Profile cover photo
Profile photo
Atif Butt
272 followers -
نہیں چلتے زمانے کی روش پر / ہمیں بھی اک زمانہ جانتا ہے
نہیں چلتے زمانے کی روش پر / ہمیں بھی اک زمانہ جانتا ہے

272 followers
About
Posts

Post has attachment
دیکھتے ہی دیکھتے اسپتال میں خون کے اتنے عطیات جمع ہوگئے تھے کہ وہاں موجود لوگوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے نام، بلڈ گروپ اور رابطہ نمبر درج کروا کے واپس چلے جائیں، اگر ضرورت ہوئی تو ان سے رابطہ کرلیا جائے گا۔ اسپتال کے باہر ایسے لوگ بھی قابلِ ذکر تعداد میں موجود تھے جو خون کے عطیات دینے والوں اور زخمیوں کے لواحقین کے لیے جوس کے ڈبے اور پانی کی بوتلیں لیے کھڑے تھے۔ یہی صورت جناح اور فاروق اسپتال میں بھی نظر آئی۔ ان اسپتالوں میں آئے ہوئے انسانی خدمت کے جذبے سے سرشار لوگ سماجی رابطے کی ویب گاہوں اور ذرائع ابلاغ پر اقلیت کے نام پر الاپے جانے والے راگ سے بےخبر ذات پات، رنگ و نسل اور مذہب کی تمیز سے بالاتر ہو کر اپنے جیسے دوسرے انسانوں کے کام آرہے تھے اور اس کام کے لیے انھیں نہ تو کسی ستائش کی خواہش تھی اور نہ ہی کسی صلے کی تمنا۔ انھیں تو بس یہ پتا تھا کہ

خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسلِ آدم کا خون ہے آخر

Post has attachment
جنید جمشید پر حملے کی ویڈیو مجھے ایک دوست کی وساطت سے رات دو بجے بذریعہ واٹس ایپ موصول ہوئی۔ میں جاگ رہا تھا کیونکہ اس وقت میرے محلے میں ایک جگہ میلاد کی محفل جاری تھی جس میں باقاعدہ آلاتِ موسیقی استعمال کیے جارہے تھے اور بڑے بڑے اسپیکروں کی وجہ سے کافی فاصلے کے باوجود آواز میرے مکان تک آرہی تھی۔ میں اس وقت اس سوچ میں ڈوبا ہوا تھا کہ میرے مکان کے دور ہونے کے باوجود اگر "خیر و برکت" مجھ تک پہنچ رہی ہے تو جن کے گھر اس جگہ کے اردگرد واقع ہیں وہ کس حد تک "فیض یاب" ہورہے ہوں گے اور اگر کوئی شخص کسی نہ کسی وجہ سے پہلے ہی بےچین اور بیزار ہے تو یہ "سمعی فیضان" اس کے لیے کس حد تک اثر انگیز ہوگا۔ خیر، میں نے ویڈیو دیکھی، پہلے تو کچھ سمجھ نہ آیا۔ پھر اس دوست کی طرف سے وضاحت کی گئی کہ یہ ویڈیو کیا اور کہاں کی ہے۔ مجھے بےحد افسوس اور تشویش ہوئی اور کچھ سمجھ نہ آیا کہ اس واقعے پر کس طرح کے ردعمل کا اظہار کیا جائے۔

Post has attachment
مختلف تحقیقی و تخلیقی جہتوں کے حامل ڈاکٹر انور سدید 88 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کرگئے۔

Post has attachment
Tom Anderson explains that "the project was inspired by the ongoing public debate around whether or not terrorism connected with Islamic fundamentalism reflects something inherently and distinctly violent about Islam compared to other major religions."

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے ترقی (یو این ڈی پی) کے سال 2015ء کے لیے جاری کردہ انسانی ترقی اشاریے (ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس) کے مطابق پاکستان انسانی ترقی کے حوالے سے گزشتہ برس کے مقابلے میں ایک درجہ مزید پیچھے چلا گیا ہے لیکن پاکستانیوں کو اس بات کی کوئی پروا نہیں ہے کیونکہ آج کی تاریخ ان کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سعودی مفتیِ اعظم نے جشنِ عید میلادالنبیﷺ کے خلاف فتویٰ کیوں دیا ہے۔

Post has attachment
Over the past eight years $518,000,000 of Pakistani taxpayers’ money has evaporated in thin air and no one – absolutely no one – has been found responsible for the loss.

Post has attachment
The foreign ministry under Zulfiqar Ali Bhutto that was a critical part of the entire operational plan had assured Ayub Khan that India could not afford to expand the war.

Post has attachment
یہ ایک المیہ ہے کہ ہم تمام عمر زندگی کے ساتھ شرط باندھ کر دوڑتے ہیں اور آخر میں پتا چلتا ہے کہ ہم دونوں ہار گئے اور موت جیت گئی۔ ایسا نہ ہو کہ ایک مرتبہ پھر سے موت بازی لے جائے۔ سو، جیون کو گزارئیے! قبل ازیں کہ جیون ہی آپ کو گزار دے۔۔۔

Post has attachment
یہ بات بہت افسوسناک ہے کہ گذشتہ ساڑھے تین دہائیوں سے پاکستان فرقہ واریت اور مذہبی انتہاپسندی کی جس آگ میں مسلسل جل رہا ہے ہمارے ذرائع ابلاغ اس کے صرف ایک پہلو کے بارے میں ہی بات کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ذرائع ابلاغ کے اس متعصب اور دوہرے رویے کی وجہ سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بگاڑ کی طرف گامزن ہوئے۔ اسی طرح ریاست جس کا کام معاملات میں توازن قائم کرنا اور لوگوں کو احساسِ تحفظ فراہم کرنا تھا وہ بھی اپنے میلان کو قابو میں نہیں رکھ پائی۔ اگر آج بھی ریاست یہ طے کر لے کہ کسی بھی قسم کے تعصب اور تمیز کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کو واقعی فرقہ واریت کے عفریت سے نجات دلانی ہے تو مسائل کا حل یقیناً ممکن ہے لیکن اگر اس سلسلے میں متوازن حکمتِ عملی اختیار نہ کی گئی تو اس کے جو منفی نتائج برآمد ہوں گے ان کا تدارک شاید کسی بھی طرح ممکن نہیں ہوپائے گا۔

Post has attachment
The first use of graphic text on computers was the “:-)” emoticon, proposed in 1982 by a man who was frustrated by his colleagues’ inability to understand when he was making a joke.
Wait while more posts are being loaded