Profile

Cover photo
Touseef Nasrullah
Attended Federal Urdu University
21,591 followers|1,278,011 views
AboutPostsPhotosVideos

Stream

Touseef Nasrullah

تبصرے 📤📥  - 
 
 
مولویوں نے تباہ کر دیا اس ملک کو کیا واقعی..؟؟؟
ایک تحقیق آپ بھی پڑھیے..
400 کی لینن کی شرٹ اور اتوار بازار سے 480 روپے میں ملنے والے لنڈے کے 3 پاجامے (Tights) پہن کر موم بتی مافیا سے منسلک اور Women Rights کےنام پر چندہ لے کر فیشن شو کرنے والی ہماری کچھ فیس بکی آنٹیوں کا کہنا ہے کہ......
"پاکستان کی تمام تر بربادیوں کا ذمہ دار مولوی ہے.."
ان کی اس بات کو سنجیدہ لے کر میں نے ایک تحقیق کی اور تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچا کہ..
پاکستان کے پہلے گورنر جنرل مدرسہ دیوبند سے مولوی فاضل ڈگری یافتہ تھے..
پہلے صدرِپاکستان نے جامعہ ازہر سے دفاعی امور پر مفتی کا کورس کیا..
پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم مدرسہ بریلی میں 8 سال پڑھے..
سول سروس اکیڈمی رائے ونڈ تبلیغی مرکزمیں ہے..
الیکشن کمیشن، نیب اور پیمرا چئیرمین کے لئے درس نظامی یا مولوی فاضل کی شرط لازمی ھے..
نواز شریف، زرداری، گیلانی اور رحمن ملک کے پاس جامعہ بنوری ٹاؤن کی سند ھے..
ایوب، یحیی اور مشرف حافظ قرآن اور مولوی تھے..
پاکستان ملٹری اکیڈمی منصورہ لاہور میں واقع ہے..
پاکستان کے تمام پارلیمنٹیرنز کے پاس مدرسہ سے تعلیم کی 8 سالہ سند ہونا لازمی ہے..
قومی اداروں مثلاً نادرا، ایف۔ آئی۔اے، واپڈا، پی آئی اے، او جی ڈی سی ایل، پی ٹی سی ایل اور اسٹیل ملز کے ڈائریکٹرز ہمشہ سے مولوی ہی رہے..
ہر چھوٹے بڑے شہروں میں موجود قحبہ خانے Brothels محکمہ اوقاف کی زیرِ نگرانی چلتے ہیں..
تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز پہلے 8 ماہ فیضانِ مدینہ کراچی میں ٹریننگ کرتے ہیں..
میڈیا ہاؤسسز کو مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کنٹرول کرتا ہے..
اور تو اور _ کرکٹ کی تباہی کے زمہ دار بھی مولوی اعجاز بٹ ، مولانا نجم سیٹھی نقشبندی اور حضرت علامہ مولانا شہر یار ہیں..
اور دیکھئے نا جب فارمولا کریم بھی ایک مہینے تک لگانے سے رنگ گورا نا ہو تو اس کا ذمہ دار بھی تو مولوی ہی ہوا نا.. آخر مولوی نے جمعہ کے واعظ میں کیوں نہیں بتایا کہ L'Oréal اور Olay کی نائٹ بیوٹی کریم فارمولا سے بہتر کام کرتی ہے..
بالکل صیح سوچا ماڈرن آنٹیوں لبرل بابوؤں نے..
مولوی....
مولوی مولوی....
مولوی مولوی مولوی....
مولوی مولوی مولوی مولوی....
شرم تم کو مگر نہيں آتی.....
تحریر : محمد عامر یونس.....
Mujhey Hai Hukm e Azan
Abu Bakar Perhiar
 ·  Translate
5 comments on original post
6
1
Dawood Mir's profile photo
 
Sharm unko phir bhi nahi aigi
Add a comment...
 
 
6 years ago, the Lords test ended with him walking out of there with his held down in disgrace. He didn't look up to the tens of cameras that were covering him, he couldn't. He just couldn't.

Today, however, was different. He might have been pedestrian in the both innings but the Lords test today ended with Muhammad Amir holding his arms aloft in joy. Roaring like a tiger. The same old airplane celebration we were so accustomed to watch. Running around Lords in jubilation as he hit the stumps to pick the last England wicket.

