Profile

Cover photo
‫ارتقاءِ فلاح‬‎
Lived in In A Temporary Place Called Dunya...
42,105 followers|19,666,396 views
AboutPostsPhotosVideos

Stream

 
بسم اللہ الرحمن الرحیم.

السلام علیکم ورحمتہ اللہ!

پروفیسر محمد ابو زہرہ کلیہ اصول الدین الازہر یونیوسٹی نے اپنی کتاب ”الحدیث والمحدثون“ میں حضرت الامام محقق اسلام حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک مناظرہ جو کہ ایک منکر حدیث سے ہوا ،نقل
کیا ہے ۔ جس کا ترجمہ پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم نے کیا ۔۔۔۔ اور یہ مناظرہ ماہنامہ بینات(ربیع الثانی1428ھ مئی2007ء, جلد 70, شمارہ 4)میں شایع ہوا ۔۔۔۔
*افادہٴ عام کی غرض سے قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے ۔



منکر حدیث: امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے

آپ عربی ہیں اور قرآن آپ کی زبان میں اترا ہے‘ آپ جانتے ہیں کہ یہ محفوظ کتاب ہے‘ اس میں خداوندی فرائض بیان کئے گئے ہیں‘ اگر کوئی شخص اس کے کسی حرف میں بھی شک وشبہ کا اظہار کرے تو آپ اس سے توبہ کا مطالبہ کریں گے‘ اگر توبہ کرے تو فبہا‘ ورنہ (مرتد سمجھ کر) اسے قتل کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا:

”تبیاناً لکل شئ“
اس میں ہر چیز کا بیان ہے۔ جب یہ بات ہے تو تمہارا یہ قول کیسے درست ہے کہ فرض عام بھی ہوتا ہے اور خاص بھی؟ نیز یہ بھی کہ امر وجوب کے لئے بھی ہوتا ہے اور اباحت کے لئے بھی؟ دوسری طرف آپ ایک شخص سے ایک یا دو تین احادیث روایت کرتے ہیں ،پھر وہ شخص دوسرے شخص سے‘ یہاں تک کہ راویوں کا سلسلہ نبی اکرم اتک پہنچ جاتاہے‘ مجھے معلوم ہے کہ آپ برملا کہا کرتے ہیں کہ: فلاں شخص سے فلاں حدیث کے نقل کرنے میں غلطی سرزد ہوئی ۔ میں جانتاہوں کہ اگر آپ ایک حدیث کی بناء پر کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرائیں اور کوئی شخص اس حدیث کے بارے میں یہ کہہ دے کہ: نبی کریم ا نے ایسا نہیں فرمایا‘ بلکہ تم سے یا اس شخص سے غلطی سرزد ہوئی ہے جس سے آپ نے یہ حدیث سنی ،تو تم اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کروگے‘ تم اسے صرف یہ بات کہو گے کہ تم نے بہت بری بات کہی‘ یہ بات کیوں کر درست ہے کہ احادیث کی بناء پر قرآن کے ظاہری احکام میں تفریق کی جائے؟ جب تم حدیث کو وہی اہمیت دیتے ہو جو قرآن کو حاصل ہے تو اس حدیث کا انکار کرنے والے کے خلاف تم کونسی حجت قائم کر سکو گے؟



امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :- جو شخص اس زبان سے واقف ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا‘ وہ اس حقیقت سے باخبر ہے کہ احادیث رسول اللہ ا پر عمل کرنا ضروری ہے۔

منکر حدیث: اس کی کوئی دلیل آپ کو یاد ہو تو پیش کیجئے!

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :-

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے:

”هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ الخ (الجمعہ 2)
ترجمہ:۔”وہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس کی آیات سناتا اور ان کو پاک کرتا اور کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے“۔

منکر حدیث: کتاب سے تو کتاب الٰہی مراد ہے، مگر حکمت کیا چیز ہے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :حکمت سے حدیث رسول مراد ہے۔

منکر حدیث: کیا اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ رسول کریم ا اجمالاً بھی قرآن کی تعلیم دیتے تھے اور حکمت یعنی مذکورہ احکام بھی بیان فرماتے تھے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :غالباً آپ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں جو فرائض مذکور ہیں، مثلاً: نماز‘ زکوٰة‘ حج وغیرہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ان کی کیفیت اور تفصیل بیان فرمادیا کرتے تھے۔

منکر حدیث:جی ہاں ! میرا یہی مطلب ہے۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:- تو میں بھی آپ سے یہی کہہ رہا ہوں کہ فرائض کی تفصیل حدیث رسول ا سے معلوم ہوتی ہے۔

منکر حدیث:اس امر کا بھی احتمال ہے کہ کتاب اور حکمت دونوں سے ایک ہی چیز مراد ہو، اور کلام کو تکرار واعادہ پر محمول کیا جائے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: آپ ہی بتایئے کہ دونوں سے ایک چیز مراد لینا بہتر ہے یا دونوں؟

منکر حدیث: ہوسکتا ہے کہ کتاب وحکمت سے دو چیزیں یعنی کتاب وسنت مراد لی جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی چیز یعنی قرآن مراد ہو۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: ہر دو احتمالات میں سے جو واضح تر ہے وہی افضل ہے اور جو بات ہم نے کہی ہے‘ قرآن کریم میں اس کی دلیل موجود ہے۔

منکر حدیث: وہ دلیل کیا اور کہاں ہے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

”وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّـهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا

الخ (الاحزاب:34)

ترجمہ:۔”اور تمہارے گھروں میں خدا کی آیات اور جس حکمت کی تلاوت کی جاتی ہے‘ اس کو یاد کرتی رہو‘ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نرمی کرنے والا اور آگاہ ہے“۔
اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ امہات المؤمنین کے گھروں میں دو چیزوں کی تلاوت کی جاتی تھی۔

منکر حدیث: قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے ،مگر حکمت کی تلاوت کا کیا مطلب ہے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: تلاوت کے معنی یہ ہیں کہ: جس طرح قرآن کے ساتھ نطق کیا جاتاہے‘ اسی طرح سنت کا اظہار بھی قوت گویائی ہی کے ذریعے کیا جاتاہے۔

منکر حدیث: بے شک اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمت‘ قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز ہے۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ نے ہم پر رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو فرض ٹھہرایا ہے۔

منکر حدیث:اس کی کیا دلیل ہے ؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :

اللہ تعالیٰ فرماتاہے:

1- ”فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا الخ۔ (النساء:65)

ترجمہ:۔”اور تیرے رب کی قسم! لوگ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو فیصل نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ آپ صادر کردیں‘ اس کے بارے میں اپنے جی میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اپنا سرتسلیم خم کردیں“۔

2-”مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ الخ (النساء:80)

ترجمہ:۔”جس نے رسول کی اطاعت کی ،اس نے اللہ کی اطاعت کی“۔

3-”فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ الخ(النور:63)
ترجمہ:”جو لوگ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں یا دردناک عذاب میں گرفتار ہوجائیں“۔



منکر حدیث: یہ درست ہے کہ حکمت سے سنت رسول مراد ہے ،اگر میرے ہم خیال لوگوں کی یہ بات صحیح ہوتی کہ ان آیات میں رسول کے احکام کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور رسول کا حکم وہی ہے جو اللہ نے قرآن کریم میں نازل کیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص رسول کے احکام کی اطاعت نہیں کرتا‘ اس کو احکام خداوندی کا تسلیم نہ کرنے والا قرار دینا چاہئے‘ نہ کہ صرف احکام رسول کا باغی۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:

اللہ تعالیٰ نے رسول کے احکام کا اتباع ہم پر فرض قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا:

”وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا الخ۔ (الحشر:7)

ترجمہ:۔”رسول جو کچھ تم کو دے، وہ لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو“۔
قرآن سے بوضاحت یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنا اور جس بات سے منع کریں، اس سے باز رہنا ہم پر فرض ہے۔



منکر حدیث: جو بات ہم پر فرض ہے وہ ہم سے پہلوں اور پچھلوں سب پر فرض ہے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: جی ہاں!

منکر حدیث: اگر رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے احکام کی اطاعت ہم پر فرض ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ا ہم پر کسی بات کو فرض ٹھہرا تے ہیں تو آپ ایک ایسے امر کی جانب ہماری رہنمائی کرتے ہیں جس کی اطاعت ہمارے لئے ضروری ہے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: جی ہاں!

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ نے اطاعت رسول کا جو حکم دیا ہے‘ کیا آپ یا آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی شخص جس نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہو‘ احادیث نبویہ کے بغیر اس کی تعمیل کرسکتا ہے؟ اور حدیث نبوی کو نظر انداز کرکے احکام رسول کی تعمیل ممکن ہے؟ علاوہ ازیں حدیث نبوی قرآن کے ناسخ ومنسوخ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

منکر حدیث: اس کی کوئی مثال ذکر کیجئے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:

قرآن میں فرمایا:

”كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ“۔ (ابقرۃ :180)

ترجمہ:۔”جب تم میں سے کسی کا آخری وقت آجائے اور اس نے مال چھوڑا ہو تو تم پر والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لئے وصیت فرض کی گئی ہے“۔

ترکہ کی تقسیم سے متعلق قرآن میں ہے:

”وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ․․․ الخ (النساء:11)

ترجمہ:․․․”اور اگر میت کی اولاد بھی ہو تو اس کے ترکہ میں سے والدین میں سے ہرایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ پھر اگر نہ ہو اس کی اولاد اور وارث بن رہے ہوں اس کے ماں باپ ہی تو اس کی ماں کا ایک تہائی حصہ ہے پھر اگر ہوں میت کے بھائی بہن تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ۔۔۔۔۔۔“۔
حدیث نبوی کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ ترکہ کی تقسیم سے متعلق آیت نے وصیت پر مشتمل آیت کو منسوخ کردیا‘ اگر ہم حدیث نبوی کو تسلیم نہ کرتے ہوتے اور ایک شخص ہمیں کہتا کہ وصیت پر مشتمل آیت نے تقسیم ورثہ سے متعلق آیت کو منسوخ کردیا او راس پر حجت صرف حدیث ہی کے ذریعے سے قائم کی جاسکتی ہے۔



