Profile

Cover photo
‫ارتقاءِ فلاح‬‎
Lived in In A Temporary Place Called Dunya...
46,391 followers|19,912,346 views
AboutPostsPhotosVideos

Stream

 
 

"امّاں، کیا میں فاحشہ عورت ہوں، یا پھر گمراہ یا نافرمان... جسے قبول کرنے میں لوگوں کو سوچنا پڑتا ہے؟"

امّاں ایک دم اس کی بات پر چونکیں.

"امّاں، ایسی عورتوں کو قبول کرنے میں ہچکچاہٹ ہوتی ہے نا، اور میرے جیسی کو قبول کرنے میں بھی لوگ ہچکچاتے ہیں... تو پھر فرق نہ رہا نا پھر؟"

امّاں کا جی چاہا کہ اسے ٹوکے لیکن کچھ سوچ کر چپ رہیں. آنکھوں کی ٹھہری پتلیاں، خیبت زدہ لہجہ. وہ کسی طور نارمل نہیں لگ رہی تھی.

"امّاں، وہ کون سا معیار ہوتا ہے جس پر میرے جیسی عورتیں پورا اترتی ہیں کہ ٹھکرائی نہ جائیں؟ امّاں، مومن کی خواہش کرنا غلط ہے کیا؟
پر امّاں، مومن؟ یا خالص مومن؟ تجھے پتا ہے کہ مومن کے دل میں بھی کہیں نہ کہیں کسی کونے میں نفاق چھپا ہے. معاشرے کا ، عزت کا ، حسن کا ، لوگوں کی خفگی کا خوف، خاندان کا، ذات پات کا، زمان و مکاں کا قیدی... یہ نفاق ہے نا؟ ورنہ اللہ کے لیے نیکی میں سوچ بچار کیسی...
مجھ جیسی کو مومن بھی کہتا ہے کہ گھر والے قبول نہیں کریں گے.... امّاں میرے وجود میں کمی ہے؟ مجھے تو اللہ نے بنایا ہے، اس کے کاموں اور تخلیق میں کجی نہیں ہوتی امّاں..
امیدیں دلا کر احساسات جگا کر ، مومن کہتا ہے کہ مجھ سے بہتر مل جائے گا تجھے.... میرے احساسات ردّی مال ہیں کیا؟؟

امّاں، کیا میں نے غلط خواہشات رکھی ہیں دل میں؟ کیا معاشرتی خود ساختہ اصولوں کی بغاوت گناہ ہے؟
میں کثرتِ مال و متاع کی زندگی سے بیزار ہوں، میں غلط ہوں؟
میں ایمان والی زندگی جینا چاہتی ہوں، کیا یہ خواہش غلط ہے؟
میں چراغِ محفل نہیں بننا چاہتی، میں گناہ گار ہوں؟"

آج ایاد پھٹ پڑنے کو تھی.

"*وہ* چپ رہتا ہے میرے ساتھ، اس سے پوچھ اس کی اتنی بڑی کائنات میں کوئی راستہ نہیں میرے لیے؟ اس کی اتنی بڑی کائنات میں کوئی خالص مومن نہیں میرے لیے؟ کیا وہ بھی مجھے ٹھکرائے گا؟
میں نے کبھی ایسی کوئی خواہش نہیں کی، جو اس کی مرضی کے خلاف ہو.
امّاں، کیا میری سوچ میری خواہشات میری طاقت سے بڑھ کر ہیں؟ بتا، پوچھ اس سے...
عمر ابنِ خطاب اور ابنِ تیمیہ جیسے بیٹوں کا تخم کسی خالص مومن سے ہی تو ملے گا، امّاں......

امّاں اس کی آخری بات پر ایک دم چونکیں اور حیرت زدہ ہو کر رہ گئیں.

وہ گھٹنوں میں چہرہ چھپائے پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی.

خواہش تو بہت بڑی کر ڈالی تھی اس نے یقیناً.

وہ غلط نہیں تھی. اس کی زندگی کا اہم ترین وقت بیت چکا تھا. رجوع الی اللہ کے سفر میں منافقت کی بہت پرتیں دیکھ چکی تھی. سابقون الاولون والی بات کسی میں نہیں دیکھی تھی کہ سمعنا و اطعنا.

دھوکے کی دنیا میں سابقین والا اخلاص ڈھونڈنے نکل کھڑی ہوئی تھی. اپنی زندگی مشکل کر ڈالی تھی ایاد نے.....

امّاں کو ایاد پر بے پناہ ترس آیا... لیکن اللہ کی طرف سے خاموشی کا راز سمجھ آ گیا.

"ایاد، تجھے پتا ہے نا کہ عام الحزن کے بعد، نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کو معراج دی گئی تھی؟
رسول اکرم صل اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں ایک مومن و مومنہ کے لیے بڑے راز ہیں."

ایاد، متورم آنکھوں سے امّاں کو دیکھنے لگی..

"جب غم و حسرت اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہے نا تو اللہ کی رحمتیں اور آسانیاں نازل ہوتی ہیں. اس کی قربت ملتی ہے... معراج ملتی ہے.

جب طائف والوں نے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارے تھے، تو کیا ان کو اللہ نے راستہ نہیں دیا؟
تجھے کسی نے پتھر تو نہیں مارے نا؟

صلح حدیبیہ جیسا معاملہ بہت صبر آزما تھا، اور اس کے انعام میں فتح مکّہ جیسی غطیم فتح دی.

جب کوئی ساتھ نہ تھا، تو دنیا کی عظیم عورت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ساتھ جوڑ بنا دیا، سب سے قریبی. حوصلے بلند کرنے والی، طاقت دینے والی...اللہ بڑا کار ساز ہے.

ایمان کی قدر اللہ کرتا ہے. وہ کسی کو نہیں ٹھکراتا. پھر تُو سوچتی ہے کہ اللہ تجھے چھوڑ دے گا؟ تیری معصوم اور ایمانی خواہشات کی ضرور قدر کرے گا، وہ بہترین قدر دان ہے.
ایک مومن کا شیوہ نہیں کہ جانے والے کا غم اور آنے والے کا خوف دل میں رکھ کر اللہ کو ناراض کرے اور مایوس ہو.. نہ نہ

تقوی اختیار کرنے پر مومن کو آسانیاں دیتا ہے وہ. اسکا وعدہ ہے.
ذَٰلِكُمْ يُوعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا
یہی ہے وه جس کی نصیحت اسے کی جاتی ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے...

وہ ضرور قدر کرے گا. وہ ضرور قدر کرے گا تیری نیک خواہشات کی. وہ بہترین راستہ دے گا تجھے.....

*وَالضُّحَى*ٰ
قسم ہے چاشت کے وقت کی

وَاللَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ
اور قسم ہے رات کی جب چھا جائے

مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ
نہ تو تیرے رب نے تجھے چھوڑا ہے اور نہ وه بیزار ہو گیا ہے.

وَلَلْآخِرَةُ خَيْرٌ لَكَ مِنَ الْأُولَىٰ
یقیناً تیرے لئے انجام آغاز سے بہتر ہوگا.

وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰ
تجھے تیرا رب بہت جلد (انعام) دے گا اور تو راضی (وخوش) ہو جائے گا.

وہ تجھ سے بیزار نہیں ایاد... اس کی خاموشی میں بڑا گہرا اسرار ہے...!!!


 ·  Translate
View original post
85
11
afzal ansari's profile photoShahbaz Ali شہباز علی‎'s profile photoshah jee's profile photozebi afsa's profile photo
8 comments
 
Nice
Add a comment...
 
شب برأت کی حقیقت

سب سے پہلے سوچنے کی بات یہ ہے کہ رات جسکا نام شبِ برأت ہے اسکو کس نے ایجاد کیا اور اسکا مقصد کیا ہے اور شب برأت اسکوکیوں کہتے ہیں ۔

اگر ان الفاظ کو عربی زبان میں تلاش کریں تو شب لفظ فارسی ہے جس کو عربی زبان میں لیلۃ البرأ...ت کہا جائے گا یعنی برأت کی رات اور جب تک لفظ برأت کے معنی معلوم نہ ہوں اس وقت تک اس کا صحیح مفہوم قطعاً ذہن میں نہیں آسکتا ۔ عربی لغت میں برأت کا معنی ہیں بیزاری اور نفرت کرنا اگر ایسی مثالیں قرآنِ مجید اور حدیث نبوی ﷺ میں تلاش کریں تو بہت سی مل سکتیں ہیں۔

مثلاً قرآن مجید میں ایک سورہ کا نام براء ۃ ہے جس کی پہلی آیت ہے

بَرَاَء ۃٌ مِنَ اﷲِ وَرَسُوْلِہٖ اِلیٰ الَّذِیْنَ عَاہَدْتُمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْن
بیزاری کا حکم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سےتمہارا معاہدہ تھا۔

امام مفسر قرطبی رحمہ اللہ کا قول
آپ نے بھی برأت کے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ برأت کے معنی کسی شئے کو دل سے نکال دینا اور باہمی جو تعلق ہے اس کو ختم کر دینا اس کا نام برأۃ ہے اسی لفظ سے بری برأت بنا ہے اور ہم معنی ہیں قرآن مجید میں یہ لفظ برأۃ اور بر ی جہاں بھی استعمال ہوا ہے بیزاری اور نفرت کے معنی میں۔( تفسیر قرطبی جلد ۴ ص ۲۹۰۲)

ایسے ہی شب برأت کے معنی ہوں گے شب تبرأ یعنی بیزاری والی رات تو اس سے یہ بات صاف معلوم ہوجائے گی کہ شب برأت والی رات کسی سے بیزاری کے لئے بنائی گئی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس رات کو ایجاد کرنے میں رافضی شیعوں کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ اس رات میں اپنے فرضی امام کی پیدائش کی خوشی مناتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور تمام مسلمانوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔

تحفۃ العوام
جو رافضیوں کی مشہور کتاب ہے اس کتاب کا مصنف لکھتا ہے کہ اس شب میں یہ تمام برکات اسلئے ہیں کہ امر کی اس شب میں ولادت ہوگی یعنی امام مہدی کی ۔
ارمغان عجم ص ۱۲۴

صاحب امر سے مراد شیعوں کے بارہویں امام ہیں دنیا میں صرف ان ہی کا حکم چلے گا اس لئے انہیں صاحب الامر کہا جاتا ہے حتی کہ شیعہ کتب میں یہاں تک لکھا ہے کہ جب ان کے بارہویں امام آکر یہاں رہیں گے تو سیدناابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدناعمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اجساد قبروں سے نکال کر انہیں پھانسی دیں گے اور سیدہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنگسار کریں گے اور تمام بے دینوں یعنی مسلمانوں کو قتل کریں گے۔
(حوالہ مولانا حبیب الرحمن کاندھلوی شب برات کیا ہے ۔ص۸)۔

جناب محمودالحسن صاحب خسرو

اعزازی لیکچرار لاء کلاس ہائی کورٹ حیدرآباد دکن اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے لیکچرار رہے ہیں اپنی کتاب ’’ قرآن مجید کا نزول اور وحی میں لکھتے ہیں کہ شبِ برأت میں کچھ بھی نہیں ہوتا مختصر یہ کہ قران مجید کے نزول کو ماہ شعبان خاص شعبان کی پندرہویں رات یعنی شب برات نہ کوئی فضیلت وعظمت کی رات نہ یہ کسی عبادت کی رات ہے ۔ جو احادیث بیان کی جاتی ہیں محدّثین کی جماعت نے ان سب کو بادلائل رد کیا ہے یہی وجہ ہے کہ روایتیں حدیث کی صحیح اور مستند کتابوں میں جگہ نہ پاسکیں۔