This was his redemption, this was his moment. Perhaps, not the fairy tale story everyone expected. Perhaps not the sort of redemption even he dreamt of but this was his story. This was his moment. And he's never going to forget that. And for those of you who say that life doesn't give you a second chance, just look at Muhammad Amir with his arms up in the air at Lords.

Credits: One and only, Ajlal Qaisar
View original post
6
Aqib Nuh's profile photo
 
Add a comment...

Touseef Nasrullah

تبصرے 📤📥  - 
 
🎀 اجمیر میں نعتیہ مشاعرہ تھا، فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر صاحب کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے ، وہ کھلے رند تھے اورنعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی۔ اگر فہرست میں ان کانام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہوا۔ منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیداہوگیا۔ کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔

دراصل جگر کا معاملہ تھا ہی بڑا اختلافی۔ بڑے بڑے شیوخ اور عارف باللہ اس کی شراب نوشی کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گناہ گار سمجھتے تھے لیکن لائق اصلاح۔ شریعت کے سختی سے پابند مولوی حضرات بھی ان سے نفرت کرنے کے بجائے افسوس کرتے تھے کہ ہائے کیسا اچھا آدمی کس برائی کا شکار ہے۔ عوام کے لیے وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن تھے شرابی۔ تمام رعایتوں کے باوجود مولوی حضرات بھی اور شاید عوام بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوں۔آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگر ؔکو مدعو کیا جانا چاہیے۔یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگرؔ کی عظمت کا اس سے بڑااعتراف نہیں ہوسکتاتھا۔جگرؔ کو مدعو کیا گیا تووہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔ ’’میں رند، سیہ کار، بد بخت اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں‘‘ ۔

اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب ؔکو تیار کیسے کیا جائے۔ ا ن کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا۔ نعتیہ شاعر حمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے، بالآخر اصغرؔ گونڈوی نے حکم دیا اور وہ چپ ہوگئے۔

سرہانے بوتل رکھی تھی، اسے کہیں چھپادیا، دوستوںسے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے۔دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے، شیرازن سے ہمارا رشتہ فراق کا ہے لیکن شراب سے تو نہیں لیکن مجھے نعت لکھنی ہے ، شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اتراتو کس زبان سے اپنے آقا کی مدح لکھوں گا۔ یہ موقع ملا ہے تو مجھے اسے کھونانہیں چاہیے، شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو۔ شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شایدمجھ پر اس کملی والے کا کرم ہوجائے، شایدخدا کو مجھ پر ترس آجائے۔
ایک دن گزرا، دودن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے تھے اور غزل کہنے لگتے تھے، سوچتے رہے، لکھتے رہے، کاٹتے رہے، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخر ایک دن نعت کا مطلع ہوگیا۔ پھر ایک شعر ہوا، پھر تو جیسے بارش انوار ہوگئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔

مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں۔ کونین کی دولت ان کے پاس ہو۔ جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا ہو۔ انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا۔ادھر تو یہ حال تھا دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہرکے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے۔ لوگ بپھرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جگرصاحب ؔ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھاکہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہوکر نعرے بازی نہ کریں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا۔وہ کئی دن پہلے اجمیر پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرے والے دن آئیں گا۔جگر اؔپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوںکو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرارہے تھے؎

کہاں پھر یہ مستی کہاں ایسی ہستی
جگرؔ کی جگر تک ہی مے خواریاں ہیں

آخر مشاعرے کی رات آگئی۔جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچا دیا گیا۔

’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادابادی!‘‘
اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا…’’آپ لوگ مجھے ہوٹ کررہے ہیں یا نعت رسول پاک کو،جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘۔شور کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ہے

اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ

جوجہاں تھا ساکت ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی زبان سے شعر ادا ہورہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہورہا ہے۔نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی،خواہشِ پناہ تھی، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی۔وہ خود رو رہے تھے اور سب کو رلا رہے تھے، دل نرم ہوگئے، اختلاف ختم ہوگئے، رحمت عالم کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیونکر ہری رہتی۔’’یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں ہے، اس سے کہلوائی گئی ہے‘‘۔مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی۔ اس نعت کے باقی اشعار یوں ہیں:

دامان نظر تنگ و فراوانیِ جلوہ
اے طلعتِ حق طلعتِ سلطانِ مدینہ

اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدق
تو خلد ہے تو جنت ِسلطان مدینہ