منکر حدیث: آپ نے مجھ پر حجت تمام کردی ہے اور میں تسلیم کرتاہوں کہ حدیث نبوی کو قبول کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے‘ حق کے ظاہر ہوجانے کے بعد میں اس بات میں عار محسوس نہیں کرتا کہ حدیث نبوی کے بارے میں اپنا موقف چھوڑ کر اپنا زاویہ نگاہ اختیار کرلوں‘ بلکہ مجھے اس حقیقت کا اعتراف کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں کہ ظہور حق کے بعد اس کو تسلیم کرنا میرے لئے ضروری تھا‘ مگر بتایئے کہ: اس کا کیا مطلب کہ قرآن کے بعض عام احکام اپنے عموم پر رہتے ہیں اور بعض دفعہ ان میں تحصیص پیدا ہوجاتی ہے؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے جواب میں متعدد مثالیں ذکر کیں ،پھر اپنے حریف کو مخاطب کرکے فرمایا: اب آپ پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کی اطاعت کو قرآن کریم میں فرض قرار دیا اور اس کے ساتھ ساتھ آپ صلیٰ*اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے عام وخاص اور ناسخ ومنسوخ کا شارح وترجمان ٹھہرایا ہے۔

منکر حدیث: جی ہاں ! آپ کا ارشاد بجا ہے‘ مگر میں تو ہمیشہ اس کی مخالفت کرتا رہا‘ یہاں تک کہ اس نقطہٴ نظر کی غلطی مجھ پر واضح ہوگئی۔ اس ضمن میں منکر حدیث دو فرقوں میں بٹ گئے ہیں: ایک فریق کا کہنا یہ ہے کہ حدیث نبوی مطلقاً حجت نہیں ہے اور قرآن کریم میں ہر چیز کی وضاحت وصراحت موجود ہے۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: حدیث نبوی سے صاف انکار کا نتیجہ کیا نکلا؟

منکر حدیث:

بہت برا نتیجہ برآمد ہوا۔

اس لئے کہ انکار حدیث کا عقیدہ رکھنے والے یہ کہتے ہیں کہ :جو شخص کم از کم ایسا کام کرے جس کو صلوٰة یا زکوٰة کہہ سکتے ہیں‘ اس نے صلوٰة وزکوٰة کا حق ادا کردیا‘ اس میں وقت کی پابندی نہیں، اگر کوئی شخص ہر روز یا کئی دنوں میں دو رکعت نماز ادا کرلے تو اس نے صلوٰة کا فریضہ ادا کردیا‘ وہ کہتے ہیں کہ: جو حکم قرآن میں نہ وارد ہو‘ وہ کسی پر فرض نہیں۔ منکر حدیث کا دوسرا فرقہ کہتا ہے کہ جو حکم قرآن میں مذکور ہے، اس کے بارے میں حدیث کو قبول کیا جاسکتا ہے اور جس ضمن میں قرآن وارد نہیں ہوا‘ اس میں حدیث کو قبول نہیں کیا جاسکتا‘ نتیجہ اس کا بھی وہی ہوا جو پہلے فرقہ کا ہوا تھا۔ اس فرقہ نے پہلے حدیث کو رد کیا اور پھر اس کو قبول بھی کرنے لگے‘ یہ لوگ کسی خاص وعام یا ناسخ ومنسوخ کو تسلیم نہیں کرتے،ان دونوں کا گمراہ ہونا واضح ہے۔ اور میں ان میں سے کسی کو بھی حق نہیں سمجھتا‘ مگر میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ: آپ ایک حرام چیز کو بلاد لیل کیسے حلال سمجھنے لگے ہیں؟ کیا آپ کے پاس اس کی کوئی دلیل موجود ہے؟


امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:دلیل موجود ہے۔

منکر حدیث: کونسی دلیل؟

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: میرے پاس جو شخص بیٹھا ہے‘ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا اس کا خون اور مال حرام ہے یا نہیں؟

منکر حدیث: اس کا خون اور مال حرام ہے۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اگر وہ شخص شہادت دے کہ اس فلاں شخص کو قتل کیا اور اس کا مال لے لیا اور وہ مال آپ کے پاس موجود ہے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا رویہ ہوگا؟ (آپ کیا رویہ اختیار کریں گے؟)

منکر حدیث: میں اس کو فوراً قتل کردوں گا اور اس سے مال لے کر وارثوں کو لوٹا دوں گا۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: کیا یہ ممکن نہیں کہ گواہوں نے جھوٹی اور غلط گواہی دی ہو؟

منکر حدیث:ایسا ہوسکتا ہے۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: پھر آپ نے جھوٹی گواہی کی بناء پر اس شخص کے مال اور خون کو کیسے مباح قرار دیا‘ حالانکہ وہ خون اور مال حرام تھا؟

منکر حدیث:اس لئے کہ شہادت قبول کرنا ضروری امر ہے۔

امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:اگر تم گواہوں کی گواہی کو ظاہری صداقت کی بنا پر قبول کرنا ضروری سمجھتے ہو اور باطن کا علم تو صرف ذات خداوندی ہی کو ہے تو ہم راوی کے لئے جو شرائط عائد کرتے ہیں‘ وہ گواہ کی شرائط سے زیادہ کڑی ہیں‘ چنانچہ جن لوگوں کی شہادت کو قبول کرتے ہیں‘ ضروری نہیں کہ ان کی روایت کردہ حدیث کو بھی صحیح سمجھ لیں ۔راوی کی صداقت اور غلطی کا پتہ تو ان رواة ورجال سے بھی چل جاتاہے جو روایت حدیث میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں‘ علاوہ ازیں کتاب وسنت سے بھی راوی کی غلطی واضح ہوجاتی ہے‘ مگر شہادت میں ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی۔

منکر حدیث: میں تسلیم کرتاہوں کہ حدیث نبوی دین میں حجت ہے اور رسول کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے فرض ٹھہرایا ہے‘ جب میں نے رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کو قبول کیا تو گویا خدا کے حکم کو قبول کیا۔ حدیث ِ رسول کی حجیت پر سب مسلمانوں کا اجماع منعقد ہوچکا ہے اور اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں‘ آپ کے بتانے سے مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ مسلمان ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں ۔

برادران اسلام!آپ نے مناظرہ پڑھا‘ یہ مناظرہ ان لوگوں کو پڑھوائیں جو اس فتنے کے جال میں پھنس گئے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام مسلمانوں کو علمائے حق کے دامن سے وابستہ رکھے اور صحابہ کرام واہل بیت عظام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین ۔

(کتاب الام ج:7 ص:250 بحوالہ: ”الحدیث والمحدثون“ اردو ترجمہ: ص:362تا368 مترجم پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم)

