Profile cover photo
Profile photo
WAQAR AHMED
About
WAQAR's interests
View all
WAQAR's posts

¦¦¦¦

آج وہ اپنی تمام مصروفیات کو پس پشت ڈال کر درویش کے پاس پہنچا تھا..... جب اس کی باری آئی تو اس نے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا بلاتمہید درویش سے دعا کرنے کو کہا ...... درویش نے نوجوان کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور بڑے جذب سے دُعا دی:
"اللہ تجھے آسانیاں بانٹنےکی توفیق عطا فرمائے"
دعا لینے والے نے حیرت سے کہا:
"حضرت! الحمد للہ ہم مال پاک کرنے کے لیے ھر سال وقت پر زکاۃ نکالتے ہیں، بلاؤں کو ٹالنے کے لیے حسبِ ضرورت صدقہ بھی دیتے ہیں.... اس کے علاوہ ملازمین کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھتے ہیں، ہمارے کام والی کا ایک بچہ ہے، جس کی تعلیم کا خرچہ ہم نے اٹھا رکھا ہے، الله کی توفیق سے ہم تو کافی آسانیاں بانٹ چکے ہیں .....

درویش تھوڑا سا مسکرایا اور بڑے دھیمے اور میٹھے لہجے میں بولا:
"میرے بچے! سانس، پیسے، کھانا ... یہ سب تو رزق کی مختلف قسمیں ہیں، اور یاد رکھو "رَازِق اور الرَّزَّاق" صرف اور صرف الله تعالٰی کی ذات ہے.... تم یا کوئی اور انسان یا کوئی اور مخلوق نہیں ..... تم جو کر رہے ہو، اگر یہ سب کرنا چھوڑ بھی دو تو الله تعالٰی کی ذات یہ سب فقط ایک ساعت میں سب کو عطا کر سکتی ہے ، اگر تم یہ کر رہے ہو تو اپنے اشرف المخلوقات ہونے کی ذمہ داری ادا کر رہے ہو."

درویش نے نرمی سے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھ میں لیا اور پھر بولا:
"میرے بچے! آؤ میں تمہیں سمجھاؤں کہ آسانیاں بانٹنا
کسے کہتے ہیں.....

*- کبھی کسی اداس اور مایوس انسان کے کندھے پے ہاتھ رکھ کر، پیشانی پر کوئی شکن لائے بغیر ایک گھنٹا اس کی لمبی اور بے مقصد بات سننا..... آسانی ہے!

*- اپنی ضمانت پر کسی بیوہ کی جوان بیٹی کے رشتے کے لیے سنجیدگی سے تگ ودو کرنا .... آسانی ہے!

*- صبح دفتر جاتے ہوئے اپنے بچوں کے ساتھ محلے کے کسی یتیم بچے کی اسکول لے جانے کی ذمہ داری لینا.... یہ آسانی ہے!

*- اگر تم کسی گھر کے داماد یا بہنوئی ہو تو خود کو سسرال میں خاص اور افضل نہ سمجھنا... یہ بھی آسانی ہے!

*- غصے میں بپھرے کسی آدمی کی کڑوی کسیلی اور غلط بات کو نرمی سے برداشت کرنا .... یہ بھی آسانی ہے!

*- چاۓ کے کھوکھے والے کو اوئے کہہ کر بُلانے کی بجائے بھائی یا بیٹا کہہ کر بُلانا..... بھی آسانی ہے!

*- گلی محلے میں ٹھیلے والے سے بحث مباحثے سے بچ کر خریداری کرنا..... یہ آسانی ہے!

*- تمہارا اپنے دفتر، مارکیٹ یا فیکٹری کے چوکیدار اور چھوٹے ملازمین کو سلام میں پہل کرنا، دوستوں کی طرح گرم جوشی سے ملنا، کچھ دیر رک کر ان سے ان کے بچوں کا حال پوچھنا..... یہ بھی آسانی ہے!

