Profile

Cover photo
hafeez rahman afredi
7 followers|31,643 views
AboutPostsPhotosYouTube

Stream

hafeez rahman afredi

Shared publicly  - 
 
 
شب برأت کی حقیقت

سب سے پہلے سوچنے کی بات یہ ہے کہ رات جسکا نام شبِ برأت ہے اسکو کس نے ایجاد کیا اور اسکا مقصد کیا ہے اور شب برأت اسکوکیوں کہتے ہیں ۔

اگر ان الفاظ کو عربی زبان میں تلاش کریں تو شب لفظ فارسی ہے جس کو عربی زبان میں لیلۃ البرأ...ت کہا جائے گا یعنی برأت کی رات اور جب تک لفظ برأت کے معنی معلوم نہ ہوں اس وقت تک اس کا صحیح مفہوم قطعاً ذہن میں نہیں آسکتا ۔ عربی لغت میں برأت کا معنی ہیں بیزاری اور نفرت کرنا اگر ایسی مثالیں قرآنِ مجید اور حدیث نبوی ﷺ میں تلاش کریں تو بہت سی مل سکتیں ہیں۔

مثلاً قرآن مجید میں ایک سورہ کا نام براء ۃ ہے جس کی پہلی آیت ہے

بَرَاَء ۃٌ مِنَ اﷲِ وَرَسُوْلِہٖ اِلیٰ الَّذِیْنَ عَاہَدْتُمْ مِّنَ الْمُشْرِکِیْن
بیزاری کا حکم اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان مشرکوں کو جن سےتمہارا معاہدہ تھا۔

امام مفسر قرطبی رحمہ اللہ کا قول
آپ نے بھی برأت کے معنی کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ برأت کے معنی کسی شئے کو دل سے نکال دینا اور باہمی جو تعلق ہے اس کو ختم کر دینا اس کا نام برأۃ ہے اسی لفظ سے بری برأت بنا ہے اور ہم معنی ہیں قرآن مجید میں یہ لفظ برأۃ اور بر ی جہاں بھی استعمال ہوا ہے بیزاری اور نفرت کے معنی میں۔( تفسیر قرطبی جلد ۴ ص ۲۹۰۲)

ایسے ہی شب برأت کے معنی ہوں گے شب تبرأ یعنی بیزاری والی رات تو اس سے یہ بات صاف معلوم ہوجائے گی کہ شب برأت والی رات کسی سے بیزاری کے لئے بنائی گئی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس رات کو ایجاد کرنے میں رافضی شیعوں کا ہاتھ ہے کیونکہ وہ اس رات میں اپنے فرضی امام کی پیدائش کی خوشی مناتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اور تمام مسلمانوں سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔

تحفۃ العوام
جو رافضیوں کی مشہور کتاب ہے اس کتاب کا مصنف لکھتا ہے کہ اس شب میں یہ تمام برکات اسلئے ہیں کہ امر کی اس شب میں ولادت ہوگی یعنی امام مہدی کی ۔
ارمغان عجم ص ۱۲۴

صاحب امر سے مراد شیعوں کے بارہویں امام ہیں دنیا میں صرف ان ہی کا حکم چلے گا اس لئے انہیں صاحب الامر کہا جاتا ہے حتی کہ شیعہ کتب میں یہاں تک لکھا ہے کہ جب ان کے بارہویں امام آکر یہاں رہیں گے تو سیدناابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدناعمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اجساد قبروں سے نکال کر انہیں پھانسی دیں گے اور سیدہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو سنگسار کریں گے اور تمام بے دینوں یعنی مسلمانوں کو قتل کریں گے۔
(حوالہ مولانا حبیب الرحمن کاندھلوی شب برات کیا ہے ۔ص۸)۔

جناب محمودالحسن صاحب خسرو

اعزازی لیکچرار لاء کلاس ہائی کورٹ حیدرآباد دکن اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے لیکچرار رہے ہیں اپنی کتاب ’’ قرآن مجید کا نزول اور وحی میں لکھتے ہیں کہ شبِ برأت میں کچھ بھی نہیں ہوتا مختصر یہ کہ قران مجید کے نزول کو ماہ شعبان خاص شعبان کی پندرہویں رات یعنی شب برات نہ کوئی فضیلت وعظمت کی رات نہ یہ کسی عبادت کی رات ہے ۔ جو احادیث بیان کی جاتی ہیں محدّثین کی جماعت نے ان سب کو بادلائل رد کیا ہے یہی وجہ ہے کہ روایتیں حدیث کی صحیح اور مستند کتابوں میں جگہ نہ پاسکیں۔

