Profile cover photo
Profile photo
Beautiful Sayings (Piari Baten)
2,295 followers -
Tableegh is my aim and work.. (Islamic Sms Service)
Tableegh is my aim and work.. (Islamic Sms Service)

2,295 followers
About
Beautiful Sayings (Piari Baten)'s posts

Post is pinned.Post has attachment
ہم لوگ لاکھوں کی گاڑی لیے پھرتے ہیں لیکن سڑک پر موجود ان لوگوں کی مدد کی ہی نیت سے یہ دس پندرہ کے پینز نہیں خریدتے..........
ہم لوگ کے ایف سی میں ہزاروں خرچ کرتے لیکن انہیں دیتے موت آتی ہے"معزرت خواں ہوں اس سے بہتر الفاظ نہیں میرے پاس"
ہم لوگ شغل کے لیے ہیجڑے کو 100،50 دے دیں گے پیشہ ور فقیروں کو دے دیں گے لیکن ان لوگوں کی مدد نہیں کر سکتے ...............
جو اس عمر میں بھی سڑک پر کما رہے جبکہ ان کی عمر سڑکوں پر اتنی ٹریفک کے دوران بھاگنے کی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کبھی سوچا ان کی مدد کے خیال سے ہی کچھ خریدنے کا؟
یا اللہ تبارک وتعالی انہیں اور ان جیسے وہ سب بوڑھوں کی مدد فرما جو روز نکلتے اور روڈز پر دھکے کھاتے صرف چند پیسے کمانے کے لیے روز ان کی جیبیں اتنی بھر دے کہ ان کی بوڑھی آنکھیں سکون سے سو سکین سوچوں میں رات نہ گزاریں...................... آمین
‪#‎binte_sadiq‬

+binte sadiq 
Photo

Post has attachment
--------------------Charity-------------------
"spending out of what ALLAH has given you",
means using your energy, talent, resources, money, possessions, or whatever you have.......
-----------------towards ALLAH's creation-------------
"You cannot attain to righteousness unless you spend (in charity) out of what you love." (The Holy Quran 3:92)
do participate make others participate too ,,,
‪#‎EOI‬
‪#‎Campgion‬
#2016
‪#‎BINTESADIQ‬
‪#‎teamEOI‬

+binte sadiq 
Photo

Post has attachment
-- Reminder for charity --
do participate make others participate  too
----------Charity---------

"Spend (in charity) out of the sustenance that We have bestowed on you before that time when death will come to someone, and he shall say: "O my Lord! If only you would grant me reprieve for a little while, then I would give in charity, and be among the
righteous."
(The Holy Quran, 63:10)

"They ask you (O Muhammad) what they should spend in charity. Say: ‘Whatever you spend with a good heart, give it to parents, relatives, orphans, the helpless, and travellers in need. Whatever good you do, God is aware of it.’"
(The Holy Quran, 2:215)

#TEAM #EOI #Charity
+binte sadiq 
Photo

Post has attachment
ﺭَﺑَّﻨَﺎ ﺁﺗِﻨَﺎ ﻓِﻲ ﺍﻟﺪُّﻧْﻴَﺎ ﺣَﺴَﻨَﺔً ﻭَﻓِﻲ ﺍﻟْﺂﺧِﺮَﺓِ ﺣَﺴَﻨَﺔً ﻭَﻗِﻨَﺎ ﻋَﺬَﺍﺏَ ﺍﻟﻨَّﺎﺭِ
ﺍﮮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﭘﺮﻭﺩﮔﺎﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﻭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﻼﺉ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ، ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﺁﮒ ﮐﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﺑﭽﺎ۔
( ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ 201: )

+binte sadiq 
Photo

Post has attachment
‘The likeness of those who spend their money for Allah’s sake, is as the likeness of a grain (of corn), it grows seven ears, every single ear has a hundred grains, and Allah multiplies (increases the reward) for whom He wills, and Allah is All-Sufficient for His creatures needs, All Knower’.
(Al-Baqarah: 261)

do DONATE make others DONATE too ,,,
#EOI
#Campgion
#2016
#BINTESADIQ
#teamEOI

+binte sadiq 
Photo

Post has attachment
فرمان الہی !
اے اہل ایمان جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تم کو عطا فرمائیں ہیں ان کو کھاؤ اور اگر خدا ہی کے بندے ہو تو اس (کی نعمتوں) کا شکر بھی ادا کرو۔۔ 172
( سورہ البقرہ )

+binte sadiq 
Photo

Post has attachment
"سننے والا سن کر ' دیکھنے والا دیکھ کر ' اور سہنے والا سہہ کر خاموش ہو جائے تو سمجھ لو اس کا معاملہ اللّٰہ کی عدالت میں پہنچ گیا ہے - "..................

