Profile

Cover photo
‫ارتقاءِ فلاح‬‎
Lived in In A Temporary Place Called Dunya...
48,098 followers|20,276,417 views
AboutPostsPhotosVideos

Stream

 
Ya Allah! Without You, I'll be lost..
You are the light of my life..
friends will leave in the end but never You..
I'm a weak soul so help me to remember You at all times,
in every passing moment, in each single breath..
Aamiin Ya Allah.
#islam  
99
7
Mohammad Sumon's profile photomari khan's profile photoAna Muslimah's profile photokiran malik's profile photo
11 comments
 
Ameen ya Rab
Add a comment...
 
To My Dead Brothers In Syria, To My Crying Mothers In Afghanistan ,To My Screaming Sisters In Iraq, To My Shot Fathers In Iran ,To My Burned And Hanged Cousins In Burma , To My Crying Children Of Palestine And To The Forgotten People Of Somalia

I Pray Only For Your Freedom.
May Allah Azawajal Grant You Justice And Jannah
Amiin!
#islam  
264
27
faheem ahmed's profile photoAna Muslimah's profile photoHaji Mahmood's profile photoTayyab Rashid's profile photo
10 comments
 
I believe Allah give freedom to all muslim across the world
Add a comment...
 
 

یا اللہ مُجھے ایسی زندگی نہ دینا
یا اللہ مجھے بچا لے
یا اللہ مجھے ایسی زندگی سے بچا لے

وہ بھاگ رہی تھی. چلّا رہی تھی. اللہ کو پکار رہی تھی.

یا اللہ، یا اللہ

وہ بھاگی چلی جا رہی تھی جیسے خود کو بچانا چاہتی ہے. اچانک کہیں سے ایک سفید چادر اس پر آ پڑی. وہ چادر میں لپٹ کر گر گئی. اور بلند آواز میں پکاری....

اللہ.......

اِیاد ڈر کر ایک دم اٹھی.... پسینہ... تیز دھڑکن... پنکھے کی آواز... گھڑی کی ٹک ٹک....

یہ خواب تھا... ایاد نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے کمرے میں ادھر ادھر دیکھ کر سوچا.

یہ خواب ہی تھا. لیکن بالکل حقیقی. حقیقت کی طرح تلخ...

ایاد اُٹھ کر کھڑکی کی طرف آئی. بادل کافی جھکا ہوا تھا اس لیے کمرے میں اندھیرا محسوس ہو رہا تھا.
اس اپنے اندر بھی گھٹن محسوس ہوئی. خواب تو خواب تھا لیکن خواب میں سب کچھ حقیقت تھی.

..... "کتنے منحوس ہو بد تمیز، زندگی اجیرن کردی ہے" ...
آج کل کی ماؤں کے بچوں کو کوسنے.

"زندگی تو شادی سے پہلے کی ہے. سسرال تو سسرال ہوتا ہے. جینے نہیں دیتا. اپنا شوہر ہی ساس سے کم نہیں".

"کیا ضرورت ہے سسرال میں نمازیں پڑھنے کی، وہ لوگ سوچیں گے کہ کچھ وظیفے کرتی ہے."

"یہ بچے تو عبادت بھی نہیں کرنے دیتے."

عورتیں سر جھاڑ منہ پھاڑ بیٹھی سسرال کی چغلیوں میں مشغول، بچوں کو گالیاں و ملامت.... ذکر و نماز سے دور، بے دین...

اور مرد کمائی میں مصروف... اتنی بھی فکر نہیں کہ بیوی بچوں سے عزت ہی کروا لیں.

جو والدین اپنے بچوں کی خاطر ہر بڑے چھوٹے کو ذلیل کرتے ہیں، وہ اپنی ہی اولادوں سے کیسے ذلیل ہوتے ہیں... ایاد ایسے مناظر دیکھتی تھی.

"جب شادی ہو گی تو پتا چلے گا.. شادی کے بعد بڑے مسائل ہوتے ہیں. سارا دین نکل جائے گا.."

"اللہ کو بھی پتا ہی ہے ہماری مجبوری... کیا بندہ ہر وقت نماز ہی پڑھے جائے.."

