Profile

Cover photo
Console human rights international
138,634 views
AboutPostsPhotosYouTube

Stream

 
Burning holy Bible in Pakistan is not blasphemy under act of Pakistan government law 295 section C
1
Add a comment...
 
Aqil Sheraz as Chairman CHRIT, team members and others organizations are doing protest against Peshawar Church blast in front of Karachi PRESS club.
1
Add a comment...
 
Aqil Sheraz as Social worker with Saleem Khursheed MPA Sindh on Venus TV 05 07 2012
1
Add a comment...
 
مولویوں اور سرکاری مومنوں کو پاگل ھونے سے پہلے روکا جاے
 ·  Translate
1
Add a comment...
 
Alert News: Where are the Pakistani Christians leaders now? They are talking so much. They always giving statements in the newspapers all is well in Pakistan. All minorities having a freedom.
Christian city Mandi Bahaudeen Punjab Pakistan is under thread of Muslims. Muslims leaders and Muslim population announced to burn this Christian town with alive Christian inside. Thousands of Christians and women with children life is just alive for few hours. Where western and global media is no one is arising any voice and no one is active to save this innocent Christian town.
Console Human Rights International Trust

3
3
robert barrett's profile photoConsole human rights international's profile photo
2 comments
 
Thanks brother need for prayer/Jesus coming soon.God bless you and all Christians peoples in world.
Add a comment...
 

