Profile cover photo
Profile photo
safi awan
59 followers -
NO VIRTUE IS GREATER THEN JUSTICE
NO VIRTUE IS GREATER THEN JUSTICE

59 followers
About
safi's interests
View all
safi's posts

Post has attachment
ہم نے اپنا ملال بیچ دیا (9 اپریل 2008 سانحہ طاہر پلازہ)
تحریر صفی الدین اعوان
  9 اپریل 2008  دوپہر 01:00 بجے کا وقت
بسوں میں بھر کرلائے  گئے  دو درجن سے زائد مسلح افراد کو لائٹ ہاؤس کے قریب بلدیہ عظمٰی کراچی کی  قدیم بلڈنگ کی بغلی سڑک  پر  اتارا گیا  تھا جہاں سے کچھ  دیر کے بعد  وہ  پارکنگ  والے گیٹ سے سٹی کورٹ میں داخل ہوئے اور دندناتے ہوئے  کراچی بارایسوسی ایشن کی عمارت کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے عمارت میں گھس  گئے ان کے پاس  تحریک میں متحرک وکلاء کی تصاویر اور چند نام تھے  مسلح افراد کو سردار طارق خان نیازی ، نصیر عباسی ، شہریار شیری اور چند دیگر وکلاء رہنماؤں کی تلاش  تھی  کمیٹی روم میں حسن بانڈ صاحب  موجود تھے اس سے سردار طارق نیازی کے بارے میں پوچھا  نفی میں جواب ملنے پر کہا اوئے تیرے بارے میں بھی اطلاع ہے تم بھی بہت  چخ  چخ کرتا ہے  یہ کہہ کر مسلح افراد نے گالیاں  بکنے کے بعد  حسن بانڈ  ایڈوکیٹ کو جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا   جس کے بعد درجنوں مسلح افراد  خواتین وکلاء کے بارروم میں داخل ہوئے   خوش  قسمتی سے کمرہ خالی تھا  جس کے بعد  لیڈیز بارروم کو آگ لگادی گئی وکلاء کراچی کے ضلع وسطی کی عمارت میں جمع ہوگئے تھے  میں  ضلع وسطی کی بلڈنگ کی  فرسٹ فلور کی کھڑکی سے یہ مناظر دیکھ رہا تھا کہ لیڈیز بارروم سے دھواں نکل رہا ہے اسی دوران سیشن جج  نے مجھے ڈانٹ کر بلایا اور ایک جج کے چیمبر میں جانے کا کہا  جہاں بہت سی خواتین وکلاء بھی موجود تھیں سیشن جج  قانون نافذ کرنے والے اداروں سے  مسلسل  رابطہ کررہے تھے وہاں  بہت سے وکلاء  موجود تھے کورٹ کا  بیرونی گیٹ بندکردیا گیا تھا  اسی دوران مسلح افراد جلاؤ گھیراؤ کرتے ہوئے   اسی راستے سے  بلدیہ عظمٰی  کراچی  کی بلڈنگ  سے لائٹ ہاؤس کی طرف واپس لوٹ گئے اور ایم اے جناح روڈ  پر آگئے جہاں  سامنے سے شہریار شیری  پیدل  چلتا  ہوا آرہا تھا  مسلح افراد کو اسی کی تلاش تھی  شیری   وکلاء تحریک میں نعرے بہت لگاتا تھا  مسلح افراد کے للکارنے  پر شہریار شیری نے ایک بار پھر  نعرہ لگایا مسلح افراد نے  شہریا ر شیری کو ایم اے جناح روڈ پر ہی گولیاں مارکر شہریار شیری کو شہید کیا اور  غلہ منڈی والے روڈ  پر کھڑی وکلاء کی  کاروں کو نزرآتش کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ان