ماہنامہ بینات, ربیع الثانی1428ھ مئی2007ء, جلد 70, شمارہ.
Photo: ‎بسم اللہ الرحمن الرحی السلام علیکم ورحمتہ اللہ! پروفیسر محمد ابو زہرہ کلیہ اصول الدین الازہر یونیوسٹی نے اپنی کتاب ”الحدیث والمحدثون“ میں حضرت الامام محقق اسلام حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا ایک مناظرہ جو کہ ایک منکر حدیث سے ہوا ،نقل کیا ہے ۔ جس کا ترجمہ پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم نے کیا ۔۔۔۔ اور یہ مناظرہ ماہنامہ بینات(ربیع الثانی1428ھ مئی2007ء, جلد 70, شمارہ 4)میں شایع ہوا ۔۔۔۔ *افادہٴ عام کی غرض سے قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہے ۔ منکر حدیث: امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کو مخاطب کرتے ہوئے آپ عربی ہیں اور قرآن آپ کی زبان میں اترا ہے‘ آپ جانتے ہیں کہ یہ محفوظ کتاب ہے‘ اس میں خداوندی فرائض بیان کئے گئے ہیں‘ اگر کوئی شخص اس کے کسی حرف میں بھی شک وشبہ کا اظہار کرے تو آپ اس سے توبہ کا مطالبہ کریں گے‘ اگر توبہ کرے تو فبہا‘ ورنہ (مرتد سمجھ کر) اسے قتل کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے بارے میں فرمایا: ”تبیاناً لکل شئ“ اس میں ہر چیز کا بیان ہے۔ جب یہ بات ہے تو تمہارا یہ قول کیسے درست ہے کہ فرض عام بھی ہوتا ہے اور خاص بھی؟ نیز یہ بھی کہ امر وجوب کے لئے بھی ہوتا ہے اور اباحت کے لئے بھی؟ دوسری طرف آپ ایک شخص سے ایک یا دو تین احادیث روایت کرتے ہیں ،پھر وہ شخص دوسرے شخص سے‘ یہاں تک کہ راویوں کا سلسلہ نبی اکرم اتک پہنچ جاتاہے‘ مجھے معلوم ہے کہ آپ برملا کہا کرتے ہیں کہ: فلاں شخص سے فلاں حدیث کے نقل کرنے میں غلطی سرزد ہوئی ۔ میں جانتاہوں کہ اگر آپ ایک حدیث کی بناء پر کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرائیں اور کوئی شخص اس حدیث کے بارے میں یہ کہہ دے کہ: نبی کریم ا نے ایسا نہیں فرمایا‘ بلکہ تم سے یا اس شخص سے غلطی سرزد ہوئی ہے جس سے آپ نے یہ حدیث سنی ،تو تم اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کروگے‘ تم اسے صرف یہ بات کہو گے کہ تم نے بہت بری بات کہی‘ یہ بات کیوں کر درست ہے کہ احادیث کی بناء پر قرآن کے ظاہری احکام میں تفریق کی جائے؟ جب تم حدیث کو وہی اہمیت دیتے ہو جو قرآن کو حاصل ہے تو اس حدیث کا انکار کرنے والے کے خلاف تم کونسی حجت قائم کر سکو گے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :- جو شخص اس زبان سے واقف ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا‘ وہ اس حقیقت سے باخبر ہے کہ احادیث رسول اللہ ا پر عمل کرنا ضروری ہے۔ منکر حدیث: اس کی کوئی دلیل آپ کو یاد ہو تو پیش کیجئے! امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :- اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتاہے: ”هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ الخ (الجمعہ 2) ترجمہ:۔”وہ اللہ ہی کی ذات ہے جس نے ان پڑھوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو ان کو اس کی آیات سناتا اور ان کو پاک کرتا اور کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے“۔ منکر حدیث: کتاب سے تو کتاب الٰہی مراد ہے، مگر حکمت کیا چیز ہے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :حکمت سے حدیث رسول مراد ہے۔ منکر حدیث: کیا اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ رسول کریم ا اجمالاً بھی قرآن کی تعلیم دیتے تھے اور حکمت یعنی مذکورہ احکام بھی بیان فرماتے تھے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ :غالباً آپ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں جو فرائض مذکور ہیں، مثلاً: نماز‘ زکوٰة‘ حج وغیرہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم ان کی کیفیت اور تفصیل بیان فرمادیا کرتے تھے۔ منکر حدیث:جی ہاں ! میرا یہی مطلب ہے۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:- تو میں بھی آپ سے یہی کہہ رہا ہوں کہ فرائض کی تفصیل حدیث رسول ا سے معلوم ہوتی ہے۔ منکر حدیث:اس امر کا بھی احتمال ہے کہ کتاب اور حکمت دونوں سے ایک ہی چیز مراد ہو، اور کلام کو تکرار واعادہ پر محمول کیا جائے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: آپ ہی بتایئے کہ دونوں سے ایک چیز مراد لینا بہتر ہے یا دونوں؟ منکر حدیث: ہوسکتا ہے کہ کتاب وحکمت سے دو چیزیں یعنی کتاب وسنت مراد لی جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ہی چیز یعنی قرآن مراد ہو۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: ہر دو احتمالات میں سے جو واضح تر ہے وہی افضل ہے اور جو بات ہم نے کہی ہے‘ قرآن کریم میں اس کی دلیل موجود ہے۔ منکر حدیث: وہ دلیل کیا اور کہاں ہے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ فرماتاہے: ”وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَىٰ فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّـهِ وَالْحِكْمَةِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ لَطِيفًا خَبِيرًا الخ (الاحزاب:34) ترجمہ:۔”اور تمہارے گھروں میں خدا کی آیات اور جس حکمت کی تلاوت کی جاتی ہے‘ اس کو یاد کرتی رہو‘ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نرمی کرنے والا اور آگاہ ہے“۔ اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ امہات المؤمنین کے گھروں میں دو چیزوں کی تلاوت کی جاتی تھی۔ منکر حدیث: قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے ،مگر حکمت کی تلاوت کا کیا مطلب ہے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: تلاوت کے معنی یہ ہیں کہ: جس طرح قرآن کے ساتھ نطق کیا جاتاہے‘ اسی طرح سنت کا اظہار بھی قوت گویائی ہی کے ذریعے کیا جاتاہے۔ منکر حدیث: بے شک اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکمت‘ قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز ہے۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ نے ہم پر رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو فرض ٹھہرایا ہے۔ منکر حدیث:اس کی کیا دلیل ہے ؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ : اللہ تعالیٰ فرماتاہے: 1- ”فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا الخ۔ (النساء:65) ترجمہ:۔”اور تیرے رب کی قسم! لوگ مومن نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو فیصل نہ بنائیں اور پھر جو فیصلہ آپ صادر کردیں‘ اس کے بارے میں اپنے جی میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اپنا سرتسلیم خم کردیں“۔ 2-”مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ الخ (النساء:80) ترجمہ:۔”جس نے رسول کی اطاعت کی ،اس نے اللہ کی اطاعت کی“۔ 3-”فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ الخ(النور:63) ترجمہ:”جو لوگ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہیں انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ فتنہ میں مبتلا ہوجائیں یا دردناک عذاب میں گرفتار ہوجائیں“۔ منکر حدیث: یہ درست ہے کہ حکمت سے سنت رسول مراد ہے ،اگر میرے ہم خیال لوگوں کی یہ بات صحیح ہوتی کہ ان آیات میں رسول کے احکام کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے اور رسول کا حکم وہی ہے جو اللہ نے قرآن کریم میں نازل کیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص رسول کے احکام کی اطاعت نہیں کرتا‘ اس کو احکام خداوندی کا تسلیم نہ کرنے والا قرار دینا چاہئے‘ نہ کہ صرف احکام رسول کا باغی۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ نے رسول کے احکام کا اتباع ہم پر فرض قرار دیا ہے۔ قرآنِ کریم میں فرمایا: ”وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا الخ۔ (الحشر:7) ترجمہ:۔”رسول جو کچھ تم کو دے، وہ لے لو اور جس سے منع کرے اس سے باز رہو“۔ قرآن سے بوضاحت یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آنحضرت صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کرنا اور جس بات سے منع کریں، اس سے باز رہنا ہم پر فرض ہے۔ منکر حدیث: جو بات ہم پر فرض ہے وہ ہم سے پہلوں اور پچھلوں سب پر فرض ہے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: جی ہاں! منکر حدیث: اگر رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے دیئے ہوئے احکام کی اطاعت ہم پر فرض ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ا ہم پر کسی بات کو فرض ٹھہرا تے ہیں تو آپ ایک ایسے امر کی جانب ہماری رہنمائی کرتے ہیں جس کی اطاعت ہمارے لئے ضروری ہے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: جی ہاں! امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اللہ تعالیٰ نے اطاعت رسول کا جو حکم دیا ہے‘ کیا آپ یا آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی شخص جس نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہو‘ احادیث نبویہ کے بغیر اس کی تعمیل کرسکتا ہے؟ اور حدیث نبوی کو نظر انداز کرکے احکام رسول کی تعمیل ممکن ہے؟ علاوہ ازیں حدیث نبوی قرآن کے ناسخ ومنسوخ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ منکر حدیث: اس کی کوئی مثال ذکر کیجئے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: قرآن میں فرمایا: ”كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ“۔ (ابقرۃ :180) ترجمہ:۔”جب تم میں سے کسی کا آخری وقت آجائے اور اس نے مال چھوڑا ہو تو تم پر والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لئے وصیت فرض کی گئی ہے“۔ ترکہ کی تقسیم سے متعلق قرآن میں ہے: ”وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ․․․ الخ (النساء:11) ترجمہ:․․․”اور اگر میت کی اولاد بھی ہو تو اس کے ترکہ میں سے والدین میں سے ہرایک کو چھٹا حصہ ملے گا۔ پھر اگر نہ ہو اس کی اولاد اور وارث بن رہے ہوں اس کے ماں باپ ہی تو اس کی ماں کا ایک تہائی حصہ ہے پھر اگر ہوں میت کے بھائی بہن تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ۔۔۔۔۔۔“۔ حدیث نبوی کے ذریعے ہمیں معلوم ہوا کہ ترکہ کی تقسیم سے متعلق آیت نے وصیت پر مشتمل آیت کو منسوخ کردیا‘ اگر ہم حدیث نبوی کو تسلیم نہ کرتے ہوتے اور ایک شخص ہمیں کہتا کہ وصیت پر مشتمل آیت نے تقسیم ورثہ سے متعلق آیت کو منسوخ کردیا او راس پر حجت صرف حدیث ہی کے ذریعے سے قائم کی جاسکتی ہے۔ منکر حدیث: آپ نے مجھ پر حجت تمام کردی ہے اور میں تسلیم کرتاہوں کہ حدیث نبوی کو قبول کرنا سب مسلمانوں پر فرض ہے‘ حق کے ظاہر ہوجانے کے بعد میں اس بات میں عار محسوس نہیں کرتا کہ حدیث نبوی کے بارے میں اپنا موقف چھوڑ کر اپنا زاویہ نگاہ اختیار کرلوں‘ بلکہ مجھے اس حقیقت کا اعتراف کرنے سے کوئی چیز مانع نہیں کہ ظہور حق کے بعد اس کو تسلیم کرنا میرے لئے ضروری تھا‘ مگر بتایئے کہ: اس کا کیا مطلب کہ قرآن کے بعض عام احکام اپنے عموم پر رہتے ہیں اور بعض دفعہ ان میں تحصیص پیدا ہوجاتی ہے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے جواب میں متعدد مثالیں ذکر کیں ،پھر اپنے حریف کو مخاطب کرکے فرمایا: اب آپ پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم کی اطاعت کو قرآن کریم میں فرض قرار دیا اور اس کے ساتھ ساتھ آپ صلیٰ*اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے عام وخاص اور ناسخ ومنسوخ کا شارح وترجمان ٹھہرایا ہے۔ منکر حدیث: جی ہاں ! آپ کا ارشاد بجا ہے‘ مگر میں تو ہمیشہ اس کی مخالفت کرتا رہا‘ یہاں تک کہ اس نقطہٴ نظر کی غلطی مجھ پر واضح ہوگئی۔ اس ضمن میں منکر حدیث دو فرقوں میں بٹ گئے ہیں: ایک فریق کا کہنا یہ ہے کہ حدیث نبوی مطلقاً حجت نہیں ہے اور قرآن کریم میں ہر چیز کی وضاحت وصراحت موجود ہے۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: حدیث نبوی سے صاف انکار کا نتیجہ کیا نکلا؟ منکر حدیث: بہت برا نتیجہ برآمد ہوا۔ اس لئے کہ انکار حدیث کا عقیدہ رکھنے والے یہ کہتے ہیں کہ :جو شخص کم از کم ایسا کام کرے جس کو صلوٰة یا زکوٰة کہہ سکتے ہیں‘ اس نے صلوٰة وزکوٰة کا حق ادا کردیا‘ اس میں وقت کی پابندی نہیں، اگر کوئی شخص ہر روز یا کئی دنوں میں دو رکعت نماز ادا کرلے تو اس نے صلوٰة کا فریضہ ادا کردیا‘ وہ کہتے ہیں کہ: جو حکم قرآن میں نہ وارد ہو‘ وہ کسی پر فرض نہیں۔ منکر حدیث کا دوسرا فرقہ کہتا ہے کہ جو حکم قرآن میں مذکور ہے، اس کے بارے میں حدیث کو قبول کیا جاسکتا ہے اور جس ضمن میں قرآن وارد نہیں ہوا‘ اس میں حدیث کو قبول نہیں کیا جاسکتا‘ نتیجہ اس کا بھی وہی ہوا جو پہلے فرقہ کا ہوا تھا۔ اس فرقہ نے پہلے حدیث کو رد کیا اور پھر اس کو قبول بھی کرنے لگے‘ یہ لوگ کسی خاص وعام یا ناسخ ومنسوخ کو تسلیم نہیں کرتے،ان دونوں کا گمراہ ہونا واضح ہے۔ اور میں ان میں سے کسی کو بھی حق نہیں سمجھتا‘ مگر میں آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ: آپ ایک حرام چیز کو بلاد لیل کیسے حلال سمجھنے لگے ہیں؟ کیا آپ کے پاس اس کی کوئی دلیل موجود ہے؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:دلیل موجود ہے۔ منکر حدیث: کونسی دلیل؟ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: میرے پاس جو شخص بیٹھا ہے‘ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا اس کا خون اور مال حرام ہے یا نہیں؟ منکر حدیث: اس کا خون اور مال حرام ہے۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: اگر وہ شخص شہادت دے کہ اس فلاں شخص کو قتل کیا اور اس کا مال لے لیا اور وہ مال آپ کے پاس موجود ہے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا رویہ ہوگا؟ (آپ کیا رویہ اختیار کریں گے؟) منکر حدیث: میں اس کو فوراً قتل کردوں گا اور اس سے مال لے کر وارثوں کو لوٹا دوں گا۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: کیا یہ ممکن نہیں کہ گواہوں نے جھوٹی اور غلط گواہی دی ہو؟ منکر حدیث:ایسا ہوسکتا ہے۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ: پھر آپ نے جھوٹی گواہی کی بناء پر اس شخص کے مال اور خون کو کیسے مباح قرار دیا‘ حالانکہ وہ خون اور مال حرام تھا؟ منکر حدیث:اس لئے کہ شہادت قبول کرنا ضروری امر ہے۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ:اگر تم گواہوں کی گواہی کو ظاہری صداقت کی بنا پر قبول کرنا ضروری سمجھتے ہو اور باطن کا علم تو صرف ذات خداوندی ہی کو ہے تو ہم راوی کے لئے جو شرائط عائد کرتے ہیں‘ وہ گواہ کی شرائط سے زیادہ کڑی ہیں‘ چنانچہ جن لوگوں کی شہادت کو قبول کرتے ہیں‘ ضروری نہیں کہ ان کی روایت کردہ حدیث کو بھی صحیح سمجھ لیں ۔راوی کی صداقت اور غلطی کا پتہ تو ان رواة ورجال سے بھی چل جاتاہے جو روایت حدیث میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں‘ علاوہ ازیں کتاب وسنت سے بھی راوی کی غلطی واضح ہوجاتی ہے‘ مگر شہادت میں ان باتوں میں سے کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی۔ منکر حدیث: میں تسلیم کرتاہوں کہ حدیث نبوی دین میں حجت ہے اور رسول کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے فرض ٹھہرایا ہے‘ جب میں نے رسول کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث کو قبول کیا تو گویا خدا کے حکم کو قبول کیا۔ حدیث ِ رسول کی حجیت پر سب مسلمانوں کا اجماع منعقد ہوچکا ہے اور اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں‘ آپ کے بتانے سے مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوگئی کہ مسلمان ہمیشہ حق پر ہوتے ہیں ۔ برادران اسلام!آپ نے مناظرہ پڑھا‘ یہ مناظرہ ان لوگوں کو پڑھوائیں جو اس فتنے کے جال میں پھنس گئے۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ تمام مسلمانوں کو علمائے حق کے دامن سے وابستہ رکھے اور صحابہ کرام واہل بیت عظام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین ثم آمین ۔ (کتاب الام ج:7 ص:250 بحوالہ: ”الحدیث والمحدثون“ اردو ترجمہ: ص:362تا368 مترجم پروفیسر غلام احمد حریری مرحوم) ماہنامہ بینات, ربیع الثانی1428ھ مئی2007ء, جلد 70, شمارہ.‎
 ·  Translate
61
2
Muhammad Moosa's profile photoshoaib king's profile photoHaya Maryum's profile photoZrar Hussain's profile photo
2 comments
 
