Profile cover photo
Profile photo
urdunewsksa
477 followers -
urdunewsksa
urdunewsksa

477 followers
About
Posts

Post has attachment
سعودی حکومت حج انتظامات پر اربوں ریال خرچ کرتی ہے اور مقامات مقدسہ پر عظیم الشان منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے ذرائع استعمال کررہی ہے ، کہاجاتاہے کہ حکومت کو بھی اربوں ریال کامنافع ہوتاہے لیکن اب حقیقت سامنے آگئی ہے اور عرب نیوز نے بتایاہے کہ ریاست حج انتظامات کو اپنی مذہبی ذمہ داری سمجھتی ہے اور حج آپریشن سے کوئی منافع بھی نہیں حاصل نہیں کرتی ۔ ’عرب نیوز ‘نے اپنے اداریئے میں لکھاہے کہ جمعرات کو ہونیوالے سانحے نے ہرایک شخص کو افسردہ کردیاہے اور مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے لیکن محفوظ اورآرام دہ حج کیلئے سعودی حکومت کی کاوشیں بھی نظراندازنہیں کی جاسکتیں ۔شہادتوں پر کوئی عذر نہیں لیکن حجاج کرام میں شعور اور نظم وضبط کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ، ماضی میں بھی حاجیوں کی طرف چلتے ہوئے بیگ اٹھائے رکھنے اور ہدایات کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے واقعات ہوچکے ہیں ۔ دنیا بھر میں جسمانی طورپر ایسے ہجوم کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں جہاں لاکھوں لوگ ایک ہی وقت اور محدود جگہ پر موجود ہوں ۔ اخبار نے لکھاکہ 164مختلف ممالک اور کلچر ز کے دو یا تین ملین مسلمانوں کو کنٹرول کرنا بہت بڑا کام ہے ، دنیا میں ایسا کسی ملک کو تجربہ نہیں جویہاں کے حکام نے خوشگوار انداز میں حج انتظامات سے سیکھاہے ، حجاج کو 10ملین کیوبک پانی چاہیے ہوتاہے ، 800سے زائد پروازیں ایک دن میں جدہ کے شاہ عبداللہ ایئرپورٹ پر اترتی ہیں ، لاکھوں سیکیورٹی اہلکار اور رضاکار کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور یہ تمام امور سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں ، بلاشبہ اس سال درجہ حرارت میں غیر معمول اضافہ بھی حکام کیلئے ایک امتحان تھا۔ ذرائع نے بتایاکہ سعودی عرب میں آنیوالے حجاج کرام کی خریداری اور ہوٹلوں میں قیام سمیت دیگر اخراجات سے سعودی معیشت کو کافی سہارا ملتاہے تاہم خود حکومت اس ضمن میں صرف کرنے کے علاوہ حجاج یا متعلقہ حکومت سے پیسے حاصل کرنے کی کوئی فہرست میں رکھتی ۔
سعودی حکومت حج انتظامات پر اربوں ریال خرچ کرتی ہے اور مقامات مقدسہ پر عظیم الشان منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے ذرائع استعمال کررہی ہے ، کہاجاتاہے کہ حکومت کو بھی اربوں ریال کامنافع ہوتاہے لیکن اب حقیقت سامنے آگئی ہے اور عرب نیوز نے بتایاہے کہ ریاست حج انتظامات کو اپنی مذہبی ذمہ داری سمجھتی ہے اور حج آپریشن سے کوئی منافع بھی نہیں حاصل نہیں کرتی ۔ ’عرب نیوز ‘نے اپنے اداریئے میں لکھاہے کہ جمعرات کو ہونیوالے سانحے نے ہرایک شخص کو افسردہ کردیاہے اور مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے لیکن محفوظ اورآرام دہ حج کیلئے سعودی حکومت کی کاوشیں بھی نظراندازنہیں کی جاسکتیں ۔شہادتوں پر کوئی عذر نہیں لیکن حجاج کرام میں شعور اور نظم وضبط کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ، ماضی میں بھی حاجیوں کی طرف چلتے ہوئے بیگ اٹھائے رکھنے اور ہدایات کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے واقعات ہوچکے ہیں ۔ دنیا بھر میں جسمانی طورپر ایسے ہجوم کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں جہاں لاکھوں لوگ ایک ہی وقت اور محدود جگہ پر موجود ہوں ۔ اخبار نے لکھاکہ 164مختلف ممالک اور کلچر ز کے دو یا تین ملین مسلمانوں کو کنٹرول کرنا بہت بڑا کام ہے ، دنیا میں ایسا کسی ملک کو تجربہ نہیں جویہاں کے حکام نے خوشگوار انداز میں حج انتظامات سے سیکھاہے ، حجاج کو 10ملین کیوبک پانی چاہیے ہوتاہے ، 800سے زائد پروازیں ایک دن میں جدہ کے شاہ عبداللہ ایئرپورٹ پر اترتی ہیں ، لاکھوں سیکیورٹی اہلکار اور رضاکار کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور یہ تمام امور سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں ، بلاشبہ اس سال درجہ حرارت میں غیر معمول اضافہ بھی حکام کیلئے ایک امتحان تھا۔ ذرائع نے بتایاکہ سعودی عرب میں آنیوالے حجاج کرام کی خریداری اور ہوٹلوں میں قیام سمیت دیگر اخراجات سے سعودی معیشت کو کافی سہارا ملتاہے تاہم خود حکومت اس ضمن میں صرف کرنے کے علاوہ حجاج یا متعلقہ حکومت سے پیسے حاصل کرنے کی کوئی فہرست میں رکھتی ۔
urdunewsarab.blogspot.com
Add a comment...

