Profile cover photo
Profile photo
uam doc
8 followers
8 followers
About
uam's posts

Post has attachment
Public
شبِ معراج منانا؟
اولاً تو حتمی طور پر یہ بات طے نہیں ہے کہ معراج کس مہینہ اور کس شب میں پیش آئی؟ دوسرے اگر کوئی تاریخ ثابت بھی ہوجائے تو اس رات میں خصوصیت کے ساتھ عبادت کرنے اور اس کا غیر ضروری اہتمام کرنے کا ثبوت دور نبوت، دور صحابہ اور سلف صالحین سے نہیں ہے، اس لئے جو حضرات اس رات میں خصوصی پروگرام وغیرہ کرنے پر نکیر کرتے ہیں وہ حق پر ہیں۔ اور جن مساجد میں اس رات میں پروگرام کرنے کا سلسلہ جاری ہے اسے ختم کرنا ضروری ہے، تاکہ اس بدعت پر روک لگ سکے۔
یکرہ الاجتماع علی إحیاء لیلۃ من ہٰذہ اللیالي المتقدم ذکرہا في المساجد وغیرہا؛ لأنہ لم یفعلہ النبي ا ولا أصحابہ، فأنکرہ أکثر العلماء من أہل الحجاز، وقالوا: ذٰلک کلہ بدعۃ۔ (مراقي الفلاح مع الطحطاوي، فصل في تحیۃ المسجد ۳۲۶)
اعلم إنا لم نجد في الأحادیث لا اثباتاً ولا نفیاً مما اشتہر بینہم من تخصیص الخامس عشر من رجب بالتعظیم والصوم والصلاۃ۔ (ما ثبت بالسنۃ ۱۹۱-۱۹۲، بحوالہ: فتاویٰ محمودیہ ۵؍۵۰۰ میرٹھ)
ومن ہنا یعلم کراہۃ الإجتماع علی صلوۃ الرغائب التي تفعل في رجب أو في أولی جمعۃ منہ، وأنہا بدعۃ ۔ (شامی زکریا ۲؍ ۴۶۹، حلبی کبیر ؍۴۳۲، البدایۃ والنہایۃ۳؍ ۱۰۹، مرقاۃ المفاتیح ۱۱؍ ۱۳۸، روح المعاني ۹؍ ۱۰، معارف القرآن بیت الحکمۃ دیوبند ۵؍ ۴۴۳، سیرۃ المصطفی ۱؍ ۲۸۸)

Post has attachment
Public
بریلوی امام احمد رضا خان صاحب سے پوچھا گیا کہ میلاد شریف میں جھاڑ (یعنی پنج شاخہ مشعل) فانوس‘ فروش وغیرہ سے زیب و زینت اسراف ہے یا نہیں؟
آپ نے جواباً فرمایا کہ علماء فرماتے ہیں یعنی اسراف میں کوئی بھلائی نہیں اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے میں کوئی اسراف نہیں
(ملخصا‘ تفسیر کشاف‘ سوؤ فرقان تحت الایۃ 67 جلد سوم ص 293)
تماشے کا میلاد کرنا اور فوٹو وغیرہ کھنچوانا یہ سب گناہ و ناجائز ہیں جو شخص ایسی باتوں کا مرتکب ہو‘ اسے امام نہ بنایا جائے
(فتاویٰ رضویہ جلد چہارم ص 216‘ مطبوعہ رضا اکیڈمی ممبئی)
http://tahaffuz.com/418/#.WERC3LJ961t

Post has attachment
Public
بعثتِ نبوی ﷺ کے مقاصد:
القرآن : اللہ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے۔ جو ان کو (1) اللہ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے (2) اور ان کو پاک کرتے (3) اور (خدا کی) کتاب اور (4) دانائی سکھاتے ہیں اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے {3:164}

رسول اللہؐ کی بعثت اللہ کا احسان ہے:
یعنی انہی کی جنس (انسان) اور قوم (عرب) کا ایک آدمی رسول بنا کر بھیجا جس کے پاس بیٹھنا بات چیت کرنا، زبان سمجھنا اور ہر قسم کے انوار و برکات کا استفادہ کرنا آسان ہے، اس کے احوال، اخلاق سوانح زندگی، امانت و دیانت خدا ترسی اور پاکبازی سے وہ خوب طرح واقف ہیں۔ اپنی ہی قوم اور کنبے کے آدمی سےجب معجزات ظاہر ہوتے دیکھتےہیں تو یقین لانے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے۔ فرض کرو کوئی جن یا فرشتہ رسول بنا کر بھیجا جاتا تو معجزات دیکھ کر یہ خیال کر لینا ممکن تھا کہ چونکہ جنس بشر سے جداگانہ مخلوق ہے شاید یہ خوارق اس کی خاص صورت نوعیہ اور طبیعت ملکیہ و جنیہ کا نتیجہ ہوں، ہمارا اس سے عاجز رہ جانا دلیل نبوت نہیں بن سکتا بہرحال مومنین کو خدا کا احسان ماننا چاہیئے کہ اس نے ایسا رسول بھیجا جس سے بےتکلف فیض حاصل کر سکتے ہیں اور وہ باوجود معزز ترین اور بلند ترین منصب پر فائز ہونے کے ان ہی کے مجمع میں نہایت نرم خوئی اور ملاطفت کے ساتھ گھلا ملا رہتا ہے ﷺ۔