"سب کچھ بُرا، سب شادی سے پہلے اچھا ہوتا ہے، وہ ایسا وہ ایسی..."

"..یہ پردہ والیاں بھی تو کیسی آنکھیں مٹکا مٹکا کر دیکھتی ہیں، ان سے بہتر تو ہم ہیں، ٹھیک ہے پردہ نہیں کرتیں لیکن آنکھیں بھی نہیں مٹکاتیں."

"گھر کے کام ختم ہی نہیں ہوتے. بندہ کیا دین پر عمل کرے..."

ایاد کے ذہن میں آوازوں کی باز گشت بڑھ رہی تھی...

ایسی زندگی سے وہ بھاگ رہی تھی، اللہ کو پکار رہی تھی.. جب اسے ایک سفید چادر نے لپیٹ لیا.. . اس کی آنکھ کھل گئی.

ایاد نے کھڑکی کی جالی پر اپنا ہاتھ رکھ لیا. اور آنکھیں بند کر لیں. وہ اذیت میں تھی.

شکوہ کرتا یہ بے حال انسان، زندگی کی کنجی سے واقف ہو کر بھی "میں" اور "دنیا" میں پھنسا ہوا تھا. اور اللہ کی پکار آتی تھی تو دل کا چور باہر آ جاتا تھا. اللہ سے ہی نظریں چراتا تھا. لیکن من مانی چھوڑنے پر راضی نہ تھا. زندگی کی قلیل مدت کو ضائع کر رہا تھا لیکن تبدیلی پر رضا مند نہ تھا. تبدیلی کی تگ و دو نہیں کرنا چاہتا تھا.

"مومن نے بالکل صحیح کہا تھا کہ یہ دنیا دار لوگ سب سے زیادہ اھواء کے پیچھے بھاگنے والے ہوتے ہیں"... ایاد نے سوچا.

مومن...... ایاد نے آنکھیں کھول دیں...مومن....

خاموش آنسو جاری ہو گئے.

میں آپ کو دین ضرور سکھاؤں گا جو آپ کی چھوٹی سی دنیا کو مزید روشن کر دے گا....
میں آپ کو مدرسے میں تعلیم دلواؤں گا.....

ایاد نے آسمان کی طرف دیکھا... کبھی لاشعور کی کھڑکی کھل جائے تو کیسی تکلیف ہوتی ہے !!!

کبھی کبھی ایاد کا دل کرتا تھا کہ مومن سامنے آئے تو اس سے پوچھے کہ ایاد نے کیا بگاڑا تھا آپ کا،،،،،  کیا ملا ایاد کی زندگی کو صحرا بنا کر،،،،، کون سے راستے تھے جو نہ ملے،،،، مجبوریوں کی کون سی بیڑیاں تھیں پاؤں میں ........

ایاد سسکی... یا اللہ.... ایاد نے سرگوشی کی.
یا اللہ، اب کا زخم بہت گہرا ہے....
اب کی بار میں بے اختیار ہوں..!!!

"اِیاد، تُو تو بڑی صبر والی ہے". سحرو نے ایک بار کہا تھا.

"آپ کا صبر دیکھ کر مُجھے بہت خوشی ہوتی ہے"... مومن کی آواز آئی.....

ایاد آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی. آج بادل اس کا ساتھ دے رہے تھے...خاموش آنسو... خاموش پھوار...

وہ جانتی تھی اسے کس تناظر میں ایسا کہا گیا تھا. نوجوانی میں تنہائی کے گناہ سے بچنا تو بہت بڑا جہاد ہوتا ہے. اور جبکہ ایسے ذرائع بھی موجود ہوں جو انسان کو بہت آسانی سے گناہ میں ملوث کر دیں.

تنہائی کے گناہ سے بچنے کی سنت تھی ہمارے پاس ... سنتِ مریم علیہ السلام اور سنتِ یوسف علیہ السلام...

واللهِ، تنہائی میں اللہ سے حیا کرنے والوں اور تنہائی کے گناہ سے بچنے والوں پر ثریا بھی ناز کرتی ہے.