STORY OF ASIA BIBI!
یہ کہانی شروع ہوتی ہے شیخوپورہ کے نواحی گاوں ''اٹاں والی'' سے جہاں کی آسی می ایک عیسائی عورت جس کا شوہر عاشق حسین بھٹہ پر کام کرتا ہے جبکہ آسیہ کھیتوں میں مزدوری کرتی ہے. ...آسیہ اور عاشق کے پانچ بچے ہیں. ..ایک دن آسیہ دیگر مسلمان عورتوں کے ساتھ فالسے کی فصل کی چنائی کر رہی ہوتی ہے کہ دوپہر کو دیگر عورتیں اسے پاس کے ٹیوب ویل سے گھڑا بھر کے لانے کا کہتی ہیں ...وہ ٹیوب ویل سے گھڑا بھرنے کے لیے جاتی ہے ٹیوب ویل پر اس کی ہمسائی جس کے ساتھ آسیہ کا زمین کا جھگڑا چل رہا تھا بھی موجود ہوتی ہے. .آسیہ گھڑا بھر کر واپس کھیت میں آ جاتی ہے پیچھے سے اس کی وہ ہمسائی بھی کھیتوں میں آ جاتی ہے اور دیگر مسلمان عورتوں کو بتاتی ہے کہ آسیہ نے گھڑے سے بندھے گلاس کے ساتھ پانی پیا ہے یہ گلاس پلید کرکے اب اس پلید اور جوٹھے گلاس سے تمہیں پانی پلائے گی . .یہ بات سنتے ہی وہ کام کرنے والی مسلمان خواتین شدید بھڑک کر آسیہ کو برا بھلا کہنے لگ گئیں. .آسیہ اور ان مسلمان عورتیں میں شروع ہونے والی لڑائی گالم گلوچ سے بڑھ کر مزہبی بیان بازی کا رنگ اختیار کر جاتی ہے. حالات کو ناموافق گردانتے ہوئے آسیہ دوپہر کو ہی کھیت چھوڑ کر گھر چلی جاتی ہے .. پیچھے سے آسیہ کی ہمسائی آبادی کے امام مسجد کے پاس چلی جاتی ہے اور اسے بھڑکاتی ہے . .امام مسجد گاوں کے لوگوں کو اکٹھا کر کے رات کو آسیہ کے گھر پر دھاوا بول دیتا ہے. ..آسیہ کے تمام اہل خانہ کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اس کے بعد آسیہ کو پولیس کے حوالے کر دیتے ہیں اور یوں آسیہ کے خلاف متعلقہ تھانے میں 295 c تعزیرات پاکستان کے تحت توہین رسالت کا مقدمہ قائم کر دیا جاتا ہے. ..آسیہ کو ایک سال جیل میں رکھا جاتا ہے اور سال بعد اس پر مقدمہ چلایا جاتا ہے. ..آسیہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی صحت سے انکار کرتی ہے لیکن کیونکہ گاوں کے لوگ اس کے خلاف گواہی دیتے ہیں اس لیے شیخوپورہ کی عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج محمد نوید اقبال اس کو توہین رسالت کا مجرم قرار دے کر سزائے موت دے دیتے ہیں. .آسیہ کا خاوند سزا کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کرتا ہے جہاں پر اس کیس کو مقامی اخبارات میں خوب پبلسٹی ملتی. .. ایک انگریزی اخبار کے کالم نگار رسول بخش رئیس اس پر انگریزی میں ایک کالم لکھ دیتے ہیں جسے پڑھنے کے بعد بیرون ملک آسیہ کی ہمدردی میں بہت زیادہ آوازیں بلند ہوتی ہیں یہاں تک کہ Pope Bendit 16 بھی آسیہ کے حق میں بیان دے دیتا ہے. ..پوپ کے بیان کے بعد ہمارے علما آسیہ کے خلاف بیان بازی اور مظاہرے شروع کر دیتے ہیں. .حالات کی نزاکت کے پیش نظر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے شیریں رحمان کی ذمہ داری لگائی کہ وہ معاملات کی تہ تک پہنچیں. .شیریں رحمان آسیہ سے ملنے جیل گئیں اور آسیہ سے اس سے حقائق معلوم کیے. .ان حقائق کے مدنظر ایک خفیہ انکوائری کروائی جاتی ہے. .خفیہ انکوائری جو کہ کام کرنے والی عورتوں کے بیانات پر تھی کے مطابق آسیہ اور مسلمان خواتین کے درمیان تلخ کلامی ضرور ہوئی تھی لیکن بات توہین رسالت تک نہیں پہنچی تھی. .اس کے علاوہ ایک اور سنگین حقیقت سامنے آتی ہے کہ مسجد کے امام نے آسیہ سے ہم بستری کا تقاضا کیا تھا جسے پورا نہ کرنے پر امام نے اسے سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی اور یوں آسیہ کے اس انجام میں آسیہ کی ہمسائی کے ساتھ ساتھ امام مسجد کا بھی برابر کا کردار تھا. ..