Profile cover photo
Profile photo
Dr. Arshad Malik
115 followers
115 followers
About
Dr.'s posts

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment
ڈاکٹر و حکیم ارشد ملک 11/03/2014 at 19:00
آپ کا بچہ رات کو اپنے پیشاب پر کنٹرول نہیں کر پاتا اور بستر پر پیشاب نکل جاتا ھے۔بچے کو اس بات کو سمجھنے میں مسلہ ھوتا ھے کہ دن کے وقت بھی اسے یہ احساس کرنے میں مشکل پیش آتی ھے کہ مثانہ بھرا ھوا ھے اور بغیر کسی وجہ کے دن کا خیال کیے بغیر پیشاب نکل جاتا ھے۔ دن کے وقت پیشاب نکل جانے کو ڈورنال اینوریسیس کہتے ہہیں۔ یہ دونوں مختلف قسم کی صورت حال ھے۔
چھوٹے بچوں میں پیشاب کا نکل جانا ایک عام بات ھے۔ یھ پانث سال کی عمر تک کے10 بچوں میں سے ایک کو ہوتا ہے اور 15 سال کی عمر تک کے نوجوان بچون میں کم ھو کر تعداد00 1 میں2 کی رہ جاتی ھے۔ غیر ارادی طور پررات میں پیشاب کا نکلنا بچے کے بڑھنے کا ایک عام عمل ھے۔ اسے آپ پاٹی ٹریننگ کی ناکامی نہ سمجھیں۔ ھر بچہ اپنے مثانے پر کنٹرول کا مختلف پیمانہ رکھتا ھے۔ 3 سال کی عمر تک بہت کم بچے ھوتے ھیں جن کا بستر خشک رھتا ھے۔ زیادہ تر بچے 3 سے 8 سال کی عّمرسے بستر کو خشک رکھنا شروع کر دیتے ھیں۔ جب تک آپ کا بچہ اس منزل تک نہ پہنچ جائے آپ کو بڑے صبرو تحمل کا مظاھرہ کرنا ھو گا اور بچے کا حوصلہ بڑھانا ھو گا

وجوہات

والدہ کا بچپن میں بچے کو رونے پر خود پشاب نہ کروانا ۔ مثانہ بھرنے پر پشاب کا مسلسل خطا ہونا ۔

زیادہ تر آپکے بچے کا پیشاب اس وقت نکلتا ھے جب وہ گہری نیند سو رھا ھوتا ھے اوراٹھنا نہیں چاھتا۔

بچے کو سردی سے محفوظ نہ رکھنا ۔

مثانے کی کمزوری ۔

یہ چیز زیادہ تر مورثی ھوتی ھے اگر آپ بچپن میں بستر گیلا کرتے تھے تو بہت ممکن ھےکہ آپ کا بچہ بھی کرے گا