یہ تو ایسی قوت ہے کہ تنہائی کے گناہ سے بچنے والی حیا دار عورت کے سامنے، بڑے سے بڑا شہوت زدہ نظر باز مرد اپنی نظریں جھکانے پر مجبور ہو جاتا ہے.

یہ تو ایسی قوت ہے کہ تنہائی کے گناہ سے بچنے والے حیا دار مرد کے آگے شہوت زدہ عورت بھی خوفِ الہی سے اپنے قدم موڑ لیتی ہے.

صرف ایک بار ابلیس کا سر کچلنا ہوتا ہے....
اس نے بھی کچلا تھا.

"مومن میری نفسانی خواہش تو نہیں تھا اللہ جی.... وہ تو زندگی میں آنے والی واحد ایمانی کمک تھا، جسے سوچ کر ہی میرا ایمان بڑھ جاتا تھا. ..
اللہ جی... میں شرمندہ ہوں تیرے آگے، میری آنکھوں سے آنسو ایک مرد کے لیے بہہ رہے ہیں.
اِیاد کرب میں تھی.
وہ فاسق و فاجر ہوتا تو نفرت کرتی اس سے....
میں مومن سے نفرت نہیں کر سکتی...
میں اب کی بار بے بس ہوں...

انسان ایسا ہی بے بس ہے، کائنات مسخر کرنے والا، غم و بیماری کے آگے بے بس ہو جاتا ہے. فتح کا تاج سر پر پہننے والا انسان عاجز بھی ہوتا ہے، روتا بھی ہے.

اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُو
اِیاد کے ہونٹوں پر کرب لفظوں میں جاری ہونے لگا.

اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضَعْفَ قُوَّتِی 
اے اللہ ! میں اپنی طاقت کی ناتوانی

وَ قِلَّۃَ حِیْلَتِیْ 
اپنی قوت عمل کی کمی

وَ ھَوَ انِی عَلٰی النَّا سِ
لوگوں کی نگاہوں میں اپنی بے بسی کا شکوہ تیری بارگاہ میں کرتی ہوں

یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ 
اے ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا رب ہے

وَاَنْتَ رَبِّی 
تو میرا بھی رب ہے

اِلٰی مَنْ تَکِلُنِیْ
تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے

اِلٰی بَعِیْدٍ یَتَجَھَّمُنِی
ایسے بعید کے حوالے جو ترش روئی سے میرے ساتھ پیش آتا ہے

اَمْ اِلٰی عَدُوٍّمَلَّکْتَہٗ اَمْرِیْ 
کیا کسی دشمن کو تو نے میری قسمت کا مالک بنادیا ہے

اِنْ لّمْ یَکُنْ بِکَ عَلیَّ غَضَبٌ فَلَا اُبَالِیْ
اگر تو مجھ پر ناراض نہ ہو تو مجھے ان تکلیفوں کی ذرا پروا نہیں

وَلٰکِنَّ عَافِیَتُکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ 
پھر بھی تیری طرف سے عافیت اور سلامتی میرے لیے زیادہ دلکشا ہے

اَعُوْذُبِنُوْرِوَجْهِکَ الَّذِیْ
میں پناہ مانگتی ہوں تیری ذات کے نور کے ساتھ۔

اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ
جس سے تاریکیاں روشن ہوجاتی ہیں

وَصَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُالدُّنْیَا وَالْآٰخِرَۃِ
اوردنیا و آخرت کے کام سنور جاتے ہیں

مِنْ اَنْ تُنَزِلِ بِیْ غَضَبَکَ
کہ تو نازل کرے اپنا غضب مجھ پر

اَوْ یَحِلَّ عَلَیَّ سَخَطُکَ
یا تو اتارے مجھ پر اپنی ناراضگی

لَکَ الْعُتْبٰی حَتیّٰ تَرْضٰی
میں تیری رضا طلب کرتی رہوں گی یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے

وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃ َاِلَّا بِکَ
تیری ذات کے بغیر نہ میرے پاس کوئی طاقت ہے نہ قوت....