nice
Add a comment...
 
امتحاں کیسے کیسے !!
::::::::::::::::::::
اللہ کے رسول ﷺ فرماتے ھیں کہ چار آدمی قیامت کے دن کچھ یوں عذر پیش کریں گے ،
1- بہرہ شخص جو کچھ بھی نہیں سن سکتا تھا - 2- پاگل شخص - 3- بوڑھا شخص - 4- -وہ شخص جو زمانہ فترت میں مر گیا جبکہ کوئی رسول موجود نہیں تھا ،،یعنی حضرت عیسی علیہ السلام اور نبئ کریم ﷺ کے درمیان کے عرصے میں گزر گیا !
بہرہ عذر پیش کرے گا کہ " اے اللہ مجھے تو کچھ سنائی ھی نہیں دیتا تھا ،لہذا میں تیری دعوت ھی نہ سن سکا۔
بےوقوف، احمق ،نادان نیم پاگل کہے گا کہ مجھے تو گھر والوں نے اونٹ اور بکریاں چرانے پہ ھی لگائے رکھا۔
بوڑھا کے گا کہ جب دعوت آئی تو میری عقل گھاس چرنے گئی ھوئی تھی ،کوئی بات سمجھ لگتی ھے نہ تھی ۔
زمانہ فترت میں مر جانے والا کہے گا کہ مولا میرے زمانے میں تو توحید کی کوئی دعوت ھی موجود نہ تھی میں بھلا کیسے ایمان لاتا ؟
اس پہ اللہ پاک ان سے خوب گاڑھا عہد لے گا کہ اب وہ اللہ جو بھی حکم دے گا اس کی اطاعت کریں گے ،،
اس عہد کے بعد اللہ پاک انہیں حکم دے گا کہ وہ آگ میں چھلانگ لگا دیں ،جس پر وہ مُکر جائیں گے ،،حالانکہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ھے ،، اگر وہ اللہ کی اطاعت میں آگ میں چھلانگ لگا دیتے تو اسے ٹھنڈی اور سلامتی والی پاتے ،،یعنی جنت میں جا گرتے ،،،
یہی کچھ دنیا میں اھلِ ایمان کے ساتھ ھوتا ھے بظاھر وہ حالات جو انہیں مصیبت ، عذاب اور جان لیوا نظر آتے ھیں وہ حقیقت میں ان کی جنت ھوتے ھیں اور وہ ان کے ذریعے آزمائے جا رھے ھوتے ھیں
{روى الإمام أحمد (16301) ، وابن حبان (7357) ، والطبراني في "الكبير" (841) } 
 ·  Translate
45
9
Muhammad Ashfaq's profile photoWaleed Saeed's profile photo
Add a comment...
 