اس انکوائری کی ایک کاپی سلمان تاثیر کی نظروں سے بھی گزرتی ہے اور وہ اتنی بڑی ناانصافی کا ازالہ کرنے کے لیے اپنی بیوی آمنہ تاثیر اور بیٹی شہر بانو کے ہمراہ آسیہ سے ملنے جیل میں چلا جاتا ہے اور اسے یقین دلاتا ہے کہ وہ صدر مملکت آصف علی زرداری سے اس کی سزائے موت معاف کروانے کی کوشش کرے گا ..جیل سے نکلتے وقت سلمان تاثیر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آسیہ کے ساتھ سخت زیادتی ہوئی ہے. .کئی سال سے وہ اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہی ہے ...وہ آسیہ کے کیس کے سنگین حقائق منظر عام پر آنے کے بعد کوشش کریں گے کہ اس قانون میں ترمیم کر کے اس میں ایک شق یہ بھی ڈالی جائے کہ اگر کوئی شخص کسی شخص پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگائے تو وہ بھی توہین رسالت کا مرتکب سمجھا جائے. .
...اگلی صبح ملک کے ایک بہت بڑے اخبار روزنامہ پاکستان پر یہ لیڈ لگ گئی کہ سلمان تاثیر نے ناموس رسالت کے قانون کو سیاہ قانون کہا ہے. ..خبر کا چھپنا تھا کہ جگہ جگہ سلمان تاثیر اور شیری رحمان کے خلاف مظاہرے شروع ہوگئے جمعہ کے خطابات میں ان کے قتل کے فتوے دیے گئے اور پھر پورے ملک نے دیکھا کہ ایک شخص جو کہ گورنر سلمان تاثیر کی حفاظت پر مامور تھا نے ہی گولیاں مار کر گورنر پنجاب کو شہید کر دیا..
سلمان تاثیر 4 جنوری 2011 کو اپنے ایک دوست کی دعوت پر اسلام آباد کی کہسار مارکیٹ کے ایک ہوٹل سے کھانا کھا کر جب باہر نکلے تو ممتاز قادری نامی ان کے ہی ایک الیٹ فورس کے گارڈ نے MP5 مشین گن سے لگاتار 27 فائر کر کے شہید کردیا. ..
ممتاز قادری کا تعلق راولپنڈی کے علاقے صادق آباد سے ہے ..وہ پنجاب پولیس کی سپیشل برانچ میں ملازم تھا ..2005 میں جب پرویز مشرف پر حملے ہوئے تو اس کے بعد پولیس کی تمام برانچوں میں کانٹ چھانٹ کا عمل شروع ہوا اور تمام اہل کاروں کے بارے میں سخت چھان بین کی گئی. .سپیشل برانچ میں اس وقت کے ایس ایس پی ناصر درانی نے ممتاز قادری کے انتہائی جنونی عقائد کے باعث اس کا تبادلہ سپیشل برانچ سے پولیس لائنز میں کر دیا ساتھ ہی ان کی سروس بک میں سرخ پنسل سے یہ نوٹ دیا کہ یہ شخص کسی بھی حساس نوعیت کے کام اور وی آئی پی سیکورٹی کے لئے غیر موزوں ہے لہذا اسے ایسا کوئی کام تفویض نہ کیا جائے..سوال یہ ہے کہ جب اس وقت پورے ملک میں سلمان تاثیر کے خلاف شدید مظاہرے ہو رہے تھے تو اس کے باوجود محرر ڈیوٹی عمر فاروق نے آخر ایسے جنونی شخص کی ہی سلمان تاثیر کے ساتھ ہی ڈیوٹی کیوں لگائی؟ ؟؟؟؟؟
نمبر 2 یہ کہ وی آئی پی کی سیکورٹی پر مامور اہلکاروں کے سٹنڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز SOP کے مطابق کوئی بھی اہلکار گاڑی میں سوار نہیں ہو سکتے جب تک کہ وی آئی پی گاڑی میں سوار نہ ہو جائے لیکن سلمان تاثیر جب ہوٹل سے باہر آئے تو عینی گواہ کے مطابق صرف قادری سڑک پر کھڑا تھا باقی اہلکار گاڑی میں بیٹھے تھے وہ گاڑی سے باہر کیوں نہیں تھے اور جب قادری گورنر پر فائرنگ کر رہا تھا تو کسی نے بھی روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟
نمبر 3 ...اس سے پہلے سلمان تاثیر جب بھی اسلام آباد آتے تو ان کے ساتھ اسلام آباد میں بھی لاہور کا سکواڈ ہی رہتا لیکن اس روز لاہور کے سکواڈ کو موٹروے سے ہی واپس بلا لیا گیا اور آگے راولپنڈی کے سکوارڈ کی ذمہ داری لگائی گئی آخر اس کے پیچھے کیا منطق تھی. ...