بعثتِ رسولؐ کے بنیادی مقاصد:
اس مضمون کی آیت سورۂ بقرہ میں دو جگہ گذر چکی ہے خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کی چار شانیں بیان کی گئیں۔ (۱) تلاوت آیات: (اللہ کی آیات پڑھ کر سنانا) جن کے ظاہری معنی وہ لوگ اہل زبان ہونے کی وجہ سے سمجھ لیتےتھے اور اس پر عمل کرتے تھے۔ (۲) تزکیہ نفوس: (نفسانی آلائشوں اور تمام مراتب شرک و معصیت سے ان کو پاک کرنا اور دلوں کو مانجھ کر صقیل بنانا) یہ چیز آیات اللہ کے عام مضامین پر عمل کرنے، حضور کی صحبت اور قلبی توجہ و تصرف سے باذن اللہ حاصل ہوتی تھی۔ (۳) تعلیم کتاب: (کتاب للہ کی مراد بتلانا) اس کی ضرورت خاص خاص مواقع میں پیش آتی تھی ۔ مثلًا ایک لفظ کے کچھ معنی عام تباور اور محاورہ کے لحاظ سے سمجھ کر صحابہ کو کوئی اشکال پیش آیا، اس قت آپ کتاب اللہ کی اصلی مراد جو قرائن مقام سے متعین ہوتی تھی بیان فرما کر شبہات کا ازالہ فرما دیتے تھے، جیسے اَلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یَلۡبِسُوۡۤا اِیۡمَانَہُمۡ بِظُلۡمٍ (الانعام۔۸۲) الخ اور دوسرے مقامات میں ہوا۔ (۴) تعلیم حکمت: (حکمت کی گہری باتیں سکھلانا) اور قرآن کریم کے غامض اسرار و لطائف اور شریعت کی دقیق و عمیق علل پر مطلع کرنا خواہ تصریحًا یا اشارۃً۔ آپ نے خد اکی توفیق و اعانت سے علم و عمل کے ان اعلیٰ مراتب پر اس درماندہ قوم کو فائز کیا جو صدیوں سے انتہائی جہل و حیرت اور صریح گمراہی میں غرق تھی۔ آپ کی چند روزہ تعلیم و صحبت سے وہ ساری دنیا کے لئے ہادی و معلم بن گئ۔ لہذا انہیں چاہیئے کہ اس نعمت عظمیٰ کی قدر پہچانیں۔ اور کبھی بھولے سے ایسی حرکت نہ کریں جس سے آپ کا دل متالم ہو۔

Post has attachment
Public
سنتوں سے انحراف کرنے والے کا رسول ﷺ سے کوئی تعلق نہیں






الحمدلله رب العالمین، والصلاة والسلام علی سید المرسلین، وعلی آلہ وصحبہ اجمعین، ومن تبعھم باحسان، ودعا بدعوتھم الی یوم الدین، اما بعد!

ہمارے حضورحضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم نے ہر کام میں اعتدال کا طریقہ اختیار کرنے کو پسند فرمایا ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”خیر الأمور اوسطھا“ یعنی معاملات میں بہتر وہ ہیں جو درمیانی ہیں، چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر از خود اپنے عمل سے بتایا اور توجہ دلائی ، آپ صلی الله علیہ وسلم کے تین صحابی بڑے ایمانی جذبے کے ساتھ آپ کے پاس آئے ،ایک نے کہا: رات رات بھرمیں عبادت کیا کروں گا۔ دوسرے نے کہا: میں روزہ رکھوں گا۔ تیسرے نے کہا: میں کبھی شادی نہ کروں گا۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے منع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ میں تم میں سب سے زیادہ متقی اور الله سے ڈرنے والا ہوں اور رات کو عبادت بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور روزے رکھتا ہوں اور روزے سے خالی دن بھی چھوڑتا ہوں اور شادی بھی کرتا ہوں، جو میرے طریقہ پر نہیں، وہ ہم میں سے نہیں ۔ یہ تھی وہ اعتدال اور درمیان کی راہ جس پر حضور صلی الله علیہ وسلم نے امت کو ڈالا تھا اور اس کی تربیت بھی پوری طرح کر دی تھی کہ اپنی دنیاوی زندگی کی فکر حسب ضرورت رکھو اور اپنے دین کے حق کو پوری طرح ادا کرو ، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا”الدین یسر“ کہ مذہب آسان ہے، الله پاک نے امت محمدیہ کے لیے مذہب کو آسان بنا دیاہے، اس پر پوری طرح عمل کرنا آسان ہے، دین پر پورا عمل کرنے سے برکت ہوتی ہے اور الله کی نصرت کے وعدے پورے ہوتے ہیں، امت محمدیہ کے لیے اس میں آسانی ہے اور یہی اس کے لیے فلاح وکامرانی کی راہ ہے ، حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا کہ سجدوں سے یعنی پروردگار کی عبادت کرنے سے میری مدد کرو۔ یعنی میری دعا کو تقویت پہنچاؤ ، ایک حدیث میں فرمایا: ایسا بھی شخص لایا جائے گا جس نے خوب عبادت کی ہو گی، لیکن لوگوں کی دل آزاری کی ہو گی، کسی کو مارا ہو گا، کسی پر الزام لگایا ہو گا ، جب اس کا حساب ہو گا تو جس کی اس نے دل آزاری کی ہو گی ، اس کو اس کی نیکیاں دے دی جائیں گی، حتی کہ اس کا دامن اس کی نیکیوں سے خالی ہو جائے گا اوراس کو آگ میں جانا پڑے گا۔ ہم کو حضور صلی الله علیہ وسلم سے سچی محبت کا ثبوت دینا چاہیے او راتباع سنت کو اختیار کرنا چاہیے۔