(قرآن کا نزول اور وحی ص ۱۳

امام ابن العربی مالکی المتوفی ۵۴۳؁ھ

نے اپنی کتاب تفسیر القرآن جلد ۲ ص ۲۱۴ میں پندرہویں شعبان کی رات کی تمام حدیثوں کو غیر معتبر ٹھہرایا ہے بلکہ یہ شیعوں کی یادگار ہے جو سنیوں میں پھیل گئی ہے۔ سنیوں کو بے وقوف بنانے کے لئے شیعوں نے اس رات کا اصل نام بدل دیا جبکہ اصل نام شب تبرا ہے بدل کرشب برات کردیا۔

قبرستان جانے کے من گھڑت قصے لکھے گئے تاکہ سنیوں کو اصل حقیقت کا علم نہ ہو سکے ۔ اسی لئے قبرستان والی روایت میں عبادات کا تذکرہ نہیں ہے چونکہ شیعہ اس رات میں عبادت نہیں کرتے اور اس رات میں غاروں و دریاؤں اور کنوؤں پر جاکر امام کے نام پرچیاں ڈالتے اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ ہم ان سنیوں کے ہاتھوں بہت تنگ آ چکے ہیں للہ اب تو آپ تشریف لائیں اور ان ملحدین سے ہمیں نجات دلائیں۔

الغرض وہ اس شب اپنے امام کی پیدائش کی خوشی میں یہ سب کچھ کرتے ہیں اور سنیوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔ ۔

بقیع قبرستان مدینہ منورہ کی کہانی اور اس پر تاریخی نظر

رسول اللہ ﷺ کا بقیع قبرستان جانا صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ رات کے وقت بقیع قبرستان میں گئے اس حدیث کو امام نسائی اور امام مالک نے اپنی کتاب مؤطا امام مالک میں ذکر کیا یہ حدیث صحیح علی الاعلان ہے ۔ اس حدیث میں شب برأت کی کوئی خوبی نہیں بیان کی نہ اس شب مخصوص کے باعث آپ ﷺ قبرستان تشریف لے گئے تھے بلکہ آپ ﷺ کے وہاں جانے کی صرف وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کو اہل بقیع کیلئے دعائے مغفرت کا حکم دیا گیا جس کا ذکر اس حدیث میں ہی موجود ہے آپ ﷺ اس پر عمل کرنے کیلئے بقیع قبرستان گئے۔ تاریخی لحاظ سے یہ واقعہ کب پیش آیا کونسی رات اور سنّ تھا۔شعبان کے ساتھ تو اس واقعہ کا کوئی تعلق نہیں۔ رہا مہینہ اور تاریخ کا مسئلہ تو موطا امام مالک کے حاشیہ پر المحلیٰ کے حوالہ سے ابن الوضاح کا قول منقول ہے۔

قال ابن الوضاح کانت القصۃ قبل موتہ بخمسۃ ایام موطا ص ۸۵
ابن الوضاح کہتے ہیں یہ واقعہ وفات رسول ﷺ سے پانچ روز قبل پیش آیا۔

یعنی یہ واقعہ آپ ﷺ کی وفات سے پانچ روز قبل پیش آیا نہ کہ شعبان میں ، آپکی وفات ربیع الاول میں ثابت ہے۔
جب یہ واقعہ پیش آیا کیا تاریخ تھی؟ اس کا فیصلہ کا دارومدار اس بات پر موقوف ہے کہ جناب محمد ﷺ کی وفات کون سی تاریخ کو ہوئی مؤرخین کے وفات رسول ﷺ کے بارے میں تین اقوال ہیں ۲ ربیع الاول یکم ربیع الاول اور نو ربیع الاول اسی طرح بارہ ربیع الاول بھی عوام میں مشہور ہے۔

ان اقوال کے لحاظ سے آپ ﷺ صفر مہینے کے آخر میں بقیع قبرستان تشریف لے گئے یا ربیع الاول کے شروع میں۔
الغرض شعبان میں بقیع جانے کی کہانی من گھڑت داستان سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔

سیدناابو مویہہ رضی اللہ عنہ کا قول

باصبح من تلک اللیلۃ بدا وجعہ الذی مات منہ ﷺ
(کشف المعظا شرح موطا ص ۲۲۴)
اسی رات کی صبح سے جناب محمد ﷺ کو وہ تکلیف شروع ہوئی جس سے آپ کی وفات واقعہ ہوئی۔

یعنی صحابی رسول صل اللہ علیہ وسلم یہ بات بیان کرتے ہیں کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم جس رات بقیع قبرستان تشریف لے گئے اس رات سے آپ صل اللہ علیہ وسلم کو تکلیف شروع ہوئی تو معلوم یہ ہو اکہ اس واقعہ کو شعبان سے کوئی نسبت نہیں یا پھر آپ کی وفات بھی شعبان میں ثابت کی جائے اگر آپ کی وفات شعبان میں ثابت کرنا مشکل ہے تو بقیع قبرستان جانے والے واقعہ کو بھی شعبان میں لانا ایسے ہی مشکل ہے۔ لہٰذا تمام سنی بھائیوں سے عرض ہے کہ آپ حقیقت پر نظر ڈال لیجئے کہ حقیقت کیا ہے ۔ ہم کو کون سا کام کرنا چاہئیے اور کن کاموں سے بچنا چاہئیے نہ کہ غافل بن کر جو دیکھیں یا سنیں اس پر عمل کرنا شروع کر دیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم کو حقیقت سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق دے بدعات سے نجات دے آمین ثم آمین۔ ...............
 ·  Translate
113
28
hafeez rahman afredi's profile photosajid ali's profile photo
 
❓کیا شعبان کے پورے مہینہ میں روزے رکھنے مستحب ہیں
کیا میرے لیے پورے شعبان کے روزے رکھنا سنت ہے ؟
الحمدللہ

❤شعبان کے مہینہ میں زیادہ سے زيادہ رکھنے روزے رکھنے مستحب ہيں ، حدیث میں بیان کیا گياہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سارے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے :

✨ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہيں کہ :

🌺( میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی دو ماہ مسلسل روزے رکھتےہوئے نہيں دیکھا ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کو رمضان کے ساتھ ملایا کرتے تھے ) ۔

🍀مسنداحمد حدیث نمبر ( 26022 ) سنن ابو داود حدیث نمبر ( 2336 ) سنن ابن ماجہ حدیث نمبر ( 1648 ) ۔

🌸اورابوداود کے الفاظ کچھ اس طرح ہيں :

❤( نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورے سال میں کسی بھی پورے مہینے کے روزے نہيں رکھتے تھے ، لیکن شعبان کو رمضان سے ملاتے ) علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح ابوداود ( 2048 ) میں اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

✨لھذا اس حدیث کے ظاہر سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورا شعبان روزہ رکھا کرتے تھے ۔

🌺لیکن احادیث میں یہ بھی وارد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے اکثر ایام کا روزہ رکھا کرتے تھے ۔

🍀ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزوں کے بارہ میں دریافت کیا تووہ کہنے لگیں :

🌸( آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے رکھنے لگتے تو ہم کہتیں کہ آپ تو روزے ہی رکھتے ہیں ، اورجب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ چھوڑتے تو ہم کہتے کہ اب نہيں رکھیں گے ، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو شعبان کے مہینہ سے زيادہ کسی اورمہینہ میں زيادہ روزے رکھتے ہوئے نہيں دیکھا ، آپ سارا شعبان ہی روزہ رکھتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں اکثر ایام روزہ رکھا کرتے تھے ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1156 ) ۔

❤علماء کرام ان دونوں حدیثوں کو جمع کرنے میں اختلاف کرتے ہیں :

✨کچھ علماء کرام تو کہتے ہيں کہ یہ اوقات کی مختلف ہونے کی وجہ سےتھا ، لھذا کچھ سالوں میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سارا شعبان ہی روزہ رکھا کرتے تھے ، اوربعض سالوں میں شعبان کے اکثر ایام روزہ رکھتے تھے ۔

✅شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی نے یہی اختیار کیا ہے ۔

🌺دیکھیں مجموع فتاوی الشیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی ( 15 / 416 ) ۔

🍀اورکچھ دوسرے علماء کرام کہنا ہے کہ :

🌸نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے علاوہ کسی اورمہینہ میں پورے مہینہ کے روزے نہيں رکھتے تھے ، انہوں نے ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا والی حدیث کو اس پر محمول کیا ہے کہ اس سے مراد اکثر شعبان ہے ، اورلغت میں یہ کہنا جائز ہے کہ جب کوئي شخص کسی مہینہ میں اکثر ایام روزے رکھے تو کہا جاتا ہےکہ اس نے مکمل مہینہ کےروزے رکھے ۔

✨حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :

❤عائشہ رضي اللہ تعالی عہنا والی حدیث ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی حدیث کی مراد بیان کرتی ہے حدیث ام سلمہ میں ہے کہ ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے علاوہ کسی اورمکمل مہینے کے روزے نہيں رکھتے تھے آپ شعبان کو رمضان کے ساتھ ملاتے تھے ) ۔

🌺یعنی اس کے اکثرایام کے روزے رکھتے تھے ، امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے ابن مبارک رحمہ اللہ تعالی سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں :

🍀کلام عرب میں یہ جائز ہے کہ جب کوئي مہینہ کے اکثر ایام روزے رکھے تو یہ کہا جائے کہ اس نے پورا مہینہ روزہ رکھے ۔۔

🌸اورطیبی رحمہ اللہ کہتے ہیں :

✨اسے اس پر محمول کیا جاسکتا ہےکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات پورے شعبان کےروزے رکھتے تھے اوربعض اوقات اکثرایام روزے رکھتے تا کہ یہ خیال پیدا نہ ہو کہ شعبان کے روزے بھی رمضان کی طرح واجب ہیں ۔

❤پھر حافظ ابن حجررحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :

✅اورپہلی بات ہی صحیح ہے ۔ ا ھـ

✨یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان کے روزے نہیں رکھا کرتے تھے ، اورانہوں نے مندرجہ ذیل حدیث سے استدلال کیا ہے :

❤عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں کہ :

🌺( میرے علم میں نہيں کہ اللہ تعالی کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی ایک ہی رات میں پورا قرآن مجید ختم کیا ہو ، اورصبح تک ساری رات ہی نماز پڑھتے رہے ہوں ، اوررمضان کے علاوہ کسی اورمکمل مہینہ کے روزے رکھے ہوں ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 746 ) ۔

🍀اور ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ :

🌸نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کسی اورمہینہ کےمکمل روزے نہيں رکھے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1971 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1157 ) ۔

✨امام سندی رحمہ اللہ تعالی ام سلمہ رضي اللہ تعالی عنہا کی حدیث کی شرح کرتے ہوئے کہتے ہیں :

❤( شعبان کو رمضان سے ملاتے تھے ) یعنی دونوں مہینوں کے روزے رکھتے تھے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پورے شعبان کے روزے رکھتے تھے ، لیکن دوسری احادیث اس کے خلاف دلالت کرتی ہيں ، اس لیے اسے اکثر شعبان پر محمول کیا جائے گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شعبان میں اکثرایام کے روزے رکھتے تھے ، گویہ کہ پورا شعبان ہی روزے رکھے ہوں اورپھر اسے رمضان سے ملاتے تھے ۔ ا ھـ

❓اگر یہ کہا جائے کہ شعبان میں زيادہ روزے رکھنے میں کیا حکمت ہے ؟

🍀اس کا جواب دیتےہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ تعالی کہتےہیں:

🌺اس میں اولی تووہی ہے جوامام نسائی اورابوداود نے روایت بیان کی ہے اورابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے کہ :

🌸اسامہ بن زید رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں میں نے اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ، اے اللہ تعالی کے رسول آپ جتنے روزے شعبان میں رکھتے ہیں کسی اورمہینہ میں اتنے روزے نہیں رکھتے ؟

🌹نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

🍀( یہ ایسا مہینہ ہے جس میں لوگ غفلت کاشکار ہوجاتے ہیں جورجب اوررمضان کے مابین ہے ، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں ، میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں اٹھائے جائیں ) سنن نسائي ، سنن ابوداود ۔

✅علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے صحیح سنن نسائي ( 2221 ) میں اسے حسن قراردیا ہے ۔