9 سال پہلے دعاء طائف ، کرب میں ہی یاد کی تھی. اور کرب کی ہر حالت میں مانگی تھی. آج بھی بے بسی کی حالت میں لبوں پر جاری ہوئی. دعا کا ہر ہر لفظ دل کی حالت کا ترجمان تھا.

کتنے احسانات ہیں اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم پر... اور ہم سے اتنا بھی نہ ہوتا تھا کہ اپنی زندگیوں کو اللہ اور اس کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کی خواہش کے تابع کر لیں.

ایاد اسی محمدی اور ایمانی زندگی کی تگ و دو میں تھی... اھواء کی ماری ہوئی زندگی سے بچ کر بھاگ رہی تھی... اِیاد سفید چادر کا مفہوم سمجھ گئی تھی.
وہ اللہ کی رحمت تھی جس نے ہمیشہ سے اِیاد کو ڈھک کر رکھا ہوا تھا.

"ایاد، تمہیں پتا ہے نا کہ جب اللہ نے،تمہیں کچھ سکھانا ہوتا ہے تو بہت غم میں مبتلا کرتا ہے" امّاں نے ایک بار اسے بتایا تھا...

یہ سچا راز تھا. انسان کو غم بہت رأس ہے. دنیا کے فانی دکھ غم کے انعام میں دائمی خوشیوں والی جنت ہے.
بس انتظار کی اک مدت سہنی تھی. ہر ایک نے سہنی ہے. اور اسی مدت میں انسان، اگر اللہ کی مان لے تو سرخرو ہوتا ہے کیونکہ

حسنِ وصل میں بس اِک موت مانعہ ہے.


 ·  Translate
13 comments on original post
125
15
Ajmal Phullarwan (ajo)'s profile photoCh FaiSal Rehman's profile photoFaraz Baloch's profile photoMohammad Sumon's profile photo
5 comments
 
Awsm
Add a comment...
 
Nice words....
78
17
mari khan's profile photoBinte Ameen's profile photoAmtul Baseer's profile photoMuhammad Yousaf's profile photo
4 comments
 
nice
Add a comment...
 
Dua-e-Noor

اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِي قَلْبِي نُوْراً، وَفِي لِسَانِي نُوْراً، وَفِي سَمْعِي نُوْراً، وَفِي بَصَرِي نُوْراً، وَمِنْ فَوْقِي نُوْراً، وَمِنْ تَحْتِي نُوْراً، وَعَنْ يَمِيْنِي نُوْراً، وَعَنْ شِمَالِي نُوْراً، وَمِنْ أَمَامِي نُوْراً، وَمِنْ خَلْفِي نُوْراً، وَاجْعَلْ فِي نَفْسِي نُوْراً، وَأَعْظِمْ لِي نُوْراً، وَعَظِّمْ لِي نوراً، وَاجْعَلْ لِي نُوْراً، وَاجْعَلْنِي نُوْراً، اللَّهُمَّ أَعْطِنِي نُوْراً، وَاجْعَلْ فِي عَصَبِي نُوْراً، وَفِي لَحْمِي نُوْراُ، وَفِي دَمِي نُوْراً، وَفِي شَعْرِي نُوْراً، وَفِي بَشَرِي نُوْراً، [اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي نُوْراً فِي قَبْرِي.. ونوراً فِي عِظَامِي] [وزِدْنِي نُوراً، وزِدْنِي نُوراً، وزِدْنِي نُوراً ] [وَهَبْ لِي نُوْراً عَلَى نُوْرٍ]
O Allaah, place light in my heart, and on my tongue light, and in my ears light and in my sight light, and above me light, and below me light, and to my right light, and to my left light, and before me light and behind me light. Place in my soul light. Magnify for me light, and amplify for me light. Make for me light and make me a light. O Allaah, grant me light, and place light in my nerves, and in my body light and in my blood light and in my hair light and in my skin light. [O Allaah, make for me a light in my grave... and a light in my bones.] [Increase me in light, increase me in light, increase me in light.] [Grant me light upon light.]
Aameen,
*Allahumma Aameen...*
 ·  Translate
135
13
Babaabdullah Asamiftikhar's profile photoTanveer Zohaib's profile photoSarat bint hamdan Nassimbwa (sabihamna)'s profile photoMuhammad Moosa's profile photo
8 comments
 
Ameen
Add a comment...
 