اتباع سنت کا معیار وتقاضا
اتباع سنت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی خوشی کا کام کیا جائے او رناخوشی سے بچا جائے ، آپ صلی الله علیہ وسلم کے احکام کی پیروی کی جائے اورزندگیوں کو اس پیمانے میں ڈھالا جائے، جو آپ صلی الله علیہ وسلم کی حیات طیبہ کے شب وروز کیحالات سے او رتکلیف وراحت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے طرز وطریقہ سے ، عبادات ومعاملات میں آپ صلی الله علیہ وسلم کی سنت سے بنتا ہے ، آپ صلی الله علیہ وسلم سے سچی محبت کا یہی معیار ہے کہ دیکھا جائے کہ ہماری زندگی میں آپ صلی الله علیہ وسلم کے طریقہ وسنت کی پیروی کہاں تک ہے؟ دعویٰ کرنا آسان ہے ، محبت وتعلق کا لفظی اور دکھاوے کا اظہار آسان ہے ، آدمی جس طرح اپنی بہت سی خواہشوں پر پیسے صرف کر دیتا ہے، حضور صلی الله علیہ وسلم سے محبت کے دعوے او ردکھاوے پر بھی صرف کر دیتا ہے، روشنی، جلسہ، جلوس بھی آسان کام ہیں ، اس میں دل بھی لگتا ہے اور مزہ آتا ہے، لیکن جس میں جی لگتا ہو اور معلوم ہو جائے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ طریقہ نہیں پھر اس کو آدمی چھوڑ دے او راس کے مزے سے اپنے کو بچائے، یہی وہ مشکل کام ہے جو ہمار ی زندگی سے نکلتا جارہا ہے او رجو سنت ہے جس سے الله کے رسول خوش ہوں گے، اسی کو اختیار کرے، خواہ اس میں کوئی مزہ نہ ہو ، کوئی دکھاوانہ ہو۔

حضور صلی الله علیہ وسلم کی خوشی اور خوش نودی آپ صلی الله علیہ وسلم کے احکام پر عمل کرکے دکھانے سے اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی سنت کی پیروی سے ہو گی ، ہم دیکھیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم خوشی کے موقعوں پر کیا کرتے تھے ، رنج کے موقعوں پر کیا کرتے تھے ، اپنے پروردگار کی عبادت او راس کے احکام کی بجا آوری کیسے کرتے تھے، پھر بیویوں سے کیسے پیش آتے تھے ،بچوں کے ساتھ کیسا سلوک تھا، ساتھیوں اور رفقاء کا کیسا خیال کرتے تھے ، پڑوسیوں کے ساتھ کیا معاملہ تھا، کیسی رحم دلی تھی، کیسا اخلاق تھا؟ قرآن مجید میں فرماگیا ہے ﴿ لقد کان لکم فی رسول الله اسوة حسنة لمن کان یرجو الله والیوم الآخر وذکر الله کثیراً﴾․

یعنی” تمہارے لیے الله کے رسول میں اچھا نمونہ ہے، یہ اس شخص کے لیے جو الله سے امید قائم کرتا ہے اور آخرت میں امید کرتا ہے اور اس نے الله کو بہت یاد کیا ہے ۔“

الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے محبت واطاعت او ران کے اعمال واخلاق کو اپنی رندگی کے لیے نمونہ بنانا ہی الله پاک وبرتر سے محبت اور مقبولیت کا ذریعہ قرار دیاگیا ہے، قرآن مجید میں فرمایا گیا:﴿قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله﴾․ اس لیے ہم مسلمانوں کو اپنی اپنی زندگی کا جائز ہ لیتے رہنا چاہے کہ ہم الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے واقعی محبت کرتے ہیں یا ہم کو شیطان دھوکا دے رہا ہے او رہم سب انسانوں کو ہمارے پروردگار نے حکم دیا کہ اس عظیم اورر حمة للعالمین رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی پیروی کریں، اس میں ہمار ی کامیابی اور نجات ہے ۔