کے پاس ایک مخصوص کیمیکل تھا جو فوری آگ پکڑلیتا تھا  تقریباً دوسو گاڑیوں کو آگ لگانے کے بعد مسلح افراد غوثیہ مرغ چھولے پہنچے  ان  کے عملے سے  نصیر عباسی  اور دیگر وکلاء رہنماؤں کے آفس کی نشاندہی کرنے کو کہا نفی میں جواب ملنے پر تمام  دیگیں الٹ دی گئیں اور رزق کی بے حرمتی کی گئی  بعد ازاں مسلح افراد طاہر پلازہ میں داخل ہوئے فرسٹ فلور پر اسٹاف کو تشدد کا نشانہ بنایا  پانچویں اور  چھٹے فلور پر کراچی بارایسوسی ایشن کے عہدیداران کو تلاش کیا  نصیر عباسی کو تلاش کرتے ہوئے وہ الطاف عباسی کے آفس     جا پہنچے  جہاں وہ اپنے آفس میں   باہر کے حالات  سے بے خبر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے   آفس میں  پانچ معصوم شہری بھی  اپنے مقدمات  کے سلسلے میں موجود تھے جو اپنے مقدمات کے سلسلے میں آئے ہوئے تھے  جب مسلح افراد کو اس  بات کی تصدیق ہوگئی  کہ اندر لوگ موجود ہیں تو  آفس کی کھڑکی سے    گولی سے استعمال  ہونے والا کیمیکل پھینکا  اور گولی چلادی  جس کے بعد آفس میں  شدید آگ بھڑک اٹھی
الطاف عباسی اور ان کے آفس میں موجود افراد نے جان بچانے کیلئے  آفس سے نکلنے  کی کوشش کی  مگر باہر سے تالا ہونے کی وجہ سے وہ باہر نہیں نکل سکے   چیخوں کی  آوازیں   پلازہ  میں گونجتی  رہیں  اور الطاف عباسی سمیت چھ افراد ان کے آفس  کے اندر  ہی  جل کر شہید ہوگئے   جنگ میں استعمال ہونے والے کیمیکل کی وجہ سے انسان تو انسان آفس کے  لوہے کے دروازے  پلستر کی دیواریں  اور پنکھے تک پگھل گئے اور لاشیں جل کر کوئلہ اور ناقابل شناخت ہوگئیں   مسلح افراد نے طاہر پلازہ کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ شروع کیا  اور دوفلور زکو آگ لگا کر اطمینان سے بسوں میں بیٹھ کر واپس روانہ ہوگئے طاہر پلازہ میں موجود وکلاء نے ساتھ والی بلڈنگ میں کود کر اپنی جان بچائی  لیکن طاہر پلازہ کے بیرونی مناظر اس سے بھی زیادہ خطرناک تھے  سینکڑوں کی تعداد میں  گاڑیاں جل رہی تھیں اور وکلاء اپنی  گاڑیوں کو حسرت سے  جلتا ہوا دیکھ رہے تھے  
اسی دوران فسادیوں نے ملیر بارایسوسی ایشن کی بلڈنگ اور دیگر املاک کو  بھی جنگی کیمیکل سے جلا کر تباہ وبرباد کردیا  کوئی جانی نقصان  تو نہیں ہوا  لیکن بار کی عمارت اور فرنیچر  مکمل طورپر تباہ برباد ہوگئے
وکلاء کی دوسوسے زائد  کاروں ،طاہر پلازہ  اور ملیر بارایسوسی  ایشن  کی   عمارتوں  میں  لگائی  گئی  آگ کو بجھانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی فائر  بریگیڈ کی گاڑیاں  پانی کے بغیر ہی پہنچ گئے جب سب کچھ جل کر خاک ہوگیا تو آگ خود ہی بجھ گئی
