیکھئے عر بی عبا رت نجم الہدیٰ ، ص ۱۰)
مرز اغلا م احمد قا دیا نی مسلمانوں کو شیطان قرار دیتے ہوئے لکھتا ہے ۔ ’’خدا نے مجھے ہزار ہا نشا نا ت ، معجزات دیے ہیں لیکن پھر بھی جو لو گ انسانوں میں شیطان ہیں وہ نہیں جانتے ‘‘۔ ( چشمہ معر فت ص۳۱۷)

محترم مسلمانو! نبو ت کے دعو یدار مرزا غلام احمد قا دیانی کے اخلا ق سے گر ے ہو ئے الفاظ آپ نے سنے جس سے اس کی گندی ذہنیت کا بخو بی اندا زہ لگا یا جا سکتا ہے ۔ اللہ نے دنیا میں جتنے نبی بھیجے وہ سب کے سب اخلا ق کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو تے تھے۔ قرآ ن مجید میں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب نبی پیغمبر آ خر الز ماں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اخلا ق کے با رے میں ارشا د فر ما تا ہے ۔
آپ تو بڑ ے ہی اخلا ق والے ہیں ۔ معلو م ہو ا اللہ کا نبی اعلیٰ اخلا ق والاہو تا ہے مگر آ پ نے مر ز اغلام ا حمد قادیا نی کے اخلا ق کا اندا زہ لگا یا جو اپنے آپ کو نبی کہتا ہے کیا نیک بند وں کے اخلا ق ایسے ہی ہو تے ہیں ۔ ہرگز نہیں ۔
ان مختصر سے حقائق سے اب یہ فیصلہ کر نا قطعی مشکل نہیں کہ مرز ا غلا م احمد قادیانی انگریز وں کا وہ وفا دار اور پا لتو کتا ہے جو اللہ کا نا فر ما ن اور ختم نبوت کا منکر ہے ، جو انسا نیت کے نا م پر بد نما دا غ ہے جس نے اپنے نہ ما ننے والوں یعنی مسلمانوں کو حرامز ادے ، سو ر اور شیطان کہا اور مسلمان عو رتوں کوکتیا ںقرار دیا ۔ جس نے اللہ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی رسا لت کے مقابل اپنی من گھڑ ت اور جھو ٹی نبو ت کا دعویٰ کیا ۔ لہٰذا جو مر زا غلا م احمد قادیانی کو نبی ما نے یا اسے اچھا جا نے ایسا شخص مر تد اور دائر ہ اسلا م سے خارج ہے ۔
مسلمانو! قا دیا نی فر قہ اسلام کا بد تر ین دشمن ہے۔ جو پیغمبر آ خر الز ماں حضرت محمد ﷺ کی ختم نبو ت کے لیٹر ے ہیں ۔کیاحضور اکرم ﷺ کا کوئی اُمتی اس کا ذب و ملعون فر قہ سے تعلق قائم کر سکتا ہے ؟ کیا کوئی مسلمان کسی قا دیانی کو اپنا دوست بنا سکتا ہے ؟ کیا کو ئی مسلمان کسی قادیا نی گھرانے کو زیو ر علم سے آ راستہ کر سکتا ہے ؟ کیا کوئی مسلمان کسی کمیٹی یا کسی کا بینہ میں قادیا نی کو شا مل کر سکتا ہے ؟ کیا کو ئی مسلمان کسی قادیا نی کی ملا ز مت اختیا ر کرسکتا ہے ؟ کیاکوئی مسلمان کسی قا دیانی کی حما یت میں عدالت میں مقد مہ لڑ سکتا ہے ؟ کیا کوئی مسلمان قا دیا نی کے ساتھ نرم رو یہ اختیارکر سکتا ہے؟ کیا کوئی مسلمان دنیو ی لالچ اور خواہش نفس کی خاطر کسی قا دیانی عورت سے شا دی کر سکتا ہے؟ اگر کوئی ایسا کر تا ہے تو جا ن لو کہ وہ اپنے کر دار اور اپنے اعمال سے مسلمان ہو نے کی نفی کر رہا ہے ایسا شخص اسلا م کا وفا دار نہیں بلکہ اسلا م کا غدار ہے ایسے شخص کا انجام بھی بر و ز محشر قا دیانی فر قے کے ساتھ ہو گا۔ لہذ ا اے مسلمانو! عقید ئہ ختم نبو ت کو مستحکم کرو، قا دیانیوں سے اپنی نفرت کا بھر پور مظاہر ہ کر و۔ ان کی صحبت بد سے بچواور اپنے رشتے داروں اور اپنے دوستو ں کا بچائو۔

یا در کھیئے قا دیانی فتنہ مسلمانوں کو گمراہ اور بے دین کر نے کے لئے انگر یز وں اور یہو دیوں کی مد د سے کر و ڑوں ، ڈا لر ماہانہ خر چ کر رہا ہے اور مسلمانوں کو میڈ یا اور انٹر نیٹ کے ذریعے گمر اہ اور بے دین کر رہا ہے ۔ سیدھے سا دے مسلمان اسلا می معلو ما ت نہ ہو نے کی وجہ سے ان دجا لوں کے دام فریب میں آ جا تے ہیں اور قادیانی مذہب اختیار کر کے اپنی آ خر ت بر با د کر لیتے ہیں۔ قا دیا نی اسلا می لبا دہ اوڑھ کر ہماری صفوں میں داخل ہو رہے ہیں جو انتہائی چالاکی اور ہو شیا ری سے مسلمانوں کو قا دیا نی بنا نے کے لیے سر گر م عمل ہیں۔اس فتنہ سے بچنا اور ان کے خطر نا ک عز ائم سے نئی نسل کو آ گاہ کر نا اور تاجدار ختم نبو ت حضرت محمد ﷺ کی شا ن اور عقید ئہ ختم نبو ت کو و اضح کر نا ہر درد مند مسلمان کی دینی اور ملی ذمہ داری ہے ۔
 ·  Translate
1
Add a comment...
People
Have him in circles
66 people
Ali Nawaz's profile photo
Rao Shakeel Haider's profile photo
All Daily Newspaper's profile photo
Fahad Shehzad's profile photo
Curt Maly's profile photo
Naeem Muhammad's profile photo
Moazzam Ali's profile photo
Abdur Razzaq's profile photo
yasir Shakeeb's profile photo
Work
Occupation
Supply Chain Officer
Employment
  • Faran Sugar Mills Limited
    Supply Chain Officer, 2013 - present
  • Fraran Sugar Mills Limited
    Office Assistant, 2012 - 2013
  • Fraran Sugar Mills Limited
    Computer Operator, 2010 - 2012
  • Fraran Sugar Mills Limited
    Lab Sampler, 2006 - 2010
Places
Map of the places this user has livedMap of the places this user has livedMap of the places this user has lived
Previously
Hyderabad, Pakistan - Karachi, Pakistan
Links
Story
Tagline
Supply Chain Office | Trouble Shooter | Inventory Control Management
Introduction
Supply Chain Office,  Inventory Control Management & Trouble Shooter at Faran Sugar Mills Limited.
Education
  • Government College of Technology, Hyderabad
    present
  • University of Sindh
    present
  • BIEK
    2009 - 2010
Basic Information
Gender
Male