(قرآن کا نزول اور وحی ص ۱۳

امام ابن العربی مالکی المتوفی ۵۴۳؁ھ

نے اپنی کتاب تفسیر القرآن جلد ۲ ص ۲۱۴ میں پندرہویں شعبان کی رات کی تمام حدیثوں کو غیر معتبر ٹھہرایا ہے بلکہ یہ شیعوں کی یادگار ہے جو سنیوں میں پھیل گئی ہے۔ سنیوں کو بے وقوف بنانے کے لئے شیعوں نے اس رات کا اصل نام بدل دیا جبکہ اصل نام شب تبرا ہے بدل کرشب برات کردیا۔

قبرستان جانے کے من گھڑت قصے لکھے گئے تاکہ سنیوں کو اصل حقیقت کا علم نہ ہو سکے ۔ اسی لئے قبرستان والی روایت میں عبادات کا تذکرہ نہیں ہے چونکہ شیعہ اس رات میں عبادت نہیں کرتے اور اس رات میں غاروں و دریاؤں اور کنوؤں پر جاکر امام کے نام پرچیاں ڈالتے اور ان سے درخواست کرتے ہیں کہ ہم ان سنیوں کے ہاتھوں بہت تنگ آ چکے ہیں للہ اب تو آپ تشریف لائیں اور ان ملحدین سے ہمیں نجات دلائیں۔

الغرض وہ اس شب اپنے امام کی پیدائش کی خوشی میں یہ سب کچھ کرتے ہیں اور سنیوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔ ۔

بقیع قبرستان مدینہ منورہ کی کہانی اور اس پر تاریخی نظر

رسول اللہ ﷺ کا بقیع قبرستان جانا صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ رات کے وقت بقیع قبرستان میں گئے اس حدیث کو امام نسائی اور امام مالک نے اپنی کتاب مؤطا امام مالک میں ذکر کیا یہ حدیث صحیح علی الاعلان ہے ۔ اس حدیث میں شب برأت کی کوئی خوبی نہیں بیان کی نہ اس شب مخصوص کے باعث آپ ﷺ قبرستان تشریف لے گئے تھے بلکہ آپ ﷺ کے وہاں جانے کی صرف وجہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کو اہل بقیع کیلئے دعائے مغفرت کا حکم دیا گیا جس کا ذکر اس حدیث میں ہی موجود ہے آپ ﷺ اس پر عمل کرنے کیلئے بقیع قبرستان گئے۔ تاریخی لحاظ سے یہ واقعہ کب پیش آیا کونسی رات اور سنّ تھا۔شعبان کے ساتھ تو اس واقعہ کا کوئی تعلق نہیں۔ رہا مہینہ اور تاریخ کا مسئلہ تو موطا امام مالک کے حاشیہ پر المحلیٰ کے حوالہ سے ابن الوضاح کا قول منقول ہے۔

قال ابن الوضاح کانت القصۃ قبل موتہ بخمسۃ ایام موطا ص ۸۵
ابن الوضاح کہتے ہیں یہ واقعہ وفات رسول ﷺ سے پانچ روز قبل پیش آیا۔

یعنی یہ واقعہ آپ ﷺ کی وفات سے پانچ روز قبل پیش آیا نہ کہ شعبان میں ، آپکی وفات ربیع الاول میں ثابت ہے۔
جب یہ واقعہ پیش آیا کیا تاریخ تھی؟ اس کا فیصلہ کا دارومدار اس بات پر موقوف ہے کہ جناب محمد ﷺ کی وفات کون سی تاریخ کو ہوئی مؤرخین کے وفات رسول ﷺ کے بارے میں تین اقوال ہیں ۲ ربیع الاول یکم ربیع الاول اور نو ربیع الاول اسی طرح بارہ ربیع الاول بھی عوام میں مشہور ہے۔