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ایک جامع ترین نصیحت
”عن ابی نجیح العرباض بن ساریة رضی الله عنہ قال: وعظنا رسول الله صلی الله علیہ وسلم موعظةً بلیغةً، جلت منھا القلوب وذرفت منھا العیون، فقلنا یا رسول الله، کأنھا موعظة مودِّع فأوصنا․ قال: اوصیکم بتقوی الله، والسمع، والطةعة، وان تأمَّر علیکم عبد حبشی، وانہ من یعش منکم فسیریٰ اختلافاً کثیراً، فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المھدیین، عضوا علیھا بالنواجذ، وایاکم ومحدثات الامور، فان کل بدعة ضلالة․“ (رواہ ابوداؤد، والترمذی)

ترجمہ:” حضرت عرباض بن ساریہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں نہایت موثر وعظ ارشاد فرمایا کہ ہمارے دل ڈر گئے او رہماری آنکھیں اشکبار ہو گئیں ، تو ہم نے عرض کیا یا رسول الله ! یہ تو گویا آخری نصیحت معلوم ہوتی ہے ، لہٰذا ہمیں کچھ اور نصیحت فرمائیے ۔ آپ نے فرمایا میں تمہیں الله سے ڈرنے کی او رسمع وطاعت ( یعنی امیر کی بات سننے اور اس پر عمل کرنے) کی وصیت کرتا ہوں، اگرچہ تم پر کوئی حبشی غلام مقرر کیا جائے۔ (یاد رکھو !) تم میں سے جو میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا، ایسی حالت میں تم پر لازم ہے کہ میری سنت اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کے طریقے کو لازم پکڑے رہنا، ان کو دانتوں سے مضبوط پکڑے رہنا اور دین میں نئے نئے کام( بدعات) ایجاد کرنے سے بچنا، اس لیے کہ ہر نئی بات بدعت ہے او رہر بدعت گمراہی ہے۔“

اس حدیث کو دیکھیے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کتنا مؤثر وعظ فرمایا ہے کہ سب کی آنکھیں بہنے لگیں اور سب لرز اٹھے، روایت میں آتا ہے ”وجلت منھا القلوب وذرفت منھا العیون“، وجل“ اسی خوف کو کہتے ہیں جو دل میں لرزہ پیدا کر دے ، خوف کی کئی قسمیں ہوتی ہیں ، عربی میں اس کے مختلف الفاظ ہیں ” خوف“ کا لفظ آتا ہے ، ” حذر“ اور ” ذعر“ کا بھی لفظ آتا ہے ”وجل“ اور ”خشیت“ کا بھی لفظ آتا ہے، ان سب میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے اور ان کے مواقع استعمال بھی الگ الگ ہیں کہ کس کیفیت میں کون سا لفظ زیادہ بہتر ہے، عام خوف کو خوف کہتے ہیں،لیکن جب کسی چیز کو دیکھ کر اچانک خوف آجائے اس کو ”ذعر“ کہتے ہیں، خشیت اس خوف کو کہتے ہیں جو دل میں احترام کے جذبہ کے ساتھ ہو ، وجل اس خوف کو کہتے ہیں کہ جس میں آدمی لرزجائے، توصحابہ کرام کا ایمان اتنا بڑھا ہوا تھا کہ جب آپ صلی الله علیہ وسلم سے جنت او رجہنم کی باتیں سنتے تھے تو لرز جاتے تھے، ان کا ایمان اتنا قوی تھا کہ جنت کا ذکر ہوتا تھا تو گویا جنت ان کو نظر آرہی ہے اور اگر دوزخ کا ذکر ہوتا تو گویا دوزخ نظر آرہی ہے، آگ لپکتی ہوئی نظر آرہی ہے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ آگ ہماری طرف بڑھ رہی ہے اور کہیں ہمیں چھونہ لے ، یہ کیفیت صحابہ کرام کی ہوتی تھی، اس کیفیت کے بعد کیا دل ان کا لرز نہیں جائے گا، آپ سو رہے ہوں اور آگ لگ گئی اور اچانک آپ نے دیکھا کہ وہ آپ کی طرف بڑھ رہی ہے اور بھاگنے کا کوئی راستہ نہ ہو تو آپ کا دل لرز جائے گا، معلوم ہو گا کہ موت سامنے ہے۔