یہ ایسے سوال ہیں جو آج تک میرے ذہن میں مسلسل کھٹک رہے ہیں. .صرف یہ ہی نہیں بلکہ قادری کے بیان کے مطابق وہ 31 دسمبر کو اپنے محلے کی ایک مسجد کے خطیب محمد حنیف قریشی کے سلمان تاثیر کے خلاف خطاب سے متاثر ہوا اور اس سےعلیحدگی میں ملا اور سلمان تاثیر کے قتل کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا اور خطیب کی ترغیب پر ہی یہ قتل کیا تو پھر وہ خطیب بھی اعانت جرم کا مرتکب تھا اسے آج تک نہ گرفتار کیا گیا اور نہ ہی شامل تفتیش کیا گیا. .اس کے علاوہ یہ بات بھی ہضم نہیں ہوتی کہ 31 دسمبر کو اس نے تقریر سنی پھر بقول قادری صاحب کے اس نے محرر ڈیوٹی کی منت سماجت کر کے گورنر کے سکوارڈ میں ڈیوٹی لگائی اور 4 جنوری کو گورنر صاحب کو شہید کر دیا حالانکہ یہ بات تو بچے بھی جانتے ہیں کہ ایسے وی آئی پی افراد جن کی جان کو خطرہ ہو ان کی نقل و حرکت کو آخری وقت تک خفیہ رکھا جاتا ہے تو پھر قادری کو کیسے چار دن پہلے پتہ چل گیا کہ گورنر سلمان تاثیر اسلام آباد آنے والے ہیں؟؟؟؟؟
ان سوالات کی وجہ سے اٹھنے والا میرا سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ سلمان تاثیر کی شہادت کے پیچھے اس وقت کی صوبائی حکومت کے کسی بڑے کا ہاتھ ضرور ہے. ....آئیے آگے چلتے ہیں 
اتنے بڑے قتل کے مقدمہ میں اگرچہ شروع میں ممتاز قادری کے علاوہ اس کے خاندان اور دوستوں سمیت کئی افراد کو گرفتار کیا گیا لیکن چالان صرف اور قادری کو ہی کیا گیا. .ڈیوٹی محرر سے لے کر صادق آباد کے امام مسجد جن کا اس قتل میں قلیدی کردار تھا کو تھانے بلا کر پوچھ گچھ کرنے کی زحمت بھی نہ کی گئی اس کے علاوہ 8 جنوری 2011 کو سبزہ زار لاہور سے کسی اہم ملزم کو گرفتار کیا گیا تھا .اخبارات کے مطابق گرفتار ہونے والے اس شخص کے فون سے ممتاز قادری کو حساس نوعیت کے پیغام گئے تھے اور اس شخص کا سراغ قادری کے موبائل فون کے ڈیٹا سے ملا. .اس شخص کا بھی مقدمہ کے چالان میں کوئی ذکر نہ تھا
پولیس کی تفتیش کی طرح مقدمہ کا ٹرائل بھی عام حالات سے ذرا ہٹ کر تھا. .11 جنوری کو ملک اکرم اعوان کی عدالت میں ہی قادری نے اپنے پہلے بیان میں ہی اعتراف جرم کر لیا تھا 15 فروری کو راجہ اخلاق احمد کی عدالت میں قادری پر فرد جرم لگائی گئی. ..اس مقدمے کی زیادہ تر کاروائی اڈیالہ جیل راولپنڈی میں ہی سنی گئی کیوں کہ جس ڈھٹائی کے ساتھ اور بغیر کسی خوف اور خطر کے سنی تحریک کے لوگ وکلا، ججوں اور مقتول کے اہل خانہ کو ڈرا دھمکا رہے تھے اس سے عدالت میں یہ کیس سننا نا ممکن ہو گیا تھا..مثال کے طور پر 12 جنوری کو سنی تحریک کے سربراہ شاداب قادری نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے سلمان تاثیر کی بیٹی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ وہ ممتاز قادری سے متعلق بیان بازی سے رک جائے نہیں تو اس کا انجام بھی وہی ہو گا جو اس کے باپ کا ہوا ہے اسی پریس کانفرنس میں شاداب قادری نے اقلیتی رہنما شہباز بھٹی کو بھی دھمکی دی کہ وہ آسیہ کی ہمدردی چھوڑ دے نہیں تو اس کے ساتھ بھی سختی سے نمٹا جائے گا اور ٹھیک 20 دن بعد شہباز بھٹی کو بھی قتل کر دیا جاتا ہے ..ان بیانات کو ملک کے تمام اخبارات نے شائع کیا لیکن اس کے باوجود شاداب قادری کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ ہوئی اس کے علاوہ ہر پیشی پر سیکڑوں لوگ جیل کے باہر بھی پہنچ جاتے تھے اور سلمان تاثیر کے خلاف نعرے بازی کرتے. .