✨واللہ اعلم✨
 ·  Translate
38
4
annie malik's profile photosidra shaheen's profile photo
 
رجب کے کونڈے... حقیقت کیا ہے؟

اس کا گھڑنے والا لکھنو کا کوئی جاہل تھا، جس کو اتنا بھی علم نہ تھا (اور ویسے بھی مثل مشہور ہے کہ ”دروغگورا حافظہ نباشد“ افسانہ نگار نے اپنے قصے کی بنیاد مدینہ میں بادشاہ اور وزیر کے وجود پر رکھی ہے حالاں کہ) کہ مدینہ منورہ میں اور نہ صرف مدینہ، بلکہ پورے عرب میں نہ حضرت امام کے زمانے میں نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کوئی بادشاہ ہوا ہے اور نہ وزیر اعظم ،کیوں کہ اس وقت عرب میں خلافت قائم تھی، جس میں نہ تو بادشاہ اور نہ وزیر اعظم کا کوئی منصب و عہدہ تھا۔
عربوں میں میدے کی پوریاں گھی میں پکا کر کونڈوں میں بھرنے اور فاتحہ دلانے کا رواج آج تک نہ تھا اور نہ ہوا۔
حضرت جعفر بن محمد کی عمر کے52 سال تک تو بنو امیہ کی خلافت رہی۔ جس کا صدر مقام دمشق (ملک شام) تھا، مگر ان کی خلافت میں بھی وزیراعظم کا کوئی عہدہ نہ تھا۔
اس کے بعد تقریباً 16 سال تک آپ خلافت عباسیہ میں رہے، جس کا صدر مقام بغداد (عراق) تھا، ان کے ہاں بھی آپ کی موجودگی میں وزارت کا عہدہ قائم نہ ہوا تھا۔
یہ بات کتنی مضحکہ خیز ہے کہ حضرت امام نے اپنی زندگی ہی میں اپنی فاتحہ کرانے کا حکم خود اپنی ہی زبانِ مبارک سے دیا، حالاں کہ ایصالِ ثواب یا فاتحہ کسی کی بھی ہو وفات کے بعدہی ہوا کرتی ہے تو پھر حضرت امام نے اپنی زندگی ہی میں اپنے نام کے کونڈے بھروانے اور فاتحہ کرانے کا حکم کیسے دے دیا ؟ بلکہ آپ کا دامن تو ایسی لغو باتوں سے پاک ہے۔
اس لکڑہارے کا قصہ نہ کبھی مدینہ کی گلیوں میں گونجا، نہ عرب ممالک میں کہیں سنائی دیا اور نہ ہی مشرق و مغرب کے کسی اسلامی ملک میں کہیں پہنچا۔
حضرت جعفر بن محمد علیہ الرحمة8 رمضان المبارک 80 ھ اور بروایت دیگر 17 ربیع الاوّل
83ھ کو مدینہ میں پیدا ہوئے ، لیکن وفات کے متعلق شیعہ، سنی سب ہی کا اتفاق ہے کہ آپ نے 15 شوال 148ھ کو مدینہ منورہ ہی میں وفات پائی ان کی زندگی کے حالات معروف و مشہور ہیں
لہٰذا 22 رجب کی تاریخ کی کوئی تخصیص نہیں ہونی چاہیے، کیونکہ یہ نہ تو آپ کی تاریخ
ولادت ہے اور نہ ہی تاریخ وفات۔
جس طرح اسرائیلی قوم عجائب پرست تھی اور ہر مدعی نبوت سے معجزات و کرامات کے ظہور کی آرزو مند رہتی تھی اسی طرح اودھ کی شیعہ ریاست کے ماتحت رام اور لچھن کے دیس کے خالص ہندو معاشرے میں رہنے والے عوام کا لانعام بھی ہندو دیو مالاؤں اور رامائن کے من گھڑت قصے سن سن کر عجائب پرست بن گئے تھے اور لکھنو کے داستان گو یوں کو تو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ انہوں نے نوابوں کی سرپرستی میں طلسمِ ہوش رُبا اور ”داستانِ عجیب “ جیسی طویل داستانیں گھڑ کر ہندو دیو مالاؤں کو بھی مات کر دیا تھا، لہٰذا لکھنوی معاشرے میں بزرگانِ سلف کی طرف منسوب اور اخترا ع کردہ حکایات کا قبولِ عام حاصل کر لینا کوئی مشکل بات نہ تھی، کیونکہ اس کے لیے نہ کسی سند کی ضرورت تھی اور نہ ہی کسی ضابطے کی۔
جس چیز کودینی طور پر پیش کیا جائے اس کے جواز کی سند تو ضابطہ دین سے ہی پیش کی جانی چاہیے، سورة الانعام آیت 17 میں ارشاد باری تعا لٰی ہے کہ اگر تمہیں کوئی تکلیف پہنچے تو اللہ تعالٰی کے سوا اسے کوئی رد نہیں کر سکتا اور اگر وہ تم کو کوئی فائدہ پہنچائے توبھی اسے قدرت حاصل ہے“ لہٰذا غیر اللہ سے کوئی مراد مانگنا شرک ہے، جو نا قابلِ معافی گناہ ہے ۔سورة ال عمران آیت104۔
پھر اگر حضرت امام جعفر صادق رحمة اللہ علیہ سے متعلق لکڑہارے کا پورا افسانہ اپنے اندر کوئی تاریخی حقیقت رکھتا تو سوچنے کی اور غور کرنے کی بات یہ ہے کہ تاریخِ اسلامی یا بزرگوں کے حالات کی کسی مستند و معتبر کتاب میں اس عظیم واقعہ کا کوئی ذکر کیوں نہیں آیا؟ ” تلک عشرة کاملة “ اس قصے میں جو منظر کشی کی گئی ہے اس سے بخوبی واضح ہو گیا کہ یہ افسانہ ہندوستان کے کسی راجہ یا راجدھانی کا تو ہو سکتا ہے، مگر عرب قبیلے یا فرد کا ہرگز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح شیعوں نے سنی مسلم عوام کو دین سے گمراہ کرنے کے لیے اور چند جھوٹی اور فرضی کتابیں لکھ ماری ہیں اسی طرح یہ ”داستانِ عجیب“ بھی ایک فرضی اور من گھڑت جھوٹا افسانہ ہے ، مگر بے چارے توہم پرست اور عجوبہ پسند مسلم عوام میں کہاں اتنی صلاحیت ہے کہ وہ سامنے کی دلچسپ بات کو چھوڑ کر معا ملے کی تہہ اور اصل حقیقت تک پہنچیں۔شروع شروع میں تو عرصے تک یہ رسم دبی دبی شیعوں کے حلقے میں محدود رہی ، لیکن پھر شیعوں نے سوچا کیوں نہ تعزیہ داری کی طرح کسی خوبصورت فریب اور تقیہ سے کام لے کر سنیوں کو بھی وفاتِ امیر معاویہ  کے سلسلے کے اس جشنِ مسرت میں غیر شعوری طور شریک کر لیا جائے، چنانچہ انہوں نے حضرت امیرمعاویہ کے تاریخِ وفات ”۲۲“ رجب پر فریب کا پردہ ڈالنے کے لیے اس تاریخ کو حضرت امام جعفر کی طرف منسوب کر دیا اور لکڑہارے وغیرہ کا فرضی افسانہ گھڑا اور ”داستانِ عجیب“ اور ” نیازنامہ“ وغیرہ حضرت امام جعفر صادق کے نام سے چھپوا کر چہار دانگ عالم میں پھیلادیا ۔
 ·  Translate
156
18
altaf Hussain's profile photoUmme SAAD's profile photoKhan Gee's profile photomushi sheikh's profile photo
35 comments
 
Jo is pe itekar nahen rakhta us ke apni marzi. keunke Islam mn zabardasti nahen hae. Hm to Mola Ali a.s. ke mannane wale haen aur hm eman rakhte hn jo Islam ke pehchan Mola Ali a.s ke dar se hae aur kahnen nahen. Hamare Nabi ne farmaea anna madina to elme wa Ali un babo ha.
 ·  Translate
 
چیونٹی اور کانٹیکٹ لینز:
برینڈا کو اس کے دوستوں نے کوہ پیمائی پر چلنے کے لیے کہا اور وہ راضی ہو گئی، اگرچہ اسے بے آب و گیا چٹانوں کی اونچائی کا سوچ کر ڈر محسوس ہو رہا تھا لیکن وہ ایڈوانچر کے پیش نظر تیار ہو گئی، اور وہ سب دوست اپنے جسموں سے رسیاں باندھ کر پتھریلی چٹانوں پر زور آزمائی کر رہے تھے، راستہ یقینا کٹھن تھا لیکن وہ ہمت سے آگے بڑھتے رہے اور پھر ایک رسی جھولتی ہوئی برانڈا کے چہرے سے آ ٹکرائی، 
رسی کا سرا برینڈا کی آنکھ میں لگا اور اس کا کانٹیکٹ لینز نکل کر چٹان پر جا گرا۔
یہ نظر کا لینز تھا اور اس کے بغیر دیکھ پانا برینڈا کے لیے مشکل تھا، اس نے لینز کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن نہ ڈھونڈ پائی، اسکی نظر دھندلا گئی تھی لیکن جیسے تیسے کر کے وہ چوٹی تک پہنچ گئی۔
جب وہ چوٹی پر پہنچی تو اس نے پہاڑوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ دیکھا اور خدا سے دعا کی کہ
 "اے خدا تو ہر جگہ موجود ہے، ہر چیز تیری نظر میں ہے، میں باوجود کوشش کے اپنے لینز کو ڈھونڈ نہیں پائی، خدایا تم اس دنیا کے ذرے ذرے کا علم رکھتے ہو، میری مدد کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
اور پھر جب انھوں نے واپسی کی راہ لی تو انہیں کوہ پیماؤں کی ایک اور ٹیم چوٹی کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آئی ، برینڈا کی پارٹی کو جب ان لوگوں نے دیکھا تو ان میں سے ایک بولا۔
ارے سنو کیا تم میں سے کسی کا "کانٹیکٹ لینز" کھو گیا ہے؟
برینڈا نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس سے اپنا لینز لے کر آنکھ میں لگا لیا۔
اس شخص نے بتایا کہ تمہیں پتا ہے کہ مجھے یہ لینز کیسے نظر آیا؟
میں یہ لینز کبھی نہ دیکھ پاتا اگر ایک چیونٹی اسے اٹھا ئے حرکت نہ کر رہی ہوتی۔
برینڈا چیونٹی کے اس طرح لینز کو اٹھا کر چلنے سے متاثر ہوئی اور اس نےواپس آ کر لینز کے کھوجانے، اپنی دعا اور چیونٹی کا لینز کو اٹھا کر لے جانے کا واقعہ ایک مصور کو سنا دیا
اور اس مصور نے بڑی خوبصورتی سے اس چیونٹی کا خاکہ بنا ڈالا جو کہ کانٹیکٹ لینز کو اٹھائے اپنے ٹھکانے کی طرف جا رہی ہو اور اس کے نیچے چیونٹی کے یہ الفاظ لکھے جیسے وہ خدا سے کہہ رہی ہو کہ
" اے خدا میں نہیں جانتی کہ تم مجھ سے یہ بوجھ کیوں اٹھوا رہے ہو؟ نہ تو میں اس لینز کو کھا سکتی ہوں اور نہ ہی یہ میرے کسی اور کام آ سکتا ہے، اور یہ ہے بھی بہت بھاری، لیکن اگر تم چاہتے ہو کہ میں یہ کام کروں تو میں ضرور کروں گی"

زندگی میں جب ہمارے اوپر آزمائش آتی ہے، کوئی امتحان آتا ہے، اور پریشانیوں کا بوجھ انسان کے کندھوں پر پڑتا ہو تو انسان کو بھی اس چیونٹی ہی طرح کرنا چاہیئے اور یہ ہمارا طرز عمل ہونا چاہئے کہ 
"اے خدا اگرچہ یہ بوجھ جو مجھ پر آن پڑا ہے یہ بہت بھاری ہے، مجھے اسے اٹھانے میں اپنے لیے کوئی فائدہ کوئی خیر یا بھلائی نظر نہیں آتی لیکن اگر تم چاہتے ہو کہ میں یہ بوجھ اٹھاؤں تو میں اسے ضرور اٹھاؤں گا"
 ·  Translate
147
19
Sajid Ur Rehman's profile photoghuraba fi dunya's profile photoSajjad Sajjad's profile photoAsghar Farooq's profile photo
9 comments
 
nice
Add a comment...
 
