Profile

Cover photo
Usman Amin
Attends Superior University, Lahore
Lives in Lahore
780 followers|56,759 views
AboutPostsPhotos

Stream

Usman Amin

Shared publicly  - 
 
 
حکومت کے منہ پر ایک طمانچہ
 ·  Translate
16 comments on original post
2
1
Ghar47's profile photoHaris Rehman's profile photo
Ghar47
+
1
2
1
 
nice sharing
Add a comment...

Usman Amin

Shared publicly  - 
 
 
When I Try To Wake Up In The Morning
26 comments on original post
1
Add a comment...

Usman Amin

Shared publicly  - 
 
 
دن کے روزے اور رات کی عبادت کی حفاظت کیجیے:
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: "رب صائم ليس له من صيامه إلا الجوع . ورب قائم ليس له من قيامه إلا السهر" (سنن ابن ماجہ:1690،باب ما جاء فی الغیبۃ و صححہ الألبانی)
#MuslimPakistani  
 ·  Translate
4 comments on original post
2
Add a comment...

Usman Amin

Shared publicly  - 
 
 
اے فحش تصاویر اور ویڈیو نشر کرنے والے!
 ·  Translate
5 comments on original post
2
Add a comment...
In his circles
869 people
Have him in circles
780 people
samir benmoumen's profile photo
Farman Malik's profile photo
marlie Geelen's profile photo
Khalil Rehman's profile photo
Ibrahim Mohammad's profile photo
Ashok Saini's profile photo
Muhammad Bilal's profile photo
munaaf khoka's profile photo
Yousuf Sohail Saqib (Sualeh Faris)'s profile photo

Usman Amin changed his profile photo.

Shared publicly  - 
1
Add a comment...

Usman Amin

Shared publicly  - 
 
Eid Mubarik to all Friends and Family members... 😊
1
Add a comment...

Usman Amin

Shared publicly  - 
1
Add a comment...

