Profile cover photo
Profile photo
جرات تحقیق
50 followers -
حقیقت پسندی کے فروغ کیلئے کوشاں
حقیقت پسندی کے فروغ کیلئے کوشاں

50 followers
About
جرات's posts

Post has attachment
علامہ نیاز فتح پوری صاحب کی ادارت میں لکھنؤ سے رسالہ ”نگار“ شائع ہوتا تھا، بعد ازاں علامہ صاحب ہجرت کرکے پاکستان آ گئے تو یہ رسالہ بھی کراچی منتقل ہوگیا، علامہ صاحب کی زندگی کے آخری دور میں نگار کا ”خدا نمبر“ شائع ہوا تھا، جو اپنی طرز کی ایک منفرد و یکتا تحریر ہے کہ اردو میں اس سے قبل مذاہب کی تاریخ، تعارف اور ان کے ارتقاء کے بارے میں اس طرح کا مواد ناپید تھا۔ یہ ایک مختصر سی کتاب آپ کو سینکڑوں کتابوں کا نچوڑ ایک جگہ فراہم کرتی ہے، جس کے مطالعہ کے بعد آپ مذاہب اور خدا کے تصور کے بارے میں اپنی معلومات میں خاطر خواہ اضافہ محسوس کریں گے۔ درج ذیل لنک سے نگار کا ”خدا نمبر“ ڈاون لوڈ کیجئے اور مذاہب کے بارے میں معلومات کے اس خزانے سے استفادہ کیجئے۔
احباب سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
https://realisticapproach.org/%DA%88%D8%A7%D8%A4%D9%86%D9…/…
لنک اوپن نا ہونے کی صورت میں اسی لنک کو کسی پراکسی سائٹ کے ذریعہ اوپن کیجئے۔

Post has attachment
تحریر: ایندڑسن شا
شریعت کا بنیادی ابتدائی ڈھانچہ وحی کے 23 سالوں میں وضع ہوتا رہا مگر مکمل نہ ہوسکا، اس کا ثبوت خلفائے راشدین کے وہ فیصلے ہیں جو انہوں نے ذاتی طور پر اپنی سمجھ اور حالات کے مطابق کیے، انہوں نے حدود روکیں، حدود میں اضافہ کیا، فرائض منسوخ کیے اور حلال کو حرام کیا، رمادہ کے سال (عام الرمادۃ) میں حضرت عمر نے چوری کی حد ساقط کردی، المؤلفۃ قلوبہم کا فریضہ جو براہ راست قرآنی حکم تھا اسے منسوخ کیا اور (عورتوں سے) متعہ کو حرام کردیا جو حلال تھا۔

Post has attachment
تحریر: اینڈرسن شا
مذہب سے سائنس کشید کرنے والے حضرات جو مذہب اور سائنس کو باہم مربوط کرنے کا فلسفہ دیتے ہیں، اگر انہوں نے اپنی مذہبی تفسیرات میں ترمیم کر کے انہیں اس نظریہ سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی جیسا کہ اکثر وبیشتر وہ کرتے بھی رہتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنی مصداقیت کھو دیں گے بلکہ اپنے مذہب کی بدنامی کا باعث بھی بنیں گے کیونکہ جس مذہب کی تاویلات وتفسیرات ہر نئے آنے والے سائنسی نظریات کے ساتھ بدلتی رہتی ہوں وہ ایک مذاق تو ہوسکتا ہے مذہب نہیں، اسلام میں مذہب کے تاجروں نے اسے اپنا کاروبار بنا لیا ہے اور سادہ لوح لوگ ان کے پیچھے کھنچے چلے آتے ہیں کیونکہ اس سے انہیں اپنی برتری کا احساس ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پر کلک کیجئے

Post has attachment
تحریر: اینڈرسن شا
آپ کسی بھی مؤمن سے کسی سائنسی نظریے پر بات کر لیں، آپ کو فوراً کسی اسلامی سائٹ کے کسی مضمون کا ربط پکڑا دیا جائے گا جس کا عنوان کچھ یوں شروع ہوگا: ❞فلاں نظریہ کے شبہات کا رد❝ اور اگر آپ ہمت کر کے پڑھ بھی لیں تو آپ کوئی ایک بھی موثوق سائنسی حوالہ تلاش نہیں کر پائیں گے، مؤمنین مذہب اور سائنس کی جنگ کو اس طرح پیش کرتے ہیں، تعجب کی بات یہ ہے کہ جنگ کے ایک فریق کو پتہ ہی نہیں ہے کہ وہ کسی جنگ میں فریق ہے اور نا ہی اسے پرواہ ہے۔

Post has attachment
تحریر: اینڈرسن شا
آج کے عالمِ اسلام میں مولوی کو ❞فرسٹ مین❝ کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے، اس کا مقام بلند ہے، اس کی بات حتمی ہے، اور اس کا خطبہ اور منبر دونوں کلیدی حیثیت کے حامل ہیں، مولوی کے منہ سے نکلے ایک لفظ پر کوئی سڑک بلاک کردی جاتی ہے اور کوئی کھول دی جاتی ہے، کوئی اخبار بند ہوجاتا ہے اور کوئی چیف ایڈیٹر ❞فارغ❝ کردیا جاتا ہے، کسی ادیب وشاعر کی کتابیں جلا دی جاتی ہیں، کسی کو ملک بدر کر دیا جاتا ہے تو کسی کو توہینِ رسالت کی آڑ میں نامعلوم انجام کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے، آج مولوی ٹی وی پر بیٹھ کر دھمکیاں دیتا، جہاد کا اعلان کرتا اور کفر کے فتوے دیتا ہے مگر کسی میں ہمت نہیں کہ اس کے خلاف ایک لفظ بھی بول سکے۔