+binte sadiq 
Photo

Post has attachment
٭٭ رجب کے کونڈے٭٭٭
دین میں بدعت ایک ایسا کام ہے ۔ جو دین کا حلیہ بگاڑ دیتا ہے اور وہ دین جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے پیش کیا اس میں اضافہ کر دیتا ہے حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں دین اسلام مکمل ہو گیا اور اسمیں کسی قسم کی کمی نہیں رہ گئی حجۃ الوداع کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکمیل دین کی خوش خبری سنائی

چنانچہ ارشاد فرمایا ۔
الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا ( المائدہ-3 )
” آج میں نے دین اسلام کو تمہارے لیے مکمل کر دیا اور اپنی نعمت کی بھی تکمیل کر دی اور اسلام کو بطور دین تمہارے لیے پسند فرمایا ۔ “

جب شریعت کے محل کی تکمیل ہو گئی اور اس میں ایک اینٹ کی جگہ بھی باقی نہیں رہی تو پھر جو شخص اس میں اپنی طرف سے اینٹ لگانے کی کوشش کرے گا ۔ تو وہ بہت بڑا مجرم ہو گا ۔ گویا کہ اس کے نزدیک وہ دین جو اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھلایا اور حکم دیا کہ اپنی امت کو اس کی تبلیغ کرےں نامکمل ہے اور اس کی تکمیل کرنا چاہتا ہے اس طریقے سے وہ ایسا کام کرنا چاہتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا اس صورت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر الزام آتا ہے کہ آپ نے شریعت کو نامکمل چھوڑ دیا یا پھر شریعت کے بعض احکام جن کا آپ کو علم تھا قصداً لوگوں تک نہیں پہنچائے ( نعوذ باللہ من ذالک ) حالانکہ یہ دونوں باتیں غلط ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے مکمل شریعت نازل کی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل شریعت لوگوں تک پہنچا دی ۔

حجۃ الوداع کے موقعہ پر لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا ۔ الاھل بلغت ۔ لوگو ! کیا میں نے تم کو اللہ کے احکام پہنچا دئیے سب نے کہا ہاں ۔
مفہوم حدیث:
بیشک سب سے سچی کتاب اللہ کی کتاب ہے، سب سے بہترین طریقہ محمٌد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا طریقہ ہے، سب کاموں سے برا وہ ہے جسکو (دین میں) نیا نکالا گیا ہو اور ہر نئ چیز بدعت ہے، ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جائیگی.

(نسائ، حدیث 158، درجہ صحیح، کتاب الصلاۃ العیدین، باب خطبہ کیسے پڑھا جاے،راوی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ)

تو گویا کہ بدعت بہت برا کام ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی کا موجب بنتا ہے اور بدعتی کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں لیکن ہماری بدقسمتی کہ ہمارے ملک میں جس قدر بدعات اور رسومات کو فروغ حاصل ہے ۔ اتنا شاید ہی کسی دوسرے ملک میں ہو ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اسوہ حسنہ ہیں ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ میں ہر سال صرف دو تہوار عیدالفطر اور عیدالاضحی منائے ہیں لیکن آج شکم کے پجاریوں نے خدا جانے کتنے تہوار بنا رکھے ہیں بڑے پیر کی گیارہویں تو ہر ماہ کی گیارہ تاریخ کو کھیر پکا کر ضرور کرتے ہیں
 اللہ اور اس کے رسول کی ناراضگی مول لیتے ہیں

