Profile cover photo
Profile photo
rafiuddin qamar
3 followers
3 followers
About
Communities and Collections
View all
Posts

Post has shared content
يا منزل الآيات والفرقان..................بيني وبينك حرمة القرآن
أشرح به صدري لمعرفة الهدى............واعصم به قلبي من الشيطان
يسر به أمري وأقض مآربي...............وأجر به جسدي من النيران
واحطط به وزري وأخلص نيتي...........واشدد به أزري وأصلح شأني
واكشف به ضري وحقق توبتي...........واربح به بيعي بلا خسراني
طهر به قلبي وصف سريرتي...............أجمل به ذكري واعل مكاني
واقطع به طمعي وشرف همتي.............كثر به ورعي واحي جناني
أسهر به ليلي وأظم جوارحي.............أسبل بفيض دموعها أجفاني
أمزجه يا رب بلحمي مع دمي............واغسل به قلبي من الأضغاني
أنت الذي صورتني وخلقتني..............وهديتني لشرائع الإيمان
أنت الذي علمتني ورحمتني...............وجعلت صدري واعي القرآن
أنت الذي أطعمتني وسقيتني..............من غير كسب يد ولا دكان
وجبرتني وسترتني ونصرتني...............وغمرتني بالفضل والإحسان
أنت الذي آويتني وحبوتني...............وهديتني من حيرة الخذلان
وزرعت لي بين القلوب مودة............والعطف منك برحمة وحنان
ونشرت لي في العالمين محاسنا.............وسترت عن أبصارهم عصياني
وجعلت ذكري في البرية شائعا...........حتى جعلت جميعهم إخواني
Photo
Add a comment...

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content

Post has shared content
تحقیقی مقالات میں سب سے اہم یہی ہے کہ آپ کس موضوع پر لکھ رہے ہیں بعض موضوعات ایسے ہیں کہ جن پر بالکل نہیں لکھا گیا، ایسے موضوعات پر آپ کی تحریر کی اہمیت محسوس کی جائے گی۔ بعض موضوعات ایسے ہیں کہ جن پر بہت لکھا گیا ہے۔ ایسے موضوعات پر اگر آپ بھی روایتی قسم کی باتیں لکھتے ہیں تو آپ کے مقالہ کی اہمیت محسوس نہیں کی جائے گی
Add a comment...

Post has shared content
تحقیقی مقالات میں سب سے اہم یہی ہے کہ آپ کس موضوع پر لکھ رہے ہیں بعض موضوعات ایسے ہیں کہ جن پر بالکل نہیں لکھا گیا، ایسے موضوعات پر آپ کی تحریر کی اہمیت محسوس کی جائے گی۔ بعض موضوعات ایسے ہیں کہ جن پر بہت لکھا گیا ہے۔ ایسے موضوعات پر اگر آپ بھی روایتی قسم کی باتیں لکھتے ہیں تو آپ کے مقالہ کی اہمیت محسوس نہیں کی جائے گی
Add a comment...

Post has shared content
خلاصة البحث : 1- نماز میں رسول اللہ صلى اللہ علیہ وسلم نے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھنے کا حکم دیا ہے جبکہ مصحف کو دوران نمازتھامنے والا سارے قیام میں اس حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ 2- دوران نماز التفات منع ہے جبکہ مصحف سے مسلسل دیکھ کر سماع یا قراءت کرنیوالا سارے یا اکثر قیام میں اس حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ 3- اللہ تعالى نے صرف اور صرف وحی ہی کی اتباع کا حکم دیا ہے اور دیگر اولیاء کی اتباع سے منع فرمایا ہے ۔ جبکہ مجوزین کے پاس وحی الہی سے کوئی دلیل موجود نہیں ہے , اور غیر وحی عدم حجت ہونے کی بناء پر ناقابل استدلال ہے ۔ 4- صحابہ کرام رضوان اللہ علیہ اجمعین وتابعین عظام رحمہم اللہ کے درمیان بھی اس مسئلہ پر دو آراء ہیں لہذا حکم الہی : فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللّهِ وَالرَّسُولِ إِن كُنتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلاً [النساء : 59] کی رو سے اس مسئلہ کو عدالت نبوی میں ہی پیش کیا جائے گا تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ یہ دنوں عمل عصر نبوی ﷺ میں موجود نہ تھے بلکہ محدث ہونے کی بناء پر اور حکم نبوی وضع الیدین اور عدم التفات کے خلاف ہونے کی بناء پر مردود ہیں ۔

مصدر: http://www.rafeeqtahir.com/ur/play-article-241.html
Add a comment...

Post has attachment
Assalam o Alaikum wa Rahmatullah wa Barakat ho
Sir,
I am teacher in govt. E/S Shehniwala Jhang city.I possess the degree of M.Phil Islamic Studies.I want to attest the result card of said degree via courier service.Please guide me for process.
thank you very much
yours sincerely
Rafiuddin 03336750546


Add a comment...

Post has attachment

Post has attachment
Wait while more posts are being loaded