یہ کیفیت صحابہ کی ہو جاتی تھی، اس لیے کہ ان کا ایمان اتنا بڑھا ہوا تھا کہ جو چیزیں ہم پڑھتے ہیں اور اس کو علمی طور پر مان لیتے ہیں، دل کی گہرائیوں میں نہیں اترتا، لیکن ان کو اس پراتنا یقین ہوتاتھا کہ جیسے وہ آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں، اس لیے حضور صلی الله علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی وہ مؤثر تھی، سننے والے آپ صلی الله علیہ وسلم کے صحابہ تھے، ایسے ایمان والے تھے کہ سن کر بے حد متاثر ہوئے اور ڈر گئے کہ آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور لوگوں نے کہا کہ یا رسول الله (صلی الله علیہ وسلم)! آپ نے ایسا وعظ فرمایا جیسے کہ آپ آخری وعظ فرمارہے ہوں اور اتمام حجت کر رہے ہوں اور جس کے بعد کچھ کہنا نہیں کہ یہ آخری بات ہے، جو کہہ رہے ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم کچھ نصیحت کیجیے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”اوصیکم بتقویٰ الله والسمع والطاعة، وان تأمرعلیکم عبد حبشی…“ یعنی میں تم کو نصیحت کرتا ہوں، ہدایت دیتا ہوں کہ دل میں خدا کا ڈر پیدا کرو اور بات سنا کرو اور مانا کرو، جس طرح وہ شخص کرتا ہے جو کسی بااختیار آقا کا غلام ہو۔

یہ ایسی حدیث ہے کہ خاص طور پر اس زمانہ کے لیے اس میں بہت ہی روشنی ہے ، یہ زمانہ ایسا ہے کہ خود غرضی اور آپس میں تعلقات کی خرابی اور ایک دوسرے سے کشکمش اور لڑائی اور ایک دوسرے کی مخالفت مسلمانوں میں نہایت عام ہو گئی ہے ، لیڈر لیڈر سے لڑ رہے ہیں ، واعظین وعلماء تک آپس میں لڑ رہے ہیں ، حضور صلی الله علیہ وسلم نے جو فرمایا ہے وہ اسی لیے فرمایا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو الله پاک کی طرف سے یہ بتلا دیا گیا تھا کہ اس امت پر ایسے دور آئیں گے اور یہ بات اسی زمانہ میں نہیں، بلکہ اس سے پہلے سے ہوتی رہی ہے تو حضور صلی الله علیہ وسلم کو الله کی طرف سے یہ بات بتلا دی گئی تھی کہ امت ان حالات سے گزرے گی، اس لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس سے خبردار کیا کہ دیکھو! ایسے حالات پیش آسکتے ہیں، اس میں تم کو کیا کرنا چاہیے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله سے ڈرو اور جو شخص خدا سے ڈرے گا جس کو واقعی ڈرنا کہتے ہیں، جیسا کہ صحابہ کرام ڈرتے تھے تو وہ اس طرح کی چیزوں میں نہیں پڑے گا، مثال کے طور پر آگ سے آپ ڈر رہے ہیں، خدانخواستہ آگ لگ گئی ، آپ آگ کے سامنے کھڑے ہیں، اس وقت وہاں آپ کا مخالف بھی پہنچ گیا ہے تو کیا ایسے موقع پر آپ اپنے مخالف سے دشمنی کریں گے ؟ نہیں کریں گے، بلکہ دونوں مل کر بچنے کی کوشش کریں گے اور اس وقت دونوں دوست ہو جائیں گے ، دونوں ایک دوسرے کا تعاون کریں گے کہ بھائی! آگ لگ رہی ہے ، اس کو بجھانے کی کوشش کریں گے، اس وقت ہم اپنے اختلاف نہیں دیکھیں گے، اس وقت ہم دونوں مل جائیں گے۔

صحیح مومن الله کے غضب وناراضی سے اسی طرح ڈرتا ہے اور اس کے عذاب سے ڈرتا ہے ، اس کی پکڑ سے ڈرتا ہے او رالله سے اس طرح ڈرنے کا سبب یہ بنتا ہے کہ الله نے کہا کہ قیامت کے دن ہم تمہارا حساب لیں گے اور تمہارے اعمال کے مطابق جزا وسزا دیں گے، اگر برے اعمال ہیں تو جہنم او راگر اچھے اعمال ہیں توجنت دیں گے، اس میں پورا پورا معاملہ ہو گا، وہاں رعایت نہیں ، ہاں! اگر بعد میں الله رحم فرما دے تو اس کا فضل ہے، کوئی اسے روک نہیں سکتا توجب ہم کو اس پر واقعتاً یقین ہو گا اورخدا سے واقعتاً ڈر ہو گا تو ہمیں بے حد فکر اس کی ہو گی کہ الله پاک ہم سے ناراض نہ ہوں ، جب الله پاک کی رضا مندی یا ناراضگی کی فکر ہو گی تو یہ سب چیزیں چھوٹ جائیں گی کہ فلاں نے ایسا کرد یا، فلاں نے ایسا کہا، مومن سوچتا ہے کہ فلاں نے ایسا ویسا کر دیا تو کتنا نقصان ہو گا، اس سے زیادہ نقصان تو اس میں ہے کہ آدمی اپنے عمل کے نتیجے میں جہنم میں پہنچ جائے ، ہماری دنیا کتنی ہے اور کیا اہمیت رکھتی ہے؟ وہ اگر برباد ہو جائے تو کتنا نقصان ہے؟ الله سے ڈرنے والا یہ دیکھتا ہے ہماری دنیا برباد ہو جائے، لیکن ہماری آخرت سنور جائے ، جہاں ابدالآباد کی زندگی گزارنی ہے، صحابہ کرام کے دل کی کیفیت یہی بن گئی تھی، جب ان کو جہنم سے ڈرایا جاتا تھا تو وہ واقعی ڈرتے تھے اور خوف زدہ ہو جاتے تھے اور آنسو جاری ہو جاتے تھے اور ان باتوں میں پڑنے یاکرنے سے دور بھاگتے تھے جن کے کرنے سے الله تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔

قرآن مجید میں تلقین آئی ہے کہ الله سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ فرمایا: ﴿اتقوا لله حق تقاتہ﴾ او رایسا ڈرواقعی پیدا ہوتا ہے ، ہمارے حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تقویٰ اختیار کرنے کی ہدایت کے بعد ارشاد فرمایا کہ امیر کی بات سنو اور مانو اور جب مومن حضور صلی الله علیہ وسلم کی بات کو خوب مانتا ہو گا تو یہ حکم بھی مانے گا اور سب لوگ امیر کی باتیں ماننے لگیں تو جھگڑا ختم ہو جائے گا اور غلط کام بھی ختم ہو جائے گا فرمایا:”انہ من یعش منکم فسیریٰ اختلافاً کثیراً“ کہ بعد میں جو زندہ رہیں گے جب کہ ایمان کی کمزوری آجانے پر اختلافات اثر انداز ہونے لگیں گے تو وہ لوگ بڑا اختلاف دیکھیں گے، ایک دوسرے سے مخالفت اور نفرت رکھنے والے لوگ ہونے لگیں گے، ایسے وقت میں تم کو وصیت کرتا ہوں ”علیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المھدیین“ کہ میرا طریقہ اور خلفائے راشدین کا طریقہ اختیار کر و اور اس پر نظر رکھو کہ میں نے کیا کیا اور ایسے موقع پر صحابہ  نے کیا کیا ، خاص طور پر خلفائے راشدین کو دیکھو۔

سنت کے کیا معنی ہیں؟
سنت کے معنی طریقہ عمل کے ہیں اور ”السنة“ سے مراد سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم ہے اور سنت کی اضافت جس کی طرف کی جائے اس کا طریقہ ہو جاتا ہے تو آپ صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ میری سنت پر عمل اور خلفائے راشدین کی سنت پر عمل کرو یعنی میرے طریقہ کو دیکھو اور اس کو اختیار کرو اور صحابہ کے طریقہ کو دیکھو اور اس کو اختیار کرو، اگر میرے طریقہ پر عمل کرو گے اور خلفائے راشدین کے طریقہ کو سامنے رکھو گے تو آپسی اختلافات وکشمکش اور مصیبت وآفت سے بچ جاؤگے اور فرمایا کہ ”عضوا علیھا بالنواجد“ یعنی اس کو دانتوں سے پکڑو۔

حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری سنت اور صحابہ کی سنت کو مضبوطی سے پکڑ لو، اگر ایسا کروگے تو خطرہ سے بچ جاؤ گے۔”وایاکم ومحدثات الامور“ یعنی دین کے معاملہ میں نئی نئی باتیں ایجاد ہوں تو ان سے بچو ”وإیاکم ومحدثات الامور“ اپنے کو بچاؤ او ربچو، یعنی لوگ اپنے فائدوں کی غرض سے محض اندازوں سے دین کے اندر نئی باتیں کرتے رہتے ہیں ان سے بچو اور یہ دین کے معاملہ میں ہے ، دنیا کے معاملہ میں نہیں ، دنیا کے معاملہ میں آدمی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی پسند کے مطابق کام کرے، لیکن دین کے معاملہ میں جہاں الله تعالیٰ کی رضا کا معاملہ ہوتا ہے اس میں اگر کوئی نئی بات ایجاد کی جاتی ہے جو حضور صلی الله علیہ وسلم نینہیں بتائی تو وہ ”محدث“ ہے، یعنی نئی کر دی گئی ہے ، نئے نئے اختیار کردہ معاملات سے بچو، جن کو لوگ دین بناتے ہیں حالاں کہ وہ دین نہیں ہے ، جس کو الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے بتایا او رکہا یا کیا ہے یا صحابہ کرام نے کہا اور کیا ہے، اس کے علاوہ جو نئی چیز اختیار کی جائے گی اور وہ دین نہیں بلکہ بدعت ہے یا بدعت کامطلب دین میں نئی بات ایجاد کرنا ہے اور دین کے اندر نئی بات کا ایجاد کرنا کسی کا حق نہیں، کیوں کہ دین مکمل کر دیا گیا او راعلان کر دیا گیا ﴿الیوم اکملت لکم دینکم﴾ میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، دین مکمل ہو گیا، اب کوئی نئی بات دین میں داخل نہیں ہو گی۔

کل بدعة ضلالة
حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہر نئی بات اور نئی ایجاد یعنی جو بات حضور صلی الله علیہ وسلم کی لائی ہوئی باتوں سے الگ ہو گی ، گمراہی ہو گی، ہدایت وہ ہے جو الله اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے ہم کو ملی ،گمراہی وہ ہے جو دین میں نئی بات اختیار کی گئی ہے ، جس کی الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے یہاں کوئی سند نہیں اور راہ نمائی نہیں ملتی وہ بدعت ہے اور ہر بدعت ضلالت وگمراہی ہے۔