جمعہ کا دن ہمارے لئے اتنا ہم کیوں ؟
*************
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! 
جن دنوں میں آفتاب طلوع ہوتا ہے ان میں سے بہترین دن جمعہ کا دن ہے اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا ، اسی میں انہیں جنت میں داخل کیا گیا ، اس میں ان کو اس سے نکالا گیا اور قیامت بھی صرف جمعہ کے دن قائم ہو گی .
........................مسلم #٨٥٤ ..................

اے ایمان والو ! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو ..............الجمعہ #٩ 

فرمایا ! لوگوں نماز جمعہ چھوڑ نے سے ضرور بعض آ جایں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں مہر لگا دیں گے پھر وہ لازما غافل لوگوں میں شمار ہوں گے .......مسلم #٨٦٥ 

فرمایا ! جس شخص نے سستی کاہلی سے تین جمعے چھوڑ دئیے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیں گے .............ابن ماجہ #١١٢٥
 ·  Translate
220
22
Asif Ali's profile photoTAIMOOR ARIF's profile photoAjmal Phullarwan (ajo)'s profile photonilam Zain's profile photo
8 comments
 
Nice
Add a comment...
In her circles
169 people
Have her in circles
48,098 people
syed allah wasaya shah's profile photo
nauman ali's profile photo
Nadeemkhan Nadeemkhan's profile photo
shahab uddin's profile photo
adem Alqasemi's profile photo
Feroz Khan's profile photo
ebuka simon's profile photo
Fasih Shaikh's profile photo
rimsha aziz's profile photo
 
There are times when one would feel completely lost and empty inside. To smile or cry even they wouldn't know. This is the moment when your heart is wanting Allah but your mind is unaware.

To feel lost and lonely is a time when you truely need to understand that only Allah can fill your heart, make you smile, and give you joy.

All you need to do is remember Him and He'll be there for you.
#islam  
130
9
shabir9668@gmail.com Malik's profile photoAliha Noor Niazi's profile photoHanis Afiqah's profile photoMohammad Sumon's profile photo
4 comments
 
Surely subhanallah
Add a comment...
 
 
پنجتن پاک نہیں بلکہ ھر تن پاک کہا کرو
 ·  Translate
9 comments on original post
154
25
Ana Muslimah's profile photoHaji Mahmood's profile photo
 
