Profile cover photo
Profile photo
Shifa Ali
About
Posts

Post has attachment
بے اولادی کا علاج
موجودہ دور میں شادی شدہ مرد و خواتین کا اہم اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا ہوا مسئلہ بے اولادی ہے، اولاد نہ ہونے کی کئی وجوہات میں سے کچھ اہم مردوں میں ناجائز حرکات و تعلقات کی وجہ سے جنسی کمزوری، سپرمز کی کمی اور خواتین میں ماہواری کا رک جانا یا وقت پر نہ ہونا، ٹیوبز کا بند ہونا، جادو، جنات یاتعویزات کے اثر سے اولاد کی بندش اور اٹھرا جیسی بیماریاں ہیں۔ اٹھرا کی بیماری میں عورت حاملہ نہیں ہوتی اگر حاملہ ہو بھی جائے تو پیدائش کے وقت تک کسی بھی وقت حمل ضائع ہوجاتا ہے بعض اوقات پیدائش کے بعد بچہ فوت ہو جاتا ہے اٹھرا کی بیماری کی نشانی یہ ہے کہ اس بیماری میں عورت کے جسم پر نیلے نشان بن جاتے ہیں، بعض اوقات بظاہر مرد و عورت میں کوئی خامی، کمی یا بیماری نہیں ہوتی اور ڈاکٹرز اس تسلی کے ساتھ رخصت کرتے ہیں کہ سب ٹھیک ہے بس اللہ کی طرف سے دیر ہے، دیکھا گیا ہے کہ ایسے مرد و عورت عام طور پر کسی اپنے کے حسد کی آگ کی وجہ سے جادو اور تعویزات کے اثرات کا شکار ہوتے ہیں اور اولاد جیسی نعمت سے محروم رہتے ہیں اور کسی کامل روحانی معالج کی تلاش میں نوسر بازوں کے در پر اپنا وقت، پیسہ اور بعض صورتوں میں ایمان تک ضائع کرتے رہتے ہیں۔ ایک اور اہم وجہ عورت پر کسی جن یا سایہ کا اثر بھی ہے۔

لڑکیوں پر شادی سے پہلے جن کا سایہ کے اثر کی وجہ سے شادی ہونے میں یا شادی کے بعد اولاد ہونے میں رکاوٹ درپیش رہتی ہے، حسد کی وجہ سے جادو کا وار ہو یا جنات کا اثر دونوں صورتوں میں اٹھرا کی بیماری جیسے حالات کا سامنا رہتا ہے، عورت حاملہ نہیں ہوتی، حمل ضائع ہو جاتا ہے یا پیدائش کے بعد بچہ فوت ہو جاتا ہے مزید یہ کہ جادو یا جنات کے اثر کی وجہ سے اکثر بچہ معذور پیدا ہوتا ہے۔ مردوں میں ناجائز حرکات و تعلقات اور کثرت زنا کی وجہ سے جنسی مسائل اور مردانہ کمزوری جیسے حالات بھی بے اولادی کا سبب بنتے ہیں، اکثر مرد مردانہ کمززوری کے علاج میں دیر یا غلط نسخوں کی وجہ سے حلات کو مزید بگاڑ لیتے ہیں، ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمیں سب سے پہلے اللہ عزو جل پر بھروسہ کرتے ہوئے قرآن کریم کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔
مزید پڑہنے کے لیے: https://goo.gl/k5sQmm
Photo

Post has attachment

Post has shared content
ہے کوئی مذہب ایسا؟؟
جس شہر کے لوگوں نے بے سروسامانی کے عالم میں شہر چھوڑنے پر مجبور کیا آج طاقت و قدرت رکھتے ہوئے بھی دینِ اسلام کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے سب کو امان دے دی۔
فتحِ مکہ: 10 رمضان المبارک 8 ہجری۔
Photo

