Profile cover photo
Profile photo
محمد عبداللہ
50 followers
50 followers
About
Posts

Post has attachment
میں چلتا جاؤں رات بھر کہیں تو آئے گی
سحر رات گر اندھیری ہے ہے چاند بھی یہیں مگر

کٹ رہی ہے زندگی بری سہی بھلی سہی
کٹ رہے ہیں گر یہ دن تو کٹ بھی جائے گا ہجر


باقی اشعار کیلئے لنک ملاحظہ فرمائیں
http://abdullahmk.blogspot.nl/2015/09/blog-post.html
Add a comment...

Post has attachment
پرفیومز اور عطریات کے بے حد شوقین ہیں  اور اس معاملے میں شاہانہ مزاج رکھتے ہیں ۔ جو خوشبو انہیں پسند آ جائے وہ ضرور خریدیں گے چاہے دس گنا قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔ پیسے کو ہاتھ کا میل سمجھتے ہیں اور کبھی صابن سے ہاتھ نہیں دھوتے۔ نہاتے اسلئے نہیں کہ کہیں باڈی سپرے نہ اتر جائے۔ کپڑے اسلئے ہفتہ بھر نہیں بدلتے کہ انکی لگائی ہوئی خوشبو ہفتہ بھر کپڑوں سے نہیں جاتی۔ بنیان پہننے کا تکلف اسلئے نہیں کرتے کہ باڈی سپرے کی خوشبو نہ روک لے۔شوقین مزاج تو ہیں ہی اسلئے ڈانس سے بھی رغبت ہے۔ پرائی شادیوں میں مفت میں ڈانس کرتے ہیں اور جاننے والوں کی شادی میں پیسے لیکر۔ ڈانس بھی ایسا غضب کا کہ نرگس بھی انکے سامنے پانی بھرتی نظر آئے ۔  کالج کے فنکشن میں ایک بار اسٹیج انکے ڈانس کی تاب نہ لاتے ہوئے ٹوٹ گیا تھا۔
Add a comment...

Post has shared content
میرے ڈائری سے میرا انتخاب
"ہنزہ داستان ۔۔۔۔۔مستنصر حسین تارڑ "
؛؛ گم وہی چیزیں ہوتی ہیں جو چاہے عارضی طور پر ہی سہی انسان کی گرفت میں ایک مرتبہ تو آتی ہیں ۔بےشمار لوگ ہوں گے جن کے پاس گم کرنے کو بھی کچھ نہیں ہوتا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
؛؛ طویل مسافتوں کی تھکاوٹ چند روز میں زائل ہو جاتی ہے لیکن
مہہ وسال کے گزرنے سے جو مسافت وجود میں آتی ہے اُس کی
تھکاوٹ صرف مٹی میں پنہاں ہو کر ہی ختم ہوتی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
؛؛ انسان فطرت کو مسخر تو کر سکتا ہے لیکن اس کا دائمی رفیق نہیں بن سکتا۔۔۔ وہ سب کچھ رہتا ہے لیکن وہ خود نہیں رہتا ۔۔۔ البتہ اس کی جگہ رہتی ہے ۔
Add a comment...


خود کو حساس کہنے والوں سے بڑا بے حس کوئی نہیں ہوتا۔ جو لوگ انکی حساسیت کا خیال کرتے ہیں یہ لوگ بے حسی کے ساتھ انکا استحصال کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی انکے ساتھ ویسا ہی کرے جیسا یہ خود کرتے ہیں تو یہ بھاگ کر اہنی حساسیت کے جھنڈے کا نیچے آکھڑے ہوتے ہیں۔
Add a comment...

Post has attachment
یہ حکماء اور انکی مشہوری کے اشتہارات اتنی کثرت سے پائے جاتے ہیں کہ اچھا بھلا صحت مند انسان اپنے بارے میں شکوک شبہات کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہر مطب میں مطب کے سائز اور حکیم صاحب کے بنک اکاؤنٹ کے مطابق فیلڈ ایجنٹس کام کرتے ہیں  ۔ انکا کام بسوں میں حکیم صاحب کی تیار کردو معجون  و دیگر ادویات فروخت کرنا ہوتا ہے اور یہ ایجنٹس ہی مطب کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں کیونکہ مطب کی نصف سے زائد کمائی ان کے مرہون منت ہوتی ہے۔ ان حکماء کے درمیان مقابلے کی فضا پائی جاتی ہے اسلئے اشتہار بازی کے ساتھ ساتھ  مریضوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کیلئے مختلف پیکجز کا اعلان کیا جاتا ہے۔
لہور لہور اے
لہور لہور اے
abdullahmk.blogspot.com
Add a comment...

Post has attachment
میرے بلاگ کا گوگل پیج۔
براہ مہربانی فالو کریں
Add a comment...

ویسے میں ائرپورٹ میں پھنسے اس بندے کو شدید قسم کی داد دینے پر مجبور ہو گیا ہوں جو حملے کے دوران ہالی ووڈ فلموں اور اور حملے کا موازنہ کر را تھا

#KarachiAirport  
Add a comment...

دہشت گردوں کے پاس بھارتی اسلحہ تھا
انکے پاس انڈین فوج کے ٹیکے تھے
تے فیر بادشاہو اپنے اس باپ کا نام لیتے وے موت کیوں پڑ ری تمہیں
وہ جی اگر ہم نے انکا نام لے دیا تو پتا جی نے ہمیں اگلی بار ہماری بڑی آپا ہیما مالنی سے ملنے نی دینا
#KarachiAirport 
Add a comment...

Post has attachment
میری نئی بلاگ پوسٹ
پاکستانی اداروں کا مختصر تعارف
Add a comment...

Post has attachment
Photo
Add a comment...
Wait while more posts are being loaded