Usman Amin

Shared publicly  - 
 
 
حضرت رابعہ بصری رح
-------------------

ایک سو پانچ ہجری میں بصرہ میں ایسا قحط پڑا کہ لوگ نہ صرف محبت کے لطیف و نازک جذبات کو بھول گئے بلکہ ان کے سینے نفسانی خواہشوں کے ہجوم سے بھر گئے تھے۔ وہ اپنےشکم کی آگ بجھانے کیلئے اپنے ہم جنسوں کو ارزاں داموں پر فروخت کرنے لگے۔ اولادیں‘ ماں‘باپ پر گراں تھیں اور اولادوں پر ماں باپ ایک بوجھ تھے۔ بیویاں شوہروں کیلئے باعث آزار تھیں۔۔۔۔ اور بہنیں بھائیوں کیلئے ایک مستقل عذاب بن چکی تھیں۔ خاندانی اور علاقائی رشتوں کا تو ذکر ہی کیا‘ خونی رشتے بھی بےاعتبار ہو چکے تھے۔ عجیب نفسانفسی کا عالم تھا۔ ماں باپ اولادوں سے ہاتھ چھڑا رہے تھے۔۔۔۔ بھائیوں نے بہنوں سے منہ پھیر لیا تھا اور دوست ایک دوسرے کو پہنچاننے سے گریزاں تھے۔ بھوک کا عفریت اپنا خونی دہن کھولے کھڑا تھا۔۔۔۔ اور تمام انسانی رشتے‘ احساسات و جذبات‘ عقائد و نظریات اس کی خوراک بنتے جا رہے تھے۔
اسی ہولناک فضاء میں بصرہ کے ایک چھوٹے سے خاندان پر قیامت گزر گئی۔ یہاں چار بہنیں رہا کرتی تھیں جن کے ماں باپ دنیا سے رخصت ہو گئے تھے۔ بظاہر کوئی نگراں اور کفیل نہیں تھا۔ یہ سب بہنیں مل کر محنت مزدوری کیا کرتی تھیں۔۔۔۔ مگر جب شہر بصرہ قحط کی لپیٹ میں آیا تو سارے کاروبار دم توڑ گئے اور مزدوریاں ختم ہو گئیں۔ نو عمر لڑکیوں نے دو تین فاقے تو برداشت کر لئے مگر جب بھوک حد سے گزری تو کسی کو اپنا ہوش نہ رہا۔ بھیک تک کی نوبت آ گئی مگر کوئی کیسے بھیک دیتا کہ دینے والے کے پاس خود کچھ نہیں تھا۔ یہ تمام بہنیں زرد چہروں اور پتھرائی ہوئی آنکھوں سے آسمان کی طرف دیکھ رہی تھیں کہ بصرہ کامشہور تاجر عتیق ادھر سے گزرا۔ فاقہ زدہ بہنوں نے آسودہ حال شخص کے سامنے دست سوال دراز کر دیا۔
”خدا کیلئے ہمیں کچھ کھانےکو دو۔ ورنہ کچھ دیر بعد ہماری سانسوں کا رشتہ ہمارے جسموں سے منقطع ہو جائے گا۔“
تاجر عتیق نے سب سے چھوٹی بہن کی طرف دیکھا جو خاموش بیٹھی تھی۔ ”لڑکی! تجھے بھوک نہیں ہے۔“ 
”بہت بھوک ہے۔“ سب سے چھوٹی بہن نے نقاہت زدہ لہجے میں جواب دیا۔ ”تو پھر کسی سے روٹی کیوں نہیں مانگتی؟“ تاجر نے سوال کیا۔
”جس سے مانگنا چاہئے اسی سے مانگ رہی ہوں۔“ لڑکی نے بڑا عجیب جواب دیا۔
”تو پھر تجھے ابھی تک روٹی کیوں نہیں ملی؟“ تاجر عتیق نے حیران ہو کر دوسرا سوال کیا۔
”جب وقت آئے گا تو وہ بھی مل جائےگی۔“ لڑکی کا انداز گفتگو مبہم تھا مگر لہجےسے بڑی استقامت جھلک رہی تھی۔
تینوں بڑی بہنیں چھوٹی بہن کی بے سر و پا باتوں سے بیزار تھیں۔ اس لئے جھنجھلا کر بولیں۔ ”یہ ہم سب کا وقت برباد کر رہی ہے۔ آپ اسے یہاں سے لے جائیں۔“
”یہ لڑکی بڑے کام کی ہے۔ میں اسے لے کر ہی جائوں گا۔“ تاجر عتیق نےتینوں بہنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ اور پھر ایک مخصوص رقم ان کے حوالے کر دی۔
”چلو لڑکی“ تاجر نے چھوٹی بہن سے کہا۔ ”اب تم میری ملکیت ہو۔“
لڑکی نے اپنی بہنوں کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے مگر ہونٹوں پر حرف شکایت نہیں تھا۔ وہ تاجر عتیق کے ساتھ چپ چاپ چلی گئی۔ اس نے کئی بار مڑ کر دیکھا۔ لڑکی کی آنکھوں میں بس ایک ہی سوال تھا۔
”کیا تم نے چند روٹیوں کیلئے اپنی چھوٹی بہن کو فروخت کر دیا ہے“۔
تینوں بہنوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہیں بھوک کے عفریت سے نجات مل گئی تھی اور وہ تاجر کے دیئے ہوئے سکے گننے میں مصروف تھیں۔ پھر انہیں اپنی چھوٹی بہن کی آنکھوں میں لرزنے والی معصوم حسرتیں اور کانپتے ہوئے سوالات کس طرح نظر آتے؟ آخر لڑکی نظروں سے اوجھل ہو گئی اور ضرورت کے بےرحم ہاتھ نےخونی رشتوں کو جدا کر دیا۔
