Profile cover photo
Profile photo
Mansoor Mukarram
1,063 followers -
ایک اردو بلاگر
ایک اردو بلاگر

1,063 followers
About
Posts

Post has attachment
**
آزادی سوات اخبار کا لنک www.dailyazadiswat.com

Post has attachment
Mansoor Mukarram commented on a post on Blogger.
معاشرے ایک ناسور کی طرف اشارہ کرتی ہوئی تحریر۔

واقعی یہ ایک بہت بھیانک غلطی ہوتی ہے،جس کو سدھارتے سدھارتے اکثر لوگ اپنی اولاد سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

رہی غریبوں والی بات ،تو  بالکل متفق بلکہ اسکا عملی تجربہ بھی ہے مجھے۔

Post has attachment

16 اور 17 جون 2014 کو جب شمالی وزیرستان کی 12 لاکھ سے اوپر آبادی کو صرف 72 گھنٹوں میں بمع رجسٹریشن ایک ہی سیدگی چیک پوسٹ سے گذرنے کی اجازت دی گئی۔
تو اس وقت میں متاثرین کی خدمت کیلئے کوشاں بنوں میں موجود تھا۔
اسی دن جب ایک عورت نے 24 گھنٹوں سے زائد لائن میں کھڑی گاڑی سے اتر کر فوجی کے پاس گود میں جاں بلب بچے کو لیکر گئی 
اور کہا کہ
خدارا ہماری گاڑی کو ایمرجنسی بنیادوں پر چیکنگ مراحل سے گزار کر ہمیں بنوں کی طرف جانے دیا جائے ۔
تاکہ میرا بچہ بروقت ہسپتال پہنچ سکے ۔
لیکن فوجی نے جواب دیا کہ 
خاتون آپ واپس گاڑی میں بیٹھ جائیے
ہمیں لائن توڑنے کی کسی صورت اجازت نہیں ہے۔
۔
اور پھر چند منٹ بعد اس عورت کا بچہ 
اس عورت کی گود میں 
ملک کی رکھوالی کیلئے کوشاں ڈیوٹی کرنے والے کو سلام کرتے ہوئے 
اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔
۔
ماں کا دل غم سے پھٹ گیا
اور بچہ کو لیکر فوجی کے سامنے زمین پر رکھا 
اور کہا کہ 
یہ لیجئے آپ کا آرڈر
اسکو دیوار کے ساتھ ٹانکئے 
یا شیشے کے فریم میں اپنے لئے بند کیجئے
مجھے اب اسکی ضرورت نہیں ہے۔
۔
اور یہ کہہ کر بچے کی لاش وہی چھوڑ کر ایک طرف نکل گئی
۔
مجھے تو اُس دن سے یہ احساس کھا رہا ہے کہ نہ جانے کب وہ عورت 
کسی فوجی ادارے میں (فدائی ) حملہ نہ کرئے۔
۔
چنانچہ ہر حملے کے بعد میں دیکھتا ہوں کہ کہیں حملہ آووروں میں کوئی عورت تو نہیں شامل ؟
۔ 
اگر ہوگی، تو وہی عورت ضرور ہوگی۔
۔
اور مجھے یہ فدائی حملہ ضرور سامنے نظر آرہا ہے
۔
۔
نجانے ہم کب سمجھیں گے،
ہم تو روز بروز اپنے لئے اور اپنے بچوں کیلئے اس طرح کے خودکش تیار کر رہے ہیں
گویا باقاعدہ فدایان کی لسٹوں کی لسٹیں ہم نے اپنے بچوں کیلئے وراثت میں چھوڑ دی ہیں
اور مزید بھی لگے ہوئے ہیں۔
کیونکہ 
دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی۔
۔
اور پرائی جنگ ہم گھر لے آئے ہیں
۔
اس عورت کی طرح بے شمار واقعات ہین جن کا شمار نا ممکن ہے
۔
پالیسی چینج نہ ہو 
تو 
یہ جنگیں 
2025 میں 
پاکستان کی دنیا کے نقشے میں عدم موجودگی کی طرف
قدم بڑھا ہی رہی ہے۔