*- ہسپتال میں اپنے مریض کے برابر والے بستر کے انجان مریض کے پاس بیٹھ کر اس کا حال پوچھنا اور اسے تسّلی دینا ..... یہ بھی آسانی ہے!

*- ٹریفک اشارے پر تمہاری گاڑی کے آگے کھڑے شخص کو ہارن نہ دینا جس کی موٹر سائیکل بند ہو گئی ہو ...... سمجھو تو یہ بھی آسانی ہے!"

درویش نے حیرت میں ڈوبے نوجوان کو شفقت سے سر پر ھاتھ پھیرا اور سلسلہ کلام جارے رکھتے ہوئے دوبارہ متوجہ کرتے ہوئے کہا:

"بیٹا جی! تم آسانی پھیلانے کا کام گھر سے کیوں نہیں شروع کرتے؟

*- آج واپس جا کر باھر دروازے کی گھنٹی صرف ایک مرتبہ دے کر دروازہ کُھلنے تک انتظار کرنا ،

*- آج سے باپ کی ڈانٹ ایسے سننا جیسے موبائل پر گانے سنتے ہو ،

*- آج سے ماں کے پہلی آواز پر جہاں کہیں ہو فوراً ان کے پہنچ جایا کرنا.... اب انھیں تمہیں دوسری آواز دینے کی نوبت نہ آئے ،

*- بہن کی ضرورت اس کے تقاضا اور شکایت سے پہلے پوری کریا کرو ،

*- آیندہ سے بیوی کی غلطی پر سب کے سامنے اس کو ڈانٹ ڈپٹ مت کرنا ،

*- سالن اچھا نہ لگے تو دسترخوان پر حرف شکایت بلند نہ کرنا ،

*- کبھی کپڑے ٹھیک استری نہ ہوں تو خود استری درست کرلینا ،

میرے بیٹے! ایک بات یاد رکھنا زندگی تمہاری محتاج نہیں ، تم زندگی کے محتاج ہو ، منزل کی فکر چھوڑو، اپنا اور دوسروں کا راستہ آسان بناؤ ، ان شاء الله تعالٰی منزل خود ہی مل جائے گی ....!!!!

آئیں! صدقِ دِل سے دُعا کریں کہ الله تعالٰی ہم سب کو آسانیاں بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ثم آمین یا رب العالمین.

Post has attachment

دنیا کا مہنگا ترین گھنٹہ
~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~~


ڈاکٹر نے رپورٹس دیکھیں، ٹم کو کلینک میں بلایا، پانی کا گلاس اس کے سامنے رکھا اور شرمندہ لہجے میں بولا ’’ٹم تمہارے لیے بری خبر ہے‘‘ ٹم نے کپکپاتے ہاتھوں سے پانی کا گلاس اٹھایا، تین گھونٹ بھرے، گلاس واپس میز پر رکھا اور لمبی سانس لے کر بولا ’’اوکے ڈاکٹر ناؤ آئی ایم ریڈی‘‘ ڈاکٹر بولا ’’ٹم تمہیں ملٹی پل سکلیروسیس ہے‘‘ وہ حیرت سے ڈاکٹر کی طرف دیکھنے لگا، ڈاکٹر بولا ’’یہ خطرناک اور لاعلاج بیماری ہے۔

یہ بیماری انسان کے نروس سسٹم اور دماغ دونوں کو نگل جاتی ہے اور مریض چند ماہ میں سبزی بن کر رہ جاتا ہے‘‘ ٹم کے نیچے سے زمین سرک گئی، اس نے آنسوؤں سے بھیگی آواز میں پوچھا ’’ڈاکٹر کوئی علاج، کوئی دواء ، کوئی تھراپی‘‘ ڈاکٹر نے مایوسی سے سر ہلا دیا، وہ اٹھا، ڈاکٹر سے ہاتھ ملایا اور کلینک سے باہر آ گیا، سڑک پر نئی زندگی اس کی منتظر تھی، ایک ایسی زندگی جو اس سے پہلے اس کی منصوبہ بندی میں شامل نہیں تھی، جس کا اس نے تصور تک نہیں کیا تھا، وہ فٹ پاتھ کے بینچ پر بیٹھ گیا اور زندگی کی پوری کتاب اس کے سامنے ورق در ورق کھلنے لگی۔