 
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻟﻤﺒﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ’’ ﮐﺎﮐﺎ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ’’ ﮐﯿﺎﺁﭖ ﮐﻮ
ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺳﻮﻧﺎ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ ‘‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ
’’ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ’’ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﻧﺴﺨﮧ
ﺳﮑﮭﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﺗﻢ ﺳﯿﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ ‘
‘ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ‘ ﻭﮦ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﺭﮨﺎ ‘ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻡ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﮐﺎ ﺷﺪﯾﺪ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﺩﮨﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺑﮯ ﺣﺎﻟﯽ
ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﭘﺎﺋﻮﮞ ﭘﺮ ﮔﺮﺍ ﺭﮨﺎ ‘ ﻭﮦ ﭘﮭﺮ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ
ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’
ﺗﻢ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﻭﮞ
ﮔﺎ
‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ
‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮞ ﮔﺎ ‘ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ‘‘
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﮍﭖ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ’’ ﮔﻮﯾﺎﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﻧﮩﯿﮞﺴﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ
ﺧﻮﺷﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ
‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﻨﺠﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ
ﮨﻮ؟ ‘‘
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮨﺮﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ
ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻨﻔﯿﻮﺯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ
ﮐﻨﻔﯿﻮﮊﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﺩﯾﺎ ‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﺎ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﭘﺮ ﮨﻮﺍ ‘ ﻭﮦ ﺩﻡ
ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ ’’ ﮐﺎﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ
ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﺩﻭﮞ
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﭘﺮﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﮔﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﺩﻭﮞ ‘‘
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ‘ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ’’ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﺱ
ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ
ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﻟﻮ ‘ ﺗﻢ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺋﻮ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ
ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﭘﺎ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﻮﮔﮯ ‘‘
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﺑﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ ‘ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﺸﮑﯿﮏ ﭘﮍﮪ ﻟﯽ ‘ ﻭﮦ
ﺑﻮﻻ ’’ ﺗﻢ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﻮ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﺘﮭﮍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮩﺘﺎ
ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﮕﮯ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ‘‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮦ ﺩﺭﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ’’ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ
ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ ‘ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺧﺒﻂ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺗﮭﺎ
‘ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﺑﮭﯽ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺩﻭﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ
ﺧﻮﺷﯽ ﻧﮧ ﺩﯼ ‘
ﺧﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ‘ ﺍﺱ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﯽ ﮔﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﺑﺎﺭﮦ ﺩﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺍﻣﺎﻥ
ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺻﺒﺮﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ
’’ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ
! ﺗﻢ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﺎﻧﺒﮯ ﮐﻮﺳﻮﻧﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﺒﻂ ﭘﺎﻟﺘﮯ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ
ﺑﮭﭩﮑﺘﮯ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ۔ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ‘‘ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ
ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﭨﮩﻨﯽ ﺗﻮﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﺭﮔﮍ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ’’
ﻟﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ‘ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ
ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺩﻭ ‘ ﺟﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﻮ ﭼﮭﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ
ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ ‘ ﺟﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﻮ ‘ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ
ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ‘
ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘ ﮨﺠﻮﻡ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﻭ ‘ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻨﺎﺋﻮ ‘ ﻣﻔﺘﯽ ﮨﻮ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ
ﻓﺘﻮﯼٰ ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﺴﮯ ﺧﺪﺍ ﮈﮬﯿﻞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﺎﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘
ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﭻ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﭻ ﺑﻮﻟﻮ ‘ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻮ ‘ ﻟﻮﮒ
ﻟﺬﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﺬﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺑﺮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﻮ ‘ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ
ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ‘
ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﮯ ‘ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﻢ ‘ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﺟﺎﺋﻮ
ﮔﮯ ‘ ﭼﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ۔
ﺳﺎﺩﮬﻮﺋﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺟﮓ
ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ‘ ﻭﮦ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ‘
ﺗﻢ ﺟﺐ ﻋﺰﯾﺰﻭﮞ ‘ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ‘ ﺍﻭﻻﺩ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﮍﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻢ ﺳﮯ
ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺣﻢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ
ﻟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﺎﻟﻖ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﮭﺎﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ‘‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﮐﮭﻮﻟﯽ ‘ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
’ ﺟﺎﺋﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﯾﮧ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ‘ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ
ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ‘ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﯾﻨﺎ ‘ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ﮨﮯ ‘
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﺎ ‘ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ
ﺟﻮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﮕﺮﺟﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ‘ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ

ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﮯ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ‘
 ·  Translate
100
S Shah's profile photoGhazal Khan's profile photoBakhti zaman yousafzai's profile photoAli Wahid (Khan)'s profile photo
32 comments
 
+ارتقاءِ فلاح
آمین یا رب العالمین،
اللہ آپکی دعا قبول فرمائے،
 ·  Translate
Add a comment...
 
جو دل رب کی رضا پہ راضی ہونا سیکھ لیتے ہیں
وہ سکون میں آ جاتے ہیں
غم ،دکھ ،تکلیفیں .... دکھی نہیں کیا کرتیں ایسے لوگوں کو، اپنے دلوں کو رب کی رضا میں راضی کرنا سیکھائیں
اور جب ہم کہتے ہیں نہ کہ
رضیت باللہ ربا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں اللہ کے رب ہونے پر راضی ہو گئی/ گیا
تو اسکا مطلب یہ کہ اس نے مجھے جس حال میں رکھا میں شکوہ نہیں کروں گی/کرونگا
میں راضی ہوں
رب راضی تو میں بھی راضی

