Profile cover photo
Profile photo
Marsad Urdu
6 followers
6 followers
About
Marsad Urdu's posts

Post has attachment
امام ازہر کے اقوال سے عرب اور مسلمان بین الاقوامی سازشوں کا سامنا کر رہے ہیں، جن کا مقصد مسلمانوں کی تشتیت اور تفرق ہے اور عالمی صہیونی منصوبے کے مطابق دنیا پر اپنا قبضہ جمانا ہے، ایسا کرنے کے لۓ ان کا ایک ہی طریقۂ کار ہے اور وہ ہے " تقسیم کے ذریعہ حکمرانی" وہ مذہبی کشیدگی اور طائفی اختلافات کا فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور افسوس در افسوس وہ اس اُمت سے مکاری اور غداری کے کھیل کھیل کر اُن پر حکمرانی کرنے میں کامیاب ہوۓ اور نتیجہ یہ ہوا کہ عراق مسلمانوں کے ہاتھوں سے کھو بیٹھا، شام جل گیا، یمن ٹوٹ گیا، لیبیا برباد ہوگیا اور اللہ جانے اُن کی وجہ سے اور کیا کیا ہوگا!! آئیں.. آپس کے اختلافات اور مشکلات کو بھول جائیں کیونکہ یہ اختلافات ہماری کمزوری اور ذلت کا سبب ہیں اور اتحاد کے دامن کو مضبوطی سے پکڑیں کیونکہ اسی سے ہماری فلاح اور کامیابی ہوگی۔http://www.azhar.eg/urdu/details/امامِ-ازہر-کے-اقوال-سے

Post has attachment

Post has attachment

فضيلت امام اكبر نے كئى دفعہ واضح كيا كہ "داعش" باغى ہيں، الله اور اُس كے رسول كى محاربت كرتے ہيں اور زمين ميں فساد پهيلاتے ہيں، لہذا ولاة الامر پر اُن كا قت كرتا اور دنيا ك واُن كى برائيوں اور شروروں سے واجب ہے اور قرآن پاك ميں ا سكا حكم نہايت محدّد ہے-

وه لوگ جو يہ جهوٹا دعوى كرتے ہيں كہ وه الله كى شريعت كے مطابق حكم كرتے ہيں، اور جو حاكموں اور قوموں كو كافر ٹهہراتے ہيں اور وه جو زمين ميں فساد پهيلاتے ہيں، اُن لوگوں كے شرعى حكم كو الله سبحانہ وتعالى نے اس آيت ميں محدد كيا ہے: ) جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک ایک طرف کے ہاتھ اور ایک ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لیے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے) ( المائده:33)

قرآن پاك نے اُن كا جزا دنيا ميں قتل اور آخر ميں عذابِ عظيم بتايا ہے . فضيلتِ امام اكبر كا جواب ايك وسطى اور شرعى جواب تها كيونكہ اسلام كے صحيح عقيده كے مطابق كسى بهى مسلمان كو كافر نہيں ٹهہرايا جا سكتا اُس نے كوئى گناهِ كبيره ہى كيوں نہ كيا ہو ..... امامِ اكبر نے واضح كيا كہ ہميں دہشت گرد داعش كى طرح نہيں كرنا چاہيے جو پورے معاشرے كو حاكم ہوں يا محكوم كى تكفير كرتے ہيں . انہوں نے بيان كيا كہ ايمان اركان پر مبنى ہوتے ہيں : الله ، اُس كے فرشتوں ، اُس كى كتابوں ، اُس كے رسولوں، يومِ آخرت اور تقدير پر ايمان لانا . ان اركان ميں سے كسى ايك ركن پر ايمان نہ لانے سے انسان ايمان كے دائرے سے خارج ہو جاتا ہے مگر اگر كسى نے كوئى گناهِ كبيره كيا ہو ليكن ان تمام اركان پر ايمان ركهتا ہو تو وه كافر نہيں كہلايا جا سكتا.

ميڈيا كے بعض وسائل نے فضيلت امامِ اكبر كى اس بات كى تحريف كى جو كہ ايك سوال كے جواب ميں دى گئى تهى جبكہ اُن كا جواب بالكل واضح تها. اب سوال يہ ہے كہ ہميں داعش كى تكفير سے كيا فائده ہوگا؟!

اُن كى تكفير سے زياده اہم بات يہ ہے كہ ہم الله كے حكم كى تطبيق كر كے تمام دنيا كو اُن كے شر سے بچائيں.
Wait while more posts are being loaded