 
ملا جی۔۔۔۔۔۔۔!!
جی بھائی۔۔۔۔۔۔!
ایک سوال پوچھنا ہے مگر ڈر لگتا ہے کہ آپ کوئی فتوی ہی نہ لگا دیں۔
پوچھو پوچھو۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! سوال پوچھنے پر کوئی فتوی نہیں۔
یہ بتائیں کہ اسلام مرد کو طلاق کا حق دیتا ہے، عورت کو کیوں نہیں دیتا۔۔۔۔؟؟
کیا عورت انسان نہیں؟ کیا اس کے حقوق نہیں؟
یہ کیا بات ہے کہ مرد تو جب جی چاہے عورت کو دوحرف کہہ کر فارغ کردے اور عورت ساری زندگی اس کے ظلم کی چکی میں پسنے کے باوجود بھی اپنی جان بخشی نہ کراسکے۔۔۔؟ کیا یہ ظلم نہیں؟؟؟؟؟
تمہارے سوال کا جواب دیتا ہوں، مگر پہلے تم مجھے ایک بات بتاؤ۔۔۔۔۔!!
جی ملا جی۔۔۔۔۔۔۔۔!!
یہ بتاؤ کہ تم ایک بس میں کہیں جانے کے لئے سوار ہوئے، بس والے کو کرایہ دیا، ٹکٹ لی، سیٹ پر بیٹھے، سفر شروع ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بس والا تمہیں منزل پر پہنچنے سے پہلے کہیں راستے میں، کسی جنگل، کسی ویرانے میں اتارنے کا حق رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟؟
بالکل نہیں۔
ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! اب یہ بتاؤ کہ اگر تم راستے میں کہیں اترنا چاہو تو تمہیں اس کا حق حاصل ہے یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔؟؟
بالکل ہے، میں جہاں چاہوں اتر سکتا ہوں۔
وجہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
وجہ یہ ملا جی کہ وہ مجھ سے کرایہ لے چکا ہے، لہذا منزل سے پہلے کہیں نہیں اتار سکتا، اور مین جہاں چاہوں اتر سکتا ہوں، وہ مجھے نہیں روک سکتا، اس لئے کہ اس کا کام کرائے کے ساتھ تھا جو وہ مجھ سے لے چکا ہے۔
بالکل ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! اب ایک اور بات بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
تم ایک مزدور کو لے کر آئے ایک دن کے کام کے لئے، اس نے کام شروع کیا، اینٹیں بھگوئیں، سیمنٹ بنایا، دیوار شروع کی، اور آٹھ دس اینٹیں لگا کر کام چھوڑ کر گھر کو چل دیا، تمہارا رد عمل کیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
میں اسے پکڑ لوں گا، نہیں جانے دوں گا، کام پورا کرے گا تو اسے چھٹی ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
اور اگر تم اسے کام کے درمیان میں فارغ کرنا چاہو تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
مجھے اس کی اجرت دینی ہوگی، اجرت دینے کے بعد میں اسے کسی بھی وقت فارغ کرسکتا ہوں۔
اگر وہ کہے کہ میں اجرت لینے کے باوجود نہین جاتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
وہ ایسا نہیں کرسکتا، میں اسے لات مار کر نکال دوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔!!
بالکل ٹھیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! اب اپنے سوال کا جواب سنو۔۔۔۔۔۔۔۔!!
دنیا میں جس قدر بھی معاملات ہوتے ہیں، ان میں ایک فریق رقم خرچ کرنے والا ہوتا ہے تو دوسرا اس پیسے کے بدلے میں خدمت کرنے والا۔۔۔۔۔۔۔ دنیا کا اصول یہ ہے کہ ہمیشہ پیسہ خرچ کرنے والے کا اختیار دوسرے سے زیادہ ہوتا ہے، کوئی معاملہ طے ہونے کے وقت تو دونوں فریقوں کی رضا ضروری ہے، لیکن معاملہ طے ہوجانے کے بعد اس کے انجام تک پہنچنے سے پہلے، رقم خرچ کرنے والا فرد تو واجبات کی ادائگی کے بعد خدمت کرنے والے کو فارغ کرسکتا ہے، مگر خدمت فراہم کرنے والا کام فریق درمیان میں چھوڑ کر خرچ کرنے والے کو فارغ نہیں کرسکتا۔۔۔۔۔!!
اگر رقم کے بدلے میں خدمت فراہم کرنے والے فریق کو کسی بھی وقت پیسہ خرچ کرنے والے کو فارغ کرنے کا اختیار دے دیا جائے تو مزدور دوپہر کو ہی کام چھوڑ کر گھر چلے جائیں، ملازم عین ڈیوٹی کے درمیان غائب ہوجائیں، مالک مکان مہینے کے درمیان ہی کرائے دار کو گھر سے نکال دیں، درزی آپ کا سوٹ آدھا سلا اور آدھا کٹا ہوا آپ کے حوالے کرکے باقی کام کرنے سے انکار کردے، نائی آپ کے آدھے سر کی ٹنڈ کرکے آپ کو دوکان سے باہر نکال دے، دنیا کا سب نظام تلپٹ ہوجائے۔ کچھ سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
ہاں ہاں ملا جی سمجھ رہا ہوں، مگر میں تو وہ طلاق والی بات۔۔۔۔۔۔۔!!
وہی سمجھا رہا ہوں۔
اب سن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! ایک مرد اور ایک عورت میں جب نکاح کا پاکیزہ، محبت، پیار اور اعتماد والا رشتہ ہوتا ہے تو یہ کوئی کاروباری یا جزوقتی معاملہ نہیں ہوتا، یہ دلوں کا سودا، اور ساری زندگی کا سودا ہے، مگر اس میں بھی اسلام ہمیں کچھ اصول اور ضوابط دیتا ہے۔
اس معاملے اور معاہدے میں ایک فریق مرد ہے، اسلام اس کے اوپر اس کی بیوی کا سارا خرچ، کھانا پینا، رہن سہن، علاج معالجہ، کپڑا زیور، لین دین، اور زندگی کی ہر ضرورت کا بوجھ ڈالتا ہے، اب اس عورت کی ساری زندگی کی ہر ذمہ داری اس مرد پر ہے، یہی اس کی حفاظت اور عزت کا ذمہ دار ہے، یہی اس کی ہر ضرورت کا مسئول ہے، یہاں تک کہ اس عورت کے مرنے کے بعد اس کے کفن دفن کا بندوبست بھی اسی مرد کو کرنا ہے، اور مرد کے مرنے کی صورت میں اس مرد کی بہت سی وراثت بھی اسی عورت کو ملنی ہے۔
ان دونوں میاں بیوی سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ یوں تو دونوں ہی کے ہیں، مگر اسلام ان بچوں کی مکمل مالی ذمہ داری بھی صرف اور صرف مرد پر ڈالتا ہے، ان بچوں کی رہائش، کھانا پینا، کپڑے، علاج معالجہ، تعلیم اور کھیل کے تمام مالی اخراجات بھی مرد اور صرف مرد کے ذمہ ہیں۔ اسلام عورت کو ان تمام ذمہ داریوں سے مکمل طور پر آزاد رکھتا ہے۔
ان سب ذمہ داریوں سے پہلے، عقد نکاح کے وقت ہی مرد نے مہر کے عنوان سے ایک بھاری رقم بھی عورت کو ادا کرنی ہے۔
ان سب کے علاوہ اسلام مرد کو اس کی بیوی کے بارے میں حسن سلوک کی تلقین کرتا ہے، وہ اسے "من قتل دون عرضه فهو شهيد" کی خوش خبری سنا کر اپنی بیوی کی عزت کی حفاظت کے لئے جان تک دے دینے کی ترغیب دیتا ہے، اور "حتي اللقمة ترفعها الي في امرأتك" کہ کر اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ ڈالنے پر بھی ثواب کی نوید سناتا ہے، وہ اسے "اتقوا الله في النساء" کہہ کر بیوی کو تنگ کرنے، ستانے، بلا وجہ مارنے، دھمکانے اور پریشان کرنے پر اللہ کی ناراضگی اور عذاب کی وعید سناتا ہے تو "خيركم خيركم لاهله وانا خيركم لاهلي" کہ کر گھر والوں کو محبت، پیار، سکون دینے، ان کی ضرورتوں کا خیال رکھنے اور انہیں جائز حد میں رہ کر خوش رکھنے پر اللہ کی رضا کی نوید سناتا اور ایسے لوگوں کو بہترین انسان قرار دیتا ہے۔
مرد پر اس قدر ذمہ داریاں عائد کرنے کے بعد وہ بیوی پر اپنے شوہر کی خدمت، اطاعت، اس کے ساتھ وفا داری، اس کے گھر اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔
اب سنو۔۔۔۔۔۔۔۔!!
مرد اور عورت کے اس معاہدے میں عورت کی ساری زندگی کی ہر مالی ذمہ داری مرد پر ہے، تو تم خود بتاؤ کہ طلاق کا حق ان دونوں میں سے کس کے پاس ہونا چاہئے؟
ویسے ہونا تو مرد کے پاس ہی چاہیئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ویسے اگر عورت کو بھی یہ حق دے دیا جائے تو آخر اس میں حرج کیا ہے؟
حرج۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
بھئی فرض کرو تم نے ایک خوبصورت عورت کا رشتہ پسند کیا، رشتہ بھیجا، بات چلی، رشتہ طے ہوگیا، انہوں نے ایک لاکھ مہر کا مطالبہ کیا، تم نے منظور کیا، نکاح ہوگیا، تم نے جونہی مہر اس کے حوالے کیا، اس نے کہا۔۔۔۔۔۔۔"میں تمہیں طلاق دینی ہوں، طلاق طلاق۔۔"۔۔۔ اور شام کو کسی اور سے شادی کرلی، اس سے مہر وصول کرکے تیسرے، پھر چوتھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو تمہارے دل پر کیا بیتے گی مسٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
اوہ ملا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! آپ نے تو میرے ہوش اڑا دئیے، یہ تو بہت خوفناک بات ہے۔
صرف یہی نہیں مسٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! اس سے آگے چلو، اب جو مرد کھلے دل سے بیوی پر اپنا مال جان دل سب کچھ لٹاتا ہے، اس کے نخرے اٹھاتا ہے، صرف اس لئے کہ وہ اسے ہمیشہ کے لئے اپنی سمجھتا ہے۔۔۔۔ اگر اس کے دل میں یہ خوف پیدا ہوجائے کہ یہ کسی بھی وقت اسے لات مار کر کسی دوسرے آشیانے کو روانہ ہوسکتی ہے، تو وہ اسے گندم کا ایک دانہ بھی دیتے وقت سو مرتبہ سوچے گا، اور صرف اس مرد کی نہیں بلکہ اس عورت کی زندگی بھی ہمیشہ کے لئے جہنم بن جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
سمجھ گیا سمجھ گیا۔۔۔۔۔۔!! انتہائی خوفناک۔۔۔۔۔!! بہت ہی خطرناک سچوئشن۔۔۔۔!!
مگر ایک بات ملا جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!! کہ کبھی کبھی ایسے ہوتا ہے، اور اب تو بہت سے گھرانوں میں ہورہا ہے، کہ مرد اپنی بیوی کے ساتھ نہ تو انصاف کرتا ہے، اور نہ اس کی جان چھوڑتا ہے۔ اس صورت میں کیا کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
آہ کیا دل دکھانے والا سوال پوچھ لیا تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔!
کیوں ملا جی۔۔۔۔۔؟؟ اس میں دل دکھانے والی کیا بات ہے۔۔؟
دیکھو مسٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
ان تمام مسائل کا حل اور مکمل حل اسلامی نطام ہے، وہی اسلامی نظام جس کی راہ میں روڑے اٹکانے کے لئے تم جیسے لوگ ساڑھے چوبیس گھنٹے پھرتیاں دکھاتے رہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
اگر مکمل طور پر اسلامی نظام قائم ہو ہر طرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لے فرامین کی عزت، اہمیت اور بالادستی ہو تو ایک طرف تو سب لوگوں میں اللہ کا خوف، تقوی، نیکی کے شوق اور برائی سے دوری کے احساسات پیدا ہوتے ہیں، اور یہ وہ چیزیں ہیں جو ہر سطح پر ظلم، زیادتی اور گناہ کو روکنے کے لئے وہ کردار ادا کرنی ہیں جو پولیس، فوج اور عدالت بھی نہیں کرسکتی۔
مگر افسوس کہ تم لوگ پوری توانائی اسی خوف خدا اور دینداری کو ملیامیٹ کرنے پر صرف کرتے ہو، اپنے آشیانے کو خود آگ لگاتے ہو اور پھر اسے بجھانے کے لئے دوڑے دوڑے ہمارے پاس آتے ہو، اپنے بچوں کو اللہ، رسول، قرآن، دین اسلام کا سبق دینے کی بجائے فلموں اور ڈراموں کا سبق دیتے ہو اور جب وہ اس سبق پر عمل کرتے ہوئے تمہیں جوتے لگاتے ہیں تو روتے روتے ہمارے پاس آکر تعویذوں کی درخواست کرتے ہو۔
سن میرے مسٹر بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
اگر مکمل طور پر صحیح معنوں میں اسلامی نظام نافذ ہو تو اول تو ایسے واقعات پیش آئیں گے نہیں، اگر اکا دکا ایسا ہو بھی جائے تو بیوی فورا اسلامی عدالت میں جاکر قاضی کو شوہر کی زیادتی کی شکایت کرے گی اور قاضی سالوں تک اس مقدمے کو لٹکانے یا وکیلوں کے ہاتھوں اس کی کھال اتروانے کے بجائے دونوں کا مؤقف سن کر فوری طور پر عورت کو اس کے شوہر سے اس کا حق دلوائے گا، اگر شوہر کسی صورت اس کا حق نہیں دیتا، یا دینے پر قادر ہی نہیں ہے، تو اس سے عورت کو طلاق دینے کا مطالبہ کیا جائے گا اور اگر وہ طلاق بھی نہیں دیتا، تو عدالت اسے جیل میں بند کردے گی، تھانے جائے گا، پولیس والوں کے چھتر کھائے گا، تنہائی اور بے بسی کا مزہ چکھے گا تو خود ہی دوسرے کی بے بسی کا احساس پیدا ہوگا، ورنہ جب تک اس کی بیوی عذاب میں رہے گی، وہ بھی اسی دائمی عذاب میں مبتلا رہے گا۔
(مرکزی خیال شیخ العرب والعجم حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے مکتوبات کے مجموعے "مکتوبات شیخ الاسلام" کے ایک مکتوب سے ماخوذ: احسن خدامی)

