Profile

Cover photo
‫ارتقاءِ فلاح‬‎
Lived in In A Temporary Place Called Dunya...
49,546 followers
AboutPostsPhotosVideos

Stream

 
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 

اُمت ِمسلمہ میں شرک کا وجود؟ 

شرک اور اس کی ذیلی صورتوں سے بچنے کے لئے کتاب وسنت میں بے شمار ہدایات پائی جاتی ہیں، اور علماے کرام عوام الناس کو اس کی تلقین بھی کرتے رہتے ہیں۔ لیکن کچھ عرصہ سے بعض لوگوں نے شرک کی ایک خودساختہ تعریف متعین کرکے عوام الناس میں پائے جانے والی شرکیہ کوتاہیوں کو تحفظ دینے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ مختلف شہروں میں 'عقیدئہ توحید' کے نام سے سمینار منعقد کرکے ان میں نہ صرف عوام الناس کو مغالطہ دیا جارہا ہے بلکہ یہ دعویٰ بھی کیا جارہا ہے کہ اُمت ِمسلمہ میں شرک کا وجود ہی سرے سے ناممکن ہے، اس لئے شرک سے بچنے کی تدابیر اضافی اور بے فائدہ ہیں۔ زیر نظر مضمون میں شرک کی ناقص اور خودساختہ تعریف کی قرآنی آیات اور ائمہ اسلاف کے ذریعے تردید کرنے کے بعد اُمت ِمسلمہ میں شرک کے وجود کو آیاتِ کریمہ سے ثابت کیا گیا ہے تاکہ عوام الناس اس کے بارے میں فکر مند ہوں، اپنے اعمال کے بارے میں توجہ کریں، نہ کہ مطمئن ہوکر بیٹھ جائیں۔ ہر دو نکات پر بکثرت قرآنی دلائل اس لئے پیش کئے گئے ہیں تاکہ حق کے متلاشی کے لئے یہ مسائل ظاہر وباہر ہوجائیں اور کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہ رہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین اسلام کو خلوص کے ساتھ سمجھنے اور اس پر عمل کی توفیق مرحمت فرمائے۔ ح م

اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ایمان و توحید ہے اور بلاشبہ اسے تعلیماتِ اِسلامیہ میں اَساس اور مرکز و محور کی حیثیت حاصل ہے جب کہ برے اَعمال میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز شرک ہے۔جس قدر اس کی مذمت کی گئی ہے، اس قدر کسی اور چیز کی شناعت بیان نہیں کی گئی۔اسی توحید کے اثبات اور تبلیغ و اشاعت اور شرک کے نقصان و بُرائی کو واضح کرنے اور لوگوں کو اس سے روکنے کے لیے انبیا و رسل علیہم السلام مبعوث ہوتے رہے اور یہی ان کی دعوت و کاوش کا مرکزی نکتہ رہا ہے اور اسی میں اُنہوں نے اپنی زندگیاں صرف کردیں اور ان کے بعد علماے ربانی بھی اسی متاعِ عزیز کو سینے سے لگائے ہر دور میں حقِ وراثت ِانبیا ادا کرتے چلے آرہے ہیں۔جب کہ مقابلہ میں ابلیسِ لعین بھی اپنے لاؤلشکر سمیت ہر دور میں نت نئے انداز و مغالطہ جات سے اور اب تو جدید ہتھیاروں سے لیس حملہ آور ہے اور اس کے کارندے بھی مخصوص مفادات کی خاطر، اللہ تعالیٰ کی مخلوق کو دامِ فریب میں پھانسنے کے لیے، تلبیسانہ انداز میں ملمع سازی کرکے ظلم عظیم کو صراطِ مستقیم، شرک و گستاخی کو رشد و ہدایت اور عشق و محبت کے روپ میں پیش کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں،لیکن یاد رہنا چاہئے کہ توحید و سنت کے چراغ شرک و گستاخی کی پھونکوں سے کیونکر بجھائے جاسکتے ہیں۔

اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتے ہیں :

{یُرِیْدُوْنَ أنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اﷲِ بِأفْوَاھِھِمْ وَیَاْبَی اﷲُ اِلَّا اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْکَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ é ھُوَّ الَّذِیْ أرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ وَلَوْکَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ} (التوبہ:۳۲،۳۳)

''وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہہ (کی پھونکوں) سے بجھا ڈالیں، لیکن اللہ کو یہ بات منظور نہیں ہے، وہ اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا خواہ یہ بات کافروں کو کتنی ہی ناگوار گزرے۔ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اس دین کو سب اَدیان پر غالب کردے۔خواہ یہ بات مشرکوں کو کتنی ہی ناگوار ہو۔''

اس مذموم کاروبار کو رواج دینے اور سند ِجواز بخشنے کے لیے بعض مفکرین کی طرف سے یہ دعویٰ بھی کیا جانے لگا ہے کہ شرک تو ہمیشہ کے لیے نابود ہوچکا ہے۔ اب اس اُمت میں شرک نہیں پایا جاسکتا اور کوئی مسلمان مشرک نہیں ہوسکتا اور ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق، عوام کو مغالطہ دیتے ہوئے اب یہ بھی کہا جانے لگا کہ شرک کی مذمت والی آیات و اَحادیث میں مراد رِیاکاری یعنی شرکِ اصغر ہے نہ کہ شرکِ اکبر، اورکبھی ان کو قربِ قیامت کے لوگوں کے ساتھ خاص قرار دے کر جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے اور کبھی بیان کیا جاتا ہے کہ

''شرک تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو واجب الوجود مانا جائے یا اُس کی کسی صفت کو قدیم اور مستقل بالذات مانا جائے یا اس کو مستحقِ عبادت قرار دیا جائے۔ اس کے سوا کوئی قول اور فعل شرک نہیں ہے۔'' (نعمۃ الباري في شرح صحیح البخاري:۲؍۱۸۵)

تارِ عنکبوت سے کمزور اس اُصول کی حقیقت تو اس بات سے ہی کھل جاتی ہے کہ اس قاعدہ سے تو مشرکینِ عرب بھی مشرک ثابت نہیں ہوتے اور شاید اس طرح یہ لوگ اپنے سے زیادہ مشرکینِ عرب کا دفاع کرنا چاہتے ہیں۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کو ہی خالق، مالک، رازق اور واجب الوجود مانتے تھے اور اپنے معبودانِ باطلہ کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق، ملکیت اور اس کے ماتحت تصور کرتے تھے نہ کہ واجب الوجود۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ رقم طراز ہیں:

''واعلم أن للتوحید أربع مراتب: إحداھا حصر وجوب الوجود فیہ تعالیٰ فلا یکون غیرہ واجبًا۔ والثانیۃ حصر خلق العرش والسموات والأرض وسائر الجواھر فیہ تعالیٰ وھاتان المرتبتان لم تبحث الکتب الالھیۃ عنھما ولم یخالف فیھما مشرکوا العرب ولا الیھود ولا النصارٰی بل القرآن ناص علی أنھما من المقدمات المسلمۃ عندھم''

''تو جان لے یقینا توحید کے چار درجے ہیں:پہلا یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی میں واجب الوجود ہونے کی صفت پائی جاتی ہے پس اس کے سوا واجب الوجود کوئی نہیں ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی عرش، آسمانوں، زمینوں اور تمام جواہر کا خالق ہے۔ (یاد رہے کہ) آسمانی کتابوں نے ان دو مراتب سے بحث نہیں کی اور نہ ہی مشرکینِ عرب اور یہود و نصاریٰ نے ان میں اختلاف کیاہے بلکہ قرآنِ پاک کی اس پر نص قطعی ہے کہ ان کے نزدیک یہ دونوں باتیں مسلمات میں سے ہیں۔'' (حجۃ اﷲ البالغۃ:۱؍۵۹)

اللہ تعالیٰ ہی آسمان وزمین اور پوری کائنات کا خالق ہے!

۱ اِرشاد باری تعالیٰ ہے :

{وَلَئِنْ سَألْتَھُمْ مَنْ خَلَقَھُمْ لَیَقُوْلَنَّ اﷲُ فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ}(الزخرف:۸۷)

''اور اگر آپ(1) ان سے پوچھیں کہ اُنہیں کس نے پیدا کیا؟ تو یہ ضرور کہیںگے کہ اللہ تعالیٰ نے، پھر کہاں سے یہ دھوکہ کھا رہے ہیں۔''

۲ اِرشادِ باری تعالیٰ ہے:

{وَلَئِنْ سَألْتَھُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمٰوٰاتِ وَالأَرْضِ لَیَقُوْلُنَّ اﷲُ قُلِ الْحَمْدُ ﷲِ بَلْ أکْثَرُھُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ} (لقمان:۲۵)

''اور اگر آپ(1) ان سے پوچھیں، آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والا کون ہے؟ تو یہ ضرور کہیں گے اللہ تعالیٰ ، کہو: الحمدللہ، مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں۔''

۳ ایک اور مقام پر فرمایا:

{وَلَئِنْ سَألْتَھُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمٰوٰاتِ وَالأَرْضِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَیَقُوْلُنَّ اﷲُ فَأنّٰی یُؤْفَکُوْنَ é اَﷲُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَائُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ لَہُ إنَّ اﷲَ بِکُلِّ شَيْئٍ عَلِیْم é وَلَئِنْ سَألْتَھُمْ مَنْ نَزَّلَ مِنَ السَّمَائِ مَائً فَأحْیَا بِہِ الأَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِھَا لَیَقُوْلُنَّ اﷲُ قُلِ الْحَمْدُ ﷲِ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْقِلُوْنَ} (العنکبوت:۶۱تا۶۳)

''اور اگر تم ان لوگوں سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا ہے تو یہ ضرور کہیںگے کہ اللہ نے۔ پھر یہ کدھر سے دھوکہ کھا رہے ہیں؟ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے، یقینا اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ہے اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ سے مردہ پڑی ہوئی زمین کو زندہ کردیا تو وہ ضرور کہیں گے: اللہ نے، کہو: الحمدﷲ، مگر ان میں سے اکثر لوگ بے عقل ہیں۔''