اس طرح کہ ہر سانس ہومصروفِ عبادت
دیکھوں میں درِ دولتِ سلطانِ مدینہ

اک ننگِ غمِ عشق بھی ہے منتظرِ دید
صدقے ترے اے صورتِ سلطان مدینہ

کونین کا غم یادِ خدا ور شفاعت
دولت ہے یہی دولتِ سلطان مدینہ

ظاہر میں غریب الغربا پھر بھی یہ عالم
شاہوں سے سوا سطوتِ سلطان مدینہ

اس امت عاصی سے نہ منہ پھیر خدایا
نازک ہے بہت غیرتِ سلطان مدینہ

کچھ ہم کو نہیں کام جگرؔ اور کسی سے
کافی ہے بس اک نسبت ِسلطان مدینہ

( منقول )aa
 ·  Translate
2
Tayyab Ul Hassan Mirza's profile photo
 
SubhanAllah
Add a comment...

Touseef Nasrullah

بحث و مباحثہ  - 
 
🎀 اجمیر میں نعتیہ مشاعرہ تھا، فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر صاحب کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے ، وہ کھلے رند تھے اورنعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی۔ اگر فہرست میں ان کانام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہوا۔ منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیداہوگیا۔ کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔

دراصل جگر کا معاملہ تھا ہی بڑا اختلافی۔ بڑے بڑے شیوخ اور عارف باللہ اس کی شراب نوشی کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گناہ گار سمجھتے تھے لیکن لائق اصلاح۔ شریعت کے سختی سے پابند مولوی حضرات بھی ان سے نفرت کرنے کے بجائے افسوس کرتے تھے کہ ہائے کیسا اچھا آدمی کس برائی کا شکار ہے۔ عوام کے لیے وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن تھے شرابی۔ تمام رعایتوں کے باوجود مولوی حضرات بھی اور شاید عوام بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوں۔آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگر ؔکو مدعو کیا جانا چاہیے۔یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگرؔ کی عظمت کا اس سے بڑااعتراف نہیں ہوسکتاتھا۔جگرؔ کو مدعو کیا گیا تووہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔ ’’میں رند، سیہ کار، بد بخت اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں‘‘ ۔

اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب ؔکو تیار کیسے کیا جائے۔ ا ن کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا۔ نعتیہ شاعر حمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے، بالآخر اصغرؔ گونڈوی نے حکم دیا اور وہ چپ ہوگئے۔

سرہانے بوتل رکھی تھی، اسے کہیں چھپادیا، دوستوںسے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے۔دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے، شیرازن سے ہمارا رشتہ فراق کا ہے لیکن شراب سے تو نہیں لیکن مجھے نعت لکھنی ہے ، شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اتراتو کس زبان سے اپنے آقا کی مدح لکھوں گا۔ یہ موقع ملا ہے تو مجھے اسے کھونانہیں چاہیے، شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو۔ شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شایدمجھ پر اس کملی والے کا کرم ہوجائے، شایدخدا کو مجھ پر ترس آجائے۔
ایک دن گزرا، دودن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے تھے اور غزل کہنے لگتے تھے، سوچتے رہے، لکھتے رہے، کاٹتے رہے، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخر ایک دن نعت کا مطلع ہوگیا۔ پھر ایک شعر ہوا، پھر تو جیسے بارش انوار ہوگئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔

مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں۔ کونین کی دولت ان کے پاس ہو۔ جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا ہو۔ انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا۔ادھر تو یہ حال تھا دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہرکے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے۔ لوگ بپھرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جگرصاحب ؔ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھاکہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہوکر نعرے بازی نہ کریں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا۔وہ کئی دن پہلے اجمیر پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرے والے دن آئیں گا۔جگر اؔپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوںکو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرارہے تھے؎

کہاں پھر یہ مستی کہاں ایسی ہستی
جگرؔ کی جگر تک ہی مے خواریاں ہیں

آخر مشاعرے کی رات آگئی۔جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچا دیا گیا۔

’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادابادی!‘‘
اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا…’’آپ لوگ مجھے ہوٹ کررہے ہیں یا نعت رسول پاک کو،جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘۔شور کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ہے

اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ

جوجہاں تھا ساکت ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی زبان سے شعر ادا ہورہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہورہا ہے۔نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی،خواہشِ پناہ تھی، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی۔وہ خود رو رہے تھے اور سب کو رلا رہے تھے، دل نرم ہوگئے، اختلاف ختم ہوگئے، رحمت عالم کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیونکر ہری رہتی۔’’یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں ہے، اس سے کہلوائی گئی ہے‘‘۔مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی۔ اس نعت کے باقی اشعار یوں ہیں:

دامان نظر تنگ و فراوانیِ جلوہ
اے طلعتِ حق طلعتِ سلطانِ مدینہ

اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدق
تو خلد ہے تو جنت ِسلطان مدینہ

اس طرح کہ ہر سانس ہومصروفِ عبادت
دیکھوں میں درِ دولتِ سلطانِ مدینہ

اک ننگِ غمِ عشق بھی ہے منتظرِ دید
صدقے ترے اے صورتِ سلطان مدینہ

کونین کا غم یادِ خدا ور شفاعت
دولت ہے یہی دولتِ سلطان مدینہ

ظاہر میں غریب الغربا پھر بھی یہ عالم
شاہوں سے سوا سطوتِ سلطان مدینہ

اس امت عاصی سے نہ منہ پھیر خدایا
نازک ہے بہت غیرتِ سلطان مدینہ

کچھ ہم کو نہیں کام جگرؔ اور کسی سے
کافی ہے بس اک نسبت ِسلطان مدینہ

( منقول )
 ·  Translate
5
Owais Hyder's profile photoPrince Star's profile photoTouseef Nasrullah's profile photoUmer Farooq's profile photo
4 comments
 
SubhanAllah nice sharing
Add a comment...

Touseef Nasrullah

بحث و مباحثہ  - 
 
 
انشاءاللہ اب بات یہاں تک نہیں رکے گی۔ کفر کے ایوانوں پر لرزہ طاری
ہے۔
سلام اے ترک قوم کے شہباز سلام
کردار تیرا باصفا گفتار تیرا دل نشیں
<3
#Turkey #Erdogan
 ·  Translate
1 comment on original post
9
Add a comment...
In his circles
1,850 people
Have him in circles
21,591 people
Farrukh Zaman's profile photo
waseem ahmed's profile photo
RAZA KHAN Afridi's profile photo
Dr. Syed Hassnain Shah Al-Gilani's profile photo
Peter Kim's profile photo
zahid iqbal's profile photo
Shahbaz Muhammad's profile photo
gerson santo sausa's profile photo
Madiha Malik's profile photo