اسی طرح ہمارے ملک میں ایک بدعت حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کے کونڈوں کی بھی جاری ہے جو 22 رجب کو کی جاتی ہے گیارہویں کی طرح یہ بھی علماءسو کے لیے شکم پروری کا بہانہ ہے ۔
اس موقعہ پر خوب حلوہ پوڑی کھاتے ہیں ۔ کونڈے بھرنے والوں کو جب سمجھایا جاتا ہے کہ یہ کام بدعت اور ناجائز ہے تو وہ ایک بے بنیاد اور من گھڑت داستان جو لوگوں سے سنی سنائی ہوتی ہے بیان کرتے ہیں جس کا کوئی ثبوت ہے نہ سند ۔

یہ داستان منشی جمیل احمد کا منظوم کلام ہے اس میں ایک لکڑ ہارے کا واقعہ بیان کیا گیا ہے جو مدینہ میں تنگدستی کی زندگی بسر کرتا تھا اور کے بیوی بچے اکثر فاقے کرتے تھے وہ بارہ سال تک در در دھکے کھاتا رہا لیکن فقر و فاقہ اور تنگدستی کی زندگی ہی گزارتا رہا....

 یہ لکڑ ہارا ایک دن وزیر کے محل کے پاس سے گزرا اس کی بیوی مدینہ میں وزیر کی نوکری کرتی تھی وہ ایک دن جھاڑو دے رہی تھی کہ حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے ساتھیوں سمیت وہاں سے گزرے وہ وزیر کے محل کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے ساتھیوں سے پوچھتے ہیں ؟ آج کونسی تاریخ ہے ؟
انہوں نے جواب دیا کہ آج رجب کی بائیس 22 تاریخ ہے
 امام جعفر صادق رحمہ اللہ نے فرمایا اگر کسی حاجت مند کی حاجت پوری نہ ہوتی ہو یا کسی مشکل میں پھنسا ہو اور مشکل کشائی کی کوئی سبیل نظر نہ آتی ہو تو اس کو چاہئیے کہ بازار سے نئے کونڈے لائے اور ان میں حلوہ اور پوڑیاں بھر کر میرے نام کی فاتحہ پڑھے پھر میرے وسیلے سے دعا مانگے اگر اس کی حاجت روائی اور مشکل کشائی نہیں ہوتی تو وہ قیامت کے روز میرا دامن پکڑ سکتا ہے ۔
یہ ایک بالکل من گھڑت قصہ ہے ۔ جو شکم کے پجاریوں اور علماءسوءنے اپنے کھانے کا بہانہ بنا رکھا ہے اس کی کوئی سند اور ثبوت نہیں اور کسی مستند کتاب میں بھی اس کا ذکر نہیں اس کے جھوٹے اور غلط ہونے پر کئی دلائل ہیں ۔ مدینہ طیبہ میں کبھی بادشاہ ہوا ہے نہ وزیر ۔
حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی پیدائش 22 رجب کو نہیں ہوئی بلکہ ایک روایت کے مطابق 8 رمضان المبارک 80ھ میں ہوئی دوسری روایت کے مطابق 17 ربیع الاول 83ھ کو ہوئی ۔ ان کی وفات 15 شوال 148ھ کو ہوئی ۔ ان کی زندگی کے تقریبا 52 سال بنو امیہ کے دور میں گزرے اور ان کا دارالخلافہ بغداد تھا لوگ مدینہ منورہ کا واقعہ بیان کرتے ہیں بنا بریں یہ واقعہ بالکل من گھڑت اور جھوٹا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ 22 رجب حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی پیدائش کا دن ہے نہ وفات کا بس یونہی لوگوں نے ان کی طرف منسوب کر دیا تاریخ حوالہ جات کے مطابق اس دن حضرت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ نے وفات پائی اہل تشیع نے اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ دن خوشی سے منایا تھا بعد ازاں انہوں نے حضرت جعفر رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر دیا کہ یہ ان کی پیدائش کا دن ہے پس ان کی اس رسم کو آہستہ آہستہ اہلسنت کا عقیدہ رکھنے والوں نے اپنا لی
 چنانچہ اکثر تنگدست لوگ اپنی تنگدستی اور فقر و فاقہ سے نجات حاصل کرنے کے لیے رجب کے کونڈے کرتے ہیں ۔ اگر بالفرض ہم یہ بات درست مان لیں کہ اسی دن امام جعفر رحمہ اللہ پیدا ہوئے تو پھر بھی یہ کام ناجائز اور شرک کے زمرہ میں آتا ہے کیونکہ مشکل کشاءاور حاجت روا اللہ تعالیٰ ہے نہ کہ حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ ۔