۴ فرمایا:

{وَلَئِنْ سَألْتَھُمْ مَنْ خَلَقَ السَّمٰوٰاتِ وَالأَرْضِ لَیَقُوْلُنَّ اﷲُ قُلْ أفَرَأیْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ إنْ أرَادَنِیَ اﷲُ بِضُرٍّ ھَلْ ھُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہِ أوْ أرَادَنِیْ بِرَحْمَۃٍ ھَلْ ھُنَّ مُمْسِکٰتُ رَحْمَتِہٖ قُلْ حَسْبِيَ اﷲُ عَلَیْہِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُوْنَ}(الزمر:۳۸)

''اور اگر تم ان سے پوچھو آسمان اور زمین کس نے بنائے تو ضرور کہیں گے اللہ نے۔ تم فرماؤ بھلا بتاؤ تووہ جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا وہ اس کی بھیجی تکلیف ٹال دیں گے یا وہ مجھ پر مہر (رحم) فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی مہر کو روک رکھیں گے تو فرماؤ: اللہ مجھے بس، بھروسے والے اسی پر بھروسہ کریں۔'' (ترجمہ از احمدرضا خان بریلوی ،کنزالایمان)

نعیم الدین مراد آبادی بریلوی اس آیت ِکریمہ کے تحت رقم طراز ہیں:

''یعنی یہ مشرکین خداے قادر، علیم، حکیم کی ہستی کے تو مقر ہیں اور یہ بات تمام خلق کے نزدیک مسلم ہے اور خلق کی فطرت اس کی شاہد ہے۔''

(خزائن العرفان: سورۃ الزمر، حاشیہ نمبر ۸۶)

۵ فرمایا:

{قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِنَ السَّمَائِ وَالأرْضِ أمَّنْ یَّمْلِکُ السَّمْعَ وَالاَبْصَارَ وَمَنْ یُّخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَمَنْ یُّدَبِّرُ الأمْرَ فَسَیَقُوْلُوْنَ اﷲُ فَقُلْ أَفَلَا تَتَّقُوْنَ} (یونس:۳۱)

''آپ (1) کہہ دیں کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے، یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اس کائنات کا انتظام چلا رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ پھر پوچھئے کہ تم اس سے ڈرتے کیوں نہیں؟''

۶ فرمایا:

{قُلْ لِمَنِ الأَرْضُ وَمَنْ فِیْھَا إنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سَیَقُوْلُوْنَ ﷲِ قُلْ أفَلَا تَذَکَّرُوْنَ قُلْ مَنْ رَبُّ السَّمٰوٰاتِ السَّبْعِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ سَیَقُوْلُوْنَ ﷲِ قُلْ أفَلَا تَتَّقُوْنَ قُلْ مَنْ بِیَدِہِ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ وَھُوَ یُجِیْرُ وَلَا یُجَارُ عَلَیْہِ إنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ سَیَقُوْلُوْنَ ﷲ ِقُلْ فَأنّٰی تُسْحَرُوْنَ} (المؤمنون:۸۴ تا ۸۹)

''آپ(1) ان سے پوچھئے کہ اگر تمہیں کچھ علم ہے تو بتاؤ! کہ زمین اور جوکچھ اس میںہے وہ کس کا ہے؟ وہ فوراً کہہ دیں گے اللہ کا، آپ کہئے پھر تم نصیحت قبول کیوں نہیں کرتے؟ پھر پوچھئے کہ سات آسمانوں اور عرش عظیم کامالک کون ہے؟ وہ فوراً کہہ دیں گے کہ یہ (سب کچھ) اللہ ہی کا ہے۔ آپ کہئے: پھر اللہ سے ڈرتے کیوں نہیں؟ پھر پوچھئے کہ اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ ہر چیز پر حکومت کس کی ہے؟ اور وہ کون ہے جو پناہ دیتا ہے مگر اس کے مقابلہ میں کسی کو پناہ نہیں مل سکتی؟ وہ فوراً کہیں گے اللہ ہی ہے۔ آپ کہئے: پھر تم کس جادو کے فریب میں پڑے ہو۔''

مشرکینِ عرب اپنے معبودانِ باطلہ کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق و ملکیت مانتے تھے اور ان کی صفات و اختیارات اور قوت کو قدیم اور مستقل بالذات نہیں مانتے تھے بلکہ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ صفات و اختیارات ان کے ذاتی نہیں ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی عطا کردہ ہیں اُسی کی ملکیت اور اُس کے ماتحت ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، فرماتے ہیں:

کان المشرکون یقولون لبیک لا شریک لک قال فیقول رسول اﷲ ﷺ: 0ویلکم قدٍ قدٍ9 فیقولون: إلا شریکًا ھو لک تملکہ وما مَلَک۔یقولون ھذا وھم یطوفون بالبیت (صحیح مسلم:۱۱۸۵)

''مشرکین بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے کہتے تھے:''لبیک لا شریک لک'' تو رسول اللہ1 فرماتے: ''ہلاکت ہو تمہارے لیے، اسی پر اکتفا کرو'' لیکن وہ کہتے ''إلا شریکًا ھو لک تملکہ وما مَلَک'' یعنی ''اے اللہ! تیرا کوئی شریک نہیں مگر ایسا شریک جو تیرے لیے ہے، تو اس شریک کا بھی مالک ہے اور اس چیز کا بھی مالک ہے جو اس شریک کے اختیار میں ہے۔''

مشرکین مکہ تقربِ الٰہی اور سفارش کے لئے دوسروں کو شریک کرتے تھے!

مشرکین عرب اپنے معبودوں کی پرستش اس لیے کرتے تھے کہ ان کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل ہوجائے یا اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ ہماری سفارش کریں، ان کو مستحق عبادت سمجھ کر ان کی پوجا نہیں کرتے تھے، کیونکہ سفارشی مستقل نہیںہوتابلکہ غیر مستقل ہی ہوتا ہے۔ارشادِ باری ہے:

{إنَّا أنْزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اﷲَ مُخْلِصًا لَہُ الدِّیْنَ، اَلَا ﷲِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖ أوْلِیَائَ مَا نَعْبُدُھُمْ إلَّا لِیُقَرِّبُوْنَا إلَی اﷲِ زُلْفٰی}(الزمر: ۲، ۳)

''بے شک ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب حق کے ساتھ اُتاری، تو اللہ کو پوجو، نرے اس کے بندے ہوکر، ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے، اور جنہوں نے اس کے سوا اور والی بنالئے، کہتے ہیں کہ ہم تو اُنہیں صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کردیں۔'' (ترجمہ از احمد رضا خان بریلوی ،کنزالایمان)

ایک مقام پر ارشاد فرمایا:

{وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اﷲِ مَالَا یَضُرُّھُمْ وَلَا یَنْفَعُھُمْ وَیَقُوْلُوْنَ ھٰؤلَائِ شُفَعَاؤُنَا عِنْدَ اﷲِ قُلْ أتُنَبِّئُوْنَ اﷲَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِیْ السَّمٰوٰاتِ وَلَا فِیْ الأَرْضِ سُبْحٰنَہٗ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ} (یونس:۱۸)

''اور وہ اللہ کے سوا ایسی چیز کو پوجتے ہیں جو ان کا کچھ بھلا نہ کرے اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ تو فرماؤ کیا اللہ کو وہ بات بتاتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے نہ زمین میں، اسے پاکی اور برتری ہے ان کے شرک سے۔'' (ترجمہ از احمدرضا خان بریلوی، کنزالایمان)

معلوم ہواکہ مشرکین عرب اپنے معبودانِ باطلہ کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور ان کی صفات واختیارات کو ان کی ذاتی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ اور ا س کی ملکیت مانتے تھے لہٰذا اُن کو واجب الوجود، اُن کی صفات کو قدیم اور مستقل بالذات اور ان کو مستحق عبادت نہیں مانتے تھے۔ بلکہ ان کی عبادت اس لیے کرتے تھے کہ ان کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل ہوجائے یا ان کی سفارش سے اللہ ہماری ضرورتیں پوری کردیتا ہے۔ مشکل کشائی، حاجت روائی کرتا ہے، شفا بخشتا ہے، ہماری سنتا نہیں، ان کی موڑتا نہیں وغیرہ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی عبادت کرتے، اور مافوق الاسباب اختیارات کامالک سمجھتے اور پکارتے تھے، ان کو نفع و نقصان کے حصول میں مستقل نہیںمانتے تھے، کیونکہ سفارشی مستقل نہیں ہوتالہٰذا وہ اُنہیں غیرمستقل مانتے تھے اور انہیں اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان واسطہ، وسیلہ اور ذریعہ قرار دیتے تھے جسے اللہ تعالیٰ نے شرک قرار دیا ہے۔ لہٰذا شرک کے پائے جانے کے لئے

''شرک تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو واجب الوجود مانا جائے یا اس کی کسی صفت کو قدیم اور مستقل بالذات مانا جائے یا اس کو مستحق عبادت قرار دیا جائے اس کے سوا کوئی قول اور فعل شرک نہیں ہے۔'' (نعمۃ الباري: ۲؍۱۸۵)

کی شرط لگانا سراسر باطل ہے۔ اس سے تو مشرکین عرب کاشرک بھی ثابت نہیں ہوتا اور یہ قرآنِ پاک کے خلاف ہے، لیکن اگرپھر بھی کوئی بضد ہو تو پھر اسے اب یہ دعویٰ بھی کردینا چاہئے کہ ''مشرکین عرب میں بھی شرک نابود تھا اور اُن کا کوئی فرد بھی مشرک نہیں تھا۔'' معاذ اللہ تاکہ غلط نظریات کے دفاع کا صحیح حق ادا ہوجائے اور اپنے اس خود ساختہ اُصول سے بھی کماحقہ فائدہ اٹھایا جاسکے۔ حالی لکھتے ہیں:

مگر مؤمنوں پر کشادہ ہیں راہیں

پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

نیز

نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے

نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

اُمت ِمسلمہ میں بھی شرک پایا جاتا ہے!