Post has attachment

Post has attachment

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content
Originally shared by ****
👏👏👏آقا ایک بار پلیز مجھے مدینے بلالیں پلیز👏👏👏
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم سے بڑی محبت تھی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا جب وصال ہوگیا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ مدینہ کی گلیوں میں یہ کہتے پھرتے تھے کہ لوگو! تم نے کہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو دیکھا ہے تو مجھے بھی دکھا دو یا مجھے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا پتا بتادو۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس غم ہجر میں مدینے کو چھوڑ کر ملک شام کے شہر حلب میں چلے گئے۔ ایک سال کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو خواب میں دیکھا حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ اے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ !تم نے ہم سے ملنا کیوں چھوڑ ا ؟کیا تمھارا دل ہم سے ملنے کو نہیں چاہتا؟
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ خواب دیکھ کر ،لبیک یا سیدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم! اے آقا! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم غلام حاضر ہے، کہتے ہوئے اٹھے اور اسی وقت رات ہی کو اونٹنی پر سوار ہو کر مدینے کو چل پڑے۔ رات دن برابر چل کر مدینہ منورہ میں داخلہو ئے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ پہلے سیدھے مسجد نبوی(علی صاحبہ الصلوۃوالسلام) پہنچے اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو ڈھونڈا ،مگر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو نہ دیکھا ،پھر حجروں میں تلاش کیا جب وہاں بھی نہ ملے تب مزارانور پر حاضر ہوئے اورروکر عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم حلب سے غلام کو یہ فرما کر بلایا کہ ہم سے مل جاؤ اور جب بلال زیارت کے لئے حاضر ہو ا تب حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پردہ میں چھپ گئے۔ یہ کہہ کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے ہوش ہو کر قبر انور کے پاس گر گئے ،بہت دیر میں جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہوش آیا تو لوگ قبر انور سے اٹھا کر باہر لائے ۔
اس عرصہ میں حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آنے کا سارے مدینہ میں غل ہوا کہ آج رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے مؤذن بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے ہیں ۔ سب نے مل کرحضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے درخواست کی اللہ عزوجل کے لئے ایک دفعہ وہ اذان سنادوجو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو سناتے تھے۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے،دوستو! یہ بات میری طاقت سے باہر ہے کیونکہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیات ظاہری میں اذان دیتا تھا تو جس وقت اشھدان محمدا رسول اللہ کہتا تھاتو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو سامنے آنکھوں سے دیکھ لیتا تھا۔ اب بتاؤ کہ کسے دیکھوں گا؟ مجھے اس خدمت سے معاف رکھو۔ ہر چند لوگوں نے اصرار کیا مگر حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انکار ہی کیا۔
بعض صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی یہ رائے ہوئی کہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کسی کا کہنا نہیں مانیں گے تم کسی کو بھیج کر حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنھما کو بلالو،اگر وہ آکر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اذان کی فرمائش کریں گے تو بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ضرور مان جائیں گے،کیونکہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے اہل بیت رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عشق ہے۔ یہ سنکر ایک صاحب جا کر حضرت حسن اورحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہماکو بلالائے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آکر بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہ اے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! آج ہمیں بھی وہی اذان سنا دو جو ہمارے نانا جان صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو سنایا کرتے تھے۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گود میں اٹھا کر کہا۔ تم میرے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے جگر پارہ ہو، نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے باغ کے پھول ہو ،جو کچھ تم کہو گے منظور کروں گا، تمہیں رنجیدہ نہ کروں گا کہ اس طرح حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو مزارمبارک میں رنج پہنچے گا اور پھر فرمایا: حسین !رضی اللہ تعالیٰ عنہ مجھے لے چلو جہاں کہو گے اذان کہہ دو ں گا۔
حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو مسجد کی چھت پر کھڑا کردیا۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اذان کہنا شروع کی اللہ اکبر! اللہ اکبر ! مدینہ منورہ میں یہ وقت عجب غم اور صدمہ کا وقت تھا۔ آج مہینوں کے بعد اذانِ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی آواز سنکر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی دنیوی حیات مبارک کا سماں بندھ گیا۔ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اذان سنکر مدینہ منورہ کے بازار وگلی کوچوں سے لوگ آن کر مسجد میں جمع ہوئے ہرایک شخص گھر سے نکل آیا ۔ پردہ والی عورتیں باہر آگئیں اپنے بچوں کو ساتھ لائیں۔ جس وقت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اشھد ان محمدا رسول اللہ منہ سے نکالا ہزار ہا چیخیں ایک دم نکلیں اس وقت رونے کا کوئی ٹھکانا نہ تھا۔عورتیں روتی رہیں بچے اپنی ماؤں سے پوچھتے تھے کہ تم بتاؤ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ مؤذنِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم تو آگئے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم مدینہکب تشریف لائيں گے۔
حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب اشہد ان محمدا رسول اللہ منہ سے نکالا اور حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کو آنکھوں سے نہ دیکھا تو غم ہجر میں بے ہوش ہو کر گر گئے اور بہت دیر کے بعد ہوش میں آکراٹھے اور روتے رہے۔پھر ملک شام چلے گئے۔
(مدارج النبوت،باب دہم،درذکر مؤذنین...الخ،ج۲،ص۵۸۳)
اے کاش کہ آجائے فیضان مدینے میں
بلالو خدارا اب سرکار مدینے میں
کب تک میں پھروں دردر مرنے بھی دو اب سرور
دہلیز پہ سر رکھ کر سرکار مدینے میں
روتی ہوئی آنکھوں سے بیتاب نگاہوں سے
ہو گنبد خضرا کا دیدار مدینے میں