الغرض رجب کے کونڈوں کا کوئی ثواب نہیں بلکہ یہ بدعت اور شرک کے زمرہ میں آتے ہیں کونڈوں کا قصہ جو امام جعفر کی طرف منسوب ہے بالکل غلط ہے اس میں اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی توہین ہے کہ آپ نے لوگوں کو اس نیکی کے کام سے آگاہ نہیں کیا ۔ امام جعفر صادق رحمہ اللہ خالق توحید کے داعی تھے ۔ وہ ایسی بات جس میں شرک کی بو آئے یا بدعات کے زمرہ میں شمار ہو بھلا کب لوگوں کو کہہ سکتے ہیں ۔

میرے بھائیو ! اس قبیح رسم اور بدعت سے باز آجاؤ کونڈوں کا حلوہ پوڑی مت کھاؤ اپنے لیے حلال کی روزی تلاش کرو اور صرف اللہ کے نام پر صدقہ خیرات دو غیر اللہ کے نام پر صدقہ خیرات دے کر اپنی نیکی مت ضائع کرو ۔ کتاب و سنت کے مطابق نذر و نیاز دو تا کہ اللہ اور اس کا رسول تم پر راضی ہو جائیں ۔
اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو کتاب و سنت پر عمل کرنے اور بدعات سے بچنے کی توفیق دے ۔

علماءدین کا فیصلہ :
کونڈوں کی مروجہ رسم اہل سنت والجماعت کے مذھب میں محض بے اصل، خلاف شرع اور بدعت ممنوعہ ہے کیونکہ 22ویں رجب نہ امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی تاریخ پیدائش ہے اور نہ تاریخ وفات، امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی ولادت 8 رمضان کو ہوئی اور وفات شوال کے مہینے میں ہوئی.
جب یہ رسم ایجاد ہوئی،اہل سنت کا غلبہ تھا اسلیے یہ اہتمام کیاگیا کہ شیرینی اعلانیہ نہ تقسیم کی جائے تاکہ رازفاش نہ ہو،جب کچھ اسکا چرچا ہوا تو اسکو امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرکے یہ تہمت لگائی کہ انہوں نے خود خاص اس تاریخ میں اپنی فاتحہ کا حکم دیا حالانکہ یہ سب من گھڑت باتیں ہیں.
22 رجب کی رسم میں محض پردہ پوشی کے لیئے اسے امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ورنہ حقیقت میں یہ تقریب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خوشی میں منائی جاتی ہے، لہذا ہمیں اس رسم سے دور رہنا چاہیئے، نہ خود اس رسم کو بجا لائیں اور نہ اس میں شرکت کریں
(فتاوی محمودیہ،
جلد 3، صفحہ 281-282،
ناشر: جامعہ فاروقیہ، کراچی)

لہٰذا نہ خود اس رسم کو کریں اور نہ اس میں شرکت کر کے دشمنان امیر معاویہ کی خوشی میں شریک ہو کر گناہ کے مرتکب ہوں ۔
زیادہ سے زیادہ شیئر کیجئے. جزاکم اللہ خیر

+binte sadiq 
Photo

Post has attachment
do participate make others participate too ,,,
‪#‎EOI‬
‪#‎Campgion‬
#2016
‪#‎BINTESADIQ‬
‪#‎teamEOI‬

+binte sadiq 
Photo

Post has attachment
ﺭﺏ ﻧﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺳﺠﺪﮦ ﺳﮩﻮ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﮯ ﻣﮕﺮ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﮏ ﻏﻠﻄﯽ
ﺑﮭﯽ ﻣﻌﺎﻑ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔ﺑﯿﺸﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﺏ ﺑﮍﺍ ﺭﺣﯿﻢ ﮨﮯ۔

+binte sadiq 
Photo
Wait while more posts are being loaded