Post has attachment
سعودی حکومت کی لالچ: ڈی ڈبلیو کا تبصرہ عازمین حج کی تعداد میں کمی کرتے ہوئے سعودی حکومت حج کے دوران ہلاکت خیز بھگدڑ کا قبل از وقت ہی تدارک کر سکتی تھی۔ لیکن ریاض حکومت کے لیے حجاج کی حفاظت سے زیادہ اہم مالی فوائد ہیں۔ پہلے مسجد الحرام میں کرین کے حادثے میں سو سے زائد زائرین مارے گئے جبکہ جمعرات کو مناسک حج کے دوران منیٰ کے مقام پر شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے جو بھگدڑ مچی، اس میں سات سو زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ ایران نے ریاض حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ حج کے دوران سعودی انتظامیہ غلطی کی مرتکب ہوئی، جس کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا۔ سعودی عرب اور ایران کے مابین تاریخی اختلافات کے باوجود اس مخصوص صورتحال میں ایران کی تنقید درست معلوم ہوتی ہے، اس لیے کہ اس تازہ غفلت کے علاوہ بھی سعودی بادشاہت پر تنقید کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔ حج کے دوران بھگدڑ، 700 سے زائد عازمین ہلاک سعودی عرب میں حج کے دوران بھگدڑ مچ جانے کے نتیجے میں سات سو سے زائد عازمین ہلاک ہو چکے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق مرنے والوں میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حاجی شامل ہیں۔ (24.09.2015) حج کے دوران بھگدڑ، 450 سے زائد عازمین ہلاک ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار شامل شمس اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں کہ بیسویں صدی کے وسط تک حج سیزن سے حاصل ہونے والی آمدنی سعودی اقتصادیات میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔ بعد ازاں تیل کی دریافت کے بعد اس عرب ملک کی قسمت بدل گئی اور یوں یہ خطے کے امیر ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ یوں سعودی شاہی خاندان نے علاقائی سطح پر سیاسی اور اقتصادی معاملات میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ ریاض حکومت نے تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حج کے انتظامات بہتر بنانے پر بھی صرف کیا۔ یوں مسلمانوں کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ کی تزئین و آرائش کی گئی اور مکہ میں عازمین حج کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے تعمراتی منصوبے بھی شروع کیے گئے۔ مقصد یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان یہ بہت اہم سالانہ مذہبی فریضہ انجام دے سکیں۔ تبصرہ نگار کے مطابق مسجد الحرام میں تعمیراتی مقاصد کے لیے نصب کردہ کرین کے گرنے کا حادثہ اور بھگدڑ کا سبب دراصل سعودی حکومت کی لالچ تھی۔ ان کے مطابق ریاض حکومت کے نزدیک مذہب ایک بزنس اور پیسہ بنانے کا آلہ ہے۔ پیغمبر اسلام نے خود جس سادگی کی تعلیم دی تھی، وہ اب ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ سعودی عرب میں واقع مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کے ارد گرد فائیو اسٹار ہوٹلوں، شاپنگ مالز اور لگژری اپارٹمنٹس کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ ریاض حکومت کے لیے یہ مسلم مذہبی فریضہ ایک اقتصادی سرگرمی بن چکا ہے۔ کچھ حلقے سعودی عرب میں لینڈ مافیا کے سرگرم ہونے کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی حکومت ان مقدس مقامات تک زیادہ سے زیادہ زائرین کی رسائی ممکن بنانے کے لیے ایسے تاریخی مقامات کو بھی مسمار کر چکی ہے یا کر رہی ہے، جو مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس تصور کیے جاتے رہے ہیں۔ سعودی حکام نے منیٰ کے مقام پر اس بھگدڑ کا الزام ’بدنظم‘ افریقی حاجیوں پر عائد کیا ہے۔ ریاض حکومت کے مطابق ان حاجیوں نے ہدایات پر عمل نہ کیا، جس کی وجہ سے یہ حادثہ رونما ہوا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس ساںحے سے بچا جا سکتا تھا، اگر حج کے لیے اتنے زیادہ مسلمانوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت نہ دی جاتی۔ اگر حاجیوں کی تعداد کچھ کم ہوتی تو انتظامات میں بھی آسانی پیدا ہو جاتی۔ اس سال دو ملین سے زائد مسلمان حج کے لیے سعودی عرب گئے اور مستقبل میں یہ تعداد مزید بڑھتی جائے گی ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار شامل شمس ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار شامل شمس کے خیال میں سعودی حکومت کو زیادہ رقوم عازمین حج کے تحفظ پر خرچ کرنا چاہییں نہ کہ مکہ میں غیر ضروری تعمیراتی کاموں پر۔ وہ لکھتے ہیں کہ ریاض حکومت ان تعمیراتی کاموں کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکے دیتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو حج سیزن کے دوران سعودی عرب آنے کی ترغیب دی جا سکے۔ تبصرہ نگار مزید لکھتے ہیں کہ عازمین حج کی تعداد میں آسانی سے کمی کی جا سکتی ہے، سعودی حکومت کو اپنی لالچ ختم کر دینی چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو مستقبل میں ایسے مزید حادثات بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ سعودی ریاست میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی برادری عمومی طور پر خاموش ہی رہتی ہے تاہم حج کا معاملہ مذہبی حوالوں کے باعث کچھ زیادہ ہی حساس ہے۔ اب اس بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔
سعودی حکومت کی لالچ: ڈی ڈبلیو کا تبصرہ عازمین حج کی تعداد میں کمی کرتے ہوئے سعودی حکومت حج کے دوران ہلاکت خیز بھگدڑ کا قبل از وقت ہی تدارک کر سکتی تھی۔ لیکن ریاض حکومت کے لیے حجاج کی حفاظت سے زیادہ اہم مالی فوائد ہیں۔ پہلے مسجد الحرام میں کرین کے حادثے میں سو سے زائد زائرین مارے گئے جبکہ جمعرات کو مناسک حج کے دوران منیٰ کے مقام پر شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے جو بھگدڑ مچی، اس میں سات سو زائد افراد لقمہ اجل بن گئے۔ ایران نے ریاض حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ حج کے دوران سعودی انتظامیہ غلطی کی مرتکب ہوئی، جس کی وجہ سے یہ سانحہ پیش آیا۔ سعودی عرب اور ایران کے مابین تاریخی اختلافات کے باوجود اس مخصوص صورتحال میں ایران کی تنقید درست معلوم ہوتی ہے، اس لیے کہ اس تازہ غفلت کے علاوہ بھی سعودی بادشاہت پر تنقید کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔ حج کے دوران بھگدڑ، 700 سے زائد عازمین ہلاک سعودی عرب میں حج کے دوران بھگدڑ مچ جانے کے نتیجے میں سات سو سے زائد عازمین ہلاک ہو چکے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق مرنے والوں میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے حاجی شامل ہیں۔ (24.09.2015) حج کے دوران بھگدڑ، 450 سے زائد عازمین ہلاک ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار شامل شمس اپنے تبصرے میں لکھتے ہیں کہ بیسویں صدی کے وسط تک حج سیزن سے حاصل ہونے والی آمدنی سعودی اقتصادیات میں اہم کردار ادا کرتی تھی۔ بعد ازاں تیل کی دریافت کے بعد اس عرب ملک کی قسمت بدل گئی اور یوں یہ خطے کے امیر ترین ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا۔ یوں سعودی شاہی خاندان نے علاقائی سطح پر سیاسی اور اقتصادی معاملات میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ ریاض حکومت نے تیل کی برآمد سے حاصل ہونے والی آمدنی کو حج کے انتظامات بہتر بنانے پر بھی صرف کیا۔ یوں مسلمانوں کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ کی تزئین و آرائش کی گئی اور مکہ میں عازمین حج کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے تعمراتی منصوبے بھی شروع کیے گئے۔ مقصد یہ تھا کہ زیادہ سے زیادہ مسلمان یہ بہت اہم سالانہ مذہبی فریضہ انجام دے سکیں۔ تبصرہ نگار کے مطابق مسجد الحرام میں تعمیراتی مقاصد کے لیے نصب کردہ کرین کے گرنے کا حادثہ اور بھگدڑ کا سبب دراصل سعودی حکومت کی لالچ تھی۔ ان کے مطابق ریاض حکومت کے نزدیک مذہب ایک بزنس اور پیسہ بنانے کا آلہ ہے۔ پیغمبر اسلام نے خود جس سادگی کی تعلیم دی تھی، وہ اب ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ سعودی عرب میں واقع مسلمانوں کے مقدس ترین مقامات کے ارد گرد فائیو اسٹار ہوٹلوں، شاپنگ مالز اور لگژری اپارٹمنٹس کو دیکھتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ ریاض حکومت کے لیے یہ مسلم مذہبی فریضہ ایک اقتصادی سرگرمی بن چکا ہے۔ کچھ حلقے سعودی عرب میں لینڈ مافیا کے سرگرم ہونے کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ دوسری طرف سعودی حکومت ان مقدس مقامات تک زیادہ سے زیادہ زائرین کی رسائی ممکن بنانے کے لیے ایسے تاریخی مقامات کو بھی مسمار کر چکی ہے یا کر رہی ہے، جو مسلمانوں کے لیے انتہائی مقدس تصور کیے جاتے رہے ہیں۔ سعودی حکام نے منیٰ کے مقام پر اس بھگدڑ کا الزام ’بدنظم‘ افریقی حاجیوں پر عائد کیا ہے۔ ریاض حکومت کے مطابق ان حاجیوں نے ہدایات پر عمل نہ کیا، جس کی وجہ سے یہ حادثہ رونما ہوا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس ساںحے سے بچا جا سکتا تھا، اگر حج کے لیے اتنے زیادہ مسلمانوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت نہ دی جاتی۔ اگر حاجیوں کی تعداد کچھ کم ہوتی تو انتظامات میں بھی آسانی پیدا ہو جاتی۔ اس سال دو ملین سے زائد مسلمان حج کے لیے سعودی عرب گئے اور مستقبل میں یہ تعداد مزید بڑھتی جائے گی ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار شامل شمس ڈی ڈبلیو کے تبصرہ نگار شامل شمس کے خیال میں سعودی حکومت کو زیادہ رقوم عازمین حج کے تحفظ پر خرچ کرنا چاہییں نہ کہ مکہ میں غیر ضروری تعمیراتی کاموں پر۔ وہ لکھتے ہیں کہ ریاض حکومت ان تعمیراتی کاموں کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کو ٹھیکے دیتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو حج سیزن کے دوران سعودی عرب آنے کی ترغیب دی جا سکے۔ تبصرہ نگار مزید لکھتے ہیں کہ عازمین حج کی تعداد میں آسانی سے کمی کی جا سکتی ہے، سعودی حکومت کو اپنی لالچ ختم کر دینی چاہیے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو مستقبل میں ایسے مزید حادثات بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ سعودی ریاست میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی برادری عمومی طور پر خاموش ہی رہتی ہے تاہم حج کا معاملہ مذہبی حوالوں کے باعث کچھ زیادہ ہی حساس ہے۔ اب اس بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت پہلے سے زیادہ ہے۔
urdunewsarab.blogspot.com
Add a comment...

Post has attachment
حج کے دوران بھگدڑ مچنے سے مرنے والوں کی شناخت ہونا شروع ہو گئی ہے ایران:131 بھگدڑ کے باعث مرنے والوں میں اب تک سب سے زیادہ تعداد ایرانی باشندوں کی سامنے آئی ہے، اور اس حادثے میں ایران کے 131 حاجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ایرانی کے رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب پر سکیورٹی کے مناسب اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ بھارت: 14 اطلاعات کے مطابق بھارت کے 14 شہری اس حادثے میں مارے گئے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ٹوئٹر کے ذریعے بتایا کہ جدہ میں ہندوستانی سفارت کار نے حادثے میں 14 ہندوستانیوں کے مارے جانے اور 13 کے زخمی ہونے کی خبر دی ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اب سعودی حکام ان اعداد و شمار کی تصدیق کریں گے۔ پاکستان: 7 پاکستان کے مذہبی امور کی وزرات کی ویب سائٹ پر منیٰ حادثے میں کم سے کم سات پاکستانیوں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر مرنے والوں کی تفصیلات مع پاسپورٹ نمبر شائع کر دی گئی ہیں۔ ویب سائٹ پر شائع تفصیلات کے مطابق چھ زخمیوں کو طبی امداد کے بعد کیپموں میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ پر شائع فہرست کے مطابق کراچی کے حفصہ شعیب اور زرین نسیم، میرپور کی سیدہ نرجس شہناز ، دالبدین کے بی بی زینب، نور محمد، محمد اسلم اور بی بی مدینہ شامل ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم نے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کوہدایت کی ہے کہ وہ زخمیوں کو تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہسپتالوں کا دورہ کریں۔ ترکی: 4 انڈونیشیا: 3 کینیا: 3 مرنے والوں میں بعض حاجیوں کا تعلق نائجر اور چاڈ سے بھی ہے تاہم ان کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
حج کے دوران بھگدڑ مچنے سے مرنے والوں کی شناخت ہونا شروع ہو گئی ہے ایران:131 بھگدڑ کے باعث مرنے والوں میں اب تک سب سے زیادہ تعداد ایرانی باشندوں کی سامنے آئی ہے، اور اس حادثے میں ایران کے 131 حاجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ ایرانی کے رہبرِ اعلیٰ خامنہ ای نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سعودی عرب پر سکیورٹی کے مناسب اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ بھارت: 14 اطلاعات کے مطابق بھارت کے 14 شہری اس حادثے میں مارے گئے ہیں۔ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے ٹوئٹر کے ذریعے بتایا کہ جدہ میں ہندوستانی سفارت کار نے حادثے میں 14 ہندوستانیوں کے مارے جانے اور 13 کے زخمی ہونے کی خبر دی ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اب سعودی حکام ان اعداد و شمار کی تصدیق کریں گے۔ پاکستان: 7 پاکستان کے مذہبی امور کی وزرات کی ویب سائٹ پر منیٰ حادثے میں کم سے کم سات پاکستانیوں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔ ویب سائٹ پر مرنے والوں کی تفصیلات مع پاسپورٹ نمبر شائع کر دی گئی ہیں۔ ویب سائٹ پر شائع تفصیلات کے مطابق چھ زخمیوں کو طبی امداد کے بعد کیپموں میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔ ویب سائٹ پر شائع فہرست کے مطابق کراچی کے حفصہ شعیب اور زرین نسیم، میرپور کی سیدہ نرجس شہناز ، دالبدین کے بی بی زینب، نور محمد، محمد اسلم اور بی بی مدینہ شامل ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم نے سعودی عرب میں پاکستانی سفیر کوہدایت کی ہے کہ وہ زخمیوں کو تمام ممکنہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ہسپتالوں کا دورہ کریں۔ ترکی: 4 انڈونیشیا: 3 کینیا: 3 مرنے والوں میں بعض حاجیوں کا تعلق نائجر اور چاڈ سے بھی ہے تاہم ان کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
urdunewsarab.blogspot.com
Add a comment...