ہم بڑی حسرت سے  کاروں اور طاہر پلازہ  سے اٹھتا ہوا دھواں  دیکھ رہے تھے
شام کو کئی وکلاء   کوان کی گھریلو خواتین اور بچوں کو مسلح افراد نے  ان کے گھر وں میں جاکر تشدد کا نشانہ بنایا گیا  فلیٹ نذر آتش کیئے گئے اور گاڑیوں کو آگ لگائی گئی  
طاہر پلازہ  چھٹی منزل پر ہرجگہ گوشت اور خون کے لوتھڑے  چپکے ہوئے تھے جلی ہوئی لاشوں کو کس طرح اور کس نے نکالا یہ کوئی نہیں جانتا
  اس ظلم اور جبر کے باوجود اگلے  ہی روز کراچی بارایسوسی ایشن کی جنرل باڈی  شہداء پنجاب  ہال  میں  منعقد ہوئی یہ تاریخ  کی شاید وہ پہلی جنرل باڈی تھی جس میں  وکلاء کے پاس  بیان کرنے کیلئے کچھ نہیں تھا  صرف آنسو اور دبی دبی سی چیخیں تھیں  لیکن آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نہیں تھا
بہت سے وکلاء تقریر کرنے کیلئے ڈائس پر آتو جاتے تھے   مائک  بھی ہاتھ میں پکڑتے تھے  لیکن  بات کرنے کی ہمت اور حوصلہ کہاں سے لیکر آتے   بڑے بڑے وکلاء اس دن  تقریر کی ہمت پیدا نہیں کرسکے  کہتے بھی تو کیا کہتے  کہنے کیلئے کچھ بچا ہی کہاں تھا
 جنرل باڈی اجلاس  سے خطاب کرنے والے مقررین   کچھ دیر آنسو بہاتے تھے ، رونے کی دبی دبی  آوازیں آتی تھیں بعد ازاں  مقررین  کی ہچکیاں  بندھ  جاتی تھیں    لیکن سامعین کے  رونے  اور ہچکیوں  کی آوازوں میں مقررین کے رونے  اور ہچکیوں  کی آوازیں دب جاتی تھیں اس دن تو حوصلہ دینے والا بھی کوئی نہیں تھا
جب رورو کر آنسو  بھی خشک ہوگئے تو جنرل باڈی کا اختتام ہوا  ،وکلاء طاہر پلازہ کی طرف روانہ ہوئے جلی ہوئی بلڈنگ سے ابھی بھی دھواں اٹھ رہا تھا  جلے ہوئے انسانی گوشت کی بو ابھی بھی موجود تھی اور انسانی گوشت کے لوتھڑے ابھی بھی موجود تھے  
ہم وکلاء ہی ان گوشت کے لوتھڑوں کے لواحقین تھے ہم ہی ان کے شہدا کے وارث تھے  
اگلے چند مہینوں کے بعد  طاہر پلازہ کے مکینوں نے دوبارہ سے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا  وقت بھی تو ایک مرہم ہے  
ہمیں اپنے شہید دوستوں کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیئے  
بدقسمتی سے  9 اپریل کو پورے پاکستان میں کسی وکلاء تنظیم نے  9 اپریل  طاہر پلازہ کے شہداء کو یاد نہیں کیا ان کی یاد میں کسی بھی  جگہ یوم سیاہ نہیں منایا گیا  کوئی جنرل باڈی منعقد نہیں ہوئی   سوائے ناہید افضال  ایڈوکیٹ  صاحب اور شبانہ ایڈوکیٹ صاحبہ  اور ان کے دیگر دوست  احباب   جو ہرسال  اس موقع  پر طاہر پلازہ میں قرآن خوانی  کرواکر شہدا کو یاد کرتے ہیں
مفلسی میں وہ دن بھی آئے ہیں
ہم نے اپنا ۔۔۔۔۔ملال بیچ دیا
 