Post has attachment
تحریر: اینڈرسن شا
جب طہ حسین نے اپنی کتابیں: علی ہامش السیرۃ، الشیخان، علی وبنوہ، مرآۃ الاسلام ودیگر شائع کیں تو اسلامی لبرل ازم کے مخالفین کو لگا کہ طہ حسین ان کتابوں کے ذریعے اپنے اس لبرل ازم سے تائب ہوگئے ہیں اور کنایتاً معافی طلب فرما رہے ہیں جس کا اظہار انہوں نے اپنی کتاب ❞فی الشعر الجاہلی❝ میں کیا تھا، یہ مخالفین یہ بات نہ سمجھ سکے کہ طہ حسین اپنی ان کتابوں میں یہ کہہ کر اپنے فکری لبرل ازم کی مزید تاکید کر رہے تھے کہ تاریخی حقائق کو لازماً جانچ پڑتال کے مرحلہ سے گزرنا چاہیے اور یہ کہ سیاست کو سب کے لیے غیر جانبدار ہونا چاہیے تاکہ کسی فریق کے حق میں کسی دوسرے فریق کے ساتھ زیادتی نہ ہو جیسا کہ عباسی دور میں یا دیگر ادوار میں ہوتا رہا، ناقدین یہ سمجھتے رہے کہ طہ حسین اپنے لبرل ازم سے مرتد ہوگئے ہیں
https://realisticapproach.org/%D8%B7%DB%81-%D8%AD%D8%B3%DB%8C%D9%86-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D9%84%D8%A8%D8%B1%D9%84-%D8%A7%D8%B2%D9%85/

Post has attachment
”من و یزداں“ علامہ نیاز فتح پوری صاحب کی وہ معرکۃ الآراء کتاب ہے جس میں مذاہب کی تخلیق، دینی عقائد رسالت کے مفہوم، اور صحائف مقدسہ کی حقیقت پر تاریخی۔ علمی، اخلاقی اور نفسیاتی نقطۂ نظر سے مدلل بحث کی گئی ہے۔ ایک ایسی کتاب جس کے مطالعہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شائقین علم کے لئے ادارہ جرات تحقیق کی جانب سے اس کتاب کے شایانِ شان نئی کمپیوٹر کمپوزنگ، دیدہ زیب لے آؤٹ اور جدید فارمیٹنگ کے ساتھ نئے دلکش انداز میں پیش کی جارہی ہے۔ شائقین علم کے لئے ایک بیش قیمت تحفہ۔
ڈاون لوڈ کرنے کیلئے لنک پر کلک کیجئے:
https://realisticapproach.org/%DA%88%D8%A7%D8%A4%D9%86%D9%84%D9%88%DA%88/?did=2
Photo

Post has attachment
تحریر: غلام رسول
محمود کا سومنات کے مندر پر حملہ سب سے زیادہ مشہور ہے، محاصرے کے دوسرے روز محمود کی فوج قلعے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئی۔ قلعے کے اندر موجود تمام لوگ لڑ کر ہلاک ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ جب محمود سومنات کے اندر بڑے بت کو توڑنے لگا تھا تو اسے ہندوؤں نے بہت زیادہ رقم کے بدلے اس بت کو نہ توڑنے کی درخواست کی، جسے محمود نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ میں بت شکن ہوں بت فروش نہیں ویسے عجیب بات ہے کہ ایک بت شکن سلطان کو بامیان کے علاقے میں بدھا کا دیو قامت بت نظر نہ آیا، شائد وجہ یہ ہو کہ اسے معلوم تھا کہ بدھا کے بت میں کوئی خزانہ پوشیدہ نہیں ہے۔

Post has attachment
جرات تحقیق کی ویب سائٹ پر ”گیلری“ کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جس میں معلوماتی اور دلچسپ سلائڈز کا ذخیرہ جمع کر دیا گیا ہے، جو جرات تحقیق کے شائقین کی دلچسپی کا باعث ہوگا۔ ذیل میں دیئے گئے لنگ پر کلک کیجئے یا جرات تحقیق کی ویب سائٹ پر سب سے اوپر والے ہیڈر میں موجود ”گیلری“ کے آپشن کو کلک کیجئے۔

Post has attachment
تحریر: علامہ ایاز نظامی
وجود خدا کا تعلق محض ایمان بالغیب سے ہے، اور عقلی علوم میں ایمان بالغیب کسی بھی کھاتے میں شمار نہیں ہوتا۔ ایک عقلیت پسند انسان کیلئے مرنے کے بعد خدا سے موہوم ملاقات سے زیادہ اہم، مذاہب اور ان کی تعلیمات کا عقلی معیار پر پورا اترنا ہے، اگر مذاہب اور ان کی تعلیمات ہی عقلی معیار پر پوری نہیں اترتیں، تو پھر ایک ملحد کیلئے کسی مذہبی خدا کے سامنا کا مفہوم ہی بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔
پاسکل ویجر اپنی ذات میں ایک ”جُوا“ ہے۔ جسے منطقی اصطلاح میں ظنّ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ظنّ کبھی یقین کا فائدہ فراہم نہیں کرتا۔ ایک عقل پسند انسان اپنی زندگی کے فیصلے یقینیات کی بنیاد پر تو استوار کر سکتا ہے، لیکن ظنیات کی بنیاد پر اپنی زندگی کے فیصلے استوار کرنے کیلئے اس کی عقل ہرگز اسے اجازت نہیں دیتی۔
(مکمل تحریر پڑھنے کیلئے لنک پر کلک کیجئے، پاکستانی قارئین کسی پراکسی کے ذریعے لنک تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں)
Wait while more posts are being loaded