سوال یہ ہے کہ کیا کوئی مسلمان ''اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو واجب الوجود یا اس کی کسی صفت کو قدیم اور مستقل بالذات مان سکتا ہے یا اس کو عبادت کا مستحق قرار دے سکتا ہے یا نہیں؟''

اگر کوئی مسلمان ایسا کرسکتا ہے تو اس اُمت میں شرک بھی پایا جاسکتا ہے اور یہ مزعومہ دعویٰ کہ ''اس امت میں سے شرک ہمیشہ کے لیے نابود ہوچکا ہے اور اب کوئی مسلمان شرک کا مرتکب نہیں ہوسکتا'' سراسر باطل قرار پاتا ہے۔ یا پھر ان جدید مفکرین کی طرف سے اپنے اس بیان کردہ اُصول کو بھی ریا کاری یعنی شرکِ اصغر پر محمول کرلیا جائے گا؟ اس صورت میں تو ''اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو واجب الوجود یا اس کی کسی صفت کو قدیم اور مستقل بالذات ماننا اس کو مستحق عبادت قرار دینا'' بھی ان اصحابِ جبہ و دستار کے نزدیک شرکِ اکبر نہیں ہوگا۔ یا پھر اپنے اس اُصول کوبھی قربِ قیامت کے لوگوں کے ساتھ خاص قرار دے لیں گے؟

جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے!

اور اگر کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو ایسا نہیں مان سکتا تو پھر یہ مزعومہ اصول کہ ''شرک تو صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو واجب الوجود یا اس کی کسی صفت کو قدیم اور مستقل بالذات مانا جائے یا اس کو عبادت کا مستحق قرار دیا جائے اس کے سوا کوئی قول اور فعل شرک نہیں ہے۔'' (نعمۃ الباري:۲؍۱۸۵) قرآنِ پاک کے مخالف ہونے کے سبب بذاتِ خود باطل قرار پاتا ہے کیونکہ قرآنِ پاک سے یہ ثابت ہے کہ مسلمان اپنے ایمان کے ساتھ شرک کی آمیزش کرسکتا ہے۔

۱ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

{فَأيُّ الْفَرِیْقَیْنِ أحَقُّ بِالأمْنِ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ اُوْلٰئِکَ لَھُمُ الأَمْنُ وَھُمْ مُھْتَدُوْنَ} (الانعام:۸۱،۸۲)

''تو دونوں گروہوں میں امان کا زیادہ سزاوار کون ہے اگر تم جانتے ہو، وہ جو ایمان لائے اور اپنے ایمان میں کسی ناحق کی آمیزش نہ کی، اُنہیں کے لیے امان ہے اور وہی راہ پر ہیں۔'' (ترجمہ از مولانا احمدرضا خان بریلوی ، کنزالایمان)

اس آیت ِمبارکہ میں ظلم سے مراد شرک ہے جیسا کہ حدیث ِمبارکہ میں آپ1 نے وضاحت فرما دی ہے:

عن عبد اﷲ قال لمّا نزلت {اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَلَمْ یَلْبِسُوْا إیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍ} شق ذلک علی أصحاب رسول اﷲ ! وقالوا أینا لایظلم نفسہ؟ فقال رسول اﷲ!: 0لیس ھو کما تظنون إنّما ھو کما قال لقمان لابنہ {یٰبَنِيَّ لَا تُشْرِکْ بِاﷲِ إنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ}9 (صحیح بخاری:۳۴۲۹، صحیح مسلم:۱۲۴ واللفظ لہ)

''عبداللہ بن مسعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی [ترجمہ: جن مؤمنین نے اپنے ایمان کے ساتھ بالکل ظلم نہیں کیا (انہی کو نجات ہوگی)]تو صحابہ کرام اس آیت سے بہت پریشان ہوئے اور رسول1 سے عرض کیا ہم میں سے کون شخص (معصیت کرکے) ظلم نہیں کرتا! رسول1 نے فرمایا: اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ اس آیت میں ظلم یعنی شرک ہے جس طرح لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: اے بیٹے! اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہ کرنا یقینا شرک کرنا ظلم عظیم ہے۔'' (ترجمہ از غلام رسول سعیدی ،شرح صحیح مسلم:۱؍۵۸۶)

(ا) اس آیت ِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان: ''وہ لوگ جو ایمان لائے اور اُنہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم (شرک) کی آمیزش نہیں کی۔'' اس بارے میں نص صریح ہے کہ اہل ایمان،ایمان لانے کے بعد بھی شرک میں مبتلا ہوسکتے ہیں اور یہاں اس سے شرکِ اکبر مراد ہے جیسا کہ تفصیل آرہی ہے۔

(ب) یہ آیت ِکریمہ اہل ایمان، مسلمانوں یعنی کلمہ پڑھنے والے اُمتیوں کے بارے میں ہے کہ شرک نہ کرنے کی صورت میں ان کے لیے امن کی گارنٹی اور ہدایت یافتہ ہونے کی سعادت ہے۔

(ج) کلمہ نہ پڑھ کر اُمتی نہ بننے والوں کے بارے میں نہیں ہے، کیونکہ وہ تو اگر بالفرض شرک نہ بھی کریں تو پھر بھی ان کے لیے نہ امن ہے اور نہ ہی وہ ہدایت یافتہ ہیں بلکہ کلمہ نہ پڑھنے اور انکارِ نبوت کی وجہ سے ہی وہ کافر اور ابدی جہنمی ہیں۔

(د) صحابہ کرامؓ نے اس آیت ِکریمہ کو، ہمارے اس دور کے اصحابِ جبہ ودستار کی طرح یہ کہہ کر ردّ نہیں کردیا کہ یہ تو کفار، یہود و نصاریٰ یا بتوں، سورج، چاند اور ستاروں کے متعلق ہے اور پھر نبی پاک1 نے بھی ایسا نہیں کیا۔

(ہ) صحابہ کرام ؓ نے اس آیت ِکریمہ کواپنے بارے میں سمجھا، اس سے استدلال کیا اور اپنے بارے میں پریشانی کا اظہار بھی کیا تو نبی کریم1 نے بھی اس کو ردّ نہیں کیابلکہ باقی رکھا لہٰذا یہاں یہ بہانہ بھی کارگر نہیں ہوسکتا کہ یہ آیت تو صرف قربِ قیامت کے لوگوں کے متعلق ہے۔

(و) البتہ لفظ 'ظلم' کوسمجھنے میں جو دشواری ہوئی تھی، آپ1 نے اس کی اصلاح فرما دی کہ یہاں ظلم سے مراد ایک خاص ظلم یعنی شرک ہے، عام معصیت وغیرہ نہیں ہے۔

(ح) صحابہ کرامؓ نے زمانۂ جاہلیت کو قریب سے دیکھا تھا، اور پھر نبی پاک1 کی صحبت اور تعلیم و تربیت کا بھی اثر تھا کہ ان سے شرک کا وقوع نہیں ہوا۔ البتہ جہاں اُنہیں دوسرے لوگوں کے پھسل جانے کا خطرہ محسوس ہواتو اُنہوں نے اس کا سدباب بھی کیا۔

(ط) اس آیت ِکریمہ میں ظلم سے مراد شرک اکبر ہے، کیونکہ یہاںشرک ِاکبر کے مرتکب کافر اور مؤمن کے درمیان موازنہ کیا گیا ہے کہ ان ''دونوں گروہوں میں سے امن کا سزاوار کون ہے؟'' توفرمایاکہ ''جو لوگ ایمان لائے اور اُنہوں نے اپنے ایمان کے ساتھ ظلم (شرک) کی آمیزش نہ کی اُن کے لیے امن ہے اور وہی ہدایت یافتہ ہیں۔''

(ی) سوال یہ ہے کہ کیا ان جدید مفکرین کے نزدیک کافر شرکِ اکبر کا مرتکب ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اگر ہوسکتا ہے تو پھر اس آیت ِکریمہ کی شرکِ اصغر کے ساتھ تخصیص کابہانہ نہیں چل سکتا اور حق بھی یہی ہے کہ یہاں شرکِ اکبر مراد ہے۔

اور اگر نہیں تو پھر ان اصحاب کو اب یہ دعویٰ بھی کردینا چاہئے کہ'' ان کفار میں بھی شرکِ اکبر نابود تھا اور کوئی کافر بھی شرکِ اکبر میں مبتلا نہیں تھا'' تاکہ مزعومہ خیالات کے دفاع کا صحیح حق ادا ہوسکے۔

(ک) اگر اس آیت ِکریمہ کے سیاق و سباق کی طرف جائیں تو اس میں بھی شرکِ اکبر کا ہی تذکرہ ہے۔

معلوم ہوا کہ اس اُمت میں بھی شرک پایا جاسکتا ہے اور مسلمان بھی شرکِ اکبر میںمبتلا ہوسکتے ہیں، الامن رحم ربی اور یہ مذکورہ آیت ِکریمہ اس بارے میں نص صریح ہے اور اُمت ِ مسلمہ میں شرک نہ پائے جانے کادعویٰ سراسر باطل ہے اور قرآن کے خلاف ہے۔

۲ جیسا کہ ایک اور مقام پر اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

{وَأحِلَتْ لَکُمُ الأَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الأوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ حُنَفَائَ ﷲِ غَیْرَ مُشْرِکِیْنَ بِہٖ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاﷲِ فَکَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَائِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ اَوْ تَھْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکَانٍ سَحِیْقٍ} (الحج:۳۰،۳۱)