مجھے رب نے جیسا بنایا، جن حالات میں رکھا، جس فیملی میں پیدا کیا، جیسے رشتے عطا کئے ، اس کے علاوہ جو بھی معاملات ہوں
الہی میں خوش ہوں
اگر مجھے موقع دیا جاتا اپنے لئے کچھ چننے کا تو یقینًا میں اپنے حق میں صحیح فیصلے نہ کر پاتی/پاتا ....تو مجھے سے ،میرے سے زیادہ محبت کرتا ہے
اس لئے تو نے مجھے جو دیا ، جو دے کے چھین لیا میں سب پر راضی ہو ں

یااللہ مجھے اپنی رضا میں راضی ہونا سیکهادے ... آمین یارب العالمین
😢😢😢
 ·  Translate
154
17
MRS, AQEEL Ahmed's profile photoGhazal Khan's profile photoAjmal Phullarwan (ajo)'s profile photoNawaz Asim's profile photo
22 comments
 
Ameen
Add a comment...
 
ﺟﺲ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺗﻮﻗﻊ ﮐﺎ ﭘﻮﺩﺍ ﺍﮐﮭﺎﮌ ﮐﺮ ﭘﮭﯿﻨﮏ ﺩﻭ ﮔﯽ، ﯾﻘﯿﻦ ﻣﺎﻧﻮ، ﮐﻮئی ﭼﯿﺰ ﺩﮐﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﮔﯽ ـ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽﻣﻌﺬﻭﺭﯼ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺩﮐﮫ ﮨﮯ ﮨﯽ ۔۔۔۔ ﻟﯿﮑﻦ ﮨﺮ ﻟﻤﺤہ ٹھوﮐﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺭﮨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﻝ ﻣﻌﺬﻭﺭ ہو ﺟﺎﮰ ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮍﺍﮐﺮﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ـ
 ·  Translate
162
8
Rukhsana Shaikh's profile photonasir abbas's profile photoIrfan Chaudhri's profile photomuhammad iqbal's profile photo
14 comments
 
Sach kha
Add a comment...
 
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
جو شخص سورت الکھف کی تلاوت جمعے کے دن کرے گا تو آئندہ جمعے تک اس کے لیے ایک خاص نور کی روشنی رہے گی۔
(صحیح الترغیب 836)`
.. جمعہ کے دن یا جمعۃ کی رات میں سورۃ الکھف پڑھنے کی فضیلت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح احادیث وارد ہیں جن میں سےکچھ کا ذکرذیل میں کیا جاتا ہے :
ا - ابوسعید خدری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جس نے جمعہ کی رات سورۃ الکھف پڑھی اس کے اور بیت اللہ کے درمیان نورکی روشنی ہوجاتی ہے ) سنن دارمی ( 3407 ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع ( 6471 ) میں اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے ۔

ب – فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے :

( جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اسے کے لیے دوجمعوں کے درمیان نورروشن ہوجاتا ہے ) مستدرک الحاکم ( 2 / 399 ) بیھقی ( 3 / 249 ) اس حدیث کے متعلق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی " تخریج الاذکار " میں کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن ہے ، اور ان کا کہنا ہے کہ سورۃ الکھف کے بارہ میں سب سےقوی یہی حديث ہے ۔ دیکھیں " فیض القدیر " ( 6 / 198 ) اور علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح الجامع ( 6470 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

ج - ابن عمررضی اللہ تعالی بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

جس نے جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھی اس کے قدموں کے نیچے سے لیکر آسمان تک نور پیدا ہوتا ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے روشن ہوگا اور اس دونوں جمعوں کے درمیان والے گناہ معاف کردیۓ جاتے ہیں ۔

منذری کا کہنا ہے کہ : ابوبکر بن مردویہ نے اسے تفسیر میں روایت کیا ہے جس کی سند میں کوئ حرج نہیں ، لاباس بہ کہا ہے ۔ الترغیب والترھیب ( 1 / 298 ) ۔

سورۃ الکھف جمعہ کی رات یا پھر جمعہ کے دن پڑھنی چاہیے ، جمعہ کی رات جمعرات کومغرب سے شروع ہوتی اور جمعہ کا دن غروب شمس کے وقت ختم ہوجاتا ہے ، تو اس بناپر سورۃ الکھف پڑھنے کا وقت جمعرات والے دن غروب شمس سے جمعہ والے دن غروب شمس تک ہوگا ۔