تحریر صفی الدین اعوان
سیکرٹری نشرواشاعت  پاکستان مسلم لیگ ن لائرزفورم کراچی ڈویژن

Post has attachment
ہم نے اپنا ملال بیچ دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان
ہم نے اپنا ملال
بیچ دیا (9 اپریل 2008 سانحہ طاہر پلازہ) تحریر صفی الدین
اعوان   9 اپریل 2008   دوپہر 01:00 بجے کا وقت بسوں میں بھر کرلائے   گئے   دو
درجن سے زائد مسلح افراد کو لائٹ ہاؤس کے قریب بلدیہ عظمٰی کراچی کی   قدیم بلڈنگ کی بغلی سڑک   پر   اتارا گیا ...

Post has attachment
ون مین آرمی ناقابل شکست فوج ۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
ون مین آرمی   ناقابل
شکست فوج ۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان زیادہ پرانی بات نہیں ابھی یہ   چند سال پہلے   انیس سونونے کی دہائی   یعنی   کل ہی کی تو بات ہے کہ    کراچی کے ڈسٹرکٹ کورٹس میں رشوت کا دور دورہ
تھا   اور فلورنگ   رشوت کی بدترین شکل تھی   پیسہ گھن آ تے...

Post has attachment
چورن پور کا مسخرہ تیسری قسط ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان
چورن   کا مسخرہ
۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان قسط نمبر ۔۔۔۔۔۔3 "چورن پور   کا
مسخرہ   "کی تیسری قسط پیش خدمت
ہے   میں وضاحت کردوں کہ   تیسری قسط کا ایک ایک لفظ سفید جھوٹ پر مبنی
ہے    لیکن     مردود شیطان آپ کے ذہن میں یہ وسوسہ ڈال سکتا
ہے کہ یہ کہانی سچ پر م...

Post has attachment
بہت سے مسلمان بھی جعلی طورپر اسلام قبول کرتے ہیں  جبکہ بہت سے غیر مسلم بھی  جعلی طورپر جبری اسلام  قبول کرتے ہیں   آج کل  منظم جرائم پیشہ گروہ کورٹس کے آس پاس آفسز بنا کر  قبول اسلام کی اسناد فروخت کرتے ہیں اگر شکار اچھا ہو تو اس قسم کے سرٹیفیکیٹ   لاکھوں روپے میں فروخت ہوجاتے ہیں  لیکن  نارمل حالات میں یہ سند دس ہزار روپے میں فروخت ہوتی ہے  خود ساختہ قبول اسلام کے کچھ عرصے بعد   جبری اسلام قبول کرنے والا   جعلی مرتد ہوجاتا ہے جس کے بعد ایک اور کارندہ کسی مدرسے میں جاتا ہے اور ایک شرعی مسئلہ پوچھتا ہے  جس پر شرعی فتوٰی آجاتا ہے کہ مرتد کی سزا  یہ ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے  اب دیکھ لیں  این جی اوز کے پاس کتنا فٹ کیس آگیا ایک  جعلی مسلمان جو مرتد ہوچکا ہے اس کی جان کو شدید  خطرہ  ہے شدت پسند اس کو قتل کرنا چاہتے ہیں ایک نہایت ہی منظم گروہ لاکھوں روپے لیکر اس طریقے سے اس قسم کے کیسز میں  سیاسی پناہ دلواتے ہیں اور  یہ جعلی مرتد والا کیس تو اے کٹیگری میں شمار ہوتا ہے اس لیئے فوری طور پر اس کی سیاسی پناہ کی درخواست قبول کرلی جاتی ہے  اس کاروبار میں مذہب سے منسلک  ہائی پروفائل اہم شخصیات ملوث ہیں  بعض اوقات تو جعلی  قسم کے خود ساختہ مفتی تو کسی گمنام مدرسے کی جانب سے جعلی مرتد کے قتل کا فتوٰی اس کے نام کے ساتھ ہی جاری کردیتے ہیں

Post has attachment
سندھ اسمبلی کا جبری مذہب کی بتدیلی کا بل مزید شواہد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر صفی الدین اعوان
بہت سے مسلمان بھی جعلی طورپر اسلام قبول کرتے ہیں   جبکہ بہت سے غیر مسلم بھی   جعلی طورپر جبری اسلام   قبول کرتے ہیں     آج
کل   منظم جرائم پیشہ گروہ کورٹس کے آس پاس
آفسز بنا کر   قبول اسلام کی اسناد فروخت
کرتے ہیں اگر شکار اچھا ہو تو اس قسم کے سرٹیفیکیٹ    ...