محض چار مہینوں میں چار ججوں نے کیس سننے سے انکار کیا تھا کیونکہ ان کے اہل خانہ کو مسلسل ہراساں کیا جا رہا تھا ...26 اگست کو سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو لاہور کے دل اور سب سے زیادہ مصروف روڈ مین بلیوارڈ گلبرگ سے اغوا کر لیا جاتا ہے. .اس سے چند ماہ پہلے شہباز بھٹی کے قتل اور شہباز تاثیر کے اغوا کے بعد کوئی جج بھی یہ کیس سننے کو تیار نہ تھا. .ٹرائیل کے آخری مراحل میں پرویز علی شاہ جج تھے ان کو بھی مسلسل ہراساں کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ...بالآخر اکتوبر کے شروع میں ہی پرویز علی شاہ نے ایک بند کمرے کی عدالتی کاروائی میں ممتاز قادری کو پھانسی کی سزا سنا دی. ...اس فیصلے کے بعد جگہ جگہ توڑ پھوڑ اور جلاو گھیراو شروع کر دیا گیا یہاں تک کہ وکلا کے ایک گروپ نے پرویز علی شاہ کی عدالت میں گھس کر توڑ پھوڑ کی. ..پرویز شاہ کا راولپنڈی سے تبادلہ کر دیا گیا اور وہ خود لمبی چھٹی پر بیرون ملک چلے گئے 
6 اکتوبر 2011 کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں قادری کی سزائے موت کے خلاف اپیل دائر کر دی گئی جس کی سنوائی تقریبا تین سال کے بعد شروع ہوئی 
جسٹس شوکت عزیز اور جسٹس نورالحق پر مشتمل بنچ نے کیس سننا شروع کیا تو یہاں پر بھی قادری کے چاہنے والوں نے احتجاج ریلیوں اور نعروں سے عدالت کو مرعوب کرنا جاری رکھا. ..قادری کی پیروی کے لیے ہر تاریخ پر وکلا کا ایک جم غفیر عدالت میں پیش ہوتا جس میں لاہور ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس خواجہ شریف سمیت دو ریٹائرڈ جج بھی شامل ہوتے تھے. .خواجہ شریف سے اگر لوگ زیادہ واقف نہ ہوں تو بتا دیتا ہوں کہ یہ نواز شریف کے سب سے چہیتے جج رہے ہیں اور خواجہ صاحب کا سر بھی نواز شریف کے احسانات کی وجہ سے سدا ان کے سامنے جھکا رہا 😀😂
اتنا کچھ کرنے کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ نے 9 مارچ 2015 کو فیصلہ سناتے ہوئے قادری کی سزا کو برقرار رکھا. ..ایک بار پھر وہی احتجاج اور توڑ پھوڑ شروع ہو گئی
اس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل کی گئی جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے بھی 6 اکتوبر 2015 کے اپنے فیصلہ میں ابتدائی دہشتگردی کی عدالت میں دی گئی سزا کو برقرار رکھا اس کے بعد سپریم کورٹ میں Review کی درخواست دائر کی گئی جب وہ بھی مسترد کر دی گئی تو پھر آخری plea کے طور پر صدر کے پاس رحم کی اپیل بھجوائی گئی 
جسے چند روز پہلے نامنظور کر دیا گیا تھا لیکن صدر کے فیصلے کو خفیہ رکھا گیا تھا اور پھر اچانک کل قادری کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا ✌✌✌
قادری کے پھانسی کے فیصلے سے میں سو فیصد اتفاق کرتا تھا ہوں اور رہوں گا لیکن میرے لیے سب سے حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس قادری کو بچانے کے لیے حکومت پنجاب نے سارے جتن کیے. ..اپنی ذیلی جماعت سنی تحریک اور صاحبزادہ فضل کریم کے ذریعے جلوس نکلوائے جسٹس خواجہ شریف اور دیگر چہیتے وکلا کے ذریعے کیس کی پیروی کروائی شہباز تاثیر کے اغوا کو آسان اور ممکن بنایا ،نواز شریف کے داماد اور مریم صفدر کے خاوند کیپٹن صفدر کے ذریعے مساجد میں قادری کی حمایت میں تقاریر کروا کر مخصوص حلقہ کو مستقل یقین دلائے رکھا کہ حکومت قادری کے ساتھ ہے جن میں سے ایک تقریر میرے ٹویٹر اکاؤنٹ پر موجود ہے پھر اچانک ایسی کون سی مجبوری آ گئی کہ پھانسی کی سزا کے منتظر تقریبا 8000 قیدیوں... جی ہاں 8000 افراد میں سے صرف قادری کو ہی اتنی عجلت میں لٹکایا گیا ؟؟؟ کہیں یہ تو نہیں کہ قادری نے ایم کیو ایم کے صولت مرزا کی طرح کچھ راز افشا کرنے کی دھمکی دے دی تھی؟ ؟؟؟
