Profile cover photo
Profile photo
محمد عبداللہ
76 followers
76 followers
About
Posts

Post has attachment

لیکن باوجود کوشش کے جب ہمیں کوئی ایسا کام یاد نہیں آیا تو ہم نے اللہ سے اپنے اگلے گناہ کی پیشگی معافی مانگی  ۔ نیکیاں یاد کرنے کی کوشش چھوڑ کر اپنے زور بازو پر انحصار کرنے کا فیصلہ کیا اور انکی بڑھی ہوئی توند میں اپنی سلاخ سی کہنی چبھو دی۔زور بازو کے استعمال کی برکت سے وہ صاحب نیند سے بیدار ہوئے ۔ سیدھے ہو کر تھوڑی دیر ادھر ادھر دیکھا اور چند منٹ بعد پھر ہارمونیم بجنے لگا اور اسی ترتیب سے وہ پھر ہمارے کندھے پر آ گرے۔ ہم نے بھی اپنا طریقہ آزمایا اور ساری رات یہ کھیل چلتا رہا وہ اپنا حق استعمال کرتے رہے اور ہم اپنا زور بازو۔گیارہ گھنٹے کے طویل سفر کے بعد صبح جب ہم اپنے گھر پہنچے تو ہمارا دایاں کندھا تقریباً سن ہو چکا تھا اور مزید بوجھ اٹھانے سے انکاری بھی

Post has attachment
السفر وسیلۃ الظفر
کسی سیانے عربی کا قول ہے "السفر وسیلۃ الظفر"۔ یعنی سفر وسیلہ ء کامرانی ہے۔ یہ قول ہم نے تب سنا جب آتش
بچہ تھا اس لئے شروع شروع میں تو ہمیں اس کی سمجھ ہی نہیں آئی اور ہم  اسے اپنے سکول کے چوکیدار ظفر چاچا سے منسوب
کرتے رہے۔ سالوں بعد جب ہمیں اسکا مطلب سمجھ آ...

Post has attachment

Post has attachment
**
چند ہفتے پہلے پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والا تماشہ کافی حد
تک ٹھنڈا پڑ چکا ہے۔ حسب معمول میڈیا نے اس معاملے پر بھی روایتی بد دیانتی کا
مظاہرہ کیا اور حالات کی اپنی مرضی سے تصویر کشی کی ۔ میڈیا کی اطلاعات اور حقیقت
میں اتنا زیادہ فرق دیکھ کرمیرا  بلاگ
لکھنے ک...

Post has attachment
انتطامی بدمعاشی بمقابلہ طلباء بدمعاشی
چند ہفتے پہلے پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والا تماشہ کافی حد
تک ٹھنڈا پڑ چکا ہے۔ حسب معمول میڈیا نے اس معاملے پر بھی روایتی بد دیانتی کا
مظاہرہ کیا اور حالات کی اپنی مرضی سے تصویر کشی کی ۔ میڈیا کی اطلاعات اور حقیقت
میں اتنا زیادہ فرق دیکھ کرمیرا  بلاگ
لکھنے ک...

Post has attachment
حسرت دید ان آنکھوں میں لئے پھرتا ہوں
حسرت
دید ان آنکھوں میں لئے پھرتا ہوں چاہت وصل لئے کبھی جیتا کبھی مرتا ہوں شب کی تاریکی میں شمع کو پانے کیلئے میں دیوانہ اسی آگ میں جل مرتا ہوں دشت زیست میں اک عمر سے آبلہ پائی کر کے زخم پیروں کے میں کانٹوں سے سیا کرتا ہوں اپنے بکھرے ہوئے خوابوں کے فسانے سن ...

Post has attachment

Post has attachment

Post has attachment
Photo

Post has attachment
یونیورسٹی پہنچے تو پتا چلا کہ ہم جیسے اور بھی کئی انڈر ٹیکنگ فارم کے امیدوار ہیں۔ فارم لینے والوں کی تعداد تو کافی زیادہ تھی لیکن فارم دینے والا کوئی نہ تھا۔ کافی انتظار کے بعد ایک ٹیچر ہاتھ میں فارمز کا بنڈل پکڑے نمودار ہوئے اور ہم نے سکھ کا سانس لیا۔طلباء کے ہجوم کو دیکھتے ہوئے انہوں نے سب کو لائن میں لگنے کا حکم دیا ۔ یہاں ہم جیسے سست الوجود آدمی نے بھی پھرتی دکھائی اور لائن میں آگے لگ کے کھڑے ہو گئے تاکہ جلدی باری آئے اور ایک عذاب سے تو جان چھوٹے۔ لیکن ہماری بری قسمت کہ یہاں بھی جنسی تفریق  ہمارا رستہ روکے کھڑی تھی۔ لیڈیز فرسٹ کے عالمی اصول کے مطابق یہاں بھی پہلے لڑکیوں کو موقع دیا گیا جس پر ہمیں غصہ تو بہت آیا لیکن ہم کر ہی کیا سکتے تھے یہ سوچ کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ بس ہم ترسی ہوئی نظروں سے سر کی کی طرف دیکھنے لگے۔ سر   نے بھی شائد ہماری مسکین صورت دیکھ کے ہم پہ ترس کھانے کا فیصلہ کیا اور لیڈیز فرسٹ  کے اصول کو پینڈنگ میں ڈال کے مساوات کو  اصول کو موقع دیا گیا اور یوں ہمیں بھی انڈرٹیکنگ فارم سے نوازا گیا۔
Wait while more posts are being loaded