٭٭٭ سوچ و بچار ٭٭٭

آپ ٹھیک کہ رہے ہیں,اگر انسان ہوتےتواتنےسارے چیک پوسٹوں سےگزرتے ہوئےیقینً نظرآجاتے, ہےنا! 
وہ بھی منوں گولہ بارودکےساتھ 
سوال تو بنتا ہے نا؟؟؟؟
۔
 اِدھر اُدھر کی نہ بات  کر، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لُٹا 
مجھے راہزنوں سے گلا نہیں ،تیری رہبری کا سوال ہے
۔
یہ خالد خراسانی مہمند گروپ کہاں سے آیا؟؟ 
یہ خود کہاں رہتا ہے؟ 
پاکستان میں ؟ 
تو پکڑا کیوں نہیں ؟ 
اور باہر تو کہاں؟؟
۔
غیر ملکی پاکستان میں کیسے اور کب گھسے؟؟ 
کیا ویزا لےکر آے یا بغیر ویزے کے؟؟
 اگر بغیر ویزے کے تو انکو روکنا کس ادارے کا کام ہے؟ 
اور پھر یہ لوگ بارڈر سے پشاور تک کیسے آگئے؟ بیچ میں کوئ چیک پوسٹ نہیں ہے؟؟؟
۔
ڈرون کے متعلق جو بات پوری دنیا نے بولی وہ یہ کہ indiscriminate ڈرون اٹیک سے retaliation پیدا ہوگا, اور کوئ بھی retaliation مذہب اور اخلاق کو نہیں پہچانتا. 
اس لئے احتیاط کریں اور بے گناہوں کو نہ ماریں.
۔
پاکستان کی تاریخ 67 سالوں سے جو مذہبی جماعتیں یہاں ہیں ان میں سے کسی نے نہ طالبان بنایا نہ انکے طریقے کو اچھا بولا, 
تو یہ طالبان کہاں سے آے؟؟ کون انکو سپورٹ کر رہا ہے؟؟؟
۔
تین دن چھوڑ کر ۔۔۔۔ تین سال سوگ مناتے رھو ۔۔۔۔ جن کے لخت جگر چلے گئے ہیں ۔۔۔ اب ان کو اور قوم کو تمہارے ان سرکاری سوگ منانے سے کوئی لینا دینا نہیں ھے ۔۔۔ سوگ نہ مناو ۔۔۔۔ 

اب دماغ لڑاو ھوش کے ناخن لو ۔۔۔ غیروں کی چاکریاں چھوڑ کر اپنی قوم کا سوچو ۔۔۔۔۔ اور ھمیں اپنی جنگ کہہ کر بے وقوف بنانے والو ۔۔۔۔ 

یہ جنگ کبھی ھماری نہیں تھی ۔تم نے اس کو ڈالروں کے عوض ھمارے بچوں کا خون بیچ کر آپنی جنگ بنایا ھے۔
۔
تمام بهائیوں سے درخواست هے.
ان حکمرانوں سے عملی کام کرواوء ..
جو کچهہ بهی پشاور میں ہوا ،ان حکمرانوں نے دو دن میں بهول جانا هے.
اور پهر عوام اور دهشت گرد.
اور تماشہ بننے کے بعدحکمرانون کے بیان جو آےءروز دہراتے هیں
Sorab Khan Dawar

Post has attachment
تلخ حقیقت
چند دن قبل  کچھ فرصت مل تو دل نے چاہا کہ کیوں نا  چند احباب کے بلاگی باغیچوں کی چہل قدمی کی جائے۔ چنانچہ اردو بلاگرز فیس بکی گروپ میں جھانکا تو دیکھا کہ ایک حالیہ چند دن قبل کے پنجاب کے ایک کیس (جس میں مسیحی جوڑے کو جلا گیا تھا۔)پر کافی زور وشور سے بحث چل ر...

Post has attachment
اندھیری رات کا سفر
انسانی فطرت یہ ہے کہ ہر نئی چیز کی طرف اسکی طبیعت مائل ہوتی ہے ۔چنانچہ سائیکل  سیکھنے کے زمانے میں شوق اسقدر غالب ہوتا تھا کہ ہمیں معمولی معمولی چوٹوں کی پروا تک نہیں ہوتی تھی ،لیکن بس ایک جنون سا تھا کہ سائیکل ضرور چلانی ہوگی۔ لیکن رفتہ رفتہ جب سائیکلنگ کی...

Post has attachment
قصہ ایک تقریب کا
عشاء کا وقت تھا، بجلی گئی ہوئی تھی، کمرے میں گھپ اندھیرے اور شدید گرمی کی وجہ سے  ٹہرنا محال تھا۔  میں روشنی اور ٹھنڈی ہوا کی طلب میں  دوستوں کے ساتھ ہوٹل کے صحن کی طرف  چلا گیا ۔صحن میں ہوٹل ملازمین نے  میزوں کے ارد گرد چارپائیں رکھی ہوئی تھی۔ہم نے بھی ایک...

Post has attachment
قصہ ایک تقریب کا
عشاء کا وقت تھا، بجلی گئی
ہوئی تھی، کمرے میں گھپ اندھیرے اور شدید گرمی کی وجہ سے  ٹہرنا محال تھا۔  میں روشنی اور ٹھنڈی ہوا کی
طلب میں  دوستوں کے ساتھ ہوٹل کے صحن کی
طرف  چلا گیا ۔صحن میں ہوٹل ملازمین
نے  میزوں کے ارد گرد چارپائیں رکھی ہوئی
تھی۔ہم نے بھی ایک...

Post has attachment
تمام احباب کو ہماری طرف سے عید مبارک

اور بلاگ زائرین کیلئے سپیشل عید مبارک،جو کہ بلاگ پر ہی ملاحظہ ہوگا۔
http://mansoorurdu.blogspot.com/
Wait while more posts are being loaded