سلمان تاثیر کے والد محمد دین کشمیری تھے اور محمڈن اینگلو اورینٹل میں پروفیسر تھے جبکہ ان کی والد بلقیس انگریز تھیں جنہوں نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا 1950 میں سلمان تاثیر کی عمر 6 سال تھی جب ان کے والد کا انتقال ہو گیا اس لیے سلمان تاثیر اور ان کے بہن بھائی کی پروش ان کی ماں نے کی سلمان تاثیر نے انگلینڈ سے اکاونٹیسی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور پاکستان میں مختلف اکاونٹ کمپنیاں قائم کیں جو مختلف شعبوں میں اپنی خدمات پیش کر تی تھیں اس کے علاوہ World call نامی ٹیلیفون بوتھ کا کاروبار بھی انہیں کا تھا اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کا پہلا پرائیویٹ ٹی وی چینل STN بھی سلمان تاثیر کی ہی ملکیت تھا 
سیاسی طور پر وہ ذوالفقار علی بھٹو کے جیالے تھے اور پیپلزپارٹی کے قیام سے ہی وہ پارٹی سے وابستہ تھے. .ایوب خان کے خلاف چلنے والی تحریک میں بھی وہ شامل رہے. .مارشل لا کے دوران قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں مسلسل چھ ماہ تک شاہی قلعے میں قید تنہائی کاٹی کل 16 مرتبہ گرفتار ہوئے 1980 میں جب مارشل لا اپنے عروج پر تھا تاثیر صاحب نے ذوالفقار علی بھٹو پر کتاب لکھ ڈالی جب پاکستان کے پرنٹرز نے کتاب چھاپنے سے انکار کیا تو ہندوستان کے پرنٹرز سے چھپوا لی 1988 میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر لاہور سے ایم پی اے منتخب ہوئے. ..2008 میں جب زرداری صاحب صدر بنے تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ شہباز شریف کے اوپر کسی جیالے کو گورنر بنایا جائے تو سب سے بہترین انتخاب سلمان تاثیر قرار پائے. .سلمان تاثیر کے دور میں گورنر ہاؤس میں جیالوں کا رش لگا رہتا تھا. .تقریب حلف برداری سے لے کر ان کی شہادت تک گورنر ہاؤس جیئے بھٹو کے نعروں سے گونجتا رہا
شہباز شریف سلمان تاثیر کے بیانات سے تو پہلے ہی تنگ تھے لیکن جب گورنر راج لگا تو شہباز شریف اور سلمان تاثیر میں اختلافات شدید نوعیت اختیار کر گئے اور میرے خیال میں اسی وقت سلمان تاثیر کو منظر نامے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا 
اگر محض تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم کے باعث ہی ان کو شہید کیا گیا تو پھر اسی نوعیت کا بیان تو شیری رحمان نے بھی دیا تھا لیکن سلمان تاثیر کے خلاف ہی اتنی سخت تحریک چلائی گئی 
لاہور کے سیکورٹی سکوارڈ کو ہٹا کر راولپنڈی کے سکوارڈ کو لگانا.. ممتاز قادری جیسے جنونی پر پابندی کے باوجود سکوارڈ میں شامل کرنا سکوارڈ میں شامل دیگر اہلکاروں کی بھی گورنر کو بچانے کی کوشش نہ کرنا..محرر ڈیوٹی کے خلاف کاروائی نہ کرنا ...قادری کو قتل کی ترغیب دینے والے عالم دین کو شامل تفتیش نہ کرنا. .خواجہ شریف اور کیپٹن صفدر کا قادری کے دفاع میں کردار
پھانسی کے منتظر 8000 افراد میں سے محض قادری کو ہی عجلت میں سزا دینا اور سب سے بڑھ کر تاثیر صاحب اور پنجاب حکومت میں پائی جانے والی نفرت ہی میرے وہ دلائل ہیں جن کے بل بوتے پر میں یہ کہتا ہوں کہ قادری محض ایک مہرہ تھا اصل کھلاڑی کوئی اور ہے باقی ممکن ہے کہ آپ دوستوں کی رائے الگ ہو
جیئے بھٹو. ..
 