Copyd 
 ·  Translate
6 comments on original post
66
6
Muhammad Munir Khhan Sialvi's profile photoMubeen Ahmad's profile photo‫محمد طارق راحیل‬‎'s profile photoMudassra Rasool's profile photo
12 comments
 
We are noting to answer u but quran or hadess available for you
Add a comment...
 
موت تو یقینی ہے آئیں اس دنیا کی عارضی زندگی کو چند لمحوں کے لئے چھوڑ کر اس خوبصورت جنت کی فکر کریں !!!!

اللہ رب العالمین نے تمام مخلوقات کو پیدا فرمایا اور پھر سب کے لیے ایک وقت مقرر کر دیا کہ ہر نفس اپنا وقت پورا کر کے اس جہان فانی سے رخصت ہو جائے گا پھر اللہ رب العالمین جن و انس سے مخاطب ہوا اور یہ خبر دی کہ موت کے بعد کامیاب شخص کون ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: 

{کُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَۃُ الْمَوْتِ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّۃَ فَقَدْ فَاز} 

’’ہر نفس نے موت کا مزا چکھنا ہے اور پھر قیامت کے دن تمھیں تمھارے اعمال کا بدلہ واپس لوٹا دیا جائے گا پس جو شخص آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کر دیا گیا پس یقینا وہ کامیاب ہو گیا۔ ‘‘ (آل عمران3: 185) 

تو پتا چلا کہ جنت میں داخل ہونے والا ہی کامیاب ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ صوفیوں کا وہ عقیدہ غلط ہے جس کے تحت وہ کہتے ہیں کہ ہم جنت و جہنم کے لیے عمل نہیں کرتے بلکہ اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتے ہیں۔ حالانکہ ایک روایت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے جنت کو اپنی رضا سے منسلک کیا اور جہنم کو اپنے غضب سے منسلک کیا۔ اس جنت میں صرف متقی شخص ہی داخل ہو گا۔ 

ارشاد باری تعالیٰ ہے: 
{اِِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ} 
’’بے شک متقین لوگ جنتوں اور چشموں میں ہوں گے۔ ‘‘ (الذاریات51:15) 

ان متقین کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے: 
{کَانُوْا قَلِیْلًا مِنَ الَّیْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ } ’’جو راتوں کو کم سویا کرتے تھے۔ ‘‘ (الذرایات51: 17) 


یہ جنت ہے کیا چیز؟ 

عربی زبان میں جنت باغ کو کہتے ہیں۔ جنت ایک ایسی مملکت خداداد ہے جو ہماری اس کرہ ارضی کے مقابلہ میں بلا مبالغہ اربوں نہیں کھربوں گنا زیادہ وسیع و عریض ہے عین ممکن ہے کہ جنت کے ایک بہت بڑے شہر کا چھوٹا سا محلہ ہماری اس زمین کے برابر ہو۔ اللہ رب العالمین نے اپنے کلام پاک میں اس جنت کی وسعت بیان کرتے ہوئے اس کی طرف دوڑنے کی ترغیب دی ہے۔ 

{وَ سَارِعُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْن} 
’’دوڑو اپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی (صرف) چوڑائی آسمانوں اور زمین (کی وسعت) جیسی ہے وہ جنت متقی لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ ‘‘ (آل عمران3: 133)

جس چیز کی چوڑائی اتنی زیادہ ہے اس کی لمبائی کتنی ہو گی انسانی عقل سوچنے سے بھی قاصر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جنت کا مختلف ناموں سے تذکرہ کیا ہے۔ 

{دَارْالسَّلَام} سلامتی والا گھر (یونس 10: 25) 
اور اسی طرح {دَارُالْمُتَّقِیْن} متقی لوگوں کا گھر (نحل 16:30) 
{دَارْالْقَرَار} قرار کی جگہ (مومن40: 39) 
{مَقَامٍ اَمِیْن} امن کی جگہ (دخان 44: 51) 
{دَارْالْآخِرَۃ} آخرت کا گھر (یوسف12: 109) 
{جَنّٰتْ النَّعِیْم} نعمتوں بھری جگہ (واقعہ56: 21) 
{جَنّٰتْ عَدْن} سدا بہار جنتیں (کہف 18: 31) 
جنتی جب جنت میں داخل ہونے کے لیے دروازے کے قریب پہنچیں گے تو فرشتے ادب سے ان کے لیے جنت کے دروازے کھولیں گے۔ ارشاد ربانی ہے: 
{وَسِیقَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّہُمْ اِِلَی الْجَنَّۃِ زُمَرًا حَتّٰی اِِذَا جَائُوہَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْہَا خٰلِدِیْنَ } 
’’متقی لوگوں کو گروہ در گروہ جنت کی طرف لے جایا جائے گا یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو جنت کے دروازے کھولے جا چکے ہوں گے جنت کے خازن( فرشتے) ان سے کہیں گے ’’سلام ہو تم پر۔ تم بہت اچھے رہے، اس میں ہمیشہ کے لیے داخل ہو جاؤ۔‘‘ (زمر39: 73) 

سب سے پہلے جنت کا دروازہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھولا جائے گا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے روز میں (سب سے پہلے) جنت کے دروازے پر آؤں گا اور دروازہ کھلواؤں گا۔ جنت کا چوکیدار (فرشتہ) پوچھے گا: کون ہے؟ میں جواب دوں گا ’’ محمد‘‘ خازن (فرشتہ) کہے گا: مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔‘‘
(صحیح مسلم، حدیث: 197)

اور سب سے پہلے امت محمدیہ جنت میں داخل ہو گی اور اہل جنت قطاروں کی صورت میں جنت میں داخل ہوں گے۔ بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جنتیوں کی ایک سو بیس (120)قطاریں ہوں گی جن میں سے اسی قطاریں اس امت (محمدیہ) کی ہوں گی اور چالیس قطاریں باقی امتوں سے ہوں گی۔ 
(جامع الترمذی، حدیث: 2546)

جنت اتنی اعلیٰ ہے کہ جنت میں چھڑی برابر جگہ دنیا اور اس میں موجود نعمتوں سے بہتر ہے جیسا کہ سہل بن ساعدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
’مَوْضِعُ سَوْطٍ فِی الْجَنَّۃِ خیر مِنَ الدُّنْیَا وَمَا فِیْھَا‘ 
’’جنت میں چھڑی کے برابر جگہ دنیا اور دنیا میں ہر چیز سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث: 3250) 
اور جنت کی نعمتیں بھی بہت اعلیٰ ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
’’جنت میں سب سے پہلے جو گروہ داخل ہو گا۔ ان کے چہرے چودھویں رات کے چاند کی طرح (روشن) ہوں گے انھیں تھوک نہیں آئے گی نہ ناک اور نہ رفع حاجت کی ضرورت محسوس کریں گے۔ ان کے برتن سونے کے ہوں گے، کنگھیاں (تک) سونے اور چاندی کی ہوں گی، انگیٹھیوں سے عود کی خوشبو نکل رہی ہو گی، جنتیوں کے پسینے سے مشک کی خوشبو آئے گی، ہر جنتی کے پاس دو بیویاں ایسی ہوں گی جن کے حسن کی وجہ سے ان کی پنڈلی کا گوشت اندر سے دکھائی دے گا۔ جنتی لوگوں میں باہمی اختلاف نہیں ہوں گے، نہ ہی بغض بلکہ یک جان ہوں گے صبح و شام اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے (صحیح البخاری، حدیث! 3245) 

جنت میں حوریں اپنے شوہروں کے اعزاز میں ترانہ گاتی ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جنت میں موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں یہ گانا گاتی ہیں: 
نَحْنُ الْحُوْرُ الْحِسَانُ
خُبِئْنَا لِأَزْوَاجٍ کَرَامٍ 
ہم خوبصورت اور نیک سیرت حوریں اپنے محبوب شوہروں کے لیے محفوظ کی گئی ہیں۔ ‘‘
(صحیح جامع صغیر : 1598)

جنت میں اہل جنت کے لیے موتی سے بنے خیمے ہوں گے۔ عبداللہ بن قیس اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 
’’جنت میں موتی کا ایک خولدار خیمہ ہو گا جس کی چوڑائی ساٹھ میل ہو گی اس خیمہ کے ہر کونے میں (مومن کی) بیویاں ہوں گی جنھیں دوسرا کوئی نہ دیکھ سکے گا۔ مومن آدمی ان کے درمیان چکر لگاتا رہے گا۔‘‘ (صحیح مسلم، حدیث: 2838) 