 
ملا جی۔۔۔۔۔۔۔!!
جی بھائی۔۔۔۔۔۔!
ایک سوال پوچھنا ہے مگر ڈر لگتا ہے کہ آپ کوئی فتوی ہی نہ لگا دیں۔
پوچھو پوچھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! سوال پوچھنے پر کوئی فتوی نہیں۔
یہ بتائیں کہ اسلام مرد کو طلاق کا حق دیتا ہے، عورت کو کیوں نہیں دیتا۔۔۔۔؟؟
کیا عورت انسان نہیں؟ کیا اس کے حقوق نہیں؟
یہ کیا بات ہے کہ مرد تو جب جی چاہے عورت کو دوحرف کہہ کر فارغ کردے اور عورت ساری زندگی اس کے ظلم کی چکی میں پسنے کے باوجود بھی اپنی جان بخشی نہ کراسکے۔۔۔؟ کیا یہ ظلم نہیں؟؟؟؟؟
تمہارے سوال کا جواب دیتا ہوں، مگر پہلے تم مجھے ایک بات بتاؤ۔۔۔۔۔!!
جی ملا جی۔۔۔۔۔۔۔۔!!
یہ بتاؤ کہ تم ایک بس میں کہیں جانے کے لئے سوار ہوئے، بس والے کو کرایہ دیا، ٹکٹ لی، سیٹ پر بیٹھے، سفر شروع ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بس والا تمہیں منزل پر پہنچنے سے پہلے کہیں راستے میں، کسی جنگل، کسی ویرانے میں اتارنے کا حق رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟
بالکل نہیں۔
ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! اب یہ بتاؤ کہ اگر تم راستے میں کہیں اترنا چاہو تو تمہیں اس کا حق حاصل ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟
بالکل ہے، میں جہاں چاہوں اتر سکتا ہوں۔
وجہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وجہ یہ ملا جی کہ وہ مجھ سے کرایہ لے چکا ہے، لہذا منزل سے پہلے کہیں نہیں اتار سکتا، اور مین جہاں چاہوں اتر سکتا ہوں، وہ مجھے نہیں روک سکتا، اس لئے کہ اس کا کام کرائے کے ساتھ تھا جو وہ مجھ سے لے چکا ہے۔
بالکل ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! اب ایک اور بات بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
تم ایک مزدور کو لے کر آئے ایک دن کے کام کے لئے، اس نے کام شروع کیا، اینٹیں بھگوئیں، سیمنٹ بنایا، دیوار شروع کی، اور آٹھ دس اینٹیں لگا کر کام چھوڑ کر گھر کو چل دیا، تمہارا رد عمل کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں اسے پکڑ لوں گا، نہیں جانے دوں گا، کام پورا کرے گا تو اسے چھٹی ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
اور اگر تم اسے کام کے درمیان میں فارغ کرنا چاہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
مجھے اس کی اجرت دینی ہوگی، اجرت دینے کے بعد میں اسے کسی بھی وقت فارغ کرسکتا ہوں۔
اگر وہ کہے کہ میں اجرت لینے کے باوجود نہین جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
وہ ایسا نہیں کرسکتا، میں اسے لات مار کر نکال دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔!!
بالکل ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! اب اپنے سوال کا جواب سنو۔۔۔۔۔۔۔۔!!
دنیا میں جس قدر بھی معاملات ہوتے ہیں، ان میں ایک فریق رقم خرچ کرنے والا ہوتا ہے تو دوسرا اس پیسے کے بدلے میں خدمت کرنے والا۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کا اصول یہ ہے کہ ہمیشہ پیسہ خرچ کرنے والے کا اختیار دوسرے سے زیادہ ہوتا ہے، کوئی معاملہ طے ہونے کے وقت تو دونوں فریقوں کی رضا ضروری ہے، لیکن معاملہ طے ہوجانے کے بعد اس کے انجام تک پہنچنے سے پہلے، رقم خرچ کرنے والا فرد تو واجبات کی ادائگی کے بعد خدمت کرنے والے کو فارغ کرسکتا ہے، مگر خدمت فراہم کرنے والا کام فریق درمیان میں چھوڑ کر خرچ کرنے والے کو فارغ نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔!!
اگر رقم کے بدلے میں خدمت فراہم کرنے والے فریق کو کسی بھی وقت پیسہ خرچ کرنے والے کو فارغ کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو مزدور دوپہر کو ہی کام چھوڑ کر گھر چلے جائیں، ملازم عین ڈیوٹی کے درمیان غائب ہوجائیں، مالک مکان مہینے کے درمیان ہی کرائے دار کو گھر سے نکال دیں، درزی آپ کا سوٹ آدھا سلا اور آدھا کٹا ہوا آپ کے حوالے کرکے باقی کام کرنے سے انکار کردے، نائی آپ کے آدھے سر کی ٹنڈ کرکے آپ کو دوکان سے باہر نکال دے، دنیا کا سب نظام تلپٹ ہوجائے۔ کچھ سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ہاں ہاں ملا جی سمجھ رہا ہوں، مگر میں تو وہ طلاق والی بات۔۔۔۔۔۔۔!!
وہی سمجھا رہا ہوں۔
اب سن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! ایک مرد اور ایک عورت میں جب نکاح کا پاکیزہ، محبت، پیار اور اعتماد والا رشتہ ہوتا ہے تو یہ کوئی کاروباری یا جزوقتی معاملہ نہیں ہوتا، یہ دلوں کا سودا، اور ساری زندگی کا سودا ہے، مگر اس میں بھی اسلام ہمیں کچھ اصول اور ضوابط دیتا ہے۔
اس معاملے اور معاہدے میں ایک فریق مرد ہے، اسلام اس کے اوپر اس کی بیوی کا سارا خرچ، کھانا پینا، رہن سہن، علاج معالجہ، کپڑا زیور، لین دین، اور زندگی کی ہر ضرورت کا بوجھ ڈالتا ہے، اب اس عورت کی ساری زندگی کی ہر ذمہ داری اس مرد پر ہے، یہی اس کی حفاظت اور عزت کا ذمہ دار ہے، یہی اس کی ہر ضرورت کا مسئول ہے، یہاں تک کہ اس عورت کے مرنے کے بعد اس کے کفن دفن کا بندوبست بھی اسی مرد کو کرنا ہے، اور مرد کے مرنے کی صورت میں اس مرد کی بہت سی وراثت بھی اسی عورت کو ملنی ہے۔
ان دونوں میاں بیوی سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ یوں تو دونوں ہی کے ہیں، مگر اسلام ان بچوں کی مکمل مالی ذمہ داری بھی صرف اور صرف مرد پر ڈالتا ہے، ان بچوں کی رہائش، کھانا پینا، کپڑے، علاج معالجہ، تعلیم اور کھیل کے تمام مالی اخراجات بھی مرد اور صرف مرد کے ذمہ ہیں۔ اسلام عورت کو ان تمام ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آزاد رکھتا ہے۔
ان سب ذمہ داریوں سے پہلے، عقد نکاح کے وقت ہی مرد نے مہر کے عنوان سے ایک بھاری رقم بھی عورت کو ادا کرنی ہے۔
ان سب کے علاوہ اسلام مرد کو اس کی بیوی کے بارے میں حسن سلوک کی تلقین کرتا ہے، وہ اسے "من قتل دون عرضه فهو شهيد" کی خوش خبری سنا کر اپنی بیوی کی عزت کی حفاظت کے لئے جان تک دے دینے کی ترغیب دیتا ہے، اور "حتي اللقمة ترفعها الي في امرأتك" کہ کر اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے پر بھی ثواب کی نوید سناتا ہے، وہ اسے "اتقوا الله في النساء" کہہ کر بیوی کو تنگ کرنے، ستانے، بلا وجہ مارنے، دھمکانے اور پریشان کرنے پر اللہ کی ناراضگی اور عذاب کی وعید سناتا ہے تو "خيركم خيركم لاهله وانا خيركم لاهلي" کہ کر گھر والوں کو محبت، پیار، سکون دینے، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنے اور انہیں جائز حد میں رہ کر خوش رکھنے پر اللہ کی رضا کی نوید سناتا اور ایسے لوگوں کو بہترین انسان قرار دیتا ہے۔
مرد پر اس قدر ذمہ داریاں عائد کرنے کے بعد وہ بیوی پر اپنے شوہر کی خدمت، اطاعت، اس کے ساتھ وفا داری، اس کے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔
اب سنو۔۔۔۔۔۔۔۔!!
مرد اور عورت کے اس معاہدے میں عورت کی ساری زندگی کی ہر مالی ذمہ داری مرد پر ہے، تو تم خود بتاؤ کہ طلاق کا حق ان دونوں میں سے کس کے پاس ہونا چاہئے؟
ویسے ہونا تو مرد کے پاس ہی چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے اگر عورت کو بھی یہ حق دے دیا جائے تو آخر اس میں حرج کیا ہے؟
حرج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بھئی فرض کرو تم نے ایک خوبصورت عورت کا رشتہ پسند کیا، رشتہ بھیجا، بات چلی، رشتہ طے ہوگیا، انہوں نے ایک لاکھ مہر کا مطالبہ کیا، تم نے منظور کیا، نکاح ہوگیا، تم نے جونہی مہر اس کے حوالے کیا، اس نے کہا۔۔۔۔۔۔۔"میں تمہیں طلاق دینی ہوں، طلاق طلاق۔۔"۔۔۔ اور شام کو کسی اور سے شادی کرلی، اس سے مہر وصول کرکے تیسرے، پھر چوتھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو تمہارے دل پر کیا بیتے گی مسٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اوہ ملا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! آپ نے تو میرے ہوش اڑا دئیے، یہ تو بہت خوفناک بات ہے۔
صرف یہی نہیں مسٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! اس سے آگے چلو، اب جو مرد کھلے دل سے بیوی پر اپنا مال جان دل سب کچھ لٹاتا ہے، اس کے نخرے اٹھاتا ہے، صرف اس لئے کہ وہ اسے ہمیشہ کے لئے اپنی سمجھتا ہے۔۔۔۔ اگر اس کے دل میں یہ خوف پیدا ہوجائے کہ یہ کسی بھی وقت اسے لات مار کر کسی دوسرے آشیانے کو روانہ ہوسکتی ہے، تو وہ اسے گندم کا ایک دانہ بھی دیتے وقت سو مرتبہ سوچے گا، اور صرف اس مرد کی نہیں بلکہ اس عورت کی زندگی بھی ہمیشہ کے لئے جہنم بن جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
سمجھ گیا سمجھ گیا۔۔۔۔۔۔!! انتہائی خوفناک۔۔۔۔۔!! بہت ہی خطرناک سچوئشن۔۔۔۔!!
مگر ایک بات ملا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! کہ کبھی کبھی ایسے ہوتا ہے، اور اب تو بہت سے گھرانوں میں ہورہا ہے، کہ مرد اپنی بیوی کے ساتھ نہ تو انصاف کرتا ہے، اور نہ اس کی جان چھوڑتا ہے۔ اس صورت میں کیا کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آہ کیا دل دکھانے والا سوال پوچھ لیا تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔!
کیوں ملا جی۔۔۔۔۔؟؟ اس میں دل دکھانے والی کیا بات ہے۔۔؟
دیکھو مسٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ان تمام مسائل کا حل اور مکمل حل اسلامی نطام ہے، وہی اسلامی نظام جس کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے تم جیسے لوگ ساڑھے چوبیس گھنٹے پھرتیاں دکھاتے رہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
اگر مکمل طور پر اسلامی نظام قائم ہو ہر طرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لے فرامین کی عزت، اہمیت اور بالادستی ہو تو ایک طرف تو سب لوگوں میں اللہ کا خوف، تقوی، نیکی کے شوق اور برائی سے دوری کے احساسات پیدا ہوتے ہیں، اور یہ وہ چیزیں ہیں جو ہر سطح پر ظلم، زیادتی اور گناہ کو روکنے کے لئے وہ کردار ادا کرنی ہیں جو پولیس، فوج اور عدالت بھی نہیں کرسکتی۔
مگر افسوس کہ تم لوگ پوری توانائی اسی خوف خدا اور دینداری کو ملیامیٹ کرنے پر صرف کرتے ہو، اپنے آشیانے کو خود آگ لگاتے ہو اور پھر اسے بجھانے کے لئے دوڑے دوڑے ہمارے پاس آتے ہو، اپنے بچوں کو اللہ، رسول، قرآن، دین اسلام کا سبق دینے کی بجائے فلموں اور ڈراموں کا سبق دیتے ہو اور جب وہ اس سبق پر عمل کرتے ہوئے تمہیں جوتے لگاتے ہیں تو روتے روتے ہمارے پاس آکر تعویذوں کی درخواست کرتے ہو۔
سن میرے مسٹر بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
اگر مکمل طور پر صحیح معنوں میں اسلامی نظام نافذ ہو تو اول تو ایسے واقعات پیش آئیں گے نہیں، اگر اکا دکا ایسا ہو بھی جائے تو بیوی فورا اسلامی عدالت میں جاکر قاضی کو شوہر کی زیادتی کی شکایت کرے گی اور قاضی سالوں تک اس مقدمے کو لٹکانے یا وکیلوں کے ہاتھوں اس کی کھال اتروانے کے بجائے دونوں کا مؤقف سن کر فوری طور پر عورت کو اس کے شوہر سے اس کا حق دلوائے گا، اگر شوہر کسی صورت اس کا حق نہیں دیتا، یا دینے پر قادر ہی نہیں ہے، تو اس سے عورت کو طلاق دینے کا مطالبہ کیا جائے گا اور اگر وہ طلاق بھی نہیں دیتا، تو عدالت اسے جیل میں بند کردے گی، تھانے جائے گا، پولیس والوں کے چھتر کھائے گا، تنہائی اور بے بسی کا مزہ چکھے گا تو خود ہی دوسرے کی بے بسی کا احساس پیدا ہوگا، ورنہ جب تک اس کی بیوی عذاب میں رہے گی، وہ بھی اسی دائمی عذاب میں مبتلا رہے گا۔
(مرکزی خیال شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے مکتوبات کے مجموعے "مکتوبات شیخ الاسلام" کے ایک مکتوب سے ماخوذ: احسن خدامی)