نوعمر ہونے کے باوجود وہ لڑکی انتہائی مشقت اور ذمہ داری کے ساتھ اپنا کام پورا کرتی اور مالک کو کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ دیتی۔ یہاں تک کہ اسی عالم میں کئی سال گزر گئے۔ اب اس لڑکی کی عمر بارہ تیرہ سال کے قریب تھی۔ جیسے جیسے عمر بڑھتی جا رہی تھی‘ لڑکی کے ذوق عبادت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ گھر کا کام کرنے کے بعد وہ رات رات بھر عبادت میں مصروف رہتی۔ پھر صبح ہوتے ہی اپنے آقا کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے گھر کے کاموں میں مشغول ہو جاتی۔ آخر شدید محنت نے اس معصوم جان کو تھکا ڈالا۔
”کیا تو بیمار ہے؟“ لڑکی کے چہرے پر تھکن کے آثار دیکھ کر ایک دن مالک نے پوچھا۔ لڑکی نے نفی میں آقا کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ ”کیا میں اپنےفرائض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی کی مرتکب ہو رہی ہوں۔“ مالک نے اس کے کام کی تعریف کی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھے۔
لڑکی نے آقا کا حکم سنا اور سر جھکا دیا مگر اس کے معمولات میں کوئی کمی نہ آئی۔ وہ اجالے میں دنیاوی مالک کی خدمت انجام دیتی اور اندھیرے میں مالک حقیقی کے سامنے سجدہ ریز ہو جاتی۔ ایک دن اتفاق سے نصف شب کے قریب آقا کی آنکھ کھل گئی۔ وہ اپنے کمرے سے نکل کر ٹہلنے لگا۔ اچانک اس کی نظر کنیز کی کوٹھڑی پر پڑی۔ وہاں چراغ جل رہا تھا۔ ”یہ کنیز ابھی تک جاگ رہی ہی؟“ آقا بڑی حیرت کے ساتھ کنیز کےجاگنے کا سبب جاننے کیلئے کوٹھڑی کی طرف بڑھا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا۔ مالک دبے قدموں اندر داخل ہوا۔ اب اس کی آنکھوں کے سامنے ایک ناقابل یقین منظر تھا۔ کنیز سجدے کی حالت میں تھی اور دبی دبی سسکیاں ابھر رہی تھیں۔ مالک کی حیرت میں کچھ اور اضافہ ہو گیا۔ وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھا۔ پھر اس نے کان لگا کر سنا۔ کنیز انتہائی رقت آمیز لہجے میں دعا مانگ رہی تھی۔ ”اے اللہ! تو میری مجبوریوں سے خوب واقف ہے۔ گھر کا کام کاج مجھے تیری طرف آنے سے روکتا ہے۔ تو مجھے اپنی عبادت کیلئے پکارتا ہے مگر میں جب تک تیری بارگاہ میں حاضر ہوتی ہوں‘ نمازوں کا وقت گزر جاتا ہے۔ اس لئےمیری معذرت قبول فرما لے اور میرے گناہوں کو معاف کر دے۔“ مالک نے کنیز کی گریہ و زاری سنی تو خوفِ خدا سے لرزنے لگا۔ روایت ہےکہ اس واقعے سے پہلے تاجر عتیق ایک ظالم شخص تھا۔ اپنے غلاموں اور کنیزوں سے بےپناہ مشقت لیتا تھا اور انہیں پیٹ بھر کر کھانا تک نہیں دیتا تھا۔ آج رات ایک کنیز کو اس طرح سجدہ ریز دیکھا تو پتھر دل پگھل گیا اور اسے اپنے ماضی پر ندامت ہونے لگی۔ الٹے قدموں واپس چلا آیا اور رات کا باقی حصہ جاگ کر گزار دیا۔ پھر صبح ہوتے ہی کنیز کی کوٹھری میں پہنچا اور کہنے لگا۔
”آج سےتم آزاد ہو‘جہاں چاہو چلی جاؤ۔“
”مگر میں تمہاری دی ہوئی قیمت ادا نہیں کر سکتی۔“ کنیز نےحیران ہو کر کہا۔
”میں تم سےکوئی قیمت نہیں مانگتا مگر ایک چیز کا سوال کرتا ہوں۔“ تاجر عتیق کے لہجے سے عاجزی کا اظہار ہو رہا تھا۔ ”میری طرف سے کی جانے والی تمام زیادتیوں کو اس ذات کے صدقے میں معاف کر دو جس کی عبادت تم راتوں کی تنہائی میں چھپ کر کرتی ہو۔“
”میں نےتمہیں معاف کیا۔ میرا مالک تمہیں ہدایت دے“ یہ کہہ کر کنیز چلی گئی۔
یہ معصوم اور یتیم بچی اور شب بیدار کنیز مشہور قلندر حضرت رابعہ بصری رح تھیں۔۔