Post has attachment
سعودی فرمانرواں شاہ سلمان حج انتظامات کے ازسرنو جائزے کا حکم دیا ہے۔ خادم الحرمین شریفین نے حج کے موقع پر خدمات سرانجام دینے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی ہائی کمان کے ایک اجلاس کی صدارت کے بعد اپنے خطاب میں حادثے اور اس میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حج انتظامات اور حاجیوں کی نقل و حمل کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے گا۔ سعودی ولی عہد اور سعودی حج کمیٹی کے سربراہ شہزادہ محمد بن نائف نے جمعرات کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جس کی رپورٹ سعودی فرمانرواں کو جمع کرائی جائے گی جس کی روشنی میں وہ مزید اقدامات کی ہدایات جاری کریں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز رمی کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 717 افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہو گئے تھے جن میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔ جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ عرب نیوز کے مطابق حادثہ مکتب نمبر93 کے قریب پیش آیا جہاں زیادہ تر الجزائر کے شہری مقیم تھے۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دو شاہراؤں کے سنگم پر پیش آیا جہاں دو اطراف سے آنے والے زائرین کا آپس میں ٹکراؤ ہوا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے کہا کہ شدید گرمی اور تھکاوٹ بھی حادثے کی وجہ بنی جو گزشتہ دو دہائیوں میں دوران حج پیش آنے والا سب سے بڑا حادثہ ہے۔ منصور الترکی نے صحافیوں کو بتایا کہ بھگدڑ کی جگہ گذشتہ برسوں کی نسبت حاجیوں کی غیر معمولی تعداد جمع ہو گئی تھی تاحال تو اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی لیکن تحقیقات میں اس بات کا تعین ہو سکے گا کہ اتنی بڑی تعداد میں حجاج کیونکر حادثہ کی جگہ پہنچے۔ سعودی وزیر صحت خالد الفالح کے مطابق سانحہ حجاج کے ایک گروپ بدنظمی کے باعث پیش آیا اور اگر وہ ہدایات پر عمل کرتے تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ ان کے مطابق بہت سے عازمین حج ٹائم ٹیبل کا احترام نہیں کرتے جو کہ حکام کی جانب سے دیا جاتا ہے اور اس طرح کے واقعات کی وجہ ایسے ہی عوامل بنتے ہیں۔ خیال رہے کہ رواں سال حج کے دوران یہ دوسرا بڑا سانحہ ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتیں پیش آئی ہیں۔ اس سے قبل رواں ماہ گیارہ ستمبر کو مسجد الحرام میں کرین گرنے کے نتیجے میں حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں گیارہ پاکستانیوں سمیت کم از کم 107 افراد جاں بحق جبکہ 238 زخمی ہوگئے تھے۔ ادھر ایران نے منیٰ حادثے میں اپنے 130 سے زائد حاجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے نامناسب انتظامات پر ہلاکت کا ذمے دار سعودی حکومت کو قرار دیا۔ ایرانی حج آرگنائزیشن کے سربراہ سعید اوہادی نے کہا کہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر رمی کے قریب واقع دو راستے بند کر دیے گئے جس کی وجہ سے یہ حادثہ رونما ہوا۔ انہوں نے کہا کہ راستے بند ہونے کی وجہ سے رمی کو جانے والی صرف تین گزرگاہیں باقی رہ گئی تھیں جس کے سبب بعدازاں بھگدڑ مچی۔ ادھر اس ناخوشگوار واقعے پر وزیر اعظم نواز شریف، صدر ممنون حسین، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون، امریکی صدر بارک اوباما سمیت دنیا کے بھر کے رہنماؤں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ نوازشریف نے پاکستانی سفیر کو اسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت کی ہدایت کی جبکہ منیٰ حادثے میں شہید ہونے والے حجاج کے ورثا سے اظہار تعزیت بھی کیا۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور ہندوستانی وزیر اعظم نریندرا مودی نے ٹوئٹر کے ذریعے واقعے پر افسوس کا اظہارکیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری بانکی مون نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ اس لیے بھی زیادہ افسوسناک ہے کہ کیونکہ یہ عیدالضحیٰ کے پہلے دن پیش آیا۔ نیویارک میں موجود پوپ فرانسس نے بھی واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں واقعے پر لواحقین سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا منیٰ میں بھگدڑ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے زائرین کے اہلخانہ سے اپنی گہری دلی تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جہاں مسلمان دنیا بھر میں عید منا رہے ہیں وہیں ہم مصیبت کی اس گھڑی میں آپ کے ساتھ ہیں۔