Copyd 
 ·  Translate
8 comments on original post
91
17
Hamid Rasheed's profile photoChanda sultan's profile photoSaleh Babakri's profile photoimran mehmood's profile photo
17 comments
 
Talaq teen baar bakne se kabhi nahi hota. Talaq ke liye bhi do mard ya 4 aurtein gawah hona zaroori hota hai. Eik talaq mukammal hota hai gawah ke samne talaq dene ke baad alaidgi aur iddat ki muddad puri hone ke baad. aur koi wapas ruju ho jaye is dauran to talaq nahi hota. aur yaad rahe ke talaq ke waqt aurat hamela nahi hona chahiye warna talaq nahi hota. 

Batao Islam ke alawa kaunsa mazhab hai jo talaq ko itni buri baat kehta hai aur itni saari  baaton ka qayal rakha jaata hai.

Islam ke alawa kaunsa doosra mazhab hai jo nikah ke waqt meher dene ko kehta hai. Yeh Allah ka hukum sirf Islam mein hai, koi doosre mazhab mein nahi hai.
 ·  Translate
Add a comment...
Have her in circles
46,391 people
mian jawadfasi's profile photo
Umair shon's profile photo
Spencer Stevens's profile photo
Md Azharuddin's profile photo
Abdul Mughaiz's profile photo
Shabi prince's profile photo
Kashif Khan's profile photo
Immy Malik's profile photo
Yaqoob Turi's profile photo
 
 

(شب برآت) 15 شعبان کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں

القرآن:
بےشک ہم نے اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے.
سورة الدخان 44
آيت 3 کا کچھ حصہ
کیا بابرکت رات سے مراد شعبان کی پندرھویں
(15) رات ہے؟
اس رات سے مراد شعبان کی پندرھویں رات نہیں بلکہ اس سے مراد "لیلة القدر" ہے کیونکہ قرآن مجید رمضان کے مہینے میں نازل کیا گیا
(سورة البقرہ 2، آيت 185) اور قرآن ميں اس رات کا نام بھی بتا دیا گیا ہے.
بےشک ہم نے اس (قرآن) کو لیلة القدر میں نازل کیا.
سورۃ القدر97
آیت 1
سیدنا اسامہ بن زید رضی الله عنه نے رسول الله صلی الله عليه وسلم سے پوچھا کہ سب مہینوں سے زیادہ شعبان میں روزے کیوں رکھتے ہیں؟
تو فرمایا:
یہ (شعبان) وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں رجب اور رمضان کے بیچ میں یہ وہ مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال پروردگار کے پاس اٹھائے جاتے ہیں میں چاہتا ہوں میرا عمل اس وقت جائے جب میں روزے سے ہوں.
سنن نسائی 2361
کتاب الصیام جلد 2
15 شعبان کو مخصوص کر کے روزہ رکھنا سنت نہیں ہے.
سنت شعبان کے پورے مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھنا ہے. سنت ہر ماہ کی 13، 14 اور 15 تاریخ (ایام بیض) کے روزے رکھنا ہے. سنت شوال کے 6 روزے، 9 کے ساتھ 10 یا 11 محرم کے روزے، 9 ذی الحج کا روزہ، پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھنا ہے
نوٹ: اس حدیث سے بھی 15 شعبان کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی.
پتوں کے جھڑنے والی یا فیصلے والی رات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا یہ سب ضعیف روایات ہیں اس رات میں نوافل اور ان کہ ثواب والی سب احادیث من گھڑت ہیں یا کچھ جو ہیں وہ ضعیف ہیں
صحیحین میں اماں عائشہ رضی الله عنہا سےمروی ہےکہ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نےارشادفرمایا " جس نےہماری اس شریعت میں کوئی نئی چیزایجاد کی جواس میں سےنہیں ہے تو وہ لائق رد ہے "اورصحیح مسلم کے الفاظ ہیں جوکو ئی ایساعمل کرےجودین سےبیگانہ عمل ہوتووہ مردود(ردکیاہوا) ہوگا" اورصحیح مسلم کےاندرجابررضی الله عنہ سےمروی ہےکہ الله کےرسول صلی الله علیہ وسلم جمعہ کےخطبہ میں فرمایا کرتےتھے :سب سےبہترین کتاب الله کی کتاب ہے اور سب سےبہترین راستہ محمد صلی الله علیہ وسلم کاطریقہ ہےاورسب سےبرے امور دین میں ایجادکردہ نئی باتیں ہیں ( جنہیں بدعت کہتےہیں ) اورہربدعت ضلالت وگمراہی ہے "اس معنی کی آیتیں اورحدیثیں ڈھیرساری ہیں جواس بات پرواح دلالت کرتی ہیں کہ الله نےاس امت کےلئےاس کےدین کومکمل کردیاہے اور اس میں کچھ بھی نیا پیدا کرنے کی اجازت نہیں ہے
الله پاک عمل کی توفیق دے اور ہر قسم کی بدعات سے بچا کے رکھے آمین
 ·  Translate
31 comments on original post
120
19
Khan Gee's profile photoHaroon Babajee's profile photo
 
(شب برآت) 15 شعبان کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں

القرآن:
بےشک ہم نے اس (قرآن) کو ایک بابرکت رات میں نازل کیا ہے.
سورة الدخان 44
آيت 3 کا کچھ حصہ
کیا بابرکت رات سے مراد شعبان کی پندرھویں
(15) رات ہے؟
اس رات سے مراد شعبان کی پندرھویں رات نہیں بلکہ اس سے مراد "لیلة القدر" ہے کیونکہ قرآن مجید رمضان کے مہینے میں نازل کیا گیا
(سورة البقرہ 2، آيت 185) اور قرآن ميں اس رات کا نام بھی بتا دیا گیا ہے.
بےشک ہم نے اس (قرآن) کو لیلة القدر میں نازل کیا.
سورۃ القدر97
آیت 1
سیدنا اسامہ بن زید رضی الله عنه نے رسول الله صلی الله عليه وسلم سے پوچھا کہ سب مہینوں سے زیادہ شعبان میں روزے کیوں رکھتے ہیں؟
تو فرمایا:
یہ (شعبان) وہ مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں رجب اور رمضان کے بیچ میں یہ وہ مہینہ ہے جس میں آدمی کے اعمال پروردگار کے پاس اٹھائے جاتے ہیں میں چاہتا ہوں میرا عمل اس وقت جائے جب میں روزے سے ہوں.
سنن نسائی 2361
کتاب الصیام جلد 2
15 شعبان کو مخصوص کر کے روزہ رکھنا سنت نہیں ہے.
سنت شعبان کے پورے مہینے میں زیادہ سے زیادہ روزے رکھنا ہے. سنت ہر ماہ کی 13، 14 اور 15 تاریخ (ایام بیض) کے روزے رکھنا ہے. سنت شوال کے 6 روزے، 9 کے ساتھ 10 یا 11 محرم کے روزے، 9 ذی الحج کا روزہ، پیر اور جمعرات کے دن روزہ رکھنا ہے
نوٹ: اس حدیث سے بھی 15 شعبان کی فضیلت ثابت نہیں ہوتی.
پتوں کے جھڑنے والی یا فیصلے والی رات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملتا یہ سب ضعیف روایات ہیں اس رات میں نوافل اور ان کہ ثواب والی سب احادیث من گھڑت ہیں یا کچھ جو ہیں وہ ضعیف ہیں
صحیحین میں اماں عائشہ رضی الله عنہا سےمروی ہےکہ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نےارشادفرمایا " جس نےہماری اس شریعت میں کوئی نئی چیزایجاد کی جواس میں سےنہیں ہے تو وہ لائق رد ہے "اورصحیح مسلم کے الفاظ ہیں جوکو ئی ایساعمل کرےجودین سےبیگانہ عمل ہوتووہ مردود(ردکیاہوا) ہوگا" اورصحیح مسلم کےاندرجابررضی الله عنہ سےمروی ہےکہ الله کےرسول صلی الله علیہ وسلم جمعہ کےخطبہ میں فرمایا کرتےتھے :سب سےبہترین کتاب الله کی کتاب ہے اور سب سےبہترین راستہ محمد صلی الله علیہ وسلم کاطریقہ ہےاورسب سےبرے امور دین میں ایجادکردہ نئی باتیں ہیں ( جنہیں بدعت کہتےہیں ) اورہربدعت ضلالت وگمراہی ہے "اس معنی کی آیتیں اورحدیثیں ڈھیرساری ہیں جواس بات پرواح دلالت کرتی ہیں کہ الله نےاس امت کےلئےاس کےدین کومکمل کردیاہے اور اس میں کچھ بھی نیا پیدا کرنے کی اجازت نہیں ہے
الله پاک عمل کی توفیق دے اور ہر قسم کی بدعات سے بچا کے رکھے آمین
 ·  Translate
57
6
Sajid ali rehmani's profile photoannie malik's profile photosidra shaheen's profile photofouzan kaifi's profile photo
9 comments
 
Think u .but is qabrstan wali Hades's ko tu imam bukhari ra be bhi naqal kia h ???
 