حضرت رابعہ بصری رح کو اولیاء میں انتہائی بلند مقام حاصل ہے آپ قلندرانہ اوصاف رکھتی تھیں۔ قلندر وہ ہے جو وحدت میں غرق ہو کر مرتبہ عبدیت کا مشاہدہ کرتا رہے اور مشاہدے کے بعد انسانی مرتبے پر واپس پہنچ کر عبدیت کا مقام حاصل کرے۔ اللہ تعالیٰ اپنے جس بندے کو قلندر کا مقام عطا کرتا ہے وہ زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے لیکن اللہ کے نیک بندے بے غرض، ریا، طمع، حرص، لالچ اور منافقت سے پاک ہوتے ہیں اور جب اللہ کی مخلوق ان سے رجوع کرتی ہے تو یہ ان کی رہنمائی کرتے ہیں ان کی پریشانیوں کا تدارک بھی کرتے ہیں کیونکہ قدرت نے انہیں اسی کام کیلئے مقرر کیا ہے۔ یہی وہ پاکیزہ اور قدسی نفس اللہ کے بندے ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’میں اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہوں اور ان کے کان آنکھ اور زبان بن جاتا ہوں پھر وہ میرے ذریعے سنتے اور بولتے ہیں اور میرے ذریعے چیزیں پکڑتے ہیں۔‘
حضرت رابعہ بصری کی پیدائش 95 سے 99ھ کے دوران بصرہ، عراق میں ہوئی۔ آپ کی ابتدائی زندگی کی زیادہ تر تفصیلات شیخ فریدالدین عطار کے حوالے سے ملتی ہیں۔ رابعہ بصری سے جڑی بے شمار روحانی کرامات کے واقعات بھی ملتے ہیں ،جن میں اگرچہ کچھ سچے ہیں لیکن کچھ خود ساختہ اختراعات بھی ہیں۔ تاہم رابعہ بصری سے متعلق زیادہ تر معلومات و حوالہ جات وہ مستند مانے جاتے ہیں جوکہ شیخ فریدالدین عطار نے بیان کئے ہیں جوکہ رابعہ بصری کے بعد کے زمانے کے ولی اور صوفی شاعر ہیں کیونکہ رابعہ بصری نے خود کوئی تحریری کام نہ کیا۔
رابعہ بصری اپنے والدین کی چوتھی بیٹی تھیں ،اسی لئے آپ کا نام رابعہ یعنی ’چوتھی‘ رکھا گیا۔ وہ ایک انتہائی غریب لیکن معزز گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ رابعہ بصری کے والدین کی غربت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جس شب رابعہ بصری پیدا ہوئیں،آپ کے والدین کے پاس نہ تو دیاجلانے کے لئے تیل تھا اورآپ کو لپیٹنے کے لئے کوئی کپڑا۔ آپ کی والدہ نے اپنے شوہر یعنی آپ کے والد سے درخواست کی کہ پڑوس سے تھوڑا تیل ہی لے آئیں تاکہ دیا جلایا جا سکے لیکن آپ کے والد نے پوری زندگی اپنے خالقِ حقیقی کے علاوہ کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلایا تھا، لہٰذا وہ پڑوسی کے دروازے تک تو گئے لیکن خالی ہاتھ واپس آ گئے۔
رات کو رابعہ بصری کے والد کو خواب میں حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت ہوئی اور انہوں صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے رابعہ کے والد کو بتایاکہ ”تمہاری نومولود بیٹی ،خدا کی برگزیدہ بندی بنے گی اور مسلمانوں کو صحیح راہ پر لے کر آئے گی۔ تم امیرِ بصرہ کے پاس جاؤ اور اس کو ہمارا پیغام دو کہ تم (امیرِ بصرہ) ہر روز رات کو سو(100) دفعہ اور جمعرات کو چار سو (400) مرتبہ درود کا نذرانہ بھیجتے ہو لیکن پچھلی جمعرات کو تم نے درود شریف نہ پڑھا، لہذٰا اس کے کفارہ کے طور پر چار سو (400) دینار بطور کفارہ یہ پیغام پہنچانے والے کو دے دے۔
رابعہ بصری کے والد اٹھے اور امیرِ بصرہ کے پاس پہنچے اس حال میں کہ خوشی کے آنسو آپ کی آنکھوں سے جاری تھے۔ جب امیرِ بصرہ کو رابعہ بصری کے والد کے ذریعے حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا پیغام ملا تو یہ جان کر انتہائی خوش ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نظروں میں ہے۔ اس کے شکرانے کے طور پر فوراً ایک ہزار (1,000) دینار غرباء میں تقسیم کرائے اور چار سو (400)دینار رابعہ بصری کے والد کو ادا کئے اور ان سے درخواست کے جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہو بلاجھجھک تشریف لائیں۔