Touseef Nasrullah

بحث و مباحثہ  - 
 
 
مولویوں نے تباہ کر دیا اس ملک کو کیا واقعی..؟؟؟
ایک تحقیق آپ بھی پڑھیے..
400 کی لینن کی شرٹ اور اتوار بازار سے 480 روپے میں ملنے والے لنڈے کے 3 پاجامے (Tights) پہن کر موم بتی مافیا سے منسلک اور Women Rights کےنام پر چندہ لے کر فیشن شو کرنے والی ہماری کچھ فیس بکی آنٹیوں کا کہنا ہے کہ......
"پاکستان کی تمام تر بربادیوں کا ذمہ دار مولوی ہے.."
ان کی اس بات کو سنجیدہ لے کر میں نے ایک تحقیق کی اور تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچا کہ..
پاکستان کے پہلے گورنر جنرل مدرسہ دیوبند سے مولوی فاضل ڈگری یافتہ تھے..
پہلے صدرِپاکستان نے جامعہ ازہر سے دفاعی امور پر مفتی کا کورس کیا..
پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم مدرسہ بریلی میں 8 سال پڑھے..
سول سروس اکیڈمی رائے ونڈ تبلیغی مرکزمیں ہے..
الیکشن کمیشن، نیب اور پیمرا چئیرمین کے لئے درس نظامی یا مولوی فاضل کی شرط لازمی ھے..
نواز شریف، زرداری، گیلانی اور رحمن ملک کے پاس جامعہ بنوری ٹاؤن کی سند ھے..
ایوب، یحیی اور مشرف حافظ قرآن اور مولوی تھے..
پاکستان ملٹری اکیڈمی منصورہ لاہور میں واقع ہے..
پاکستان کے تمام پارلیمنٹیرنز کے پاس مدرسہ سے تعلیم کی 8 سالہ سند ہونا لازمی ہے..
قومی اداروں مثلاً نادرا، ایف۔ آئی۔اے، واپڈا، پی آئی اے، او جی ڈی سی ایل، پی ٹی سی ایل اور اسٹیل ملز کے ڈائریکٹرز ہمشہ سے مولوی ہی رہے..
ہر چھوٹے بڑے شہروں میں موجود قحبہ خانے Brothels محکمہ اوقاف کی زیرِ نگرانی چلتے ہیں..
تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز پہلے 8 ماہ فیضانِ مدینہ کراچی میں ٹریننگ کرتے ہیں..
میڈیا ہاؤسسز کو مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کنٹرول کرتا ہے..
اور تو اور _ کرکٹ کی تباہی کے زمہ دار بھی مولوی اعجاز بٹ ، مولانا نجم سیٹھی نقشبندی اور حضرت علامہ مولانا شہر یار ہیں..
اور دیکھئے نا جب فارمولا کریم بھی ایک مہینے تک لگانے سے رنگ گورا نا ہو تو اس کا ذمہ دار بھی تو مولوی ہی ہوا نا.. آخر مولوی نے جمعہ کے واعظ میں کیوں نہیں بتایا کہ L'Oréal اور Olay کی نائٹ بیوٹی کریم فارمولا سے بہتر کام کرتی ہے..
بالکل صیح سوچا ماڈرن آنٹیوں لبرل بابوؤں نے..
مولوی....
مولوی مولوی....
مولوی مولوی مولوی....
مولوی مولوی مولوی مولوی....
شرم تم کو مگر نہيں آتی.....
تحریر : محمد عامر یونس.....
Mujhey Hai Hukm e Azan
Abu Bakar Perhiar
 ·  Translate
5 comments on original post
7
foo baig's profile photoUmmeSAAD ِ's profile photoOwais Hyder's profile photoTouseef Nasrullah's profile photo
7 comments
 
+Owais Hyder waqai haqeqar par mabni tehreer he :)) 
 ·  Translate
Add a comment...

Touseef Nasrullah

Shared publicly  - 
 
مولویوں نے تباہ کر دیا اس ملک کو کیا واقعی..؟؟؟
ایک تحقیق آپ بھی پڑھیے..
400 کی لینن کی شرٹ اور اتوار بازار سے 480 روپے میں ملنے والے لنڈے کے 3 پاجامے (Tights) پہن کر موم بتی مافیا سے منسلک اور Women Rights کےنام پر چندہ لے کر فیشن شو کرنے والی ہماری کچھ فیس بکی آنٹیوں کا کہنا ہے کہ......
"پاکستان کی تمام تر بربادیوں کا ذمہ دار مولوی ہے.."
ان کی اس بات کو سنجیدہ لے کر میں نے ایک تحقیق کی اور تحقیق سے اس نتیجے پر پہنچا کہ..
پاکستان کے پہلے گورنر جنرل مدرسہ دیوبند سے مولوی فاضل ڈگری یافتہ تھے..
پہلے صدرِپاکستان نے جامعہ ازہر سے دفاعی امور پر مفتی کا کورس کیا..
پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم مدرسہ بریلی میں 8 سال پڑھے..
سول سروس اکیڈمی رائے ونڈ تبلیغی مرکزمیں ہے..
الیکشن کمیشن، نیب اور پیمرا چئیرمین کے لئے درس نظامی یا مولوی فاضل کی شرط لازمی ھے..
نواز شریف، زرداری، گیلانی اور رحمن ملک کے پاس جامعہ بنوری ٹاؤن کی سند ھے..
ایوب، یحیی اور مشرف حافظ قرآن اور مولوی تھے..
پاکستان ملٹری اکیڈمی منصورہ لاہور میں واقع ہے..
پاکستان کے تمام پارلیمنٹیرنز کے پاس مدرسہ سے تعلیم کی 8 سالہ سند ہونا لازمی ہے..
قومی اداروں مثلاً نادرا، ایف۔ آئی۔اے، واپڈا، پی آئی اے، او جی ڈی سی ایل، پی ٹی سی ایل اور اسٹیل ملز کے ڈائریکٹرز ہمشہ سے مولوی ہی رہے..
ہر چھوٹے بڑے شہروں میں موجود قحبہ خانے Brothels محکمہ اوقاف کی زیرِ نگرانی چلتے ہیں..
تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز پہلے 8 ماہ فیضانِ مدینہ کراچی میں ٹریننگ کرتے ہیں..
میڈیا ہاؤسسز کو مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کنٹرول کرتا ہے..
اور تو اور _ کرکٹ کی تباہی کے زمہ دار بھی مولوی اعجاز بٹ ، مولانا نجم سیٹھی نقشبندی اور حضرت علامہ مولانا شہر یار ہیں..
اور دیکھئے نا جب فارمولا کریم بھی ایک مہینے تک لگانے سے رنگ گورا نا ہو تو اس کا ذمہ دار بھی تو مولوی ہی ہوا نا.. آخر مولوی نے جمعہ کے واعظ میں کیوں نہیں بتایا کہ L'Oréal اور Olay کی نائٹ بیوٹی کریم فارمولا سے بہتر کام کرتی ہے..
بالکل صیح سوچا ماڈرن آنٹیوں لبرل بابوؤں نے..
مولوی....
مولوی مولوی....
مولوی مولوی مولوی....
مولوی مولوی مولوی مولوی....
شرم تم کو مگر نہيں آتی.....
تحریر : محمد عامر یونس.....
Mujhey Hai Hukm e Azan
Abu Bakar Perhiar
 ·  Translate
11
5
Salman Amin's profile photoAyesha Sadiqa's profile photoTouseef Nasrullah's profile photoJade Repaye-Finnerty's profile photo
5 comments
 