''اور تمہارے لیے حلال کیے گئے ہیں بے زبان چوپائے سو ا ان کے جن کی ممانعت تم پرپڑھی جاتی ہے تو دور رہو بتوں کی گندگی سے، اور بچو جھوٹی بات سے ایک اللہ کے ہوکر کہ اس کا ساجھی کسی کونہ کرو اور جو اللہ کا شریک کرے، وہ گویا گرا آسمان سے کہ پرندے اسے اُچک لے جاتے ہیں یا ہوا اُسے کسی دور جگہ پھینکتی ہے۔'' (ترجمہ: از احمدرضا خان بریلوی، کنزالایمان)

(ا) اس آیت ِکریمہ میں بھی مخاطب مسلمان ہیں۔

جسٹس (ر) پیرکرم شاہ ازہری بھیروی راقم ہیں:

''مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ یہ بت جن کو مشرکین نے اپنا معبود بنایا ہوا ہے یہ تو سراسر نجاست اور غلاظت ہیں،ان سے دور بھاگو۔''

نیز فرماتے ہیں: ''شرک سے منہ موڑ کر کمال یکسوئی سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاؤکسی کواس کا شریک نہ بناؤ، نہ ذات میں اور نہ صفات میں''

(ضیاء القرآن :۳؍۲۱۲،۲۱۳)

(ب) امام ابن عبدالبر فرماتے ہیں:

وَثن بت ہے خواہ سونے، چاندی کی مورتی ہویا کسی اور چیز کا مجسمہ۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہر وہ چیز جس کی عبادت کی جائے وہ وثن ہے خواہ بت ہو یا کوئی اور چیز۔ (التمہید:۵؍۴۵)

(ج) کیا ان اصحاب کے نزدیک وثن کی عبادت بھی شرکِ اکبر نہیںہے؟

(د)کیامسلمانوں کو ایسی چیز سے بچنے کا پابندو مکلف بنایا جارہا ہے جس کے وجود کا ان میں امکان بھی نہیں؟ جیسا کہ فرشتوں کو مکلف بنانا کہ وہ نہ کھائیں، نہ پئیں اور نہ قضاے حاجت کریں۔

۳ انبیاء علیہم السلام سے شرک کا صدور ناممکن ہے، وہ اس سے پاک ہیں، لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے شرک کی قباحت و برائی کوبیان کرنے اور اُمتیوں کو سمجھانے کے لیے اٹھارہ انبیا وورُسل علیہم السلام کاذکر کرکے فرمایا:

{وَلَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْھُمْ مَاکَانُوْا یَعْمَلُوْنَ} (الانعام:۸۸)

''اور اگر وہ شرک کرتے تو ضرور ان کا کیا اکارت جاتا۔'' (ترجمہ: از احمدرضا خان بریلوی، کنزالایمان)

جناب غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب رقم طراز ہیں:

''پھر فرمایا (بہ فرضِ محال) اگر ان نبیوں اور رسولوں نے بھی شرک کیا تو ان کے نیک اعمال ضائع ہوجائیں گے، کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک کی آمیزش کے ساتھ کسی نیک عمل کو قبول نہیں فرماتا اس آیت میں انبیاء علیہم السلام کی اُمتوں کے لیے تعریض ہے کہ جب انبیاء علیہم السلام سے بھی اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ اگر اُنہوں نے بالفرض شرک کیا تو ان کے نیک عمل ضائع ہوجائیں گے تو ان کی اُمتیں کس گنتی ، شمار میں ہیں۔'' (تبیان القرآن:۳؍۵۷۹)

۴ اسی طرح ایک اور مقام پر نبی پاک1سے فرمایا:

{وَلَقَدْ أوْحِیَ إلَیْکَ وَإِلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکَ لَئِنْ أشْرَکْتَ لَیَحْبَطَنَّ عَمَلُکَ وَلَتَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ} (الزمر:۶۵)

''اور بیشک وحی کی گئی آپ کی طرف اور ان کی طرف جو آپ سے پہلے تھے کہ اگر (بفرضِ محال) آپ نے بھی شرک کیاتو ضائع ہوجائیں گے آپ کے اعمال اور آپ بھی خاسرین میںسے ہوجائیں گے۔'' (ترجمہ از جسٹس (ر) پیرکرم شاہ ازہری، ضیاء القرآن:۴؍۲۸۱)

غلام رسول سعیدی بریلوی رقم طراز ہیں:

''اس آیت میں تعریض ہے۔ ذکر آپ کا ہے اور مراد آپ کی اُمت ہے یعنی اگر بالفرض آپ نے بھی شرک کیا تو آپ کے اعمال ضائع ہوجائیں گے تو اگر آپ کی اُمت کے کسی شخص نے شرک کیاتو اس کے اعمال تو بطریق اولیٰ ضائع ہوجائیں گے۔ (تبیان القرآن:۱۰؍۲۹۳)

۵ ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْ لِقَائَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہِ اَحَدًا}

''تو جسے اپنے رب سے ملنے کی امید ہو اُسے چاہئے کہ نیک کام کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ کرے۔'' (ترجمہ از کنزالایمان ،سورۃ الکہف:۱۱۰)

(ا) نعیم الدین مراد آبادی بریلوی اس آیت کے تحت راقم ہیں:

''شرکِ اکبر سے بھی بچے اور ریا سے بھی جس کو شرکِ اصغر کہتے ہیں۔'' (خزائن العرفان، سورۃ الکہف، آیت نمبر ۱۱۰ حاشیہ نمبر ۲۲۴)

(ب) اس آیت ِکریمہ کی ریا یعنی شرکِ اصغر کے ساتھ تخصیص کرنے والوں کو نعیم الدین مراد آبادی کا مندرجہ بالا بیان اور اپنادرج ذیل اُصول یاد رہنا چاہئے۔

احمدرضا خان صاحب بریلوی راقم ہیں:

''اور نصوص ہمیشہ ظاہر پر محمول رہیں گے، بے دلیلِ شرعی تخصیص و تاویل کی اجازت نہیں ورنہ شریعت سے امان اُٹھ جائے۔ نہ اَحادیث ِآحاد اگرچہ کیسے ہی اعلیٰ درجے کی ہوں، عمومِ قرآن کی تخصیص کرسکیں بلکہ اس کے حضور مضمحل ہوجائیں گی بلکہ تخصیص متراخی نسخ ہے۔ (فتاویٰ رضویہ:۲۹؍۴۸۸)

مزید فرماتے ہیں: ''عموم آیاتِ قطعیہ قرآنیہ کی مخالفت میں اخبارِ آحاد سے استناد محض غلط ہے۔ '' (فتاوی رضویہ:۲۹؍۴۸۹)

(ج) یہ آیت ِکریمہ اُمت ِمحمدیہ کے مسلمانوں کے بارے میں ہے، کیونکہ مشرکین عرب تو یوم آخرت اور حشرونشر پر ایمان رکھتے ہی نہیں تھے۔

۶ اللہ تبارک ارشاد فرماتے ہیں:

{وَمَا یُؤْمِنُ اَکْثَرُھُمْ بِاﷲِ اِلَّا وَھُمْ مُشْرِکُوْنَ} ( یوسف:۱۰۶)

''اور ان میںسے اکثر لوگ اللہ پر ایمان لانے کے باوجود بھی شرک ہی کرتے ہیں۔'' (ترجمہ: از مولانا غلام رسول سعیدی، تبیان القرآن:۵؍۸۷۵)

(ا) یہ آیت ِکریمہ بھی اس بارے میں نص صریح ہے کہ

''لوگ ایمان لانے کے باوجود بھی شرک کاارتکاب کرتے ہیں۔''

(ب) حالانکہ کوئی بھی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو واجب الوجود مانتا ہے نہ اس کی کسی صفت کو قدیم اور مستقل بالذات مانتا ہے اور نہ اس کو مستحق عبادت قرار دیتا ہے لہٰذا شرک کے پائے جانے کے لیے اور کسی کے مشرک ہونے کے لیے یہ شرط درست نہیں ہے۔

(ج) علامہ سید محمود آلوسی حنفی، اس آیت ِکریمہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ومن أولئک عبدۃ القبور الناذرون لھا،المعتقدون للنفع والضرّ ممن اﷲ تعالیٰ أعلم بحالہ فیھا وھم الیوم أکثر من الدود(روح المعاني:۱۳؍۶۷)

''اور انہی میں سے ایک گروہ قبر پرست لوگوں کا ہے جو ان کیلئے نذر مانتے ہیں اور ایسے لوگوں سے نفع و نقصان کا اعتقاد رکھتے ہیں جن کے بارے میں اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ قبروں میں ان کی کیا حالت ہے اور ایسا کرنے والے لوگ تو آج کل کیڑوں مکوڑوں سے بھی زیادہ ہیں۔''

یاد رہے کہ اگر قبرپرستی بھی شرک ِاکبر نہیں ہے تو پھر کیا اُن کا جرم یہ ہے کہ وہ بت کو کھڑا کرکے پوجتے ہیں اس لیے شرک اکبر کے مرتکب ٹھہرے اوریہ دفن کرکے پوجنے سے شرک اکبر کی تعریف سے نکل جائیں۔سبحان اللہ! اور آستانوں اور مزارات پر اس کامشاہدہ بخوبی کیا جاسکتا ہے ۔

(د) علامہ آلوسی حنفی تو قبروں کے لیے نذر و نیاز ماننے والوں اور قبروں والوں سے نفع و نقصان کا اعتقاد رکھنے والوں کو اسی آیت کریمہ کے تحت قبرپرست قرار دے کر ایسی آیت ان پر فٹ کرتے ہیں۔ (اور ان کو مشرک سمجھ رہے ہیں اور مشرک کہہ رہے ہیں)

(ہ) اور اس دور کی جاہلیت ِجدیدہ کے ان جدید مفکرین کی طرح اس آیت ِکریمہ کو بتوں، ریا کاری یا قربِ قیامت کے متعلق کہہ کر ردّ نہیںکرتے اور نہ ہی اس کو کفار کے ساتھ خاص قرار دیتے ہیں۔

(ح) پیر سید نصیرالدین گولڑوی سجادہ نشین درگاہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف فرماتے ہیں :

{وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّھُمْ مُنِیْبِـــــیْنَ اِلَیْہِ ثُمَّ إِذَا أذَاقَھُمْ مِنْہُ رَحْمَۃً إذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ بِرَبِّھِمْ یُشْرِکُوْنَ} (الروم :۳۳)

''اور جب لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے ربّ کو پکارتے ہیں اس کی طرف رجوع لاتے ہوئے پھر جب وہ اُنہیں اپنے پاس سے رحمت کا مزہ دیتا ہے جبھی اُن میں سے ایک گروہ اپنے ربّ کا شریک ٹھہرانے لگتا ہے۔'' (ترجمہ کنزالایمان)

کیا یہ دونوں آیتیں ہم میں سے اکثر سنی کہلوانے والے محبانِ بزرگانِ دین کے نظریہ و فکر اور طرزِ عمل کی نشاندہی نہیں کررہیں؟ بارہا مشاہدہ میں آیا کہ جب کسی خوش عقیدہ اور زائد از ضرورت عقیدت مند کو کوئی فائدہ پہنچتا یاخوشی نصیب ہوتی ہے تو فوراً کہہ اٹھتا ہے کہ یہ میرے مرشد کاکام ہے، لیکن جب کوئی مصیبت اور تکلیف آدبوچتی ہے توکہنے لگتا ہے: اللہ کی مرضی... (مزید لکھتے ہیں)

''دیکھیں یہی باتیں مشرکین اصنام میں تھیں اور یہی آج کے اکثر عقیدت مند مسلمان کہلوانے والوں میں ہیں تو کیا ان پر وہ آیات خود فٹ نہیں آرہیں؟'' (اعانت و استعانت:ص ۹۵،۹۶)

۷ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

{وَإنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ إلٰی اَوْلِیَائِھِمْ لِیُجَادِلُوْکُمْ وَإنْ أَطَعْتُمُوْھُمْ إنَّکُمْ لَمُشْرِکُوْنَ} (الانعام:۱۲۱)

''بیشک شیطان اپنے دوستوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتے ہیں تاکہ وہ تم سے بحث کریں اور اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو تم مشرک ہوجاؤ گے۔'' (ترجمہ از غلام رسول سعیدی صاحب، تبیان القرآن:۳؍۶۳۶)

(ا) اس آیت ِکریمہ میںمسلمانوں، کلمہ پڑھنے والوں، آپ کے امتیوں سے خطاب ہے۔

(ب) یہ آیت ِکریمہ بھی اس بارے میں نص صریح ہے کہ اُمت ِمسلمہ میں بھی شرک پایا جاسکتا ہے اور یہ کہ مسلمان بھی مشرک ہوسکتے ہیں۔

(ج) اور اسے قرب ِقیامت کے ساتھ خاص بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس کی ریاکاری کے ساتھ تاویل ہوسکتی ہے۔

(د) اگر اُمت ِمسلمہ میں شرک نہیں پایا جاسکتا یا مسلمان شرک نہیں کرسکتے تو پھر إنکم لمشرکون اور وہ بھی تاکیداً کیوں کہا گیا؟

(ہـ)جسٹس ریٹائرڈ پیر کرم شاہ ازہری صاحب راقم ہیں:

''اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال یقین کرتاہے وہ مشرک ہوجاتا ہے۔'' (ضیاء القرآن:۱؍۵۹۷)

(و) نعیم الدین مراد آبادی صاحب اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

''کیونکہ دین میں حکم الٰہی کو چھوڑ دینا اور دوسرے حکم کا ماننا اللہ کے سوا اور کو حاکم قرار دینا شرک ہے۔'' (خزائن العرفان، حاشیہ سورئہ انعام ، آیت :۱۲۱)

(ز) کوئی مسلمان، شیطان یا اس کے اولیا کو واجب الوجود مانتا ہے، نہ ان کی کسی صفت کو قدیم اور مستقل بالذات مانتا ہے اور نہ ان کو مستحق عبادت قرار دیتا ہے لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ''اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو تم مشرک ہوجاؤ گے۔'' (الانعام:۱۲۱)

تومعلوم ہوا کہ شرک کے پائے جانے یا کسی کے مشرک ہونے کے لیے یہ شرط لگانا غلط ہے اور قرآنِ پاک کے خلاف ہے۔

۸ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

{اَلَمْ اَعْھَدْ اِلَیْکُمْ یٰبَنِیْ آدَمَ أنْ لَّا تَعْبُدُوْا الشَّیْطٰنَ إنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ وَاَنِ اعْبُدُوْنِیْ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ} (یس:۶۰،۶۱)

''اے اولادِ آدم! کیا میں نے تم سے عہد نہ لیا تھا کہ شیطان کو نہ پوجنا بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے اور میری بندگی کرنا، یہ سیدھی راہ ہے۔'' (ترجمہ: از احمد رضا خان بریلوی، کنزالایمان)

نعیم الدین مراد آبادی بریلوی رقم طراز ہیں:

''اس کی فرمانبرداری نہ کرنا اور کسی کو عبادت میں میراشریک نہ کرنا۔'' (خزائن العرفان، سورئہ یس: حاشیہ نمبر۷۷،۷۸)

غلام رسول سعیدی بریلوی رقم طراز ہیں:

''اور شیطان کی عبادت سے مراد ہے، شیطان کے احکام پر عمل کرنا اور اس کے قدم بہ قدم چلنا۔'' (تبیان القرآن:۹؍۸۰۳)

کیاکوئی بھی عقل مند یہ کہہ سکتا ہے کہ شیطان کی عبادت بھی شرک نہیں ہے اور لوگوں میں اس کا وجود نہیں ہے؟ حالانکہ کوئی بھی شیطان کو واجب الوجود، اس کی کسی صفت کو قدیم اور مستقل بالذات اور اس کو مستحق عبادت قرار دینے والا نہیں ۔

معلوم ہوا کہ شرک کے پائے جانے کے لیے یہ شرط درست نہیں ہے اس سے تو شیطان کی عبادت بھی شرک ثابت نہیں ہوگی۔

۹ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:

{إتَّخَذُوْا أحْبَارَھُمْ وَرُھْبَانَھُمْ أرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اﷲِ وَالْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَمَا اُمِرُوْا اِلَّا لِیَعْبُدُوْا اِلٰھًا وَاحِدًا لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ سُبْحٰنَہٗ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ} (التوبہ:۳۱)

''اُنہوں نے اپنے پادریوں اور جوگیوں کو اللہ کے سوا خدا بنا لیا اورمسیح ابن مریم کو اور انہیں حکم نہ تھا مگر یہ کہ ایک اللہ کو پوجیں اس کے سوا کسی کی بندگی نہیں، اُسے پاکی ہے ان کے شرک سے۔'' (ترجمہ: از احمدرضا خان بریلوی، کنزالایمان)

جسٹس (ر) پیر کرم شاہ ازہری سجادہ نشین 
 ·  Translate
61
2
Saeed Bangash's profile photoTariq Uppal's profile photo
 
کمہ گو اہلِ شرک وبدعت کی خوش فہمی
 ·  Translate
154
18
Naz Khan's profile photo Bashir Ahmad's profile photoMUHAMMAD ANWAR's profile photoHafiz King's profile photo
20 comments
 
Defiantly bhai Imran Zia you r welcome
Add a comment...
 