٭٭٭ رجب کے کونڈوں کی بدعت٭٭٭

دین میں بدعت ایک ایسا کام ہے ۔ جو دین کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے اور وہ دین جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے پیش کیا اس میں اضافہ کر دیتا ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں دین اسلام مکمل ہو گیا اور اسمیں کسی قسم کی کمی نہیں رہ گئی حجۃ الوداع کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکمیل دین کی خوش خبری سنائی

چنانچہ ارشاد فرمایا ۔
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ( المائدہ )
” آج میں نے دین اسلام کو تمہارے لیے مکمل کر دیا اور اپنی نعمت قرآن پاک کی بھی تکمیل کر دی اور اسلام کو بطور دین تمہارے لیے پسند فرمایا ۔ “

جب شریعت کے محل کی تکمیل ہو گئی اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ بھی باقی نہیں رہی تو پھر جو شخص اس میں اپنی طرف سے اینٹ لگانے کی کوشش کرے گا ۔ تو وہ بہت بڑا مجرم ہو گا ۔ گویا کہ اس کے نزدیک وہ دین جو اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھلایا اور حکم دیا کہ اپنی امت کو اس کی تبلیغ کرےں نامکمل ہے اور اس کی تکمیل کرنا چاہتا ہے اس طریقے سے وہ ایسا کام کرنا چاہتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا اس صورت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام آتا ہے کہ آپ نے شریعت کو نامکمل چھوڑ دیا یا پھر شریعت کے بعض احکام جن کا آپ کو علم تھا قصداً لوگوں تک نہیں پہنچائے ( نعوذ باللہ من ذالک ) حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے مکمل شریعت نازل کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل شریعت لوگوں تک پہنچا دی ۔

حجۃ الوداع کے موقعہ پر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا ۔ الاھل بلغت ۔ لوگو ! کیا میں نے تم کو اللہ کے احکام پہنچا دئیے سب نے کہا ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر خطبہ میں ارشاد فرمایا کرتے تھے : ” شرا الامور محدثاتھا “ سب سے برا کام دین میں نئے امور جاری کرنا ہے ایک موقعہ پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے فرمایا ، ایاکم ومحدثات الامور دین میں نئے کام ایجاد کرنے سے بچو.... تو گویا کہ بدعت بہت برا کام ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی کا موجب بنتا ہے اور بدعتی کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہمارے ملک میں جس قدر بدعات اور رسومات کو فروغ حاصل ہے ۔ اتنا شاید ہی کسی دوسرے ملک میں ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں ہر سال صرف دو تہوار عیدالفطر اور عیدالاضحی منائے ہیں لیکن آج شکم کے پجاریوں نے خدا جانے کتنے تہوار بنا رکھے ہیں بڑے پیر کی گیارہویں تو ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کو کھیر پکا کر ضرور کرتے ہیں اس کے علاوہ عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ اسلام میں نئی عید ایجاد کر کے اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی مول لیتے ہیں عوام کالا نعام کو کیا علم ہوتا ہے وہ تو علما سو اور پیٹ پرست مولویوں کے کہنے پر سب کچھ کرتے ہیں ۔

اسی طرح ہمارے ملک میں ایک بدعت حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کے کونڈوں کی بھی جاری ہے جو 22 رجب کو کی جاتی ہے گیارہویں کی طرح یہ بھی علماءسو کے لیے شکم پروری کا بہانہ ہے ۔ اس موقعہ پر خوب حلوہ پوڑی کھاتے ہیں ۔ کونڈے بھرنے والوں کو جب سمجھایا جاتا ہے کہ یہ کام بدعت اور ناجائز ہے تو وہ ایک بے بنیاد اور من گھڑت داستان جو لوگوں سے سنی سنائی ہوتی ہے بیان کرتے ہیں جس کا کوئی ثبوت ہے نہ سند ۔

یہ داستان منشی جمیل احمد کا منظوم کلام ہے اس میں ایک لکڑ ہارے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو مدینہ میں تنگدستی کی زندگی بسر کرتا تھا اور کے بیوی بچے اکثر فاقے کرتے تھے وہ بارہ سال تک در در دھکے کھاتا رہا لیکن فقر و فاقہ اور تنگدستی کی زندگی ہی گزارتا رہا.... یہ لکڑ ہارا ایک دن وزیر کے محل کے پاس سے گزرا اس کی بیوی مدینہ میں وزیر کی نوکری کرتی تھی وہ ایک دن جھاڑو دے رہی تھی کہ حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے گزرے وہ وزیر کے محل کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے ساتھیوں سے پوچھتے ہیں ؟ آج کونسی تاریخ ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ آج رجب کی بائیس 22 تاریخ ہے امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے فرمایا اگر کسی حاجت مند کی حاجت پوری نہ ہوتی ہو یا کسی مشکل میں پھنسا ہو اور مشکل کشائی کی کوئی سبیل نظر نہ آتی ہو تو اس کو چاہئیے کہ بازار سے نئے کونڈے لائے اور ان میں حلوہ اور پوڑیاں بھر کر میرے نام کی فاتحہ پڑھے پھر میرے وسیلے سے دعا مانگے اگر اس کی حاجت روائی اور مشکل کشائی نہیں ہوتی تو وہ قیامت کے روز میرا دامن پکڑ سکتا ہے ۔

یہ ایک بالکل من گھڑت قصہ ہے ۔ جو شکم کے پجاریوں اور علماءسوءنے اپنے کھانے کا بہانہ بنا رکھا ہے اس کی کوئی سند اور ثبوت نہیں اور کسی مستند کتاب میں بھی اس کا ذکر نہیں اس کے جھوٹے اور غلط ہونے پر کئی دلائل ہیں ۔ مدینہ طیبہ میں کبھی بادشاہ ہوا ہے نہ وزیر ۔

حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی پیدائش 22 رجب کو نہیں ہوئی بلکہ ایک روایت کے مطابق 8 رمضان المبارک 80ھ میں ہوئی دوسری روایت کے مطابق 17 ربیع الاول 83ھ کو ہوئی ۔ ان کی وفات 15 شوال 148ھ کو ہوئی ۔ ان کی زندگی کے تقریبا 52 سال بنو امیہ کے دور میں گزرے اور ان کا دارالخلافہ بغداد تھا لوگ مدینہ منورہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں بنا بریں یہ واقعہ بالکل من گھڑت اور جھوٹا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ 22 رجب حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی پیدائش کا دن ہے نہ وفات کا بس یونہی لوگوں نے ان کی طرف منسوب کر دیا تاریخ حوالہ جات کے مطابق اس دن حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اہل تشیع نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ دن خوشی سے منایا تھا بعد ازاں انہوں نے حضرت جعفر رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر دیا کہ یہ ان کی پیدائش کا دن ہے پس ان کی اس رسم کو آہستہ آہستہ اہلسنت کا عقیدہ رکھنے والوں نے اپنا لیا ۔

بہرحال یہ قصہ بالکل بے بنیاد اور غلط ہے اس کا سر ہے نہ پاؤں پیٹ پرست اور شکم پروری کرنے والے علماءنے اسے خوب رواج دیا حتیٰ کہ لوگوں نے اسے دین کا اہم جزو تصور کیا اور رزق کی کشائش اور فقر و تنگدستی دور کرنے کا بہترین نسخہ تصور کیا ۔ چنانچہ اکثر تنگدست لوگ اپنی تنگدستی اور فقر و فاقہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے رجب کے کونڈے کرتے ہیں ۔ اگر بالفرض ہم یہ بات درست مان لیں کہ اسی دن امام جعفر رحمہ اللہ پیدا ہوئے تو پھر بھی یہ کام ناجائز اور شرک کے زمرہ میں آتا ہے کیونکہ مشکل کشاءاور حاجت روا اللہ تعالیٰ ہے نہ کہ حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ ۔ بنابریں ان کا وسیلہ بھی جائز نہیں مکہ کے مشرک بتوں کو خدا نہیں مانتے تھے بلکہ وہ کہتے تھے کہ یہ ہمارے سفارش کنندہ ہیں ۔ ہم ان کو خدا تصور نہیں کرتے ہم تو صرف ان کے وسیلہ سے اللہ سے مانگتے ہیں ۔

جیسا کہ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے ۔

ويعبدون من دون اللہ ما لا يضرہم ولا ينفعہم ويقولون ھولآء شفعآونا عند اللہ ( یونس : 18 )

” یہ ( مشرکین عرب ) اللہ کے سوا ایسے لوگوں کی عبادت کرتے ہیں جن کو ان کے نفع و نقصان کا کوئی اختیار نہیں وہ اس بات کا خود اعتراف کرتے ہیں کہ ہم ان کو خدا نہیں سمجھتے تمام امور کا کرنے والا اللہ ہی ہے لیکن یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ۔ “

قرآن مجید میں بڑی وضاحت سے یہ بات بیان کی گئی ہے کہ مشرکین مکہ کا یہ عقیدہ تھا کہ اللہ تمام کائنات کا خالق اور پروردگار ہے وہ سمجھتے تھے کہ اللہ وہ واحد ہستی ہے ۔ جس کے ہاتھ میں تمام کائنات کی تدبیر اور تصرف ہے اس کے باوجود قرآن پاک ان کو مشرف کہہ رہا ہے ۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب وہ اللہ کو اپنا خالق و رازق اور مالک تسلیم کرتے ہیں تو ان کو مشرک کیوں کہا گیا ؟ یہی وہ نکتہ ہے جس پر غور کرنے سے شرک کی حقیقت پوری طرح کھل کر سامنے آ جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرکین عرب نے اللہ کے ماسوا جن ہستیوں کو معبود اور دیوتا بنایا ہوا تھا وہ ان کو اللہ کی مخلوق اور اس کے بندے ہی تسلیم کرتے تھے لیکن اس کے ساتھ ان کا یہ دعویٰ تھا کہ وہ اللہ کے ہاں ہماری سفارش کریں گے ہم جو کچھ مانگتے ہیں اللہ سے ہی مانگتے ہیں لیکن ان کے وسیلہ سے مانگتے ہیں ہم ان کی پوجا پاٹ نہیں کرتے اور نہ ہم ان کو خدائی اختیارات کے حامل تصور کرتے ہیں بلکہ اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ان کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں ۔

الغرض رجب کے کونڈوں کا کوئی ثواب نہیں بلکہ یہ بدعت اور شرک کے زمرہ میں آتے ہیں کونڈوں کا قصہ جو امام جعفر کی طرف منسوب ہے بالکل غلط ہے اس میں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی توہین ہے کہ آپ نے لوگوں کو اس نیکی کے کام سے آگاہ نہیں کیا ۔ امام جعفر صادق رحمہ اللہ خالق توحید کے داعی تھے ۔ وہ ایسی بات جس میں شرک کی بو آئے یا بدعات کے زمرہ میں شمار ہو بھلا کب لوگوں کو کہہ سکتے ہیں ۔

میرے بھائیو ! اس قبیح رسم اور بدعت سے باز آجاؤ کونڈوں کا حلوہ پوڑی مت کھاؤ اپنے لیے حلال کی روزی تلاش کرو اور صرف اللہ کے نام پر صدقہ خیرات دو غیر اللہ کے نام پر صدقہ خیرات دے کر اپنی نیکی مت ضائع کرو ۔ کتاب و سنت کے مطابق نذر و نیاز دو تا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر راضی ہو جائیں ۔ جب ان کی رضا حاصل ہو گئی تو پھر کسی ولی بزرگ اور امام کے وسیلہ اور رضا کی ضرورت نہیں اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنے اور بدعات سے بچنے کی توفیق دے ۔

علماءدین کا متفقہ فیصلہ :

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ 22 رجب کو اکثر جگہ پر کونڈوں کا رواج ہے ان کے متعلق شریعت مطہرہ میں کیا حکم ہے ؟ کونڈوں کی اصلیت کیا ہے ؟ کیا اہل سنت و جماعت کو یہ رسم ادا کرنی چاہئیے ؟ اس میں شرکت کرنی کیسے ہے ؟