جنت میں جمعہ بازار لگے گا۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
’’جنت میں ایک بازار ہے جس میں ہر جمعہ کے دن جنتی آیا کریں گے۔ شمال کی طرف سے ایک ہوا چلے گی جس کا گردو غبار ( مشک اور زعفران ہو گا جب وہ ) جنتیوں کے چہروں اور کپٹروں پر پڑے گا تو اس سے ان کے حسن و جمال میں اضافہ ہو جائے گا جب وہ پلٹ کر واپس آئیں گے تو ان کی بیویوں کا حسن و جمال پہلے سے بڑھ چکا ہو گا۔ بیویاں اپنے مردوں سے کہیں گی: واللہ! تمھارا حسن و جمال ہمارے بعد تو بہت بڑھ گیا۔ جنتی لوگ کہیں گے واللہ! ہمارے بعد تمھارا حسن و جمال بھی پہلے سے بڑھ چکا ہے۔‘‘ 
(صحیح مسلم، حدیث: 2833)


اس سے یہ بھی پتا چلا کہ جنتی عورتیں اپنے اپنے کو گھروں تک ہی محدود رکھتی ہیں۔ جنت میں تمام درخت سونے کے ہوں گے اور بعض کھجوروں کا تنا سبز زمرد کا ہو گا اور ٹہنیوں کی جڑیں سرخ سونے کی ہوں گی۔ 

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جنت کی کھجور کا تنا سبز زمرد کا ہو گا۔ اس کی ٹہنی کی جڑ سرخ سونے کی ہو گی اور اس کی شاخ سے اہل جنت کی پوشاک تیار کی جائے گی۔ ان کے لباس اور جبے بھی اسی سے بنائے جائیں گے۔ کھجور کا پھل مٹکے یا ڈول کے برابر ہو گا جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا، مکھن سے زیادہ نرم ہو گا اس میں سختی بالکل نہیں ہو گی۔ (شرح السنہ، حدیث: 4384) 

جنتی کھڑے ، بیٹھے، چلتے پھرتے جب چاہے گا پھلوں کو توڑ سکے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَدَانِیَۃً عَلَیْہِمْ ظِلاَلُہَا وَذُلِّلَتْ قُطُوْفُہَا تَذْلِیْلًا } ’’اور جنت کی چھاؤں ان پر جھکی ہوئی سایہ کر رہی ہو گی اور اس کے پھل ہر وقت ان کی پہنچ میں ہوں گے۔ ‘‘
(الدہر76: 14) 


اور پھل توڑنے پر فوراً نیا پھل لگ جائے گا جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

’اِنَّ الرَّجُلَ اِذَا نَزَعَ ثَمْرَۃً مِنَ الْجَنَّۃِ عَادَتْ مَکَانَھَا اُخْرٰی‘’’جب کوئی آدمی جنت (میں درخت) سے پھل توڑے گا تو اس کی جگہ دوسرا پھل لگ جائے گا‘‘ (مجمع الذوائد: 4141)

جنت میں مختلف نہریں ہوں گی۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{متل الجنۃ التی وعدہ المتقون… من عسل مصفی}
’’متقی لوگوں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں صاف ستھرے پانی کی نہریں بہہ رہی ہوں گی اور ایسا دودھ جس کا ذائقہ نہ بدلا ہو ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ اور صاف شفاف شہد کی نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ‘‘ (محمد41: 15) 

جنتی کی بیویاں بیک وقت ستر ستر کپڑے کے جوڑے زیب تن کریں گی جو اس قدر عمدہ اور اعلیٰ ہوں گے کہ اس کے اندر سے ان کا گودا نظر آئے گا۔ (جامع الترمذی، حدیث: 2533) 

اور جنتیوں کی خدمت کے لیے خوبصورت لڑکے بطور خادم ہاتھ میں مختلف مشروب سے بھرے جام اٹھا کر پھر رہے ہوں گے۔جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان موت کو لا کر ہمیشہ کے لیے ذبح کر دیا جائے گا۔ (جامع الترمذی، حدیث: 2557) 

تو اس عظیم جنت کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے آگ کی مثل کوئی چیز نہیں دیکھی جس سے بھاگنے والا سو گیا ہو اور نہ جنت کی مثل کوئی چیز کہ جس کا طالب سو گیا ہو۔ ‘‘ (جامع الترمذی، حدیث: 2601)


’اَللَّھُمَّ الدْخُلْنَا الْجَنَّۃَ الْفَرْدَوْسَ بِغَیْرِ حِسْاب۔ اَللَّھُمَّ إِنَّا نَسْئَلُکَ لَذَّۃَ النَّظْرِ اِلٰی وَجْھِکَ الْکَرِیْمِ فِي الْجَنَّۃِ بِفَضْلِکَ یَا سُلْطَانَ الْقَدِیْمِ‘.
 ·  Translate
117
25
rizwan riaz's profile photomuhammad quraish's profile photoUsman Saleh's profile photoNaveed Ahmed's profile photo
8 comments
 
Trueful
Add a comment...
 
.“The highest level of loving Allah is to cut yourself off from everything that will distance you from Him, all for the sake of your Lord, to seek intimacy with Him with your heart, intellect and the rest of your limbs.
Make your love of Him firm in your heart so that you give nothing precedence over it. If you are fortunate enough to reach this point, then it won’t matter to you if you were on land or at sea or in ease or difficulty!”
125
8
Furqan Ozair's profile photoannie malik's profile photoYaz Kuza's profile photoAli Shazab's profile photo
5 comments
 
Indeed he succeeds who purifies his ownself. And indeed he fails who
corrupts his ownself
Add a comment...
 
آمین ثم آمین
 ·  Translate
 
یا رب تیری مرضی
تو جو بھی امتحاں لے لے

نہیں ہم جانتے جن کو
انہی کا ہمسفر کر دے
جو اس جیون سے پیارے ہوں
انہیں ہم سے جدا کر دے

یا رب تیری مرضی
تو جو بھی امتحاں لے لے

تو چاہے آگ پانی ہو،
تو چاہے برف جلتی ہو
تو چاہے پهول چبھتے ہوں
تو چاہے خار خوشبو دیں

یا رب تیری مرضی
تو جو بھی امتحاں لے لے

جسے چاہے بتا دے تو
محبت کس کو کہتے ہیں
جسے چاہے سکها دے تو
عبادت کس کو کہتے ہیں
جسے چاہے ملا دے تو
جسے چاہے جدا کر دے
وہ جس نے غم نہ دیکهے ہوں
اسے غم آشنا کر دے

یا رب تیری مرضی
تو جو بھی امتحاں لے لے

تیری مرضی تو بن مانگے
سبهی کچھ عطاء کر دے
تیری مرضی تو چاہے سب فنا کر دے
یا رب تیری مرضی تو جو بھی امتحاں لے لے
مجھے جس حال میں رکھے
فقط اتنی گزارش ہے
تو جو بھی امتحاں لینا
مجھے بس سرخرو کرنا
آمین

 ·  Translate
View original post
131
10
Hunain Shah's profile photomehmet erkan's profile photoNasrullah Shah's profile photoAli Shazab's profile photo
2 comments
 
Ameen
Add a comment...
Have her in circles
42,105 people
Rana Bilal's profile photo
Mahadi Rumi's profile photo
asrab omoch's profile photo
qamar islam's profile photo
Nazir Ahmed's profile photo
shah ali asghar's profile photo
munawar mahessar's profile photo
Kamran Ahmed's profile photo
Rabia Sheikh's profile photo
 
چیونٹی اور کانٹیکٹ لینز:
برینڈا کو اس کے دوستوں نے کوہ پیمائی پر چلنے کے لیے کہا اور وہ راضی ہو گئی، اگرچہ اسے بے آب و گیا چٹانوں کی اونچائی کا سوچ کر ڈر محسوس ہو رہا تھا لیکن وہ ایڈوانچر کے پیش نظر تیار ہو گئی، اور وہ سب دوست اپنے جسموں سے رسیاں باندھ کر پتھریلی چٹانوں پر زور آزمائی کر رہے تھے، راستہ یقینا کٹھن تھا لیکن وہ ہمت سے آگے بڑھتے رہے اور پھر ایک رسی جھولتی ہوئی برانڈا کے چہرے سے آ ٹکرائی، 
رسی کا سرا برینڈا کی آنکھ میں لگا اور اس کا کانٹیکٹ لینز نکل کر چٹان پر جا گرا۔
یہ نظر کا لینز تھا اور اس کے بغیر دیکھ پانا برینڈا کے لیے مشکل تھا، اس نے لینز کو ڈھونڈنے کی بہت کوشش کی لیکن نہ ڈھونڈ پائی، اسکی نظر دھندلا گئی تھی لیکن جیسے تیسے کر کے وہ چوٹی تک پہنچ گئی۔
جب وہ چوٹی پر پہنچی تو اس نے پہاڑوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ دیکھا اور خدا سے دعا کی کہ
 "اے خدا تو ہر جگہ موجود ہے، ہر چیز تیری نظر میں ہے، میں باوجود کوشش کے اپنے لینز کو ڈھونڈ نہیں پائی، خدایا تم اس دنیا کے ذرے ذرے کا علم رکھتے ہو، میری مدد کرو۔ ۔ ۔ ۔ ۔"
اور پھر جب انھوں نے واپسی کی راہ لی تو انہیں کوہ پیماؤں کی ایک اور ٹیم چوٹی کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آئی ، برینڈا کی پارٹی کو جب ان لوگوں نے دیکھا تو ان میں سے ایک بولا۔
ارے سنو کیا تم میں سے کسی کا "کانٹیکٹ لینز" کھو گیا ہے؟
برینڈا نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اس سے اپنا لینز لے کر آنکھ میں لگا لیا۔
اس شخص نے بتایا کہ تمہیں پتا ہے کہ مجھے یہ لینز کیسے نظر آیا؟
میں یہ لینز کبھی نہ دیکھ پاتا اگر ایک چیونٹی اسے اٹھا ئے حرکت نہ کر رہی ہوتی۔
برینڈا چیونٹی کے اس طرح لینز کو اٹھا کر چلنے سے متاثر ہوئی اور اس نےواپس آ کر لینز کے کھوجانے، اپنی دعا اور چیونٹی کا لینز کو اٹھا کر لے جانے کا واقعہ ایک مصور کو سنا دیا
اور اس مصور نے بڑی خوبصورتی سے اس چیونٹی کا خاکہ بنا ڈالا جو کہ کانٹیکٹ لینز کو اٹھائے اپنے ٹھکانے کی طرف جا رہی ہو اور اس کے نیچے چیونٹی کے یہ الفاظ لکھے جیسے وہ خدا سے کہہ رہی ہو کہ
" اے خدا میں نہیں جانتی کہ تم مجھ سے یہ بوجھ کیوں اٹھوا رہے ہو؟ نہ تو میں اس لینز کو کھا سکتی ہوں اور نہ ہی یہ میرے کسی اور کام آ سکتا ہے، اور یہ ہے بھی بہت بھاری، لیکن اگر تم چاہتے ہو کہ میں یہ کام کروں تو میں ضرور کروں گی"

زندگی میں جب ہمارے اوپر آزمائش آتی ہے، کوئی امتحان آتا ہے، اور پریشانیوں کا بوجھ انسان کے کندھوں پر پڑتا ہو تو انسان کو بھی اس چیونٹی ہی طرح کرنا چاہیئے اور یہ ہمارا طرز عمل ہونا چاہئے کہ 
"اے خدا اگرچہ یہ بوجھ جو مجھ پر آن پڑا ہے یہ بہت بھاری ہے، مجھے اسے اٹھانے میں اپنے لیے کوئی فائدہ کوئی خیر یا بھلائی نظر نہیں آتی لیکن اگر تم چاہتے ہو کہ میں یہ بوجھ اٹھاؤں تو میں اسے ضرور اٹھاؤں گا"
 ·  Translate
92
11
asad adee's profile photoabdul sattar's profile photoHabibkhan Raja's profile photoMohammad Arshad's profile photo
7 comments
 
Nice
Add a comment...
 