قبر پرست
ان کی کئی ایک بدعات کفرہیں جیسے غیراللہ کو مشکلات کے حل کے لیے پکارنا ، انہیں اللہ رب العزت کی صفات سے متصف کرنا ، وغیرہ ۔ 
﴿وَمَنْ يَّدْعُ مَعَ اللہِ اِلٰــہًا اٰخَرَ لَا بُرْہَانَ لَہٗ بِہٖ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ عِنْدَ رَبِّہٖ اِنَّہٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ ﴾ (المؤ منون: ۱۱۷)
’’اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور الہٰ کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں ، تو اس کا حساب اس کے رب کے سپرد ہے ،ایسے کافر کبھی کامیاب نہ ہوں گے‘‘۔
امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ درج ذیل آیت کے ضمن میں فرماتے ہیں۔
’’پس جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ قبروں سے منت ماننا اللہ سے مرادیں حاصل کرنے کا ذریعہ ہے،یا اس سے مصائب دور ہوتے ہیں، رزق کھلتا ہے ،جان و مال و ملک کی حفاظت ہوتی ہے تو وہ مشرک بلکہ کافر ہے۔‘‘(اصحاب صفہ اور تصوف کی حقیقت ص ۸۱)
لیکن قبرمیں مدفون بزرگوں کو پکارنے کے مختلف مراتب ہیں جیسا کہ علامہ بکر ابو زیدحفظہ اللہ فرماتے ہیں :
زندہ شخص کا کسی فوت شدہ بزرگ کوپکارنے کی دو قسمیں ہیں :
پہلی قسم :کسی زندہ کا مردے کو پکارنا ،اس سے مشکلات میں مدد طلب کرنا یہ عمل شرک اکبر ہے جو ایسے ہی ہے جیسے بتوں کی پوجا کرنا اور اللہ کا شریک ٹھہرانا کیونکہ ایسا کرنے والے نے غیر اللہ کی پکار لگائی ہے اوراس سے مدد طلب کی ہے جبکہ اُس کا دل بھی اُس بزرگ کے ساتھ معلق ہے ۔ہم کتاب وسنت سے یہ بات جانتے ہیں کہ استغاثہ عبادت ہے اور اللہ کے سوا کوئی بھی مشکل کشا اور حاجت روا نہیں ہے ، اِس شخص نے غیر اللہ سے اُس بات کی امید لگائی جس پر وہ قادر نہیں ،اس لیے یہ شرک کا مرتکب ہے ۔چاہے یہ اس مردے کو دور سے پکارے یا قریب سے ،اُس کی قبر کے پاس حاضر ہو کر پکارے یا اُس کے دربار کی کھڑکی یا دروازے سے پکارے یا دور دراز سے ہر صورت وہ شرک اکبر کا مرتکب ہے ،البتہ دور سے پکارنے میں وہ ایک کفر یہ بھی کرتا ہے کہ اُس ولی کو عالم الغیب قرار دیتاہے ۔اس قسم کی مثال میں یہ الفاظ ہیں :یا رسول اللہ ،یا نبی اللہ ،یا غوث مدد،یا علی ،یا فاطمہ ،یا حسن ،یا حسین ،یا عبدالقادر میری حاجت روائی کرو ، میری مشکل کشائی کرو ،میری مدد کرو ،مجھ پر رحم کرو ،میرے مریض کو شفا دو،میں آپ کے ذمے ہوں ،میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور اس طرح کے دیگر صریح الفاظ جن میں غیراللہ کی پکار لگائی گئی ہو، اس قسم میں آتے ہیں۔
دوسری قسم :زندہ کا مردے کوپکارنا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اُس کے لیے دعا کرے اس قسم کی مزید دو قسمیں ہیں :
۱۔زندہ شخص مردے کوپکارے جبکہ وہ اُس کی قبر سے دور ہو ۔
اس قسم کے شرک اکبر ہونے میں بھی مسلمانوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے یہ وہی شرک ہے جو نصاریٰ نے مریم اور اس کے بیٹے عیسیٰ علیہما السلام کے ساتھ کیا ،وہ انہیں پکارتے اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ لوگوں کے افعال و حالات سے واقف ہیں ۔
۲۔زندہ کا اللہ سے دعا کروانے کے لیے مردے کو اُس کی قبر کے پاس آ کر پکارنا۔
جیسے قبر پر جانے والے کا بزرگ کو مخاطب ہوکر یہ کہنا :’’اللہ سے میرے لیے یہ اور یہ دعا کریں ۔‘‘ یا یوں کہنا ’’میں آپ سے اللہ سے فلاں اور فلاں دعا کرنے کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘
مسلمانوں کااجماع ہے کہ یہ قسم ایک بدعت ہے اور اللہ کے ساتھ شرک اور غیر اللہ کی پکار تک پہنچانے کا وسیلہ ہے،جس سے لوگوں کے دل اللہ کی بجائے مخلوق سے جڑ تے ہیں ۔ البتہ یہ اُس وقت شرک اکبر بن جائے گی جب قبر والے کو پکارنے والا مشرکین مکہ کی مانند اسے اللہ کے ہاں سفارشی اور شرکیہ واسطہ بنائے (وہ اس طرح کہ وہ ان کی عبادت شروع کردے )جیسا کہ ارشاد ربانی ہے :
﴿مَا نَعْبُدُہُمْ اِلَّا لِيُقَرِّبُوْنَآ اِلَى اللہِ زُلْفٰى۝﴾ (الزمر: ۳۹/۳)
’’اور ہم ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کے قریب کر دیں۔‘‘ 
(تصحیح الدعا :۲۴۸۔۲۵۱)
اس قسم کے ’’شرک‘‘ نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ممکن ہے بعض احادیث ( جیسا فرمایا کہ مردہ دفنانے والوں کے جوتے کی چاپ سنتا ہے )سے کوئی اس غلط فہمی کا شکار ہوجائے کہ مردے کی قبر پر آکر اُس سے اللہ سے دعا کی درخواست کی جائے تو وہ میری بات سن سکتا ہے یہ عمل شرک اور غیر اللہ کی پکار تک پہنچانے کا وسیلہ ہے ۔صحیح بات یہ ہے کہ مردے سے دعا کروانے کا کتاب و سنت سے کوئی ثبوت نہیں ملتا ہے ۔
 ·  Translate
75
4
Tahir Mehmood's profile photoismail khan's profile photo
 
اََللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضَعْفَ قُوَّتِی 
اے اللہ ! میں اپنی طاقت کی ناتوانی

وَ قِلَّۃَ حِیْلَتِیْ 
اپنی قوت عمل کی کمی

وَ ھَوَ انِی عَلٰی النَّا سِ
لوگوں کی نگاہوں میں اپنی بے بسی کا شکوہ تیری بارگاہ میں کرتی ہوں

یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْنَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ 
اے ارحم الراحمین! تو کمزوروں کا رب ہے

وَاَنْتَ رَبِّی 
تو میرا بھی رب ہے

اِلٰی مَنْ تَکِلُنِیْ
تو مجھے کس کے حوالے کرتا ہے

اِلٰی بَعِیْدٍ یَتَجَھَّمُنِی
ایسے بعید کے حوالے جو ترش روئی سے میرے ساتھ پیش آتا ہے

اَمْ اِلٰی عَدُوٍّمَلَّکْتَہٗ اَمْرِیْ 
کیا کسی دشمن کو تو نے میری قسمت کا مالک بنادیا ہے

اِنْ لّمْ یَکُنْ بِکَ عَلیَّ غَضَبٌ فَلَا اُبَالِیْ
اگر تو مجھ پر ناراض نہ ہو تو مجھے ان تکلیفوں کی ذرا پروا نہیں

وَلٰکِنَّ عَافِیَتُکَ ھِیَ اَوْسَعُ لِیْ 
پھر بھی تیری طرف سے عافیت اور سلامتی میرے لیے زیادہ دلکشا ہے

اَعُوْذُبِنُوْرِوَجْهِکَ الَّذِیْ
میں پناہ مانگتی ہوں تیری ذات کے نور کے ساتھ۔

اَشْرَقَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ
جس سے تاریکیاں روشن ہوجاتی ہیں

وَصَلُحَ عَلَیْہِ اَمْرُالدُّنْیَا وَالْآٰخِرَۃِ
اوردنیا و آخرت کے کام سنور جاتے ہیں

مِنْ اَنْ تُنَزِلِ بِیْ غَضَبَکَ
کہ تو نازل کرے اپنا غضب مجھ پر

اَوْ یَحِلَّ عَلَیَّ سَخَطُکَ
یا تو اتارے مجھ پر اپنی ناراضگی

لَکَ الْعُتْبٰی حَتیّٰ تَرْضٰی
میں تیری رضا طلب کرتی رہوں گی یہاں تک کہ تو راضی ہوجائے

وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃ َاِلَّا بِکَ
تیری ذات کے بغیر نہ میرے پاس کوئی طاقت ہے نہ قوت....
 ·  Translate
91
5
Ana Muslimah's profile photomari khan's profile photomalik ahsan's profile photozoya khan's profile photo
5 comments
 
اللھم امین 
 ·  Translate
Add a comment...
 
ایک خطا ناپسند ہے تو دوسری ادا پسند! 
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کوئی مومن مرد اپنی مومنہ بیوی سے نفرت نہ کرے، اگر اس کی ایک عادت اس کو ناپسند ہے تو کوئی دوسری ادا ضرور پسند ہو گی۔ (صحیح مسلم:1469)
#Islam  
 ·  Translate
108
10
Imran Tani's profile photoAjmal Phullarwan (ajo)'s profile photoTαhśεεη Tαßαśśum's profile photoAbdul Sattar's profile photo
6 comments
 
بیشک
Add a comment...
 
Taqabal'Allaahu Minna Wa Minkum. Eid Mubarak to all Dear FRIENDS  , May Allah accept all our fasts, prayers, dua's and good deeds, May he bring us all closer to him and purify our hearts and make our speech and actions for his sake alone, may He The All Powerful alleviate all the hardships that we face in this world, and give us love for one another, Increase our Imaan, Thaqwa, Illm & Unite us in Islam and make us a strong Ummah , Aameen Aameen Ya Rabbill Aalameen

 #ISLAM-EID-MUBARAK
189
23
Huma Afzaal's profile photorizwan riaz's profile photoAmjad Mehmood's profile photoAbdul Sattar's profile photo
23 comments
 
kheer mubarik
Add a comment...
In her circles
168 people
Have her in circles
49,546 people
shah ali asghar's profile photo
asrab omoch's profile photo
Kamran Ahmed's profile photo
Spencer Stevens's profile photo
qamar islam's profile photo
Fasih Shaikh's profile photo
Wasim Mughal's profile photo
Chaudhary Afzal saeed's profile photo
hafeez ali's profile photo
130
19
 Bashir Ahmad's profile photoTayyab Salfi's profile photoAmjad Islam's profile photomr baligh's profile photo
11 comments
 
Allah in logon ko hidayat dega 
Add a comment...
 
اللہ کے ساتھ شریک ٹھرانے والے کے لئے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نہیں ہو گی.
 ·  Translate
117
15
Shahzad Azad's profile photoNaz Khan's profile photo Bashir Ahmad's profile photowarishay khan's profile photo
6 comments
 
+Ana Muslimah bahen 
yahan jo poster hai us me neeche jo light color box hai wahan pahle jumle me hi lafz firqa bandi aur ise bhi mushrikanah a'amaal k zamre me shamil kiya gaya hai 
jo samjha nahin 
is liye poochha ??
Add a comment...
 