امید ہے کہ علماءدین شرع محمدی کے مطابق اس رسم کی اصلیت تفصیل سے بیان فرما کر اہل سنت والجماعت کی راہنمائی فرمائیں گے ؟

فتویٰ :

الجواب وھو الموفق للصواب
کونڈوں کی مروجہ رسم مذہب اہلسنت والجماعت میں محض بے اصل خلاف شرع اور بدعت محدثہ اور ممنوعہ ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا کوئی ثبوت نہیں ۔

صحابہ کرام ، تابعین اور ائمہ اسلام سے بھی اس کے متعلق کچھ منقول نہیں ۔ یہ صحابہ کرام کے خلاف بغض رکھنے والوں اور معاندین کی ایجاد کردہ ہے کیونکہ 22 رجب کو حضرت امام جعفر کی پیدائش ہے نہ کہ وفات ۔ ان کی ولادت صحیح روایت کے مطابق 8 رمضان المبارک 80ھ میں یا 82ھ میں ہوئی اور وفات ماہ شوال 148ھ میں ہوئی ۔ اس تاریخ کو یعنی 22 رجب کو حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ سے کیا خاص مناسبت ہے ؟ ہاں البتہ 22 رجب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کاتب وحی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے ۔ ( تاریخ طبری ، البدایہ والنہایہ ، ذکر معاویہ رضی اللہ عنہ )

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس رسم کو محض پردہ پوشی کے لیے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ۔ ورنہ درحقیقت یہ تقریب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خوشی میں منائی جاتی ہے جس وقت لکھنو¿ میں یہ رسم ایجاد ہوئی ۔ اس وقت اہلسنت والجماعت کا غلبہ تھا اس لیے یہ اہتمام کیا گیا کہ شیرینی علانیہ تقسیم نہ کی جائے تا کہ راز فاش نہ ہو سکے ۔ دشمنان حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ خاموشی کے ساتھ ایک دوسرے کے یہاں یہ شیرینی کھالیں اور اس طرح اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کریں جب اس کا چرچا ہو اور راز طشت ازبام ہونے لگا تو اس کو حضرت جعفر صادق کی طرف منسوب کر کے اور ایک لغو روایت گھڑ کر حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ پر تہمت لگائی کہ انہوں نے خود 22 رجب کو اپنی فاتحہ دینے کا حکم دیا ہے حالانکہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں ۔

لہٰذا برادران اہلسنت والجماعت کو اس لغو رسم سے دور رہنا چاہئیے اپنے دوسرے بھائیوں کو اس رسم کے پاس پھٹکنے نہ دیں ۔ نہ خود اس رسم کو کریں اور نہ اس میں شرکت کر کے دشمنان امیر معاویہ کی خوشی میں شریک ہو کر گناہ کے مرتکب ہوں ۔ اسی فتویٰ پر تمام مکاتب فکر کے جید علماءکے دستخط ہیں ۔
ہفت روزہ اہلحدیث شمارہ نمبر 28
جلد نمبر 39 30 جمادی الثانی تا 06 رجب 1429 ھ 05 جون تا 11 جولائی 2008
 ·  Translate
194
28
Rehman Blouch's profile photoMALIK NAUSHAD AHMED NOORI's profile photoChanda sultan's profile photoZaid Khan's profile photo
4 comments
 
Jazakillah khair 
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم.

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

پروفیسر محمد ابو زہرہ کلیہ اصول الدین الازہر یونیوسٹی نے اپنی کتاب ”الحدیث والمحدثون“ میں حضرت الامام محقق اسلام حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک مناظرہ جو کہ ایک منکر حدیث سے ہوا ،نقل
کیا ہے ۔ جس کا ترجمہ پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم نے کیا ۔۔۔۔ اور یہ مناظرہ ماہنامہ بینات(ربیع الثانی1428ھ مئی2007ء, جلد 70, شمارہ 4)میں شایع ہوا ۔۔۔۔
*افادہٴ عام کی غرض سے قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے ۔



منکر حدیث: امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے

آپ عربی ہیں اور قرآن آپ کی زبان میں اترا ہے‘ آپ جانتے ہیں کہ یہ محفوظ کتاب ہے‘ اس میں خداوندی فرائض بیان کئے گئے ہیں‘ اگر کوئی شخص اس کے کسی حرف میں بھی شک وشبہ کا اظہار کرے تو آپ اس سے توبہ کا مطالبہ کریں گے‘ اگر توبہ کرے تو فبہا‘ ورنہ (مرتد سمجھ کر) اسے قتل کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا:

”تبیاناً لکل شئ“
اس میں ہر چیز کا بیان ہے۔ جب یہ بات ہے تو تمہارا یہ قول کیسے درست ہے کہ فرض عام بھی ہوتا ہے اور خاص بھی؟ نیز یہ بھی کہ امر وجوب کے لئے بھی ہوتا ہے اور اباحت کے لئے بھی؟ دوسری طرف آپ ایک شخص سے ایک یا دو تین احادیث روایت کرتے ہیں ،پھر وہ شخص دوسرے شخص سے‘ یہاں تک کہ راویوں کا سلسلہ نبی اکرم اتک پہنچ جاتاہے‘ مجھے معلوم ہے کہ آپ برملا کہا کرتے ہیں کہ: فلاں شخص سے فلاں حدیث کے نقل کرنے میں غلطی سرزد ہوئی ۔ میں جانتاہوں کہ اگر آپ ایک حدیث کی بناء پر کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرائیں اور کوئی شخص اس حدیث کے بارے میں یہ کہہ دے کہ: نبی کریم ا نے ایسا نہیں فرمایا‘ بلکہ تم سے یا اس شخص سے غلطی سرزد ہوئی ہے جس سے آپ نے یہ حدیث سنی ،تو تم اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کروگے‘ تم اسے صرف یہ بات کہو گے کہ تم نے بہت بری بات کہی‘ یہ بات کیوں کر درست ہے کہ احادیث کی بناء پر قرآن کے ظاہری احکام میں تفریق کی جائے؟ جب تم حدیث کو وہی اہمیت دیتے ہو جو قرآن کو حاصل ہے تو اس حدیث کا انکار کرنے والے کے خلاف تم کونسی حجت قائم کر سکو گے؟



امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :- جو شخص اس زبان سے واقف ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا‘ وہ اس حقیقت سے باخبر ہے کہ احادیث رسول اللہ ا پر عمل کرنا ضروری ہے۔

منکر حدیث: اس کی کوئی دلیل آپ کو یاد ہو تو پیش کیجئے!

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :-

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے:

”هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ الخ (الجمعہ 2)
ترجمہ:۔”وہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس کی آیات سناتا اور ان کو پاک کرتا اور کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے“۔

منکر حدیث: کتاب سے تو کتاب الٰہی مراد ہے، مگر حکمت کیا چیز ہے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :حکمت سے حدیث رسول مراد ہے۔

منکر حدیث: کیا اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ رسول کریم ا اجمالاً بھی قرآن کی تعلیم دیتے تھے اور حکمت یعنی مذکورہ احکام بھی بیان فرماتے تھے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :غالباً آپ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں جو فرائض مذکور ہیں، مثلاً: نماز‘ زکوٰة‘ حج وغیرہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ان کی کیفیت اور تفصیل بیان فرمادیا کرتے تھے۔

منکر حدیث:جی ہاں ! میرا یہی مطلب ہے۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:- تو میں بھی آپ سے یہی کہہ رہا ہوں کہ فرائض کی تفصیل حدیث رسول ا سے معلوم ہوتی ہے۔

منکر حدیث:اس امر کا بھی احتمال ہے کہ کتاب اور حکمت دونوں سے ایک ہی چیز مراد ہو، اور کلام کو تکرار واعادہ پر محمول کیا جائے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: آپ ہی بتایئے کہ دونوں سے ایک چیز مراد لینا بہتر ہے یا دونوں؟

منکر حدیث: ہوسکتا ہے کہ کتاب وحکمت سے دو چیزیں یعنی کتاب وسنت مراد لی جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی چیز یعنی قرآن مراد ہو۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: ہر دو احتمالات میں سے جو واضح تر ہے وہی افضل ہے اور جو بات ہم نے کہی ہے‘ قرآن کریم میں اس کی دلیل موجود ہے۔

منکر حدیث: وہ دلیل کیا اور کہاں ہے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

”وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّـهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا

الخ (الاحزاب:34)

ترجمہ:۔”اور تمہارے گھروں میں خدا کی آیات اور جس حکمت کی تلاوت کی جاتی ہے‘ اس کو یاد کرتی رہو‘ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نرمی کرنے والا اور آگاہ ہے“۔
اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ امہات المؤمنین کے گھروں میں دو چیزوں کی تلاوت کی جاتی تھی۔

منکر حدیث: قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے ،مگر حکمت کی تلاوت کا کیا مطلب ہے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: تلاوت کے معنی یہ ہیں کہ: جس طرح قرآن کے ساتھ نطق کیا جاتاہے‘ اسی طرح سنت کا اظہار بھی قوت گویائی ہی کے ذریعے کیا جاتاہے۔

منکر حدیث: بے شک اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمت‘ قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز ہے۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ نے ہم پر رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو فرض ٹھہرایا ہے۔

منکر حدیث:اس کی کیا دلیل ہے ؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

1- ”فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا الخ۔ (النساء:65)

ترجمہ:۔”اور تیرے رب کی قسم! لوگ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو فیصل نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ آپ صادر کردیں‘ اس کے بارے میں اپنے جی میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اپنا سرتسلیم خم کردیں“۔

2-”مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ الخ (النساء:80)

ترجمہ:۔”جس نے رسول کی اطاعت کی ،اس نے اللہ کی اطاعت کی“۔

3-”فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ الخ(النور:63)
ترجمہ:”جو لوگ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں یا دردناک عذاب میں گرفتار ہوجائیں“۔



منکر حدیث: یہ درست ہے کہ حکمت سے سنت رسول مراد ہے ،اگر میرے ہم خیال لوگوں کی یہ بات صحیح ہوتی کہ ان آیات میں رسول کے احکام کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور رسول کا حکم وہی ہے جو اللہ نے قرآن کریم میں نازل کیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص رسول کے احکام کی اطاعت نہیں کرتا‘ اس کو احکام خداوندی کا تسلیم نہ کرنے والا قرار دینا چاہئے‘ نہ کہ صرف احکام رسول کا باغی۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:

اللہ تعالیٰ نے رسول کے احکام کا اتباع ہم پر فرض قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا:

”وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا الخ۔ (الحشر:7)

ترجمہ:۔”رسول جو کچھ تم کو دے، وہ لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو“۔
قرآن سے بوضاحت یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنا اور جس بات سے منع کریں، اس سے باز رہنا ہم پر فرض ہے۔



منکر حدیث: جو بات ہم پر فرض ہے وہ ہم سے پہلوں اور پچھلوں سب پر فرض ہے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: جی ہاں!

منکر حدیث: اگر رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے احکام کی اطاعت ہم پر فرض ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ا ہم پر کسی بات کو فرض ٹھہرا تے ہیں تو آپ ایک ایسے امر کی جانب ہماری رہنمائی کرتے ہیں جس کی اطاعت ہمارے لئے ضروری ہے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: جی ہاں!