سعودی فرمانرواں شاہ سلمان حج انتظامات کے ازسرنو جائزے کا حکم دیا ہے۔ خادم الحرمین شریفین نے حج کے موقع پر خدمات سرانجام دینے والے سیکیورٹی اہلکاروں کی ہائی کمان کے ایک اجلاس کی صدارت کے بعد اپنے خطاب میں حادثے اور اس میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حج انتظامات اور حاجیوں کی نقل و حمل کے طریقہ کار کو بہتر بنایا جائے گا۔ سعودی ولی عہد اور سعودی حج کمیٹی کے سربراہ شہزادہ محمد بن نائف نے جمعرات کو ہونے والے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جس کی رپورٹ سعودی فرمانرواں کو جمع کرائی جائے گی جس کی روشنی میں وہ مزید اقدامات کی ہدایات جاری کریں گے۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز رمی کے دوران بھگدڑ مچنے سے کم از کم 717 افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہو گئے تھے جن میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔ جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا بھی خدشہ ہے۔ عرب نیوز کے مطابق حادثہ مکتب نمبر93 کے قریب پیش آیا جہاں زیادہ تر الجزائر کے شہری مقیم تھے۔ سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دو شاہراؤں کے سنگم پر پیش آیا جہاں دو اطراف سے آنے والے زائرین کا آپس میں ٹکراؤ ہوا۔ وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے کہا کہ شدید گرمی اور تھکاوٹ بھی حادثے کی وجہ بنی جو گزشتہ دو دہائیوں میں دوران حج پیش آنے والا سب سے بڑا حادثہ ہے۔ منصور الترکی نے صحافیوں کو بتایا کہ بھگدڑ کی جگہ گذشتہ برسوں کی نسبت حاجیوں کی غیر معمولی تعداد جمع ہو گئی تھی تاحال تو اس کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی لیکن تحقیقات میں اس بات کا تعین ہو سکے گا کہ اتنی بڑی تعداد میں حجاج کیونکر حادثہ کی جگہ پہنچے۔ سعودی وزیر صحت خالد الفالح کے مطابق سانحہ حجاج کے ایک گروپ بدنظمی کے باعث پیش آیا اور اگر وہ ہدایات پر عمل کرتے تو یہ واقعہ پیش نہ آتا۔ ان کے مطابق بہت سے عازمین حج ٹائم ٹیبل کا احترام نہیں کرتے جو کہ حکام کی جانب سے دیا جاتا ہے اور اس طرح کے واقعات کی وجہ ایسے ہی عوامل بنتے ہیں۔ خیال رہے کہ رواں سال حج کے دوران یہ دوسرا بڑا سانحہ ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتیں پیش آئی ہیں۔ اس سے قبل رواں ماہ گیارہ ستمبر کو مسجد الحرام میں کرین گرنے کے نتیجے میں حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں گیارہ پاکستانیوں سمیت کم از کم 107 افراد جاں بحق جبکہ 238 زخمی ہوگئے تھے۔ ادھر ایران نے منیٰ حادثے میں اپنے 130 سے زائد حاجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کرتے ہوئے نامناسب انتظامات پر ہلاکت کا ذمے دار سعودی حکومت کو قرار دیا۔ ایرانی حج آرگنائزیشن کے سربراہ سعید اوہادی نے کہا کہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر رمی کے قریب واقع دو راستے بند کر دیے گئے جس کی وجہ سے یہ حادثہ رونما ہوا۔ انہوں نے کہا کہ راستے بند ہونے کی وجہ سے رمی کو جانے والی صرف تین گزرگاہیں باقی رہ گئی تھیں جس کے سبب بعدازاں بھگدڑ مچی۔ ادھر اس ناخوشگوار واقعے پر وزیر اعظم نواز شریف، صدر ممنون حسین، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون، امریکی صدر بارک اوباما سمیت دنیا کے بھر کے رہنماؤں نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ نوازشریف نے پاکستانی سفیر کو اسپتالوں میں زخمیوں کی عیادت کی ہدایت کی جبکہ منیٰ حادثے میں شہید ہونے والے حجاج کے ورثا سے اظہار تعزیت بھی کیا۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور ہندوستانی وزیر اعظم نریندرا مودی نے ٹوئٹر کے ذریعے واقعے پر افسوس کا اظہارکیا۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری بانکی مون نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ اس لیے بھی زیادہ افسوسناک ہے کہ کیونکہ یہ عیدالضحیٰ کے پہلے دن پیش آیا۔ نیویارک میں موجود پوپ فرانسس نے بھی واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں واقعے پر لواحقین سے گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔ امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ امریکا منیٰ میں بھگدڑ میں ہلاک اور زخمی ہونے والے زائرین کے اہلخانہ سے اپنی گہری دلی تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جہاں مسلمان دنیا بھر میں عید منا رہے ہیں وہیں ہم مصیبت کی اس گھڑی میں آپ کے ساتھ ہیں۔
urdunewsarab.blogspot.com
Add a comment...