بہت کم معاملات میں ایسا ھوتا ھے کہ اسکی وجہ ٹائپ 1 ذیابیطس ھوتی ھے یا پھر پیشاب کی نالی میں نقص ھو سکتی ھے، لیکن اس سے صرف رات کو بستر ھی گیلا نہیں ھوتا اس کی علامات دن تک محیط ھوتی ھیں۔ اگر دن میں کوئی علامات ظاھر نہیں ھوتیں تو اس کا مطلب ھے کہ آپ کا بچہ بالکل تندرست ھے
جذباتی ھونا یا پھر مضطرب رھنا، نئے گھر میں شفٹ ھونا یا بہن بھائیوں کے ساتھ برتاؤ ، بچے کی خوداری کا مجروح ھونا،
اگر بچہ 6 سال کی عمر کے بعد بھی بستر گیلا کرتا ھے تو ڈاکٹر سے ملاقات کا ٹائیم لیکر اس سے ملنا ضروری ھے
اگر 6 مہینے کے خشک وقفے کے بعداچانک بچہ بستر گیلا کرنا شروع دیتا ھے تو ڈاکٹر سے ملنا ضروری ھو جاتا ھے
علاج اور ادویات
دن کے وقت پیشاب نکلنے کی وجھ اگر ڈاکٹر کو کوئی جسمانی بیماری لگتی ھے تو ڈاکٹر کوئی دوا تجویز کر سکتا ھے جیسے کہ پیشاب کی نالی میں انفیکشن کے لئے ایٹی بائیوٹکس دی جا سکتی ھیں۔
ٴرات کے وقت پیشاب کے اخراج کو روکنے کے لئے ڈاکٹر ھارمون کی دوا جسے ڈیسموپریسن کہتے ھیں تجویز کر سکتا ھے جو صرف سوتے وقت کام آتی ھے
رات کے وقت پیشاب کے اخراج میں بچے کی کیسے مد د کی جائے
آپ کے بچے کو ضرورت ھے کہ آپ اسے سمجھیں اور اسکی ھمت بڑھائیں۔اسکی خشک راتوں کی تعریف کرنا مزید کام نیہں کرے گا۔ کیونکہ بچے کو اس بات پر قائل کرنا مشکل ھوتا ھے کہ رات کو بستر گیلا کرنے میں کوئی شرم نہیں ھے جب کہ خشک راتوں کی تعریف کی جائے۔ بچے کو پیار سے یہ یاد دلایا جا سکتا ھے کہ سونے سے پہلے پیشاب کرے۔ لیکن رات کو نیند سے اٹھا کر پیشاب کرانا زیادہ تکلیف کا باعث ھو سکتا ھے۔ زیادہ تر بچے بغیر علاج کے ھی بستر پر پیشاب کرنا بند کر دیتے ھیں
اپنے غصے کو قابو میں رکھتے ہوئے بچے کی ھمت بندھائیں
آپ متواتر بچے کے بستر کی چادریں دھو دھو کر تنگ آ چکی ھوں گی لیکن بچے کو سزا دینے اور بے عزت کرنے کی بجائے اسے یقین دلائین کہ یہ ھرگز اس کی غلطی نہیں ھے اور وقت کے ساتھ سب ٹھیک ھو جائے گا
خاندان کے دوسرے لوگ بھی اس صورت حال پر پریشان ھوں گے لیکن اپنے بچے کو انکے مذاق اور چھیڑ چھاڑ کا نشانہ نہ بننے دیں
اپنے بچے کی مد د کے لئے عام فہم نکات
اپنے بچے کو آدھی رات کو باتھ روم میں جانے کی یاد دھانی کرائیں
خیال رھے کہ باتھ روم میں جانے والا راستہ صاف ھو
سونے سے پہلے باتھ روم میں جانے کے لئے بچے کی حوصلہ افزائی کریں۔ دوسری صورت میں سونے سے کچھ دیر پہلے باتھ روم میں جانے کا کہیں اور پھر سوتے وقت کہیں
میٹرس پر پلاسٹک کور ڈال دیں
صبح کے وقت جب آپ صفائی کریں تو اس میں بچے کی عزت نفس کا خیال کرتے ھوئے اسے اپنے ساتھ صفائی میں شامل کریں
کلیدی نکات
چھوٹے بچوں میں بستر کو گیلا کرنا ایک عام بات ھے
مثانے کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت ھر بجے مین مختلف ھوتی ھے
اگر بچہ 6 سال کی عمر کے بعد بھی رات یا دن میں بستر گیلا کرتا ھے تو ڈاکٹر سے ملاقات کا ٹائیم لیکر اس سے ملنا ضروری ھے
علاج میں بچے کی خود اعتمادی کی بحالی بار بار باتھ روم جانے کا یاد کرانا شامل ھے
بچے کو سزا دینے اور بے عزت کرنے سے بچے کے مثانے پر کنٹرول کرنے میں اضافہ نہیں ھو سکتا