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ نے اطاعت رسول کا جو حکم دیا ہے‘ کیا آپ یا آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی شخص جس نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہو‘ احادیث نبویہ کے بغیر اس کی تعمیل کرسکتا ہے؟ اور حدیث نبوی کو نظر انداز کرکے احکام رسول کی تعمیل ممکن ہے؟ علاوہ ازیں حدیث نبوی قرآن کے ناسخ ومنسوخ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

منکر حدیث: اس کی کوئی مثال ذکر کیجئے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:

قرآن میں فرمایا:

”كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ“۔ (ابقرۃ :180)

ترجمہ:۔”جب تم میں سے کسی کا آخری وقت آجائے اور اس نے مال چھوڑا ہو تو تم پر والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لئے وصیت فرض کی گئی ہے“۔

ترکہ کی تقسیم سے متعلق قرآن میں ہے:

”وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ․․․ الخ (النساء:11)

ترجمہ:․․․”اور اگر میت کی اولاد بھی ہو تو اس کے ترکہ میں سے والدین میں سے ہرایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ پھر اگر نہ ہو اس کی اولاد اور وارث بن رہے ہوں اس کے ماں باپ ہی تو اس کی ماں کا ایک تہائی حصہ ہے پھر اگر ہوں میت کے بھائی بہن تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ۔۔۔۔۔۔“۔
حدیث نبوی کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ ترکہ کی تقسیم سے متعلق آیت نے وصیت پر مشتمل آیت کو منسوخ کردیا‘ اگر ہم حدیث نبوی کو تسلیم نہ کرتے ہوتے اور ایک شخص ہمیں کہتا کہ وصیت پر مشتمل آیت نے تقسیم ورثہ سے متعلق آیت کو منسوخ کردیا او راس پر حجت صرف حدیث ہی کے ذریعے سے قائم کی جاسکتی ہے۔



منکر حدیث: آپ نے مجھ پر حجت تمام کردی ہے اور میں تسلیم کرتاہوں کہ حدیث نبوی کو قبول کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے‘ حق کے ظاہر ہوجانے کے بعد میں اس بات میں عار محسوس نہیں کرتا کہ حدیث نبوی کے بارے میں اپنا موقف چھوڑ کر اپنا زاویہ نگاہ اختیار کرلوں‘ بلکہ مجھے اس حقیقت کا اعتراف کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں کہ ظہور حق کے بعد اس کو تسلیم کرنا میرے لئے ضروری تھا‘ مگر بتایئے کہ: اس کا کیا مطلب کہ قرآن کے بعض عام احکام اپنے عموم پر رہتے ہیں اور بعض دفعہ ان میں تحصیص پیدا ہوجاتی ہے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے جواب میں متعدد مثالیں ذکر کیں ،پھر اپنے حریف کو مخاطب کرکے فرمایا: اب آپ پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کی اطاعت کو قرآن کریم میں فرض قرار دیا اور اس کے ساتھ ساتھ آپ صلیٰ*اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے عام وخاص اور ناسخ ومنسوخ کا شارح وترجمان ٹھہرایا ہے۔

منکر حدیث: جی ہاں ! آپ کا ارشاد بجا ہے‘ مگر میں تو ہمیشہ اس کی مخالفت کرتا رہا‘ یہاں تک کہ اس نقطہٴ نظر کی غلطی مجھ پر واضح ہوگئی۔ اس ضمن میں منکر حدیث دو فرقوں میں بٹ گئے ہیں: ایک فریق کا کہنا یہ ہے کہ حدیث نبوی مطلقاً حجت نہیں ہے اور قرآن کریم میں ہر چیز کی وضاحت وصراحت موجود ہے۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: حدیث نبوی سے صاف انکار کا نتیجہ کیا نکلا؟

منکر حدیث:

بہت برا نتیجہ برآمد ہوا۔

اس لئے کہ انکار حدیث کا عقیدہ رکھنے والے یہ کہتے ہیں کہ :جو شخص کم از کم ایسا کام کرے جس کو صلوٰة یا زکوٰة کہہ سکتے ہیں‘ اس نے صلوٰة وزکوٰة کا حق ادا کردیا‘ اس میں وقت کی پابندی نہیں، اگر کوئی شخص ہر روز یا کئی دنوں میں دو رکعت نماز ادا کرلے تو اس نے صلوٰة کا فریضہ ادا کردیا‘ وہ کہتے ہیں کہ: جو حکم قرآن میں نہ وارد ہو‘ وہ کسی پر فرض نہیں۔ منکر حدیث کا دوسرا فرقہ کہتا ہے کہ جو حکم قرآن میں مذکور ہے، اس کے بارے میں حدیث کو قبول کیا جاسکتا ہے اور جس ضمن میں قرآن وارد نہیں ہوا‘ اس میں حدیث کو قبول نہیں کیا جاسکتا‘ نتیجہ اس کا بھی وہی ہوا جو پہلے فرقہ کا ہوا تھا۔ اس فرقہ نے پہلے حدیث کو رد کیا اور پھر اس کو قبول بھی کرنے لگے‘ یہ لوگ کسی خاص وعام یا ناسخ ومنسوخ کو تسلیم نہیں کرتے،ان دونوں کا گمراہ ہونا واضح ہے۔ اور میں ان میں سے کسی کو بھی حق نہیں سمجھتا‘ مگر میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ: آپ ایک حرام چیز کو بلاد لیل کیسے حلال سمجھنے لگے ہیں؟ کیا آپ کے پاس اس کی کوئی دلیل موجود ہے؟


امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:دلیل موجود ہے۔

منکر حدیث: کونسی دلیل؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: میرے پاس جو شخص بیٹھا ہے‘ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا اس کا خون اور مال حرام ہے یا نہیں؟

منکر حدیث: اس کا خون اور مال حرام ہے۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اگر وہ شخص شہادت دے کہ اس فلاں شخص کو قتل کیا اور اس کا مال لے لیا اور وہ مال آپ کے پاس موجود ہے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا رویہ ہوگا؟ (آپ کیا رویہ اختیار کریں گے؟)

منکر حدیث: میں اس کو فوراً قتل کردوں گا اور اس سے مال لے کر وارثوں کو لوٹا دوں گا۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: کیا یہ ممکن نہیں کہ گواہوں نے جھوٹی اور غلط گواہی دی ہو؟

منکر حدیث:ایسا ہوسکتا ہے۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: پھر آپ نے جھوٹی گواہی کی بناء پر اس شخص کے مال اور خون کو کیسے مباح قرار دیا‘ حالانکہ وہ خون اور مال حرام تھا؟

منکر حدیث:اس لئے کہ شہادت قبول کرنا ضروری امر ہے۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:اگر تم گواہوں کی گواہی کو ظاہری صداقت کی بنا پر قبول کرنا ضروری سمجھتے ہو اور باطن کا علم تو صرف ذات خداوندی ہی کو ہے تو ہم راوی کے لئے جو شرائط عائد کرتے ہیں‘ وہ گواہ کی شرائط سے زیادہ کڑی ہیں‘ چنانچہ جن لوگوں کی شہادت کو قبول کرتے ہیں‘ ضروری نہیں کہ ان کی روایت کردہ حدیث کو بھی صحیح سمجھ لیں ۔راوی کی صداقت اور غلطی کا پتہ تو ان رواة ورجال سے بھی چل جاتاہے جو روایت حدیث میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں‘ علاوہ ازیں کتاب وسنت سے بھی راوی کی غلطی واضح ہوجاتی ہے‘ مگر شہادت میں ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی۔

منکر حدیث: میں تسلیم کرتاہوں کہ حدیث نبوی دین میں حجت ہے اور رسول کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے فرض ٹھہرایا ہے‘ جب میں نے رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کو قبول کیا تو گویا خدا کے حکم کو قبول کیا۔ حدیث ِ رسول کی حجیت پر سب مسلمانوں کا اجماع منعقد ہوچکا ہے اور اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں‘ آپ کے بتانے سے مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ مسلمان ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں ۔

برادران اسلام!آپ نے مناظرہ پڑھا‘ یہ مناظرہ ان لوگوں کو پڑھوائیں جو اس فتنے کے جال میں پھنس گئے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام مسلمانوں کو علمائے حق کے دامن سے وابستہ رکھے اور صحابہ کرام واہل بیت عظام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین ۔

(کتاب الام ج:7 ص:250 بحوالہ: ”الحدیث والمحدثون“ اردو ترجمہ: ص:362تا368 مترجم پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم)

ماہنامہ بینات, ربیع الثانی1428ھ مئی2007ء, جلد 70, شمارہ.
 ·  Translate
89
6
Akhtar Chachar's profile photoAsghar Farooq's profile photoDur E Maknoon's profile photoNadeem JuNejo's profile photo
3 comments
 
ماشاء اللہ بہت خوب 
 ·  Translate
Add a comment...
 
امتحاں کیسے کیسے !!
::::::::::::::::::::
اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ھیں کہ چار آدمی قیامت کے دن کچھ یوں عذر پیش کریں گے ،
1- بہرہ شخص جو کچھ بھی نہیں سن سکتا تھا - 2- پاگل شخص - 3- بوڑھا شخص - 4- -وہ شخص جو زمانہ فترت میں مر گیا جبکہ کوئی رسول موجود نہیں تھا ،،یعنی حضرت عیسی علیہ السلام اور نبئ کریم ﷺ کے درمیان کے عرصے میں گزر گیا !
بہرہ عذر پیش کرے گا کہ " اے اللہ مجھے تو کچھ سنائی ھی نہیں دیتا تھا ،لہذا میں تیری دعوت ھی نہ سن سکا۔
بےوقوف، احمق ،نادان نیم پاگل کہے گا کہ مجھے تو گھر والوں نے اونٹ اور بکریاں چرانے پہ ھی لگائے رکھا۔
بوڑھا کے گا کہ جب دعوت آئی تو میری عقل گھاس چرنے گئی ھوئی تھی ،کوئی بات سمجھ لگتی ھے نہ تھی ۔
زمانہ فترت میں مر جانے والا کہے گا کہ مولا میرے زمانے میں تو توحید کی کوئی دعوت ھی موجود نہ تھی میں بھلا کیسے ایمان لاتا ؟
اس پہ اللہ پاک ان سے خوب گاڑھا عہد لے گا کہ اب وہ اللہ جو بھی حکم دے گا اس کی اطاعت کریں گے ،،
اس عہد کے بعد اللہ پاک انہیں حکم دے گا کہ وہ آگ میں چھلانگ لگا دیں ،جس پر وہ مُکر جائیں گے ،،حالانکہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ھے ،، اگر وہ اللہ کی اطاعت میں آگ میں چھلانگ لگا دیتے تو اسے ٹھنڈی اور سلامتی والی پاتے ،،یعنی جنت میں جا گرتے ،،،
یہی کچھ دنیا میں اھلِ ایمان کے ساتھ ھوتا ھے بظاھر وہ حالات جو انہیں مصیبت ، عذاب اور جان لیوا نظر آتے ھیں وہ حقیقت میں ان کی جنت ھوتے ھیں اور وہ ان کے ذریعے آزمائے جا رھے ھوتے ھیں
{روى الإمام أحمد (16301) ، وابن حبان (7357) ، والطبراني في "الكبير" (841) } 
 ·  Translate
67
18
Shah Murid Faqir's profile photoJunaid saeed's profile photomunawwar khalis's profile photosakhi muhammad's profile photo
 
Jazak Allah khaira…
Add a comment...
 
دنیا دارالعمل، دارالفکر اور دارالحزن ہے۔ دنیامیں جوشخص دنیاہی کیلئے عمل اورمحنت کرےگا، اسی کےرنج وغم میں گھلےگا، آخرت میں خالی ہاتھ پہنچےگا۔

 ·  Translate
43
3
Khan Gee's profile photoannie malik's profile photoadnan farooq's profile photoSurreyakhalid Surreyakhalid's profile photo
 
A salam to all
Add a comment...
People
Have her in circles
46,391 people
mian jawadfasi's profile photo
Umair shon's profile photo
Spencer Stevens's profile photo
Md Azharuddin's profile photo
Abdul Mughaiz's profile photo
Shabi prince's profile photo
Kashif Khan's profile photo
Immy Malik's profile photo
Yaqoob Turi's profile photo
Work
Skills
Allah has Gifted me with a lot... They are countless.... Alhumdulillah ☺
Basic Information
Gender
Female
Story
Tagline
حَسبُنَا اللہِ وَنِعمَ الوَکِیل.
Places
Map of the places this user has livedMap of the places this user has livedMap of the places this user has lived
Previously
In A Temporary Place Called Dunya...