Post has attachment
منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچنے سے شہادتوں کی تعداد 310 تک پہنچ گئی ہے جن میں زاہد گل نامی پاکستانی بھی شامل ہےاور 450 افراد کے زخمی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کیا جارہاہے ،مقامی ذرائع کا کہناہےزیادہ تر حاجیوں کی شہادت دم گھٹنے کے باعث ہو ئی ہےاور شہید ہونے والوں میں زیادہ تعداد ضعیف العمر افراد کی ہے ۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق رمی جمرات کے دوران مکتب نمبر 93 کے قریب منی کی گلی نمبر 204 میں بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران اچانک بھگدڑ مچ گئی جس کے باعث 310حاجیوں کے شہید ہونے کی جبکہ 450حاجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں،مکتب نمبر 93 میں زیادہ تر الجزائر سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام مقیم ہیں۔ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو منیٰ جنرل ہسپتال پہنچانے کاسلسلہ شروع کر دیاہےجبکہ زخمیوں کو موبائل ہسپتالوں میں طبی امداد بھی دی جارہی ہے ۔ڈی جی حج ابو احمد عاکف کا کہناہے کہ واقعہ میں زخمی ہونے والی پاکستانیوں کو طبی امداد دی جارہی ہے،انہوں نے کہا کہ کسی بھی پاکستانی کے شہید ہونے کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ ذرائع کاکہناہے کہ بھگدڑ کے نتیجے میں مزید حاجیوں کے شہید ہونے کا خدشہ ہے جبکہ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت انتہائی تشویشنا ک بتائی جارہی ہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ شہید ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت سامنے آ گئی ہے جس کا نام زاہد گل ہے اور اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔مقامی نیوز چینلز کا کہناہے کہ شہادتوں کی تعداد میں اضافہ دم گھٹنے کے باعث ہواہے، منی میں اس وقت درجہ حرارت 41 سنٹی گریڈ ہے جس کے باعث گرمی کی شدت بھی زیادہ ہے۔مقامی ذرائع کاکہناہے کہ ریسکیو آپریشن میں 220 ایمبولینسز اور 4ہزار ریسکیو اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے ر ہے ہیں ۔ واضح رہے کہ منٰی کا مقام مکہ سے باہر پانچ کلو میٹر دور واقعہ ہے جہاں حاجی مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔‎حج کے دوران یہ دوسر بڑا ناخوشگوار واقعہ ہے اس سے قبل12ستمبرکو کرین حادثے میں 109عازمین شہید ہوئے تھے جبکہ متعدد حاجی زخمی ہوئے تھے اور آج دوسرے حادثے میں بھگدڑ مچنے سے 310 حجاج شہید ہو گئے ہیں۔
منیٰ میں شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران بھگدڑ مچنے سے شہادتوں کی تعداد 310 تک پہنچ گئی ہے جن میں زاہد گل نامی پاکستانی بھی شامل ہےاور 450 افراد کے زخمی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کیا جارہاہے ،مقامی ذرائع کا کہناہےزیادہ تر حاجیوں کی شہادت دم گھٹنے کے باعث ہو ئی ہےاور شہید ہونے والوں میں زیادہ تعداد ضعیف العمر افراد کی ہے ۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق رمی جمرات کے دوران مکتب نمبر 93 کے قریب منی کی گلی نمبر 204 میں بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کے دوران اچانک بھگدڑ مچ گئی جس کے باعث 310حاجیوں کے شہید ہونے کی جبکہ 450حاجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں،مکتب نمبر 93 میں زیادہ تر الجزائر سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام مقیم ہیں۔ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو منیٰ جنرل ہسپتال پہنچانے کاسلسلہ شروع کر دیاہےجبکہ زخمیوں کو موبائل ہسپتالوں میں طبی امداد بھی دی جارہی ہے ۔ڈی جی حج ابو احمد عاکف کا کہناہے کہ واقعہ میں زخمی ہونے والی پاکستانیوں کو طبی امداد دی جارہی ہے،انہوں نے کہا کہ کسی بھی پاکستانی کے شہید ہونے کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ ذرائع کاکہناہے کہ بھگدڑ کے نتیجے میں مزید حاجیوں کے شہید ہونے کا خدشہ ہے جبکہ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت انتہائی تشویشنا ک بتائی جارہی ہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ شہید ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت سامنے آ گئی ہے جس کا نام زاہد گل ہے اور اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔مقامی نیوز چینلز کا کہناہے کہ شہادتوں کی تعداد میں اضافہ دم گھٹنے کے باعث ہواہے، منی میں اس وقت درجہ حرارت 41 سنٹی گریڈ ہے جس کے باعث گرمی کی شدت بھی زیادہ ہے۔مقامی ذرائع کاکہناہے کہ ریسکیو آپریشن میں 220 ایمبولینسز اور 4ہزار ریسکیو اہلکار امدادی کارروائیوں میں حصہ لے ر ہے ہیں ۔ واضح رہے کہ منٰی کا مقام مکہ سے باہر پانچ کلو میٹر دور واقعہ ہے جہاں حاجی مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔‎حج کے دوران یہ دوسر بڑا ناخوشگوار واقعہ ہے اس سے قبل12ستمبرکو کرین حادثے میں 109عازمین شہید ہوئے تھے جبکہ متعدد حاجی زخمی ہوئے تھے اور آج دوسرے حادثے میں بھگدڑ مچنے سے 310 حجاج شہید ہو گئے ہیں۔
urdunewsarab.blogspot.com
Add a comment...

Post has attachment
پاکستان علما کونسل کے چیرمین مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے لاکھوں حاجی بڑے شیطان جمرات العقبہ کو کنکریاں مار رہے تھے کہ بھگڈر مچنے سے متعدد حجاج کرام شہید جب کہ سیکڑوں زخمی ہو گئے۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق رمی جمرات کے دوران بھگڈر مچنے سے 150 حاجی شہید جب کہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔مکتب نمبر 93 کے قریب پیش آیا جہاں زیادہ تر الجزائر کے شہری موجود تھے۔ سعودی سول ڈیفنس کے حکام کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والوں کو منیٰ کے قریبی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ اسپتالوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ سعودی حکومت اور رضا کاروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں تا کہ جانی نقصان کم سے کم ہو۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ حج پر موجود پاکستانیوں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل مسجد الحرام میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث کرین گرنے سے 100 سے زائد عازمین شہید جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے
پاکستان علما کونسل کے چیرمین مولانا طاہر اشرفی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر سے لاکھوں حاجی بڑے شیطان جمرات العقبہ کو کنکریاں مار رہے تھے کہ بھگڈر مچنے سے متعدد حجاج کرام شہید جب کہ سیکڑوں زخمی ہو گئے۔ سعودی سول ڈیفنس کے مطابق رمی جمرات کے دوران بھگڈر مچنے سے 150 حاجی شہید جب کہ 400 سے زائد زخمی ہوئے۔مکتب نمبر 93 کے قریب پیش آیا جہاں زیادہ تر الجزائر کے شہری موجود تھے۔ سعودی سول ڈیفنس کے حکام کے مطابق حادثے میں زخمی ہونے والوں کو منیٰ کے قریبی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا ہے جب کہ اسپتالوں میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ سعودی حکومت اور رضا کاروں کی جانب سے امدادی کارروائیاں بھی جاری ہیں تا کہ جانی نقصان کم سے کم ہو۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی سفارتخانے کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ حج پر موجود پاکستانیوں سے متعلق معلومات اکٹھی کی جائیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل مسجد الحرام میں طوفانی بارشوں اور تیز ہواؤں کے باعث کرین گرنے سے 100 سے زائد عازمین شہید جب کہ درجنوں زخمی ہو گئے تھے
urdunewsarab.blogspot.com
Add a comment...