وہ ریاست Alabama کے چھوٹے سے قصبے رابرٹس ڈیل میں پیدا ہوا تھا، والد شپ یارڈ میں ملازم تھا اور ماں فارما سوٹیکل کمپنی میں کام کرتی تھی، ابتدائی تعلیم رو دھو کر سرکاری اسکول میں حاصل کی، 1978ء میں یونیورسٹی چلا گیا، انڈسٹریل انجینئرنگ کی ڈگری لی اور 1988ء میں ڈیوک یونیورسٹی سے ایم بی اے کر لیا اور آئی بی ایم میں نوکری شروع کر لی، وہ کام سمجھتا تھا چنانچہ ادارے نے اسے دو سال میں نارتھ امریکا کا ڈائریکٹر بنا دیا، وہ 12 سال آئی بی ایم میں رہا، وہ اس کے بعد انٹیلی جینٹ الیکٹرانک کا سی ای او بن گیا۔

وہ وہاں سے ’’کم پاک‘‘ میں چلا گیا، وہ اس کا صدر تھا، ایپل کمپنی کے بانی ’’اسٹیو جابز‘‘ کو 1998ء میں نائب کی ضرورت پڑی، اس نے امریکا کے تمام بڑے ’’سی او ز‘‘ کے پروفائل دیکھے، وہ ٹم کی گروتھ سے متاثر ہوا اور اس نے اسے نوکری کی پیش کش کر دی، یہ نوکری کسی اعزاز سے کم نہیں تھی، ٹم نے ایپل کمپنی جوائن کر لی، وہ جلد ہی کمپنی کا سینئر وائس پریذیڈنٹ بن گیا، اسٹیو جابز اس پر بے انتہا اعتماد کرتا تھا، ٹم بولڈ فیصلے کرتا تھا، ایپل کو اس کے فیصلوں کی وجہ سے شروع میں نقصان ہوا لیکن یہ فیصلے بہت جلد درست ثابت ہوئے، اسٹیو جابز کو 2004ء میں جگر کا کینسر ہو گیا، یہ جابز کی زندگی کا خوفناک جھٹکا تھا، اس نے اپنا کام ٹم کو سونپنا شروع کر دیا۔

2011ء میں اسٹیو جابز کی بیماری بڑھ گئی اور وہ کام کے قابل نہ رہا، اس نے 24 اگست 2011ء کو استعفیٰ دیا اور ٹم کو اپنی جگہ ایپل کا سی ای او بنا دیا، اسٹیو جابز 5 اکتوبر 2011ء کو انتقال کر گیا اور یوں پوری کمپنی ٹم کے پاس چلی گئی، وہ دنیا کی سب سے بڑی برانڈ ویلیو کی حامل کمپنی کا مختار کل بن گیا، وہ بہت خوش تھا، وہ خوش کیوں نہ ہوتا، یہ شپ یارڈ میں کام کرنے والے مزدور کے بیٹے کی ترقی کی معراج تھی، وہ خود کو اس وقت فضا میں محسوس کر رہا تھا لیکن پھر وہ بیمار ہوا، اس کے ٹیسٹ ہوئے اور ڈاکٹر نے اسے ناقابل علاج بیماری کا شکار قرار دے دیا۔