حضرت رابعہ فرماتی ہیں۔ ’میں کبھی تنہا نہیں رہی ہر لمحے اللہ میرے ساتھ ہوتا ہے۔ میں جلوہ خداوندی کا نظارہ کرتی ہوں اور خدا کو پہچانتی ہوں ۔‘ ایک بار دو درویش آپ کے گھر مہمان آئے اس وقت گھر میں صرف دو روٹیا ں تھیں حضرت رابعہ نے ارادہ کیا وہی دو روٹیاں مہمانوں کے سامنے رکھ دیں گی اسی دوران دروازے پر کوئی سائل آ گیا۔ حضرت رابعہ نے سائل کو زیادہ مستحق سمجھتے ہوئے وہ روٹیاں اسے دے دیں اور خود اللہ پر توکل کر کے بیٹھ گئیں۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ بصرہ کی کسی رئیس خاتون نے اپنی کنیز کے ہاتھوں کھانے کا ایک خوان ان کے یہاں بھیجا۔ انھوں نے وہ خوان مہمانوں کے آ گے رکھ دیا۔
زندگی کے آخری ایام میں آپ حد درجہ عبادت و ریاضت میں مشغول ہو گئیں ضعف کا یہ عالم ہو گیا تھا کہ نماز پڑھتے ہوئے گر جاتی تھیں۔ حضرت رابعہ کی خواہش تھی کہ ان کو عام لوگوں کی طرح سپرد خاک کیا جائے اور قبر کو امتیازی اہمیت نہ دی جائے۔ ایک دن آپ درس دے رہی تھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلاوا آ گیا ۔ حضرت رابعہ نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ باہر چلے جائیں اور خلوت نشیں ہو کر لیٹ گئیں کچھ دیر بعد آپ کی روح قفس عنصری سے آزاد ہو گئی۔
رابعہ بصری نے گوشہ نشینی اور ترک دنیا کے شوق کے پیش نظر آزادی ملنے کے بعد صحراؤں کارخ کیا۔ وہ دن رات معبودِ حقیقی کی یاد میں محو ہو گئیں۔ خواجہ حسن بصری، رابعہ بصری کے مرشد تھے۔ غربت، نفی اور عشقِ الٰہی ان کے ساتھی تھے۔ ان کی کل متاع حیات ایک ٹوٹا ہوا برتن، ایک پرانی دری اور ایک اینٹ تھی، جس سے وہ تکیہ کا کام بھی لیتی تھیں۔ وہ تمام رات عبادت و ریاضت میں گزار دیتی تھیں اور اس خوف سے نہیں سوتی تھیں کہ کہیں عشق الٰہی سے دور نہ ہو جائیں۔ جیسے جیسے رابعہ بصری کی شہرت بڑھتی گئی، آپ کے معتقدین کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ آپ نے اپنے وقت کے جید علماء، محدثین و فقہا سے مباحثوں میں حصہ لیا۔ رابعہ بصری کی بارگاہ میں بڑے بڑے علماء نیاز مندی کے ساتھ حاضر ہوا کرتے تھے۔ ان بزرگوں اور علماء میں سرفہرست حضرت سفیان ثوری ہیں جو کہ امام اعظم امام ابوحنیفہ کے ہم عصر تھے اور جنہیں امیرالمومنین فی الحدیث کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔
گو انہیں شادی کے لئے کئی پیغامات آئے، جن میں سے ایک پیغام امیرِ بصرہ کا بھی تھا لیکن آپ نے تمام پیغامات کو رد کر دیا کیونکہ آپ کے پاس سوائے اپنے پروردگار کے اور کسی چیز کے لئے نہ تو وقت تھا اور نہ ہی طلب۔ رابعہ بصری کو کثرت رنج و الم اور حزن و ملال نے دنیا اور اس کی دلفریبیوں سے بیگانہ کر دیا۔ رابعہ بصری کے مسلک کی بنیاد ”عشقِ الٰہی “ پر ہے۔
ایک مرتبہ لوگوں نے دیکھاکہ حضرت رابعہ بصری جذب کی حالت بصرہ کی گلیوں میں ایک ہاتھ میں مشعل اور دوسرے ہاتھ میں پانی لے کر جا رہی ہیں، جب لوگوں نے پوچھا کہ یہ آپ کیا کرنے جا رہی ہیں تو رابعہ بصری نے جواب دیا کہ میں اس آگ سے جنت کو جلانے اور اس پانی سے دوزخ کی آگ بجھانے جا رہی ہوں تاکہ لوگ اس معبودِ حقیقی کی پرستش جنت کی لالچ یا دوزخ کے خوف سے نہ کریں بلکہ لوگوں کی عبادت کا مقصد محض اللہ کی محبت بن جائے۔
ایک مرتبہ رابعہ بصری سے پوچھا گیا کہ کیا آپ شیطان سے نفرت کرتی ہیں؟ رابعہ بصری نے جواب دیا کہ خدا کی محبت نے میرے دل میں اتنی جگہ ہی نہیں چھوڑی کہ اس میں کسی اور کی نفرت یا محبت سما سکے۔
رابعہ بصری نے تقریباً اٹھاسی (88) سال کی عمر پائی لیکن آخری سانس تک آپ نے عشق الٰہی کی لذت و سرشاری کو اپنا شعار بنائے رکھا اور اپنی آخری سانس تک معبودِ حقیقی کی محبت کا دم بھرتی رہیں۔
 ·  Translate
7 comments on original post
1
Add a comment...