ہمیں تو آپ صلی الله علیہ وسلم کی حیات طیبہ اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرنا ہے، تاکہ آخرت میں آپ صلی الله علیہ وسلم سے اگر ملاقات مقدر ہو تو آپ یہ نہ فرمائیں کہ تم نے تو ہم کو خوش نہیں کیا، صرف اپنے کو خوش کرتے رہے اور شان وشکوہ سے اپنا دل بہلاتے رہے اور ہماری سنتیں مٹتی رہیں ، ہمیں سیرت پاک کے جلسوں میں اتباع سنت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو ضرور سامنے لانا چاہیے ، الله پاک ہم سب کو اتباع سنت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

وصلی الله علی سیدنا ومولانا محمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین


Post has attachment
Public
عنقریب لوگوں پر دھوکے اور فریب کے چند سال آئیں گے کہ ان میں جھوٹے کو سچا اور سچے کو جھوٹا، خائن کو امانت دار اور امانت دار کو خائن سمجھا جائے گا اور اس زمانہ میں عوامی معاملات کے بارے میں حقیر (نافرمان) آدمی بات چیت کرے گا۔
[ صحيح ابن ماجه الصفحة أو الرقم: 3277 المحدث : الألباني]

Post has attachment
Public
تقلید کا لغوی معنی:
تقلید کا معنی لغت میں پیروی ہے اور لغت کے اعتبار سے تقلید، اتباع، اطاعت اور اقتداء کے سب ہم معنی ہیں۔
[مختار الصحاح : 758 ، موسوعه فقہیہ : 1 / 264 - 265، فیروز الغات: ا - ت، صفحہ # ٦٢]

قرآن مجید میں تقلیدِ علماء وفقہاء کا حکم:
القرآن : يٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا أَطيعُوا اللَّهَ وَأَطيعُوا الرَّسولَ وَأُولِى الأَمرِ مِنكُم ۖ فَإِن تَنٰزَعتُم فى شَيءٍ فَرُدّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسولِ إِن كُنتُم تُؤمِنونَ بِاللَّهِ وَاليَومِ الءاخِرِ ۚ ذٰلِكَ خَيرٌ وَأَحسَنُ تَأويلًا {4:59}
ترجمہ : اے ایمان والو! حکم مانو اللہ کا اور حکم مانو رسولؐ کا اور اُولِي الْاَمْرِ(علماء و فقہاء) کا جو تم (مسلمانوں) میں سے ہوں، پھر اگر جھگڑ پڑو کسی چیز میں تو اسے لوٹاؤ اللہ (کےکلام) اور رسولؐ (کی فرمان) کی طرف، اگر تم ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر، اور قیامت کے دن پر، یہ بات اچھی ہے اور بہت بہتر ہے اس کا انجام. (النساء: ٥٩)
تشریح: اس آیت میں ادلہ اربعہ (چاروں دلیلوں) کی طرف اشارہ ہے: اَطِيْعُوا اللّٰهَ سے مراد "قرآن" ہے، اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ سے مراد "سنّت" ہے، اور اُولِي الْاَمْرِ سے مراد "علماء و فقہاء" ہیں، ان میں اگر اختلاف و تنازع نہ ہو بلکہ اتفاق ہوجاتے تو اسے "اجماعِ فقہاء" کہتے ہیں.(یعنی اجماعِ فقہاء کو بھی مانو). اور اگر ان اُولِي الْاَمْرِ(علماء و فقہاء) میں اختلاف ہو تو ہر ایک مجتہد عالم کا اپنی راۓ سے اجتہاد کرتے اس نئے غیر واضح اختلافی مسئلے کا قرآن و سنّت کی طرف لوٹانا اور استنباط کرنا "اجتہادِ شرعی" یا "قیاسِ مجتہد" کہتے ہیں.

Post has attachment
Public
جو شخص "اخلاص" کے ساتھ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہے، وہ جنت میں داخل ہوگا، کسی نے پوچھا کہ کلمہ کے اخلاص (کی علامت) کیا ہے؟ آپ نے فرمایا کہ الله کی حرام کردہ کاموں سے اس کو روک دے.[ الترغيب والترهيب: 2/340، مجمع الزوائد: 1/23]
https://www.youtube.com/watch?v=3VMwQ2h4bEc

Public
بے پردہ کل جو آئیں نظر چند بیبیاں
اکبر وہیں پہ غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کے پردہ کا کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا

Post has attachment
Public
قرآن، صحیح احادیث اور آثار سے ثابت ہے کہ قوم نوح علیہ السلام کی گمراہی کا سبب یہی تصویریں تھیں، جیساکہ اللہ رب العالمین کا فرمان ہے: ﺍﻭﺭ ﻛﮩﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻛﮧ ﮨﺮﮔﺰ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻌﺒﻮﺩﻭﮞ ﻛﻮﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻭﺩ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﺍﻉ ﺍﻭﺭ ﯾﻐﻮﺙ ﺍﻭﺭ ﯾﻌﻮﻕ ﺍﻭﺭ ﻧﺴﺮ ﻛﻮ ( ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ )(سورۃ النوح:23) ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﻮ ﮞ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻛﻮ ﮔﻤﺮﺍﮦ ﻛﯿﺎ ( ﺍﻟٰﮩﯽ ) ﺗﻮ ﺍﻥ ﻇﺎﻟﻤﻮﮞ ﻛﯽ ﮔﻤﺮﺍﮨﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮬﺎ ۔(سورۃ النوح:24) ﯾﮧﻟﻮﮒ ﺑﮧ ﺳﺒﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻨﺎﮨﻮﮞ ﻛﮯ ﮈﺑﻮ ﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﺎﺩﯾﺌﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍللہ ﻛﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﭘﻨﺎ ﻛﻮﺋﯽ ﻣﺪﺩﮔﺎﺭ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ ۔
اور نبی کریم ﷺ سے ثابت ہے: کہ آپ کی بعض ازواج نے ایک کلیسے کا ذکر کیا جنہیں انہوں نے حبشہ كى سر زمين میں دیکھا، اور اس میں كچھ تصویریں بهى تھیں، تو آپ نے فرمایا: یہ لوگ ہیں کہ جن میں سے کوئی نیک آدمی مرجاتا ہے، تو اسکی قبر پر مسجد بنا دیتے، اور اس میں انکی تصویریں رکھتے، اور یہ لوگ اللہ کے پاس بدترین لوگ ہیں۔ اسی مفہوم کی احادیث بہت ہیں۔[بخاری:434، مسلم:528، نسائی:704]

Post has attachment
Public
القرآن : وَالَّذينَ ءامَنوا وَاتَّبَعَتهُم ذُرِّيَّتُهُم بِإيمٰنٍ أَلحَقنا بِهِم ذُرِّيَّتَهُم وَما أَلَتنٰهُم مِن عَمَلِهِم مِن شَيءٍ ۚ كُلُّ امرِئٍ بِما كَسَبَ رَهينٌ {52:21}
اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد بھی (راہ) ایمان میں ان کے پیچھے چلی۔ ہم ان کی اولاد کو بھی ان (کے درجے) تک پہنچا دیں گے اور ان کے اعمال میں سے کچھ کم نہ کریں گے۔ ہر شخص اپنے اعمال میں پھنسا ہوا ہے.

And those who believe and whose progeny follow them in belief. We shall cause their progeny to join them, and We shall not diminish Unto them aught of their own work. Every man is for that which he hath earned a pledge.



القرآن : وَإِذا قيلَ لَهُمُ اتَّبِعوا ما أَنزَلَ اللَّهُ قالوا بَل نَتَّبِعُ ما أَلفَينا عَلَيهِ ءاباءَنا ۗ أَوَلَو كانَ ءاباؤُهُم لا يَعقِلونَ شَيـًٔا وَلا يَهتَدونَ {2:170}؛
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے نازل فرمائی ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں (نہیں) بلکہ ہم تو اسی چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا۔ بھلا اگرچہ ان کے باپ دادا نہ کچھ سمجھتے ہوں اورنہ سیدھے رستے پر ہوں (تب بھی وہ انہیں کی تقلید کئے جائیں گے)؛

And when it said unto them: follow that which Allah hath sent down, they say: nay, we shall follow that way whereon we found our fathers - even though their fathers understood not aught, nor were they guided aright?


And when it is said to them, the disbelievers, ‘Follow what God has revealed’, pertaining to affirmation of God’s Oneness and the good things that He has made lawful, they say, ‘No; but we follow what we found our fathers doing’, in the way of idol-worship, deeming unlawful the camel let loose, and [practising] the slitting of the camel’s ear (sc. bahīra). God says: What? (the hamza [of a-wa-law] is for repudiation), do they follow them, Even if their fathers do not understand anything, concerning religion, and they were not guided?, to the truth.



خلاصہ: اگر آباء الله تعالیٰ اور اس کے رسولﷺ کا راستہ بتانے والے ہوں کہ تو ان کی تقلید(اتباع) واجب ہے اور اگر آباء الله تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے راستے سے ہٹانے والے ہوں تو ان کی تقلید (اتباع) حرام ہے.


تنبیہ: جن کی تقلید سے روکا گیا ہے وہاں یہ قید لگائی ہے کہ وہ باپ دادا بےدین ہوں تو بےدینی میں ان کی تقلید (اتباع) نہ کرو، بےعقل ہوں تو بے عقلی میں ان کی تقلید نہ کرو. ان آیات کو آئمہِ اربعہ (چار ٤ اماموں) کی تقلید میں پیش کرنا گویا ان کو گمراہ، بے-عقل و بے-ہدایتے اور جاہل ماننا ہے، جو یقیناً خود جہالت و ظلم ہے.
Wait while more posts are being loaded