Post has attachment

مذہب کی تبدیلی اور سندھ اسمبلی  میں ہونے والی قانون سازی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر  : صفی الدین  اعوان
 
مجھ سمیت مذہب ہرانسان کا ذاتی مسئلہ ہے  کسی کو کیا پتہ کہ میرا مذہب کیا ہے  میرے پاس کوئی ایسا سرٹیفیکیٹ موجود نہیں ہے جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میرا مذہب کونسا ہے
میں ایک مسلمان ہوں عقیدہ توحید اور ختم نبوت پر میرا یقین ہے اور مجھے اس حوالے سے کسی سرٹیفیکیٹ کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔لیکن سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نے ایک بہت بڑے مسئلے کو جنم دیا ہے جسے جبری مذہب کی تبدیلی کے نام سے ہم جانتے ہیں
میں نے ایک طویل عرصے تک اقلیتوں کی قانونی امداد کی ہے ابھی بھی اقلیتی برادری کے بہت سے کیسز میرے پاس موجود ہیں  ان کیسز کے ذریعے میں نے پاکستانی سماج کو سمجھنے کی کوشش کی ہے
ایک اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا میرے پاس آیا وہ اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتے تھے لیکن رکاوٹ یہ تھی کہ لڑکی شادی شدہ تھی  اس لیئے   وہ مجھ سے  مشورہ لینے آئے تھے میں نے حسب معمول مشورہ دیا کہ  پہلی شادی کی تنسیخ کیلئے کیس داخل کریں جس کے بعد ہی دوسری شادی ممکن ہوگی  ان کا تعلق کرسچن کمیونٹی سے تھا میں نے لڑکی کی جانب سے  تنسیخ  نکاح کی  پٹیشن داخل کردی  کافی عرصے تک وہ  لڑکا اور لڑکی کورٹ میں رلتے رہے ان کو تنسیخ نکاح کا فیصلہ نہ ملا پھر ایک دن وہ لوگ اچانک ہی غائب ہوگئے  ایک دن ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ان لوگوں نے شادی کرلی ہے میں نے کہا  کم بختو تم لوگوں نے نکاح کے اوپر نکاح کرلیا ہے   وہ مسکرائے اور کہا وکیل صاحب آپ اچھے وکیل نہیں ہیں آپ بلاوجہ ہی ہم دونوں کے چھ ماہ  خراب کیئے بلاوجہ کورٹ کے دھکے کھانے پڑے ہیں  جبکہ ایک  وکیل نے صرف پانچ منٹ میں میرا مسئلہ حل کردیا
میں نے حیرت سے کہا کیا مطلب انہوں نے  بتایا کہ ایک  وکیل نے کہا تم لوگ اسلام قبول کرلو تو  لڑکی کا پرانا نکاح خود ہی ختم ہوجائے گا   اور تم اس سے فوراً نکاح کرلینا  پھر وہ ہمیں ایک مفتی کے پاس لے گیا اس نے اسلام قبول کروایا ہمیں قبول اسلام کی سند دی اور ہم دونوں نے فوری طور پر نکاح کرلیا
میں نے کہا کیا اب تم  دونوں اسلام قبول کرکے مسلمان ہوگئے ہو انہوں نے جواب دیا نہیں  انہوں نے صرف قبول اسلام کی سند شادی کرنے کیلئے لی ہے وہ گھر پڑی ہے ہم پہلے بھی کرسچن تھے آج بھی کرسچن ہیں لیکن اگر  اسلام قبول نہ کرتے تو ہماری  شادی ہوناہی ناممکن تھی  ہم نے اسلام تو  صرف قبول  اسلام کی سند حاصل کرنے کیلئے  قبول کیا ہے
قبول اسلام کی سند کسی بھی غیر مسلم شادی شدہ عورت کو یہ  سہولت دیتی ہے کہ وہ   اپنا پرانا نکاح تنسیخ کیئے بغیر  صرف قبول اسلام کی سند حاصل  کرکے  نیا نکاح کرلے یہی وجہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد اس سہولت سے ناجائز طورپر فائدہ  اٹھاتی ہے