ان اقوال کے لحاظ سے آپ ﷺ صفر مہینے کے آخر میں بقیع قبرستان تشریف لے گئے یا ربیع الاول کے شروع میں۔
الغرض شعبان میں بقیع جانے کی کہانی من گھڑت داستان سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔

سیدناابو مویہہ رضی اللہ عنہ کا قول

باصبح من تلک اللیلۃ بدا وجعہ الذی مات منہ ﷺ
(کشف المعظا شرح موطا ص ۲۲۴)
اسی رات کی صبح سے جناب محمد ﷺ کو وہ تکلیف شروع ہوئی جس سے آپ کی وفات واقعہ ہوئی۔

یعنی صحابی رسول صل اللہ علیہ وسلم یہ بات بیان کرتے ہیں کہ آپ صل اللہ علیہ وسلم جس رات بقیع قبرستان تشریف لے گئے اس رات سے آپ صل اللہ علیہ وسلم کو تکلیف شروع ہوئی تو معلوم یہ ہو اکہ اس واقعہ کو شعبان سے کوئی نسبت نہیں یا پھر آپ کی وفات بھی شعبان میں ثابت کی جائے اگر آپ کی وفات شعبان میں ثابت کرنا مشکل ہے تو بقیع قبرستان جانے والے واقعہ کو بھی شعبان میں لانا ایسے ہی مشکل ہے۔ لہٰذا تمام سنی بھائیوں سے عرض ہے کہ آپ حقیقت پر نظر ڈال لیجئے کہ حقیقت کیا ہے ۔ ہم کو کون سا کام کرنا چاہئیے اور کن کاموں سے بچنا چاہئیے نہ کہ غافل بن کر جو دیکھیں یا سنیں اس پر عمل کرنا شروع کر دیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہم کو حقیقت سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق دے بدعات سے نجات دے آمین ثم آمین۔ ...............
 ·  Translate
View original post
1
Add a comment...

hafeez rahman afredi

Shared publicly  - 
 
 
Dear sisters!!!

Do you know that so much of the whole world actually "wears Hijab?!"

YES! The earth is surrounded by the atmosphere and ozone layer.

Fresh fruits have peels on them. 

The sword is preserved in a sheath. 

An ink pen would dry without a cap. 

We put paperback and hardback covers on our books. 

A pen would be thrown away because it became useless without its cap.

An apple without a peel becomes rotten.

A banana became without a peel would change colors.

And a woman is a beautiful flower which every one wishes to pick

so she should cover herself with the beautiful Hiijab. Subhan'Allah,

The world is wearing Hijab, what about you?

★ [ DON,T FORGET TO SHARE ] ★
1
Add a comment...

hafeez rahman afredi

Shared publicly  - 
 
اپنا پیغام حسب ضرورت بنائیں
 ·  Translate
1
Add a comment...

hafeez rahman afredi

Shared publicly  - 
 
اپنا پیغام حسب ضرورت بنائیں
 ·  Translate
1
Add a comment...

hafeez rahman afredi

Shared publicly  - 
 
اپنا پیغام حسب ضرورت بنائیں
 ·  Translate
1
Add a comment...
In their circles
53 people
Have them in circles
7 people
Asghar Ali's profile photo
‫سعيد الجندبي‬‎'s profile photo
Muhammad Hanif's profile photo
CALM - Courses Calm's profile photo
shoaib saeed's profile photo
Mohd Ali B Abdul Malek's profile photo
UBAID UR REHMAN's profile photo

hafeez rahman afredi

Shared publicly  - 
 
اپنا پیغام حسب ضرورت بنائیں
 ·  Translate
1
Add a comment...

hafeez rahman afredi

Shared publicly  - 
 
اپنا پیغام حسب ضرورت بنائیں
 ·  Translate
1
Add a comment...

hafeez rahman afredi

Shared publicly  - 
 
اپنا پیغام حسب ضرورت بنائیں
 ·  Translate
1
Add a comment...
People
In their circles
53 people
Have them in circles
7 people
Asghar Ali's profile photo
‫سعيد الجندبي‬‎'s profile photo
Muhammad Hanif's profile photo
CALM - Courses Calm's profile photo
shoaib saeed's profile photo
Mohd Ali B Abdul Malek's profile photo
UBAID UR REHMAN's profile photo