وہ فٹ پاتھ کے بینچ پر بیٹھے بیٹھے اپنی کتاب زیست کے ورق الٹ رہا تھا، وہ امریکا کا کامیاب ترین ’’سی ای او‘‘ تھا، اس نے مینجمنٹ کو سائنس کا درجہ دے دیا، وہ کمپنی کے تمام ملازمین کے ساتھ رابطے میں رہتا تھا، تمام ملازمین کی ای میلز کا جواب دیتا تھا اور وہ ان کی شادی اور غمی میں بھی شریک ہوتا تھا، وہ ہر لحاظ سے ایک آئیڈیل انسان تھا، وہ شادی کے خلاف تھا، اس نے 55 سال کی عمر تک پہنچ کر بھی اپنا گھر آباد نہیں کیا لیکن پھر اسے اچانک ’’ملٹی پل سکلیروسیس‘‘ ہو گیا۔

وہ اس وقت خود کو خلا میں لٹکا ہوا محسوس کرنے لگا، وہ فٹ پاتھ اور وہ بینچ اس کی نئی زندگی کا نیا نقطہ ثابت ہوا، اس نے وہاں بیٹھے بیٹھے اپنی باقی زندگی، اپنی ساری کامیابی اور اپنی ساری دولت خیرات کرنے کا فیصلہ کر لیا، اس نے فیصلہ کر لیا وہ اپنی باقی زندگی ویلفیئر پر خرچ کرے گا، یہ فیصلہ کرنے کی دیر تھی اس کی زندگی میں ایک نیا موڑ آ گیا، اس نے ڈاکٹر کو دور سے فٹ پاتھ پر دوڑتے ہوئے اور ’’ہائے ٹم ہائے ٹم‘‘ کا اعلان کرتے ہوئے دیکھا۔

ڈاکٹر کے ہاتھ میں سبز رنگ کی ایک فائل تھی، ٹم فٹ پاتھ پر کھڑا ہو گیا، ڈاکٹر دوڑتا ہوا اس کے پاس آیا، اسے گلے لگایا اور جذباتی آواز میں بولا ’’ٹم مبارک ہو، تم سو فیصد ٹھیک ہو، یہ کمپیوٹر کی غلطی تھی، تمہاری رپورٹس دوسرے مریض کی رپورٹس کے ساتھ مکس اپ ہو گئی تھیں، میں نے تمہارے جانے کے بعد لیبارٹری سے تمہاری فائل منگوائی، تم سو فیصد صحت مند ہو‘‘ وہ فوراً فٹ پاتھ پر بیٹھا، سینے پر کراس بنایا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے لگا، وہ اٹھا، اس نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اور ڈاکٹر کی بری خبر اور پھر خوش خبری کو قدرت کا اشارہ سمجھ کر اپنے فیصلے پر قائم رہنے کا فیصلہ کیا۔

یہ ٹم کک کی کہانی ہے، دنیا کی سب سے مہنگی کمپنی کے سی ای او ٹم کک کی سچی کہانی۔ ٹم نے اس کے بعد اپنی زندگی کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، ایپل اور بنانا۔ ایپل اس کی پروفیشنل لائف ہے اور بنانا اس کا چیریٹی ورک، ٹم کک نے چیریٹی ورک کے لیے ایک دلچسپ طریقہ ایجاد کیا، یہ طریقہ اس کی ذات کی طرح انوکھا ہے، یہ اپنی دولت اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ سال میں اپنی زندگی کا ایک گھنٹہ نیلام کرتا ہے، یہ دنیا میں سب سے زیادہ بولی دینے والے شخص کے ساتھ لنچ کرتا ہے، تصویریں اترواتا ہے اور اسے اپنا دوست ڈکلیئر کرتا ہے، ٹم نے اس کا اعلان 2012ء میں کیا، 2013ء میں پہلی بولی لگی۔