Post has attachment
ے کی اطلاعات ہیں جس میں ایک پاکستانی زاہد گل بھی شامل ہے۔ تفصیلات کے مطابق رمی جمرات کے دوران مکتب نمبر 93 کے قریب اچانک بھگدڑ مچ گئی جس کے باعث 150حاجیوں کے شہید ہونے کی جبکہ 400حاجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہیں،مکتب نمبر 93 میں زیادہ تر الجزائر سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام مقیم ہیں۔ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو منیٰ جنرل ہسپتال پہنچانے کاسلسلہ شروع کر دیاہےجبکہ زخمیوں کو موبائل ہسپتالوں میں طبی امداد بھی جارہی ہے ۔ ذرائع کاکہناہے کہ بھگدڑ کے نتیجے میں مزید حاجیوں کے شہید ہونے کا خدشہ ہے جبکہ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت انتہائی تشویشنا ک بتائی جارہی ہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ شہید ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت سامنے آ گئی ہے جس کا نام زاہد گل ہے اور اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق منی میں اس وقت درجہ حرارت 41 سنٹی گریڈ ہے جس کے باعث گرمی کی شدت بھی زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ منٰی کا مقام مکہ سے باہر پانچ کلو میٹر دور واقعہ ہے جہاں حاجی مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔‎حج کے دوران یہ دوسر بڑا ناخوشگوار واقعہ ہے اس سے قبل کرین حادثہ میں 109عازمین شہید ہوئے تھے جبکہ متعدد حاجج زخمی ہوئے تھے اور آج دوسرے حادثے میں بھگدڑ مچنے سے 100 حجاج شہید ہو گئے ہیں۔
ے کی اطلاعات ہیں جس میں ایک پاکستانی زاہد گل بھی شامل ہے۔ تفصیلات کے مطابق رمی جمرات کے دوران مکتب نمبر 93 کے قریب اچانک بھگدڑ مچ گئی جس کے باعث 150حاجیوں کے شہید ہونے کی جبکہ 400حاجیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہیں،مکتب نمبر 93 میں زیادہ تر الجزائر سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام مقیم ہیں۔ریسکیو ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو منیٰ جنرل ہسپتال پہنچانے کاسلسلہ شروع کر دیاہےجبکہ زخمیوں کو موبائل ہسپتالوں میں طبی امداد بھی جارہی ہے ۔ ذرائع کاکہناہے کہ بھگدڑ کے نتیجے میں مزید حاجیوں کے شہید ہونے کا خدشہ ہے جبکہ زخمیوں میں کئی افراد کی حالت انتہائی تشویشنا ک بتائی جارہی ہے ۔ذرائع کاکہناہے کہ شہید ہونے والوں میں سے ایک کی شناخت سامنے آ گئی ہے جس کا نام زاہد گل ہے اور اس کا تعلق پاکستان سے ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق منی میں اس وقت درجہ حرارت 41 سنٹی گریڈ ہے جس کے باعث گرمی کی شدت بھی زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ منٰی کا مقام مکہ سے باہر پانچ کلو میٹر دور واقعہ ہے جہاں حاجی مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔‎حج کے دوران یہ دوسر بڑا ناخوشگوار واقعہ ہے اس سے قبل کرین حادثہ میں 109عازمین شہید ہوئے تھے جبکہ متعدد حاجج زخمی ہوئے تھے اور آج دوسرے حادثے میں بھگدڑ مچنے سے 100 حجاج شہید ہو گئے ہیں۔
urdunewsarab.blogspot.com
Add a comment...

Post has attachment
سعودی حکومت نے حرم شریف کرین حادثے کی ابتدائی تحقیقات کے بعد گرنے والے کرین کی تعمیراتی کمپنی پر پابندی عائد کردی۔ عرب ٹی وی کے مطابق حرمین شریف میں پیش آنے والے افسوس ناک حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق حادثہ مجرمانہ سازش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ کرین کی غلط پوزیشن کے باعث پیش آیا۔ سعودی شاہی دیوان کے مطابق تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والی کرین بن لادن تعمیراتی کمپنی کی ملکیت تھی جس پر پابندی لگا دی گئی ہے جب کہ کمپنی کےارکان اور عہدیداروں پر ملک سے باہر جانے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں قبل حرم شریف میں کرین گرنے کے نتیجے میں 107 عازمین حج شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جب کہ شہید ہونے والوں میں 11 پاکستانی بھی شامل ہیں
سعودی حکومت نے حرم شریف کرین حادثے کی ابتدائی تحقیقات کے بعد گرنے والے کرین کی تعمیراتی کمپنی پر پابندی عائد کردی۔ عرب ٹی وی کے مطابق حرمین شریف میں پیش آنے والے افسوس ناک حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق حادثہ مجرمانہ سازش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ کرین کی غلط پوزیشن کے باعث پیش آیا۔ سعودی شاہی دیوان کے مطابق تعمیراتی کام میں استعمال ہونے والی کرین بن لادن تعمیراتی کمپنی کی ملکیت تھی جس پر پابندی لگا دی گئی ہے جب کہ کمپنی کےارکان اور عہدیداروں پر ملک سے باہر جانے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں قبل حرم شریف میں کرین گرنے کے نتیجے میں 107 عازمین حج شہید اور 200 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جب کہ شہید ہونے والوں میں 11 پاکستانی بھی شامل ہیں
urdunewsarab.blogspot.com
Add a comment...