دنیا دارالعمل، دارالفکر اور دارالحزن ہے۔ دنیامیں جوشخص دنیاہی کیلئے عمل اورمحنت کرےگا، اسی کےرنج وغم میں گھلےگا، آخرت میں خالی ہاتھ پہنچےگا۔

 ·  Translate
30
3
adnan farooq's profile photoSurreyakhalid Surreyakhalid's profile photo
Add a comment...
 
صحیح بخاری -> کتاب الرقاق
باب : آخرت کے سامنے دنیا کی کیا حقیقت ہے

وقوله تعالى {أنما الحياة الدنيا لعب ولهو وزينة وتفاخر بينكم وتكاثر في الأموال والأولاد كمثل غيث أعجب الكفار نباته ثم يهيج فتراه مصفرا ثم يكون حطاما وفي الآخرة عذاب شديد ومغ
فرة من الله ورضوان وما الحياة الدنيا إلا متاع الغرور}.
اس کا بیان اور اللہ تعالیٰ نے سورۃ حدید میں فرمایا ۔ ” بلا شبہ دنیا کی زندگی محض ایک کھیل کود کی طرح ہے اور زینت ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنے اور مال اولاد کو بڑھا نے کی کوشش کا نام ہے، اس کی مثال اس بارش کی ہے جس کے سبزہ نے کاشتکاروں کو بھالیا ہے، پھر جب اس کھیتی میں ابھار آتا ہے تو تم دیکھو گے کہ وہ پک کر زرد ہوچکا ہے ۔ پھر وہ دانہ نکالنے کے لئے روندڈالا جاتا ہے ( یہی حال زندگی کا ہے ) اور آخرت میں کافروں کے لئے سخت عذاب ہے اور مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی بھی ہے اور دنیا کی زندگی تو محض ایک دھوکے کا سامان ہے۔ “

حدیث نمبر : 6415
حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم، عن أبيه، عن سهل، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " موضع سوط في الجنة خير من الدنيا وما فيها، ولغدوة في سبيل الله أو روحة خير من الدنيا وما فيها ".
ہم سے عبد اللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہاہم سے عبد العزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا اور اس میں جو کچھ ہے سب سے بہتر ہے اور اللہ کے راستے میں صبح کو یا شام کو تھوڑا سا چلنا بھی دنیا ومافیھا سے بہتر ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !
دنیا مومن کے لئے قید خانہ (جیل ) ہے اور کافر کے لئے جنت .....صیح مسلم #٧٤١٧ 
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! 
جس نے اپنی دنیا سے محبت کی اس نے اپنی آخرت کا نقصان کیا اور جس نے اپنی آخرت سے محبت کی اس نے اپنی دنیا کہ نقصان کیا ، تو لوگو باقی رہنے والی (آخرت) کو ختم ہونے والی (دنیا) پر ترجیح دو .............مسند احمد #١٩١٩٩ —
 ·  Translate
168
20
Atiq Ahmed Siddiqui Advocate's profile photoHolil Mulyana's profile photomuhammad arif's profile photosyedqamar ali's profile photo
2 comments
 
Mashaallah
Add a comment...
 
"ہم اللہ سےتب رجوع کرتے ہیں جب دنیا ہمیں رد کر چکی ہوتی ہے ..تمام دروازوں سے دھتکارے جانے کے بعد ہم اللہ کے در پر دستک دیتے ہیں..ہماری اولین ترجیح ہمیشہ دنیا ہوتی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کے ہم ذرا بھی شرمندہ نہیں ہوتے .."
 ·  Translate
84
11
Ejaz Ahmad's profile photorizwan riaz's profile photoSurreyakhalid Surreyakhalid's profile photoMudassra Rasool's profile photo
4 comments
 
Yes realy true
Add a comment...
 

کچھ روز سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل نہیں ہورہی تھی
حضور صلی اللہ علیہ وسلم شدید بے چینی محسوس کر رہے تھے
ادھر کفار کے ہاتھ ایک موقع آگیا تھا تمسخر کیلیئے
ابو لہب کی بیوی کہنے لگی: کہ اے محمد! لگتا ہے تیرے شیطان (معاذ اللہ) نے تجھے چھوڑ دیا ہے؟
اب وہ تجھ پر کیوں اپنی وحی نازل نہیں کرتا؟
حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ الفاظ بجلی بن کر گرتے
آپ شدید کبیدہ دل ہوچکے تھے
لیکن وحی تھی کہ نازل ہی نہیں ہورہی تھی۔
آپ شدید دعائیں مانگ رہے تھے
آپ کا خیال تھا کہ شاید اللہ آپ سے ناراض ہوگیا ہے
آپ شدید معافیاں مانگ رہے تھے
اللہ سے وحی کی طلب فرمارہے تھے
لیکن
آپ کا انتظار طویل ہوتا جارہا تھا
آپ بیمار ہوگئے تھے
بیماری کے سبب رات کا قیام بھی مشکل ہوچلا تھا
ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے دنیا میں کچھ باقی نہ بچا ہو۔
سب کچھ بے مقصد و بے معنیٰ ہوچکا ہو۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کفار کے طعنوں سے کیا کم غمگین تھے
کہ اللہ عزوجل کی طرف سے بھی کوئی جواب نہ آتا تھا۔
امیدیں دم توڑتی نظر آرہی تھیں
ایسے میں حضرت جبرائیل علیہ السلام اترتے ہیں
اللہ عزوجل کا پیغام لے کر:

"قسم ہے دھوپ چڑھتے وقت کی۔ قسم ہے رات کی جب وہ چھا جائے۔ نہ ہی آپ کے رب نے آپ کو چھوڑا اور نہ ہی دشمنی اختیار کی۔ اور آپ کا آنے والا دور آپ کے گزرے ہوئے دور سے بہتر ہوگا۔ اور عنقریب آپ کا رب آپ کو اتنا کچھ عطا فرمائے گا کہ آپ خوش ہوجائینگے۔
سورہ ضحی آیۃ 1 تا 5

ان آیات میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت پیار سے اور قسم کی تاکید کے ساتھ تسلی دی گئی۔
کہ آپ کبیدہ دل نہ ہوں آپ کے رب نے آپ کو ہرگز فراموش نہیں کیا۔

ہمارے حضرت فرماتے تھے کہ اگرچہ یہ آیات نازل تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کی اس مخصوص حالت پر ہوئیں
لیکن یہ آیات ہر انسان اپنے بارے میں سوچ سکتا ہے
ہر انسان کے اوپر ایسا وقت آتا ہے جب وہ سوچنے لگتا ہے
کہ اسے اس کے اللہ نے چھوڑ دیا ہے،
وہ اسکی دعائیں نہیں سن رہا
جب انسان کال ملا رہا ہوتا ہے
لیکن دوسری طرف سے کوئی رسپانس نہیں آرہا ہوتا
تب انسان شدید کبیدگی محسوس کرتا ہے
بے چینی انتہا پر پہنچ جاتی ہے۔
لیکن انسان کو سمجھ لینا چاہیئے
کہ اس کا رب اس سے غافل نہیں ہے
بلکہ وہ اس کی ساری دعائیں، گریہ و زاری سن رہا ہے
اس کی بے چینی دیکھ رہا ہے۔
اور عنقریب اس کو اتنا کچھ عطا فرمائیگا کہ وہ خوش ہوجائیگا۔
 ·  Translate
33
11
jameel ahmad's profile photoKhalid Mahmood Shahid's profile photoannie malik's profile photoBabar Shah's profile photo
3 comments
 
Subhan Allah
Add a comment...
 
احساسات کی زبان کے حروف تہجی، آوازوں پہ نہیں بلکہ لہجوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہی لہجوں کے طلسم سے لفظ دوا بھی بن جاتے ہیں اور سزا بھی۔

 ·  Translate
75
9
salma jabeen's profile photoMazhar Mohammad's profile photoDur E Maknoon's profile photorizwan riaz's profile photo
5 comments
 
تلخی بے وجہ نہیں ہوتی عائشہ جی 
 ·  Translate
Add a comment...
People
Have her in circles
42,105 people
Rana Bilal's profile photo
Mahadi Rumi's profile photo
asrab omoch's profile photo
qamar islam's profile photo
Nazir Ahmed's profile photo
shah ali asghar's profile photo
munawar mahessar's profile photo
Kamran Ahmed's profile photo
Rabia Sheikh's profile photo
Work
Skills
Allah has Gifted me with a lot... They are countless.... Alhumdulillah ☺
Basic Information
Gender
Female
Story
Tagline
حَسبُنَا اللہِ وَنِعمَ الوَکِیل.
Places
Map of the places this user has livedMap of the places this user has livedMap of the places this user has lived
Previously
In A Temporary Place Called Dunya...