2013 میں لنچ کے ایک گھنٹے کی بولی 6 لاکھ 10 ہزار ڈالر (ساڑھے چھ کروڑ روپے)، 2014ء میں تین لاکھ 30 ہزار ڈالر (ساڑھے تین کروڑ روپے)، 2015ء میں دو لاکھ ڈالر (سوا دو کروڑ روپے) اور 2016ء میں یہ بولی 5 لاکھ 15 ہزار ڈالر لگی، یہ پاکستانی روپوں میں ساڑھے پانچ کروڑ روپے بنتے ہیں، یہ دنیا کا مہنگا ترین گھنٹہ ہے، ٹم کک اس گھنٹے میں کامیاب بولی دہندہ کے ساتھ لنچ کرتا ہے، تصویریں اترواتا ہے، اسے آٹو گراف دیتا ہے، اسے اپنا ’’بیسٹ فرینڈ‘‘ ڈکلیئر کرتا ہے اور اسے ایپل کی نئی پراڈکٹ کی لانچ کے دو پاس جاری کرتا ہے، بولی کی یہ رقم براہ راست ملک کے مختلف چیریٹی اداروں کو چلی جاتی ہے۔

یہ بہت اچھا آئیڈیا ہے، یہ آئیڈیا امریکا میں تیزی سے مشہور ہو رہا ہے، ٹم کک نے چند دن قبل امریکا کے تمام کامیاب سی ای اوز، ہالی ووڈ کے بڑے اداکاروں، موسیقاروں، مصوروں اور رائٹرز کو گھنٹہ گروپ بنانے اور یہ تکنیک استعمال کرنے کی دعوت دی، ٹم اگر یہ گروپ بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور امریکا کے وہ تمام لوگ اس کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں جن کے ساتھ لوگ تصویریں بنوانا چاہتے ہیں، لنچ اور ڈنر کرنا چاہتے ہیں اور دنیا کے وہ امیر لوگ جو اپنے پسندیدہ اداکاروں، اداکاراؤں، مصوروں، موسیقاروں، مصنفین اور سی ای اوز کے ساتھ وقت گزارنے کے طلب گار ہیں اور یہ امراء اگر باقاعدہ بولی دے کر ان لوگوں کے گھنٹے خرید لیتے ہیں تو یہ دنیا کا سب سے بڑا چیریٹی سرکل ہو گا اور یہ دنیا کی شکل بدل دے گا۔

ٹم کک کا خیال ہے اگر امریکا کے دوسرے سی ای اوز یا سلیبریٹیز اس کے ساتھ شامل نہیں ہوتے تو بھی بولی کا یہ سلسلہ جاری رکھے گا، یہ گھنٹے بھی بڑھاتا رہے گا، یہ شروع میں سال میں صرف ایک گھنٹہ بیچے گا، پھر دو، تین اور دس گھنٹوں تک جائے گا اور آخر میں اپنی پوری زندگی نیلام کر دے گا، یہ اپنی پوری زندگی بیچ کر خیرات کر دے گا اور یہ دنیا کی انوکھی خیرات ہو گی، ایک ایسے شخص کی خیرات جس کا ایک ایک لمحہ سونے کا بھاؤ بکا مگر اس نے وقت کا یہ سونا ضرورت مندوں میں بانٹ دیا، امریکا کے مختلف خیراتی ادارے دن رات ٹم کک کے لیے دعا کرتے ہیں لیکن ٹم کک روز صبح، دوپہر اور شام اس کمپیوٹر کو دعا دیتا ہے جس کی غلطی نے اس کی زندگی کی سمت درست کر دی، جس نے دنیا کی مادیت میں بھٹکتے انسان کو سیدھا راستہ دکھا دیا۔

*

Post has attachment
Photo

Post has attachment

Post has attachment
Contact: waqatak@hotmail.com
Photo

Post has shared content
Is the future of social marketing evolving towards a better understanding of the human brain and reactions?

Here's an article from +Mention about it.

#socialmediapsychology  

Check out World Phone. A handy, low-cost App for high quality roaming or international calls. It is great! https://goo.gl/Q4FnFJ

Post has shared content

Post has shared content
Wait while more posts are being loaded