مناوی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :

حافظ ابن حجررحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " امالیہ " میں کہا ہے کہ : کچھ روایا ت میں اسی طرح ہے کہ یوم الجمعۃ اور کچھ روایات میں لیلۃ الجمعۃ کے الفاظ ہیں، اور ان میں جمع اس طرح ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ لیا جاۓ کہ دن اس کی رات کے ساتھ اور رات اپنے دن کے ساتھ ، ( یعنی یوم الجمعۃ کا معنی دن اوررات اورلیلۃ الجمعۃ کا معنی یہ ہوگا کہ رات اور دن ) فیض القدیر( 6 / 199 )۔

اور مناوی رحمہ اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ :

جمعہ کے دن سورۃ الکھف پڑھنی مندوب ہے اورجیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی سے یہ منصوص ہے کہ جمعہ کی رات بھی پڑھی جاسکتی ہے ۔ دیکھیں فیض القدیر ( 6 / 198 ) ۔

جمعہ کے دن سورۃ آل عمران کی تلاوت کرنے کے متعلق جتنی بھی احادیث وارد ہیں ان میں کوئ ایک بھی صحیح نہیں بلکہ یا تووہ ضعیف اور یاپھر موضوع ہیں ۔

ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

( جمعہ کے دن جس نے بھی سورۃ آل عمران پڑھی اس پر اللہ تعالی اوراسکے فرشتے غروب شمس تک رحمتیں بھیجتے ہیں ) ۔ اسے طبرانی نے المعجم الاوسط ( 6 / 191 ) اور معجم الکبیر ( 11 / 48 ) میں روایت کیا ہے ۔

یہ حدیث بہت ہی زیادہ ضعیف یا پھر موضوع ہے ۔

اس کے متعلق ھیثمی کا کہنا ہے کہ : اسے طبرانی نےالمعجم الاوسط اور معجم الکبیرمیں روایت کیا ہے اس کی سند میں طلحۃ بن زید الرقی ضعیف ہے ۔ مجمع الزوائد ( 2 / 168 )

اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں کہ : طلحۃ ضعیف جدا ہے بلکہ امام احمد اور ابوداود رحمہما اللہ نے تواس کی طرف وضع کی نسبت کی ہے ۔ فیض القدیر ( 6 / 199 ) ۔

اورشیخ علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کوموضوع قرار دیا ہے دیکھیں ضعیف الجامع حدیث نمبر ( 5759 ) ۔

اور ایسے ہی اس ( سورۃ آل عمران ) کے بارہ میں تمیمی رحمہ اللہ تعالی نے " الترغیب " میں یہ حدیث روایت کی ہے :

( جس نے جمعہ کی رات سورۃ آل عمران پڑھی اسے اتنا اجر ملے گا جتنا کہ بیداء یعنی ساتویں زمین اور عروب یعنی ساتویں آسمان کے درمیان فاصلہ ہے ) اس حدیث کے بارہ میں مناوی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ یہ غریب اور بہت ہی ضعیف ہے ۔ دیکھیں " فيض القدیر " ( 6 / 199 ) ۔

واللہ تعالی اعلم ۔
—
 ·  Translate
236
28
Muhammad Yousaf's profile photoAsif Ali's profile photoShahzad Azad's profile photoMohammad Sumon's profile photo
6 comments
 
Subhan allah 
Add a comment...
People
In her circles
169 people
Have her in circles
48,098 people
syed allah wasaya shah's profile photo
nauman ali's profile photo
Nadeemkhan Nadeemkhan's profile photo
shahab uddin's profile photo
adem Alqasemi's profile photo
Feroz Khan's profile photo
ebuka simon's profile photo
Fasih Shaikh's profile photo
rimsha aziz's profile photo
Work
Skills
Allah has Gifted me with a lot... They are countless.... Alhumdulillah ☺
Basic Information
Gender
Female
Story
Tagline
حَسبُنَا اللہِ وَنِعمَ الوَکِیل.
Places
Map of the places this user has livedMap of the places this user has livedMap of the places this user has lived
Previously
In A Temporary Place Called Dunya...