Usman Amin

Shared publicly  - 
3
1
M.F. Hussain's profile photo
 
Gooooood Dear I Enjoy It
Add a comment...

Usman Amin

Shared publicly  - 
 
 
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Ik achi baat. 
 ·  Translate
36 comments on original post
4
Add a comment...
People
In his circles
869 people
Have him in circles
780 people
samir benmoumen's profile photo
Farman Malik's profile photo
marlie Geelen's profile photo
Khalil Rehman's profile photo
Ibrahim Mohammad's profile photo
Ashok Saini's profile photo
Muhammad Bilal's profile photo
munaaf khoka's profile photo
Yousuf Sohail Saqib (Sualeh Faris)'s profile photo
Work
Occupation
Student of Bachelor of Business Administration in Superior University, Lahore
Places
Map of the places this user has livedMap of the places this user has livedMap of the places this user has lived
Currently
Lahore
Previously
Punjab - Pakistan
Story
Tagline
Observation & Information ... Talk less act more, Speak less show more, Don't make promises just prove.....
Introduction
Hey ! You yes You are currently reading Usman Amin's profile..... I am a Muslim Pakistani.... Student of BBA at Superior University, Raiwand Road, Lahore........live in Lahore Pakistan....

I am only one Usman Amin in the population of 7.047 billion, so i think i am very unique in this world.... A cool minded personality......

My Hobbies are doing Photography ( Landscape, portrait, family, Etc)
love to learn..... Highly Motivated to Explore things specially my own identity.... Spiritualism & Meditaion...... And  Martial Arts & Yoga are my greatest activities....

Source of Inspiration:
ALLAH Almighty ( i don't get disappointed because ALLAH never let me.... He never leaves me alone)
Prophet Muhammad ( PBUH)
Allama Iqbal ( poetry)
Quaid-e-Azam

About my life i don't think this is mine it would be Grab someday..... the only way to escape from dying is to serve your life for Islam..... 

Meray Mehbub Waten, Tujh pay agar jaan ho nisaar......

Mai ye Samjhu ga , Thikana laga Sarmaya-e-tan....
Bragging rights
Well how i can brag about something which i really don't have my own.... But even though I am proud to be a Umati of Prophet Muhammad ( Peace & Blessings of Allah be Upon Him).... Then Fastest Street Biker frequent time Street Racing Winner.... Then Topper of my Class & Nominated as best student & best Presenter of the Class.....
Education
  • Superior University, Lahore
    present
Basic Information
Gender
Male
Relationship
Single
Other names
Einstein