رمضان کی بہاریں ہوں طیبہ کی فضائیں ہوں
اور جھومتا پھرتا ہو فیضان مدینے میں
----------------------------------------------
میں ایک فرانس میں رہنے والا مسلمان ہوں
ایک دن میں ایک کافی شاپ میں بیٹھا کافی پی رہا تھا کہ میری برابر والی ٹیبل پر ایک داڑھی والا آدمی مجھے دیکھ رہا تھا میں اٹھ کر اسکے پاس جا بیٹھا اور میں نے اس سے پوچھا ’’کیا آپ مسلمان ہیں ؟

اس نے مسکرا کر جواب دیا ’’نہیں میں جارڈن کا یہودی ہوں۔ میں ربی ہوں اور پیرس میں اسلام پر پی ایچ ڈی کر رہا ہوں‘

میں نے پوچھا ’’تم اسلام کے کس پہلو پر پی ایچ ڈی کر رہے ہو؟‘‘

وہ شرما گیا اور تھوڑی دیر سوچ کر بولا ’’میں مسلمانوں کی شدت پسندی پر ریسرچ کر رہا ہوں‘‘

میں نے قہقہہ لگایا اور اس سے پوچھا ’’تمہاری ریسرچ کہاں تک پہنچی؟‘‘

اس نے کافی کا لمبا سپ لیا اور بولا ’’میری ریسرچ مکمل ہو چکی ہے اور میں اب پیپر لکھ رہا ہوں‘‘

میں نے پوچھا ’’تمہاری ریسرچ کی فائنڈنگ کیا ہے؟‘‘

اس نے لمبا سانس لیا‘ دائیں بائیں دیکھا‘ گردن ہلائی اور آہستہ آواز میں بولا ’’میں پانچ سال کی مسلسل ریسرچ کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں مسلمان اسلام سے زیادہ اپنے نبی سے محبت کرتے ہیں۔ یہ اسلام پر ہر قسم کا حملہ برداشت کر جاتے ہیں لیکن یہ نبی کی ذات پر اٹھنے والی کوئی انگلی برداشت نہیں کرتے‘‘

یہ جواب میرے لیے حیران کن تھا‘ میں نے کافی کا مگ میز پر رکھا اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا‘

وہ بولا ’’میری ریسرچ کے مطابق مسلمان جب بھی لڑے‘ یہ جب بھی اٹھے اور یہ جب بھی لپکے اس کی وجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی‘ آپ خواہ ان کی مسجد پر قبضہ کر لیں‘ آپ ان کی حکومتیں ختم کر دیں۔ آپ قرآن مجید کی اشاعت پر پابندی لگا دیں یا آپ ان کا پورا پورا خاندان مار دیں یہ برداشت کرجائیں گے لیکن آپ جونہی ان کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام غلط لہجے میں لیں گے‘ یہ تڑپ اٹھیں گے اور اس کے بعد آپ پہلوان ہوں یا فرعون یہ آپ کے ساتھ ٹکرا جائیں گے‘‘

میں حیرت سے اس کی طرف دیکھتا رہا‘ وہ بولا ’’میری فائنڈنگ ہے جس دن مسلمانوں کے دل میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت نہیں رہے گی اس دن اسلام ختم ہو جائے گا۔ چنانچہ آپ اگر اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو آپ کومسلمانوں کے دل سے ان کا رسول نکالنا ہوگا‘‘

اس نے اس کے ساتھ ہی کافی کا مگ نیچے رکھا‘ اپنا کپڑے کا تھیلا اٹھایا‘ کندھے پر رکھا‘ سلام کیا اور اٹھ کر چلا گیا

لیکن میں اس دن سے ہکا بکا بیٹھا ہوں‘ میں اس یہودی ربی کو اپنا محسن سمجھتا ہوں کیونکہ میں اس سے ملاقات سے پہلے تک صرف سماجی مسلمان تھا لیکن اس نے مجھے دو فقروں میں پورا اسلام سمجھا دیا‘
میں جان گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اسلام کی روح ہے اور یہ روح جب تک قائم ہے اس وقت تک اسلام کا وجود بھی سلامت ہے‘ جس دن یہ روح ختم ہو جائے گی اس دن ہم میں اور عیسائیوں اور یہودیوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا...
Photo

Post has shared content
Wait while more posts are being loaded