Console Human Rights International Trust 
 ·  Translate
1
Add a comment...
 
This is very true story about Pakistan
Pakistan is very dangerous contrary in the world.
All minorities are not save in Pakistan.
Force marriages,fake blasphemy law,live burn, and persecution graph now increasing every day.
 ·  Translate
1
Add a comment...
 
Pakistani Christian leader Tariq C Qaiser demanding our community rights  but Speaker attitude is very rubbish with him.
So Pakistan is not save contrary for all minorities.
1
Add a comment...
 
CHRIT team members given awareness on dirty water in interior sindh Pakistan.
1
Add a comment...
1
Add a comment...
 
Alert News!
Please must watch this is the Pakistan.
Where  is freedom you are seeing?
1
Add a comment...
 
Big failure of Pakistani Government and Christian leaders who,s are in the present government of Pakistan!
Christians in Pakistan, Under attack Again. A Suicide Bomb blast which killed 72 people including 29 Children & more than 300 Injured.
It was direct Attack on Christian community on the Occasion of Easter but Pakistani Media & Officials are refusing that.
No Financial Aid has been declared by Govt. of Punjab and Federal Govt for the victims. If that would be attack on Muslims then they can announce it Immediately.
Our so called Christian Leaders especially Mr. Kamran Michael is silent. We don't see him on any news channel. He didn't visit Christian victim families. Will he still say Christians are safe in Pakistan?
At the same time, Muslims were gathered in Islamabad for mourning at the death of Mumtaz Qadri. As they heard about the news of bomb blast, they started burning properties just to attract attention towards them.
Please pray for the families of those who died and for People who are Injured.
1
Add a comment...
People
In his circles
4,675 people
Work
Occupation
Registered Nurse
Story
Bragging rights
Christian Community in Pakistan: Christian community is the largest religious minority of Pakistan and it comprises approximately 13% of the population of Pakistan in current statistics figure. Christian's History in Pakistan: At the time of newborn Pakistan establishment, the figures were approx 5% that is increasing with time. 90% of Christian community of Pakistan resides in Punjab and represent the largest religious minority of the province, and majority of them about 60% lives in villages, and have been living in these areas for long time rather than Muslims. Founder of Pakistan Speech about Minorities of Pakistan: What was the Status of minorities in Pakistan, In this regards Quaid –e-Azam Muhammad Ali Jinnah‘s Speech, reference is enough of August 11, 1947, which he said: “Now you are free related to any religion or caste or creed you may, But it’s not concerned to state’s business, Thank God that we did not initiate in the circumstances, but we are starting in a discriminatory behavior, and any disparity or a remembrance of any community shared attitude towards caste or creed against, we primarily getting started with principle that we has a state of equal citizens but not equal rights still reading Muslim education in schools and colleges” Pakistan in Current Situation, Christian Community & Our Mission: Christianity is the second largest religious minority in Pakistan, after Hinduism. The total number of Christians in Pakistan was approximately 30,900,000 in 2012, or 13% of the population. Of these, approximately half are Roman Catholics and half Protestants. Most Christians in Pakistan are descended from recent converts during British rule. Although, Extremism and terrorism is on the rising in Pakistan, so on that occasion, every Christian, Hindu and Muslim of this country must work together for the development of Pakistan but all minorities always doing under the uneducated Muslim peoples. The Christians are very educated here but not give the proper rights and according to education post of job. If there is full faith harmony then they respect each other on based of humanity rather religious ground. For the formation and development of Pakistan, Christian community along with Muslims had played very dangerous role. Afterwards our Christian generation not having a freedom and equal rights. The Christian has not fully religious freedom, made on the basis of a few tragedy some people mustard add to up to a maintain, just to get foreign funds that’s not true at all. Christians are patriotic of Pakistan and they loved Pakistan yesterday, today and will continue to Love but now this time all Christians are worried about blasphemy law and persecutions examples you can visit on Google/or Facebook. Savior Incident of Christians in Pakistan: 01- Shanti Nagar all Christian village burnt by Muslim of Pakistan. 02- Gojra all Christian village burnt and 9 Christian boys killed by Muslim of Pakistan. 03- Sangla Hill 04- Sambreal 05- District Qasoor 06- Rimpa plaza Karachi. 07- Badami bagh Lahore 08- Peshawar church blast 09- Shama and Shahzad live burnt 10- Rimsha case 11- Asia bibi case 12- Yohanabad church 2 bomb blast 13- Near about 2400 blasphemy fake cases raised from 1998 to till now. 14- Shahbaz Bhatti murdered(Federal minorities Minister ) 15- Salman Taseer murdered. 16- Etc. We want answer to the any government of Pakistan it Quid E Azam Muhammad Ali Jinnah Pakistan ? My answer (Never,never,never) We are not save in Pakistan Because we have never equal rights/not freedom/Raising persecutions/raising blasphemy cases many problems. Console Human Rights International Trust
Basic Information
Gender
Male
Birthday
November 10, 1969