مجھے تبدیلی مذہب کے بل پر شدید اعتراض ہے اور حیرت ہے کہ ممبران سندھ اسمبلی نے کس طرح یہ قانون سازی کرلی ہے  کسی بھی انسان کو  مذہب تبدیل کرکے اسلام قبول کرنے سے کیسے روکا جاسکتا ہے  یہ تاثر بھی غلط ہے کہ لوگ مذہب تبدیل کرکے مسلمان  ہوتے  ہیں بہت سے لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ پاکستان میں بہت سے مسلمان بھی مرتد ہوکر عیسائی مذہب بھی  قبول کرلیتے ہیں   بہت سے چرچ  بھی عیسائی  مذہب قبول  کرنے کا سرٹیفیکیٹ جاری کرتے ہیں  نادرا  سے اس ریکارڈ کی تصدیق سرکاری ذرائع سے بھی کی جاسکتی ہے
 وہ  لوگ  اسلام  قبول کرنے کے بعد کیوں مرتد ہوجاتے ہیں یہ ایک الگ بحث ہے یہ بہت حسا س مسئلہ ہے  کسی شخص کا اسلام قبول کرنا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے لیکن اسلام  قبول کرنے کے بعد  کچھ عرصے بعد  مرتد ہوکر مذہب  تبدیل کرنا ایک انٹرنیشنل مسئلہ ہے  اور اس کی بنیاد پر منظم گروہ  ترقی یافتہ ممالک میں پاکستانیوں کو سیاسی پناہ بھی دلواتے ہیں  پاکستان میں قبول اسلام کی سند  اور عیسائی  مذہب اختیار  کرنے کی سند  کی بنیادپر بہت بڑے کھیل کھیلے جاتے ہیں   مذہب ایک بہت نفع بخش کاروبار ہے  اور اس کی بنیاد پر بہت سے ڈرامے رچائے جاتے ہیں  
جو لوگ اسلام قبول کرلیتے ہیں  ان میں سے بہت کم لوگ ہی قبول اسلام کی سند لیکر نادرا کے پاس جاتے ہیں اور اپنے کوائف تبدیل کرواتے ہیں کیونکہ ان کے مذہب کی تبدیلی کا تعلق زیادہ تر واقعات میں  صرف اسلام قبول کرنے کی سند سے ہوتا ہے اور قبول اسلام کی سند سے ان کے بہت سے مفادات وابستہ ہوتے ہیں
کیا اس حوالے سے قانون سازی ممکن ہوگی کہ کوئی بھی شادی شدہ عورت جو  اسلام قبول کرلیتی ہے تو کیا یہ مناسب نہیں ہوگا کہ اس کا ماضی کا نکاح بذریعہ عدالت تنسیخ کیا جائے ؟ علماء اکرام کو اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھنا چاہیئے حالانکہ  تبدیلی مذہب سے کسی بھی مذہب کو کوئی خطرہ نہیں   ہے  ۔ تبدیلی مذہب کے حوالے سے صوبہ سندھ میں زیادہ تر شور شرابہ ہندو برادری کی جانب سے مچایا جاتا ہے    ہندو برادری سے تعلق  رکھنے والے نچلی ذات کے ہندو اکثر اسلام قبول کرتے ہی رہتے ہیں  یہ ایک روٹین کی بات ہے ان میں سے اکثر اسلام کے دائرے میں بھی داخل ہوجاتے ہیں کیونکہ اسلام میں ذات پات کا کوئی تصور نہیں ہے  لیکن  ہنگامہ اس وقت برپا ہوجاتا ہے جب کسی اونچی ذات سے تعلق رکھنے والی لڑکی اسلام قبول کرکے اپنی پسند سے شادی  کرلیتی ہے  نچلی ذات سے تعلق رکھنے والی ایک ہزار لڑکیاں بھی اسلام قبول کرکے شادی کرلیں کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا فرق صرف اونچی ذات کی لڑکی  کی جانب سے اسلام قبول کرنے سے پڑتا ہے  میرے پاس  ماضی  میں  جبری مذہب کی تبدیلی کے کئی کیسز رہے ہیں زیادہ تر وہ نچلی ذات سے تعلق رکھتے تھے جب وہ کیسز عدالت میں آئے تو کسی ادارے نے ان کی کوئی مدد نہیں کی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے وکلاء نے بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی  لیکن جب  جبری مذہب کی تبدیلی کے کیسز میں عدالت کی مداخلت پر لڑکیوں کو عدالت میں پیش کیا جاتا ہے تو وہ تصدیق کرتی ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ہے ان کو کسی نے بھی اغواء نہیں کیا اور وہ اپنی زندگی سے خوش ہیں   اس طرح  عدالتوں نے بھی اقلیتی برادری کو مطمئین کرنے کیلئے ہر ممکن راستہ اختیار کیا لیکن ہر بار یہی ہوا کہ کم ازکم میرے سامنے جبری مذہبی تبدیلی کا کوئی کیس  ثابت نہیں ہوا لیکن اس کے باوجو د بہت سے لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے بلاوجہ انکار ہی  کرتے رہتے ہیں