Answered by ڈاکٹر ارشد ملک 03006397500

Post has attachment
  

نیویارک(نیوزڈیسک)ہمیں اپنے گھر وں میں کیڑے مکوڑوں، مکڑیوں کے جالے، مکھیوں اور دیگر حشرات کا سامنارہتا ہے ۔ ان سے چھٹکارے اور خاتمے کے لئے مختلف طریقے استعمال کیے جاتے ہیں جن میں سپرے وغیرہ شامل ہیں لیکن ایک انتہائی دلچسپ طریقہ دیوار اور چھت کا رنگ بھی ہوسکتا ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اگر چھتوں کا رنگ ہلکا نیلا رکھا جائے تو آپ کیڑے مکوڑوں سے بچ سکتے ہیں۔ یہ رنگ ہلکے نیلے کی طرح ہوتا ہے اور اسی طرح اگر آپ ہلکا سبز رنگ استعمال کریں تب بھی آپ کو کیڑے مکوڑوں سے نجات مل سکتی ہے۔ 
اس رنگ کے استعمال کے پیچھے دلچسپ تاریخ پنہاں ہے۔ اس رنگ کا استعمال امریکہ کی کچھ ریاستوں میں افریقہ سے لائے ہوئے غلاموں نے اپنے گھروں میں کیا۔ان کا ماننا تھا کہ روحوں کے اثرات سے بچانے کے لئے یہ رنگ انتہائی کارگر ثابت ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں نیلارنگ پانی کی نمائندگی کرتا ہے اور روحیں پانی کو نہیں پھلانگ سکتیں لہذا وہ اپنے دروازوں، کھڑکیوں اور چھتوں پر اس رنگ کا استعمال کرتے اب اس بات کو ثابت کرنا مشکل ہے کہ آیا وہ روحوں کے شر سے بچ گئے یا نہیں لیکن ایک بات سامنے آئی کہ جہاں جہاں یہ رنگ کیا جاتا وہاں مکڑیاں اور دیگر کیڑے مکوڑے اس تیزی سے نہ آتے جس طرح وہ دیگر رنگوں پر آتے ہیں۔

Post has attachment
آپ سے اپنا وزن کیوں کنٹرول نہیں ہوتا 

Post has attachment
 نیند ہے کتنی قیمتی

Post has attachment

Post has attachment
برمنگھم (نیوز ڈیسک) مردوں میں قوت باہ کا انحصار بڑی حد تک جنسی ہارمون ٹیسٹا سٹیرون پر ہوتا ہے اور 30 سال کی عمر کے بعد اس میں قدرتی طور پر کمی واقعہ ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس قدرتی کمی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی حکیم اور مشکوک ادویات فروخت کرنے والی کمپنیاں لوگوں سے لاکھوں روپے لوٹتے ہیں۔ مضر صحت ادویات پر پیسہ لٹانے اور صحت برباد کرنے سے بہتر ہے کہ آپ اس ہارمون کی افزائش کے قدرتی طریقوں کا استعمال کریں۔ 
ڈاکٹروں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ منشیات جنسی ہارمون کیلئے سخت نقصان دہ ہیں۔ شراب نوشی ٹیسٹا سٹیرون کو زنانہ ہارمون پروجیسٹرون میں بدل دیتی ہے لہٰذا اس سے مکمل پرہیز کریں۔ 
وزن میں اضافہ مردانہ جنسی ہارمون میں کمی کا باعث بنتا ہے اس لئے باقاعدگی سے ورزش کریں اور موٹاپے سے بچیں۔ 
ذہنی دباﺅ اور ڈپریشن جنسی ہارمون میں بے قاعدگی کا باعث بن کر جنسی صحت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ ذہن کو پرسکون رکھنے کیلئے مثبت طرز زندگی اپنائیں اور عبادات کی طرف متوجہ ہوں۔ 
جسم کو طاقتور اور پٹھوں کو مضبوط کرنے والی ورزشیں کریں کیونکہ اس طرح جنسی ہارمون کی افزائش ہوتی ہے۔ 
نیند کا بہت خیال رکھیں کیونکہ نیند کی کمی کے شکار افراد میں جنسی ہارمون کی واضح کمی ہو جاتی ہے۔ 
پلاسٹک کی بوتلوں اور برتنوں کا استعمال محدود کریں کیونکہ ان میں Bisphenol نامی کیمیکل پایا جاتا ہے جو مردانہ جنسی ہارمون کو کم کرتا ہے۔ پلاسٹک جتنا لچکدار ہو گا اس کے اثرات اتنے ہی منفی ہوں گے۔
مردانہ ہارمون کیلئے زنک بہت اہم جزو ہے جو کہ سمندری خوراک خصوصاً کستوری مچھلی اور شیل فش میں بکثرت پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بڑے گوشت میں بھی زنک پایا جاتا ہے اس کی روزانہ ضرورت 12 سے 15 ملی گرام ہوتی ہے۔ 
صحت بخش چکنائی کا استعمال کریں۔ اس کیلئے گری دار میوہ جات اور زیتون کا تیل فائدہ مند ہیں۔
میٹھے کا استعمال کم کریں کیونکہ اس سے انسولین میں اضافہ اور ٹیسٹا سٹیرون ہارمون میں کمی واقع ہوتی ہے۔

Post has attachment
نوجوانوں کے لئے 8 سے 9 گھنٹے کی نیند ضروری
Wait while more posts are being loaded