And [mention, O Muhammad], the Day when the enemies of Allah will be gathered to the Fire while they are [driven] assembled in rows,
41:20

Until, when they reach it, their hearing and their eyes and their skins will testify against them of what they used to do.
41:21

And they will say to their skins, "Why have you testified against us?" They will say, "We were made to speak by Allah , who has made everything speak; and He created you the first time, and to Him you are returned.
41:22

And you were not covering yourselves, lest your hearing testify against you or your sight or your skins, but you assumed that Allah does not know much of what you do.
41:23

And that was your assumption which you assumed about your Lord. It has brought you to ruin, and you have become among the losers."
41:24

So [even] if they are patient, the Fire is a residence for them; and if they ask to appease [ Allah ], they will not be of those who are allowed to appease.
41:25

And We appointed for them companions who made attractive to them what was before them and what was behind them [of sin], and the word has come into effect upon them among nations which had passed on before them of jinn and men. Indeed, they [all] were losers.
41:26

And those who disbelieve say, "Do not listen to this Qur'an and speak noisily during [the recitation of] it that perhaps you will overcome."
41:27

But We will surely cause those who disbelieve to taste a severe punishment, and We will surely recompense them for the worst of what they had been doing.
41:28

That is the recompense of the enemies of Allah - the Fire. For them therein is the home of eternity as recompense for what they, of Our verses, were rejecting.
41:29

And those who disbelieved will [then] say, "Our Lord, show us those who misled us of the jinn and men [so] we may put them under our feet that they will be among the lowest."
41:30

Indeed, those who have said, "Our Lord is Allah " and then remained on a right course - the angels will descend upon them, [saying], "Do not fear and do not grieve but receive good tidings of Paradise, which you were promised.
41:31

We were your allies in the worldly life and in the Hereafter. And you will have therein whatever your souls desire, and you will have therein whatever you request
41:32

As accommodation from a [Lord who is] Forgiving and Merciful."
41:33

And who is better in speech than one who invites to Allah and does righteousness and says, "Indeed, I am of the Muslims."
41:34

And not equal are the good deed and the bad. Repel [evil] by that [deed] which is better; and thereupon the one whom between you and him is enmity [will become] as though he was a devoted friend.
41:35
But none is granted it except those who are patient, and none is granted it except one having a great portion [of good].
41:36

And if there comes to you from Satan an evil suggestion, then seek refuge in Allah . Indeed, He is the Hearing, the Knowing.
Watch the video «Beautiful Recitation, People Crying - Must See - will surely shed your tears,» uploaded by Naat Collection on Dailymotion.
23
4
Arshad Awan's profile photoMian Ahmed Faraz's profile photo
Add a comment...
 
 

🔵 شیخ عبود عسیری

جو اللہ تعالٰی سے محبت کرتا ہے اپنا ہاتھ بلند کرے..

آپ اللہ سے محبت کرتے ہیں اس لیے آپ نے ہاتھ بلند کیا..

مجھے تھوڑا سا بھی شک نہیں کہ آپ اللہ سے محبت نہیں کرتے ہیں..

اور میں جانتا ہوں کہ آپ کے دل میں اللہ تعالٰی کا بہت عظیم مقام ہے.

میرے محترم، ہر وہ شخص جس نے ہاتھ بلند کیا وہ فجر کی نماز نہیں پڑھتا ہے.

اللہ کی قسم، اللہ نے فجر کی نماز ایسے وقت(صبح سویرے)  رکھی تا کہ ہمارے دلوں میں اپنی محبت کا امتحان لے سکے.

اللہ نے عصر کی نماز ایسے (آرام والے)  وقت میں اس لیے رکھی تا کہ ہمارے دلوں میں اپنی محبت کا امتحان لے سکے.

صرف اس لئے تا کہ وہ ہمارے دلوں میں اپنی محبت کا امتحان لے سکے.

جس نے اپنے بستر پر نماز فجر کو فوقیت دی، وہ بتائے کہ اللہ کی محبت کہاں ہے؟

جس نے ٹی وی پروگراموں، کھیل کے مقابلوں اور ٹاک شوز کو نماز پر فوقیت دی (بتائے) اللہ کی محبت کہاں ہے؟

جو تکلیف زدہ ہے، مصیبت میں ہے، وہ نماز کی طرف متوجہ ہو جائے

جو زندگی سے بیزاری، آمدنی کی کمی اور قرضوں کا شکار ہے، نماز کی طرف متوجہ ہو جائے

جسے زندگی کے نشیب و فراز اور گردشِ زمانہ نے اکتا دیا ہے، وہ نماز کی طرف متوجہ ہو جائے

اللہ کی وصیت کیا ہے؟ اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد لیا کرو.

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ

اور (رنج و تکلیف میں) صبر اور نماز کے ساتھ مدد لیا کرو بے شک نماز مشکل کام ہے مگر ان پر نہیں جو عاجزی کرنے والے ہیں.

ہر انسان نماز پر ثابت قدم نہیں رہ سکتا، نماز بھاری ہے، مگر اللہ سے ڈرنے والے گروہ پر بھاری نہیں.

اللہ مجھے اور آپ کو عاجزی کرنے والے اور خشوع کرنے والے بنائے

آمین.

https://drive.google.com/file/d/0B-bPS1f3Stt1Zl96N0ZiNzl6MkU/view?usp=docslist_api

 ·  Translate
34
2
Abdul Qader hazarvi's profile photoIrshad Ahmad's profile photo
Add a comment...
 
حسن خاتمہ كى راہ

كيا ايسى علامات ہيں جو حسن خاتمہ پر دلالت كرتى ہوں ؟

حسن خاتمہ يہ ہے كہ: بندے كو موت سے قبل ايسے افعال سے دور رہنے كى توفيق مل جائے جو اللہ رب العزت كو ناراض اورغضبناك كرتے ہيں، اور پچھلے كيے ہوئے گناہوں اور معاصى سے توب و استغفار كى توفيق حاصل ہو جائے، اور اس كے ساتھ ساتھ اعمال خير كرنا شروع كردے، تو پھر اس حالت كے بعد اسے موت آئے تو يہ حسن خاتمہ ہو گا.

اس معنى پر دلالت كرنے والى مندرجہ ذيل صحيح حديث ہے.

انس بن مالك رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نےفرمايا:

" جب اللہ تعالى اپنے بندے سے خير اور بھلائى چاہتا ہے تو اسے استعمال كر ليتا ہے"

تو صحابہ كرام رضى اللہ عنہم نے عرض كيا: اسے كيسے استعمال كر ليتا ہے؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اسے موت سے قبل اعمال صالحہ كى توفيق عطا فرما ديتا ہے"

مسند احمد حديث نمبر ( 11625 ) جامع ترمذى حديث نمبر ( 2142 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے السلسلۃ الصحيحۃ حديث نمبر ( 1334 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جب اللہ تعالى كسى بندے كےساتھ خير اور بھلائى كا ارادہ كرتا ہے تو اسے توشہ ديتا ہے"

كہا گيا كہ: اسے كيا توشہ ديتا ہے؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اس كى موت سے قبل اللہ تعالى اس كے ليےاعمال صالحہ آسان كر ديتا ہے، اور پھر ان اعمال صالحہ پر ہى اس كى روح قبض كرتا ہے"

مسند احمد حديث نمبر ( 17330 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے السلسلۃ الصحيحۃ حديث نمبر ( 1114 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

اور حسن خاتمہ كى كئى ايك علامات بھى ہيں، جن ميں كچھ تو مرنے والا موت كے قريب جان ليتا ہے، اور كچھ ايسى بھى ہيں جو لوگوں كے ليے بھى ظاہر ہو جاتى ہيں:

دوم:

حسن خاتمہ كى وہ علامتيں جو مرنے والے كے ليے ظاہر ہو جاتى ہيں، ان ميں سے ايك تو يہ ہے كہ اسے موت كے وقت اللہ تعالى كى رضامندى و خوشنودى كى خوشخبرى دى جاتى ہے، اور اللہ تعالى كے فضل و كرم سے وہ عزت و تكريم كا استحقاق حاصل كرتا ہے.

جيسا كہ فرمان بارى تعالى ہے:

{واقعى جن لوگوں نے كہا ہمارا پروردگار اللہ ہے، اور پھر اسى پر قائم رہے ان كے پاس فرشتے ( يہ كہتے ہوئے ) آتے ہيں كہ تم كچھ بھى انديشہ اور غم نہ كرو بلكہ اس كى جنت كى بشارت سن لو جس كا تم سے وعدہ كيا جاتا رہا ہے} فصلت ( 30 ).

تو يہ بشارت مومنوں كو ان كى موت كے وقت ملتى ہے.

ديكھيں: تفسير ابن سعدى ( 1256 ).

اور اس معنى پر مندرجہ ذيل حديث بھى دلالت كرتى ہے:

ام المومنين عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" جو شخص اللہ تعالى سے ملاقات كرنا پسند كرتا ہے، اللہ تعالى بھى اس سے ملنا پسند كرتا، اور جو شخص اللہ تعالى سے ملنا ناپسند كرتا ہے، تو اللہ تعالى بھى اس سے ملنا ناپسند كرتا ہے"

ميں نے عرض كيا: اے اللہ تعالى كے نبى صلى اللہ عليہ وسلم كيا موت كو ناپسند كرتے ہوئے، پھر تو ہم سب موت كو ناپسند كرتے ہيں؟

تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" معاملہ ايسا نہيں، ليكن جب مومن شخص كو اللہ تعالى كى رحمت اور اس كى رضامندى و خوشنودى اور اس كى جنت كى خوشخبرى ملتى ہے تو وہ اللہ تعالى كى ملاقات سے محبت كرنے لگتا ہے، اور بلا شبہ جب كافر شخص كو اللہ تعالى كے عذاب اور اس كى ناراضگى كى خبر دى جاتى ہے تو وہ اللہ تعالى كى ملاقات كو ناپسند كرنے لگتا ہے، اور اللہ تعالى بھى اس سے ملنے كو ناپسند كرتا ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 6507 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 2683 )

امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

( اس حديث كا معنى يہ ہے كہ:

وہ محبت اور كراہيت جس كا شرعى طور پر اعتبار كيا جاتا ہے وہى حالت نزع كے وقت واقع ہوتى ہے جس حالت ميں توبہ قبول نہيں ہوتى، كہ اس وقت قريب المرگ شخص كے سامنے سارى حالت ظاہر ہو جاتى ہے، اور جس كى طرف وہ جانے والا ہوتا ہے وہ اس كے سامنے ظاہر ہو چكا ہوتا ہے ).