اسی طرح  نابالغ افراد کا اسلام تبدیل کرنا اس سے بے شمار تکلیف دہ مسائل جڑے ہوئے ہیں  دل ہی نہیں  چاہتا کہ اس پر بات کی جائے لیکن متحدہ ہندوستان میں  یہی ہوتا تھا کہ جب نابالغ اسلام  کی تعلیمات سے متاثر ہوجاتے تھے تو  وہ اسلام کی تعلیمات سے متاثر ہونے کے بعد  خاموش رہتے تھے اور بالغ ہونے کے بعد وہ قبول اسلام کا اعلان کرتے تھے کسی بھی نابالغ کیلئے سب سے بڑی پناہ گاہ اس کا گھر ہوتا ہے اس کے ماں باپ ہوتے ہیں  چاہے ان کا کوئی بھی مذہب ہو اتنا بڑا رسک کس طرح لیا جاسکتا ہے کہ ایک نابالغ بچہ  اپنی مرضی سے اپنا مذہب بھی تبدیل کرلے اور وہ اپنا گھر  چھوڑ کر کہیں الگ رہنا شروع کردے  کیا اخلاقیات اس بات کی اجازت دیتی ہیں  ؟  
ویسے بھی کسی بچے کو قبول اسلام کا سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والے ہم اور آپ کون ہوتے ہیں   ٹھیک ہے  اگر کسی ہندو  نابالغ بچے نے اسلام قبول کرنا ہے خوشی سے کرے  جس  طرح میں مسلمان ہوں لیکن میرا اسلام کسی سرٹیفیکیٹ کا محتاج نہیں ہے   مجھے کسی مدرسے کے سرٹیفیکیٹ کی کبھی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوتی  تو  ایسے نابالغ بچوں کیلئے یہی مناسب نہیں کہ وہ اسلام قبول کرنے کے  بعد اپنے ماں باپ کی پناہ میں ہی رہیں اور جب وہ خود مختار ہوجائیں تو  اپنے مذہب کی تبدیلی کا اعلان کردیں
مذہب کی تبدیلی ایک بہت بڑا کاروبار ہے اس مسئلے سے بے شمار  مسائل جنم لے رہے ہیں   جب تک ہم اس کاروبار کو سمجھیں گے نہیں اس وقت تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا  حکومت کو چاہیئے کہ قبول اسلام کی اسنادپر پابندی عائد کرے اسلام کبھی کسی کے سرٹیفیکیٹ کا محتاج نہیں رہا  مذہب کی تبدیلی کیلئے  یہ طریقہ کار طے کیا جاسکتا ہے کہ    نومسلم عدالت میں کیس دائر کرے کہ اس نے  اسلام قبول کرلیا ہے اس لیئے اس کو عدالت  قبول اسلام کا سرٹیفیکیٹ صرف اس نیت سے جاری کرسکتی ہے کہ وہ اپنے تعلیمی دستاویزات پر  اپنا نیا اسلامی نام تحریر کروالے اور شناختی کارڈ وغیرہ پر اپنے کوائف  تبدیل کروالے  اور اگر لڑکی شادی شدہ ہوتو اس کا نکاح بھی  تنسیخ کردیا جائے
ویسے سال کے تین سوپینسٹھ دن  اور چوبیس گھنٹے میں ہر غیر مسلم کو  یہ سہولت حاصل ہے کہ   وہ اسلامی تعلیمات سے  متاثر ہوکر صرف کلمہ توحید پڑھ کر اور  ختم نبوت کا اقرار کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہوسکتا ہے وہ بخوشی اسلام قبول کرے اس کو کسی سرٹیفیکیٹ کی  کوئی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان میں  کروڑوں مسلمانوں کے پاس اس قسم کا کوئی سرٹیفیکیٹ موجود نہیں جس سے ان کا اسلام قبول کرنا  یا مسلمان ہونا ثابت ہوتا ہو  
 