It is as though Pakistan is too divided now, I can't even reach some life long friends anymore whom went back for loved one's
Add a comment...

Touseef Nasrullah

Shared publicly  - 
 
6 years ago, the Lords test ended with him walking out of there with his held down in disgrace. He didn't look up to the tens of cameras that were covering him, he couldn't. He just couldn't.

Today, however, was different. He might have been pedestrian in the both innings but the Lords test today ended with Muhammad Amir holding his arms aloft in joy. Roaring like a tiger. The same old airplane celebration we were so accustomed to watch. Running around Lords in jubilation as he hit the stumps to pick the last England wicket.

This was his redemption, this was his moment. Perhaps, not the fairy tale story everyone expected. Perhaps not the sort of redemption even he dreamt of but this was his story. This was his moment. And he's never going to forget that. And for those of you who say that life doesn't give you a second chance, just look at Muhammad Amir with his arms up in the air at Lords.

Credits: One and only, Ajlal Qaisar
5
1
Add a comment...

Touseef Nasrullah

Shared publicly  - 
 
🎀 اجمیر میں نعتیہ مشاعرہ تھا، فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر صاحب کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے ، وہ کھلے رند تھے اورنعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی۔ اگر فہرست میں ان کانام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہوا۔ منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیداہوگیا۔ کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔

دراصل جگر کا معاملہ تھا ہی بڑا اختلافی۔ بڑے بڑے شیوخ اور عارف باللہ اس کی شراب نوشی کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گناہ گار سمجھتے تھے لیکن لائق اصلاح۔ شریعت کے سختی سے پابند مولوی حضرات بھی ان سے نفرت کرنے کے بجائے افسوس کرتے تھے کہ ہائے کیسا اچھا آدمی کس برائی کا شکار ہے۔ عوام کے لیے وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن تھے شرابی۔ تمام رعایتوں کے باوجود مولوی حضرات بھی اور شاید عوام بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوں۔آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگر ؔکو مدعو کیا جانا چاہیے۔یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگرؔ کی عظمت کا اس سے بڑااعتراف نہیں ہوسکتاتھا۔جگرؔ کو مدعو کیا گیا تووہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔ ’’میں رند، سیہ کار، بد بخت اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں‘‘ ۔

اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب ؔکو تیار کیسے کیا جائے۔ ا ن کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا۔ نعتیہ شاعر حمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے، بالآخر اصغرؔ گونڈوی نے حکم دیا اور وہ چپ ہوگئے۔

سرہانے بوتل رکھی تھی، اسے کہیں چھپادیا، دوستوںسے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے۔دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے، شیرازن سے ہمارا رشتہ فراق کا ہے لیکن شراب سے تو نہیں لیکن مجھے نعت لکھنی ہے ، شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اتراتو کس زبان سے اپنے آقا کی مدح لکھوں گا۔ یہ موقع ملا ہے تو مجھے اسے کھونانہیں چاہیے، شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو۔ شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شایدمجھ پر اس کملی والے کا کرم ہوجائے، شایدخدا کو مجھ پر ترس آجائے۔
ایک دن گزرا، دودن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے تھے اور غزل کہنے لگتے تھے، سوچتے رہے، لکھتے رہے، کاٹتے رہے، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخر ایک دن نعت کا مطلع ہوگیا۔ پھر ایک شعر ہوا، پھر تو جیسے بارش انوار ہوگئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔

مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں۔ کونین کی دولت ان کے پاس ہو۔ جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا ہو۔ انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا۔ادھر تو یہ حال تھا دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہرکے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے۔ لوگ بپھرے ہوئے تھے۔ اندیشہ تھا کہ جگرصاحب ؔ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھاکہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہوکر نعرے بازی نہ کریں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا۔وہ کئی دن پہلے اجمیر پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرے والے دن آئیں گا۔جگر اؔپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوںکو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرارہے تھے؎

کہاں پھر یہ مستی کہاں ایسی ہستی
جگرؔ کی جگر تک ہی مے خواریاں ہیں

آخر مشاعرے کی رات آگئی۔جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچا دیا گیا۔

’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادابادی!‘‘
اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا…’’آپ لوگ مجھے ہوٹ کررہے ہیں یا نعت رسول پاک کو،جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘۔شور کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ہے

اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ

جوجہاں تھا ساکت ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی زبان سے شعر ادا ہورہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہورہا ہے۔نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی،خواہشِ پناہ تھی، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی۔وہ خود رو رہے تھے اور سب کو رلا رہے تھے، دل نرم ہوگئے، اختلاف ختم ہوگئے، رحمت عالم کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیونکر ہری رہتی۔’’یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں ہے، اس سے کہلوائی گئی ہے‘‘۔مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی۔ اس نعت کے باقی اشعار یوں ہیں:

دامان نظر تنگ و فراوانیِ جلوہ
اے طلعتِ حق طلعتِ سلطانِ مدینہ

اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدق
تو خلد ہے تو جنت ِسلطان مدینہ

اس طرح کہ ہر سانس ہومصروفِ عبادت
دیکھوں میں درِ دولتِ سلطانِ مدینہ

اک ننگِ غمِ عشق بھی ہے منتظرِ دید
صدقے ترے اے صورتِ سلطان مدینہ

کونین کا غم یادِ خدا ور شفاعت
دولت ہے یہی دولتِ سلطان مدینہ

ظاہر میں غریب الغربا پھر بھی یہ عالم
شاہوں سے سوا سطوتِ سلطان مدینہ

اس امت عاصی سے نہ منہ پھیر خدایا
نازک ہے بہت غیرتِ سلطان مدینہ

کچھ ہم کو نہیں کام جگرؔ اور کسی سے
کافی ہے بس اک نسبت ِسلطان مدینہ

( منقول )
 ·  Translate
4
5
ABDUL  QAYYUM RAO's profile photoadnan muneer's profile photo
2 comments
 
Tanks for information 
Add a comment...

Touseef Nasrullah

تبصرے 📤📥  - 
 
 
انشاءاللہ اب بات یہاں تک نہیں رکے گی۔ کفر کے ایوانوں پر لرزہ طاری
ہے۔
سلام اے ترک قوم کے شہباز سلام
کردار تیرا باصفا گفتار تیرا دل نشیں
<3
#Turkey #Erdogan
 ·  Translate
1 comment on original post
39
Owais Hyder's profile photo
 
ان شاء اللہ 
 ·  Translate
Add a comment...
People
In his circles
1,850 people
Have him in circles
21,591 people
Farrukh Zaman's profile photo
waseem ahmed's profile photo
RAZA KHAN Afridi's profile photo
Dr. Syed Hassnain Shah Al-Gilani's profile photo
Peter Kim's profile photo
zahid iqbal's profile photo
Shahbaz Muhammad's profile photo
gerson santo sausa's profile photo
Madiha Malik's profile photo
Work
Occupation
Accountants
Basic Information
Gender
Male
Story
Tagline
*_Main Janta Hu ke Kuch to Hu Q K Mera Allah Koi Bhi Cheez Bekar Nahi Banata_*
Introduction
*_Main Janta Hu ke Kuch to Hu 

Q K 

Mera Allah 

Koi Bhi Cheez Bekar Nahi Banata_*
Education
  • Federal Urdu University
    Finance