اور حسن خاتمہ كى علامات تو بہت زيادہ ہيں، علماء رحمہم اللہ تعالى نے اس بارہ ميں وارد شدہ نصوص كو سامنے ركھتے ہوئے ان كا تتبع بھىكيا ہے، ان علامات ميں سے چند درج ذيل ہيں:

1 - موت كے وقت كلمہ شھادت پڑھنا، اس كى دليل نبى صلى اللہ عليہ وسلم كا يہ فرمان ہے:

" جس شخص كى آخرى كلام لا الہ الا اللہ ہو وہ جنت ميں داخل ہو گيا"

سنن ابو داود حديث نمبر ( 3116 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابوداود حديث نمبر ( 2673 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

2 - پيشانى كے پسينے سے موت آنا:

يعنى اس كى موت كے وقت پيشانى پر پسينے كے قطرے ہوں، اس كى دليل مندرجہ ذيل حديث ہے:

بريدہ بن الحصيب رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:

" مومن كى موت پيشانى كے پسينے سے ہوتى ہے"

مسند احمد حديث نمبر ( 22513 ) جامع ترمذى حديث نمبر ( 980 ) سنن نسائى حديث نمبر ( 1828 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

3 - جمعہ كى رات يا دن ميں موت آنا:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو شخص بھى جمعہ كى رات يا جمعہ والے دن فوت ہوتا ہے اللہ تعالى اسے قبر كےفتنہ سے محفوظ ركھتا ہے"

مسند احمد حديث نمبر ( 6546 ) جامع ترمذى حديث نمبر ( 1074 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں: يہ حديث اپنے سب طرق كے ساتھ حسن يا صحيح ہے.

4 - اللہ تعالى كى راہ ميں لڑتے ہوئے موت آنا:

كيونكہ اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:

جو لوگ اللہ تعالى كى راہ ميں شہيد كيے گئے ہيں ان كو ہرگز مردہ نہ سمجھيں، بلكہ وہ زندہ ہيں اپنے رب كے پاس رزق ديے جارہے ہيں، اللہ تعالى نے جو انہيں اپنا فضل دے ركھا ہے اس سے وہ بہت خوش ہيں اور خوشياں منا رہے ہيں، ان لوگوں كى بابت جو اب تك ان سے نہيں ملے، ان كے پيچھے ہيں، اس پر كہ نہ انہيں كوئى خوف ہے اور نہ غمگين ہونگے، وہ خوش ہوتے ہيں اللہ تعالى كى نعمت اور فضل سے اوراس سے بھى كہ اللہ تعالى ايمان والوں كےاجرو ثواب كو ضائع نہيں كرتا آل عمران ( 169 - 172 ).

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو اللہ تعالى كى راہ ميں قتل كرديا گيا وہ شہيد ہے، اور جو اللہ تعالى كى راہ ميں فوت ہوا وہ شہيد ہے"

صحيح مسلم حديث نمبر ( 1915 ).

5 - طاعون كى بيمارى سے موت واقع ہونى:

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" طاعون ہرمسلمان كے ليے شھادت ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2830 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1916 )

اور نبى صلى اللہ عليہ وسلم كى زوجہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا بيان كرتى ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے طاعون كے متعلق دريافت كيا تو انہوں نے مجھے بتايا كہ:

" يہ اللہ تعالى كا عذاب ہے جس پر چاہے اللہ تعالى مسلط كردے، اور اللہ تعالى نے اسے مومنوں كے ليے رحمت كا باعث بنايا ہے، جو كوئى بھى طاعون كى بيمارى ميں پڑ جائے اور پھر وہ صبر اور اللہ تعالى سے اجروثواب كى اميد ركھتے ہوئے اپنے علاقے ميں ہى رہے، اسے يہ علم ہو كہ اسے وہى تكليف پہنچ سكتى ہے جو اللہ تعالى نے اس كے مقدر ميں لكھ دى ہے، تو اسے شہيد جتنا اجروثواب حاصل ہوگا"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 3474 ).

6 - پيٹ كى بيمارى سے موت واقع ہونا:

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اور جو پيٹ كى بيمارى سے فوت ہوا وہ شھيد ہے"

صحيح مسلم شريف حديث نمبر ( 1915 ).

7 - ڈوبنے اور منہدم شدہ كے نيچے دب كر موت واقع ہونا:

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" شھيد پانچ قسم كے ہيں: طاعون كى بيمارى سے فوت ہونےوالا، اور پيٹ كى بيمارى سے فوت ہونے والا، اور پانى ميں غرق ہونے والا، اور دب كر مرنے والا، اور اللہ تعالى كى راہ ميں شھيد ہونے والا"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2829 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 1915 )

8 - اپنے بچے كى وجہ سے عورت كا نفاس ميں يا حاملہ فوت ہونا:

اس كے دلائل درج ذيل ہيں:

رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" اوروہ عورت جو اپنے حمل كى بنا پر فوت ہو وہ شہيد ہے"

سنن ابو داود حديث نمبر ( 3111 )

خطابى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اس كا معنى يہ ہے كہ وہ فوت ہوتو بچہ اس كے پيٹ ميں ہو. اھـ

ديكھيں عون المعبود

اور امام احمد رحمہ اللہ تعالى نے عبادہ بن صامت رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے شھداء كے متعلق بتاتے ہوئے فرمايا:

" اور وہ عورت جسے اس كا بچہ حمل كى حالت ميں قتل كردے يہ بھى شھادت ہے"

مسند احمد حديث نمبر ( 17341 )

( اسے اس كا بچہ اپنے نال ( پيدائش كے بعد ناف سے كاٹا جاتا ہے ) كے ساتھ جنت ميں كھينچ لے گا )

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے كتاب الجنائز صفحہ نمبر ( 39 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

9 - جلنے، اور ذات الجنب اور سل كى بيمارى سے موت آنا:

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" اللہ تعالى كى راہ ميں قتل ہونا شھادت ہے، اور طاعون شھادت ہے، اور غرق شھادت ہے، اور پيٹ كى بيمارى سے مرنا شھادت ہے، اور نفاس ميں مرنے والى عورت شھيد ہے، اسےاس كا بيٹا اپنے نال كے ساتھ جنت ميں كھينچےگا"

وہ كہتے ہيں كہ: بيت المقدس كے دربان نے يہ الفاظ زيادہ كيے ہيں:

" جلنے اور سل كى بيمارى سے مرنے والا"

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى كہتےہيں: حسن صحيح ہے، ديكھيں: صحيح الترغيب والترھيب حديث نمبر ( 1396 ).

10 - دين يا مال يا اپنى جان كا دفاع كرتے ہوئے مرنا:

كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جو كوئى اپنا مال بچاتا ہوا قتل ہو وہ شھيد ہے، اور جو كوئى اپنا دين بچاتا ہوا قتل ہو وہ شھيد ہے، اور جو كوئى اپنا خون اور جان بچاتے ہوئے قتل ہو وہ شھيد ہے"

جامع ترمذى حديث نمبر ( 1421 ).

اور امام بخارى و مسلم رحمہما اللہ نے عبد اللہ بن عمرو رضى اللہ تعالى عنہما سے بيان كيا ہے كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئےسنا:

" جو اپنے مال كا دفاع كرتا ہوا قتل ہو جائے وہ شھيد ہے"

صحيح بخارى حديث نمبر ( 2480 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 141 ).

اللہ تعالى كى راہ ميں پہرہ ديتے ہوئے موت آنا:

سلمان فارسى رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" ايك دن اور رات كا پہرہ ايك ماہ كے روزے اور قيام سے بہتر ہے، اور اگر وہ مرجائے تو اس عمل كا اجر جارى رہتا ہے جو كر رہا تھا، اور اس كا رزق بھى جارى رہتا ہے، اور وہ فتنے سے محفوظ رہتا ہے"

صحيح مسلم شريف حديث نمبر ( 1913 ).

12 - اور حسن خاتمہ كى يہ علامت ہے كہ:

كسى نيك اور صالح عمل كو انجام ديتے ہوئے موت واقع ہو، كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:

" جس نے اللہ تعالى كى رضامندى اورخوشنودى كےليے لا الہ الا اللہ كہا اور اس كا خاتمہ اس پر ہوا وہ جنت ميں داخل ہوگا، اور جس نے صدقہ كيا اوراس پر اس كا خاتمہ ہوا تووہ جنت ميں داخل ہو گا"

مسند احمد حديث نمبر ( 22813 ).

علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے كتاب الجنائز صفحہ ( 43 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

يہ علامتيں اچھى خوشخبري ميں سے ہيں جو حسن خاتمہ پر دلالت كرتى ہيں، ليكن اسكے باوجود ہم يقينا كسى بعينہ شخص كے ليے يہ نہيں كہہ سكتے كہ وہ جنتى ہے، ليكن كے متعلق رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے جنتى ہونے كى بشارت دے دى ہے، مثلا خلفاء اربعہ اور عشرہ مبشرہ.

اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہےكہ وہ ہميں حسن خاتمہ نصيب فرمائے.
 ·  Translate
67
10
‫شيخ عبدالقادر‬‎'s profile photoFaheem Ashraf's profile photoKamran Karamat's profile photoMUHAMMAD ANWAR's profile photo
3 comments
 
jazako mullaho khair
Add a comment...
 
Ya Allah! Without You, I'll be lost..
You are the light of my life..
friends will leave in the end but never You..
I'm a weak soul so help me to remember You at all times,
in every passing moment, in each single breath..
Aamiin Ya Allah.
#islam  
115
11
shahid farooq's profile photoAbu Shakira Qasim Abu Shakira Qasim's profile photoLal Khan Bullah's profile photoMD Abbas's profile photo
13 comments
 
Ameen
Add a comment...
People
In her circles
168 people
Have her in circles
49,546 people
shah ali asghar's profile photo
asrab omoch's profile photo
Kamran Ahmed's profile photo
Spencer Stevens's profile photo
qamar islam's profile photo
Fasih Shaikh's profile photo
Wasim Mughal's profile photo
Chaudhary Afzal saeed's profile photo
hafeez ali's profile photo
Work
Skills
Allah has Gifted me with a lot... They are countless.... Alhumdulillah ☺
Basic Information
Gender
Female
Story
Tagline
حَسبُنَا اللہِ وَنِعمَ الوَکِیل.
Places
Map of the places this user has livedMap of the places this user has livedMap of the places this user has lived
Previously
In A Temporary Place Called Dunya...