Post has attachment
کچھ عرصہ قبل سعودی شہزادے ولید بن طلال کی طرف سے اپنی ساری دولت عطیہ کیے جانے کی خبر نے دنیا کو متاثر کیا تھا، اب ایک سعودی بزنس مین نے اسلام کی خدمت کے لیے 1کروڑ ڈالر (تقریباً 1ارب روپے)امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں واقع ییل لاء سکول (Yale Law School)کو عطیہ کرنے کا اعلان کیاہے۔ عطیے کی اس رقم سے کالج میں اسلامی قوانین پر ریسرچ کے لیے ایک سنٹر قائم کیا جائے گا جو امریکہ میں اسلامی قوانین کی ریسرچ کا سب سے بڑا ریسرچ سنٹر ہو گا۔ بزنس مین عبداللہ کامیل نے ییل یونیورسٹی کے وفد سے ملاقات کے بعد رقم عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔یونیورسٹی کے وفد میں شامل پروفیسر انتھونی کرون مین نے اس موقع پر کہا کہ عصر حاضر میں پوری مسلم دنیا کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان کا براہ راست تعلق سیاسی حالات و واقعات سے ہے۔ ہر وقت بدلتے سیاسی حالات میں مسلم دنیا کے عوام اسلامی قوانین کی تاریخ اور روایت سے پوری طرف واقف ہی نہیں ہوتے۔دو عشرے قبل ہارورڈ یونیورسٹی میں اسلامک لیگل سٹڈیز پروگرام شروع کیا جا چکا ہے، اس پروگرام کے لیے بھی اس وقت کے سعودی فرماں روا نے مالی مدد فراہم کی تھی۔
کچھ عرصہ قبل سعودی شہزادے ولید بن طلال کی طرف سے اپنی ساری دولت عطیہ کیے جانے کی خبر نے دنیا کو متاثر کیا تھا، اب ایک سعودی بزنس مین نے اسلام کی خدمت کے لیے 1کروڑ ڈالر (تقریباً 1ارب روپے)امریکی ریاست کنیکٹیکٹ میں واقع ییل لاء سکول (Yale Law School)کو عطیہ کرنے کا اعلان کیاہے۔ عطیے کی اس رقم سے کالج میں اسلامی قوانین پر ریسرچ کے لیے ایک سنٹر قائم کیا جائے گا جو امریکہ میں اسلامی قوانین کی ریسرچ کا سب سے بڑا ریسرچ سنٹر ہو گا۔ بزنس مین عبداللہ کامیل نے ییل یونیورسٹی کے وفد سے ملاقات کے بعد رقم عطیہ کرنے کا اعلان کیا۔یونیورسٹی کے وفد میں شامل پروفیسر انتھونی کرون مین نے اس موقع پر کہا کہ عصر حاضر میں پوری مسلم دنیا کو جن چیلنجز کا سامنا ہے ان کا براہ راست تعلق سیاسی حالات و واقعات سے ہے۔ ہر وقت بدلتے سیاسی حالات میں مسلم دنیا کے عوام اسلامی قوانین کی تاریخ اور روایت سے پوری طرف واقف ہی نہیں ہوتے۔دو عشرے قبل ہارورڈ یونیورسٹی میں اسلامک لیگل سٹڈیز پروگرام شروع کیا جا چکا ہے، اس پروگرام کے لیے بھی اس وقت کے سعودی فرماں روا نے مالی مدد فراہم کی تھی۔
urdunewsarab.blogspot.com
Add a comment...

Post has attachment
عرب ممالک میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی خون پسینے کی کمائی کا ایک قابل ذکر حصہ کفیل کی جیب میں چلا جاتا ہے اور اسے یہ مال اکٹھا کرنے کیلئے ہاتھ بھی نہیں ہلانا پڑتا، تو کیا اسلامی تعلیمات کے مطابق ایسی کمائی جائز ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ایک عرصے سے لوگوں کے ذہنوں میں گردش کررہا تھا، اور دبے دبے الفاظ میں اس پر بات بھی ہورہی تھی مگر اس موضوع پر ایک سعودی عالم کے فتوے کے بعد معاملہ کھل کر سامنے آگیا ہے اور اب روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر دھواں دھار بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ نیوز سائٹ ’’سعودی گزٹ‘‘ کے مطابق ممتاز سعودی عالم کے فتوے کے بعد دونوں اطراف کے دلائل سامنے آرہے ہیں۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ کفیل کا نظام غلامی کی ہی دوسری شکل ہے اور مذہبی نقطہ نظر سے اسے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا، دوسری جانب سعودی عالم نے اس طرزِ کاروبار کو جائز قرار دے دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کفیل کا نظام قانونی حدوں کے اندر اور ناجائز منافع کے لالچ سے پاک ہو تو اسے جائز سمجھا جاسکتا ہے لیکن بے شمار مثالیں ایسی ہیں کہ جہاں ملازم کو ایک طے شدہ ماہانہ رقم کفیل کو ادا کرنا پڑتی ہے، چاہے اس کی اپنی کمائی جتنی بھی کم اور حالات جیسے بھی خراب ہوں۔ اسی طرح کفیل کوئی بھی سروس فراہم کرنے کے بدلے حد سے زیادہ معاوضہ وصول کرتے ہیں، مثلاً کچھ کفیل اقامہ کی تجدید کیلئے 5000 سے 15000 ریال تک لیتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں کفیل کی کمائی کو کس طرح حلال قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ دلچسپ اور اہم بحث ہر آنے والے دن کے ساتھ زور پکڑتی جارہی ہے
عرب ممالک میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی خون پسینے کی کمائی کا ایک قابل ذکر حصہ کفیل کی جیب میں چلا جاتا ہے اور اسے یہ مال اکٹھا کرنے کیلئے ہاتھ بھی نہیں ہلانا پڑتا، تو کیا اسلامی تعلیمات کے مطابق ایسی کمائی جائز ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ایک عرصے سے لوگوں کے ذہنوں میں گردش کررہا تھا، اور دبے دبے الفاظ میں اس پر بات بھی ہورہی تھی مگر اس موضوع پر ایک سعودی عالم کے فتوے کے بعد معاملہ کھل کر سامنے آگیا ہے اور اب روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر دھواں دھار بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ نیوز سائٹ ’’سعودی گزٹ‘‘ کے مطابق ممتاز سعودی عالم کے فتوے کے بعد دونوں اطراف کے دلائل سامنے آرہے ہیں۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ کفیل کا نظام غلامی کی ہی دوسری شکل ہے اور مذہبی نقطہ نظر سے اسے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا، دوسری جانب سعودی عالم نے اس طرزِ کاروبار کو جائز قرار دے دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کفیل کا نظام قانونی حدوں کے اندر اور ناجائز منافع کے لالچ سے پاک ہو تو اسے جائز سمجھا جاسکتا ہے لیکن بے شمار مثالیں ایسی ہیں کہ جہاں ملازم کو ایک طے شدہ ماہانہ رقم کفیل کو ادا کرنا پڑتی ہے، چاہے اس کی اپنی کمائی جتنی بھی کم اور حالات جیسے بھی خراب ہوں۔ اسی طرح کفیل کوئی بھی سروس فراہم کرنے کے بدلے حد سے زیادہ معاوضہ وصول کرتے ہیں، مثلاً کچھ کفیل اقامہ کی تجدید کیلئے 5000 سے 15000 ریال تک لیتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں کفیل کی کمائی کو کس طرح حلال قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ دلچسپ اور اہم بحث ہر آنے والے دن کے ساتھ زور پکڑتی جارہی ہے
urdunewsarab.blogspot.com
Add a comment...
Wait while more posts are being loaded