تبدیلی مذہب کے حوالے سے صرف یہ قانون سازی کی  جاسکتی ہے کہ  تبدیلی مذہب کے سرٹفیکیٹس جاری کرنے کا اختیار مدارس اور چرچ کو  نہیں ہونا چاہیئے اگر کوئی ہندو عیسائی مذہب بھی قبول کرتا ہے تو یہ اختیار سیشن جج کو دے دیا جائے کہ  صرف ایک سماعت کے ذریعے اس کو تعلیمی کوائف اور  شناختی کارڈ وغیرہ میں نام کی تبدیلی اور پرانے نکاح کی موجودگی میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پرانے نکاح کو تنسیخ کرکے   اگر شادی شدہ عورت اسلام قبول کرتی ہے تو  اس کو نیا نکاح کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے   
 
مختصر یہ کہ یہ ایک نان ایشو ہے جسے بلاوجہ ایشو بنادیا گیا ہے

Post has attachment
مذہب کی تبدیلی اور سندھ اسمبلی میں ہونے والی قانون سازی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر : صفی الدین اعوان
مذہب کی تبدیلی اور سندھ اسمبلی   میں ہونے والی قانون سازی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحریر   : صفی الدین   اعوان مجھ سمیت مذہب ہرانسان کا ذاتی مسئلہ ہے   کسی کو کیا پتہ کہ میرا مذہب کیا ہے   میرے پاس کوئی ایسا سرٹیفیکیٹ موجود نہیں ہے جس
سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میرا مذہب ک...

Post has attachment

چورن پور کا مسخرہ ۔۔۔۔۔۔تحریر  صفی الدین اعوان

Post has attachment
چورن پور کا مسخرہ ۔۔۔۔۔۔تحریر صفی الدین اعوان
چورن پور کا مسخرہ ۔۔۔۔۔۔تحریر   صفی الدین اعوان قسط نمبر 2 جب   میں آسیب زدہ
بلڈنگ کی مشکل سیڑھیاں چڑھ کر پہلی منزل پر پہنچا تو ہلکا سا سانس پھول گیا
سامنے    ایک   چھوٹا سا آسیب ذدہ شکایت   بکس لگا ہوا تھا جس پر لگا ہوا    زنگ آلود تالا اس کے آسیب ذدہ ہونے...
Wait while more posts are being loaded